You are here: Home » Tag Archives: یورپی یونین

Tag Archives: یورپی یونین

Feed Subscription

’بریگزٹ‘، برطانيہ کی سب سے تباہ کن حقيقت

’برطانوی پارلیمان میں بریگزٹ ڈیل کی عدم منظوری کی ذمہ داری صرف وزیر اعظم ٹریزا مے پر عائد ہوتی ہے‘۔ ڈی ڈبلیو کی تبصرہ نگار باربرا ویسل کے خیال میں اس ناکامی کے بعد مے کو استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ برطانوی پارلیمان میں بریگزٹ ڈیل کی عدم منظوری کے بعد وزیر اعظم ٹریزا مے کو مستعفی ہو جانا چاہیے تھا لیکن انہوں نے کہا ہے کہ وہ برطانیہ کے یورپی یونین سے علیحدگی کو یقینی بنانے تک اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش نہیں ہوں گی۔ مے نے کہا ہے کہ یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ بریگزٹ کو یقینی بنائیں کیونکہ وہ وزیر اعظم بنائی ہی اس مقصد کے لیے گئی تھیں۔ ڈی ڈبلیو کی تبصرہ نگار باربرا ویسل کے مطابق مے کے خلاف تحریک عدم اعتماد ناکام ہو جائے گی، کیونکہ قدامت پسند اقتدار پر اپنی گرفت کمزور نہیں ہونے دیں گے۔ تاہم قدامت پسندوں کا یہ رویہ برطانوی سیاست کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ مے شکست کی مستحق تھیں باربرا ویسل کے مطابق مے کی بریگزٹ ڈیل کی ناکامی کی ذمہ دار وہ خود ہی ہیں۔ وہ لکھتی ہیں کہ بریگزٹ کا معاملہ برطانوی سیاست میں ایک تقسیم کی وجہ بن چکا ہے۔ اس تناظر میں قدامت پسندوں کی صفوں میں بھی اختلافات نمایاں ہوتے جا رہے ہیں۔ باربرا ویسل کے مطابق برطانوی پارلیمان میں بریگزٹ ڈیل کی عدم منظوری دراصل ٹریزا مے کی سیاسی نااہلیت کی غمازی کرتی ہے۔ مے نے اس تمام کہانی میں صرف اپنے قریبی ساتھیوں کو ہی سامنے رکھا اور کسی دوسرے کی ایک نا سنی۔ یوں مے اپوزیشن اور اپنی ہی پارٹی کے اندر کئی اہم دھڑوں کا اعتماد نہ جیت سکیں۔ ویسل مزید لکھتی ہیں کہ مے نے بریگزٹ ڈیل کی تیاری اور اس کی منظوری کے مرحلوں میں برطانیہ میں مقیم یورپی ورکنگ کلاس کے خلاف ایک سخت لہجہ اختیار کیا، جو دراصل بحیثت مجموعی یورپ کے خلاف ہی دیکھا گیا۔ اس طرح وہ یورپی سطح پر بھی تنہا ہو گئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مے سربراہ حکومت کے عہدے کے لائق ہی نہیں ہیں۔ ڈی ڈبلیو کی تبصرہ نگار ویسل کے مطابق مے اس مخصوص صورتحال میں برطانیہ کی ویلفیئر یا مستقبل کے حوالے سے ذمہ داری کا مظاہرہ بھی نہیں کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بریگزٹ کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ بطور سیاستدان ٹریزا مے انتہائی تنگ نظر، ضدی، چھوٹے دماغ کی مالک اور تخیلاتی طاقت سے عاری معلوم ہوتی ہیں۔ ویسل کے مطابق برطانیہ کو ایک نئے سربراہ کی ضرورت ہے۔ تاہم اپوزیشن رہنما جیرمی کوربین ابھی تک وہ مقبولیت حاصل نہیں کر سکے ہیں کہ وہ وزیر اعظم بن سکیں۔ اس تناظر میں ویسل کہتی ہیں کہ بریگزٹ کے معاملے پر کسی اچھی خبر کی کوئی ضمانت نظر نہیں آتی۔ بریگزٹ کے سلسلے میں ہونے والی اب تک کی پیشرفت نے نہ صرف یورپی یونین کے اتحاد کو نقصان پہنچایا ہے بلکہ برطانیہ کو بھی منقسم کر دیا ہے۔

’برطانوی پارلیمان میں بریگزٹ ڈیل کی عدم منظوری کی ذمہ داری صرف وزیر اعظم ٹریزا مے پر عائد ہوتی ہے‘۔ ڈی ڈبلیو کی تبصرہ نگار باربرا ویسل کے خیال میں اس ناکامی کے بعد مے کو استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ برطانوی پارلیمان میں بریگزٹ ڈیل کی عدم منظوری کے بعد وزیر اعظم ٹریزا مے کو مستعفی ہو جانا چاہیے تھا ... Read More »

یورو زون: آبادی 34 کروڑ، عالمی پیداوار میں حصہ 11 فیصد

اٹھائیس رکنی یورپی یونین کے انیس ممالک پر مشتمل یورو زون میں بے روزگاری کی شرح مزید کم ہو کر اب نو فیصد سے بھی نیچے آ گئی ہے، جو یورو زون میں گزشتہ قریب نو برسوں میں ریکارڈ کی جانے والے کم ترین شرح بے روزگاری ہے۔ یورپی یونین کے رکن ممالک کی موجودہ تعداد 28 اور اس بلاک کی مجموعی آبادی 510 ملین یا 51 کروڑ بنتی ہے۔ ان میں سے یورو زون کہلانے والے یورپی مالیاتی اتحاد میں شامل اور یورپی مشترکہ کرنسی یورو استعمال کرنے والے ممالک کی تعداد 19 اور ان کی مجموعی آبادی قریب 340 ملین یا 34 کروڑ ہے۔ برسلز میں، جہاں یورپی یونین کے صدر دفاتر قائم ہیں، منگل اکتیس اکتوبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں میں یورپی شماریاتی ادارے یورواسٹیٹ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ سال رواں کی تیسری سہ ماہی کے دوران بھی یورو زون میں بے روزگاری میں کمی کا رجحان جاری رہا۔ اس دوران تیس ستمبر تک اس خطے میں بے روزگاری کی شرح مزید کم ہو کر 8.9 فیصد رہ گئی، جو ایک ماہ پہلے نو فیصد تھی۔ یورپی دفتر شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق اس کا مطلب یہ ہے کہ یورو زون میں اقتصادی بحالی کا عمل تیزی سے جاری ہے اور اس دوران اس سال جولائی سے لے کر ستمبر تک کی سہ ماہی میں اس خطے کی اقتصادی کارکردگی میں بھی 0.6 فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا۔ یورو زون کی اقتصادی کارکردگی میں یہ 0.6 فیصد اضافہ اس لیے بھی حوصلہ افزا ہے کہ ماہرین کو توقع یہ تھی کہ سال رواں کی تیسری سہ ماہی میں اقتصادی نمو کی یہ شرح 0.5 فیصد رہے گی۔ برطانیہ بریگزٹ کے لیے ’چالیس ارب یورو تک ادا کرنے پر تیار‘ جرمن کمپنی مرسیڈیز کو نو بلین یورو منافع، ورکرز کے لیے بونس جرمنی کی ٹیکسوں کی مد میں امسالہ آمدنی 732 ارب یورو سے زائد اس کے علاوہ مالیاتی حوالے سے یہ بات بھی اہم ہے کہ اسی یورو زون میں افراط زر کی سالانہ شرح، جو پہلے 1.5 فیصد تھی، اکتوبر میں مزید کم ہو کر 1.4 فیصد رہ گئی۔ یہ بات طے ہے کہ یورپی یونین دنیا کی بڑی سیاسی اور اقتصادی طاقتوں میں شمار ہوتی ہے۔ لیکن اس کا یورو زون بھی اپنی اہمیت میں کم نہیں ہے۔ یورو زون میں ایک عام شہری کی موجودہ اوسط سالانہ آمدنی 39,200 امریکی ڈالر کے برابر بنتی ہے۔ اس کے علاوہ یورو زون کی مجموعی اقتصادی پیداوار قریب 14 ٹریلین امریکی ڈالر کے برابر ہے، جو پوری دنیا کی مجموعی اقتصادی پیداوار کا 11 فیصد بنتی ہے اور اس خطے کو اس کی جملہ سالانہ آمدنی کا قریب 27 فیصد برآمدات سے حاصل ہوتا ہے۔

اٹھائیس رکنی یورپی یونین کے انیس ممالک پر مشتمل یورو زون میں بے روزگاری کی شرح مزید کم ہو کر اب نو فیصد سے بھی نیچے آ گئی ہے، جو یورو زون میں گزشتہ قریب نو برسوں میں ریکارڈ کی جانے والے کم ترین شرح بے روزگاری ہے۔ یورپی یونین کے رکن ممالک کی موجودہ تعداد 28 اور اس بلاک ... Read More »

کاتالونیا کا اعلان آزادی، میڈرڈ کو کارروائی کا اختیار مل گیا

نیم خود مختار کاتالونیا کی علاقائی حکومت نے اسپین سے آزادی کا اعلان کر دیا ہے۔ دوسری جانب ہسپانوی حکومت نے کاتالونیا کی علاقائی حکومت کو ختم کرتے ہوئے اس خطے کے فوری طور پر کنٹرول میں لیے جانے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ اسپین میں کاتالونیا کی آزادی کے مسئلے نے شدت اختیار کر لی ہے۔ ملکی دارالحکومت میڈرڈ میں ہسپانوی سینیٹ نے فوری طور پر کاتالونیا کی علاقائی حکومت کے اختیارات واپس لینے کی قرارداد منظور کر لی ہے، جس کے ساتھ ہی قانونی طور پر اس صوبے کی نیم خود مختار حکومت کی مخصوص حیثیت قانونی طور پر ختم ہو گئی ہے۔ ہسپانوی دارالحکومت میڈرڈ میں ملکی پارلیمان کے ایوان بالا میں زیادہ تر ارکان نے کاتالونیا کو فوری طور مرکزی حکومت کے کنٹرول میں لانے کے حق میں ووٹ دیا۔ مرکزی حکومت کے ان اقدامات سے پہلے بارسلونا میں کاتالونیا کی علاقائی پارلیمان نے ایک قرارداد منظور کرتے ہوئے اسپین سے علیحدگی کا اعلان کر دیا تھا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس علاقائی پارلیمانی قرارداد کی منظوری کے ساتھ ہی کاتالونیا کا یورپی یونین کے رکن ملک اسپین سے علیحدگی کا عمل قانونی طور پر شروع ہو گیا ہے۔ دریں اثناء ہسپانوی وزیر اعظم ماریانو راخوئے نے کابینہ کا ایک ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے تاکہ اس پیچیدہ اور خراب تر ہوتی ہوئی صورتحال سے نمٹنے کے لیے لائحہ عمل تیار کیا جا سکے۔ دوسری جانب یورپی یونین کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ علاقائی حکومت کے آزادی کے اعلان کے باوجود یورپی یونین کی نظر میں اسپین کی مرکزی حکومت ہی اقتدار کا مرکز ہے اور یونین تمام معاملات اسی کے ساتھ طے کرے گی۔ ہسپانوی ایوان بالا میں 214 ووٹ کاتالونیا کی علاقائی حکومت ختم کرنے کے حق میں ڈالے گئے جبکہ اس کی مخالفت میں صرف سینتالیس ووٹ پڑے۔ ایوان بالا میں منظور کی گئی قرارداد کے مطابق اس علاقے میں چھ ماہ کے اندر اندر نئے انتخابات کرائے جائیں گے۔ اسپین کی مرکزی حکومت نے سن 1978ء کے بعد پہلی مرتبہ ملکی آئین کا آرٹیکل نمبر 155 بھی لاگو کر دیا ہے، جس کے تحت ’باغی علاقوں‘ کی خود مختاری ختم کی جا سکتی ہے۔ کاتالونیا کی علاقائی حکومت کی طرف سے آزادی کے اعلان کے بعد بارسلونا میں موجود ہزاروں مظاہرین نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے نعرے بلند کیے۔ مظاہرین کا رقص کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اب ایک ’آزاد کاتالونیا ری پبلک‘ کی بنیاد رکھی جائے گی۔ دوسری جانب ملکی وزیر اعظم نے عوام سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے۔ راخوئے کا کہنا تھا، ’’میں تمام ہسپانوی باشندوں سے پرامن رہنے کی اپیل کرتا ہوں۔ کاتالونیا میں ریاستی قوانین کی عمل داری کو یقینی بنایا جائے گا۔‘‘

نیم خود مختار کاتالونیا کی علاقائی حکومت نے اسپین سے آزادی کا اعلان کر دیا ہے۔ دوسری جانب ہسپانوی حکومت نے کاتالونیا کی علاقائی حکومت کو ختم کرتے ہوئے اس خطے کے فوری طور پر کنٹرول میں لیے جانے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ اسپین میں کاتالونیا کی آزادی کے مسئلے نے شدت اختیار کر لی ہے۔ ملکی دارالحکومت ... Read More »

یورپ آنے والے غیر ملکیوں کے لیے نیا ’انٹری ایگزٹ سسٹم‘ منظور

یورپی یونین میں سلامتی کی صورت حال میں بہتری کے لیے اس بلاک کی سرحدوں پر جلد ہی امریکا اور یونین سے باہر کے دیگر ممالک کے شہریوں کے فنگر پرنٹس لیے جایا کریں گے۔ چند حلقے اس اقدام کو انسانی حقوق پر حملہ قرار دے رہے ہیں۔ یورپی یونین کے اس اقدام کے تحت اس اب تک اٹھائیس رکنی بلاک میں یونین سے باہر کے امریکا سمیت تمام ممالک سے آنے والے مسافروں کے نہ صرف فنگر پرنٹس لیے جائیں گے بلکہ ساتھ ہی ان غیر ملکیوں کے بائیو میٹرک ڈیٹا پر مشتمل ایک پورا ڈیٹا بینک بھی تیار کیا جائے گا۔ جلد ہی شینگن زون میں دوبارہ بلاروک ٹوک سفر کیا جا سکے گا؟ شینگن زون میں داخل ہونے کی کوشش، سو سے زائد پناہ گزین گرفتار سلووینیہ میں مہاجرین کو روکنے کے لیے سخت ترین قانون منظور امریکا میں ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں پر ایسا سکیورٹی سسٹم پہلے ہی سے کام کر رہا ہے۔ اب یورپی یونین نے بھی اپنے ہاں اس بلاک کے باہر سے آنے والے غیر یورپی شہریوں کے لیے یہ نظام متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یورپی حکام اس تبدیلی کی وجہ یہ سوچ بتاتے ہیں کہ یونین میں سلامتی کی صورت حال مزید بہتر بنائی جانا چاہیے۔ لیکن اس فیصلے پر ناخوش کئی سماجی حلقوں کا یہ دعویٰ بھی ہے کہ اس طرح بنیادی انسانی حقوق پر حملہ کیا جا رہا ہے۔ اس بارے میں ڈوئچے ویلے کی کارلا بلائیکر لکھتی ہیں کہ امریکا جانے والے غیر امریکی شہری پہلے ہی اس طرح کے سکیورٹی انتظامات سے واقف ہیں کہ جب وہ کسی امریکی ہوائی اڈے یا بندرگاہ پر اترتے ہیں تو امیگریشن سے گزرتے ہوئے ہر غیر ملکی کے فنگر پرنٹس کے علاوہ اس کی ایک ڈیجیٹل کیمرے سے تصویر بھی لی جاتی ہے۔ ویزا فری انٹری یا مہاجرین ڈیل ختم، ترکی کا الٹی میٹم یورپی رہنما افریقی مہاجرین کی تعداد میں نمایاں کمی کے خواہاں واپس لوٹنے والے جہادیوں سے خطرات بڑھتے ہوئے اب یورپی یونین بھی اپنے ہاں اسی طرح کے انتظامات متعارف کرانا چاہتی ہے، اس بلاک سے باہر کی تمام ریاستوں کے ان شہریوں کے لیے جو کاروباری یا سیاحتی مقاصد کے تحت کسی بھی رکن ملک کے راستے یونین میں داخل ہونا چاہتے ہوں۔ اس مجوزہ یورپی نظام کو نئے ’انٹری ایگزٹ سسٹم‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس بارے میں یورپی پارلیمان میں بدھ پچیس اکتوبر کو ہونے والی رائے شماری میں ارکان کی اکثریت نے ایک قرارداد کی منظوری دے دی۔ اس نئے نظام کے تحت یونین میں داخل ہونے والے کسی بھی غیر یورپی شہری کے فنگر پرنٹس، اس کی تصویر، دیگر بائیو میٹرک کوائف، یونین میں داخلے کی تاریخ، روانگی کی تاریخ اور اس بلاک میں داخلے سے ممکنہ انکار کی تفصیلات سمیت بہت سی معلومات کو چار سال تک محفوظ رکھا جا سکے گا۔ ان جملہ معلومات تک رکن ممالک کے سکیورٹی محکموں، قانون نافذ کرنے والے یورپی اداروں، یورپی بارڈر کنٹرول اور ویزا حکام کو مکمل رسائی حاصل رہے گی۔ اس ای ای ایس سسٹم سے یونین کے رکن ممالک کے شہریوں اور یونین کے شینگن زون میں شامل ریاستوں کے باشندوں کو استثنیٰ حاصل ہو گا۔ یورپی پارلیمان کے ارکان پناہ کے مشترکہ قوانین بنانے پر متفق مستقبل کا ڈیجیٹل یورپ کیسا ہو گا؟ ای یو رہنماؤں کی سمٹ ڈنمارک نے جرمن سرحد پر فوج تعینات کر دی ان نئے ضوابط کے حامی یورپی حکام اور سیاستدانوں کا کہنا ہے کہ اس طرح یورپی امیگریشن سسٹم کو مزید تیز رفتار اور زیادہ مؤثر بنایا جا سکے گا۔ مثلاﹰ یہ پتہ چلانے میں بھی دیر نہیں لگے گی کہ آیا کوئی غیر یورپی شہری اس بلاک میں اپنے ویزے کی مقررہ مدت سے زیادہ عرصے تک قیام کا مرتکب ہو رہا ہے۔ یورپی پارلیمان کی جرمنی سے تعلق رکھنے والی ایک قدامت پسند رکن مونیکا ہولمائر کے مطابق، ’’اس نظام سے فوری طور پر یہ طے کرنا بہت آسان ہو جائے گا کہ کون سا غیر ملکی کس وقت یورپی یونین میں قانونی یا غیر قانونی طور پر مقیم ہے۔‘‘ اسی بارے میں یورپی یونین کے ترک وطن سے متعلقہ امور کے نگران کمشنر دیمیتریس آوراموپولوس کہتے ہیں، ’’یورپی یونین کا یہ حق ہے کہ وہ باخبر رہے کہ کون اس بلاک میں آ رہا ہے اور کون یہاں سے جا رہا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اس ڈیٹا بینک تک یورپی پولیس ’یوروپول‘ کو مکمل رسائی حاصل ہو گی۔ اس مجوزہ نظام کے مخالفین کا کہنا ہے کہ یہ عام شہریوں کے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے کیونکہ اس طرح یورپی نوکر شاہی کو ’غیر ضروری طور پر‘ لوگوں کے نجی کوائف تک رسائی حاصل ہو جائے گی۔ یورپی یونین کی رکن ریاستوں کی طرف سے منظوری کے بعد یہ نظام پوری یونین میں 2020ء سے مستقل طور پر نافذ ہو سکے گا۔ یورپی حکام کا خیال ہے کہ اس منصوبے پر قریب 480 ملین یورو (567 ملین ڈالر) لاگت آئے گی۔ ناقدین کا لیکن دعویٰ ہے کہ اس منصوبے پر حتمی لاگت ان رقوم کے دو گنا سے بھی زیادہ رہے گی۔

یورپی یونین میں سلامتی کی صورت حال میں بہتری کے لیے اس بلاک کی سرحدوں پر جلد ہی امریکا اور یونین سے باہر کے دیگر ممالک کے شہریوں کے فنگر پرنٹس لیے جایا کریں گے۔ چند حلقے اس اقدام کو انسانی حقوق پر حملہ قرار دے رہے ہیں۔ یورپی یونین کے اس اقدام کے تحت اس اب تک اٹھائیس رکنی ... Read More »

یورپی یونین سمٹ: بریگزٹ اور کاتالونیا کو اہمیت حاصل رہے گی

یورپی لیڈروں کا اجلاس برسلز میں انیس اکتوبر سے شروع ہو گیا ہے۔ اس اجلاس میں کئی دوسرے موضوعات کے علاوہ بریگزٹ مذاکرات اور کاتالونیا کے بحران کو مرکزیت حاصل ہونے کا واضح امکان محسوس کیا گیا ہے۔ جمعرات انیس اکتوبر سے شروع ہونے والی دو روزہ سمٹ میں بریگزٹ مذاکرات پر یونین کے مذاکرات کار مشیل بارنیئر شریک لیڈران کو خصوصی بریفنگ دیں گے۔ یورپی یونین اور برطانیہ کے درمیان بریگزٹ مذاکرات اِس وقت پیچیدگی کا شکار ہو کر رہ گئے ہیں۔ اسی اجلاس میں شرکت کے لیے جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے برسلز پہنچ کر کہا ہے کہ مذاکرات میں کچھ حوصلہ افزا اشارے سامنے آئے ہیں اور امید ہے کہ اُن کی بنیاد پر مذاکراتی عمل آگے بڑھ سکے گا فلسطینی علاقوں میں تمام یہودی بستیاں غیر قانونی، یورپی یونین ممکنہ آزادی کے بعد کاتالونیا کا یورپی یونین میں مستقبل یورپی پارلیمان کے ارکان پناہ کے مشترکہ قوانین بنانے پر متفق ہسپانوی پولیس کے ’اقدامات‘ غیر منصفانہ ہیں، کاتالونیا حکومت برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مَے سمٹ میں شرکت کے لیے برسلز پہنچ گئی ہیں۔ وہ آج شام یورپی لیڈروں پر اپنا موقف واضح کریں گی۔ برسلز پہنچنے پر انہوں نے مذاکرات کے دوران برطانیہ میں کام کرنے والے یورپی شہریوں اور یونین کے رکن ملکوں میں بسے برطانوی شہریوں سے جڑے معاملات کو ترجیحی بنیاد پر حل کرنے کو اہم قرار دیا۔ بریگزٹ مذاکرت میں تجارت کے علاوہ شہریوں کے حقوق اور مالی ادائیگیوں پر مذاکرات کاروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ سمٹ کا ایک اور موضوع کاتالونیا کا بحران ہے۔ جرمن چانسلر اور فرانسیسی صدر ایمانویل ماکروں نے تنازعے میں ہسپانوی حکومت کی حمایت ظاہر کی ہے۔ آج سے شروع ہونے والی اس سمٹ میں اسپین کے قدامت پسند وزیراعظم ماریانو راخوئے بھی شریک ہوں گے۔ میرکل کا کہنا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ تنازعے کا حل ہسپانوی دستور میں سے تلاش کر لیا جائے گا۔ سمٹ سے قبل برسلز میں ایسے اجلاس منعقد کیے گئے ہیں جن میں اس بحران پر یورپی سیاستدانوں اور دانشوروں نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ یورپی لیڈران ترکی کی اندرونی صورت حال اور وہاں مقیم مہاجرین پر بھی فوکس کرنا چاہیں گے۔ ترکی کی یورپی یونین میں شمولیت کے لیے فراہم کی جانے والی مالی امداد میں یورپی پارلیمنٹ پچاس ملین یورو کٹوتی کی تجویز دے چکی ہے۔ اس تناظر میں جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے یورپی لیڈروں پر زور دیا ہے کہ وہ اس مد کے لیے مختص فنڈ میں کٹوتی کی حمایت کریں۔ یہ خصوصی مالی امداد یورپی یونین میں شمولیت کے لیے فراہم کی جا رہی تھی لیکن اب ترکی میں حکومتی عمل میں پیدا ہونے والی مبینہ آمریت پسندی کے رجحانات پر یونین کو تشویش لاحق ہے۔ جرمن چانسلر نے بھی اس صورت حال کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہاں قانون کی حکمران غلط سمت کی جانب بڑھ رہی ہے۔

یورپی لیڈروں کا اجلاس برسلز میں انیس اکتوبر سے شروع ہو گیا ہے۔ اس اجلاس میں کئی دوسرے موضوعات کے علاوہ بریگزٹ مذاکرات اور کاتالونیا کے بحران کو مرکزیت حاصل ہونے کا واضح امکان محسوس کیا گیا ہے۔ جمعرات انیس اکتوبر سے شروع ہونے والی دو روزہ سمٹ میں بریگزٹ مذاکرات پر یونین کے مذاکرات کار مشیل بارنیئر شریک لیڈران ... Read More »

فلسطینی علاقوں میں تمام یہودی بستیاں غیر قانونی، یورپی یونین

یورپی یونین نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مغربی کنارے کے مقبوضہ علاقے میں نئی یہودی بستیوں کی تعمیر لازمی طور پر بند کرے۔ یونین کے مطابق ان نئے آباد کاری منصوبوں سے فلسطینیوں کے ساتھ ممکنہ قیام امن کو خطرہ ہے۔ بیلجیم کے دارالحکومت برسلز میں یورپی یونین کے صدر دفاتر سے بدھ اٹھارہ اکتوبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق یونین کے خارجہ امور کے شعبے کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل ویسٹ بینک کے مقبوضہ فلسطینی علاقے میں یہودی آباد کاروں کے لیے جو نئے گھر تعمیر کرنے کے منصوبے بنا رہا ہے، وہ تمام منصوبے فوری طور پر روکے جانا چاہییں۔ فلسطینی وزیر اعظم غزہ پہنچ گئے اسرائیل کی مخالفت کے باوجود فلسطین انٹرپول کا رکن بن گیا مصری صدر کی اسرائیلی وزیراعظم سے پہلی عوامی ملاقات بیان کے مطابق اسرائیل کی یہودی آباد کاری کی سیاست کے تحت کیے جانے والے ایسے فیصلے اور فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیوں کا قیام اور ان میں توسیع فلسطینیوں کے ساتھ مستقبل میں طے پانے والے کسی بھی امن معاہدے کے لیے بڑا خطرہ ہیں۔ یورپی یونین کے خارجہ امور کے دفتر نے کہا ہے، ’’یورپی یونین نے اسرائیل سے کہا ہے اور برسلز کو توقع ہے کہ اسرائیل اس بات پر عمل بھی کرے گا کہ ان تمام فیصلوں پر نظر ثانی کی جانا چاہیے، جو اسرائیل اور فلسطینیوں کے مابین بامقصد امن بات چیت کی بحالی کی کوششوں میں بڑی رکاوٹ ثابت ہو رہے ہیں۔‘‘ یورپی یونین کی طرف سے یہ بھی کہا گیا ہے، ’’بین الاقوامی قانون کے تحت مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودی آباد کاری کی ہر قسم کی سرگرمیاں غیر قانونی ہیں اور ان سے اس دو ریاستی حل کے قابل قبول ہونے کی بھی نفی ہو رہی ہے، جس کے لیے خطے میں دیرپا امن کی خاطر کوششیں کی جا رہی ہیں۔‘‘ اسرائیل میں الجزیرہ کا دفتر اور نشریات بند کرنے کا فیصلہ یہودی آباد کاری کے لیے ہم سے زیادہ کسی نے نہیں کیا، نیتن یاہو اسرائیل اشتعال انگیزی کر رہا ہے، مسلم ملکوں کی تنظیم یورپی یونین کا عرصے سے موقف ہے کہ اسرائیل نے 1967ء کی عرب اسرائیل جنگ میں مغربی کنارے، مشرقی یروشلم اور گولان کی پہاڑیوں سمیت جن علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا، وہ قطعی غیر قانونی ہے اور یہ تمام مقبوضہ علاقے اسرائیل کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ سرحدوں سے باہر ہیں، جو اسرائیلی ریاست کا حصہ ہو ہی نہیں سکتے۔

یورپی یونین نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مغربی کنارے کے مقبوضہ علاقے میں نئی یہودی بستیوں کی تعمیر لازمی طور پر بند کرے۔ یونین کے مطابق ان نئے آباد کاری منصوبوں سے فلسطینیوں کے ساتھ ممکنہ قیام امن کو خطرہ ہے۔ بیلجیم کے دارالحکومت برسلز میں یورپی یونین کے صدر دفاتر سے بدھ اٹھارہ اکتوبر کو ملنے ... Read More »

آئینی ریفرنڈم: ایردوآن کا فتح کا اعلان، اپوزیشن کا احتجاج

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے اتوار کو منعقدہ آئینی ریفرنڈم میں اپنی فتح کا اعلان کر دیا ہے۔ اپوزیشن نے کہا ہے کہ اس ریفرنڈم کے دوران بے قاعدگیاں ہوئی ہیں اور وہ اس کے نتائج کو چیلنج کرے گی۔ اس ریفرنڈم میں صدر ایردوآن کی کامیابی کا مطلب یہ ہے کہ اب جدید ترکی کے سیاسی ڈھانچے میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں عمل میں لائی جائیں گی اور صدر ایردوآن کو وسیع تر اختیارات حاصل ہو جائیں گے۔ اس ریفرنڈم کے لیے چلنے والی مہم کے بعد بظاہر یہی نظر آ رہا تھا کہ ترکی کے کُرد اکثریت کے حامل جنوب مشرقی علاقے اور خاص طور پر تین بڑے ترک شہر، جن میں دارالحکومت انقرہ اور سب سے بڑا شہر استنبول بھی شامل ہے، مخالفت میں ووٹ دیتے ہوئے مجوزہ آئینی ترامیم کو رَد کر دیں گے۔ ایردوآن نے کہا کہ پچیس ملین ترکوں نے اُن کی اُس تجویز کی حمایت کی ہے، جس کے تحت ترکی کے پارلیمانی نظام کی جگہ ایک ایسا صدارتی نظام رائج ہو جائے گا، جس میں صدر وسیع تر اختیارات کا حامل ہو گا اور وزیر اعظم کا عہدہ ختم کر دیا جائے گا۔ ایردوآن کے مطابق 51.5 فیصد رائے دہندگان نے ’ہاں‘ میں ووٹ دیتے ہوئے اُنہیں اس ریفرنڈم میں کامیابی سے ہمکنار کیا ہے۔ اس طرح ایردوآن اور اُن کی جماعت اے کے پی (جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی) کو وہ فیصلہ کن کامیابی حاصل نہیں ہو سکی، جس کے لیے اُنہوں نے اتنی پُرجوش انتخابی مہم چلائی تھی۔ اس کے باوجود انقرہ اور استنبول میں ایردوآن کے ہزارہا حامی کامیابی کا جشن مناتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے۔ ایردوآن نے ترکی میں ماضی میں کئی بار ہونے والی فوجی بغاوتوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا:’’جمہوریہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہم جمہوری سیاست کے ذریعے حکومتی نظام کو تبدیل کر رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ یہ اس قدر اہم بات ہے۔‘‘ ان آئینی ترامیم کے نتیجے میں، جن میں سے زیادہ تر 2019ء کے اگلے انتخابات کے بعد نافذ العمل ہوں گی، وُزراء کی تقرری بھی صدر ہی کے دائرہٴ اختیار میں ہو گی، صدر ہی غیر معینہ تعداد میں نائب صدور مقرر کرے گا اور صدر پارلیمانی منظوری کے بغیر سینیئر بیوروکریٹس کی تقرری کر سکے گا یا اُنہیں سبکدوش بھی کر سکے گا۔ گزشتہ سال جولائی میں ہونے والی ناکام فوجی بغاوت کے بعد سے ترکی میں ہونے والے کریک ڈاؤن کے دوران سینتالیس ہزار افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے جبکہ ایک لاکھ بیس ہزار کو اُن کے عہدوں سے ہٹایا یا معطل کیا جا چکا ہے۔ انقرہ میں وزیر اعظم بن علی یلدرم نے پُر جوش حامیوں سے خطاب کیا۔ مرکزی شاہراہ پر کاروں کے قافلے ہارن بجاتے ہوئے اے کے پی کے ہیڈ کوارٹرز کی طرف روں دواں تھے جبکہ کاروں کے اندر بیٹھے ہوئے افراد اُن کی کھڑکیوں سے باہر ملکی اور پارٹی پرچم لہرا رہے تھے۔ دوسری طرف اپوزیشن کی مرکزی جماعت ری پبلکن پیپلز پارٹی (سی ایچ پی) نے اس ریفرنڈم کے جائز انعقاد کے حوالے سے سوالات اٹھا دیے ہیں۔ اس جماعت کے مطابق ایسے ووٹ بھی گنے گئے ہیں، جن پر انتخابی عملے کی جانب سے مہر نہیں لگائی گئی تھی۔ اس جماعت کے رہنما یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ اس ریفرنڈم کا مطلب ملک پر ایک شخص کی حکمرانی قائم کرنا ہے اور اس سے ملک کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ استنبول کے کچھ علاقوں میں انتخابی نتائج کے خلاف مظاہرے بھی ہوئے ہیں جبکہ انقرہ میں بھی اپوزیشن جماعت سی ایچ پی کے ہیڈ کوارٹرز کے قریب حکمران جماعت اے کے پی کے حامیوں اور اپوزیشن ارکان کے درمیان تصادم ہوا ہے۔ اِدھر یورپی یونین کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ یورپی یونین کے تین سرکردہ ترین نمائندوں یعنی یورپی کمیشن کے سربراہ ژاں کلوڈ یُنکر، یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ فیدیریکا موگرینی اور یونین میں توسیع سے متعلقہ امور کے کمشنر یوہانیس ہان نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ وہ اس ریفرنڈم کے حوالے سے بین الاقوامی مبصرین کی رپورٹ کا انتظار کر رہے ہیں، جو آج پیر کے روز جاری کی جائے گی۔ کچھ یورپی رہنما ابھی سے اس بات پر زور دینے لگے ہیں کہ اس ریفرنڈم کے بعد ترکی کی یورپی یونین میں شمولیت کے حوالے سے انقرہ حکومت کے ساتھ جاری مذاکرات ختم کر دیے جانے چاہییں۔

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے اتوار کو منعقدہ آئینی ریفرنڈم میں اپنی فتح کا اعلان کر دیا ہے۔ اپوزیشن نے کہا ہے کہ اس ریفرنڈم کے دوران بے قاعدگیاں ہوئی ہیں اور وہ اس کے نتائج کو چیلنج کرے گی۔ اس ریفرنڈم میں صدر ایردوآن کی کامیابی کا مطلب یہ ہے کہ اب جدید ترکی کے سیاسی ڈھانچے میں ... Read More »

برطانوی پارلیمان نے بریگزٹ کی راہ ہموار کر دی

برطانوی پارلیمان نے بریگزٹ بل کی منظوری دے دی ہے، جس کے باعث اب برطانیہ کا یورپی یونین سے اخراج کا مرحلہ شروع ہو سکے گا۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی نے برطانوی میڈیا کے حوالے سے بتایا ہے کہ متوقع طور پر چودہ مارچ بروز پیر اس بل کو قانونی شکل دے دی جائے گی۔ برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے اس بل کی حتمی منظوری کے بعد آرٹیکل پچاس کے تحت برسلز سے بریگزٹ پر مذاکرات شروع کرنے کے قابل ہو جائیں گی۔ ’بریگزٹ‘ مے کو بات چیت شروع کرنے کا اختیار مل گیا برطانیہ: بریگزٹ منصوبے پر لندن پارلیمنٹ میں بحث شروع بریگزٹ کے بعد برطانیہ میں نفرت پر مبنی جرائم میں اضافہ برطانوی عوام نے ایک ریفرنڈم میں یورپی یونین سے الگ ہونے کے حق میں فیصلہ دیا تھا تاہم اس عمل میں کچھ قانونی مسائل حائل ہیں۔ البتہ گزشتہ روز برطانوی پارلیمان کی طرف سے منظوری کے بعد یہ عمل اب آسان ہو گیا ہے۔ اسکاٹ لینڈ کا کہنا ہے کہ برطانیہ سے نکلنے کے لیے ایک نیا عوامی ریفرنڈم کرائے جانے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔ اسکاٹ لینڈ کی فرسٹ منسٹر نکولا سٹرجن کے مطابق یہ ریفرنڈم ممکنہ طور پر برطانیہ کے یورپی یونین سے نکلنے سے قبل کرا لیا جائے گا۔ تاہم اس مقصد کے لیے اسکاٹ لینڈ کو لندن حکومت کی منظوری حاصل کرنا پڑے گی اور لندن کی جانب سے ایسی اجازت ملنے کے امکانات نہایت کم ہیں۔ دو ہزار چودہ میں بھی اسکاٹ لینڈ کے برطانیہ سے اخراج کے لیے ریفرنڈم کرایا گیا تھا جس میں پچپن فیصد اسکاٹش عوام نے برطانیہ میں شامل رہنے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ تاہم بریگزٹ ریفرنڈم میں اسکاٹش عوام کی اکثریت نے یورپی یونین میں شامل رہنے کی حمایت کی تھی۔ گزشتہ برس جون میں برطانیہ میں بریگزٹ ریفرنڈم کے نتائج کی وجہ سے یورپی یونین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی اور سرمایہ کاروں کے ساتھ ساتھ تاجر یورپی یونین کے مستقبل کے حوالے سے خدشات کا شکار ہو گئے تھے۔ ابتدائی طور پر ایسی قیاس آرائیاں کی جارہی تھیں کہ یورپی یونین کے حامی ارکان پارلیمان شاید بریگزٹ کے عمل کا راستہ روک لیں گے۔ بریگزٹ کے حوالے سے پیش کی جانے والی قرارداد پر پانچ روز سے جاری بحث کے دوران یہ واضح ہو گیا تھا کہ زیادہ تر ارکان اس عمل کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنیں گے۔ ان میں وہ ارکان بھی شامل ہیں، جو برطانیہ کے یورپی یونین سے انخلا کو ایک بڑی غلطی سے تعبیر کرتے ہیں۔

برطانوی پارلیمان نے بریگزٹ بل کی منظوری دے دی ہے، جس کے باعث اب برطانیہ کا یورپی یونین سے اخراج کا مرحلہ شروع ہو سکے گا۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی نے برطانوی میڈیا کے حوالے سے بتایا ہے کہ متوقع طور پر چودہ مارچ بروز پیر اس بل کو قانونی شکل دے دی جائے گی۔ برطانوی وزیر اعظم ... Read More »

صدر ٹرمپ یورپ کے ساتھ ہیں، امریکی نائب صدر

امریکی نائب صدر مائیک پینس بیس فروری کو پہلی مرتبہ یورپی یونین کے ہیڈکوارٹرز کے دورے پر برسلز پہنچے۔ وہ اس سے قبل جرمن شہر میونخ میں منعقدہ بین الاقوامی سکیورٹی کانفرنس میں بھی امریکا کی نمائندگی کر رہے تھے۔ امریکی نائب صدر مائیک پینس نے کہا ہے کہ امریکا یورپی یونین کے ساتھ اپنا تعاون اور پارٹنر شپ جاری رکھے گا۔ یہ بات انہوں نے اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد برسلز کے اپنے پہلے سرکاری دورے کے موقع پر کہی۔ برسلز میں یورپی یونین کی کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹُسک کے ساتھ ایک ملاقات کے بعد امریکی نائب صدر نے واضح کیا کہ یورپی یونین کے ساتھ واشنگٹن کی حمایت و تعاون کا سلسلہ ہمیشہ کی طرح مضبوط اور توانا رہے گا۔ پینس کہا کہ وہ صدر ٹرمپ کی جانب سے یہ کہنے میں فخر محسوس کرتے ہیں کہ یورپی یونین کے ساتھ تعاون کی ’کومٹ منٹ‘ مستقبل میں بھی جاری رہے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا یورپ کے ساتھ چلتے ہوئے دو بڑی معیشتوں کو تقویت دیتے ہوئے انسداد دہشت گردی اور جغرافیائی حوالے سے روس کی تجاوزاتی پالیسی کے خلاف مشرقی یورپی ریاستوں کے دفاع میں بھی عملی کردار ادا کرتا رہے گا۔ مائیک پینس نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خلاف یورپی یونین کی جدوجہد میں امریکا پوری طرح یورپ کے ساتھ ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بالٹک کے خطے سمیت یورپی اقوام کی خود مختاری اور جغرافیائی حاکمیت کے مضبوط دفاع میں بھی امریکا شامل ہے۔ برسلز میں امریکی نائب صدر نے ایک مرتبہ پھر کہا کہ مشرقی یوکرائن کے تنازعے میں واشنگٹن حکومت روس کے احتساب کی حمایت جاری رکھے گی اور امریکا یہ توقع بھی کرتا ہے کہ روس بھی منسک امن معاہدے کا پورا احترام کرے گا۔ برسلز میں پیر ہی کے روز مائیک پینس نے یورپی کمیشن کے صدر ژاں کلود ینکر کے ساتھ بھی ملاقات کی۔ اس ملاقات میں لکسمبرگ کے سابق وزیر اعظم اور اس سینیئر یورپی سیاستدان نے پینس پر واضح کیا کہ امریکا کو بھی ایک مضبوط اور متحد یورپ کی ضرورت ہے۔ ینکر نے یورپی اتحاد کے تناظر میں یہ بھی کہا کہ یورپ کے لیے یہ وقت ماضی کی صوبائیت پسندی اور قومیت پرستی میں منقسم ہونے کا نہیں ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پینس نے برسلز کے اپنے دورے کے دوران یورپی یونین کی ’نروس‘ ہو چکی قیادت کو ٹرمپ انتظامیہ کی ’کومٹ منٹ‘ سے آگاہ کرنے کی بھی پوری کوشش کی۔ برسلز میں پینس کے اس دورے کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بعض پالیسیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے، جن میں درجنوں افراد شریک ہوئے۔ مظاہرین ٹرمپ انتظامیہ کی خواتین، ہم جنس پرستی اور ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق پالیسیوں پر بھی شاکی تھے۔ اس مظاہرے میں شریک انٹرنیشنل پلانڈ پیرنٹ ُہوڈ فیڈریشن کی آئیرین ڈوناڈیو نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ پینس کے دورے کے وقت اس احتجاج کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ ٹرمپ انتظامیہ نے عالمی سطح پر خواتین کے حقوق کو نظرانداز کرنے کی کوشش کی ہے۔ برسلز میں امریکی نائب صدر پینس کے دورے کے دوران انتہائی سخت سکیورٹی اقدامات کیے گئے تھے۔

امریکی نائب صدر مائیک پینس بیس فروری کو پہلی مرتبہ یورپی یونین کے ہیڈکوارٹرز کے دورے پر برسلز پہنچے۔ وہ اس سے قبل جرمن شہر میونخ میں منعقدہ بین الاقوامی سکیورٹی کانفرنس میں بھی امریکا کی نمائندگی کر رہے تھے۔ امریکی نائب صدر مائیک پینس نے کہا ہے کہ امریکا یورپی یونین کے ساتھ اپنا تعاون اور پارٹنر شپ جاری ... Read More »

مہاجرین کی آمد روکنے کے لیے یورپ لیبیا کے ساتھ کام کرے گا

جمعے کے روز مالٹا میں ہوئے یورپی یونین کے رہنماؤں کے ایک اجلاس میں لیبیا میں سرگرم انسانوں کے اسمگلروں کے خلاف کارروائی اور اس شمالی افریقی ملک سے مہاجرین کی یورپ آمد کو کم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ شمالی افریقی ملک لیبیا معمر قذافی کے اقتدار کے خاتمے اور ان کی ہلاکت کے بعد ہی سے لاقانونیت کا شکار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں اب مختلف ملیشیاؤں کا قبضہ ہے اور مہاجرین کے بحران سے فائدہ اٹھانے والے انسانوں کے اسمگلر بھی سرگرم ہیں۔ یہ اسمگلر یورپ پہنچنے کے خواہش مند افراد کو لیبیا سے بحیرہ روم کے راستے جنوبی یورپی ساحلوں تک پہنچاتے ہیں۔ جمعے کے روز یورپی ملک مالٹا میں یورپی یونین کے رہنماؤں کے ایک اجلاس کا موضوع یہی تھا کہ کس طرح لیبیا سے یورپ آنے والے مہاجرین کی تعداد کو کم کیا جا سکے۔ اس کے لیے یورپی رہنماؤں نے لیبیا کے ساتھ مل کر کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ لیبیا سے مہاجرین کی آمد کو روکنے کی ایک وجہ انسانی جانوں کے ضیاع کو کم کرنا بھی ہے۔ مہاجرین کے بحران کے آغاز سے لے کر اب تک ہزاروں افراد کشتیوں کے ذریعے یورپ پہنچنے کی کوشش میں سمندر برد ہو چکے ہیں۔ جمعہ تین فروری کو ہونے والے اجلاس میں اس حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ لیکن یورپی یونین کے اجلاس میں طے پانے والے فیصلوں کے اطلاق اور ان کی کامیابی کا انحصار لیبیا کے حکم رانوں پر بھی ہے۔ ملک کے ساحلی علاقوں پر بارڈر گارڈز نہ ہونے کے برابر ہیں۔ لیبیا میں دو متحارب حکومتیں بہ یک وقت کام کر رہی ہیں، اور کئی ملیشیائیں مختلف علاقوں پر قبضہ کیے ہوئے ہیں۔ اس صورت حال میں یورپی یونین کا لیبیا کے ساتھ مل کر کام کرنا یا وہاں کے حکم رانوں سے اپنے منصوبوں پر عمل درآمد کو ممکن بنوانا خاصا مشکل ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم اجلاس میں شریک اطالوی وزیر اعظم جینٹیلونی پرامید ہیں۔ ’’ہم جانتے ہیں کہ کوئی معجزہ رونما نہیں ہوگا، تاہم ہم بہتری کی توقع کر رہے ہیں۔‘‘ گزشتہ روز اطالوی وزیر اعظم نے اپنے لیبیائی ہم منصب فائز السراج کے ساتھ غیرقانونی مہاجرین کے یورپ کی جانب سفر کرنے کے سنگین معاملے کو خاص طور پر میٹنگ کا حصہ بنایا تھا۔ ملاقات کے بعد ایک مفاہمت کی یاداشت پر بھی دست خط کیے گئے اور اس کا تعلق بھی لیبیا کے مختلف علاقوں سے بحیرہ روم کے راستے یورپ آنے والے غیرقانونی مہاجرین کی حوصلہ شکنی سے تھا۔ اس یاداشت میں یہ بھی طے کیا گیا کہ روم حکومت لیبیا کے اداروں کو مضبوط کرنے میں بھی عملی تعاون کرے گی۔ کوسٹ گارڈز کی تربیت کے پروگرام کے علاوہ بحیرہ روم میں مہاجرین کی کشتیوں کو قابو میں کرنے کا بحری مشن ’صوفیہ‘ بھی جاری ہے۔ اٹلی کی جانب سے لیبیا کی حکومت کی ملکی سرحدوں کے کنٹرول میں رہنمائی کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

جمعے کے روز مالٹا میں ہوئے یورپی یونین کے رہنماؤں کے ایک اجلاس میں لیبیا میں سرگرم انسانوں کے اسمگلروں کے خلاف کارروائی اور اس شمالی افریقی ملک سے مہاجرین کی یورپ آمد کو کم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ شمالی افریقی ملک لیبیا معمر قذافی کے اقتدار کے خاتمے اور ان کی ہلاکت کے بعد ہی سے لاقانونیت کا ... Read More »

Scroll To Top