You are here: Home » Tag Archives: ٹریزا مے

Tag Archives: ٹریزا مے

Feed Subscription

ورلڈ اکنامک فورم 2019: ٹرمپ، مے اور ماکروں غیر حاضر

سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈاووس میں جاری ورلڈ اکنامک فورم کی رونقیں یورپی یونین سے برطانیہ کے اخراج، عالمی سطح پر بڑھتی عوامیت پسندی اور ماحولیاتی تبدیلی سے لاحق خطرات سے متاثر ہوئی ہیں۔ برازیل کے نئے صدر ژائیر بولسونارو نے اپنے غیر ملکی دوروں کا آغاز سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈاووس سے کیا ہے۔ ڈاووس میں جاری عالمی اقتصادی فورم سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ماحولیات کا تحفظ ملکی اقتصادی ترقی میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔ انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے سابقہ فوجی کپتان ژیئر بولسونارو اپنی انتخابی مہم کے دوران یہ نعرہ لگاتے رہے ہیں کہ وہ اقتدار میں آ کر ملک کو اقتصادی بحران سے نکال لیں گے۔ عالمی اقتصادی فورم میں صدر بولسونارو کا کہنا ہے کہ وہ ڈاووس میں عالمی اشرافیہ کے سامنے سرمایہ کاری کے لیے تیار برازیل پیش کریں گے۔ ڈاووس آمد کے موقع پر انہوں رپورٹرز کو بتایا کہ، ’’ہم دنیا کو دکھائیں گے کہ برازیل سرمایہ کاری کے لیے محفوظ ملک ہے، خصوصاﹰ زراعت کے شعبے میں جو کہ بہت اہم ہے۔‘‘ برف، ٹرمپ اور بہت کم خواتین: عالمی اقتصادی فورم کا میزانیہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دورہ ڈاووس منسوخ کیے جانے کے بعد صدر بولسونارو ان کی جگہ فورم سے خطاب کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق برازیل کے صدر چین پر تنقید کی وجہ سے پہلے سے ہی صدر ٹرمپ کے نقش قدم پر گامزن ہیں۔ صدر ٹرمپ ہی صرف وہ واحد رہنما نہیں ہیں، جنہوں نے عالمی اقتصادی فورم میں شرکت کرنے کے بجائے ملک کے داخلی حالات کو ترجیح دی ہے۔ برطانوی وزیراعظم ٹریزا مے اور فرانسیسی صدر ایمانویل ماکروں نے بھی شرکت سے معذرت کر لی ہے۔ تاہم جرمن چانسلر انگیلا میرکل اور جاپانی وزیراعظم شینزو آبے بدھ کے روز فورم سے خطاب کریں گے۔ ڈاووس میں آج سے ورلڈ اکنامک فورم کا باقاعدہ آغاز ہو رہا ہے۔ عالمی سطح پر یہ فورم سماجی و بین الاقوامی امور سميت معاشرتی اور اقتصادی بحث و تمحیص کا ایک اہم پلیٹ فارم ہے۔ تاہم رواں برس ڈاووس میں جاری ورلڈ اکنامک فورم کی رونقیں یورپی یونین سے برطانیہ کے اخراج، عالمی سطح پر بڑھتی عوامیت پسندی اور ماحولیاتی تبدیلی سے لاحق خطرات سے متاثر ہوئی ہیں۔ عالمی اقتصادی فورم کے بانی کلاؤس شواب نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چند مایوس کن خیالات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا، ’’ہم انسانیت کی تاریخ کے نازک موڑ پر کھڑے ہیں، لہٰذا ہمیں مستقبل کی سمت طے کرنی ہوگی۔‘‘

سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈاووس میں جاری ورلڈ اکنامک فورم کی رونقیں یورپی یونین سے برطانیہ کے اخراج، عالمی سطح پر بڑھتی عوامیت پسندی اور ماحولیاتی تبدیلی سے لاحق خطرات سے متاثر ہوئی ہیں۔ برازیل کے نئے صدر ژائیر بولسونارو نے اپنے غیر ملکی دوروں کا آغاز سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈاووس سے کیا ہے۔ ڈاووس میں جاری عالمی اقتصادی فورم سے ... Read More »

’بریگزٹ‘، برطانيہ کی سب سے تباہ کن حقيقت

’برطانوی پارلیمان میں بریگزٹ ڈیل کی عدم منظوری کی ذمہ داری صرف وزیر اعظم ٹریزا مے پر عائد ہوتی ہے‘۔ ڈی ڈبلیو کی تبصرہ نگار باربرا ویسل کے خیال میں اس ناکامی کے بعد مے کو استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ برطانوی پارلیمان میں بریگزٹ ڈیل کی عدم منظوری کے بعد وزیر اعظم ٹریزا مے کو مستعفی ہو جانا چاہیے تھا لیکن انہوں نے کہا ہے کہ وہ برطانیہ کے یورپی یونین سے علیحدگی کو یقینی بنانے تک اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش نہیں ہوں گی۔ مے نے کہا ہے کہ یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ بریگزٹ کو یقینی بنائیں کیونکہ وہ وزیر اعظم بنائی ہی اس مقصد کے لیے گئی تھیں۔ ڈی ڈبلیو کی تبصرہ نگار باربرا ویسل کے مطابق مے کے خلاف تحریک عدم اعتماد ناکام ہو جائے گی، کیونکہ قدامت پسند اقتدار پر اپنی گرفت کمزور نہیں ہونے دیں گے۔ تاہم قدامت پسندوں کا یہ رویہ برطانوی سیاست کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ مے شکست کی مستحق تھیں باربرا ویسل کے مطابق مے کی بریگزٹ ڈیل کی ناکامی کی ذمہ دار وہ خود ہی ہیں۔ وہ لکھتی ہیں کہ بریگزٹ کا معاملہ برطانوی سیاست میں ایک تقسیم کی وجہ بن چکا ہے۔ اس تناظر میں قدامت پسندوں کی صفوں میں بھی اختلافات نمایاں ہوتے جا رہے ہیں۔ باربرا ویسل کے مطابق برطانوی پارلیمان میں بریگزٹ ڈیل کی عدم منظوری دراصل ٹریزا مے کی سیاسی نااہلیت کی غمازی کرتی ہے۔ مے نے اس تمام کہانی میں صرف اپنے قریبی ساتھیوں کو ہی سامنے رکھا اور کسی دوسرے کی ایک نا سنی۔ یوں مے اپوزیشن اور اپنی ہی پارٹی کے اندر کئی اہم دھڑوں کا اعتماد نہ جیت سکیں۔ ویسل مزید لکھتی ہیں کہ مے نے بریگزٹ ڈیل کی تیاری اور اس کی منظوری کے مرحلوں میں برطانیہ میں مقیم یورپی ورکنگ کلاس کے خلاف ایک سخت لہجہ اختیار کیا، جو دراصل بحیثت مجموعی یورپ کے خلاف ہی دیکھا گیا۔ اس طرح وہ یورپی سطح پر بھی تنہا ہو گئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مے سربراہ حکومت کے عہدے کے لائق ہی نہیں ہیں۔ ڈی ڈبلیو کی تبصرہ نگار ویسل کے مطابق مے اس مخصوص صورتحال میں برطانیہ کی ویلفیئر یا مستقبل کے حوالے سے ذمہ داری کا مظاہرہ بھی نہیں کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بریگزٹ کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ بطور سیاستدان ٹریزا مے انتہائی تنگ نظر، ضدی، چھوٹے دماغ کی مالک اور تخیلاتی طاقت سے عاری معلوم ہوتی ہیں۔ ویسل کے مطابق برطانیہ کو ایک نئے سربراہ کی ضرورت ہے۔ تاہم اپوزیشن رہنما جیرمی کوربین ابھی تک وہ مقبولیت حاصل نہیں کر سکے ہیں کہ وہ وزیر اعظم بن سکیں۔ اس تناظر میں ویسل کہتی ہیں کہ بریگزٹ کے معاملے پر کسی اچھی خبر کی کوئی ضمانت نظر نہیں آتی۔ بریگزٹ کے سلسلے میں ہونے والی اب تک کی پیشرفت نے نہ صرف یورپی یونین کے اتحاد کو نقصان پہنچایا ہے بلکہ برطانیہ کو بھی منقسم کر دیا ہے۔

’برطانوی پارلیمان میں بریگزٹ ڈیل کی عدم منظوری کی ذمہ داری صرف وزیر اعظم ٹریزا مے پر عائد ہوتی ہے‘۔ ڈی ڈبلیو کی تبصرہ نگار باربرا ویسل کے خیال میں اس ناکامی کے بعد مے کو استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ برطانوی پارلیمان میں بریگزٹ ڈیل کی عدم منظوری کے بعد وزیر اعظم ٹریزا مے کو مستعفی ہو جانا چاہیے تھا ... Read More »

پارلیمنٹ بریگزٹ پر برطانوی عوام کی رائے کا احترام کرے، وزیر اعظم مے

برطانیہ کی خاتون وزیر اعظم ٹریزا مے کا کہنا ہے کہ ملکی پارلیمنٹ یہ تسلیم کرے کے عوام کا یورپی یونین سے اخراج کے حق میں فیصلہ قانونی تھا اور وہ حکومت کو اس کے مکمل اطلاق کو ممکن بنانے دے۔ ٹریزا مے نے اتوار کے روز کہا کہ انہیں یقین ہے کہ حکومت عدلیہ کے اس فیصلے کو تبدیل کروانے میں کامیاب ہو جائے گی جس میں اس نے کہا تھا کہ حکومت کو بریگزٹ کے معاملے پر پارلیمان کی منظوری لینا ہوگی تاکہ برطانیہ کے یورپی یونین سے اخراج کے عمل کو شروع کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے صورت حال واضح ہو سکے۔ حال ہی میں ملکی ہائی کورٹ نے حکومت کو حکم دیا تھا کہ وہ بریگزٹ کی منظوری پارلیمان سے حاصل کرے اور خود اس ضمن میں یک طرفہ فیصلہ نہ کرے۔ اس فیصلے پر یورپی یونین سے اخراج کے حامی خاصے ناراض ہیں کیوں کہ انہیں خدشہ ہے کہ پارلیمنٹ میں یورپی یونین کے حامی بریگزٹ کے خلاف فیصلہ دے سکتے ہیں یا وہ ایک ایسے بریگزٹ کی منظوری دے سکتے ہیں جو کہ عملی طور پر خاصا غیر مؤثر ہو۔ مے ’ہارڈ بریگزٹ‘ یا یورپی یونین کو بریگزٹ پر رعایات نہ دینے کی حامی ہیں۔ حزب اختلاف کے اراکین ایسا نہیں چاہتے۔ تاہم اتوار کو قدامت پسند وزیر اعظم ٹریزا مے نے برطانوی اخبار ’ٹیلی گراف‘ میں اپنے ایک مضمون میں کہا کہ وہ ایسی کسی بھی کوشش کی مزاحمت کریں گی۔ وہ لکھتی ہیں: ’’عوام نے (یورپی یونین سے اخراج کے حق میں) فیصلہ دے دیا ہے، اور بہت فیصلہ کن طور پر دیا ہے۔ اب یہ حکومت کی ذمے داری ہے کہ وہ مکمل طور پر اس فیصلے پر عمل درآمد کرے۔‘‘ گزشتہ روز برطانیہ کی حزب اختلاف جماعت لیبر پارٹی کے قائد جیریمی کوربن نے کہا ہے کہ وزیر اعظم مے کی حکومت برطانیہ کے یورپی یونین سے اخراج کے معاملے پر جمہوری احتساب سے بچ رہی ہے۔ انہوں نے ہفتے کے روز کہا کہ وزیر اعظم مے کو چاہیے کہ بریگزٹ پر یورپی یونین سے مذاکرات کے نکات کو پارلیمنٹ کے سامنے رکھے۔ کوربن کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر حکومت نے بریگزٹ کے معاملے پر لیبر پارٹی کی شرائط کو منظور نہ کیا تو وہ بریگزٹ منصوبے کو پارلیمنٹ میں روکنے کی کوشش کریں گے۔ تاہم مے کہتی ہیں کہ یہ پارلیمنٹ ہی تھی جس نے بریگزٹ کے معاملے پر عوام کی رائے جاننے کے لیے ایک ریفرینڈم کرانے کا اعلان کیا تھا، اور اس کا فیصلہ واضح طور پر آ چکا ہے، ’’وہ اراکین پارلیمان جو اب ریفرینڈم کروانے کے فیصلے پر پچھتا رہے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ عوام کی رائے کا احترام کریں۔‘‘

برطانیہ کی خاتون وزیر اعظم ٹریزا مے کا کہنا ہے کہ ملکی پارلیمنٹ یہ تسلیم کرے کے عوام کا یورپی یونین سے اخراج کے حق میں فیصلہ قانونی تھا اور وہ حکومت کو اس کے مکمل اطلاق کو ممکن بنانے دے۔ ٹریزا مے نے اتوار کے روز کہا کہ انہیں یقین ہے کہ حکومت عدلیہ کے اس فیصلے کو تبدیل ... Read More »

‘برطانیہ کو یورپی یونین سے اخراج میں جلدی نہیں کرنی چاہیے‘

اپنی ایک حالیہ تقریر میں برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے نے اپنے ملک کے یورپی یونین سے اخراج کے حوالے سے ’ہارڈ بریگزٹ‘ کا ذکر کیا تھا، تاہم جرمن ماہر معیشت کلیمنز فؤسٹ نے مے کو تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کو دیے گئے ایک انٹرویو میں معیشت دان کلیمنز فؤسٹ نے برطانوی وزیر اعظم مے کو مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ کو یورپی یونین سے اخراج کے معاملے پر ’’احتیاط‘‘ اور ’’کامن سینس‘‘ (سمجھ داری) سے کام لینا چاہیے۔ فؤسٹ کا تعلق جرمنی کے مؤقر ادارے آئی ایف او سے ہے جس کا دائرہ کار معاشی تحقیق ہے۔ برطانوی وزیر اعظم مے نے ایک حالیہ تقریر میں ’’ہارڈ بریگزٹ‘‘ کی اصطلاح استعمال کی تھی، جس سے ان کی مراد یورپی یونین سے برطانیہ کے اخراج کے حوالے سے غیر لچک دار رویے کا عدنیہ تھا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بریگزٹ مذاکرت میں وہ مہاجرین سے متعلق پالیسیوں پر کوئی سمجھوتا نہیں کریں گی۔ تاہم فؤسٹ نے اس سخت گیر مؤقف سے اجتناب کا مشورہ دیا ہے۔ ''میں امید کرتا ہوں کہ تمام فریق ہوش کے ناخن لیں گے۔ یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ’ہارڈ بریگزٹ‘ ناممکن ہے،‘‘ فؤسٹ نے ڈی پی اے سے جرمن دارالحکومت برلن میں بات کرتے ہوئے کہا۔ 'ہارڈ بریگزٹ‘ سے مراد عمومی طور یورپی یونین سے جلد از جلد اخراج لی جاتی ہے، جس میں فریقین متنازعہ امور پر لچک دکھانے سے انکار کرتے ہیں۔ جن امور پر اس وقت یورپی یونین اور برطانیہ کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے ان میں برطانیہ کی جانب سے مہاجرین کی یورپ سے برطانیہ آمد کو روکنے کے لیے سحت اقدامات اور برطانیہ کا یورپی یونین کی مجموعی مارکیٹ ترک کرنا سرفہرت ہیں۔ فؤسٹ کا کہنا ہے کہ فریقین کو سست روی سے مراحل طے کرنا چاہییں، ایک عبوری عرصہ جو برطانیہ کے اٹھائیس رکنی یورپی بلاک سے اخراج کا عمل مکمل کرنے پر محیط ہو اور کم از کم اسے کے لیے دس برس لگائے جائیں۔ فؤسٹ کا کہنا تھا کہ جلد بازی کے نتیجے میں برطانوی مارکیٹ اور اس کی کرنسی پاؤنڈ اسٹرلنگ کو شدید خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ جون کے مہینے میں یورپی یونین کے چھ بانی اراکین ممالک کے وزرائے خارجہ نے جرمن دارالحکومت برلن میں ملاقات کی تھی جس کے بعد ان کی طرف سے کہا گیا کہ برطانوی حکومت کو یورپی یونین سے جلد از جلد الگ ہو جانا چاہیے۔ ان کے موقف کے برعکس جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے برلن سے مغرب کی طرف واقع تاریخی جرمن شہر پوٹسڈام کے مضافات میں ہرمنز ورڈر کے مقام پر اپنی قدامت پسند سیاسی جماعت سی ڈی یو کے سیاست دانوں کے ساتھ ایک ملاقات میں کہا تھا، ’’برطانیہ سے مذاکرات کا انداز تجارتی ہونا چاہیے۔ یہ بات چیت ایک خوش گوار فضا میں ہونی چاہیے۔‘‘ میرکل کا کہنا تھا کہ برطانیہ یورپی یونین کا ایک قریبی ساتھی رہے گا اور اس کے ساتھ یورپی اتحاد کا گہرا اقتصادی تعلق رہا ہے۔ جرمن چانسلر نے واضح الفاظ میں کہا ہے، ’’یورپی معاہدے کے آرٹیکل نمبر 50 کے تحت لندن حکومت کو یورپی یونین چھوڑنے کے عمل میں کسی جلد بازی سے کام لینے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ فرانس، اٹلی، ہالینڈ، بیلجیم اور لکسمبرگ کے وزرائے خارجہ کی طرف سے برطانیہ کے اخراج کو جلد از جلد عمل میں لانے کے مطالبے کے برعکس جرمن چانسلر کا کہنا تھا، ’’یہ حقیقت ہے کہ اس عمل کو بہت طول نہیں دینا چاہیے لیکن میں اس وقت اس میں جلدی کے لیے کوئی زور نہیں دوں گی۔‘‘

اپنی ایک حالیہ تقریر میں برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے نے اپنے ملک کے یورپی یونین سے اخراج کے حوالے سے ’ہارڈ بریگزٹ‘ کا ذکر کیا تھا، تاہم جرمن ماہر معیشت کلیمنز فؤسٹ نے مے کو تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کو دیے گئے ایک انٹرویو میں معیشت دان کلیمنز ... Read More »

برطانیہ میں ایک سال کے دوران سوا تین لاکھ تارکین وطن

برطانیہ کی جانب سے جاری کیے گئے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2015ء سے مارچ 2016ء تک کے درمیانی عرصے میں ملک میں 3 لاکھ 27 ہزار غیر ملکی رہائش پذیر ہوئے۔ یہ اعداد و شمار جمعرات پچیس اگست کو برطانیہ کے قومی دفتر شماریات (او این ایس) کی جانب سے جاری کیے گئے۔ او این ایس کے مطابق جون 2015ء سے پہلے کے بارہ ماہ کے دوران ملک میں 3 لاکھ 36 ہزار تارکین وطن برطانیہ میں آباد ہوئے۔ جرمنی نے اس سال اب تک کتنے پاکستانیوں کو پناہ دی؟ جرمنی میں مہاجرین سے متعلق نئے قوانین اس سال کے اوائل میں برطانیہ کا رخ کرنے والے غیر ملکیوں کی تعداد میں معمولی کمی دیکھی گئی جس کی ایک اہم وجہ ’بریگزٹ‘ بھی ہے۔ یورپی یونین میں شامل رہنے یا نکل جانے کے بارے میں برطانوی ریفرنڈم اس برس 23 جون کے روز ہوا تھا۔ یونین سے اخراج کے حامیوں نے اپنی مہم کا مرکزی موضوع مہاجرت اور ترک وطن ہی کو رکھا تھا۔ برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے کا کہنا تھا کہ برطانوی عوام نے ریفرنڈم کے ذریعے یورپی یونین سے اخراج کا فیصلہ کر کے یہ پیغام بھی دیا ہے کہ وہ اپنے وطن میں غیر ملکی تارکین وطن کی تعداد میں کمی چاہتے ہیں۔ سابق برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ملک میں تارکین وطن کی تعداد میں کمی لائیں گے تاہم وہ اپنا وعدہ پورا نہیں کر پائے تھے۔ کیمرون کی جانشین اور موجودہ وزیر اعظم مے نے بھی ایسا ہی وعدہ کرتے ہوئے اعلان کر رکھا ہے کہ وہ برطانیہ آنے والے غیر ملکیوں کی سالانہ تعداد میں کمی کر کے یہ تعداد ایک لاکھ تک لے آئیں گی۔ لیکن یہ ممکن کیسے بنایا جائے گا اور اس ضمن میں کیا لائحہ عمل ترتیب دیا گیا ہے، اس بارے میں ٹریزا مے نے ابھی کوئی تفصیلات نہیں بتائیں۔ برطانوی دفتر شماریات کے مطابق ملک میں آنے والے تارکین وطن کی اکثریت روزگار اور ملازمت کی غرض سے برطانیہ کا رخ کرتی ہے۔ ایک سال کے دوران برطانیہ میں آباد ہونے والے تارکین وطن میں سے 1 لاکھ 80 ہزار کا تعلق یورپی یونین کی رکن ریاستوں سے تھا۔ او این ایس کا یہ بھی کہنا ہے کہ مشرقی یورپ ممالک، بلغاریہ اور رومانیہ کے شہریوں کی برطانیہ نقل مکانی میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ ان ممالک کے 61 ہزار شہری مارچ سے قبل کے ایک سال کے دوران برطانیہ میں آباد ہوئے جب کہ اس سے پچھلے سال کے اسی عرصے میں ان ممالک سے برطانیہ آنے والے تارکین وطن کی تعداد 51 ہزار رہی تھی۔ برطانوی اخبار ٹیلیگراف کے مطابق حکومت ایسے منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کے تحت برطانیہ کے یورپی یونین سے اخراج کے بعد مشرقی یورپ سے آنے والے نسبتاﹰ کم تربیت یافتہ ہنر مند افراد برطانیہ میں کام کرنے کے لیے ورک پرمٹ کے حصول کی درخواستیں دے سکیں گے۔ برطانوی وزیر اعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ چاہتی ہیں کہ یورپی یونین کی رکن ریاستوں سے تعلق رکھنے والے ایسے شہریوں کو، جو برطانیہ میں رہائش پذیر ہیں، ملک میں ہی رہنے دیا جائے۔ تاہم اس کا انحصار اس بات پر ہو گا کہ یورپی یونین سے اخراج کے بعد یونین برطانیہ کو کیا حیثیت دیتی ہے۔ ’تارکین وطن کو اٹلی سے بھی ملک بدر کر دیا جائے‘ ہمیں واپس آنے دو! پاکستانی تارکین وطن

برطانیہ کی جانب سے جاری کیے گئے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2015ء سے مارچ 2016ء تک کے درمیانی عرصے میں ملک میں 3 لاکھ 27 ہزار غیر ملکی رہائش پذیر ہوئے۔ یہ اعداد و شمار جمعرات پچیس اگست کو برطانیہ کے قومی دفتر شماریات (او این ایس) کی جانب سے جاری کیے گئے۔ او این ایس کے ... Read More »

انگیلا میرکل کی ٹریزا مے کو جرمنی آنے کی دعوت

جرمنی کی وفاقی چانسلر انگیلا میرکل نے برطانیہ میں نو منتخب وزیر اعظم ٹریزا مے کو جرمنی آنے کی دعوت دی ہے اور کہا ہے کہ وہ ان کے ساتھ مل کر کام کرنے کی منتظر ہیں۔ یہ بات چانسلر میرکل نے آج کرغستان کے دورے کے دوران کہی ہے۔ جرمن چانسلر نے برطانوی وزیر اعظم مے کو جرمنی آمد کی دعوت بدھ کے روز ٹیلیفون پر گفتگو کے دوران دی۔ اس موقع پر میرکل نے کہا، ’’میں ٹریزا مے کے ساتھ مل کر کام کرنے کی خواہشمند ہوں۔‘‘ تاہم میرکل نے بریگزٹ کے لیے مہم چلانے والے بورس جانسن کی بطور وزیر خارجہ تقرری پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا۔ انہوں نے کہا ،’’ہمیں اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنا ہے۔ دنیا میں بہت مسائل ہیں اور ہمیں خارجہ پالیسی کے معاملات پر تعاون کو فروغ دینا ہے۔ جیسا کہ ہم نے ہمیشہ برطانیہ کے ساتھ تعاون کیا ہے۔ ‘‘ ٹریزا مے نے برطانیہ کے یورپی یونین میں رہنے کی حمایت کی تھی۔ انہیں برطانیہ میں23 جون کو ہونے والے ریفرنڈم میں برطانوی عوام کے اٹھائیس رکنی یورپی بلاک چھوڑنے کے فیصلے کے صرف تین ہفتے بعد برطانیہ کا وزیر اعظم نامزد کر دیا گیا تھا۔ گزشتہ روز ملکہ الزبتھ دوئم نے ٹریزا مے کو با ضابطہ طور پر وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائز کیا تھا۔ سابق وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے بریگزٹ کے بعد وزارت عظمیٰ سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا۔

جرمنی کی وفاقی چانسلر انگیلا میرکل نے برطانیہ میں نو منتخب وزیر اعظم ٹریزا مے کو جرمنی آنے کی دعوت دی ہے اور کہا ہے کہ وہ ان کے ساتھ مل کر کام کرنے کی منتظر ہیں۔ یہ بات چانسلر میرکل نے آج کرغستان کے دورے کے دوران کہی ہے۔ جرمن چانسلر نے برطانوی وزیر اعظم مے کو جرمنی آمد ... Read More »

Scroll To Top