You are here: Home » Tag Archives: پاکستان

Tag Archives: پاکستان

Feed Subscription

ساہیوال سانحے کے ذمہ داران کو سخت سزا دی جائے گی، عمران خان

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ساہیوال ميں پيش آنے والے واقعے پر عوام میں پایا جانے والا غم و غصہ جائز اور قابل فہم ہے۔ عمران خان کے بقول قطر سے واپسی کے بعد وہ ذمہ داران کو سخت سزا دلوائیں گے۔ اپنی ٹوئیٹ میں عمران خان نے لکھا ہے کہ وہ قوم کو یقین دلاتے ہیں کہ قطر کے سرکاری دورے سے واپسی پر وہ اس واقعے کے ذمہ داران کو عبرت ناک سزا دیں گے۔ اس کے علاوہ وہ پنجاب پولیس کے پورے ڈھانچے کا جائزہ لیں گے اور اس کی اصلاح کا آغاز بھی کریں گے۔ پولیس کے انسداد دہشت گردی کے محکمے کی جانب سے کہا گیا کہ انہوں نے ایک شادی شدہ جوڑے اور ان کی تیرہ سالہ بیٹی سمیت چار افراد کو پولیس مقابلے کے دوران گزشتہ ہفتے ہلاک کر دیا تھا۔ اس واقعے میں بچ جانے والے تین کم سن بچوں نے بھی ايک ویڈیو میں کچھ کہا، جو قانونی نافذ کرنے والے ادارے کے بيان کی نفی کرتا ہے۔ یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی اور عوام کی جانب سے اس واقعے پر شدید غم اور غصے کا اظہار کیا گیا۔ عمران خان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ اس واقعے کے خلاف فوری کارروائی کرائيں گے۔ اتوار کو پولیس کی جانب سے کی جانے والی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے خلیل اور اس کی اہلیہ نبیلہ، ان کی بیٹی عریبہ اور پڑوسی ذیشان کے نماز جنازے کے وقت کہا گیا کہ پولیس در اصل ذیشان کا پیچھا کر رہی تھی اور ان سے غلطی سے شادی شدہ جوڑا اور ان کی بیٹی مارے گئے۔ پاکستان کی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے بھی آج اس حوالے سے ایک ٹوئیٹ میں لکھا، ’’چاہے راؤ انوار ہو یا ساہیوال کا سانحہ، بطور حکومت یہ ہمارا فرض ہے کہ ’پولیس مقابلوں‘ ميں لوگوں کو ہلاک کيے جانے کی روایت کو ختم کیا جائے۔ سابقہ حکومتیں جس چیز کی حوصلہ افزائی کرتی تھیں اب اس کا خاتمہ ہونا چاہیے اور قانون کی بالادستی ہونی چاہیے۔‘‘

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ساہیوال ميں پيش آنے والے واقعے پر عوام میں پایا جانے والا غم و غصہ جائز اور قابل فہم ہے۔ عمران خان کے بقول قطر سے واپسی کے بعد وہ ذمہ داران کو سخت سزا دلوائیں گے۔ اپنی ٹوئیٹ میں عمران خان نے لکھا ہے کہ وہ قوم کو یقین ... Read More »

ماسکو مذاکرات میں بھارتی شرکت: کیا امن کا راستہ کھل جائے گا؟

ماسکو میں ہونے والے افغان امن مذاکرات سے متعلق اجلاس میں بھارتی وفد کی شمولیت کو ماہرین خوش آئند قرار دے رہے ہیں اور ان کے خیال میں اس طرح ہندوکش کی اس جنگ زدہ ریاست میں امن کی فضا قائم کرنے میں مدد ملے گی۔ آج جمعہ نو نومبر کو روسی دارالحکومت ماسکو میں افغان امن کے حوالے سے مذاکرات کا ایک دور ہوا، جس میں امریکا، بھارت، چین، ایران، پاکستان، افغان طالبان اور افغان اعلیٰ امن کونسل کے ارکان کے علاوہ وسطی ایشیائی ریاستوں کے وفود نے بھی شرکت کی۔ یہ مذاکرات ستمبر میں ہونا تھے لیکن افغان حکومت کے اعتراضات کے بعد انہیں ملتوی کر دیا گیا تھا۔ بھارت کی طرف سے اس کے کسی وفد نے سرکاری طور پر اس اجلاس شرکت نہیں کی تاہم غیر رسمی طور پر اس میں بھارت کے طرف سے دو نمائندوں نے حصہ لیا، جو حکومتی نمائندے تو نہیں لیکن امور خارجہ کے ماہر سمجھے جاتے ہیں اور ماضی میں اعلیٰ سرکاری عہدوں پر کام کر چکے ہیں۔ افغان حکومت اور امریکا نے بھی اس میں غیر رسمی طور پر اپنے نمائندے بھیجے۔ افغان حکومت نے حکومتی نمائندوں کی جگہ اعلیٰ امن کونسل کے ارکان کو بھیجا جب کہ امریکا نے ماسکو میں تعینات اپنے سفارت کار کو اس اجلاس میں بھیجا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ بھارت نے ایسے کسی مذاکرات میں شرکت کی ہے، جس سے یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ یہ اجلاس امن کے لیے راستے کھول سکتا ہے۔ معروف پاکستانی تجزیہ نگار رحیم اللہ یوسف زئی کے خیال میں اس اجلاس میں اتنے سارے نمائندوں اور طالبان کی شرکت سے اس خیال کو تقویت مل رہی ہے کہ اب شاید افغانستان میں امن قائم ہو جائے۔ یوسف زئی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’میرے خیال میں بھارت کی ان مذاکرات میں شرکت بہت معنی خیز اور مثبت ہے کیونکہ افغان حکومت، امریکا اور بھارت کی سوچ تقریباﹰ ایک ہی جیسی ہے۔ ان کا اس طرح طالبان اور پاکستان کے نمائندوں کے سامنے بیٹھنا مسائل کو سمجھنے اور ان کو حل کرنے میں معاون ثابت ہو گا۔ اس اجلاس کی وجہ سے امریکا پر بھی دباؤ بڑھے گا کہ وہ امن کوششیں تیز کر دے۔ کیونکہ اگر وہ ایسا نہیں کرے گا، تو چین، روس، ایران، پاکستان اور بھارت خطے کے دوسرے ممالک کے ساتھ مل کر اس مسئلے میں رہنما کردار ادا کریں گے۔‘‘ رحیم اللہ یوسف زئی کا کہنا تھا کہ افغان طالبان پر بھی روس اور خطے کے دوسرے ممالک کا دباؤ بڑھے گا کہ وہ امن کے لیے کام کریں کیونکہ روس نے ان کو ایک طرح سے قانونی حیثیت دلوانے کی کوشش کی ہے۔ یوسف زئی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’میرے خیال میں بھارت کی ان مذاکرات میں شرکت بہت معنی خیز اور مثبت ہے کیونکہ افغان حکومت، امریکا اور بھارت کی سوچ تقریباﹰ ایک ہی جیسی ہے۔ ان کا اس طرح طالبان اور پاکستان کے نمائندوں کے سامنے بیٹھنا مسائل کو سمجھنے اور ان کو حل کرنے میں معاون ثابت ہو گا۔ اس اجلاس کی وجہ سے امریکا پر بھی دباؤ بڑھے گا کہ وہ امن کوششیں تیز کر دے۔ کیونکہ اگر وہ ایسا نہیں کرے گا، تو چین، روس، ایران، پاکستان اور بھارت خطے کے دوسرے ممالک کے ساتھ مل کر اس مسئلے میں رہنما کردار ادا کریں گے۔‘‘ رحیم اللہ یوسف زئی کا کہنا تھا کہ افغان طالبان پر بھی روس اور خطے کے دوسرے ممالک کا دباؤ بڑھے گا کہ وہ امن کے لیے کام کریں کیونکہ روس نے ان کو ایک طرح سے قانونی حیثیت دلوانے کی کوشش کی ہے۔

ماسکو میں ہونے والے افغان امن مذاکرات سے متعلق اجلاس میں بھارتی وفد کی شمولیت کو ماہرین خوش آئند قرار دے رہے ہیں اور ان کے خیال میں اس طرح ہندوکش کی اس جنگ زدہ ریاست میں امن کی فضا قائم کرنے میں مدد ملے گی۔ آج جمعہ نو نومبر کو روسی دارالحکومت ماسکو میں افغان امن کے حوالے سے ... Read More »

بھارت ’دشمن کی جائیدادیں‘ فروخت کرے گا

نئی دہلی حکومت نے بھارت چھوڑ کر پاکستان یا چین چلے جانے والے شہریوں کی املاک فروخت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ بھارت چھوڑ جانے والے ان افراد کی جائیدادوں کی مالیت چار سو ملین ڈالر کے برابر ہے۔ بھارتی حکومت کے منصوبے کے مطابق چین اور پاکستان کے ساتھ جنگوں کے بعد ملک چھوڑ کر ان ممالک کا رخ کرنے والے افراد کی املاک فروخت کر دی جائیں گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ’دشمن کی جائیدادیں‘ 996 کمپنیوں کی شکل میں ہیں، جن کے مالک بیس ہزار افراد یا ادارے تھے۔ یہ املاک پاکستان کے ساتھ سن 1947، 1965 اور 1971 کے تنازعات جب کہ سن 1962 میں چین کے ساتھ سرحدی جنگ کے بعد سرکاری قبضے میں لے لی گئی تھیں۔ ’لو جہاد‘ کا کوئی ثبوت نہیں، بھارتی قومی تفتیشی ایجنسی پاکستانی شہر مٹھی، ہندو مسلم رواداری کا نخلستان ان املاک کی فروخت کی نگرانی بھارتی وزیرخزانہ کر رہے ہیں۔ انہیں توقع ہے کہ اس سے حکومت کو 413 ملین ڈالر کی آمدن ہو گی۔ جمعرات کے روز ایک حکومت عہدیدار نے اس منصوبے کا اعلان کیا۔ حکومتی بیان میں کہا گیا ہے کہ اس طرح سے حاصل ہونے والی آمدن کو ملک میں ترقی اور بہبود کے مختلف پروگرامز میں استعمال کیا جائے گا۔ حکومتی بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اینیمی شیئرز‘ نامی اس منصوبے کو بھارت میں 1968 کی اس تعریف کے تحت استوار کیا گیا ہے، جس میں ’دشمن کے اثاثوں‘ کا تعین کیا گیا تھا۔ اس بھارتی قانون کے تحت ایسے افراد جو بھارت یا چین کے ساتھ تنازعات کے بعد ملک چھوڑ کر ان ممالک کو ہجرت کر گئے، ان کی املاک اور اثاثے ’دشمن کی املاک‘ قرار دیے گئے تھے۔ یہ بات اہم ہے کہ ایسے بہت سے افراد بھی موجود ہیں، جن کے رشتہ دار ملک چھوڑ کر ہجرت کر گئے، تاہم وہاں ان کے دیگر رشتہ داروں نے رہنا یا ان املاک کو استعمال کرنا شروع کر دیا۔ سن 2017 میں نریندر مودی کی قوم پرست حکومت نے اس متنازعہ قانون میں ترمیم کی تھی، جس کے تحت ایسے بھارتی شہری جو قانونی طور پر یہ جائیداد بھی استعمال کر رہے تھے، ان سے یہ املاک لی جا سکتی ہیں۔ اس ترمیم پر بھارت میں شدید بحث ہوئی تھی، کیوں کہ بھارت سے ہجرت کر کے پاکستان چلے جانے والے زیادہ تر افراد مسلمان تھے جب کہ ان املاک میں بسنے والے خاندانوں کو یہ خدشات لاحق ہو گئے تھے کہ انہیں کسی بھی وقت ان مکانات سے نکالا جا سکتا ہے۔ رواں برس جنوری میں حکومت نے اعلان کیا تھا کہ 9400 ایسی املاک کی شناخت کر لی گئی ہے، جو ’دشمن کے اثاثے‘ ہیں اور انہیں نیلام کیا جائے گا۔ ان شناخت کردہ اثاثوں میں سے 9280 ان افراد کی ہیں، جو بھارت سے پاکستان ہجرت کر گئے، جب کہ 126 ایسی املاک ہیں، جن کے مالک چین چلے گئے تھے۔

نئی دہلی حکومت نے بھارت چھوڑ کر پاکستان یا چین چلے جانے والے شہریوں کی املاک فروخت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ بھارت چھوڑ جانے والے ان افراد کی جائیدادوں کی مالیت چار سو ملین ڈالر کے برابر ہے۔ بھارتی حکومت کے منصوبے کے مطابق چین اور پاکستان کے ساتھ جنگوں کے بعد ملک چھوڑ کر ... Read More »

سانحہ کارساز کو گیارہ سال بیت گئے

گیارہ سال قبل پاکستان کی پہلی خاتون وزیر اعظم بے نظیر بھٹو جلا وطنی کے آٹھ سال بعد پاکستان پہنچی تھیں۔ اسی روز کراچی میں ان کی ریلی پر بد ترین دہشت گردانہ حملے کیے گئے۔ کراچی ائیرپورٹ سے بلاول ہاوس سفر کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کے ہزاروں کارکنان بے نظیر بھٹو کے ساتھ تھے۔ جب یہ ریلی کار ساز کے مقام پر پہنچی تو اس پر دوخود کش حملے کیے گئے تھے۔ ان حملوں میں قریب ڈیڑھ سو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ بے نظیر اس حملے میں محفوظ رہی تھیں۔ آج اس ہولناک واقعے کو گیارہ سال مکمل ہو گئے ہیں۔ اس موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے، ''پیپلز پارٹی نے جمہوریت کی بحالی اور اسے مضبوط بنانے کی جدوجہد کے دوران خون کے دریا پار کیے ہیں۔‘‘ بے نظیر بھٹو کے بیٹے نے یہ بھی کہا ہے کہ آمریت اور دہشتگردوں نے گٹھ جوڑ کے تحت اس ٹرک کو نشانہ بنانے کی سازش کی جس میں بے نظیر اور پارٹی قیادت سوار تھے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے سوشل میڈیا پر اس واقعے کی تصاویر بھی شیئر کی گئی ہیں۔ بے نظیر بھٹو کی سب سے چھوٹی بیٹی آصفہ بھٹو اس حملے میں ہلاک ہونے والے ایک کارکن کے گھر بھی گئیں۔ کراچی میں آج اس حملے میں ہلا ک افراد کے لیے بنائی گئی یادگار میں پیپلز پارٹی کے کئی رہنماؤں اور کارکنان نے دعائیہ تقریب میں شرکت کی۔

گیارہ سال قبل پاکستان کی پہلی خاتون وزیر اعظم بے نظیر بھٹو جلا وطنی کے آٹھ سال بعد پاکستان پہنچی تھیں۔ اسی روز کراچی میں ان کی ریلی پر بد ترین دہشت گردانہ حملے کیے گئے۔ کراچی ائیرپورٹ سے بلاول ہاوس سفر کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کے ہزاروں کارکنان بے نظیر بھٹو کے ساتھ تھے۔ جب یہ ریلی کار ... Read More »

شاید آئی ایم ایف کے پاس جانا ہی نہ پڑے، وزیر اعظم عمران خان

وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے میڈیا کے نمائندوں کے ساتھ گفتگو میں کہا ہے کہ دوست ممالک سے بات چیت چل رہی ہے اور ان کی کوشش ہو گی کہ عالمی مالیاتی ادارے سے مالی امداد لینا ہی نہ پڑے۔ وزیر اعظم عمران خان نے بدھ کے دن اسلام آباد میں صحافیوں کے ایک گروہ سے گفتگو میں کہا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے ( آئی ایم ایف) کے پاس جانا بھی پڑا تو سخت شرائط کے خلاف مزاحمت کریں گے۔ عمران خان نے نیوز پرنٹ پر عائد پانچ فیصد درآمدی ڈیوٹی ختم کرنے کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’پچھلی حکومتوں نے جو ایڈورٹائزنگ کی وہ پیسے کے ضیاع کے اعتبار سے غیر اخلاقی ہے۔ انہوں نے کہ ان کا تعلق کسی سیاسی گھرانے سے نہیں تھا جبکہ میڈیا کے ذریعے انہیں عوامی حمایت ملی۔ عمران خان کے بقول ملکی معیشت آج بد ترین حالات سے دو چار ہے۔ ہر روز قرضوں کی ادائیگی کی مد میں چھ ارب روپے دینے پڑ رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کا اشتہارات کی پابندی پر کوئی ارادہ نہیں ہے۔ عمران خان کے مطابق، ’اب تک 128 اکاؤنٹ مل چکے ہیں، جن کے ذریعے اربوں کی منی لانڈرنگ کی گئی۔ عالمی عدالتوں میں کیسز کے اخراجات پر وکیلوں کی فیسوں کی مد میں دس ارب روپے خرچ کیے گئے، اس کے باوجود ہم ہر کیس ہار گئے، تگڑا دعوی کر رہا ہوں کہ اگلے چھ ماہ میں ملک تیزی سے بدلے گا‘۔ عمران خان نے کہا، ’پاکستان میں غیر یقینی کی صورتحال ہے، صرف 2 یا 3 ماہ کے ریزروز ہیں۔ اسلام آباد میں لینڈ مافیا سے اب تک تین سو پچاس ارب روپے کی زمین واگزار کرائی گئی ہے۔ میڈیا نے حکومت کے ہنی مون پیریڈ کی نو دن میں ہی لینڈ کریشنگ کروا دی۔ وائٹ کالر کرائم ثابت کرنا سب سے مشکل کام ہے۔ جیلوں میں جانے سے بچنے کے لیے اپوزیشن جمہوریت خطرے میں ہے کا شور مچا رہی ہے‘۔ وزیر اعظم نے کہا کہ کسی صورت میں میڈیا انڈسٹری کو نیچے نہیں جانے دیں گے، پچھلی حکومتوں نے جو اس ملک کے ساتھ کیا وہ دشمن بھی نہیں کرتے۔ کن شعبوں میں ایڈورٹائز کرنا ہے، اس کا تعین کر رہے ہیں۔ تسلیم کرتا ہوں صحیح معنوں میں اپنا پروگرام عوام تک نہیں پہنچا سکے، پچھلی حکومتوں نے اداروں کو پریشرائز کیا میڈیا کو مجھ پر تنقید کا مکمل حق ہے، ذمہ دارانہ رپورٹنگ آج کی اشد ضرورت ہے‘۔ عمران خان نے مزید کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ حکومت نے میڈیا انڈسٹری کے اشتہارات بند کر دیے۔ سرکار کا میڈیا پر کنٹرول کا کوئی ارادہ نہیں۔ وزیر اعظم کا سی پی این ای، اے پی این ایس اور پی بی اے کے وفد سے ملاقات کے دوران اظہار خیال وقت آنے پر 128 اکاؤنٹ ہولڈرز کے نام پبلک کر دیں گے۔ ہمارے دو وزراء کے حوالے سے میڈیا کی ایک حصے نے غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی۔میڈیا کے اس وفد میں میاں عامر محمود، سلطان لاکھانی، عارف نظامی، حمید ہارون، ضیا شاہد سمیت مدیران، چینل مالکان نے شرکت کی۔

وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے میڈیا کے نمائندوں کے ساتھ گفتگو میں کہا ہے کہ دوست ممالک سے بات چیت چل رہی ہے اور ان کی کوشش ہو گی کہ عالمی مالیاتی ادارے سے مالی امداد لینا ہی نہ پڑے۔ وزیر اعظم عمران خان نے بدھ کے دن اسلام آباد میں صحافیوں کے ایک گروہ سے گفتگو میں کہا ... Read More »

’ايرانی اہلکاروں کی بازيابی کے ليے کوششيں جاری ہيں‘

اسلام آباد حکومت کی جانب سے کہا گيا ہے کہ پاکستانی سرحد کے قريب ايرانی سرزمين سے لاپتہ ہونے والے ايرانی اہلکاروں کی بازيابی کے ليے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔ پاکستانی وزير خارجہ شاہ محمود قريشی نے آج بروز بدھ اپنے ايرانی ہم منصب جواد ظريف سے دارالحکومت اسلام آباد ميں ملاقات کی۔ قريشی نے ظريف کو اغواء کيے جانے والے گيارہ ايرانی اہلکاروں کی بازيابی کے ليے کوششوں سے آگاہ کيا۔ انہوں نے بتايا کہ پاکستانی قانون نافذ کرنے والے ادارے ايرانی فوج اور انٹيليجنس کے ساتھ رابطے ميں ہيں اور لاپتہ اہلکاروں کے بارے ميں معلومات اکھٹی کی جا رہی ہيں۔ قريشی نے اغواء کی اس کارروائی کا الزام پاکستان اور ايران کے مشترکہ دشمن اور دونوں ممالک کے برادرانہ تعلقات کے دشمنوں پر عائد کيا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستانی سرحد کے قریب ایرانی علاقے سے ایرانی سکیورٹی اہلکاروں کو منگل کے روز اغواء کر لیا گیا تھا۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق اغواء ہونے والوں میں ایرانی انقلابی گارڈز کے انٹیلیجنس افسران بھی شامل ہیں۔ ایرانی انقلابی گارڈز نے اغواء کی اس کارروائی کا الزام غیر ملکی طاقتوں کے حمایت یافتہ دہشت گرد گروپوں پر عائد کيا تھا اور پاکستانی حکام سے مطالبہ کیا گيا تھا کہ وہ اس حوالے سے کارروائی کریں اور اغواء کیے گئے اہلکاروں کی تلاش میں مدد فراہم کريں۔ ايرانی اہلکاروں کو سرحدی علاقے لولاکدان سے صبح چار سے پانچ بجے کے درمیان اغواء کیا گیا۔ لولاکدان ایران کے جنوب مشرقی صوبہ سیستان بلوچستان کے دارالحکومت زاہدان سے 150 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے۔

اسلام آباد حکومت کی جانب سے کہا گيا ہے کہ پاکستانی سرحد کے قريب ايرانی سرزمين سے لاپتہ ہونے والے ايرانی اہلکاروں کی بازيابی کے ليے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔ پاکستانی وزير خارجہ شاہ محمود قريشی نے آج بروز بدھ اپنے ايرانی ہم منصب جواد ظريف سے دارالحکومت اسلام آباد ميں ملاقات کی۔ قريشی نے ظريف کو ... Read More »

پاکستان میں 11 برس بعد بین الاقوامی گولف کی واپسی

کراچی گولف کلب میں گولف کا بین الاقوامی ٹورنامنٹ شروع ہو گیا ہے۔ اس چیمپیئن شپ میں دنیا بھر سے 132 کھلاڑی شریک ہیں۔ پاکستان میں 2007ء کے بعد سے گولف کا یہ پہلا بین الاقوامی مقابلہ ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایشین ٹور کے یو ایم اے سی این ایس چیمپیئن شپ کے لیے دنیا بھر سے 132 کھلاڑی شریک ہیں۔ پاکستان میں2007ء کے بعد سے گولف کا کوئی بین الاقوامی مقابلہ منعقد نہیں ہوا تھا۔ آخری ٹورنامنٹ 2008ء کے لیے شیڈول تھا مگر سکیورٹی خدشات کے پیش نظر اسے منسوخ کر دیا گیا تھا۔ ایشین ٹور کے ایونٹ ڈائریکٹر رابرٹ اینڈریو نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو میں سکیورٹی کے حوالے سے خدشات کو بے بنیاد قرار دیتے کہا، ’’پاکستان واپسی ہمارے لیے ایک بہترین موقع ہے۔‘‘ اینڈریو کا مزید کہنا تھا، ’’اس ایونٹ کی کامیابی کے بعد یہ مستقبل کے ایونٹس کے لیے نقطہ آغاز ثابت ہو گا۔‘‘ آسٹریلوی کھلاڑی مارکُوس بوتھ نے پاکستانی لوگوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا، ’’یہاں آنا ہمیشہ ایک بہترین تجربہ ہے کیونکہ یہاں لوگ بہت اچھے اور دوستانہ رویہ رکھنے والے ہیں۔‘‘ پاکستان کے بارے میں عمومی رائے کی نفی کرتے ہوئے بوتھ کا کہنا تھا، ’’میں یہاں 10 سال پہلے آیا تھا۔ عمومی رائے بُری ہے مگر اصلیت اس سے بہت مختلف ہے۔‘‘ 2009ء میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر لاہور میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے بعد پاکستان میں تقریباﹰ ہر طرح کی بین الاقوامی کھیلوں کے راستے بند ہو گئے تھے۔ اُس حملے میں آٹھ افراد ہلاک ہوئے تاہم مہمان کھلاڑی محفوظ رہے تھے۔ تاہم پاکستانی فوج کی طرف سے افغان سرحد کے قریب ملک کے شمال مغربی حصے میں شدت پسندوں اور دہشت گردوں کے خلاف کامیاب آپریشن کے بعد سے پاکستان میں سکیورٹی کی صورتحال کافی بہتر ہوئی ہے۔ پاکستان سپر لیگ کرکٹ ٹورنامنٹ کے فائنل مقابلے دو بار پاکستان میں منعقد ہو چکے ہیں جن میں بین الاقوامی کھلاڑیوں نے بھی شرکت کی۔ اس کے علاوہ گزشتہ 18 ماہ کے دوران زمبابوے اور سری لنکا کے ساتھ محدود اوورز کی کرکٹ سیریز کے علاوہ ورلڈ الیون کی ٹیم بھی پاکستان میں میچ کھیل چکی ہے۔

کراچی گولف کلب میں گولف کا بین الاقوامی ٹورنامنٹ شروع ہو گیا ہے۔ اس چیمپیئن شپ میں دنیا بھر سے 132 کھلاڑی شریک ہیں۔ پاکستان میں 2007ء کے بعد سے گولف کا یہ پہلا بین الاقوامی مقابلہ ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایشین ٹور کے یو ایم اے سی این ایس چیمپیئن شپ کے لیے دنیا ... Read More »

پی سی بی نے نا انصافی کی، چیف جسٹس سوموٹو ایکشن لیں:شرجیل

اسپاٹ فکسنگ مقدمے میں پانچ سالہ پابندی کا سامنا کرنے والے پاکستانی کرکٹر شرجیل خان کہتے ہیں کہ پی سی بی نے ان سے نا انصافی کی۔ چیف جسٹس پاکستان کو اس معاملے کا از خود نوٹس لینا چاہیے۔ منگل کی دوپہر نیشنل ہاکی اسٹیڈیم لاہور میں اپنے وکلاء کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل خان نے حلفیہ کہا کہ انہوں نے کوئی اسپاٹ فکسنگ نہیں کی، ’’ میں بے قصور ہوں، مجھے پی سی بی اینٹی کرپشن یونٹ نے اس معاملے میں پھنسایا۔ اینٹی کرپشن یونٹ کے کرنل اعظم مجھ پر دباؤ ڈالتے رہے کہ اگر اعتراف جرم نہ کیا تو زندگی بھر بلے کو ہاتھ نہیں لگا سکو گے۔ مجھے زبردستی اسپاٹ فکسر بنایا جا رہا ہے۔ کرکٹ میرے خون میں شامل ہے۔ میں نے ہمیشہ پاکستان کے لیے کھیلا ، کبھی خود غرضی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ اس الزام کے بعد میرے خاندان کے لئے مسائل ہیں۔ اس داغ کو ختم کرنے کے لئے ہر حد تک جاؤں گا۔‘‘ کھلاڑی جاتے رہتے ہیں اور کرکٹ چلتی رہتی ہے شرجیل خان نے وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی اور چیف آف آرمی اسٹاف جرنل قمر جاوید باجوہ سے اپیل کی کہ وہ ان کے خلاف ہونے والی نا انصافی کا نوٹس لیں۔ انہوں نے کہا چیف جسٹس ثاقب نثار اس پر سوموٹو نوٹس لیں۔ شرجیل خان کے وکیل شیغان اعجاز نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ دوران سماعت پاکستان کرکٹ بورڈ نے اپنے اینٹی کرپشن کوڈ میں ترمیم کی جس سے پی سی بی کی نیک نیتی ظاہر نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے پاس شرجیل کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت نہیں تھا۔ پی سی بی اینٹی کرپشن کے بیانات من گھڑت تھے۔ انہوں نے کہا کہ ممکن ہے پی سی بی نے کچھ دوسرے کرکٹرز کو بچانے کے لئے شرجیل کو سزا دی ہو۔ شیغان اعجاز نے سوال اٹھایا کہ جب عمر امین نے چھ فروری کو ہونیوالی پیشکش کی اطلاع پی سی بی کو دی تھی تو اینٹی کرپشن یونٹ نے دوسرے کھلاڑیوں کو کیوں خبردار نہ کیا؟ فکسنگ ثابت، شرجیل خان پر پانچ سالہ پابندی عائد انہوں نے کہا کہ پی سی بی اینٹی کرپشن یونٹ نے 28 جولائی کو اپنے کوڈ میں ترمیم کی کہ کھلاڑی اینٹی کرپشن یونٹ کا فیصلہ پاکستانی عدالتوں میں چیلنج نہیں کر سکیں گے۔ 30 اگست کو فیصلے سے پہلے بورڈ نے اچانک شق ڈالی کہ فیصلے کے خلاف صرف عالمی ثالثی عدالت میں ہی اپیل کی جا سکتی ہے۔ شیغان اعجاز نے بتایا کہ عالمی ثالثی عدالت میں جانے پر ڈیڑھ کروڑ اخراجات آتے ہیں، پی سی بی پاکستانی عدالتوں کا اختیار ختم کر کے کھلاڑی کو صرف پاکستان کرکٹ بورڈ کے رحم و کرم پر چھوڑنا چاہتا ہے۔ واضح رہے شرجیل خان پر رواں برس ہونیوالی پاکستان سپرلیگ کے دبئی میں ہونیوالے افتتاحی میچ میں بکی سے ساز باز کر کے دو ڈاٹ گیندیں کھیلنے کا الزام ہے، جس کی پاداش میں ان پر کرکٹ کھیلنے کی پانچ سالہ پابندی لگائی جا چکی ہے۔ اس میں ڈھائی سالہ سزا معطل ہے۔

اسپاٹ فکسنگ مقدمے میں پانچ سالہ پابندی کا سامنا کرنے والے پاکستانی کرکٹر شرجیل خان کہتے ہیں کہ پی سی بی نے ان سے نا انصافی کی۔ چیف جسٹس پاکستان کو اس معاملے کا از خود نوٹس لینا چاہیے۔ منگل کی دوپہر نیشنل ہاکی اسٹیڈیم لاہور میں اپنے وکلاء کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل خان نے حلفیہ کہا ... Read More »

سانحہ ماڈل ٹاؤن کی انکوائری رپورٹ منظر عام پر آ گئی

پاکستان میں میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال میں سانحہ ماڈل ٹاؤن کی رپورٹ جاری کر دی گئی ہے۔ قبل ازیں لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب حکومت کی اپیل مسترد کرتے ہوئے انکوائری رپورٹ منظر عام پر لانے کا حکم جاری کیا تھا۔ پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے منگل کی شام ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ عدالت نے یہ رپورٹ 30 دنوں میں جاری کرنے کا حکم دیا تھا لیکن عدالتی فیصلے کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر اس رپورٹ کو نظامت اعلیٰ تعلقات عامہ پنجاب کی ویب سائیٹ پر جاری کر دیا گیا ہے۔ رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ جسٹس باقر نجفی پر مشتمل ایک رکنی کمیشن کی یہ رپورٹ نقائص سے بھرپور، نامکمل ، یک طرفہ، بے نتیجہ اور یک طرفہ شواہد پر مبنی ہے۔ ان کے بقول اس رپورٹ کا ماڈل ٹاون کیس پر کوئی اثر نہیں پڑے گا کیونکہ اس رپورٹ میں شہباز شریف سمیت کسی حکومتی شخصیت کو سانحہ ماڈل ٹاون کے حوالے سے براہ راست مورد الزام نہیں ٹھہرایا گیا۔ وزیر قانون کے بقول جسٹس باقر نجفی ایک قابل احترام جج ہیں لیکن ان کی رپورٹ ایک انتظامی فیصلہ ہے، اس میں موجود قانونی نقائص پر بات کی جا سکتی ہے۔ ماڈل ٹاؤن میں قتل ہونے والوں کا قصاص چاہتے ہیں، طاہر القادری رانا ثناء اللہ کا مزید کہنا تھا کہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رپورٹ پڑھنے والا خود ذمہ دار کا تعین کر سکتا ہے، ’’اس طرح میری نظر میں ذمہ دار کوئی اور، دوسرے کی نظر میں ذمہ دار کوئی اور ہو سکتا ہے۔‘‘ وزیر قانون پنجاب کا کہنا ہے کہ رپورٹ میں لکھا ہے کہ قاری خود سانحے کے ذمے دار کا فیصلہ کرے، ’’بہت سے قاری تو علامہ صاحب آپ کو بھی ذمہ دار ٹھہرا سکتے ہیں۔‘‘ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت نے اس رپورٹ کو سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس خلیل الرحمان خان کو ان کی رائے کے حصول کے لیے بھجوایا تھا۔ انہوں نے اس رپورٹ میں موجود نقائص کی نشاندہی کرتے ہوئے اس کو تسلیم نہ کرنے کی سفارش کے ساتھ اسے عوام کے لیے جاری نہ کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ رانا ثناء اللہ نے دعویٰ کیا کہ اس رپورٹ کا اجرا ہمارے لیے نہیں بلکہ کسی اور کے لیے مشکلات کا باعث بنے گا۔ ماڈل ٹاؤن سانحے کی انکوائری رپورٹ ایک ایسے مرحلے پر سامنے آئی ہے، جب پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے خلاف حدیبیہ کیس دوبارہ کھل چکا ہے، ان کے بڑے بھائی نواز شریف کو وزارت عظمیٰ سے ہٹایا جا چکا ہے اور ملک میں مارچ سے پہلے حکومت کے خاتمے کی افواہیں گردش کر رہی ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ کے فل بنچ نے سانحہ ماڈل ٹاون کے حوالے سے ایک رکنی بنچ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ ماڈل ٹاون واقعے کی انکوائری رپورٹ 30 دنوں میں شائع کر دی جائے اور فریقین کو انکوائری رپورٹ کی نقول بھی فراہم کی جائیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا تھا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کا ٹرائل غیر جانبدارانہ اور شفاف کیا جائے۔ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد اور رانا ثناء اللہ کی پریس کانفرنس سے پہلے پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ 17 جون 2014ء کو ماڈل ٹاون میں پولیس کے حملے میں 14 افراد ہلاک اور 90 زخمی ہو گئے تھے، ’’ اس سانحے کے حوالے سے حکومت نے خود اپنی طرف سے جو کمیشن بنایا اس نے اپنی رپورٹ میں قرار دیا کہ اس سانحے کی ذمہ دار پنجاب حکومت ہے کہ اس نے جو احکامات جاری کیے اس کی تعمیل میں ہی پولیس نے کارروائی کی۔ سانحہ ماڈل ٹاون میں ملوث افراد کی نشاندہی ہونے پر حکومت نے ماڈل ٹاون انکوائری رپورٹ دبا لی تھی۔‘‘ انہوں نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح طور پر ماڈل ٹاون انکوائری رپورٹ کی کاپی فریقین کو فوری طور پر دینے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج منگل کے روز انکوائری رپورٹ نہ ملنے کی صورت میں سانحہ ماڈل ٹاون میں ہلاک و زخمی ہونے والوں کے رشتہ دار اور ہمدرد اکٹھے ہو کر بڑی تعداد میں پنجاب سول سیکرٹیریٹ رپورٹ لینے جائیں گے اور رپورٹ نہ ملنے کی صورت میں سیکرٹیریٹ کے باہر دھرنا دیں گے۔ ادھر پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں محمودالرشید نے اس فیصلے کے بعد پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔ پاکستان عوامی تحریک کی طرف سے اس فیصلے کے بعد وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف اور پنجاب کے صوبائی وزیر راناء ثنا اللہ کی فوری گرفتاری کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن: آرمی چیف انصاف دلوائیں، طاہر القادری ہائیکورٹ کا بینچ جسٹس عابد عزیز شیخ، جسٹس شہباز رضوی اور جسٹس قاضی محمد امین احمد پر مشتمل تھا۔ جسٹس عابد عزیز شیخ کی سربراہی میں قائم تین رکنی فل بینچ نے 101 صفحات پر مشتمل فیصلہ سنایا۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین کی درخواست پر انکوائری رپورٹ پبلک کرنے کا حکم جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے دیا تھا، پنجاب حکومت نے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر کی تھی۔ وکلاء کے دلائل سننے کے بعد فل بینچ نے 24 نومبر کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ ڈی ڈبلیو سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے روزنامہ 92 نیوز کے ایڈیٹر سید ارشاد عارف نے بتایا کہ یہ فیصلہ بہت دور رس اثرات کا حامل ہے، انہوں نے بتایا کہ ایک نجی ٹی وی نے کچھ عرصہ پہلے اسی رپورٹ کے مندرجات جاری کئے تھے۔ ان کے مطابق سانحہ ماڈل ٹاون کی ذمہ داری وزیر اعلی شہباز شریف اور صوبائی وزیر را ثناء اللہ پر بھی عائد ہوتی ہے۔ ان کے بقول نواز شریف جیسے وزیر اعظم کی نا اہلی کے بعد اب نواز شریف کو ریلیف ملنے کے امکانات بہت کم ہیں۔ سید ارشاد عارف کہتے ہیں کہ اس فیصلے کے بعد مستقبل کی حکومتوں کے لیے تحقیقاتی کمیشنوں کی رپورٹس کے اجرا کو اپنا صوابدیدی اختیار گردانتے ہوئے انہیں منظر عام پر لانے سے روکنا اب آسان نہیں ہو گا۔ اس فیصلے کے بعد اگر سانحہ ماڈل ٹاون کے ذمہ دار با اثر لوگوں کو سزا مل گئی تو اس کے بعد ایک طرف مستقبل کی حکومتیں اپنے مخالفین کے خلاف انتقامی کارروائیاں کرنے سے پہلے سوچنے پر مجبور ہوں گی۔ دوسری طرف پولیس افسران بھی غیر قانونی احکامات کی تعمیل کرنے سے احتراز کریں گے۔

پاکستان میں میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال میں سانحہ ماڈل ٹاؤن کی رپورٹ جاری کر دی گئی ہے۔ قبل ازیں لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب حکومت کی اپیل مسترد کرتے ہوئے انکوائری رپورٹ منظر عام پر لانے کا حکم جاری کیا تھا۔ پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے منگل کی شام ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ... Read More »

پاکستانی رویے میں کوئی تبدیلی نہیں دیکھی، اعلیٰ امریکی جنرل

افغانستان متعین امریکی جنرل نے کہا ہے کہ امریکی صدر کی اسلام آباد کے خلاف سخت پالیسی کے باوجود پاکستان نے جنگجوؤں کی مدد کرنا ختم نہیں کی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان جنگجوؤں کو ٹھکانے فراہم کیے ہوئے ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز نے امریکی جنرل جان نکلسن کے حوالے سے بتایا ہے کہ پاکستان ایسے جنگجوؤں کو بدستور مدد فراہم کر رہا ہے، جو افغانستان میں امریکی اور کابل حکومت کے مفادات کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پاکستان ’افراتفری پھیلانے والے عناصر‘ کو پناہ دیے ہوئے ہے۔ اس اعلیٰ امریکی جنرل نے مزید کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان کے بارے میں سخت پالیسی کا کوئی فائدہ نہیں ہوا اور انہوں نے جنگجوؤں کے خلاف پاکستانی موقف میں کوئی تبدیلی نوٹ نہیں کی ہے۔ امریکا کو مشترکہ آپریشن کی دعوت، متعدد سیاسی جماعتیں چراغ پا پاکستان سے متعلق امریکی پالیسی کے مصنف حسین حقانی ؟ کيا پاکستان کے حوالے سے امريکی پاليسی تبديل ہونے والی ہے؟ امریکی حکام افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے پاکستانی کردار کو اہم قرار دیتے ہیں لیکن بارہا زور دینے کے باوجود وہ اسلام آباد حکومت سے اپنے ایسے مطالبات نہیں منوا سکے ہیں کہ وہ افغانستان اور پاکستان کی سرحدوں پر قائم انتہا پسندوں کے مبینہ ٹھکانوں کو غیر فعال بنا دے۔ ان میں حقانی نیٹ ورک بھی آتا ہے، جس کے بارے میں کابل اور واشنگٹن حکومتوں کا کہا کہ اس شدت پسند گروہ کے پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات ہیں۔ اگست میں ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان کے لیے اپنی انتظامیہ کی نئی پالیسی وضع کی تھی، جس میں پاکستان پر زور دیا گیا تھا کہ وہ طالبان جنگجوؤں کو مدد فراہم کرنے کی اپنی حکمت عملی کو ختم کر دے۔ امریکی صدر کی اس سخت پالیسی پر پاکستان میں غم و غصے کا اظہار بھی کیا گیا تھا۔ تب پاکستان کی سول حکومت نے امریکا کو مکمل یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ حقانی سمیت دیگر جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کرنے کو تیار ہیں۔ جنرل جان نکلسن نے کہا ہے کہ وعدوں کے باوجود پاکستان کی طرف سے ان جنگجوؤں کے خلاف اقدامات نہیں کیے گئے ہیں، ’’ہم امید کرتے ہیں کہ وہ تبدیلیاں آئیں گی، جن کا پاکستان نے وعدہ کیا ہے۔ ہم پاکستان کے ساتھ مل کر ان دہشت گردوں کا خاتمہ کرنے کو تیار ہیں، جو سرحد پار کرتے ہیں۔‘‘ جنرل نکلسن نے مزید کہا کہ انہیں یقین ہے کہ طالبان کی اعلیٰ قیادت پاکستان میں ہے جبکہ نچلی سطح کی لیڈر شپ افغانستان میں۔ جنرل نکلسن کے مطابق وہ دیگر اعلیٰ امریکی حکام سے متفق ہیں کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے حقانی نیٹ ورک کے ساتھ روابط ہیں۔ امریکا نے سن دو ہزار بارہ میں حقانی نیٹ ورک کو دہشت گرد قرار دیا تھا۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے امریکا کی ہرممکن مدد کی ہے۔ فور اسٹار جنرل نکلسن نے مزید کہا کہ مغربی افغانستان میں فعال طالبان کے ایران سے بھی روابط ہیں۔ افغانستان میں حالیہ عرصے میں طالبان کے حملوں میں اضافے کی وجہ سے امریکا نے اس شورش زدہ ملک میں اضافی تین ہزار فوجی تعینات کیے ہیں۔ جنرل نکلسن نے کہا ہے کہ ان میں سے ایک ہزار فوجی طالبان کے خلاف لڑائی میں شریک مقامی فوجیوں کو تربیت اور مشاورت کا کام کریں گے۔

افغانستان متعین امریکی جنرل نے کہا ہے کہ امریکی صدر کی اسلام آباد کے خلاف سخت پالیسی کے باوجود پاکستان نے جنگجوؤں کی مدد کرنا ختم نہیں کی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان جنگجوؤں کو ٹھکانے فراہم کیے ہوئے ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز نے امریکی جنرل جان نکلسن کے حوالے سے بتایا ہے کہ پاکستان ... Read More »

Scroll To Top