You are here: Home » Tag Archives: يورپی کميشن

Tag Archives: يورپی کميشن

Feed Subscription

سعودی عرب پر دباؤ، يورپ کے ساتھ تعلقات پيچيدہ ہونے کا امکان

سعودی عرب کا نام ايسے ملکوں کی فہرست ميں شامل کر ليا گيا ہے، جن ميں دہشت گرد عناصر کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کے انسداد کے ليے ناکافی اقدامات کیے جا رہے ہيں۔ آئندہ ہفتے اس فہرست اور مسودے کو حتمی شکل دے دی جائے گی۔ يورپی کميشن نے سعودی عرب کو ان ملکوں کی فہرست کے مسودے ميں شامل کر ليا ہے جن ميں منی لانڈرنگ اور دہشت گرد عناصر کی مالی معاونت کے انسداد کے ليے کنٹرول اور اقدامات ناکافی ہيں۔ دو مختلف ذرائع نے اس پيش رفت کی تصديق جمعے کی شب کی۔ فہرست ميں شامل ملکوں کو يورپی بلاک کی سلامتی کے ليے خطرہ قرار ديا جاتا ہے۔ فہرست کے مسودے ميں اس وقت سولہ ممالک شامل ہيں اور اسے بنيادی طور پر فنانشل ايکشن ٹاسک فورس (FATF) کی بنيادوں پر ہی تشکيل ديا گيا ہے۔ يہ فہرست اور اس کا مسودہ فی الحال عام نہيں کيا گيا ہے۔ يورپی کميشن نے سن 2017 ميں منظور شدہ نئے قوائد و ضوابط کے تحت ايسے ملکوں کی فہرست ميں اضافہ کيا ہے۔ صحافی جمال خاشقجی کے ترک شہر استنبول ميں واقع سعودی قونصل خانے ميں قتل کے بعد سے رياض حکومت پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ اس تناظر ميں سعودی عرب کافی تنقيد کی زد ميں ہے۔ رياض حکومت ملکی معيشت کو بہتر بنانے کے ليے بيرونی سرمايہ کاروں کو راغب کرنا چاہتی ہے تاہم يہ تازہ پيش رفت ايسی کوششوں کے ليے بھی ايک دھچکہ ہے۔ فی الحال عرب نے اس پر کوئی رد عمل ظاہر نہيں کيا ہے۔ يورپی کميشن کی جانب سے سعودی عرب کو اس فہرست ميں شامل کيے جانے سے ايک طرف تو رياض حکومت کی ساکھ متاثر ہو گی تو دوسری طرف اس کے نتيجے ميں اقتصادی و مالی روابط بھی پيچيدہ ہو جائيں گے۔ يورپی يونين کے رکن ممالک کو مالی سودوں ميں رقوم کی ادائیگی و وصولی پر نگرانی بڑھانا پڑے گی۔ يہ امر اہم ہے کہ اس قدم کی ابھی يونين کے اٹھائيس رکن ممالک سے توثيق باقی ہے، جس کے بعد آئندہ ہفتے اس پر باقاعدہ طور پر عملدرآمد شروع ہو جائے گا۔ يورپی کميشن نے سن 2017 ميں منظور شدہ نئے قوائد و ضوابط کے تحت سعودی عرب کا نام اس فہرست ميں شامل کيا ہے۔ برسلز ميں ايک اور يورپی اہلکار نے اپنا نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتايا کہ چند ديگر ملکوں کا نام بھی آئندہ کچھ ايام ميں اس فہرست ميں شامل کيا جائے گا۔ يورپی کميشن کے ايک ترجمان نے البتہ اس بارے ميں بات کرنے سے انکار کر ديا اور ان کا کہنا تھا کہ فی الحال يہ فہرست حتمی نہيں ہے۔ اس فہرست ميں جن ملکوں کے نام شامل ہوتے ہيں، ان ميں منی لانڈرنگ اور دہشت گرد عناصر کی مالی معاونت کے انسداد کے ليے اقدامات ميں نقص ہوتے ہيں اور جو يورپی يونين کے معاشی نظام کے ليے خطرہ ثابت ہو سکتے ہيں

سعودی عرب کا نام ايسے ملکوں کی فہرست ميں شامل کر ليا گيا ہے، جن ميں دہشت گرد عناصر کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کے انسداد کے ليے ناکافی اقدامات کیے جا رہے ہيں۔ آئندہ ہفتے اس فہرست اور مسودے کو حتمی شکل دے دی جائے گی۔ يورپی کميشن نے سعودی عرب کو ان ملکوں کی فہرست کے مسودے ... Read More »

يورپ ہجرت کا قانونی راستہ بلیو کارڈ

يورپی کميشن غير قانونی ہجرت روکنے کے ليے مہاجرت کے قانونی راستے فراہم کرنے پر غور کر رہا ہے۔ يورپی يونين کی ’بلیو کارڈ‘ اسکيم ترقی پذير ملکوں کے اعلیٰ تعليم يافتہ افراد کو يورپی روزگار کی منڈيوں تک رسائی فراہم کرتی ہے۔ جرمنی ميں ’بلیو کارڈ اسکيم‘ يکم اگست سن 2012 کو شروع کی گئی تھی۔ يہ دستاويز يورپی يونين سے باہر کے ملکوں کے شہريوں کو ملازمت کی بنياد پر اٹھائيس رکنی يورپی يونين ميں رہائش کی اجازت ديتی ہے۔ وفاقی جرمن دفتر برائے مہاجرت کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق صرف جرمنی ميں 2013ء ميں 11,290 ’بلیو کارڈ‘ جاری کيے گئے، سن 2014 ميں 11,848 اور گزشتہ برس يعنی سن 2015 ميں 14,468 ’بلیو کارڈ‘ جاری کيے گئے۔ ’بلیو کارڈ‘ کے ليے کن ممالک کے لوگ درخواستيں ديتے ہيں؟ سن 2015 ميں يورپی سطح پر ’بلیو کارڈ‘ کے ليے درخواستيں دينے والوں ميں بھارتی شہری سر فہرست تھے۔ 14,468 کی مجموعی تعداد ميں 20.8 فيصد بھارتی شہری تھے۔ چينی باشندوں کی جانب سے جمع کرائی جانے والی درخواستوں کی شرح 8.3 فيصد، روسی شہريوں کی شرح بھی 8.3 فيصد، يوکرائنی شہريوں کی شرح 5.9 فيصد اور شامی شہريوں کی شرح 4.2 فيصد رہی۔ سب سے زيادہ ’بلیوکارڈ‘ کس ملک نے جاری کيے؟ يورپی يونين کے تمام اٹھائيس رکن ممالک ميں ’بلیو کارڈ‘ کے اجراع ميں جرمنی سر فہرست رہا۔ سن 2014 ميں يورپی يونين کے تمام رکن ممالک ميں جاری کردہ ايسے کارڈز کی کُل تعداد کا 87.4 فيصد حصہ جرمنی کا رہا۔ دوسرے نمبر پر فرانس 4.3 اور لکسمبرگ 1.9 فيصد کے ساتھ دوسرے اور تيسرے نمبر پر رہے۔ ’بلیو کارڈ‘ کے حوالے سے تازہ ترين پيش رفت؟ يورپی يونين ميں منگل کے روز پيش کردہ سفارشات کی ممکنہ منظوری کی صورت ميں دنيا بھر سے اعلیٰ تعليم اور تربيت يافتہ پيشہ ور افراد کے ليے يورپی يونين ميں ملازمت اور رہائش مقابلتاً آسان ہو سکتی ہے۔ يورپ در اصل ’اِسکِلڈ ليبر‘ کے حصول کے ليے امريکا، کينيڈا اور آسٹريا کے ساتھ دوڑ لگا رہا ہے۔ يہ امر اہم ہے کہ يہ تينوں انفرادی ملک سالانہ بنيادوں پر پورے کے پورے يورپی بلاک سے زيادہ ورک پرمٹ جاری کرتے ہيں۔ اس بارے ميں بات کرتے ہوئے يورپی يونين کے اميگريشن کمشنز ديميتری اوراموپولس نے کہا ہے کہ يورپ کو مستقبل ميں کئی ملين لوگوں کی ضرورت ہے۔ يورپی کميشن کی جانب سے منگل سات جون کے يہ سفارش پيش کی گئی ہے کہ سن 2009 ميں متعارف کردہ ’بلیو کارڈ اسکيم‘ پر نظر ثانی کے بعد اس کا دوبارہ اجراع کيا جائے۔ ’بلیو کارڈ‘ کے موجود نظام کو ناکافی، کم استعمال ہونے والا اور کسی کشِش کے بغير قرار ديا گيا ہے۔ تجويز دی گئی ہے يورپی سطح کی ايک جامع اسکيم لانچ کی جائے، جس ميں کسی ملازمت کے معاہدے کی کم سے کم مدت چھ ماہ مقرر کی جائے۔ يہ تجويز بھی دی گئی ہے کہ درخواستوں پر کارروائی ساٹھ دنوں ميں مکمل کر لی جائے اور جن افراد کو يہ کارڈ مل جاتے ہيں ان کے اور ان کے اہل خانہ کے ليے حقوق بڑھائے جائيں۔ يورپی کميشن کے اندازوں کے مطابق نئی اسکيم کے اجراع سے يورپی معيشت کو 1.4 سے 6.2 بلين يورو تک کا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ 'بلیو کارڈ اسکيم‘ کے حوالے سے مزيد معلومات اور تازہ ترين اطلاعات قارئين نيچے ديے گئے لنکس پر کلک کر کے حاصل کر سکتے ہيں۔

يورپی کميشن غير قانونی ہجرت روکنے کے ليے مہاجرت کے قانونی راستے فراہم کرنے پر غور کر رہا ہے۔ يورپی يونين کی ’بلیو کارڈ‘ اسکيم ترقی پذير ملکوں کے اعلیٰ تعليم يافتہ افراد کو يورپی روزگار کی منڈيوں تک رسائی فراہم کرتی ہے۔ جرمنی ميں ’بلیو کارڈ اسکيم‘ يکم اگست سن 2012 کو شروع کی گئی تھی۔ يہ دستاويز يورپی ... Read More »

Scroll To Top