You are here: Home » Tag Archives: AMER ISHAQ SOHARWARDI

Tag Archives: AMER ISHAQ SOHARWARDI

Feed Subscription

برگر شکایت

اچھا دیکھیں ،،سمجھیں اگر آپ طاقتور نہیں ہیں ،،تو اغوا ہو سکتے ہیں،،آپ کو کوئی بھی ڈرا دھمکا سکتا ہے ،،وڈیرہ ،،چوھدری ،،خان یا واجہ سب کا آپ پر اختیار ہے ، نہ صرف ان کا بلکہ ان کے نوکروں کا ،،خانساماوں کا ، ڈرائیوروں کا مالیوں کا ،سیکیورٹی گارڈز کا اور پھر آپ کے پاس اس کی داد رسی کا کوئی طریقہ نہیں ہوتا۔ کیونکہ تھانہ ان کا ، پولیس ان کی ، قانون ان کا ۔ وہ جو کہ دیں وہی روزنامچے میں لکھا جائیگا ۔ اور ہاں کمال یہ ہے دور جاہلیت کی عظیم نشانی یعنی اگر آپ کسی جرگے کے سامنے پیش ہو تو وہ یا انکا کوئی پالتو وہاں پر منصف ہوگا۔ میں آفرین پیش کرتا ہوں اس بہن کو جس نے اپنی بہن کو فیس بک پر التماس دوستی کرنے والے کی نوکری ختم کرا دی ۔ یہ آج کے دور کا عظیم مقدمہ ہے ، اس سے وہ تمام مقدمے جنم لیں گے ،جن سے اس معاشرے مین تمام عورتوں کو یکساں ،مساوی حقوق مل جائینگے ۔ جرگے کے اندھے فیصلوں سے لٹنے والی عصمتیں ،،تھانے کے اندھیرے کمروں میں مجبور آہیں اور سسکیاں ، سینکڑوں لوگوں کے سامنے انصاف کی دہائی دیتی بہنیں ۔ اور کیمروں کے سامنے خود سوزی کرنے والی احتجاجی خواتین ،،سب کو اس مقدمے سے انصاف مل جائےگا۔ وہ عورتیں جو مقدس کتابوں سے بیاہ دی گئیں ان کو آزادی مل جائیگی ،،جن معصوموں کو ونی کر دیا گیا ان کی رہائی ہو جائیگی اور کاری کر دی گئیں ان کے مرے ہوے چہروں پر شادابی آجائیگی ۔ کتنا آسان ہوتا ہے با اختیار ہو کر کوئی بھی کام کر نا یا کرانا ۔ بس کسی با اختیار کو فون گھمایا اور کہانی ختم۔ مگر ان کروڑوں عورتوں کا کیا ہوگا جو اسی معاشرے مین عورت ہونے کی سزا بھگت رہی ہیں ۔جن کی صبح اور شام ،،بس رنج و آلام میں ڈوبی ہوئی ہے ۔ جو ہر روز مرتی ہیں اور ہر روز زندہ ہوتی ہیں ۔ جلی ہوئی عورتوں سے ہمدردی کی فلم بنانا اچھا ہے ۔ لیکن اس فلم سے آسکر تو مل سکتا ہے ، ان عورتوں کے حالت نہین بدل سکتی ، وہ بھاگ جلی ، تو پہلے بھی ویسی ہی تھیں اور اب بھی ویسی ہی ہیں ۔ برگر ہونا ان کے نصیب میں کہاں ، ان کے نصیب میں تو بند کباب بھی نہیں بلکہ پیٹ بھر کے کھانا بھی نہیں ۔ چلیں ہم بھی ایک ایف ٓئی آر درج کرتے ہیں ۔ ملک کے قانون میں ایک ایسی تبدیلی جس کم از کم ریاست ملک کے تمام بھوکوں کو کھانا کھلانے کی تو پابند ہو جائے۔ چلیں ایک اور تبدیلی کر لیں ،،کہ ریاست تمام بے گھروں کو چھت دے دے ۔ اور ہاں ایک اور تبدیلی کرتے ہیں ، کہ ہم میں اتنی انسانیت جاگ جائے ، اتنی اخلاقیات پیدا ہو جائے ، اتنی جرات پیدا ہوجاے ، ہمارا شعور اتنا بلند ہوجائے کہ ہم پہلے روٹی بانٹیں پھر انعام وصول کریں ،،ورنہ یہ کام تو اس سے پہلے بھی کئ مفاد پرست مختلف نام رکھ کر کر چکے ہیں۔

AMER ISHAQ SOHARWARDI اچھا دیکھیں ،،سمجھیں اگر آپ طاقتور نہیں ہیں ،،تو اغوا ہو سکتے ہیں،،آپ کو کوئی بھی ڈرا دھمکا سکتا ہے ،،وڈیرہ ،،چوھدری ،،خان یا واجہ سب کا آپ پر اختیار ہے ، نہ صرف ان کا بلکہ ان کے نوکروں کا ،،خانساماوں کا ، ڈرائیوروں کا مالیوں کا ،سیکیورٹی گارڈز کا اور پھر آپ کے پاس اس ... Read More »

بادشاہ ہے تو بادشاہ

تحریر:عامر اسحاق سہروردی یہ کوئی بائیس سال پہلے کی بات ہے کہ بی اے آنرز کی کلاس مین اچانک ایک خوبصورت لڑکا داخل ہوا ،،ہم سب سمجھے کہ کوئی ہم سے مزاق کرنے کے موڈ میں ہے ،،لیکن جینز اور سفید رنگ کی قمیض پہنے اس کڑکے نے ہنستے مسکراتے بتایا کہ وہ ہمارا نیا ٹیچر ہے۔ مجھے شائد ایک دن بھی پہورا نہیں لگا اور میں استاد محترم کا گرویدہ ہوگیا ۔۔ ان کی کلاس میں کبھی کسی کو بوریت نہین ہوتی کیونکہ اس میں کتاب کم اور زندگی اور حقائق زیادہ بیان ہوتے ، جب ان کو کمرہ ملا تو پھر میرا عمران کا اور نہ جانے کن کن کا ٹھکانہ ان کا کمرہ ہو گیا ۔ یہاں سب کو سکون ملتا تھا ،،اگر وہ کمرے مین ہوتے تو کوریڈور کے کونے سے پتہ چل جاتا کیونکہ قہقہوں کا آوازیں ان کے کمرے مین ہونے کا ثبوت ہوتیں۔ میں ان کے خاص شاگردوں مین تھا اس لئیے اکثر کلاسوں کے بعد ان کے کمرے مین چائے پینے کو ملتی ،،پھر طویل بیٹھک جس میں ڈی ایس ایف،،سے لیکر سرخوں کے جامعہ مین کارناموں کا زکر ہوتا ۔دوسرون کی واٹ لگتی اور آخر مین استاد محترم سرخوں کی بھی واٹ لگا دیتے ۔ یہاں سب دل جلے آتے تھے لیکن کسی پیر کے آستانے کی ظرھ اپنے غم بھول کر قہقہے لگاتے باہر نکل جاتے ۔ کوئی کتنا بھی دکھی ٓائے مطاہر صاحب کے کمرے مین اسکا دکھ جیسے ہوا میں گھل جاتا ۔ ان کے منہ پر کبھی شکایت یا شکوہ نہیجن ہوتا بس خوبصورت جملے ، لطیفے ،،قہقہے،،اور اچھے مستقبل کے مشورے ۔ وہ دل کے اتنے صاف تھے کہ کبھی کسی نے ان کی کسی بات کا برا ہی نہیں مانا ،،چاہے پھپھو ہوں،،ثمینہ اور عمیرہ کا برقعہ نام نقاب ہو ،،کنزہ کی صحت ہو یا بے وفا گرنگو اور باوفا گرنگن کے قصے ۔ عمران شاہ عرف پگل کی خرمستیاں ہوں ۔ سوری کی مدھر آواز ہو ، نعیم کی زبر سے عاری اردو ہو ۔ یا ان کے دور کے وہ تمام پرانے معاشقوں کے قصے جن کی شادی ہو گئی ہو اور وہ جامعہ مین کہیں پڑھا رہے ہوں ۔ ان کی زہین چہرے اور کشادہ آنکھوں میں ہم صرف شرارت دیکھتے تھے لیکن اصل مین وہان ایک ایسا تجزیہ کار تھا جس نے دنیا میں نام پیدا کرنا تھا ۔ پاکستان کی تاریخ کا افغان امور پر پہلا پی ایچ ڈی ۔ ہزاروں علمی مقالون کا لکھاری۔ اسی سال ہم پاکستان ٹور پر گئے اور وہاں ہم سب سے زیادہ شرارت مطاہر صاحب نے کی ۔ وہ ہر وقت سب کیلیئے موجود رہتے اس ٹور میں سب کچھ اتنا اچھا رہا کہ آکر میں جب ہمارے پاس پیسے نہ رہے تو ایک دن آسیہ کے بھائی شکیل کے گھر گزارا جو ان کے کلاس فیلو تھے ، ایک دن کا کھانا عمران کے ایک دوست نے کھلایا ۔ ناران مین پھپھو کے گرنے کے بعد کے حالات میں عمران کی ہشیاری نے بچا لیا وہاں مجھ پر یہ آشکارا ہوا کہ ڈاکٹر مطاہر اندر سے کتنے معصوم ہیں ،، بالکل ایک معصوم بچے کی طرح ۔۔پھر ان کی شادی ہوگئی اور میں اس میں بھی شریک ہوا۔ اس کے بعد کی محفلوں میں دو سال کیسے گزرے پتہ نہیں چلا ،،لیکن جب مجیدے کی ہوٹل کا کھانا نہیں کھانا ہو تو ،،استاد کہتے اپلئیڈ فزکس کا ڈبل انڈے والا برگر کھاتے ہیں ، جب وہ کھانے کا دل بھی نہ ہو تو ممتاز منزل پر بن کباب اور لسی ، استاد کھانے پینے کے شوقین تھے اور کھلانے پلانے کے بھی ، اسی لئیے اکثر اوقات ہم ان کے مہمان ہوتے ، ان کی طبیعت میں کوئی کرو فر نہ تھا اسے لئیے اکثر میری سیونٹی موٹر سائیکل پر بیٹھ جاتے اور فیصل مزاق اڑاتا کہ نیپا کی پل پر پوٹر سائیکل ایسے چل رہی تھی جیسے اس مین سے جان نکل رہی ہو۔ میں نے ایم اے کے بعد صحافت میں قدم رکھا ، اور شائد اسے سال ان کا پی ایچ ڈی مکمل ہو گیا ۔ یہ اعزاز میرا ہے کہ ان کو بحیثیت ماہر افغان امور میں نے متعارف کرایا جنگ میں میری بائی لائن اسٹوری مین ان کا انٹر ویو تھا ۔ پھر مین انڈس نیوز آگیا ۔ نائن الیون کے بعد جب امریکی حملے کا عراق پر قوی خدشہ تھا تو مین نے ایک رات ان کو گھر سے پک کیا ، ہم اسٹودیو آئے اور اسی شب امریکہ نے عراق پر حملہ کر دیا ۔ اس کی ٹرانسمیشن مین نے استاد محترم کے ساتھ کی ۔ پھر سال گزرتے گئے میرا جامعہ کراچی سے صرف یہ تعلق تھا کہ میں ان سے ملنے جاتا تھا ۔ ہمارے دور میں ان کے کمرے مین طلبا زیادہ اور اساتزہ کم ہوتے تھے ، مگر اب ان کے کمرے مین اساتزہ زیادہ اور طلبا کم تھے ۔ مگر قہقہوں میں اب بھی کوئی کمی نہین تھی ۔ ان کا وزن بڑھ گیا تھا ۔ میں نے پو چھا تو کہنے لگے کہ آرتھرائیٹس ہو گیا ہے واک نہین کر سکتا ۔ کچھ عرصے بعد ملے تو میں نے کہا استاد محترم غزالی آنکھوں کے گرد حلقے پڑ گئیے ہیں ،،کہنے لگے ابے یار چھوڑو کوئی اچھی بات کرو ۔ پھر وہ انجمن اساتزہ جامعہ کراچی مین سرگرم ہوئے اور بعد مین صدر بھی بنے ۔ سال دو ہزار پندرہ مین میں نے ان کو سما ٹی وی مدعو کیا بلدیاتی انتخابات کے دوران۔ ان کے حلقے بہت بڑھ چکے تھے ، ان کا سانس بھی کافی پھول رہا تھا میں نے پھر کہا استاد آپ ڈاکٹر کو دکھائیں ، کہنے لگے ہاں یار رات کو نیند بھی نہیں آتی کافی کروٹیں بدلتا ہوں ۔ کلبھی ایسا لگتا ہے کہ سانس رک رہا ہو، مجھ سے کہا ابے استاد کچھ مزہ نہین آرہا ۔میں نے بہت اصرار کیا کہ ڈاکٹر کو دکھائیں ۔۔ اس کے کچھ دن بعد معلوم ہوا کہ وہ کینسر میں مبتلا ہو چکے ہیں ۔ میں نے فون کیا کافی مرتبہ گھنٹی بجی پھر بھابھی نے فون اٹھایا اور کہا کہ وہ آرام کر رہے ہیں ،، کچھ دیر بعد ان کا فون آگیا ،،آواز مین وہی کھرج، وہی گفتگو میں شگفتگی ، کمال ،، اب بھی قہقہے لگا رہے تھے ۔ ایک دن مین جامعہ جا پہنچا ،،اور وہ ویسے ہی تھے ، مجھے سکون آگیا،،،اور وہ سکون یقین میں بدل گیا کہ ہمارا بادشاہ ہمارے پاس ہی ہے ۔ لیکن پھر وہ آہستہ آہستہ جامعہ کم آنے لگے ۔ گھر فون کرو تو ان کا فون اکثر اٹھتا نہین تھا اور اکثر وہ آرام کر رہے ہوتے تھے ۔ میں کئی دوستوں کو فون کر کے ان کی خیریت معلوم کرتا رہتا ۔ اور وہ سب بتاتے کہ میرا بادشاہ کمال طاقتور ہے ۔ نہ تو وہ کمزور پڑا ہے اور نہ ہی اس کے ارادے ٹوٹے ہیں ۔ وہ کسی سے بد دل نہین ہے ۔ جب ان کی کیمو تھیریپی کے مراحل شروع ہوئے تو مین بھی کافی بیمار تھا آپریشن کے بعد ریکیوری اور پھر اس کے بعد بیروزگار کرنے کی سازش ،، خیر مین ان سے رابطے میں نہین ریا ۔ کیوں نہین رہا اس کا دکھ مجھے اب ساری زندگی رہے گا ۔ عامر حمید اور نعیم نے بتایا کے میرے بادشاہ نے تکلیف کا مقابلہ مسکراہٹ سے کیا ۔ درد کے لمحات مین بھی سب کو زندگی بکھیری یار استاد محترم آج رب کے حضور یقین ہے کہ آپ نے کچھ ایسا ضرور کہا ہو گا کہ فرشتوں نے قہقہ لگایا ہوگا۔ منکر نکیر بھی ہنسی پر قابو نہ رکھ پائے ہونگے۔ زندگی کو کسی ملامت کے بغیر گزارنے کے بعد میرا بادشاہ رب کے حضور بھی کسی ملامت کا شکار نہ ہوگا ۔ اس کی کتاب مین خوبصورت رنگ ہیں ،،جنہیں فرشتے بھی دیکھ کر حیران ہونگے ۔ اس کا دل معصوم بچے کی طرح صاف ہے ۔ اے میرے رب میرے بادشاہ کے حساب کتاب میں خیال کرنا ، وہ دل کا صاف اور کھرا تھا ، وہ یاروں کا یار تھا، وہ ہم جیسے مظلوموں کی آواز اور تیرے بعد مددگار تھا۔ اے میرے رب اسکے درجات بلند فرما دے ، کہ بادشاہ کے بنائے ہم سب دعا گو ہیں،،دوبئی کینیڈا ، کراچی ، لاہور ،نہ جانے کہاں کہان سے اس بادشایہ کے درجات کی بلندی کی دعائیں آرہی ہیں ۔ بس میرے مالک قبول فر ما لے ۔ ہمارے پیارے ڈاکٹر مطاہر کو قبول فرما لے اے بادشاہوں کے بادشاہ ،،ہمارا بادشاہ تمہارے حوالے۔۔۔ میرے محسن ، میرے استاد ،،میرے بڑے بھائی ،،میرے دوست ،، ڈاکٹر مطاہر احمد کی تدفین سے واپسی پر ان کو سلام آخر،،،بادشاہ ہے تو بادشاہ

AMER ISHAQ SOHARWARDI یہ کوئی بائیس سال پہلے کی بات ہے کہ بی اے آنرز کی کلاس مین اچانک ایک خوبصورت لڑکا داخل ہوا ،،ہم سب سمجھے کہ کوئی ہم سے مزاق کرنے کے موڈ میں ہے ،،لیکن جینز اور سفید رنگ کی قمیض پہنے اس کڑکے نے ہنستے مسکراتے بتایا کہ وہ ہمارا نیا ٹیچر ہے۔ مجھے شائد ایک ... Read More »

مسخرہ اور سکوت

تحریر:عامر اسحاق سہروردی حاکم وقت غصے میں تھا ، دربار میں سب کھڑے کانپ رہے تھے ،مجال ہے کہ کوئی سانس بھی پورا لے رہا ہو۔ کسی کو ہمت نہیں تھی کہ کچھ کہ سکے ۔ سب کو معلوم تھا کہ حاکم وقت غلط ہے ۔ عدالت مین قاضی القضا بھی موجود تھے لیکن ان کی بھی جرات نہیں پڑ رہی تھی کہ کچھ کہ سکیں ۔ اچانک درباری مسخرہ بول اٹھا اور اس کا بولنا تھا کہ حکم کے چہرے پر بھی مسکراہٹ آگئی ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جب سب کانپ رہے تھے تو مسخرہ کیوں نہ کانپا؟ اس کےلب کیوں نہ سلے ؟ اس کے دل دھڑکنیں کیوں نہ بے قابو ہوئیں؟ اور اس کے دل میں موت کا خوف کیوں نہ جاگزیں ہوا؟ ؟ انسانی تاریخ صرف ہلاکو چنگیز، ہٹلر مسولینی ، داعش،الشباب اور بوکو حرام کی تاریخ نہیں ہے ۔ یہاں وہ دور بھی گزرے ہیں جب دشمنوں کو مسجد نبوی میں ٹہرایا گیا، جب قیصر روم ہوں نجاشی سب نے سفیروں کو نہ صرف عزت بخشی بلکہ انہیں انعام و اکرام سے بھی نوازا ۔تاریخ انسانی نے رحمت اللعالمین پیارے آقا کا دور بھی دیکھا کہ بڑھیا کوڑا پھینک رہی ہے اور آپ اس کی عیادت کر رہے ہیں ۔ طائف میں پیارے آقا پر سنگ باری ہو رہی ہے لباس خون آلود ہے لیکن میرے آقا جبریل کو منع کر رہے ہیں ۔تاریخ نے میرے مولا حسین کو بھی دیکھا کہ کس طرح اسٹیبلشمنٹ اور اس کے یزیدی ایجنٹوں کو نہ صرف شکست دی بلکہ قیامت تک کیلئیے ان کو نشان عبرت بنا دیا ۔ ایک لمحے رک جائیے اور سوچئیے کہ کیا اقبال جھوٹ بول رہے تھے کہ خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی ؟، کیا ہماری تمام کتابوں میں غلط لکھا ہے کہ ہمیں انسان کا احترام کرنا چاہئے ،؟ قران میں تو کہیں نہیں لکھا کہ طاقت کو سجدہ کرو؟ امام اعظم کو خلیفہ وقت نے قاضی القضا بنانا چاہا تو آپ نے کہ دیا میں اس عہدے کے قابل نہیں ،،حاکم بولا آپ جھوٹ بول رہے ہیں تو امام گویا ہوئے پھر تو بالکل بھی قابل نہیں ۔ ایسی کوئی ایک مثال نہیں ہے آج کفر کے معاشرے میں زیادہ اطمنان ہے ، وہاں زیادہ قانون کی پاسداری ہے ، وہاں زیادہ انسانی حقوق ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر وہاں زیادہ عدل نظر آتا ہے ۔ مسلم معاشرے تو بس بڑے بڑے چعغوں میں لپٹے ہپیں ۔ وہ ایک ہاتھ سے قاتل کو پیسہ دیتے ہیں اور دوسرے ہاتھ سے مقتول کو دلاسہ۔ ان کا سب سے بڑا مثئلہ بیویاں کنیزیں اور لونڈیاں ہیں۔ ان تمام ممالک میں عدل کا نظام حاکم کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑا رہتا ہے ۔ کسی عجمی کو کسی عربی پر کوئی فوقیت تو کیا ،،وہ اگر برابری کا دعوہ بھی کردے تو کھال کلھنچوانی پڑتی ہے۔ کفیل کے نام پر انسانی غلامی کی وہ داستانیں ہیں کہ سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ عجب بات نہیں کہ کسی بھی اسلامی ملک میں نظام عدل مثالی نہیں ۔ جہاں نظام ہے وہاں عدل نہین اور جہاں عدل ہے وہاں نظام نہیں ۔ افسوس کہ پاکستان دنیا کا واحد اسلامی نظریاتی ملک ہے جس کے آئین میں ساری اچھی اچھی باتیں لکھی ہوی ہیں لیکن تاریخی طور پر ہمیشہ آئین کو پامال کیا گیا ۔ جہاں اکثریت حقوق سے محروم ہے ۔جہاں اقلیتیں محفوظ نہیں ۔ جہاں نہ نظام ہے اور نہ انصاف۔ دنیا کی جدید تاریخ مین صرف پاکستان کو یہ اعزاز حاصل ہے جہاں پوری کابینہ نے ایک کرپٹ اور عدالت سے سزا یافتہ شخص کو نہ صرف اپنا سربراہ بنایا بلکہ اس کے احکامات کو ماننے کیلیئے ایسے قوانین میں بھی تبدیلی کی کوشش کر ڈالی جہاں ان کے کیا سب کے پر جل جاتے ہیں۔ ان کو سبق تو مل گیا ۔ لیکن مجھ سمیت اکثر پاکستانی یہ سوچ رہے ہیں محبت کے اندھے ہونے کا تو سنا تھا مفاد کی وفاداری کیلئے اندھا ہونے کی ایسی مثال کہیں نہیں ملتی ۔شائد انہیں بھی صرف رہنما چاہیئے ،،،منزل نہیں ۔ عدالتوں پر حملے ہورہے ہیں ۔ نونئیے نیب کو کام نہین کرنے دے رہے ۔ نیب عدالت پر ہلہ بول دیتے ہیں۔ ن لیگی وزیر روزانہ عدالتوں کو خاص طور پر سپریم کورٹ پر تنقید کرتے ہیں ۔ میری سمجھ مین یہ نہیں آتا کہ یہ توہیں عدالت کب اور کہاں سے شروع ہوتی ہے ۔ کیا عدالتیں بھی کسی مصلحت کوشی کا شکار ہیں ؟ یہ روزانہ عدالتوں کے فیصلوں پر تنقید کرنے والوں کی گرفتاری کے احکامات کب صادر ہونگے ؟ ن لیگ کے یہ رہنما اپنے اپنے حلقوں میں بھی یہی باتیں کرتے ہیں۔ پنجاب مین وکیل جس طرح ججز سے برتاو کعتے ہیں اور جس طرح پولیس کی پٹائی لگاتے ہیں وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ۔ اور اب یہ بیماری عام عوام میں بھی پھیلتی جا رہی ہے ۔ میری اعلی عدالتوں سے اپیل ہے کہ براہ مہربانی کم از کم ان کی زبان تو کھینچ لیں جو عدالتوں پر اقامے پر فیصلے کا بہتان لگا رہے ہیں۔اور پیارے وزیر داخلہ اب تک صرف خاموش ،،اپنوں کی گردن سب کو پیاری لگتی ہے ۔ حاکم پھر غصے مین تھا درابار مین شدید خاموشی ،،سب کی سانسیں رکی ہوئی تھیں ۔ حاکم کا خوف شائد کیا یقینا خدا کے خوف سے بڑھ چکا تھا ۔ سب ایک دوسرے کی جانب دیکھ رہے تھے ۔ قاضی القضا بھی خاموش تھا ۔ مصاحبوں سے لیکر شدید مصاحبوں تک سب چپ ۔ کوئی نہیں بولا کیونکہ دربار میں سارے اعلی و ارفع موجود تھے مگر مسخرہ مر گیا تھا۔

AMER ISHAQ SOHARWARDI حاکم وقت غصے میں تھا ، دربار میں سب کھڑے کانپ رہے تھے ،مجال ہے کہ کوئی سانس بھی پورا لے رہا ہو۔ کسی کو ہمت نہیں تھی کہ کچھ کہ سکے ۔ سب کو معلوم تھا کہ حاکم وقت غلط ہے ۔ عدالت مین قاضی القضا بھی موجود تھے لیکن ان کی بھی جرات نہیں پڑ ... Read More »

آئینہ

تحریر:عامر اسحاق سہروردی میں جانتا ہوں ،،تمہاری پرواز اونچی ہے ،،دیکھو رکنا نہیں ،،پروں کو سمیٹنا نہیئں ، زہنی مریضوں ،،چورں لٹیروں ، کی باتوں کو سننا نہیں،، تم نے ابھی بہت کام کرنا ہے ۔ تم دنیا مین پاکستان کی آواز ہو، تم پوری دنیا مین لڑکیوں کے حقوق کی خواتین کے شعور کی پکار ہو۔ ابھی تو تمہارا تعلیمی سفر باقاعدہ شروع ہوا ہے اور تمہارے باقاعدہ ہونے سے القاعدہ اور اس کے بچوں کو جتنی تکلیف ہے اس کا کوئی اندازہ نہین کرسکتا ۔ ان کی جنگ ہی تم سے ہے تمہاری سوچ سے ہے ، ےمہاری آواز سے پے تمہاری پرواز سے ۔ انہین کیا خبر تھی کہ جن اسکلوں کو یہ بموں سے اڑا رہے ہیں ان ہی کی خاک سے وہ سورج طلوع ہوگا جو جس سے ان کا پورا نظریہ خاک بن جائے گا رکنا نہین ہے چلتے رہنا ہے ۔ ان میں اگر ہمت ہوتی تو یہ چھپ کر وار تھوڑا کرتے؟ یہ بزدل ہین اس لئیے راہ چلتے تصویر بنا کر بتنگڑ بنانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اپنی ماں بہن بیتی کو اپنی نام نہاد شریعت کی تہ کانوں میں دفن کرنے کے بعد اب یہ ہر اس روشنی کو اندھیرے میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں ،،جس سے ان کی آنکھیں چندھیا گئی ہیں ۔ میں اتنی لمبی تمہید نہیں باندھتا لیکن مجھے اپنے بہت سے دوستوں اور لکھاریوں کو آج اپنا لکھتے ہوئے جتنی شرم ٓا رہی ہے اتنی کبھی نہیں آئی ۔ ملالہ صرف ایک لڑکی نہیں ہے ، وہ لاکھوٓں کے دلوں کی آواز ہے ۔ مجھ سمیت بہت سے پاکستانی اس کو ووٹ دے چکے ہیں ۔ تو جب کبھی بھی ملالہ پاکستان آئی اور سیاست مین قدم رکھا تو پھر زندہ باد۔ کیا ہی اچھا ہو کہ ہمارے میں میں ہاورڈ سے بالکل درست تعلیم حاصل کرنے کے بعد اور ایک نوبیل انعام یافتہ سیاستدان حکومت کرے ۔ ایک ایسی لڑکی گالی اور گولی دونوں برداشت کی ہیں ۔ کتنی عجیب بات ہے کہ آج ہمارے مثائل قندیل بلوچ اور مفتی قوی ہیں ،،جس مین بے چاری قندیل ماری جاتی ہے ۔ ہامرا مثلہ چھرا مار ہے ،،یعنی انچاس ہزار پولیس اہلکار اور چکمہ دے ایک چھرا مار۔ ہمارا مثلہ بجلی پانی گیس ہے ،،سڑکیں ہیں ،،بیماریا ہیں ؛لاچاریاں ہیں۔ دنیا پولیو فری اور ہم ویری فری ان پولیو، دنیا مین امیر ٹیکس دیتے ہیں اور غریب مراعات حاصل کرتے ہیں ۔۔ہمارے ملک میں غریب ٹیکس دیتے ہین اور امیر مراعات حاصل کرتے ہیں ۔ دنیا مین قومی ائیرلائن کے جہاز اڑتے ہیں اور ملک زر مبادلہ کماتے ہین ۔ ہمارے ملک میں جہاز پارکوں میں کھڑے ہو جاتے ہیں اور مسافر غیر ملکی ائیر لائنز مین سفر فرماتے ہیں ۔ صحت کا حال یہ ہے کہ دنیا میں بچے ہسپتالوں میں پیدا ہوتے ہیں ہمارے ہاں ، ہسپتالوں کے لان میں، رکشے میں ،، اور سڑک پر پیدا ہو جاتے ہیں۔ دنیا گدھے بار بر داری کیلیئے استعمال ہوتے ہپں ہمارے ہاں خوراک کے طور پر استعمال ہوتے ہیں ۔ جو قوم گدھے کے گوشت کی کڑھائی ، کتے کے گوشت کے چپلی کباب اور چوہے کے گوشت کے قیمے والے سموسے کھائیں ۔ جو مرے ہوئے پریشر زدہ جانوروں کا گوشت کھائیں ۔ مری ہوئی مرغیوں اور مچھلیوں اور گائے کا خون ،فیڈ کے طور پر استعمال کرنے والی برائلر مرغیاں کھائیں۔ جو پتی میں پکے ہوئے دیسی انڈے ، برادے سے بنی ہویئ مرچیں کھائیں۔ جہیاں مرے ہوئے جانوروں کی ہڈیوں سے چربی نکال کر کوکنگ آئیل اور گھی بنایا جارہا ہو، اور جہاں نالے کے پانی میں سبزیاں اور پھل لگائے جا رہے ہوں اس قوم کو پہلے ان سب چیزوں کو درست مرنا ضروری ہوگا ۔ ملالہ اس کے بعد آتی ہے ۔ جہاں اربوں روپے کی کرپشن کرنے والے ڈھٹائی سے کہیں کیوں نکالا مجھے ،؟ جہان وفاداری بدلنا قومی کھیل ہو ، اور رشوت قومی طریقہ واردات۔ جہان آوے کا آوا ہی بگڑا ہو اہو ۔ جہاں مدارس پر عقائدی ٹولے قابض ہوں اور مساجد پر رٹی رٹائی تقاریر کرنے والوں کا ڈیرہ ہو۔ جہاں سوال کرنا سب سے بڑا جرم ہو اور جواب مانگنا اس سے بڑا ۔جہاں حج اور عمرہ انڈسٹری ہوں اور جہاں نامور عالم دین ایک نامور خاتوں کی شوبز میں واپسی کیلیئے کوشاں ہوں وہاں کے لکھاریوں کو یہ بات زیب نہین دیتی کہ وہ ملالہ کے جینز اور لانگ بوٹ پہننے پر سوال اٹھائین ۔ واٹر کولر پر ٹونٹی کے ساتھ زنجیر سے بندھا ہوا گلاس یا مگ ہمارے اللہ پر یقین کا عکاس ہے ۔ بس کردیں ۔خدارا اس قوم پر رحم کر دیں رتھ فاو، محترمہ فاطمہ جناح، رعنا لیاقت علی خان اور ملالہ یوسف زئی میری بیٹی آپ کی بیٹی میری بہن آپ کی بہن سب کو زندہ رہنے دیں

AMER ISHAQ SOHARWARDI میں جانتا ہوں ،،تمہاری پرواز اونچی ہے ،،دیکھو رکنا نہیں ،،پروں کو سمیٹنا نہیئں ، زہنی مریضوں ،،چورں لٹیروں ، کی باتوں کو سننا نہیں،، تم نے ابھی بہت کام کرنا ہے ۔ تم دنیا مین پاکستان کی آواز ہو، تم پوری دنیا مین لڑکیوں کے حقوق کی خواتین کے شعور کی پکار ہو۔ ابھی تو تمہارا ... Read More »

Scroll To Top