You are here: Home » Tag Archives: نئی دہلی

Tag Archives: نئی دہلی

Feed Subscription

بھارت ’دشمن کی جائیدادیں‘ فروخت کرے گا

نئی دہلی حکومت نے بھارت چھوڑ کر پاکستان یا چین چلے جانے والے شہریوں کی املاک فروخت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ بھارت چھوڑ جانے والے ان افراد کی جائیدادوں کی مالیت چار سو ملین ڈالر کے برابر ہے۔ بھارتی حکومت کے منصوبے کے مطابق چین اور پاکستان کے ساتھ جنگوں کے بعد ملک چھوڑ کر ان ممالک کا رخ کرنے والے افراد کی املاک فروخت کر دی جائیں گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ’دشمن کی جائیدادیں‘ 996 کمپنیوں کی شکل میں ہیں، جن کے مالک بیس ہزار افراد یا ادارے تھے۔ یہ املاک پاکستان کے ساتھ سن 1947، 1965 اور 1971 کے تنازعات جب کہ سن 1962 میں چین کے ساتھ سرحدی جنگ کے بعد سرکاری قبضے میں لے لی گئی تھیں۔ ’لو جہاد‘ کا کوئی ثبوت نہیں، بھارتی قومی تفتیشی ایجنسی پاکستانی شہر مٹھی، ہندو مسلم رواداری کا نخلستان ان املاک کی فروخت کی نگرانی بھارتی وزیرخزانہ کر رہے ہیں۔ انہیں توقع ہے کہ اس سے حکومت کو 413 ملین ڈالر کی آمدن ہو گی۔ جمعرات کے روز ایک حکومت عہدیدار نے اس منصوبے کا اعلان کیا۔ حکومتی بیان میں کہا گیا ہے کہ اس طرح سے حاصل ہونے والی آمدن کو ملک میں ترقی اور بہبود کے مختلف پروگرامز میں استعمال کیا جائے گا۔ حکومتی بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اینیمی شیئرز‘ نامی اس منصوبے کو بھارت میں 1968 کی اس تعریف کے تحت استوار کیا گیا ہے، جس میں ’دشمن کے اثاثوں‘ کا تعین کیا گیا تھا۔ اس بھارتی قانون کے تحت ایسے افراد جو بھارت یا چین کے ساتھ تنازعات کے بعد ملک چھوڑ کر ان ممالک کو ہجرت کر گئے، ان کی املاک اور اثاثے ’دشمن کی املاک‘ قرار دیے گئے تھے۔ یہ بات اہم ہے کہ ایسے بہت سے افراد بھی موجود ہیں، جن کے رشتہ دار ملک چھوڑ کر ہجرت کر گئے، تاہم وہاں ان کے دیگر رشتہ داروں نے رہنا یا ان املاک کو استعمال کرنا شروع کر دیا۔ سن 2017 میں نریندر مودی کی قوم پرست حکومت نے اس متنازعہ قانون میں ترمیم کی تھی، جس کے تحت ایسے بھارتی شہری جو قانونی طور پر یہ جائیداد بھی استعمال کر رہے تھے، ان سے یہ املاک لی جا سکتی ہیں۔ اس ترمیم پر بھارت میں شدید بحث ہوئی تھی، کیوں کہ بھارت سے ہجرت کر کے پاکستان چلے جانے والے زیادہ تر افراد مسلمان تھے جب کہ ان املاک میں بسنے والے خاندانوں کو یہ خدشات لاحق ہو گئے تھے کہ انہیں کسی بھی وقت ان مکانات سے نکالا جا سکتا ہے۔ رواں برس جنوری میں حکومت نے اعلان کیا تھا کہ 9400 ایسی املاک کی شناخت کر لی گئی ہے، جو ’دشمن کے اثاثے‘ ہیں اور انہیں نیلام کیا جائے گا۔ ان شناخت کردہ اثاثوں میں سے 9280 ان افراد کی ہیں، جو بھارت سے پاکستان ہجرت کر گئے، جب کہ 126 ایسی املاک ہیں، جن کے مالک چین چلے گئے تھے۔

نئی دہلی حکومت نے بھارت چھوڑ کر پاکستان یا چین چلے جانے والے شہریوں کی املاک فروخت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ بھارت چھوڑ جانے والے ان افراد کی جائیدادوں کی مالیت چار سو ملین ڈالر کے برابر ہے۔ بھارتی حکومت کے منصوبے کے مطابق چین اور پاکستان کے ساتھ جنگوں کے بعد ملک چھوڑ کر ... Read More »

پیراڈائز پیپرز کا انڈیا کنیکشن

حال ہی میں جاری کیے گئے پیراڈائز پیپرز میں ایک مرکزی وزیر اور فلم اداکار امیتابھ بچن سمیت 714 بھارتی شامل ہیں۔ یہ انکشافات قوم پرست بی جے پی حکومت کے لیے ایک دہچکا قرار دیا گیا ہے۔ پیراڈائز پیپرز کی اشاعت کے بعد سب سے بڑی اپوزیشن کانگریس پارٹی نے مرکزی وزیر جینت سنہا سے استعفی اور حکومت سے پورے معاملے کی اعلی سطحی انکوائری کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ انکشافات نریندر مودی حکومت کے لئے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جارہا ہے۔ کنسورشیم آف انویسٹیگیٹو جرنلسٹس (آئی سی آئی جے) کی بھارتی شریک کار انگلش روزنامہ انڈین ایکسپریس ہے۔ اس اخبار میں شائع پیراڈائز پیپرز کے مطابق جن 180 ملکوں کو تفتیش میں شامل کیا گیا ‘ بھارت ان میں انیسویں نمبر پر ہے۔ ’پاناما پیپرز‘ منظر عام پر لانے والوں کے لیے پولٹزر پرائز پاناما پیپرز، طاقتور شخصیات کے خفیہ اثاتے اور تفصیلات پاناما پیپرز: بھارتیوں کے ملوث ہونے کی انکوائری کا حکم آئس لینڈ کے وزیراعظم پاناما لیکس کا پہلا شکار پیراڈائز پیپرز کے مطابق مشہورفلم اداکار امیتابھ بچن نے سال2000-2002 کے درمیان بلیک منی کو قانونی بنانے والی فرضی کمپنیوں کی مدد سے ٹیکس ہیون کے طورپر برمودا میں ایک فرضی کمپنی میں شیئرز خریدے تھے۔ یہ وہ دور تھا جب امیتابھ نے مشہور ٹی وی شو’کون بنے گا کروڑ پتی‘ کے پہلے ایڈیشن کی میزبانی کی تھی۔ انہوں نے جلوہ نامی میڈیا کمپنی میں پیسہ لگایا اور اس کے پارٹنر بنے۔ یہ کمپنی 2005 میں مبینہ طورپر بند کردی گئی۔ رپورٹ کے مطابق امیتابھ بچن نے اپنی آمدنی پرٹیکس دینے سے بچنے کیلئے ایک ایسی کمپنی میں پیسہ لگایا جس کا شاید کبھی وجود ہی نہیں تھا۔ حالانکہ امیتابھ بچن نے ایسے الزامات کی ہمیشہ تردید کی ہے۔ پیراڈائز پیپرز کے انکشاف سے ایک دن قبل ہی اپنے بلاگ میں انہوں نے لکھا کہ’اس سے قبل بوفورز اسکینڈ ل اورپاناماپیپرز میں بھی ان کانا م آیا تھا اور ان سے وضاحت طلب کی گئی تھی ۔ میں نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے میرا نام استعمال کئے جانے پر جواب طلب کیا تھا لیکن جواب کبھی نہیں ملا۔‘ امیتابھ نے مزید لکھا ہے کہ ’وہ ہمیشہ ایک ذمہ دار شہری ہیں اور ہمیشہ ہرتفتیش میں تعاون کیا ہے۔‘ پیراڈائز پیپرز میں ایک اور بھارتی فلمی اداکار سنجے دت کی بیوی مانیتا دت(سابقہ نام دل نشیں) کا بھی ذکر ہے۔ مانیتا دت نے 2003 میں فلم گنگا جل میں ایک آئٹم سانگ کیا تھا۔ فی الحال وہ سنجے دت پروڈکشنز پرائیوٹ لمیٹیڈ کے بورڈ کی اہم رکن کے علاوہ کئی دیگر کمپنیوں کے بورڈ میں شامل ہیں۔ رپورٹ میں انہیں بہاماز کی ایک کمپنی کا ڈائریکٹر بتایا گیا ہے۔ مرکزی وزیر جینت سنہا نے پیراڈائز پیپر س میں اپنا نام آنے کے بعد آج کئی وضاحتی ٹویٹ کئے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کے تمام لین دین قانونی اوردرست ہیں۔ جینت سنہا پہلے فنانس کے نائب وزیر تھے۔ حکمراں بی جے پی کے ممبر پارلیمان رویندر کشورسنہا نے پیراڈائز پیپرس میں اپنا نام آنے کے بعد خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ دریں اثنا دہلی میں حکمراں جماعت عام آدمی پارٹی کے سینئر رہنما آشوتوش کا کہنا ہے کہ پاناما پیپرس کے بعد پیراڈائز پیپرس نے بھارتی سسٹم میں پائی جانے والی خامیوں کو اجاگر کردیا ہے۔

حال ہی میں جاری کیے گئے پیراڈائز پیپرز میں ایک مرکزی وزیر اور فلم اداکار امیتابھ بچن سمیت 714 بھارتی شامل ہیں۔ یہ انکشافات قوم پرست بی جے پی حکومت کے لیے ایک دہچکا قرار دیا گیا ہے۔ پیراڈائز پیپرز کی اشاعت کے بعد سب سے بڑی اپوزیشن کانگریس پارٹی نے مرکزی وزیر جینت سنہا سے استعفی اور حکومت سے ... Read More »

خواتین پر جنسی حملے، دنیا کے بدترین شہر یہ ہیں

دنیا کے متعدد شہروں کو خواتین پر جنسی حملوں کے حوالے سے انتہائی غیر محفوظ سمجھا جاتا ہے۔ ایک نئے جائزے کے مطابق بھارت کا دارالحکومت نئی دہلی اور برازیلی شہر ساؤ پاولو خواتین کے لیے غیر محفوظ اور بدترین شہر ہیں۔ خواتین کے خلاف جنسی تشدد کے حوالے سے تھامسن روئٹرز فاؤنڈیشن کا ایک نیا سروے منظر عام پر آیا ہے، جس میں بھارتی دارالحکومت نئی دہلی اور برازیل کا شہر ساؤ پاولو کو دنیا کے بدترین شہر قرار دیا گیا ہے۔ دسمبر دو ہزار بارہ میں نئی دہلی کی ایک مسافر بس پر سفر کرنے والی ایک لڑکی کو انتہائی سفاکانہ انداز میں جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا اور اسے چلتی بس سے باہر پھینک دیا گیا تھا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں وہ ہلاک ہو گئی تھی۔ تئیس سالہ طالبہ کی موت کے بعد دنیا کی اس سب سے بڑی جمہوریت میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے ایک نئی جد وجہد کا آغاز ہوا تھا۔ ہزاروں مظاہرین نے سڑکوں پر نکلتے ہوئے تمام ملزمان کی گرفتاری اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس کے بعد بھارت میں صنفی مساوات کے لیے نئے قانون بنائے گئے، جنسی تشدد کا شکار ہونے والی خواتین کے لیے خصوصی عدالتوں کا قیام عمل میں لایا گیا لیکن ان تمام تر کوششوں کے باوجود چھبیس ملین کی آبادی والا شہر نئی دہلی ’ریپ کیپیٹل‘ ہونے کا داغ نہیں دھو پایا۔ خواتین کے خلاف ہونے والے تشدد کے حوالے سے مشہور انیس مخلتف شہروں میں نئی دہلی اور ساؤ پاؤلو پہلے نمبر پر ٹھہرے ہیں۔ نئی دہلی میں ہر چار گھنٹے میں ایک ریپ بھارت میں یو این ویمن کی سربراہ ربیکا رائشمان کے بقول، ’’میں رائے پر مبنی ان نتائج سے بالکل حیران نہیں ہوں۔ گزشتہ چند برسوں میں جنسی تشدد کے حوالے سے نئی دہلی اور ساؤ پاؤلو کو میڈیا پر کافی زیادہ توجہ ملی ہے۔‘‘ اس خاتون سربراہ کا مزید کہنا تھا، ’’اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ دونوں شہروں میں جنسی تشدد ایک حقیقت ہے لیکن اس حوالے سے کوئی حتمی اعداد و شمار موجود نہیں ہے، جن سے یہ معلوم ہو کہ ان شہروں میں جنسی حملوں کے واقعات دیگر شہروں کے حوالے سے زیادہ ہیں۔‘‘ چودہ سالہ لڑکی کا ریپ، بھارتی رکن پارلیمان گرفتار اسی رپورٹ میں جنسی تشدد کے حوالے سے مصر کا دارالحکومت قاہرہ تیسرے نمبر پر ہے۔ اس کے بعد میکسیکو سٹی اور ڈھاکا کا نمبر آتا ہے۔ جنسی حملوں کے حوالے سے اس رپورٹ میں جاپان کے شہر ٹوکیو کو خواتین کے لیے محفوظ ترین شہر قرار دیا گیا ہے۔

دنیا کے متعدد شہروں کو خواتین پر جنسی حملوں کے حوالے سے انتہائی غیر محفوظ سمجھا جاتا ہے۔ ایک نئے جائزے کے مطابق بھارت کا دارالحکومت نئی دہلی اور برازیلی شہر ساؤ پاولو خواتین کے لیے غیر محفوظ اور بدترین شہر ہیں۔ خواتین کے خلاف جنسی تشدد کے حوالے سے تھامسن روئٹرز فاؤنڈیشن کا ایک نیا سروے منظر عام پر ... Read More »

مغل سرائے اب دین دیال اپادھیائے

بھارت میں گزشتہ روز ایک معروف ریلوے اسٹیشن 'مغل سرائے' کا نام تبدیل کر کے اس کا نام ایک ہندو قوم پرست رہنما کی نسبت سے 'دین دیال اپادھیائے' کر دیا گيا ہے۔ نریندر مودی کی حکومت نے سب سے پہلے دلی کے مشہور 'اورنگ زیب' روڈ کا نام بدل کر اس کی ابتدا کی تھی اور اب دارالحکومت دلی کے مشہور زمانہ 'اکبر روڈ کا' نام بدلنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ حکم راں جماعت بی جے پی کے ایک سینیئر رہنما کا کہنا ہے کہ آگرہ کا تاج محل بھارت کے ماتھے پر ایک کلنک ہے اور ملک کی تاریخ میں تاج محل کی کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔ کچھ روز پہلے ہی ریاستی حکومت نے تاج محل کو محکمہء سیاحت کے کتابچے سے نکال دیا تھا۔ بھارتی ’ریپ گرو‘ کو دس برس قید کی سزا، سکیورٹی انتہائی سخت گائے کو بچانے کے ليے انسانوں کا قتل ناقابل قبول ہے، مودی ٹرک میں بھینسیں کیوں؟ ’نئی دہلی میں تین افراد پر حملہ‘ گذشتہ ماہ ہی ریاست مہاراشٹر میں حکام نے اسکول کی نصابی کتابوں سے مغلیہ سلطنت سے متعلق تاریخی مواد کو حذف کرنے کی ہدایات جاری کی تھیں۔ حکام کے مطابق مغل سلطنت کی تاریخ کو نصاب سے ہٹانے کا فیصلہ اس لیے کیا گيا تاکہ اس کی جگہ ایک مراٹھی ہندو حکمراں چھترپتی شیواجی کی شخصیت کو نمایاں مقام دیا جا سکے۔ ریاست راجستھان میں یونیورسٹی سطح کی تاریخ کی کتابوں کو تبدیلی کرنے کے ایک منصوبے پر پہلے سے کام جاری ہے جس میں یہ پڑھایا جائے گا کہ ہلدی گھاٹی کی جنگ میں مغل بادشاہ اکبر کو شکست اور رانا پرتاپ کی فتح ہوئی تھی، جبکہ برصغیر کی تاریخ سے متعلق اب تک کی تمام مستند تاریخی کتابوں میں یہی درج ہے کہ اس جنگ میں اکبر کی فوج نے رانا پرتاپ کو شکست دی تھی۔ بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے تو مغلیہ تاریخ پر سوال اٹھاتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ آخر مغل بادشاہ اکبر کو 'اکبر اعظم' کیوں کہا جاتا ہے اور رانا پرتاپ کو گریٹ یا 'اعظم' کا خطاب کیوں نہیں دیا گيا؟ ایک سینیئر ریاستی وزیر کالی چرن کا کہنا ہے کہ 'نسل در نسل مسخ شدہ تاریخ پڑھائی جاتی رہی ہے اور اگر اب اس کو درست کیا جاتا ہے اور یہ بتایا جائے کہ 'اصل میں اس جنگ کے فاتح رانا پرتاپ تھے تو اس میں برائی کیا ہے؟' بھارت میں جب سے نریندر مودی کی قیادت میں ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی اقتدار میں آئی ہے تب سے مغلیہ دور کی تاریخ، ان کی یادگاریں اور عمارتیں مسلسل تنقید کی زد میں ہیں۔ حکومت کی ایما پر سخت گیر ہندو رہنماؤں کی جانب سے یہ باور کرانے کی کوشش ہو رہی ہے کہ مسلم حکمراں، بالخصوص مغلوں، نے بھارت کی تہذیبی قدروں پر وار کیا تھا۔ لیکن بھارت کے کئی سرکردہ مورخ اور دانشور اس سے متفق نہیں ہیں۔ مورخ ہربنس مکھیا کا کہنا ہے کہ یہ ہندو نظریاتی تنظیموں کا ایک جھوٹا پروپیگنڈہ ہے۔ ’’اس کا تاریخ سے کچھ بھی واسطہ نہیں، اس کا واحد مقصد سیاسی مفاد کے لیے ہندوؤں کو متحد کرنا ہے۔‘‘ ڈی ڈبلیو سے خصوصی بات چیت میں انہوں نے کہا کہ جو کچھ بھی کیا جا رہا ہے ’’اس کا اصل مقصد بھارتی مسلمانوں کو ہدف بنانا ہے تاکہ ہندو ریاست کے قیام کے لیے ہندوؤں کو متحد کیا جا سکے۔ یہ ایک سیاسی کھیل ہے اور یہ لوگ اپنے سیاسی عزائم کے لیے تاریخ کو مسخ کرکے پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘ تجزیہ کار ارملیش بھی ہر بنس مکھیا سے متفق ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارت کو اب ایک ہندو ملک بنانے کی باتیں کھل کر ہو رہی ہیں اور مغلوں سے نفرت کا اظہار اسی کوشش کا ایک حصہ ہے تاکہ ’’تمام ہندوؤں کو متحد کرکے ایک فاشسٹ حکومت قائم کی جا سکے۔‘‘ معروف مصنف اور تجزیہ کار کرشنا راما چندرن کا کہتے ہیں کہ بیشتر ہندو نظریاتی تنظیمیں تاریخ اور تاریخی ورثے کی اہمیت سے واقف نہیں ہیں۔ سیاسی تجزیہ کار پریہ درشن کا کہنا ہے کہ بھارت میں ایک خاص طبقہ مسلسل دوسرے نظریات کی تردید میں لگا رہا ہے جس میں حالیہ دنوں میں بہت شدت آئی ہے۔ تاریخ کے ساتھ دھوکا کرنے کی سعی کو حکومت کی پشت پناہی حاصل ہو، جس کی وجہ سے یہ فکر مضبوط بھی ہوئی ہے۔ پریہ درشن کے مطابق ہندو تنظیمیں تاریخ پر حملہ کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہیں یہ ملک صرف ہندوؤں کا ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ حکومت معاشی ترقی اور روزگار جیسے مسائل سے نمٹنے میں بری طرح ناکام رہی ہے اور اسی سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے ایسے جذباتی مسائل ابھارے جا رہے ہیں۔

بھارت میں گزشتہ روز ایک معروف ریلوے اسٹیشن ‘مغل سرائے’ کا نام تبدیل کر کے اس کا نام ایک ہندو قوم پرست رہنما کی نسبت سے ‘دین دیال اپادھیائے’ کر دیا گيا ہے۔ نریندر مودی کی حکومت نے سب سے پہلے دلی کے مشہور ‘اورنگ زیب’ روڈ کا نام بدل کر اس کی ابتدا کی تھی اور اب دارالحکومت دلی ... Read More »

خاتون کا گینگ ریپ، بچی کا قتل: تین میں سے ایک ملزم گرفتار

بھارت میں ایک نوجوان خاتون کے گینگ ریپ اور اس کی شیر خوار بچی کے قتل کے تین ملزمان میں سے ایک کوگرفتار کر لیا گیا ہے۔ ملزمان نے اجتماعی جنسی زیادتی کے دوران اس خاتون کی نو ماہ کی بیٹی کو چلتے رکشے سے باہر پھینک دیا تھا۔ بھارتی دارالحکومت نئی دہلی سے بدھ سات جون کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق یہ خوفناک جرم بھارت میں خواتین کے خلاف جنسی جرائم کے بہت پریشان کن واقعات کے سلسلے کی تازہ ترین کڑی تھا، جس میں ایک نوجوان خاتون کو، جس کی عمر انیس بیس سال کے قریب ہے، ایک چلتے رکشے میں تین افراد نے گینگ ریپ کیا تھا۔ اس جرم کے ارتکاب کے دوران ملزمان نے اس خاتون کی ایک شیر خوار بچی کو، جس کی عمر صرف نو ماہ تھی، چلتے رکشے سے باہر پھینک دیا۔ یہ بچی سر پر لگنے والی شدید چوٹوں کی وجہ سے موقع پر ہی انتقال کر گئی تھی۔ ماں کا گینگ ریپ، رکشے سے باہر پھینکی گئی نو ماہ کی بچی ہلاک بھارتی خاتون کا ’آٹھ سال تک ریپ کرنے والے‘ پنڈت سے انتقام بھارت میں جرمن خاتون سیاح کا ریپ، ملزمان مفرور یہ واقعہ نئی دہلی کے مضافات میں ریاست ہریانہ کے علاقے گڑگاؤں میں انتیس مئی کو رات گئے اس وقت پیش آیا تھا، جب یہ خاتون اپنی شیر خوار بچی کے ہمراہ گڑگاؤں میں ہی اپنے والدین کے گھر جا رہی تھی۔ حملے کا نشانہ بننے والی نوجوان خاتون کی شکایت پر مقدمہ درج کیے جانے کی تصدیق پولیس نے کل منگل چھ جون کو کی تھی۔ گڑگاؤں کے پولیس کمشنر سندیپ کھیرواڑ نے بدھ کے روز کہا، ’’متاثرہ خاتون نے بتایا تھا کہ اس کے ساتھ رکشا ڈرائیور اور رکشے میں پہلے سے سوار دو مردوں نے اجتماعی جنسی زیادتی کی تھی، اور اپنے دفاع میں مزاحمت کرنے پر ملزمان نے اس کی نو ماہ کی بیٹی کو اس کی گود سے چھین کر چلتے رکشے سے باہر پھینک دیا تھا۔‘‘ پولیس کمشنر کے مطابق، ’’ہم نے منگل کی رات مشتبہ ملزمان کے خاکے جاری کر دیے تھے۔ اب تک ان تین میں سے ایک ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ باقی دو کی تلاش جاری ہے۔‘‘ گڑگاؤں کے پولیس کمشنر نے صحافیوں کو بتایا کہ باقی ماندہ دونوں ملزمان کی تلاش کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور انہیں بھی جلد ہی گرفتار کر لیا جائے گا۔ نئی دہلی میں ہر چار گھنٹے میں ایک ریپ چودہ سالہ لڑکی کا ریپ، بھارتی رکن پارلیمان گرفتار بھارت میں خواتین کے ساتھ جنسی زیادتیوں اور گینگ ریپ کے واقعات انتہائی تشویش ناک حد تک زیادہ ہو چکے ہیں۔ صرف ملکی دارالحکومت نئی دہلی ہی میں 2015ء میں 2200 خواتین کو ریپ کیا گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نئی دہلی میں اوسطاﹰ ہر روز چھ خواتین کو ریپ کر دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ پورے بھارت میں ہر سال اوسطاﹰ ریپ کے 40 ہزار واقعات رونما ہوتے ہیں اور خاص کر دیہی علاقوں میں یہ شرح اس لیے بھی زیادہ ہے کہ وہاں متاثرہ خاتون کے خاندان کی بے عزتی کے خوف سے پولیس کو ایسے ہر جرم کی اطلاع نہیں دی جاتی اور اکثر مظلوم خواتین اپنی شکایت لے کر پولیس کے پاس جانے سے گھبراتی ہیں۔

بھارت میں ایک نوجوان خاتون کے گینگ ریپ اور اس کی شیر خوار بچی کے قتل کے تین ملزمان میں سے ایک کوگرفتار کر لیا گیا ہے۔ ملزمان نے اجتماعی جنسی زیادتی کے دوران اس خاتون کی نو ماہ کی بیٹی کو چلتے رکشے سے باہر پھینک دیا تھا۔ بھارتی دارالحکومت نئی دہلی سے بدھ سات جون کو ملنے والی ... Read More »

عالمی اقتصادی محاذ پر بھارت کے لئے نامناسب صورتحال

بھارت کے لئے یہ ہفتہ دو بُری خبروں کا حامل رہا۔ ایک طرف بھارت سے دنیا کی تیز رفتار ترقی کرنے والی معیشت کی پوزیشن چھن گئی ہے تو دوسری طرف عالمی بینک کی رپورٹ میں خواتین ملازمین کی صورت حال کوتشویش ناک قرار دیا گیا ہے۔ اقتصادی ترقی کے تازہ ترین اعدادو شمار کے مطابق بھارت کی مجموعی ملکی پیداوار ( جی ڈی پی) کی شرح 7.1 فیصد سے گھٹ کر 6.1 فیصد ہوگئی ہے۔ یہ گذشتہ دو برسوں میں سب سے کم ہے۔ اس باعث بھارت دنیا میں سب سے تیزی سے ابھرتی ہوئی اقتصادیات کا اعزاز کھو بیٹھا ہے اور اب یہ مقام بھارت کے دیرینہ حریف چین کو حاصل ہوگیا ہے۔ چین کے سرکاری اخبارگلوبل ٹائمز نے اس پر طنز کرتے ہوئے لکھا ہے کہ بھارت کی ترقی کی شرح 6.1 فیصد تک گر جانا بڑے کرنسی نوٹوں پرپابندی جیسی ’اہم اور اختراعی‘ اصلاحات کا نتیجہ ہے۔ اپوزیشن کانگریس پارٹی نے اس صورت حال کیلئے حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی کو براہ راست ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ کانگریس کے ترجمان ابھیشیک منو سنگھوی کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ گذشتہ سال نومبر میں حکومت کی جانب سے بڑے نوٹ منسوخ کرنےکے بعد ہی ماہرین معاشیات اور کانگریس نے معاشی ترقی کی شرح میں کمی کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔ سنگھوی کے مطابق آج صورت حال یہ ہے کہ کسانوں کو اپنے پھل ،سبزیاں اوردودھ سڑک پرپھینک کراحتجاج کرنے کے لئے مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ دوسری طرف مودی حکومت کے وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے اس صورت حال کو کمزور عالمی اقتصادی حالات کے علاوہ کانگریس حکومت سے وراثت میں ملنے والی خراب معیشت کو بڑی وجہ قرار دیا۔ دوسری جانب عالمی بینک کی طرف سے بھارت کی ترقی سے متعلق جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں خواتین ملازمین کی شرح دنیا میں کم ترین ہے اوراس معاملے میں یہ اپنے پڑوسی ملکوں نیپال‘ بھوٹان ‘ بنگلہ دیش اورسری لنکا سے بھی پیچھے ہے۔ نیپال میں پندرہ سال یا اس سے زیادہ عمر کی ورکنگ خواتین کی تعداد 80 فیصد ہے جب کہ بھارت میں شرح صرف 27 فیصد ہے۔ لیکن بھارت اس معاملے میں اپن۔ روایتی حریف پاکستان سے قدرے بہتر ہے، جہاں ورکنگ خواتین کی شرح 25 فیصد ہے۔ تاہم بھارت کیلئے تشویش کی بات یہ کہ یہاں 26 سے 45 برس تک کی عمر والی ساٹھ فیصد خواتین اقتصادی لحاظ سے سرگرم نہیں ہیں۔ نیز بھارتی کالجوں سے گریجویٹ کی ڈگری حاصل کرنے والی خواتین میں سے صرف 40 فیصد ہی معاشی سرگرمیوں سے وابستہ ہوتی ہیں۔ معروف کالم نویس اوربھارت کے سرکاری نشریاتی ادارہ پرسار بھارتی کی سابق چیف ایگزیکٹو افسر مرنال پانڈے کا کہنا ہے،’’خواتین ورکرز کے حوالے سے عالمی بینک کی رپورٹ میں131 ملکوں میں بھارت کو 121 واں مقام ملا ہے۔ یہ کسی بھی لحاظ سے اچھی بات نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا،''مڈل کلاس کے نوجوان پڑھی لکھی بیوی چاہتے ہیں تاکہ وہ آمدنی حاصل کرنے والی پارٹنرثابت ہوسکے لیکن ایسے جوڑوں میں بھی روایتی پابندیاں آڑے آتی ہیں اور کام کرنے والی خواتین پر روایتی دباؤ رہتا ہے کہ وہ بیوی یا بہو بن کر رہے۔‘‘ خیال رہے کہ اقوام متحدہ ڈیویلپمنٹ پروگرام کی ہیومن ڈیویلپمنٹ رینکنگ کے لحاظ سے سن 2015 میں بھارت 188 ملکوں کی فہرست میں131ویں مقام پر تھا ۔صنفی مساوات کے لحاظ سے یہ صورت حال اور بھی تشویش ناک ہے۔ صنفی عدم مساوات انڈکس میں 159ملکوں میں بھارت کا مقام 125واں ہے۔

بھارت کے لئے یہ ہفتہ دو بُری خبروں کا حامل رہا۔ ایک طرف بھارت سے دنیا کی تیز رفتار ترقی کرنے والی معیشت کی پوزیشن چھن گئی ہے تو دوسری طرف عالمی بینک کی رپورٹ میں خواتین ملازمین کی صورت حال کوتشویش ناک قرار دیا گیا ہے۔ اقتصادی ترقی کے تازہ ترین اعدادو شمار کے مطابق بھارت کی مجموعی ملکی ... Read More »

بھارت میں الیکٹرانک میوزک اور ڈانس فیسٹیول کا انعقاد

الیکٹرک ڈائزی کارنیوال کو دنیا کا سب سے بڑا میوزیکل فیسٹیول قرار دیا جاتا ہے۔ اِس کا انعقاد سالانہ بنیاد پر امریکی شہر لاس ویگاس میں کیا جاتا ہے۔ اب منتظمین نے اِس فیسٹیول کو بھارت میں منعقد کرانے کی منصوبہ بندی کی ہے۔ امریکی ریاست نیواڈا کے گلیمرس شہرلاس ویگاس میں منعقد کیے جانے والے رقص و موسیقی کے انتہائی بڑے فیسٹیول کا انعقاد رواں برس بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ الیکٹرانک ڈائزی کارنیوال نامی میوزک اور ڈانس فیسٹیول بارہ اور تیرہ نومبر کو منعقد کیا جائے گا۔ بھارت میں انعقاد پر اِس میوزیکل فیسٹیول کے انتظامی ادارے نے مسرت کا اظہار کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ بھارتی دارالحکومت میں اِس شو کا انعقاد بھارت کے کاروباری حلقوں اور مسلسل افزائش پذیر اشتہاری و ماڈلنگ صنعت کے لیے غیرمعمولی کامیابی کا باعث ہو سکتا ہے۔ اِس فیسٹیول میں شرکت کے لیے بے شمار غیر ملکی سیاحوں کی آمد بھی یقینی خیال کی گئی ہے۔ ان دو ایام کے لیے بھارتی دارالحکومت میں نوجوانوں کی ثقافتی سرگرمیاں کو بے پناہ عروج حاصل ہونے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔ الیکٹرک ڈائزی کارنیوال کا انعقاد انسومینیئک نامی ادارہ کرتا ہے۔ اس ادارے کے بانی اور چیف ایگزیکٹیو آفیسر پاسکل روٹلا ہیں۔ روٹیلا نے نئی دہلی فیسٹیول کے حوالے سے کہا کہ بھارت میوزک اور ڈانس میں ایک منفرد حیثیت کا حامل ہے۔ روٹیلا کے خیال میں بھارت میں نوجوان موسیقی اور رقص کے ساتھ ایک خاص محبت رکھتے ہیں اور اِس فیسٹیول کے متعارف کروانے کے بعد مقامی بھارتی موسیقی کی صنعت کو بہت زیادہ فروغ کا امکان پیدا ہو گا۔ روٹیلا کے مطابق اس ابتدائی یا اولین فیسٹیول میں متوقع طور پر بیس سے پچیس ہزار تک بھارتی و غیر ملکی شائقین شرکت کریں گے اور اگلے فیسٹیولز میں شرکاء کی تعداد بہت تیزی کے ساتھ بڑھتی چلی جائے گی۔ یہ امر اہم ہے کہ مغربی دنیا کے مقبول ڈی جیز یا ڈسک جوکی بھارت میں منعقد کی جانے والی ڈانس تقریبات میں مدعو کیے جاتے ہیں۔ ان کے علاوہ مقامی ڈی جیز کے لیے بھی مارکیٹ میں کافی گنجائش موجود ہے۔ بھارت کے ساحلی شہر گوا میں میوزک اور ڈانس کا فیسٹیول ’سَن بَرن‘ بھی بہت مقبول ہے۔ یہ ہر سال کے اختتامی ایام پر منعقد کیا جاتا ہے اور اِس میں بھارت سے ہزاروں شوقین حضرات شرکت کرتے ہیں۔ الیکٹرک ڈائزی کارنیوال کو متعارف کرانے والی کمپنی کے سربراہ پاسکل روٹیلا بچپن سے ہی بھارت کو ایک خواب نگر خیال کرتے چلے آ رہے ہیں اور اب وہاں پر اپنے کامیاب میوزیکل فیسٹیول کے انعقاد سے اپنے پرانے خواب کو تعبیر دینا چاہتے ہیں۔ رواں برس جون میں الیکٹرک ڈائزی کارنیوال میں چار لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی تھی۔

الیکٹرک ڈائزی کارنیوال کو دنیا کا سب سے بڑا میوزیکل فیسٹیول قرار دیا جاتا ہے۔ اِس کا انعقاد سالانہ بنیاد پر امریکی شہر لاس ویگاس میں کیا جاتا ہے۔ اب منتظمین نے اِس فیسٹیول کو بھارت میں منعقد کرانے کی منصوبہ بندی کی ہے۔ امریکی ریاست نیواڈا کے گلیمرس شہرلاس ویگاس میں منعقد کیے جانے والے رقص و موسیقی کے ... Read More »

افریقی باشندوں پر حملے، نئی دہلی پولیس کی کارروائیاں

بھارتی دارالحکومت کی پولیس نے افریقی باشندوں پر حملے کرنے کے سلسلے میں تین مزید مقدمے درج کیے ہیں۔ کانگو کے ایک شہری کے قتل کے بعد سے پولیس نے مقدمات درج کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ گزشتہ ہفتے کے دوران مختلف افریقی ملکوں کے باشندوں کو مارنے پیٹنے افریقی باشندوں پر حملے اور ڈرانے دھمکانے والوں کے خلاف نئی دہلی پولیس نے تین نئے مقدمے درج کیے ہیں۔ یوگنڈا اور جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والی دو خواتین کو ڈرانے دھمکانے کے علاوہ ہراساں کیا گیا جبکہ نائجیریا کے دومردوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ بھارتی دارالحکومت کی پولیس کے سینیئر اہلکار ایشور سنگھ کے مطابق رپورٹس درج کرنے کے بعد تفتیشی عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ سنگھ کے مطابق ان چاروں میں سے کسی ایک کو بھی شدید زخم نہیں آئے ہیں صرف نائجیریا کے شہری لوائچی کو ہلکی نوعیت کی چوٹییں لگی ہیں۔ بھارت کے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے اِن تازہ واقعات کی شدید انداز میں مذمت کرتے ہوئے پولیس کو حکم دیا ہے کہ وہ حملہ کرنے والوں کو فوری طور پر گرفتار کر کے عدالتی کٹہرے تک لائے تا کہ انہیں اِن کے جرائم کی سزا سنائی جا سکے۔ گزشتہ ہفتے کے دوران ایک بھارتی جونیئیر وزیر نے بھی افریقی باشندوں کو ڈرانے دھمکانے سے پیدا ہونے والی صورت حال کو بہتر بنانے کے حوالے سے افریقی ملکوں کے سفیروں کے گروپ کے سربراہ سے ملاقات کی تھی۔ افریقی ملک نائجیریا کے باشندوں کا مقامی لوگوں کے ساتھ جھگڑا جنوبی دہلی میں ہوا۔ افریقی باشندے میوزک بجانے کے علاوہ شراب نوشی میں مصروف تھے کہ امقامی لوگوں نے اُن پر اعتراض کیا اور معاملہ سنگین شکل اختیار کر گیا۔ ایسا خیال کیا جا رہا ہے کہ بھارت میں افریقی باشندوں کے خلاف مقامی آبادی میں برداشت کم ہونے لگی ہے۔ اسی تناظر میں کانگو کے ایک باشندے کی ہلاکت کو دیکھا گیا ہے۔ کانگو کے شہری مسونڈا کتاڈا اولیور کو ایک تنازعے میں ڈنڈے مار مار کر تین افراد نے قتل کر دیا تھا۔ اولیور بھارت میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد ایک نجی تعلیمی ادارے میں پڑھانا شروع کر چُکا تھا۔ اولیور کے قتل پر بھارت میں مقیم افریقی ملک کے سفیروں نے انتہائی سخت ردعمل ظاہر کیا تھا اور اِس قتل کو نسلی تعصب کا شاخسانہ قرار دیا تھا۔ افریقی سفارتخانوں کے گروپ نے ایک بیان جاری کیا تھا اور انہوں نے کہا تھا کہ وہ اپنی حکومتوں کو مشورہ دے رہے ہیں کہ اب تعلیم کے حصول کے لیے طلبا کو بھارت نہ روانہ کیا جائے۔ سفیروں کے مطابق طلبا کے روانہ کرنے پر یہ پابندی اُس وقت تک رکھی جائے جب تک نسلی تعصب کی بنیاد پر کیے گئے حملوں کے مرتکب ملزموں کو گرفتار نہیں کیا جاتا اور مجموعی سلامتی کی صورت حال بہتر نہیں ہو جاتی۔ بھارت کی وزارت خارجہ نے افریقی نژاد شہری کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ نسلی تعصب کی واردات نہیں ہے اور اِس وقت بھارت میں کئی ہزار افریقی طلبا بلا خوف و خطر اپنا تعلیمی سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

بھارتی دارالحکومت کی پولیس نے افریقی باشندوں پر حملے کرنے کے سلسلے میں تین مزید مقدمے درج کیے ہیں۔ کانگو کے ایک شہری کے قتل کے بعد سے پولیس نے مقدمات درج کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ گزشتہ ہفتے کے دوران مختلف افریقی ملکوں کے باشندوں کو مارنے پیٹنے افریقی باشندوں پر حملے اور ڈرانے دھمکانے والوں کے خلاف ... Read More »

افریقی طلبا کو بھارت نہ بھیجا جائے، افریقی سفیروں کی سفارش

براعظم افریقہ کے ملکوں کے سفیروں نے کہا ہےکہ نئی دہلی میں افریقی طلبا کو عدم سلامتی کا خطرہ لاحق ہے۔ سفیروں کی جانب سے یہ بیان کانگو کے ایک ٹیچر کی مبینہ نسل پرستانہ ہلاکت کے تناظر میں دیا گیا ہے۔ بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں افریقی سفارتخانوں کے گروپ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ ہے کہ وہ اپنی اپنی حکومتوں کو مشورہ دیں گے کہ اب تعلیم کے حصول کے لیے سردست طلبا کو بھارت نہ بھیجا جائے اور یہ پابندی اُس وقت تک رکھی جائے جب تک کہ نسلی تعصب کی بنیاد پر کیے گئے حملوں کے مرتکب ملزموں کو گرفتار نہیں کیا جاتا۔ افریقی ملکوں کے سفیروں کے گروپ کے سربراہ اریٹریا کے سفارت کار تساہگے وولڈے ماریم کا کہنا ہے کہ سردست خوف اور عدم تحفظ کی فضا میں آزادانہ طور پر طلبا کے لیے اپنی سرگرمیوں کو جاری رکھنا مشکل ہو رہا ہے۔ اُن کے مطابق افریقہ سے تعلق رکھنے والے شہریوں پر ہونے والے سابقہ حملوں میں ملوث افراد کو بھی ابھی تک انصاف کے کٹہرے میں نہیں لایا گیا۔ مبینہ نسل پرستانہ حملوں کی تازہ ترین مثال جمہوریہ کانگو سے تعلق رکھنے والے مسونڈا کتاڈا اولیور کی نئی دہلی میں آٹو رکشا کے معاملے پر تلخ گفتگو کے بعد ہونے والی ہلاکت ہے۔ اولیور کو تین بھارتیوں نے ڈنڈے مار مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ اولیور بھارت میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد ایک نجی تعلیمی ادارے میں پڑھا رہا تھا۔ بھارتی وزارت خارجہ نے اس افریقی نژاد باشندے کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت بھارت میں کئی ہزار افریقی طلبا بلاخوف و خطر اپنا تعلیمی سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بھارت کے جونیئر وزیر وی کے سنگھ اگلے دنوں میں ان سفیروں کے گروپ کے سربراہ سے ملاقات کرنے والے ہیں اور وہ اس میں افریقی طلبا کی سلامتی کو یقینی بنانے کے اقدامات کی مزید وضاحت کریں گے۔ دوسری جانب نئی دہلی کی پولیس نے کانگو کے شہری کے قتل کے سلسلے میں اب تک دو افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ تیسرے کی تلاش جاری ہے۔ پولیس نے قتل کے محرک میں نسلی تعصب کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اُدھر بھارتی کونسل برائے ثقافتی تعلقات کی جانب سے ’افریقہ ڈے‘ کی تقریبات میں بھی سفیروں کے گروپ نے شرکت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اریٹریا کے سفیر کا کہنا ہے کہ افریقی کمیونٹی مقتول اولیور کے سوگ میں ہے اور اس باعث بھارتی حکومت افریقہ ڈے کی تقریبات ملتوی کر دے۔ رواں برس جنوری میں بنگلور شہر میں ایک ہجوم نے تنزانیہ کی خاتون پر تشدد کرنے کے بعد اُس کی کار کو آگ لگا دی تھی۔ اسی طرح سن 2013 میں ساحلی شہر گوا میں ایک نائجیرین باشندے کو بھی ایک مشتعل ہجوم نے ہلاک کر دیا تھا۔ اسی واقعے کے بعد مقامی سیاستدانوں نے افریقہ کو بھارت کے لیے کینسر قرار دیا تھا۔ سن 2014 میں دہلی کی حکومت کے وزیر قانون پر بھی ایک افریقی خاتون کو ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

براعظم افریقہ کے ملکوں کے سفیروں نے کہا ہےکہ نئی دہلی میں افریقی طلبا کو عدم سلامتی کا خطرہ لاحق ہے۔ سفیروں کی جانب سے یہ بیان کانگو کے ایک ٹیچر کی مبینہ نسل پرستانہ ہلاکت کے تناظر میں دیا گیا ہے۔ بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں افریقی سفارتخانوں کے گروپ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ ہے کہ ... Read More »

ہریانہ تنازعے کے اثرات نئی دہلی تک پہنچ گئے

بھارتی ریاست ہریانہ میں جاٹ برادری کے پرتشدد مظاہروں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد دس ہو گئی ہے جب کہ اس تنازعے کی وجہ سے اتوار کے دن نئی دہلی میں پانی کی سپلائی بھی بری طرح متاثر ہو گئی ہے۔ خبررساں ادارے روئٹرز نے بھارتی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ ہریانہ کے متاثرہ علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے تاکہ روزمرہ زندگی معمول پر لائی جا سکے۔ تاہم جاٹ برادری کی طرف سے مظاہروں اور اہم سڑکوں کو بلاک کرنے کی وجہ سے اب اس تنازعے کے اثرات دارالحکومت نئی دہلی تک پہنچنا شروع ہو چکے ہیں۔ ہریانہ میں جاٹ برادری کا احتجاج صوتحال قابو سے باہر ہوتی ہوئی ’مودی حکومت اقلیتوں کے تحفظ میں ناکام‘: ہیومن رائٹس واچ بیس ملین سے زائد آبادی والے شہر نئی دہلی میں متعدد فیکٹریاں بند کر دی گئی ہیں جب کہ پیر کے دن متعدد علاقوں کے اسکولوں کو بھی بند کر دینے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ نئی دہلی کے شہری ڈھانچے میں تیزی سے پھیلاؤ کے نتیجے میں اس شہر کے ارد گرد کئی نئے میگا رہائشی پراجیکٹس شروع کیے گئے تھے، جن میں سے متعدد پانی کی فراہمی کے لیے ہریانہ پر انحصار کرتے ہیں۔ اتوار کی صبح نائب چیف منسٹر منیش سوسڈیا نے ایک ٹوئیٹ میں کہا، ’’اب پانی دستیاب نہیں ہے۔ کوئی امید نہیں کہ پانی کی سپلائی بحال ہو جائے گی۔‘‘ حکومت کی کوشش ہے کہ پانی کے اس بحران کو شدید ہونے سے بچایا جائے۔ اس لیے ہسپتالوں اور دیگر اہم مقامات پر پانی کی سپلائی کو ممکن بنانے کے لیے فوری کوششیں شروع ہو چکی ہیں۔ جاٹ برادری وفاقی اور ریاستی سطح پر یونیورسٹی میں تعلیم اور ملازمتوں کے حصول میں حکومتی مراعات کا مطالبہ کر رہی ہے۔ ریاستی حکومت کے ساتھ مذاکرات کی ناکامی کے نتیجے میں جاٹ کمیونٹی نے جمعے کے دن مظاہروں کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ پولیس کے مطابق ان مظاہرین نے سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا اور درجنوں گاڑیوں کو نذر آتش بھی کیا، جس کے بعد روہتک، بھیونی اور جھاجر نامی اضلاع میں اضافی سکیورٹی فورسز کو تعینات کر دیا گیا ہے۔ ریاستی حکومت کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ اتوار کے دن ہریانہ کے متاثر علاقوں میں نو ہزار سے زائد سکیورٹی اہلکار تعینات کیے جا چکے ہیں، جو وہاں کی صورت حال کو معمول پر لانے کی کوششوں میں ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ مظاہرین کی طرف سے کھڑی کردہ متعدد رکاوٹوں کو ہٹا دیا گیا ہے جب کہ نئی دہلی کو جانے والی اہم شاہراہ کو بھی کھول دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق نئی دہلی کو پانی کی سپلائی کی بحالی کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کی اتوار کے دن جاٹ برادری کے نمائندوں سے ملاقات بھی متوقع ہے۔ ہریانہ پولیس نے بتایا ہے کہ اس تنازعے میں دس افراد ہلاک جب کہ ایک سو پچاس کے قریب زخمی ہو چکے ہیں۔ ڈائریکٹر جنرل آف پولیس یش پال سنگھ نے روئٹرز کو بتایا، ’’ہم سازشی عناصر کی نشان دہی کرنے کی کوشش میں ہیں تاکہ ان کے خلاف فوری ایکشن لیا جا سکے۔‘‘ ہریانہ میں جاٹ برادری کی عدم اطمینانی اور خونریز مظاہروں کو بھارتیا جنتا پارٹی کے رہنما نریندر مودی کی حکومت کے لیے ایک نیا چیلنج بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اقتدار میں آنے کے بعد ملازمتوں کے مواقع بڑھانے اور اقتصادی ترقی کا نعرہ لگایا تھا۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ مودی سرکار اب تک اب اپنے دور حکومت میں وعدوں کو مکمل طور پر نبھانے میں ناکام نظر آ رہی ہے۔

بھارتی ریاست ہریانہ میں جاٹ برادری کے پرتشدد مظاہروں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد دس ہو گئی ہے جب کہ اس تنازعے کی وجہ سے اتوار کے دن نئی دہلی میں پانی کی سپلائی بھی بری طرح متاثر ہو گئی ہے۔ خبررساں ادارے روئٹرز نے بھارتی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ ہریانہ کے متاثرہ علاقوں ... Read More »

Scroll To Top