You are here: Home » Tag Archives: لندن

Tag Archives: لندن

Feed Subscription

’بریگزٹ‘، برطانيہ کی سب سے تباہ کن حقيقت

’برطانوی پارلیمان میں بریگزٹ ڈیل کی عدم منظوری کی ذمہ داری صرف وزیر اعظم ٹریزا مے پر عائد ہوتی ہے‘۔ ڈی ڈبلیو کی تبصرہ نگار باربرا ویسل کے خیال میں اس ناکامی کے بعد مے کو استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ برطانوی پارلیمان میں بریگزٹ ڈیل کی عدم منظوری کے بعد وزیر اعظم ٹریزا مے کو مستعفی ہو جانا چاہیے تھا لیکن انہوں نے کہا ہے کہ وہ برطانیہ کے یورپی یونین سے علیحدگی کو یقینی بنانے تک اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش نہیں ہوں گی۔ مے نے کہا ہے کہ یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ بریگزٹ کو یقینی بنائیں کیونکہ وہ وزیر اعظم بنائی ہی اس مقصد کے لیے گئی تھیں۔ ڈی ڈبلیو کی تبصرہ نگار باربرا ویسل کے مطابق مے کے خلاف تحریک عدم اعتماد ناکام ہو جائے گی، کیونکہ قدامت پسند اقتدار پر اپنی گرفت کمزور نہیں ہونے دیں گے۔ تاہم قدامت پسندوں کا یہ رویہ برطانوی سیاست کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ مے شکست کی مستحق تھیں باربرا ویسل کے مطابق مے کی بریگزٹ ڈیل کی ناکامی کی ذمہ دار وہ خود ہی ہیں۔ وہ لکھتی ہیں کہ بریگزٹ کا معاملہ برطانوی سیاست میں ایک تقسیم کی وجہ بن چکا ہے۔ اس تناظر میں قدامت پسندوں کی صفوں میں بھی اختلافات نمایاں ہوتے جا رہے ہیں۔ باربرا ویسل کے مطابق برطانوی پارلیمان میں بریگزٹ ڈیل کی عدم منظوری دراصل ٹریزا مے کی سیاسی نااہلیت کی غمازی کرتی ہے۔ مے نے اس تمام کہانی میں صرف اپنے قریبی ساتھیوں کو ہی سامنے رکھا اور کسی دوسرے کی ایک نا سنی۔ یوں مے اپوزیشن اور اپنی ہی پارٹی کے اندر کئی اہم دھڑوں کا اعتماد نہ جیت سکیں۔ ویسل مزید لکھتی ہیں کہ مے نے بریگزٹ ڈیل کی تیاری اور اس کی منظوری کے مرحلوں میں برطانیہ میں مقیم یورپی ورکنگ کلاس کے خلاف ایک سخت لہجہ اختیار کیا، جو دراصل بحیثت مجموعی یورپ کے خلاف ہی دیکھا گیا۔ اس طرح وہ یورپی سطح پر بھی تنہا ہو گئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مے سربراہ حکومت کے عہدے کے لائق ہی نہیں ہیں۔ ڈی ڈبلیو کی تبصرہ نگار ویسل کے مطابق مے اس مخصوص صورتحال میں برطانیہ کی ویلفیئر یا مستقبل کے حوالے سے ذمہ داری کا مظاہرہ بھی نہیں کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بریگزٹ کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ بطور سیاستدان ٹریزا مے انتہائی تنگ نظر، ضدی، چھوٹے دماغ کی مالک اور تخیلاتی طاقت سے عاری معلوم ہوتی ہیں۔ ویسل کے مطابق برطانیہ کو ایک نئے سربراہ کی ضرورت ہے۔ تاہم اپوزیشن رہنما جیرمی کوربین ابھی تک وہ مقبولیت حاصل نہیں کر سکے ہیں کہ وہ وزیر اعظم بن سکیں۔ اس تناظر میں ویسل کہتی ہیں کہ بریگزٹ کے معاملے پر کسی اچھی خبر کی کوئی ضمانت نظر نہیں آتی۔ بریگزٹ کے سلسلے میں ہونے والی اب تک کی پیشرفت نے نہ صرف یورپی یونین کے اتحاد کو نقصان پہنچایا ہے بلکہ برطانیہ کو بھی منقسم کر دیا ہے۔

’برطانوی پارلیمان میں بریگزٹ ڈیل کی عدم منظوری کی ذمہ داری صرف وزیر اعظم ٹریزا مے پر عائد ہوتی ہے‘۔ ڈی ڈبلیو کی تبصرہ نگار باربرا ویسل کے خیال میں اس ناکامی کے بعد مے کو استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ برطانوی پارلیمان میں بریگزٹ ڈیل کی عدم منظوری کے بعد وزیر اعظم ٹریزا مے کو مستعفی ہو جانا چاہیے تھا ... Read More »

لندن دہشت گردانہ حملے، چھ افراد ہلاک

لندن میں ہفتے کی شب شہر کے مرکزی علاقے میں تین حملہ آوروں نے ایک وین کے ذریعے پیدل چلنے والوں کو نشانہ بنایا اور بعد میں چاقوؤں سے حملے کیے۔ ان واقعات میں چھ افراد ہلاک جب کہ چالیس سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ یہ حملے جس مقام پر کیے گئے وہاں درجنوں بارز اور نائٹ کلب موجود ہیں اور ہفتے کی شب تفریح کے لیے اس علاقے کا رخ کرنے والوں کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ ان حملوں کے بعد مسلح پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور ان تینوں حملہ آوروں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ سکیورٹی حکام نے ان حملوں کے وقت اپنے ٹوئٹر پیغام کے ذریعے مقامی لوگوں کو ’بھاگنے، چھپ جانے اور بتانے‘ کی ہدایات جاری کی تھیں۔ یہ حملے ایک ایسے وقت میں ہوئے ہیں، جب آٹھ جون کو برطانوی عوام عام انتخابات میں اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے والے ہیں۔ اس سے صرف دو ہفتے قبل برطانوی شہر مانچسٹر میں بھی ایک امریکی پاپ گلوکار کے کنسرٹ میں شریک افراد پر ہونے والے خودکش بم حملے میں 22 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ہفتہ تین جون کو لندن میں ہونے والے اِن حملوں کی ذمہ داری فی الحال کسی گروپ یا تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔ برطانیہ کی انسدادِ دہشت گردی پولیس کے سربراہ مارک روولے نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس حملے میں چھ عام شہریوں کے علاوہ تینوں حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان تینوں حملہ آوروں کے بارے میں اندازہ لگایا گیا تھا کہ انہوں نے خودکش جیکٹیں پہن رکھی ہیں، تاہم بعد میں یہ اندازہ غلط ثابت ہوا۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی پر جاری کردہ ایک تصویر میں پولیس کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے دو مبینہ حملہ آور دکھائی دیے، جنہوں نے اپنے جسم کے ساتھ مواد باندھا ہوا تھا۔ اس حملے کے کئی گھنٹے گزر جانے کے باوجود لندن کے اس مرکزی علاقے کی ناکہ بندی جاری ہے جب کہ علاقے میں مسلح پولیس اہلکار اور انسدادِ دہشت گردی فورس کے اہکار گشت کر رہے ہیں۔ لندن ایمبولینس سروس کے مطابق واقعے کے بعد چالیس سے زائد زخمیوں کو شہر کے تین مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے، جب کہ مریضوں اور ڈاکٹروں کی حفاظت کے لیے ان تینوں ہسپتالوں کے آس پاس بھی پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ حملہ لندن کے مشہور پل اور بارو مارکیٹ کے علاقے میں پیش آیا، جہاں ہر طرف بارز اور ریستوران واقع ہیں اور ہفتے کی شب عموماﹰ یہ علاقہ لندن کے رہائشیوں سے بھرا ہوتا ہے۔

لندن میں ہفتے کی شب شہر کے مرکزی علاقے میں تین حملہ آوروں نے ایک وین کے ذریعے پیدل چلنے والوں کو نشانہ بنایا اور بعد میں چاقوؤں سے حملے کیے۔ ان واقعات میں چھ افراد ہلاک جب کہ چالیس سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ یہ حملے جس مقام پر کیے گئے وہاں درجنوں بارز ... Read More »

برطانیہ میں ایک سال کے دوران سوا تین لاکھ تارکین وطن

برطانیہ کی جانب سے جاری کیے گئے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2015ء سے مارچ 2016ء تک کے درمیانی عرصے میں ملک میں 3 لاکھ 27 ہزار غیر ملکی رہائش پذیر ہوئے۔ یہ اعداد و شمار جمعرات پچیس اگست کو برطانیہ کے قومی دفتر شماریات (او این ایس) کی جانب سے جاری کیے گئے۔ او این ایس کے مطابق جون 2015ء سے پہلے کے بارہ ماہ کے دوران ملک میں 3 لاکھ 36 ہزار تارکین وطن برطانیہ میں آباد ہوئے۔ جرمنی نے اس سال اب تک کتنے پاکستانیوں کو پناہ دی؟ جرمنی میں مہاجرین سے متعلق نئے قوانین اس سال کے اوائل میں برطانیہ کا رخ کرنے والے غیر ملکیوں کی تعداد میں معمولی کمی دیکھی گئی جس کی ایک اہم وجہ ’بریگزٹ‘ بھی ہے۔ یورپی یونین میں شامل رہنے یا نکل جانے کے بارے میں برطانوی ریفرنڈم اس برس 23 جون کے روز ہوا تھا۔ یونین سے اخراج کے حامیوں نے اپنی مہم کا مرکزی موضوع مہاجرت اور ترک وطن ہی کو رکھا تھا۔ برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے کا کہنا تھا کہ برطانوی عوام نے ریفرنڈم کے ذریعے یورپی یونین سے اخراج کا فیصلہ کر کے یہ پیغام بھی دیا ہے کہ وہ اپنے وطن میں غیر ملکی تارکین وطن کی تعداد میں کمی چاہتے ہیں۔ سابق برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ملک میں تارکین وطن کی تعداد میں کمی لائیں گے تاہم وہ اپنا وعدہ پورا نہیں کر پائے تھے۔ کیمرون کی جانشین اور موجودہ وزیر اعظم مے نے بھی ایسا ہی وعدہ کرتے ہوئے اعلان کر رکھا ہے کہ وہ برطانیہ آنے والے غیر ملکیوں کی سالانہ تعداد میں کمی کر کے یہ تعداد ایک لاکھ تک لے آئیں گی۔ لیکن یہ ممکن کیسے بنایا جائے گا اور اس ضمن میں کیا لائحہ عمل ترتیب دیا گیا ہے، اس بارے میں ٹریزا مے نے ابھی کوئی تفصیلات نہیں بتائیں۔ برطانوی دفتر شماریات کے مطابق ملک میں آنے والے تارکین وطن کی اکثریت روزگار اور ملازمت کی غرض سے برطانیہ کا رخ کرتی ہے۔ ایک سال کے دوران برطانیہ میں آباد ہونے والے تارکین وطن میں سے 1 لاکھ 80 ہزار کا تعلق یورپی یونین کی رکن ریاستوں سے تھا۔ او این ایس کا یہ بھی کہنا ہے کہ مشرقی یورپ ممالک، بلغاریہ اور رومانیہ کے شہریوں کی برطانیہ نقل مکانی میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ ان ممالک کے 61 ہزار شہری مارچ سے قبل کے ایک سال کے دوران برطانیہ میں آباد ہوئے جب کہ اس سے پچھلے سال کے اسی عرصے میں ان ممالک سے برطانیہ آنے والے تارکین وطن کی تعداد 51 ہزار رہی تھی۔ برطانوی اخبار ٹیلیگراف کے مطابق حکومت ایسے منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کے تحت برطانیہ کے یورپی یونین سے اخراج کے بعد مشرقی یورپ سے آنے والے نسبتاﹰ کم تربیت یافتہ ہنر مند افراد برطانیہ میں کام کرنے کے لیے ورک پرمٹ کے حصول کی درخواستیں دے سکیں گے۔ برطانوی وزیر اعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ چاہتی ہیں کہ یورپی یونین کی رکن ریاستوں سے تعلق رکھنے والے ایسے شہریوں کو، جو برطانیہ میں رہائش پذیر ہیں، ملک میں ہی رہنے دیا جائے۔ تاہم اس کا انحصار اس بات پر ہو گا کہ یورپی یونین سے اخراج کے بعد یونین برطانیہ کو کیا حیثیت دیتی ہے۔ ’تارکین وطن کو اٹلی سے بھی ملک بدر کر دیا جائے‘ ہمیں واپس آنے دو! پاکستانی تارکین وطن

برطانیہ کی جانب سے جاری کیے گئے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2015ء سے مارچ 2016ء تک کے درمیانی عرصے میں ملک میں 3 لاکھ 27 ہزار غیر ملکی رہائش پذیر ہوئے۔ یہ اعداد و شمار جمعرات پچیس اگست کو برطانیہ کے قومی دفتر شماریات (او این ایس) کی جانب سے جاری کیے گئے۔ او این ایس کے ... Read More »

لندن: چاقو سے حملہ، ایک خاتون ہلاک، پانچ افراد زخمی

A woman has been killed and several more people injured in a knife attack in central London's Russell Square. Police said that mental health issues or terrorism were being explored as possible reasons for the incident. One woman was fatally wounded and another five people were injured in the knife attack in London's Russell Square, which is close to the British Museum and the University of London. Police were called to Russell Square at 10.33 p.m. local time (21.33 UTC) after reports of a man seen in possession of a knife injuring people. Police used a taser gun to arrest the suspect, who officials said was aged 19. The female victim was treated at the scene but was pronounced dead a short time later. Police said mental health issues were a likely issue while not ruling out terrorism "Early indications suggest that mental health is a significant factor in this case, but we retain an open mind regarding the motive and terrorism remains one line of inquiry," police said in a statement. The condition of the other victims is not yet known. One of them is believed to be an American citizen. Extra police have been deployed in the area. London Mayor Sadiq Khan urged people to remain calm and vigilant. "I urge all Londoners to remain calm and vigilant. Please report anything to the police. We all have a vital role to play as eyes and ears for our police and security services and in helping ensure London is protected," he said in a statement. The attack came on the same day that police announced that more armed officers were to be deployed on public patrol as part of anti-terrorism plans. On July 7, 2005, as part of a coordinated Islamist attack, a bomb was detonated on a train travelling between the King's Cross St. Pancras and Russell Square underground stations, resulting in the deaths of 26 people.

برطانوی دارالحکومت لندن کے سینٹرل پارک میں چاقو سے کیے گئے ایک حملے کے نتیجے میں ایک خاتون ہلاک جبکہ دیگر پانچ افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ پولیس نے ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ واقع بدھ کو رات گئے وسطی لندن کے رسل اسکوائر میں پیش آیا۔ بتایا گیا ہے کہ ابتدائی طور پر چھ افراد ... Read More »

جائے جرم لارڈز پر پرامید پاکستان

گزرے ہوئے تلخ ماضی کی یادوں کا بوجھ ہلکا کرنے منگل کی صبح، چھ برس بعد پاکستانی کرکٹ ٹیم لارڈز کےعظیم الشان کرکٹ گراونڈ پہنچی جہاں اسے اڑتالیس گھنٹوں بعد پہلے ٹیسٹ میں میزبان انگلینڈ سے دو دو ہاتھ کرنا ہیں۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ لارڈز ٹیسٹ میچ فٹ بال کے یوروکپ، ریو اولمپکس اور بریگزٹ کی وجہ سے ماند پڑجانے والے کرکٹ کے ولایتی جوش خروش کو پروان چڑھانے کا سبب بنے گا۔ پہلے ٹیسٹ کی مقبولیت کی سب سے بڑی وجہ چوبیس سالہ پاکستانی فاسٹ باولر محمد عامر ہیں جنہوں جنہوں نے سن 2010 میں لارڈز میں اُس وقت کی ٹیم کے کپتان کے حکم پر بالنگ پارٹنر محمد آصف کے ہمراہ پیسے لیکر نو بال کیے تھے۔ عامر اب کرکٹ کے سب سے مقدس خیال کیے جانے والے مقام لارڈز پراپنا وہی پاپ دھونا چاہتے ہیں۔ آج انہیں پریکٹس کے لیے سینٹ جانز ووڈ کی زمین پر تو قدم رکھنے سے کوئی نہیں روک سکا لیکن برطانوی آسمان انکی گھات میں ہے۔ گریم سوان، کیون پیٹرسن، اسٹیو ہارمیسن سمیت نئے اور پرانے انگریز کھلاڑی عامرمخالف جذبات کو مسلسل ہوا دے رہے ہیں۔ سمرسیٹ میں اپنی طلسمی سوئنگ کی معرفت محمد عامرکو چار وکٹیں لیتا دیکھ کرانگریزی خیمے کے اوسان خطا ہوچکے ہیں۔اب انہیں نفسیاتی دباو میں لانے کے لیے اسپاٹ فکسنگ کا پرانا راگ الاپا جا رہا ہے۔ سابق انگریز آف اسپنر وک مارک کہتے ہیں کہ عامر نے اپنےآخری ٹیسٹ میں چھ وکٹیں لی تھیں۔ آج چھ سال بعد بھی بالوں کے رنگ کے سوا ان میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور انگلینڈ انکی سوئنگ کے سحر میں گرفتارہوسکتا ہے۔ مہربان لندن پاکستان نے سن 1954 کے فضل محمود والے اوول ٹیسٹ سے سن 2010 کے اوول ٹیسٹ تک انگلینڈ کی سرزمین پر ٹیسٹ کرکٹ میں جو دس فتوحات حاصل کی ہیں ان میں سے آٹھ لندن میں ملی ہیں۔ اس طرح یہ شہر پاکستان پر ہمیشہ مہربان رہا ہے ۔ سن 1982 میں پاکستان نے محسن خان کی ڈبل سینچری اور مدثر نذر کی چھ وکٹوں کے ذریعے پہلی بار لارڈز ٹیسٹ جیتا تھا۔ سن 1992 میں وسیم اکرم اور سن 1996 میں یہاں وقار یونس نے اپنا اور ٹیم کا لوہا منوایا۔ اس بار بھی پاکستان کی اصل طاقت اسکی باولنگ ہے۔ محمد عامر کے ساتھ پاکستان کے سب سے تیز رفتار باولر وہاب ریاض اور دنیا کے نمبر ایک لیگ اسپنر یاسر شاہ ہوں گے جو صرف بارہ ٹیسٹ میچوں میں چھہتر وکٹوں کی اعلیٰ کارکردگی دکھا چکے ہیں۔ یاسر شاہ ایشیا سے باہر پہلی بار ٹیسٹ کرکٹ کھیلیں گے۔ یاسر شاہ اس وقت عالمی رینکنگ میں چوتھے نمبر ہیں۔ اور دنیا کا نمبر ایک باولر بننے کےلیے انہوں نے اس سیریز میں تیزی سے ٹرن ہونیوالی ایک نئی گگلی متعارف کرانے کا بھی دعوی کیا ہے۔ کامیابیاں جھوٹی نہ تھیں اوپننگ اور لمبی ٹیل ہونے وجہ سے پاکستانی بیٹنگ پر خدشات کے بادل ہمیشہ منڈلاتے رہتے ہیں۔ انگلینڈ میں ویسے بھی رواں سیزن میں بارش کی جھڑی لگی ہوئی ہے اسلیے امکان ہے کہ یہ کم اسکور والی یا ’لواسکورنگ‘ سیریز ہوگی۔ پاکستان کی موجودہ بیٹنگ لائن اپ میں مصباح، اظہرعلی اوراسد شفیق جیسے بڑے نام شامل ہیں تاہم انکے کارنامے ایشیا سے باہر نہ ہونے کے برابر ہیں۔ مہمان ٹیم میں صرف یونس خان ایسے کھلاڑی ہیں جنہیں انگلینڈ کی سرزمین پر سینچری بنانے کا اعزاز حاصل ہے جو انہوں نے دس سال پہلے لیڈز میں اسکور کی تھی۔ تاہم سمرسیٹ اور سَسکس کے خلاف پاکستانی بیٹنگ کی تین سینچریاں اور پانچ نصف سینچریاں دیکھ کر لگتا ہے کہ وہ جیمز اینڈرسن کے بغیر لارڈز پر اترنے والی انگلش باولنگ کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ لارڈز میں ویسے بھی یہ سیزن بیٹنگ کے لیے سازگار رہا ہے اور اب تک کوئی فرسٹ کلاس میچ فیصلہ کن ثابت نہیں ہوا۔ اس لیے سردست پاکستانی بلے بازوں کے پاس سنہری موقع ہے کہ وہ ثابت کرسکیں کہ دبئی اور شارجہ میں انکی کامیابیاں جائز اور درس تھیں۔ انگلینڈ کے زخم انگلینڈ نے متحدہ عرب امارات میں گزشتہ سال پاکستان کے ہاتھوں دو صفر کی سبکی اٹھانے کے بعد حال ہی میں جنوبی افریقہ اور سری لنکا کو ٹیسٹ سیریز میں بری طرح شکست دی ہے لیکن اس ٹیم کے صف اول کے فاسٹ باولر جیمز اینڈرسن کا کندھا زخمی ہے۔ اینڈرسن نے سری لنکا کے خلاف دو ہوم ٹیسٹ میچوں میں اکیس وکٹیں دس رنز فی کس سے حاصل کی تھیں۔ انکے علاوہ مستند آل راونڈر بین اسٹاکس اور سب سے تیز باولر مارک وُوڈ بھی زخمی ہیں۔ نک کامپٹن کی مسلسل ناکامی نے انہیں کاونٹی کرکٹ سے بھی دورکر دیا ہے۔ انکی جگہ جو روٹ وَن ڈاون کھیلیں گے۔ مڈل آرڈر میں جمیز ونس اور جانی بیئرسٹو کے ساتھ گیری بیلنس کو منتخب کیا گیا ہے جنکی اپنی بیٹنگ کا حال نک کامپٹن سے مختلف نہیں۔ انگلینڈ کی باولنگ کا دورومدار اسٹوؤرٹ براڈ اور اسٹیو فن کےعلاوہ ناتجربہ کارکرس ووکس اور جیک بال پر ہوگا۔ بال لارڈز پر اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلیں گے۔ اس صورت حال میں سیریز کا نتیجہ غیرمتوقع بھی ہو سکتا ہے۔

گزرے ہوئے تلخ ماضی کی یادوں کا بوجھ ہلکا کرنے منگل کی صبح، چھ برس بعد پاکستانی کرکٹ ٹیم لارڈز کےعظیم الشان کرکٹ گراونڈ پہنچی جہاں اسے اڑتالیس گھنٹوں بعد پہلے ٹیسٹ میں میزبان انگلینڈ سے دو دو ہاتھ کرنا ہیں۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ لارڈز ٹیسٹ میچ فٹ بال کے یوروکپ، ریو اولمپکس اور بریگزٹ کی وجہ ... Read More »

بریگزٹ کے حامی جانسن، وزرت عظمیٰ کی امیدواری سے الگ

Ever the showman, Boris Johnson called it the "punchline" when he announced he could not be the person to lead the UK. A unifying figure was needed for the country, he said, and "that person cannot be me." Former London Mayor Boris Johnson surprisingly announced on Thursday that he would not be joining the five other candidates seeking leadership of the Conservative Party. With this, the presumed front-runner in the race declined even to enter it. "Having consulted colleagues and in view of the circumstances in parliament, I've concluded that person cannot be me," Johnson said in London, thanking his friends watching for their patience in waiting for the "punchline" to his speech. "My role will be to give every possible support to the next Conservative administration to make sure that we properly fulfill the mandate of the people that was delivered at the referendum and to champion the agenda that I believe in, to stick up for the forgotten people of this country," Johnson said. He called the vote to leave the EU a chance for the UK "to think globally again." His announcement came just hours after Michael Gove - thought by many to be a logical candidate to run alongside Johnson on an "all-Brexit" ticket - said he would be seeking the leadership role for himself. Gove's potential candidacy became apparent on Wednesday, when an email from his wife "accidentally" landed in the public domain. In it, Gove's partner, Sarah Vine, urged her husband to demand "SPECIFICS" from Johnson before agreeing to run alongside him. She noted that conservative media moguls like Rupert Murdoch and Paul Dacre "instinctively dislike Boris but trust your ability enough to support a Boris-Gove ticket." Rupert Murdoch - whose companies own Sky News and multiple UK daily papers - had congratulated Gove in February on his decision to betray his close personal friend Cameron and support "Leave." On announcing his intentions earlier on Thursday, Gove said that Johnson "cannot provide the leadership for the task ahead." Populist turned part-pariah Johnson, the colorful former classmate of still-Prime Minister David Cameron at private school Eton College and then Oxford University, became the Leave campaign's most prominent supporter in the UK's EU referendum. He was criticized, however, for taking a side based on personal gain, with opponents pointing out that as recently as February, he had questioned the sense of holding an EU referendum at all. In the aftermath of the surprise Brexit vote, Johnson had come in for further criticism, as he seemed to shy away from the limelight, occasionally appearing to issue reassurances that flew in the face of developments on the stock markets and currency exchange rates. His decision not to run elicited similar derision. Johnson's political ambitions have been apparent since school. He was Eton's "Captain" and later the president of the Oxford Union debating society at university - both honors that evaded a young David Cameron. The two young Conservatives were also members of Oxford's notorious "Bullingdon Club," the upper-crust cabal of students known for rowdy evenings out at high-class restaurants. A now-famous image of the Bullingdon Club's class of 1987, featuring both Johnson and Cameron in the group's hyper-formal uniform, has become a photo both Conservatives would likely love to see stricken from the record. Michael Gove, Theresa May, Stephen Crabb, Liam Fox and Andrea Leadsom will contest the Conservative Party leadership - with a winner currently expected by September 9.

لندن کے سابق میئر بورس جانسن نے کہا ہے کہ وہ رخصت ہونے والے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کی جانشینی کے امیدوار نہیں ہوں گے۔ جانسن ا‌ُن سیاستدانوں میں شامل تھے، جنہوں نے بریگزٹ مہم کی قیادت کی تھی۔ کنزرویٹیو پارٹی سے تعلق رکھنے والے بورس جانسن نے 23 جون کو منعقد ہونے والے ریفرنڈم کے لیے یورپی یونین سے ... Read More »

لندن: ہزاروں جابز خاتمے کے دہانے پر

بریگزٹ کے فیصلے کے بعد لندن مالیاتی مرکز کینری وارف میں بینکوں اور سود کے نشے میں سرشار بینکرز کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ رفتہ رفتہ اس علاقے میں قائم بڑے بڑے مالیاتی اداروں اور بینکوں میں ایک لاکھ کے قریب ملازمتیں ختم ہونے کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔ یورپی یونین کی مالیاتی منڈی میں داخلے کے لیے اب تک لندن کا مالیاتی مرکزی علاقہ کینری وارف ہی ’پاسپورٹنگ‘ کے لیے بروئے کار لایا جانے والا واحد علاقہ تھا۔ یعنی اسی علاقے سے تمام بڑے بینک اور مالیاتی ادارے یورپ کی دیگر ریاستوں کے ساتھ مالیاتی کاروبار چلایا کرتے تھے۔ خاص طور سے امریکی اور سوئس بینک تمام یورپ کومالیاتی خدمات لندن کے اس مرکز کے ذریعے ہی فراہم کیا کرتے تھے۔ اس کا فائدہ ان ممالک کو یہ تھا کہ انہیں محض برطانوی مالیاتی قوانین و ضوابط کا خیال رکھنا پڑتا تھا اور اس طرح یہ براعظم یورپ کے سخت قوانین کے پابند نہیں تھے۔ امریکی سرمایہ کاری بینکوں کے لیے یہ اس اعتبار سے بھی خوش آئند اور آسان راستہ تھا کہ انہیں براعظم یورپ کے دیگر ممالک کے سخت ’ایمپلوئمنٹ پروٹیکشن لاء‘ یا روزگار کے تحفظ کے سخت قوانین کے تحت تحفظ فراہم نہیں کرنا پڑتا تھا بلکہ یہ برطانیہ کے قدرے نرم قوانین اپنائے ہوئے تھے۔ مثال کے طور پر مشہور زمانہ امریکی انویسٹمنٹ بینک ’گولڈمن سیکس‘ یا ’جے پی مورگن چیز‘ جرمن یا فرانسیسی ’ایمپلوئمنٹ پروٹیکشن لاء‘ سے بچنے کے لیے لندن میں مورچہ بند رہے ہیں۔ بریگزٹ کے بعد یہ ساری صورتحال اب شاید باقی نہ رہ پائے۔ مستقبل میں جب برطانیہ یورپی یونین کا رُکن نہیں رہے گا، تب لندن شہر کے پاس موجود یورپی یونین کے مالیاتی مارکیٹ کا یہ ’پاسپورٹ‘ بھی باقی نہیں رہے گا۔ یہ بات فرانسیسی مرکزی بینک کے سربراہ اورای سی بی گورننگ کونسل کے رُکن فرانسوا ویلوری گالہاؤ ریڈیو’فرانس انٹر‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہہ چُکے ہیں۔ کوئی بھی سنجیدگی سے یہ توقع نہیں کر رہا کہ ایک مختصر وقت کے اندر اندر روزگار کے ہزاروں مواقع لندن سے فرینکفرٹ، پیرس یا ڈبلن منتقل ہو جائیں گے۔ اس کے باوجود لندن اب امریکا کے مالیاتی شعبے یا سوئس بینکوں کے لیے یورپی یونین کے مورچے کے طورکوئی خاص اہمیت کا حامل شہر نہیں رہا ہے۔ یورپی یونین کے مالیاتی استحکام کے کمشنر جوناتھن ہِل کے بقول یورپی یوین سے برطانیہ کے اخراج کے بعد یورپی مالیاتی پالیسی مزید ’یورپ محوری‘ پر مبنی ہو گی۔ دریں اثناء جرمن بینک ’ڈوئچے بنک‘ کے سی ای او ژون کریان نے کہا ہے کہ اُن کے بینک کی لندن شاخ کی 8000 جابز یا آسامیوں کا ایک حصہ سب سے پہلے فرینکفرٹ منتقل ہوگا۔ فرینکفرٹ ام مائنز میں قائم ایک پریشر گروپ جو ویب سائٹ کے ذریعے اپنے ہم خیال افراد کو اپنی طرف راغب کرنے کا کام سرانجام دیتا ہے اور اس کا کام حکومتی پالیسیوں پر دباؤ بڑھانا ہے، کے مینیجنگ ڈائرکٹر ہوبرٹُس فیتھ کے مطابق گزشتہ مہینوں کے دوران بہت سی بین الاقوامی کمپنیوں نے فرینکفرٹ سے رابطہ کیا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق آئندہ پانچ برسوں کے اندر لندن کے مالیاتی اداروں کی جابز کا ڈیڑھ سے دو فیصد فرینکفرٹ منتقل ہو جائے گا۔ اس کا مطلب ہوا روزگار کی کم از کم 10 ہزار آسامیاں جرمن شہر فرینکفرٹ ام مائنز میں پائی جائیں گی۔

بریگزٹ کے فیصلے کے بعد لندن مالیاتی مرکز کینری وارف میں بینکوں اور سود کے نشے میں سرشار بینکرز کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ رفتہ رفتہ اس علاقے میں قائم بڑے بڑے مالیاتی اداروں اور بینکوں میں ایک لاکھ کے قریب ملازمتیں ختم ہونے کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔ یورپی یونین کی مالیاتی منڈی میں داخلے کے لیے ... Read More »

بریگزٹ سائنس و تحقیق کا شعبہ ڈوب جائے گا

برطانیہ میں یورپی یونین سے ممکنہ اخراج کے نقصانات سے آگاہ کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ پہلے مختلف سیاستدانوں نے یہ کام کیا، پھر تاجروں اور سرمایہ کاروں نے ڈرایا اور اب سائنس دان بھی اس میدان میں اتر آئے ہیں۔ نوبل انعام حاصل کرنے والی تیرہ برطانوی شخصیات نے ایک کھلے خط میں یورپی یونین سے نکلنے کی صورت میں ہونے والی پیچیدگیوں سے خبردار کیا ہے۔ اس خط میں لکھا گیا ہے کہ اگر برطانیہ اس اتحاد سے نکل جاتا ہے تو اس سے سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے کو ملنے والی یورپی امداد بھی بند ہو جائے گی، جس سے اس شعبے کے لیے مشکلات کا ایک پہاڑ کھڑا ہو جائے گا۔ اس خط کے مطابق ایسا ہونے کی صورت میں اس میدان میں برطانیہ کے پچھے رہ جانے کا خدشہ ہے، ایسے میں مہارت تک رسائی محدود ہو جائے اور اس شعبے میں برطانیہ کا اثر رسوخ بھی کم ہو جائے گا۔ اخبار ڈیلی ٹیلی گراف میں شائع ہونے والے اس خط میں زور دے کر کہا گیا ہے کہ تحقیق کے لیے دی جانے والی یورپی امداد انتہائی ضروری ہے۔ ان شخصیات کے مطابق یہ خیال کرنا انتہائی بچگانہ ہے اور خود کو مطمئن کرنا ہے کہ لندن حکومت فوری طور پر فنڈز کو بحال کرنے میں کامیاب ہو جائے گی، ’’ ہم ایک جزیرہ ہو سکتے ہیں لیکن سائنس کے میدان میں ہم جزیرہ نہیں رہ سکتے۔ یورپی یونین میں شامل رہنا برطانیہ اور برطانیہ کے سائنس و تحقیق کے شعبے دونوں کے لیےسود مند ہے‘‘۔ خط لکھنے والوں میں ماہر طبیعات پیٹر ہگس اور بائیو کیمسٹری کے ماہر پاؤل نرس بھی شامل ہیں۔ برطانیہ میں 23 جون کو یورپی یونین میں رہنے یا نکلنے کے بارے میں ایک ریفرنڈم ہو رہا ہے۔ تازہ ترین جائزوں کے مطابق ابھی بھی برطانوی عوام اس موضوع پر تقسیم دکھائی دیتی ہے۔ نصف اس کے حق میں جبکہ نصف مخالف ہیں۔ اس سے قبل کئی سیاستدان،سابق فوجی افسران اور تاجر برداری عوام پر واضح کر چکی ہے کہ برطانیہ یورپی یونین میں رہ کر ہی زیادہ بااثر، زیادہ محفوظ اور زیادہ خوشحال و کامیاب ہو سکتا ہے۔ عالمی مالیاتی ادارہ، اقتصادی تعاون و ترقی کی یورپی تنظیم اور بینک آف انگلینڈ بھی انخلاء کی صورت میں مالیاتی شعبے کو ہونے والے شدید نقصان سے خبردار کر چکے ہیں۔ برطانیہ کے یورپی یونین سے اخراج یا ’ بریگزٹ‘ کے حق میں سب سے زیادہ لندن کے سابق میئر بورس جانسن پیش پیش ہیں۔

برطانیہ میں یورپی یونین سے ممکنہ اخراج کے نقصانات سے آگاہ کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ پہلے مختلف سیاستدانوں نے یہ کام کیا، پھر تاجروں اور سرمایہ کاروں نے ڈرایا اور اب سائنس دان بھی اس میدان میں اتر آئے ہیں۔ نوبل انعام حاصل کرنے والی تیرہ برطانوی شخصیات نے ایک کھلے خط میں یورپی یونین سے نکلنے کی صورت ... Read More »

بےسہارا شامی بچوں کو پناہ دیں گے: کیمرون

برطانوی وزیراعظم نے ایسے شامی بچوں کو پناہ دینے کا کہا ہے، جو بغیر والدین کے بےسہارا ہیں۔ اِن بچوں کی برطانیہ آمد سے متعلق تفصیلات ڈیوڈ کیمرون نے ملکی پارلیمنٹ میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے بتائیں۔ برطانوی پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں یا دارالعوام میں وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے ایک سوال کی وضاخت کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسے بچوں کو اپنے ملک میں داخل ہونے کی اجازت دینے کے لیے تیار ہیں جو بے سہارا اور بغیر والدین کے ہیں۔ مبصرین کے مطابق کیمرون حکومت کا یہ ایک طرح کا یُو ٹرن ہے کیونکہ اُسے اگلے ہفتے پارلیمنٹ میں شامی بچوں کی زبوں حالی پر ہونے والی بحث کے دوران اراکینِ پارلیمنٹ کی سخت مخالفت اور تنقید کا سامنا ہو سکتا ہے۔ دارالعوام میں ڈیوڈ کیمرون نے یہ بھی کہا کہ مختلف شہروں کی مقامی انتظامیہ کے ساتھ رابطوں کے ذریعے یہ بھی معلوم کیا جائے گا کہ ایسے شامی بچوں کی بحالی کے لیے اُن کی حکومت کو مزید کیا کچھ کرنا ہو گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ ایک حساس معاملہ ہے اور اِس کو اِس انداز میں لے کر آگے نہیں بڑھنا ہو گا کہ شام سے لوگ ایک خطرناک سفر پر اپنے بچوں کو روانہ کرنا شروع کر دیں۔ اپنے اِس بیان میں برطانوی وزیراعظم نے واضح نہیں کیا کہ وہ کس تعداد میں بچے اپنے ہاں لینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ لندن حکومت کے ایک اور وضاحتی بیان میں بتایا گیا کہ یونان، اٹلی اور فرانس سے بے سہارا بچوں کو حاصل کیا جائے گا۔ اِس بیان کے مطابق یورپی یونین کی مہاجرین و پناہ گزینوں کی ڈیل کے تحت بیس مارچ سے قبل رجسٹر کروائے گئے مہاجرین میں سے ایسے بچے لینے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ برطانوی وزیراعظم کوحالیہ ایام میں تمام ملکی سیاسی جماعتوں نے شامی بچوں کو سہارا دینے کے معاملے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اِس تنقید میں اُن کی کنزرویٹو پارٹی بھی شامل ہے۔ برطانیہ یورپی یونین کی مہاجرین کی آباد کاری کے جامع منصوبے میں شریک نہیں ہے۔ برطانوی پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا یعنی دارالامراء میں اپوزیشن جماعت لیبر پارٹی کے سینیئر رہنما ایلف ڈبز کو حالیہ دنوں میں سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے خاصی پذیرائی حاصل ہوئی ہے اور اِس کی وجہ اُن کی جانب سے امیگریشن قوانین میں ترمیم کا بل ہے۔ اِس بل میں کہا گیا ہے کہ مہاجر کیمپوں سے کم از کم تین ہزار بچوں کو لا کر برطانیہ میں ملکی قوانین کے تحت پناہ دی جائے۔ الف ڈبز سن 1939 میں چھ برس کی عمر میں نازی جرمنی سے فرار ہو کر برطانیہ پہنچے تھے۔ انہیں ’کنڈر ٹرانسپورٹ‘ نامی ایک پروگرام کے تحت برطانیہ لایا گیا تھا۔ اسی پروگرام کے تحت ہز اروں یہودی بچوں کو پناہ دی گئی تھی۔

برطانوی وزیراعظم نے ایسے شامی بچوں کو پناہ دینے کا کہا ہے، جو بغیر والدین کے بےسہارا ہیں۔ اِن بچوں کی برطانیہ آمد سے متعلق تفصیلات ڈیوڈ کیمرون نے ملکی پارلیمنٹ میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے بتائیں۔ برطانوی پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں یا دارالعوام میں وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے ایک سوال کی وضاخت کرتے ہوئے کہا کہ وہ ... Read More »

نمونیے کی دوا کی قیمت کم کی جائے

طبی امداد کے بین الاقوامی ادارے نے نمونیے کی دوا کی قیمت میں کمی کی اپیل کی ہے۔ ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز نے دوا کی قمیت میں کمی کی پٹیشن پر ہزار ہا لوگوں کے دستخط کروائے ہیں۔ یہ پٹیشن بین الاقوامی دوا ساز ادارے فائزر کو پیش کی گئی ہے۔ ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز کی جانب سے ہزاروں دستخطوں والی پٹیشن میں دوا ساز ادارے سے استدعا کی گئی ہے کہ غریب بچوں کے لیے نمونیے سے بچنے کی مدافعتی ویکسین بہت مہنگی ہے لہذا اِس میں رعایت کی جائے۔ اِس پٹیشن نے امریکی دوا ساز ادارے سے کہا ہے کہ وہ ضرورت مند بچوں کو فراہم کی جانے والی ویکسین کی قیمت کو کم کرتے ہوئے پانچ ڈالر مقرر کر دے۔ ایسی ہی ایک اور پٹیشن گلیکسو اسمتھ کلائن کو بھی پیش کی گئی ہے کیونکہ یہ بھی نمونیے سے مدافعت کی ویکسین تیار کرتی ہے۔ فائزر کمپنی کا ہیڈکوارٹر امریکی شہر نیویارک میں واقع ہے جبکہ گلیکسو اسمتھ کلائن کا صدر دفتر برطانوی دارالحکومت لندن میں قائم ہے۔ فائزر کمپنی کی ویکسین کی قیمت دس ڈالر ہے اور لندن میں واقع دوا ساز ادارے کی ویکسین نو ڈالر میں دستیاب ہے۔ امریکی کمپنی کو پٹیشن ایسے وقت میں پیش کی گئی ہے جب آج اٹھائیس اپریل سے اُس کے حصہ داروں کی میٹنگ شروع ہونے والی ہے۔ آج کل نمونیے سے بچاؤ کی ویکسین رعایتی قیمت پر پچپن ملکوں میں دستیاب ہے، ان ملکوں کو یہ ویکسین ترقی یافتہ اور امیر ملکوں کے فراہم کردہ خصوصی فنڈ سے حاصل کر کے تقسیم کی جاتی ہے۔ اِس تقسیم کی نگرانی ایک ادارہ گلوبل آلائنس برائے ویکسین اور امیونائزیشن کرتا ہے۔ رعایتی قیمت پر ویکسین جن پچپن ملکوں کو فراہم کی جاتی ہے، ان میں پاکستان، کینیا اور میانمار بھی شامل ہیں۔ ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز کے مطابق دنیا بھر میں ایسے انتہائی غریب خطے موجود ہیں جو ویکسین خریدنے کی استطاعت نہیں ہے۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق نمونیا بخار کی لپیٹ میں آ کر دنیا بھر میں نو لاکھ بیس ہزار بچے ہلاک ہو جاتے ہیں۔ ڈاکٹرز وِدآؤٹ بارڈرز کے ترجمان گریگ ایلڈر کا کہنا ہے کہ فائزر اور جی ایس کے نے ویکسین کے لیے قیمت زیادہ رکھی ہوئی ہے اور لاکھوں بچے عدم دستیابی کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ اس پٹیشن کے جواب میں فائزر دوا ساز ادارے کا کہنا ہے کہ اُس کی دوا میں قیمتی اجزا استعمال ہونے کے علاوہ ایک معقول وقت میں تیار ہوتی ہے اور اِس تناظر میں قیمت جائز ہے۔ کمنپی کے مطابق ایک خوراک کے لیے تقریباً ڈھائی برس کا عرصہ درکار ہوتا ہے اور ایک وقت میں کئی ریسرچر اِس عمل میں مصروف رہتے ہیں۔

طبی امداد کے بین الاقوامی ادارے نے نمونیے کی دوا کی قیمت میں کمی کی اپیل کی ہے۔ ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز نے دوا کی قمیت میں کمی کی پٹیشن پر ہزار ہا لوگوں کے دستخط کروائے ہیں۔ یہ پٹیشن بین الاقوامی دوا ساز ادارے فائزر کو پیش کی گئی ہے۔ ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز کی جانب سے ہزاروں دستخطوں ... Read More »

Scroll To Top