You are here: Home » Tag Archives: چین

Tag Archives: چین

Feed Subscription

کم کام کرنے والے چینی کارکن: پینے کو پیشاب، کھانے کو کاکروچ

چینی میں مکانات کی تعمیر و تزئین کرنے والی ایک کمپنی کے ’کم کام کرنے والے‘ کارکنوں کو ان کی سرزنش کے لیے جبراﹰ پیشاب پلایا اور کاکروچ کھلائے جاتے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی چمڑے کی بیلٹوں سے پٹائی بھی کی جاتی رہی ہے۔ چینی دارالحکومت بیجنگ سے جمعرات آٹھ نومبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق چین کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے ملکی سوشل میڈیا پر جاری کردہ تصویروں اور ویڈیو فوٹیج کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ جو چینی کارکن اپنے افسران کی طرف سے دیے گئے پیشہ ورانہ اہداف کے حصول میں ناکام رہتے تھے، انہیں غیر قانونی طور پر لیکن طرح طرح کی سزائیں دی جاتی تھیں۔ ان سزاؤں میں یہ بھی شامل تھا کہ ایسے کارکنوں کی یا تو تنخواہیں ایک ماہ کے لیے روک دی جاتی تھیں، یا ان کے سر منڈوا دیے جاتے تھے، یا پھر انہیں کسی بیت الخلا میں ٹائلٹ سیٹ کے اندر موجود پانی پینے پر مجبور کیا جاتا تھا۔ سرکاری میڈیا کے مطابق یہ سب کچھ جنوب مغربی صوبے گُوئی ژُو کی ایک تعمیراتی کمپنی کے ملازمین کے ساتھ کیا جاتا رہا۔ اس غیر انسانی برتاؤ کی اس کمپنی کے کئی سابقہ ملازمین نے بھی تصدیق کر دی ہے اور یہ بھی ثابت ہو گیا ہے کہ اس کمپنی کے انتظامی عملے کی موجودگی میں کئی کارکنوں کے ساتھ ایسا سلوک سرعام روا رکھا گیا۔ روئٹرز کے مطابق یہ بھی بار بار دیکھنے میں آیا تھا کہ کام پر جانے والے جو کارکن چمڑے کے جوتے یا اپنا مناسب پیشہ ورانہ لباس پہننا بھول گئے تھے، انہیں 50 یوآن جرمانہ بھی کیا گیا۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس کمپنی کی طرف سے ’توقع سے کم کام کرنے والے‘ کارکنوں کے خلاف ایسی سزاؤں کا طریقہ کار اس سال کے آغاز سے متعارف کرایا گیا تھا۔ دریں اثنا چین کے عوامی تحفظ کے ملکی دفتر (پبلک سکیورٹی بیورو) کی مقامی شاخ نے بھی تصدیق کر دی ہے کہ ایسی ذلت آمیز سزاؤں کے باوجود متاثرہ کارکنوں کی اکثریت نے اپنا روزگار نہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا کیونکہ وہ اس امر کی متحمل نہیں ہو سکتی تھی کہ اس کو پاس کوئی روزگار نہ ہو۔ پبلک سکیورٹی بیورو کے مطابق اس طرح کے غیر انسانی رویوں کے باعث اب تک اس چینی کمپی کے تین اعلیٰ انتظامی اہلکاروں کو پانچ سے لے کر دس روز تک کی قید کی سزائیں بھی سنائی جا چکی ہیں۔ چین میں، جہاں قومی سطح پر اقتصادی ترقی اور مجموعی سالانہ پیداوار میں اضافے کی شرح دنیا کے بہت سے دیگر ممالک کے مقابلے میں بہت اونچی ہے، عام کارکنوں کے لیے روزگار کے حالات کو انسانی حقوق کے کئی ادارے ’بہت سخت اور معاف کر دینے کی سوچ سے عاری‘ قرار دیتے ہیں۔ اس کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ چینی مزدوروں کی بہت بڑی تعداد کے روزانہ اوقات کار بہت طویل ہوتے ہیں، انہیں تنخواہیں بھی بہت کم ملتی ہیں اور وہ اکثر درجنوں کی تعداد میں چھوٹے چھوٹے کوارٹروں میں رہتے ہیں۔ ریاستی میڈیا کے مطابق صوبے گُوئی ژُو کی جس کمپنی کے ملازمین کو یہ شرمناک سزائیں دی گئیں، ان کی اکثریت نے اپنی اس تذلیل کے باوجود ان سزاؤں پر ’بہت زیادہ ناخوشی کا اظہار کرنے کے بجائے اسے اپنی قسمت سمجھ کر تسلیم کر لیا تھا

چینی میں مکانات کی تعمیر و تزئین کرنے والی ایک کمپنی کے ’کم کام کرنے والے‘ کارکنوں کو ان کی سرزنش کے لیے جبراﹰ پیشاب پلایا اور کاکروچ کھلائے جاتے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی چمڑے کی بیلٹوں سے پٹائی بھی کی جاتی رہی ہے۔ چینی دارالحکومت بیجنگ سے جمعرات آٹھ نومبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز ... Read More »

بھارت ’دشمن کی جائیدادیں‘ فروخت کرے گا

نئی دہلی حکومت نے بھارت چھوڑ کر پاکستان یا چین چلے جانے والے شہریوں کی املاک فروخت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ بھارت چھوڑ جانے والے ان افراد کی جائیدادوں کی مالیت چار سو ملین ڈالر کے برابر ہے۔ بھارتی حکومت کے منصوبے کے مطابق چین اور پاکستان کے ساتھ جنگوں کے بعد ملک چھوڑ کر ان ممالک کا رخ کرنے والے افراد کی املاک فروخت کر دی جائیں گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ’دشمن کی جائیدادیں‘ 996 کمپنیوں کی شکل میں ہیں، جن کے مالک بیس ہزار افراد یا ادارے تھے۔ یہ املاک پاکستان کے ساتھ سن 1947، 1965 اور 1971 کے تنازعات جب کہ سن 1962 میں چین کے ساتھ سرحدی جنگ کے بعد سرکاری قبضے میں لے لی گئی تھیں۔ ’لو جہاد‘ کا کوئی ثبوت نہیں، بھارتی قومی تفتیشی ایجنسی پاکستانی شہر مٹھی، ہندو مسلم رواداری کا نخلستان ان املاک کی فروخت کی نگرانی بھارتی وزیرخزانہ کر رہے ہیں۔ انہیں توقع ہے کہ اس سے حکومت کو 413 ملین ڈالر کی آمدن ہو گی۔ جمعرات کے روز ایک حکومت عہدیدار نے اس منصوبے کا اعلان کیا۔ حکومتی بیان میں کہا گیا ہے کہ اس طرح سے حاصل ہونے والی آمدن کو ملک میں ترقی اور بہبود کے مختلف پروگرامز میں استعمال کیا جائے گا۔ حکومتی بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اینیمی شیئرز‘ نامی اس منصوبے کو بھارت میں 1968 کی اس تعریف کے تحت استوار کیا گیا ہے، جس میں ’دشمن کے اثاثوں‘ کا تعین کیا گیا تھا۔ اس بھارتی قانون کے تحت ایسے افراد جو بھارت یا چین کے ساتھ تنازعات کے بعد ملک چھوڑ کر ان ممالک کو ہجرت کر گئے، ان کی املاک اور اثاثے ’دشمن کی املاک‘ قرار دیے گئے تھے۔ یہ بات اہم ہے کہ ایسے بہت سے افراد بھی موجود ہیں، جن کے رشتہ دار ملک چھوڑ کر ہجرت کر گئے، تاہم وہاں ان کے دیگر رشتہ داروں نے رہنا یا ان املاک کو استعمال کرنا شروع کر دیا۔ سن 2017 میں نریندر مودی کی قوم پرست حکومت نے اس متنازعہ قانون میں ترمیم کی تھی، جس کے تحت ایسے بھارتی شہری جو قانونی طور پر یہ جائیداد بھی استعمال کر رہے تھے، ان سے یہ املاک لی جا سکتی ہیں۔ اس ترمیم پر بھارت میں شدید بحث ہوئی تھی، کیوں کہ بھارت سے ہجرت کر کے پاکستان چلے جانے والے زیادہ تر افراد مسلمان تھے جب کہ ان املاک میں بسنے والے خاندانوں کو یہ خدشات لاحق ہو گئے تھے کہ انہیں کسی بھی وقت ان مکانات سے نکالا جا سکتا ہے۔ رواں برس جنوری میں حکومت نے اعلان کیا تھا کہ 9400 ایسی املاک کی شناخت کر لی گئی ہے، جو ’دشمن کے اثاثے‘ ہیں اور انہیں نیلام کیا جائے گا۔ ان شناخت کردہ اثاثوں میں سے 9280 ان افراد کی ہیں، جو بھارت سے پاکستان ہجرت کر گئے، جب کہ 126 ایسی املاک ہیں، جن کے مالک چین چلے گئے تھے۔

نئی دہلی حکومت نے بھارت چھوڑ کر پاکستان یا چین چلے جانے والے شہریوں کی املاک فروخت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ بھارت چھوڑ جانے والے ان افراد کی جائیدادوں کی مالیت چار سو ملین ڈالر کے برابر ہے۔ بھارتی حکومت کے منصوبے کے مطابق چین اور پاکستان کے ساتھ جنگوں کے بعد ملک چھوڑ کر ... Read More »

امریکا جزیرہ نما کوریا میں کشیدگی کا باعث ہے، شمالی کوریا

تقریباً گزشتہ آٹھ برسوں میں اقوام متحدہ کے کسی سینیئر اہلکار کا شمالی کوریا کا یہ پہلا دورہ تھا۔ اس دورے کا مقصد شمالی کوریائی بحران کی شدید کشیدہ صورتحال میں کمی لانے کی کوشش ہے۔ اقوام متحدہ کے سفارت کار جیفری فیلٹمین نے شمالی کوریا کا دورہ مکمل کر لیا ہے۔ وہ پانچ دن شمالی کوریائی دارالحکومت پیونگ یانگ میں گزارنے کے بعد بیجنگ پہنچ گئے ہیں۔ پیونگ یانگ میں قیام کے دوران فیلٹمین نے وزیر خارجہ ری یونگ ہو کے علاوہ نائب وزیر خارجہ پاک میونگ کُک سے ملاقاتیں کی تھیں۔ امریکا کے ساتھ جنگ اب ’ناگزیر‘ ہے، شمالی کوریا جرمنوں کی نظر میں ٹرمپ شمالی کوریا اور روس سے زیادہ بڑا خطرہ شمالی کوریا ناپسندیدہ جنگی صورتحال کے قریب ہے، امریکا شمالی کوریا: سلامتی کونسل کی قراردار کی ایک اور خلاف ورزی ان ملاقاتوں میں شمالی کوریائی حکام نے اقوام متحدہ کے نمائندے پر واضح کیا کہ جزیرہ نما کوریا میں امریکا کا رویہ کشیدگی اور تناؤ کا باعث ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا جوہری بلیک میلنگ کا مرتکب ہوا ہے اور اسی باعث اس خطے میں صورت حال مسلسل بگڑتی جا رہی ہے۔ شمالی کوریا کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ اُس کا جوہری ہتھیار سازی کا پروگرام کلی طور پر دفاعی ہے۔ کمیونسٹ ملک کی نیوز ایجنسی کے سی این اے کے مطابق پیونگ یانگ حکام نے عالمی ادارے کے سفارت کار پر واضح کیا کہ امریکی پالیسی جارحیت پر مبنی ہے۔ اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ شمالی کوریائی حکام نے اقوام متحدہ کے ساتھ مختلف سطحوں پر تواتر کے ساتھ رابطے رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ کے سی این اے کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ آیا اقوام متحدہ کے اہلکار کی شمالی کوریائی لیڈر کم جونگ اُن سے بھی ملاقات ہوئی ہے۔ جیفری فیلٹمین کا دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایک ہفتہ قبل شمالی کوریا نے ایک طاقتور بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا تھا تو دوسری جانب اسی ہفتے کے دوران امریکا اور جنوبی کوریا کی فوجی مشقوں کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔ جیفری فیلٹمین اقوام متحدہ کے سیاسی امور کے نائب سیکرٹری جنرل ہیں۔ سن 2010 کے بعد اقوام متحدہ کے کسی اعلٰی اہلکار کا پہلا شمالی کوریائی دورہ ہے۔ انہوں نے اپنے دورے کے اختتام پر چینی دارالحکومت کے ہوائی اڈے پر میڈیا کے نمائندوں سے کوئی بات نہیں کی۔

تقریباً گزشتہ آٹھ برسوں میں اقوام متحدہ کے کسی سینیئر اہلکار کا شمالی کوریا کا یہ پہلا دورہ تھا۔ اس دورے کا مقصد شمالی کوریائی بحران کی شدید کشیدہ صورتحال میں کمی لانے کی کوشش ہے۔ اقوام متحدہ کے سفارت کار جیفری فیلٹمین نے شمالی کوریا کا دورہ مکمل کر لیا ہے۔ وہ پانچ دن شمالی کوریائی دارالحکومت پیونگ یانگ ... Read More »

تائیوان میں تحریک آزادی کچل دیں گے، چینی صدر کا انتباہ

چینی صدر نے خبردار کیا ہے کہ تائیوان کی چین سے الگ ہونے کی کوششوں کو ناکام بنا دیا جائے گا۔ دوسری طرف تائیوان نے چینی صدر کے اس بیان کو افسوسناک قرار دیا ہے۔ بیجنگ ون چائنہ پالیسی کے تحت تائیوان کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے۔ چینی صدر شی جن پنگ نے بدھ اٹھارہ اکتوبر کے روز حکمران کمیونسٹ پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے ایک اجلاس سے اپنےخطاب میں واضح کیا کہ چین پراعتماد ہے کہ علیحدگی پسندوں کی طرف سے تائیوان کی آزادی کی کوششوں کو ناکام بنا دیا جائے گا۔ چینی کمیونسٹ پارٹی کی کانگریس سے اپنے افتتاحی خطاب میں انہوں نے مزید کہا کہ اس تناظر میں بیجنگ حکومت کی اہلیت پر کوئی شک نہیں کیا جانا چاہیے۔ اقتصادی مفادات چین اور تائیوان کو قریب لا سکتے ہیں ’آزاد ہانگ کانگ اور تائیوان بطور الگ وطن قابلِ قبول نہیں‘ چین سے تنازعے میں فوجی کارروائی کوئی حل نہیں، تائیوانی صدر صدر شی جن پنگ کے بقول، ’’ہم کسی فرد، ادارے یا کسی بھی سیاسی پارٹی کو اجازت نہیں دیں گے کہ وہ چین کے کسی بھی علاقے کو چین سے الگ کرنے کی کوشش کرے۔‘‘ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ تائیوان کو چین سے الگ کرنے کے بارے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ چینی صدر کے اس بیان پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے تائیوان کی حکومت نے کہا ہے کہ ملک کے مستقبل کا فیصلہ کرنا ریاست کے تئیس ملین شہریوں کا حق ہے۔ ایک حکومتی بیان میں چینی صدر کے اس بیان کو ’افسوسناک‘ قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ چین اپنی ون چائنہ پالیسی کے لیے اپنے ہی لوگوں کا اعتماد بھی نہیں جیت سکتا۔ گزشتہ برس تائیوان کے صدارتی انتخابات میں سائی انگ وین کی کامیابی کے بعد سے تائیوان اور چین کے مابین ایک تناؤ کی کیفیت پیدا ہو چکی ہے۔ سائی انگ وین کی طرف سے ون چائنہ پالیسی کی توثیق نہ کرنے پر بیجنگ نے ان کی حکومت سے سفارتی تعلقات منقطع کر دیے تھے۔ سن انیس سو انچاس میں خانہ جنگی کے نتیجے میں تائیوان نے چین سے علیحدگی اختیار کر لی تھی تاہم اپنی باقاعدہ آزادی کا اعلان نہیں کیا تھا۔ تائیوان کی اس خاتون رہنما نے چین کو اس وقت بھی ناراض کر دیا تھا، جب انہوں نے امریکی صدارتی انتخابات میں کامیابی پر ڈونلڈ ٹرمپ کو مبارک باد کا پیغام ارسال کیا تھا۔ چین تائیوان کو، جس کی حکمرانی پر بیجنگ کو کوئی اختیار نہیں ہے، اپنا ایک باغی صوبہ قرار دیتا ہے اور کہتا ہے کہ تائیوان کو چین کے کنٹرول میں لایا جانا چاہیے، چاہے اس کے لیے کوئی فوجی کارروائی ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔ بدھ کے دن حکمران کمیونسٹ پارٹی کی کانگریس سے خطاب میں شی جن پنگ نے دیگر موضوعات پر بھی گفتگو کی۔ تین گھنٹے طویل اپنے اس خطاب میں انہوں نے کہا کہ کمیونسٹ پارٹی کو ملکی ٹیکنالوجی کی صنعت کی ترقی میں قائدانہ کردار ادا کرنا چاہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس مقصد کی خاطر مختلف ریاستی اداروں کے مابین زیادہ بہتر رابطہ کاری ہونی چاہیے۔ چینی کمیونسٹ پارٹی کا یہ اجلاس ہر پانچ برس بعد منعقد ہوتا ہے، جس میں آئندہ ملکی سربراہ کے چناؤ کے علاوہ قومی حکمت عملی بھی ترتیب دی جاتی ہے۔ سن دو ہزار بارہ میں پارٹی سربراہ بننے والے شی جن پنگ متوقع طور پر دوبارہ اس عہدے کے لیے منتخب کر لیے جائیں گے۔

چینی صدر نے خبردار کیا ہے کہ تائیوان کی چین سے الگ ہونے کی کوششوں کو ناکام بنا دیا جائے گا۔ دوسری طرف تائیوان نے چینی صدر کے اس بیان کو افسوسناک قرار دیا ہے۔ بیجنگ ون چائنہ پالیسی کے تحت تائیوان کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے۔ چینی صدر شی جن پنگ نے بدھ اٹھارہ اکتوبر کے روز حکمران ... Read More »

چین بھارت سرحدی تنازعہ اور مسلسل بگڑتے تعلقات

چینی وزارت دفاع نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ نئی دہلی حکومت دونوں ممالک کے مابین متنازعہ سرحدی علاقے پر تعینات اپنے فوجی ’فوری طور پر‘ واپس بلا لے۔ دونوں ممالک کے مابین اس معاملے کے باعث کشیدگی پائی جاتی ہے۔ حالیہ ہفتوں کے دوران چین اور بھارت کے مابین متنازعہ سرحدی علاقے میں بھارتی فوجوں کی تعیناتی کے بعد سے ہمسایہ ممالک کے مابین کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ اس سرحدی تنازعے کے باعث سفارتی سطح پر دونوں ممالک کے تعلقات میں مسلسل کشیدگی اور دونوں جانب کے عوام عوام میں ’قوم پسندانہ جذبات‘ بھی بڑھ رہے ہیں۔ بھارت کسی زعم میں نہ رہے، سرحد کا دفاع کرنا جانتے ہیں، چین متنازعہ خطے سے بھارتی فوجی انخلا امن کی پہلی شرط، چینی سفیر چین کے سرکاری نیوز ایجنسی ژنہاؤ کے مطابق بیجنگ کی وزارت دفاع نے بھارت سے اپنے فوجی ’فوری طور پر‘ اس متنازعہ سرحدی علاقے سے واپس بلا لینے کا مطالبہ چار اگست بروز جمعہ کیا ہے۔ چینی وزارت دفاع کے ترجمان رین گواچیانگ کا کہنا تھا کہ بھارتی فوجوں کی جانب سے چین کی سرحدی حدود میں داخل ہونے کے بعد بیجنگ نے ’انتہائی برداشت کا مظاہرہ‘ کیا ہے، لیکن چین کی برداشت کی بھی ایک حد ہے۔ بھارت کو تنبیہہ کرتے ہوئے چینی وزارت دفاع کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ’تاخیری حربے استعمال کر کے بھارت کسی غلط فہمی میں نہ رہے‘ اور چین کے ’اعتماد اور دفاعی صلاحیتوں‘ کے بارے میں بھی بھارت کو ’غلط اندازہ‘ نہیں لگانا چاہیے کیوں کہ ’چین اپنی خودمختاری اور مفادات کا دفاع‘ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ چینی ٹی وی پر آج ایک ویڈیو نشر کی گئی جس میں تبت میں کسی نامعلوم مقام پر چینی فوجوں کو جنگی مشقیں کرتے دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ چینی فوج کا ایک اہلکار فائرنگ کا حکم دیتا ہے جس کے بعد یکے بعد دیگرے کئی راکٹ فائر کیے جاتے ہیں۔ علاوہ ازیں چینی آرٹلری کو توپوں میں گولہ بارود لوڈ کرتے ہوئے بھی دکھایا گیا ہے۔ چین اور بھارت کے مابین اس حالیہ سرحدی تنازعے کا آغاز جون میں ہوا تھا۔ چین کا الزام ہے کہ بھارتی فوجیں چین، بھارت اور نیپال کے سنگم پر واقع سرحدی علاقے میں چین کی سرحدی حدود میں داخل ہو گئی تھیں۔ بھارت کے انتہائی شمال مشرق میں ہمالیائی سطح مرتفع پر واقع اس علاقے کو ہندی میں ’دوکلام‘ اور چینی زبان میں ’دونگ لانگ‘ کہا جاتا ہے۔ چین کے مطابق بھارت نے اپنے اتحادی بھوٹان کی سرحد کے قریب اس چینی علاقے میں داخل ہو کر سن 1890 میں طے پانے والے اس سرحدی معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے جو کہ چین اور اس وقت کے برصغیر میں برسراقتدار برطانوی حکومت کے مابین طے پایا تھا۔ دوسری جانب بھارت کا کہنا ہے کہ چینی فوجوں نے بھوٹانی علاقے میں سڑک تعمیر کرنے کی کوشش کی تھی جس کے بعد بھوٹان کی جانب سے شکایت اور مداخلت کی اپیل کے بعد بھارتی فوجیں اس علاقے میں روانہ کی گئی تھیں۔

چینی وزارت دفاع نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ نئی دہلی حکومت دونوں ممالک کے مابین متنازعہ سرحدی علاقے پر تعینات اپنے فوجی ’فوری طور پر‘ واپس بلا لے۔ دونوں ممالک کے مابین اس معاملے کے باعث کشیدگی پائی جاتی ہے۔ حالیہ ہفتوں کے دوران چین اور بھارت کے مابین متنازعہ سرحدی علاقے میں بھارتی فوجوں کی تعیناتی کے ... Read More »

جنوب مشرقی ايشيائی ممالک بيرونی مداخلت کو رد کريں، چين

چين نے جنوب مشرقی ايشيائی ممالک پر زور ديا ہے کہ وہ جنوبی چينی سمندر کے تنازعے کے حل کے ليے متحد ہو کر بيرونی قوتوں کی مداخلت کے خلاف کھڑے ہوں۔ اس بارے ميں بيان چينی وزير خارجہ وانگ يی نے فلپائن کے دارالحکومت منيلا ميں منگل کو ديا۔ وانگ نے سابقہ طور پر امريکا کے اتحادی ملک فلپائن کے ساتھ روابط کی بہتری کو بھی سراہا۔ آئندہ ہفتے منيلا ميں جنوب مشرقی ايشيائی ممالک کی دس رکنی تنظيم آسيان کی سمٹ ہونی ہے۔ چينی وزير خارجہ کے مطابق منيلا اور بيجنگ کے باہمی تعلقات ميں بہتری سے بحری تنازعے کے حل تک پہنچا جا سکے گا۔ انہوں نے امريکا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ چندد قوتيں علاقے ميں استحکام نہيں چاہتيں۔

چين نے جنوب مشرقی ايشيائی ممالک پر زور ديا ہے کہ وہ جنوبی چينی سمندر کے تنازعے کے حل کے ليے متحد ہو کر بيرونی قوتوں کی مداخلت کے خلاف کھڑے ہوں۔ اس بارے ميں بيان چينی وزير خارجہ وانگ يی نے فلپائن کے دارالحکومت منيلا ميں منگل کو ديا۔ وانگ نے سابقہ طور پر امريکا کے اتحادی ملک فلپائن ... Read More »

چین نے پینٹاگون کی رپورٹ مسترد کر دی

چین نے امریکی محکمہء دفاع پینٹاگون کی اس رپورٹ کو بے بنیاد قرار دے دیا ہے جس میں چین کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ پاکستان سمیت دیگر ممالک میں فوجی اڈے بنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان نے بدھ کے روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’ بیجنگ حکومت اس رپورٹ کی مکمل مخالفت کرتی ہے جس میں چین کے قومی دفاعی بجٹ، علاقائی سالمیت اور سکیورٹی مفادات کے حوالے سے غیر ذمہ دارنہ بیان دیا گیا ہے۔‘‘ چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ہوا شونیگ نے کہا کہ چین اور پاکستان قریبی دوست ملک ہیں، جو کئی شعبوں میں باہمی تعاون کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ چین اپنا پہلا غیر ملکی فوجی اڈہ جبوتی میں تعمیر کر رہا ہے۔ چین کے مطابق اس اڈے کے ذریعے وہ خلیج عدن میں بحری قذاقی کی روک تھام اور اس خطے میں اقوام متحدہ کے امن مشن کو مدد فراہم کرے گا۔ پینٹاگون کی اس رپورٹ میں کہا گیا تھا،’’ چین ایسے ممالک میں فوجی اڈے قائم کرے گا جن سے اس کے دیرینہ تعلقات ہیں اور جن ممالک کے چین کے ساتھ مشترکہ اسٹریٹیجک مفادات ہیں جیسا کہ پاکستان۔‘‘ پینٹاگون کی رپورٹ میں یہ بھی تحریر کیا گیا ہے کہ غیر ملکی بندرگاہوں پر چین کے بحری جہازوں کے دورے چین کے بڑھتے اثر و رسوخ کو ظاہر کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ پاکستان اور چین مل کر اس خطے میں اقتصادی راہداری منصوبے پر کام کر رہے ہیں۔ پاک چین اقتصادی راہ داری کا تصور پہلی مرتبہ سن 2013 میں چینی سربراہ نے دورہء پاکستان میں پیش کیا تھا۔ اس کا بنیادی مقصد کاشغر سے گوادر تک ایک اقتصادی راہ داری بنانا تھا۔ دونوں ممالک کی حکومتوں نے ہائی ویز، ریلوے لائنیں ، تیل اور قدرتی گیس کی پائپ لائنیں اور فائبر آپٹک نیٹ ورکس بنانے کا ایک دور رس جامع منصوبہ بنایا ہے۔ سن 2015 میں دونوں ممالک کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیہ کے مطابق دونوں ممالک قراقرم ہائی وے کی تعمیر نو ، گوادر کی بندرگاہ تک ایکسپریس وے کی تعمیر، لاہور سے کراچی ایکسپریس وے، ایک نئے بین الاقوامی ائیر پورٹ کی تعمیر، لاہور اورنج لائن ریلوے، چین پاکستان فائبر آپٹک نیٹ ورک اور ہائیر روبا معاشی زون جیسے منصوبوں کو پایہ ء تکمیل تک پہنچائیں گے۔

چین نے امریکی محکمہء دفاع پینٹاگون کی اس رپورٹ کو بے بنیاد قرار دے دیا ہے جس میں چین کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ پاکستان سمیت دیگر ممالک میں فوجی اڈے بنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان نے بدھ کے روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’ بیجنگ حکومت اس رپورٹ ... Read More »

عالمی اقتصادی محاذ پر بھارت کے لئے نامناسب صورتحال

بھارت کے لئے یہ ہفتہ دو بُری خبروں کا حامل رہا۔ ایک طرف بھارت سے دنیا کی تیز رفتار ترقی کرنے والی معیشت کی پوزیشن چھن گئی ہے تو دوسری طرف عالمی بینک کی رپورٹ میں خواتین ملازمین کی صورت حال کوتشویش ناک قرار دیا گیا ہے۔ اقتصادی ترقی کے تازہ ترین اعدادو شمار کے مطابق بھارت کی مجموعی ملکی پیداوار ( جی ڈی پی) کی شرح 7.1 فیصد سے گھٹ کر 6.1 فیصد ہوگئی ہے۔ یہ گذشتہ دو برسوں میں سب سے کم ہے۔ اس باعث بھارت دنیا میں سب سے تیزی سے ابھرتی ہوئی اقتصادیات کا اعزاز کھو بیٹھا ہے اور اب یہ مقام بھارت کے دیرینہ حریف چین کو حاصل ہوگیا ہے۔ چین کے سرکاری اخبارگلوبل ٹائمز نے اس پر طنز کرتے ہوئے لکھا ہے کہ بھارت کی ترقی کی شرح 6.1 فیصد تک گر جانا بڑے کرنسی نوٹوں پرپابندی جیسی ’اہم اور اختراعی‘ اصلاحات کا نتیجہ ہے۔ اپوزیشن کانگریس پارٹی نے اس صورت حال کیلئے حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی کو براہ راست ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ کانگریس کے ترجمان ابھیشیک منو سنگھوی کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ گذشتہ سال نومبر میں حکومت کی جانب سے بڑے نوٹ منسوخ کرنےکے بعد ہی ماہرین معاشیات اور کانگریس نے معاشی ترقی کی شرح میں کمی کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔ سنگھوی کے مطابق آج صورت حال یہ ہے کہ کسانوں کو اپنے پھل ،سبزیاں اوردودھ سڑک پرپھینک کراحتجاج کرنے کے لئے مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ دوسری طرف مودی حکومت کے وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے اس صورت حال کو کمزور عالمی اقتصادی حالات کے علاوہ کانگریس حکومت سے وراثت میں ملنے والی خراب معیشت کو بڑی وجہ قرار دیا۔ دوسری جانب عالمی بینک کی طرف سے بھارت کی ترقی سے متعلق جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں خواتین ملازمین کی شرح دنیا میں کم ترین ہے اوراس معاملے میں یہ اپنے پڑوسی ملکوں نیپال‘ بھوٹان ‘ بنگلہ دیش اورسری لنکا سے بھی پیچھے ہے۔ نیپال میں پندرہ سال یا اس سے زیادہ عمر کی ورکنگ خواتین کی تعداد 80 فیصد ہے جب کہ بھارت میں شرح صرف 27 فیصد ہے۔ لیکن بھارت اس معاملے میں اپن۔ روایتی حریف پاکستان سے قدرے بہتر ہے، جہاں ورکنگ خواتین کی شرح 25 فیصد ہے۔ تاہم بھارت کیلئے تشویش کی بات یہ کہ یہاں 26 سے 45 برس تک کی عمر والی ساٹھ فیصد خواتین اقتصادی لحاظ سے سرگرم نہیں ہیں۔ نیز بھارتی کالجوں سے گریجویٹ کی ڈگری حاصل کرنے والی خواتین میں سے صرف 40 فیصد ہی معاشی سرگرمیوں سے وابستہ ہوتی ہیں۔ معروف کالم نویس اوربھارت کے سرکاری نشریاتی ادارہ پرسار بھارتی کی سابق چیف ایگزیکٹو افسر مرنال پانڈے کا کہنا ہے،’’خواتین ورکرز کے حوالے سے عالمی بینک کی رپورٹ میں131 ملکوں میں بھارت کو 121 واں مقام ملا ہے۔ یہ کسی بھی لحاظ سے اچھی بات نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا،''مڈل کلاس کے نوجوان پڑھی لکھی بیوی چاہتے ہیں تاکہ وہ آمدنی حاصل کرنے والی پارٹنرثابت ہوسکے لیکن ایسے جوڑوں میں بھی روایتی پابندیاں آڑے آتی ہیں اور کام کرنے والی خواتین پر روایتی دباؤ رہتا ہے کہ وہ بیوی یا بہو بن کر رہے۔‘‘ خیال رہے کہ اقوام متحدہ ڈیویلپمنٹ پروگرام کی ہیومن ڈیویلپمنٹ رینکنگ کے لحاظ سے سن 2015 میں بھارت 188 ملکوں کی فہرست میں131ویں مقام پر تھا ۔صنفی مساوات کے لحاظ سے یہ صورت حال اور بھی تشویش ناک ہے۔ صنفی عدم مساوات انڈکس میں 159ملکوں میں بھارت کا مقام 125واں ہے۔

بھارت کے لئے یہ ہفتہ دو بُری خبروں کا حامل رہا۔ ایک طرف بھارت سے دنیا کی تیز رفتار ترقی کرنے والی معیشت کی پوزیشن چھن گئی ہے تو دوسری طرف عالمی بینک کی رپورٹ میں خواتین ملازمین کی صورت حال کوتشویش ناک قرار دیا گیا ہے۔ اقتصادی ترقی کے تازہ ترین اعدادو شمار کے مطابق بھارت کی مجموعی ملکی ... Read More »

شمالی کوریا چین کے لیے ایک مسئلہ ہے، نا کہ اثاثہ، امریکا

امریکا کے وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کا جوہری پروگرام اقوامِ عالم کے لیے واضح خطرہ ہیں۔ انہوں نے سنگاپور منعقدہ سکیورٹی فورم میں چین کو بحیرہ جنوبی چین میں عسکری کارروائیاں جاری رکھنے سے بھی متنبہ کیا ہے۔ براعظم ایشیا کی شہری ریاست سنگاپور میں منعقد ہونے والے ایک معتبر سکیورٹی فورم میں تقریر کرتے ہوئے امریکی وزیر دفاع جیمز میٹِس نے واضح کیا کہ شمالی کوریا کی جوہری ہتھیار سازی ایک واضح خطرہ ہے اور اِس ملک نے جوہری ہتھیار تیار کرنے کے ساتھ ساتھ بیلسٹک میزائل کی پیداوار میں تیزی پیدا کر رکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا نے کوشش جاری رکھی ہوئی ہے کہ شمالی کوریا کی حکومت اپنے ہتھیار سازی کے پروگرام کوسست کردے۔ انہوں نے کہا کہ چین کے اس ضمن میں اٹھائے گئے تادیبی اقدامات سے ٹرمپ انتظامیہ کی کاوشوں کو تقویت حاصل ہوئی ہے۔ جیمز میٹِس نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کے حوالے سے چینی اقدامات قابل تعریف ہیں، تاہم امریکا چین کو جنوبی بحیرہء چین میں عسکری سرگرمیوں میں اضافے کی اجازت نہیں دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن انتظامیہ شمالی کوریا کے جوہری پروگرام اور میزائل تجربات کے سدباب کے لیے چین کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ جنوبی بحیرہء چین میں بیجنگ کی جانب سے عسکری موجودگی میں اضافہ امریکا کے لیے ناقابل قبول ہے۔ امریکی وزیر دفاع جیمز میٹِس نے مزید کہا ہے کہ شمالی کوریا کے جوہری عزائم عالمی امن کے منافی اور اقوام عالم کے لیے خطرہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیجنگ حکومت کو چاہیے کہ وہ شمالی کوریا کو ایک مسئلے کے طور پر دیکھے نا کہ اثاثے کے طور پر۔ سیکورٹی کانفرنس سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ شمالی کوریا کا جوہری پروگرام ایشیا پیسیفک خطے کے لیے خاص طور پر ایک مشترکہ خطرے کا باعث ہو سکتا ہے۔ میٹِس نے مزید کہا کہ رواں برس اپریل میں چینی صدر شی جن پنگ نے خطے کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے جس عزم کا اظہار کیا تھا، ان پر موثر انداز سے عمل درآمد بھی ہونا چاہیے۔ میٹِس نے واضح کیا کہ چین اور امریکا کے درمیان شمالی کوریا کے علاوہ بحیرہ جنوبی چین کے زیر بحث معاملات نہیں ہیں بلکہ اور بہت کچھ پر بھی بات چیت کا عمل جاری ہے۔ اس فورم پر گفتگو کرتے ہوئے خاتون جاپانی وزیر دفاع ٹومومی اناڈا نے کہا کہ اُن کا ملک شمالی کوریائی مسئلے کے حوالے سے کسی بھی ممکنہ ڈیل کے لیے امریکا کے تمام اقدامات کی تائید کرتا ہے۔ اناڈا کے مطابق اُن کا ملک ضرورت کے تحت شمالی کوریا کے خلاف کسی بھی امریکی عسکری کارروائی کی حمایت کرے گا۔

امریکا کے وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کا جوہری پروگرام اقوامِ عالم کے لیے واضح خطرہ ہیں۔ انہوں نے سنگاپور منعقدہ سکیورٹی فورم میں چین کو بحیرہ جنوبی چین میں عسکری کارروائیاں جاری رکھنے سے بھی متنبہ کیا ہے۔ براعظم ایشیا کی شہری ریاست سنگاپور میں منعقد ہونے والے ایک معتبر سکیورٹی فورم میں تقریر کرتے ہوئے ... Read More »

ہانگ کانگ میں چین نواز خاتون نئی سربراہ منتخب

ہانگ کانگ میں چین نواز خاتون سیاستدان کیری لام کو ملک کی نئی سربراہ چن لیا گیا ہے۔ ہانگ کانگ میں پہلی مرتبہ کسی خاتون کو چیف ایگزیکٹیو کے عہدے کے لیے منتخب گیا ہے۔ تاہم عوام کا کہنا ہے کہ کیری لام ان کا انتخاب نہیں ہیں۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی نے چھبیس مارچ بروز اتوار ہانگ کانگ کے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ چین نواز ملکی الیکشن کمیٹی نے کیری لام کو چیف ایگزیکٹیو کے عہدے کے لیے منتخب کر لیا ہے۔ ہانگ کانگ میں چیف ایگزیکٹیو یا سربراہ کا انتخاب عوام نہیں کرتے بلکہ اس عمل میں مرکزی طاقت الیکشن کمیٹی کو حاصل ہوتی ہے۔ ’آزاد ہانگ کانگ اور تائیوان بطور الگ وطن قابلِ قبول نہیں‘ تائیوان، ہانگ کانگ کی آزادی کے حامی ’دیواروں سے سر پٹختی مکھیاں‘ ہانگ کانگ کے الیکشن، چین مخالف سیاست دان بھی کامیاب چین کے نیم خود مختار علاقے ہانگ کانگ کی اس الیکشن کمیٹی میں اکثریت چین نوازوں کی ہے۔ اس لیے پہلے سے ہی واضح تھا کہ بیجنگ حکومت کی ’فیورٹ‘ کیری لام کو اس عہدے کے لیے منتخب کر لیا جائے گا۔ یہ امر بھی اہم ہے کہ ہانگ کانگ کی الیکشن کمیٹی کے زیادہ تر ارکان کا انتخاب عوام نہیں کرتے ہیں بلکہ انہیں براہ راست ہی چُن لیا جاتا ہے۔ بعد ازاں یہ کمیٹی ملکی چیف ایگزیکٹیو کو چنتی ہے۔ اتوار کے دن اس کمیٹی کے ایک ہزار ایک سو چورانوے ارکان میں سے 777 نے کیری لام کے حق میں ووٹ دیا۔ کیری لام نے اپنے انتخاب کے بعد کہا کہ وہ عوامی سطح پر پائے جانے والے اختلافات کو ختم کرنے کی کوشش کریں گی۔ ہانگ کانگ کے عوام کا مطالبہ ہے کہ چین کے اثرورسوخ کو کم کرتے ہوئے اس علاقے میں ’زیادہ جمہوریت‘ ہونی چاہیے۔ بنکاک میں واقع کنوینشن سینٹر میں اتوار کے دن کیری لام نے اپنے انتخاب کے بعد ان عوامی مطالبات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہانک کانگ کے سیاسی نظام کے حوالے سے عوام میں سنجیدہ اختلافات پائی جاتے ہیں، جن کی وجہ سے مایوسی کا ایک عنصر نمایاں ہوتا جا رہا ہے۔ ہانگ کانگ میں پہلی خاتون سربراہ بننے کا اعزاز حاصل کرنے والی لام نے کہا کہ ان کی اولین ترجیح ہو گی کہ وہ ان عوامی اختلافات کو ختم کریں۔ کیری لام اس سال جولائی میں اپنے عہدے سے سبکدوش ہونے والے چیف ایگزیکٹیو لیونگ چُن یِنگ کی جگہ یہ منصب سنبھالیں گی۔ برطانیہ نے سن 1997 میں ہانگ کانگ کو واپس چین کے حوالے کیا تھا اور تب سے وہاں ’ایک ملک، دو نظاموں‘ کے تحت ریاستی انتظامات چلائے جا رہے ہیں۔ تاہم ہانگ کانگ کی نئی نسل ایک تبدیلی کی خواہاں ہے اور وہ چین کے تسلط سے آزادی چاہتی ہے۔ اسی تناظر میں سن دو ہزار چودہ میں ہانگ کانگ میں عوامی احتجاجات کی ایک لہر بھی دیکھی گئی تھی۔ کیری لام کے انتخاب پر عوام سراپا احتجاج ہے۔ اتوار کے دن جب الیکشن کمیٹی نے انسٹھ سالہ کیری لام کو نئی سربراہ چنا تو عوام کی ایک بڑی تعداد سڑکوں پر احتجاج کر رہی تھی۔ احتجاج کا یہ سلسلہ متوقع طور پر کئی روز تک جاری رہ سکتا ہے۔

ہانگ کانگ میں چین نواز خاتون سیاستدان کیری لام کو ملک کی نئی سربراہ چن لیا گیا ہے۔ ہانگ کانگ میں پہلی مرتبہ کسی خاتون کو چیف ایگزیکٹیو کے عہدے کے لیے منتخب گیا ہے۔ تاہم عوام کا کہنا ہے کہ کیری لام ان کا انتخاب نہیں ہیں۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی نے چھبیس مارچ بروز اتوار ہانگ ... Read More »

Scroll To Top