You are here: Home » Tag Archives: سعودی عرب

Tag Archives: سعودی عرب

Feed Subscription

سعودی عرب پر دباؤ، يورپ کے ساتھ تعلقات پيچيدہ ہونے کا امکان

سعودی عرب کا نام ايسے ملکوں کی فہرست ميں شامل کر ليا گيا ہے، جن ميں دہشت گرد عناصر کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کے انسداد کے ليے ناکافی اقدامات کیے جا رہے ہيں۔ آئندہ ہفتے اس فہرست اور مسودے کو حتمی شکل دے دی جائے گی۔ يورپی کميشن نے سعودی عرب کو ان ملکوں کی فہرست کے مسودے ميں شامل کر ليا ہے جن ميں منی لانڈرنگ اور دہشت گرد عناصر کی مالی معاونت کے انسداد کے ليے کنٹرول اور اقدامات ناکافی ہيں۔ دو مختلف ذرائع نے اس پيش رفت کی تصديق جمعے کی شب کی۔ فہرست ميں شامل ملکوں کو يورپی بلاک کی سلامتی کے ليے خطرہ قرار ديا جاتا ہے۔ فہرست کے مسودے ميں اس وقت سولہ ممالک شامل ہيں اور اسے بنيادی طور پر فنانشل ايکشن ٹاسک فورس (FATF) کی بنيادوں پر ہی تشکيل ديا گيا ہے۔ يہ فہرست اور اس کا مسودہ فی الحال عام نہيں کيا گيا ہے۔ يورپی کميشن نے سن 2017 ميں منظور شدہ نئے قوائد و ضوابط کے تحت ايسے ملکوں کی فہرست ميں اضافہ کيا ہے۔ صحافی جمال خاشقجی کے ترک شہر استنبول ميں واقع سعودی قونصل خانے ميں قتل کے بعد سے رياض حکومت پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ اس تناظر ميں سعودی عرب کافی تنقيد کی زد ميں ہے۔ رياض حکومت ملکی معيشت کو بہتر بنانے کے ليے بيرونی سرمايہ کاروں کو راغب کرنا چاہتی ہے تاہم يہ تازہ پيش رفت ايسی کوششوں کے ليے بھی ايک دھچکہ ہے۔ فی الحال عرب نے اس پر کوئی رد عمل ظاہر نہيں کيا ہے۔ يورپی کميشن کی جانب سے سعودی عرب کو اس فہرست ميں شامل کيے جانے سے ايک طرف تو رياض حکومت کی ساکھ متاثر ہو گی تو دوسری طرف اس کے نتيجے ميں اقتصادی و مالی روابط بھی پيچيدہ ہو جائيں گے۔ يورپی يونين کے رکن ممالک کو مالی سودوں ميں رقوم کی ادائیگی و وصولی پر نگرانی بڑھانا پڑے گی۔ يہ امر اہم ہے کہ اس قدم کی ابھی يونين کے اٹھائيس رکن ممالک سے توثيق باقی ہے، جس کے بعد آئندہ ہفتے اس پر باقاعدہ طور پر عملدرآمد شروع ہو جائے گا۔ يورپی کميشن نے سن 2017 ميں منظور شدہ نئے قوائد و ضوابط کے تحت سعودی عرب کا نام اس فہرست ميں شامل کيا ہے۔ برسلز ميں ايک اور يورپی اہلکار نے اپنا نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتايا کہ چند ديگر ملکوں کا نام بھی آئندہ کچھ ايام ميں اس فہرست ميں شامل کيا جائے گا۔ يورپی کميشن کے ايک ترجمان نے البتہ اس بارے ميں بات کرنے سے انکار کر ديا اور ان کا کہنا تھا کہ فی الحال يہ فہرست حتمی نہيں ہے۔ اس فہرست ميں جن ملکوں کے نام شامل ہوتے ہيں، ان ميں منی لانڈرنگ اور دہشت گرد عناصر کی مالی معاونت کے انسداد کے ليے اقدامات ميں نقص ہوتے ہيں اور جو يورپی يونين کے معاشی نظام کے ليے خطرہ ثابت ہو سکتے ہيں

سعودی عرب کا نام ايسے ملکوں کی فہرست ميں شامل کر ليا گيا ہے، جن ميں دہشت گرد عناصر کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کے انسداد کے ليے ناکافی اقدامات کیے جا رہے ہيں۔ آئندہ ہفتے اس فہرست اور مسودے کو حتمی شکل دے دی جائے گی۔ يورپی کميشن نے سعودی عرب کو ان ملکوں کی فہرست کے مسودے ... Read More »

’چند ممالک سعودی لڑکيوں کو بغاوت پر اکسا رہے ہيں‘

سعودی عرب کی حمايت يافتہ ايک تنظيم نے متعدد ممالک پر الزام عائد کيا ہے کہ وہ نوجوان سعودی لڑکيوں کو اپنے اہل خانہ کو چھوڑ کر فرار ہونے کی ترغيب ديتے ہيں۔ سعودی نيشنل سوسائٹی فار ہيومن رائٹس (NSHR) کے سربراہ مفلح القحتانی نے الزام عائد کيا ہے کہ چند ممالک اور تنظيميں اپنے سياسی مقاصد کے حصول کے ليے لڑکيوں کو انجان راستوں پر دھکيل ديتے ہيں جن کے نتيجے ميں وہ انسانوں کے اسمگلروں کے چنگل ميں بھی پھنس سکتی ہيں۔ القحتانی نے يہ بيان اتوار کی شب ديا۔ اس تنظيم کے سربراہ نے اپنے بيان ميں کسی بھی ملک يا تنظيم کا نام نہيں ليا البتہ وہ امکاناً اٹھارہ سالہ رہف محمد القنون کے حوالے سے ہونے والی پيش رفت کے تناظر ہی ميں بات کر رہے تھے۔ يہ امر اہم ہے کہ انسانی حقوق کے حوالے سے سعودی عرب کا ريکارڈ کچھ زيادہ اچھا نہيں۔ صحافی جمال خاشقجی کے ترک شہر استنبول ميں سعودی قونصل خانے ميں پچھلے سال قتل کے بعد رياض حکومت کی ساکھ کو اور بھی زيادہ نقصان پہنچا ہے۔ پھر يمن کی متنازعہ جنگ ميں بھی سعودی عسکری اتحاد کی کارروائياں عالمی سطح پر تنقيد کی زد ميں ہيں۔ نيشنل سوسائٹی فار ہيومن رائٹس کا دعوی ہے کہ وہ ايک آزاد تنظيم ہے ليکن امريکی محکمہ خارجہ اسے حکومت کی جانب سے فراہم کردہ فنڈنگ سے چلنے والی ايک تنظيم مانتی ہے۔ تنظيم کے سربراہ کے تازہ بيان ميں کہا گيا ہے کہ اسے اس بات پر کافی حيرت ہے کہ کس طرح چند رياستيں منحرف سعودی لڑکيوں کو اپنے خاندانی اقدار سے بغاوت پر اکسا رہی ہيں اور پھر انہيں ’پناہ‘ فراہم کی جا رہی ہے۔ القحتانی نے مزيد کہا کہ سعودی قوانين خواتین کے ساتھ بد سلوکی کو روکتے ہيں اور ايسی صورت ميں انہيں يہ اختيار بھی ہوتا ہے کہ وہ اس بارے ميں شکايت درج کرائيں۔ تاہم کئی سعودی عورتوں کا کہنا ہے پوليس سے رابطہ کرنا، ان کے ليے خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔ القنون پچھلے ہفتے کے روز کينيڈا پہنچيں، جہاں ميزبان ملک کی وزير خارجہ کرسٹيا فری لينڈ نے ان کا استقبال کيا۔ يہ امر اہم ہے کہ اوٹاوا حکومت اور رياض حکومت کے مابين پہلے ہی کشيدگی پائی جاتی ہے جس کی وجہ پچھلے سال کينيڈا کی جانب سے سعودی عرب ميں زير حراست انسانی حقوق کے کارکنان کی فوری رہائی کا مطالبہ تھا۔ اس پر رياض حکومت نے کينيڈا سے اپنے سفير کو واپس طلب کر ليا تھا اور کينيڈا ميں مقيم اپنے ملک کے تمام شہريوں سے واپس آنے کا بھی کہہ ديا تھا۔

سعودی عرب کی حمايت يافتہ ايک تنظيم نے متعدد ممالک پر الزام عائد کيا ہے کہ وہ نوجوان سعودی لڑکيوں کو اپنے اہل خانہ کو چھوڑ کر فرار ہونے کی ترغيب ديتے ہيں۔ سعودی نيشنل سوسائٹی فار ہيومن رائٹس (NSHR) کے سربراہ مفلح القحتانی نے الزام عائد کيا ہے کہ چند ممالک اور تنظيميں اپنے سياسی مقاصد کے حصول کے ... Read More »

جمال خاشقجی ہاتھا پائی کے نتیجے میں ہلاک ہوئے، سعودی اعتراف

رياض حکومت نے بالآخر يہ تسليم کر ليا ہے کہ سعودی حکومت کے ناقد صحافی خاشقجی استنبول ميں سعودی قونصل خانے ميں ہلاک ہوئے اور اس سلسلے ميں متعدد اعلی اہلکاروں کو گرفتار بھی کر ليا گيا ہے۔ رياض حکومت کی جانب سے خاشقجی کی ہلاکت کے بارے ميں وضاحت ہفتے انيس اکتوبر کی شب سامنے آئی۔ ابتدائی تفتيش کے نتائج کی روشنی ميں اٹھارہ سعودی اہلکاروں کو حراست ميں لے ليا گيا ہے جبکہ دو اعلی اہلکاروں کو ان کے عہدوں سے برطرف بھی کر ديا گيا ہے۔ سعودی اٹارنی جنرل نے سعود المجيب نے بتايا کہ خاشقجی قونصل خانے کے عملے کے چند ارکان کے ساتھ بات چيت کے دوران جھگڑ پڑے، جو ان کی موت کا سبب بنا۔ انہوں نے مزيد تفصيلات نہيں بتائيں اور نہ ہی خاشقجی کی لاش کے بارے ميں کوئی اطلاع دی۔ سعودی حکومت کے ناقد صحافی جمال خاشقجی دو اکتوبر سے لاپتہ ہيں۔ انہيں آخری مرتبہ استنبول ميں واقع سعودی قونصل خانے جاتے ہوئے ديکھا گيا تھا۔ ترک ميڈيا پر نشر کردہ رپورٹوں ميں آڈيو ريارڈنگ کے ذرائع سے يہ دعوی کيا گيا تھا کہ خاشقجی کو قونصل خانے ميں سعودی ايجنٹس کی ايک ٹيم نے قتل کر کے لاش کو ٹھکانے لگا ديا۔ معاملے پر امريکا اور يورپی قوتوں کی جانب سے رياض حکومت پر وضاحت کے ليے زور بڑھا تو بالآخر يہ سعودی موقف سامنے آيا۔ امريکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’واشنٹگن پوسٹ‘ کے ليے لکھنے والے صحافی خاشقجی کی موت کے حوالے سے سعودی وضاحت کو ’قابل بھروسہ‘ قرار ديتے ہوئے کہا ہے کہ يہ وضاحت ايک اہم اقدام ہے۔ انہوں نے واضح کيا کہ وہ رياض حکومت کو اسلحے کی فروخت پر پابندی عائد نہيں کريں گے۔ دوسری جانب امريکا کے چند سينيٹرز نے سعودی وضاحت کو مسترد کر ديا ہے۔ ری پبلکن سينيٹر اور سينيٹ کی خارجہ امور کی کميٹی کے چيئرمين باب کورکر کے بقول انہيں سعودی وضاحت کے قابل بھروسہ ہونے پر شک ہے کيونکہ وہ خود کئی دن تک يہ کہتے رہے تھے کہ خاشقجی قونصل خانے سے چا چلے گئے تھے۔ کورکر کے مطابق خاشقجی کے حوالے سے سعودی عرب کا موقف يوميہ بنيادوں پر تبديل ہو رہا ہے۔ سينيٹر لنڈسے گراہم نے بھی سعودی موقف پر شکوک و شبہات کا اظہار کيا ہے۔

رياض حکومت نے بالآخر يہ تسليم کر ليا ہے کہ سعودی حکومت کے ناقد صحافی خاشقجی استنبول ميں سعودی قونصل خانے ميں ہلاک ہوئے اور اس سلسلے ميں متعدد اعلی اہلکاروں کو گرفتار بھی کر ليا گيا ہے۔ رياض حکومت کی جانب سے خاشقجی کی ہلاکت کے بارے ميں وضاحت ہفتے انيس اکتوبر کی شب سامنے آئی۔ ابتدائی تفتيش کے ... Read More »

نواز شریف کا دورہ سعودی عرب، ملک میں چہ میگوئیاں شروع

سابق وزیرِ اعظم نوازشریف کی آج نیب عدالت میں عدم پیشی اور سعودی عرب میں ان کی شاہی خاندان کے افراد سے ملاقاتوں نے ملک میں ایک بار پھر این آر او یا کسی ممکنہ معاہدے کی افواہوں کو ہوا دی ہے۔ نیب نے نواز شریف کی عدم حاضری پر آج ان کے قابلِ ضمانت وارنٹِ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔ یہ وارنٹ کرپشن کے مقدمات کے سلسلے میں جاری کیے گئے ہیں۔ نواز شریف کے خاندان نے آج بھی پیشی کے بعد مقدمات کے اندراج پر تنقید جاری رکھی۔ نواز شریف کے داماد کیپٹن (ر) صفدر نے کہا کہ یہ زیادتی نواز شریف کے خلاف نہیں ہو رہی بلکہ ایک نظریے کے خلاف ہو رہی ہے۔ نوازشریف کی عدم حاضری اور ان کے دورہء سعودی عرب کے حوالے سے ملک میں چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں۔ واضح رہے کہ نواز شریف کے صاحبزادے حسن نواز نے اس تاثر کو غلط قرار دیا تھا کہ نواز شریف سعودی عرب سے پاکستان واپس نہیں آئیں گے اور یہ دعویٰ کیا تھا کہ سابق وزیرِ اعظم پاکستان آئیں گے۔ لیکن نواز شریف آج نہ ہی پاکستان آئے اور نہ ہی عدالت میں پیش ہوئے۔ نواز شریف کے وارنٹ گرفتاری جاری کئی سیاسی مبصرین کے خیال میں سابق وزیرِ اعظم اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان کوئی ڈیل ہو رہی ہے۔ پی ٹی آئی کے ایک رہنما کے بیان نے اس طرح کی باتوں کو مزید ہوا دی ہے۔ ملتان میں ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے رہنما اسد عمر نے کہا،’’نواز شریف کے لئے پاکستان میں وہ جگہ ہے، جس کا میں نام بھی نہیں لینا چاہتا۔ نواز شریف فیصلہ کر لیں کہ وہ سعودی عرب جانا چاہتے ہیں یا کہیں اور۔‘‘ روزنامہ ڈان نے بھی آج اپنی ایک رپورٹ میں دعوی کیا ہے کہ میاں صاحب کی سعودی عرب میں شاہی خاندان کے افراد سے ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ تاہم مسلم لیگ نون کا دعویٰ ہے کہ نہ ہی کوئی ڈیل ہو رہی ہے اور نہ ہی ان ملاقاتوں کا کسی ڈیل سے کوئی تعلق ہے۔ شریف خاندان میں بڑھتے ہوئے اختلافات پارٹی کی رہنما اور رکن پنجابِ اسمبلی عظمیٰ بخاری نے ان ملاقاتوں کے حوالے سے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’میاں صاحب اور ان کے گھرانے کے سعودی عرب کے شاہی گھرانے کے افراد سے دیرینہ تعلقات ہیں۔ کلثوم نواز صاحبہ کی طبعیت خراب ہے اور سعودی شاہی گھرانے کے افراد نے اسی سلسلے میں میاں صاحب سے ملاقاتیں کیں ہیں۔ ان ملاقاتوں کا ڈیل ویل سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ صرف کچھ لوگوں کے ذہن کی اختراع ہے۔‘‘ نواز، مریم اور صفدر پر فردِ جرم عائد: کیا یہ سیاسی انتقام ہے؟ انہوں نے کہا جو لوگ ڈیل کا دعوی کر رہے ہیں ۔ وہ ذرا تفصیلا ت بھی ہمیں بتادیں،’’اگر ہم ڈیل کر رہے ہیں تو اس کا دوسرا فریق کون ہے۔ اس بات کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے۔ میاں صاحب کوئی ڈیل نہیں کر رہے۔ وہ مقدمات کا سامنا کریں گے اور بیگم صاحبہ کی طبیعت بہتر ہونے پر ملک بھی واپس آئیں گے۔‘‘ معروف تجزیہ نگار ڈاکڑ خالد جاوید جان کے خیال میں اس موقع پر ڈیل شاید مشکل ہو لیکن پاکستان میں کچھ بھی ہوسکتا ہے، ’’کیونکہ میاں صاحب نے یمن کے مسئلے پر سعودی عرب کو بہت سخت ناراض کیا تھا۔ سعودی حکمرانوں کو یہ امید نہیں تھی کہ میاں صاحب یمن کے مسئلے پر ان کا ساتھ نہیں دیں گے۔ اس ناراضگی کی وجہ سے انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعاون کیا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے اس حوالے سے میاں صاحب کی مدد نہیں کی لیکن یہ امکان موجود ہے کہ میاں صاحب کے ایک بار پھر سعودی حکمرانوں سے تعلقات بہتر ہو جائیں اور وہ ان کی مد د کریں۔ تاہم یہ مدد فوری طور پر نہیں آئے گی۔ میرے خیال میں میاں صاحب کو انتظار کے لئے کہا گیا ہے۔ اسی لئے وہ سعودی عرب سے واپس برطانیہ چلے گئے اور یہاں نہیں آئے۔‘‘

سابق وزیرِ اعظم نوازشریف کی آج نیب عدالت میں عدم پیشی اور سعودی عرب میں ان کی شاہی خاندان کے افراد سے ملاقاتوں نے ملک میں ایک بار پھر این آر او یا کسی ممکنہ معاہدے کی افواہوں کو ہوا دی ہے۔ نیب نے نواز شریف کی عدم حاضری پر آج ان کے قابلِ ضمانت وارنٹِ گرفتاری جاری کر دیے ... Read More »

’آرمی چیف کا دورہ امریکی دباؤ کم کرانے کی کوشش کا حصہ تھا‘

پاکستانی آرمی چیف نے متحدہ عرب امارات کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کی اور بعد میں قمر باجوہ سعودی عرب پہنچے جہاں انہوں نے ایک کانفرنس میں شرکت کی اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کی۔ پاکستان میں سیاسی مبصرین کے لیے یہ بات باعثِ حیرت ہے کہ اس دورے کے حوالے سے دفترِ خارجہ کا کوئی بیان نہیں آیا۔ کئی تجزیہ نگاروں کے خیال میں یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب افغانستان میں امن کے حوالے سے چار ملکوں کا اجلاس حال ہی میں ہوا ہے اور اسلام آباد پر ڈُو مور کے لیے واشنگٹن سے دباؤ آرہا ہے۔ لیکن کچھ تجزیہ نگاروں کے خیال میں اس دورے کو ایران مخالف ماحول کے پسِ منظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ معروف تجزیہ نگار عائشہ صدیقہ کے خیال میں پاکستان کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے اہم ارکان سے کوئی براہ راست رابطہ نہیں ہے، تو اسلام آباد ایسے لوگوں کی مدد چاہتا ہے جو امریکی دباؤ کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوں یا پاکستانی حکومت اور امریکا کے درمیان تعلقات اور رابطوں کی بہتری میں کوئی کردار ادا کر سکیں۔ اس دورے پر اپنی رائے دیتے ہوئے انہوں نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’میرے خیال میں اس دورے کو پاک امریکا تعلقات کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ ٹرمپ کے حالیہ بیان پر ہم نے بہت شادیانے بجائے، جس میں اس نے پاکستان کی تعریف کی تھی لیکن ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ پہلے امریکی پالیسی تھی کیرٹ اینڈ اسٹک اب اس کا الٹا ہوگا۔ اب پہلے امریکا ڈنڈا دکھائے گا اور بعد میں کوئی تعاون کی بات کرے گا۔ اسلام آباد کا ٹرمپ سے براہ راست کوئی رابطہ نہیں لیکن سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، متحدہ عرب امارات کے رہنما اور افغان صدر کے امریکی رہنما سے اچھے تعلقات اور روابط ہیں۔ اس لیے آرمی چیف نے پہلے افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات کی اور انہیں کچھ یقین دہانیاں کرائیں اور اب وہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے رہنماؤں سے ملے ہیں تاکہ یہ رہنما اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان رابطوں کو بہتر بنانے میں مدد کریں، جس کا مقصد بنیادی طور پر امریکی دباؤ کو کم کرانا ہے۔‘‘ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’سعودی عرب کے ایران اور قطر کے ساتھ سیاسی تنازعات چل رہے ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ قطر میں کوئی سیاسی تبدیلی سعودی آشیر باد کے ساتھ آجائے ۔ تو ریاض ممکنہ طور پر یہ چاہتا ہے کہ ان تنازعات میں پاکستان، جو اپنے جوہری اثاثوں کی وجہ سے ریاض کے لیے انتہائی ہے، سعودی حکمرانوں کے ساتھ ہو۔‘‘ لیکن تجزیہ نگار احسن رضا کے خیال میں اس دورے کو سعودی ایران تعلقات کے حوالے سے دیکھا جا نا چاہیے اور اس کا امریکا سے کوئی خاص تعلق نہیں ہے۔ اس دورے پر اپنی رائے دیتے ہوئے احسن رضا نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’مشرقِ وسطیٰ میں ایران مخالف فضاء ایک بار پھر پیدا ہورہی ہے۔ امریکا نے ایران پر پابندیاں لگائی ہیں اور اس کو سعودی عرب نے سراہا بھی ہے۔ اب ان پابندیوں کے بعد ریاض خطے کے دوسرے ممالک کو بھی ایران کےحوالے سے اپنا ہمنوا بنا رہا ہے تاکہ اگر کوئی ایران مخالف اقدام ہو تو اس کو کئی ممالک کی حمایت حاصل ہو۔‘‘

پاکستانی آرمی چیف نے متحدہ عرب امارات کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کی اور بعد میں قمر باجوہ سعودی عرب پہنچے جہاں انہوں نے ایک کانفرنس میں شرکت کی اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کی۔ پاکستان میں سیاسی مبصرین کے لیے یہ بات باعثِ حیرت ہے کہ اس دورے کے حوالے سے دفترِ خارجہ کا کوئی ... Read More »

اوپیک کی تیل کی پیداوار میں ممکنہ کمی، فائدہ روس کو ہو گا

تیل برآمد کرنے والے ملکوں کی تنظیم اوپیک کی یومیہ پیداوار میں ممکنہ کمی کا فائدہ روس کو ہو گا، جس کی اپنی پیداوار پہلے ہی ریکارڈ حد تک زیادہ ہے لیکن جسے عالمی منڈیوں میں بہت کم قیمتوں کے باعث شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ اس موضوع پر روسی دارالحکومت ماسکو سے نیوز ایجنسی اے ایف پی نے اتوار ستائیس نومبر کو اپنی ایک مفصل رپورٹ میں لکھا ہے کہ روس کا المیہ یہ ہے کہ اس کی تیل کی یومیہ پیداوار تو ریکارڈ حدوں کو چھو رہی ہے لیکن اس کو دستیاب مالی وسائل مسلسل کم ہو رہے ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ روس ان ملکوں میں شامل ہے، جو اپنے سالانہ بجٹ کے لیے مجموعی مالی وسائل کا بہت بڑا حصہ تیل اور گیس کی برآمد سے حاصل کرتے ہیں۔ دوسری طرف اوپیک کے رکن ممالک کی کوشش یہ ہے کہ وہ بین الاقوامی منڈیوں میں تیل کی مسلسل بہت کم قیمتوں کو سنبھالا دینے کے لیے اپنی پیداوار کچھ کم کر دیں کیونکہ اگر رسد کم ہو گی تو طلب زیادہ ہو گی اور یوں قیمتیں بھی بڑھیں گی۔ اوپیک ممالک نے ابھی تک اپنی مجموعی یومیہ پیداوار میں کمی کا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ لیکن اگر ایسا کوئی فیصلہ کیا گیا، تو اس میں روس کا، جو کہ اوپیک کا رکن نہیں ہے، کوئی نقصان نہیں ہو گا۔ بلکہ ماسکو کو تو الٹا اس کا فائدہ ہی ہو گا۔ یعنی اگر عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بڑھیں گی، تو ماسکو کو برآمدی تیل سے ہونے والی آمدنی بھی بڑھے گی۔ اس تناظر میں ماسکو کی کوشش ہے کہ تیس نومبر آئندہ بدھ کے روز آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں اوپیک کے وزرائے تیل کا جو اجلاس ہو گا، اس میں بالآخر یہ طے پا ہی جانا چاہیے کہ یہ تنظیم اپنی تیل کی پیداوار میں کمی کر دے گی۔ روس ویانا میں اپنا یہ مقصد اس لیے بھی حاصل کرنا چاہتا ہے کہ اسی سلسلے میں اوپیک کا اس سال موسم بہار میں دوحہ میں ہونے والا ایک اجلاس ناکام رہا تھا۔ اس اجلاس میں کوئی اتفاق رائے تو نہیں ہو سکا تھا بلکہ رکن ملکوں کے مابین اختلاف رائے مزید کھل کر سامنے آ گیا تھا۔ روس سعودی عرب اور امریکا کی طرح دنیا میں تیل پیدا اور برآمد کرنے والے بہت بڑے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ سعودی عرب تو اوپیک کا رکن ہے لیکن روس کی طرح امریکا بھی اس تنظیم میں شامل نہیں ہے۔ ماسکو اب تیل برآمد کرنے والے ’حریف‘ ملکوں کی طرف سے پیداوار میں کمی کا خواہش مند اس لیے بھی ہے کہ ایک تو اس نے گزشتہ دو برسوں کے دوران تیل کی بین الاقوامی منڈیوں میں قیمتوں کے بہت کم رہنے کی وجہ سے اقتصادی حوالے سے اس کی بہت بڑی قیمت چکائی ہے اور دوسرے یہ کہ یوکرائن کے تنازعے کے باعث مغربی دنیا کی طرف سے روس کے خلاف عائد کردہ پابندیاں بھی ماسکو کے لیے اقتصادی مشکلات کا باعث بنی ہیں۔ ان حالات میں روس کو مالیاتی حوالے سے اپنے لیے زیادہ آمدنی کا امکان اس بات میں نظر آتا ہے کہ اوپیک اگر اپنی پیداوار میں ممکنہ کمی پر اتفاق کر سکتی ہے تو روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے ابھی گزشتہ ہفتے ہی کہہ دیا تھا کہ روس، جس کی تیل کی پیداوار اس وقت ریکارڈ حد تک زیادہ ہے، اپنی یومیہ پیداوار میں کوئی کمی نہیں کرے گا بلکہ زیادہ سے زیادہ وہ اپنی پیداوار کو اس کی موجودہ سطح پر ہی منجمد کر دے گا۔

تیل برآمد کرنے والے ملکوں کی تنظیم اوپیک کی یومیہ پیداوار میں ممکنہ کمی کا فائدہ روس کو ہو گا، جس کی اپنی پیداوار پہلے ہی ریکارڈ حد تک زیادہ ہے لیکن جسے عالمی منڈیوں میں بہت کم قیمتوں کے باعث شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ اس موضوع پر روسی دارالحکومت ماسکو سے نیوز ایجنسی اے ایف پی نے اتوار ... Read More »

شمالی نائجیریا میں ایران اور سعودی عرب کی مداخلت

شمالی نائجیریا سعودی عرب اور ایران کی ’پراکسی جنگ‘ کا تازہ ترین میدان بن گیا ہے۔ اس علاقے میں ان دو ممالک کے حامیوں کے درمیان شدید جھڑپیں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔ عزالہ تحریک سے تعلق رکھنے والے افراد، جن کی پشت پر سعودی عرب ہے، نے گزشتہ ماہ اسلامک موومنٹ اِن نائجیریا (آئی ایم این) کے حمایتیوں پر حملہ کیا تھا۔ آئی ایم این کا جھکاؤ شیعہ اکثریتی ملک ایران کی طرف ہے۔ گزشتہ ماہ عاشورہ کے موقع پر شمالی نائجیریا کے چار شہروں میں آئی ایم این کی مجالس پر عزالہ کی جانب سے حملے کیے گئے تھے۔ ان حملوں میں آئی ایم این کے کم از کم دو کارکن ہلاک بھی ہو ئے تھے۔ عزالہ کے گڑھ کادونا میں کئی روز تر شدید لڑائی جاری رہی تھی۔ عینی شاہدین کے مطابق مشتعل سنی ہجوم دو روز تک لوٹ مار کرتے رہے اور ’’مزید شعیہ نہیں چاہییں‘‘ کے نعرے بلند کرتے رہے۔ مسلم اکثریتی ملک نائجیریا میں فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ خاص طور پر کادونا میں صورت حال انتہائی خراب ہے۔ علاقے کی حکومت آئی ایم این کو سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے اسے غیر قانونی تنظیم قرار دے چکی ہے۔ زاریہ شہر میں گزشتہ برس دسمبر کے مہینے میں جھڑپیں ہوئی تھیں، جس میں حکومتی فوجیوں نے آئی ایم این کے تیس سو کارکنوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ دسمبر کے واقعات اور حالیہ جھڑپوں کو ماہرین شمالی نائجیریا میں سعودی عرب اور ایران کے درمیان ’پراکسی وار‘ یا اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی خاطر شیعہ اور سنی تنظیموں کو اپنے مفاد میں استعمال کرنے کی جنگ قرار دے رہے ہیں۔ لبنان، یمن اور شام میں یہ ’پراکسی وار‘ کافی عرصے سے دیکھی جا رہی ہے، اور اب یہ کشمکش نائجیریا میں بھی نمایاں ہو رہی ہے۔ زاریہ کی یونی ورسٹی سے وابستہ سیاسی امور کے ماہو ابوبکر صادق محمد کا اس حوالے سے کہنا ہے، ’’یہ حقیقت ہے کہ سعودی عرب کئی ممالک میں شیعہ شکن تحریکوں کی معاونت کر رہا ہے۔ اگر نائجیریا میں شیعہ مسلمانوں پر حملوں میں اضافہ ہوتا ہے تو ظاہر ہے تہران ان کی امداد کرے گا اور ریاض اس کے برعکس کارروائی کرے گا۔‘‘ مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کے کئی ممالک کے علاوہ جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا کے مسلم اکثریتی ملکوں میں ایران اور سعودی عرب کے اثر و رسوخ کی جنگ جاری ہے۔ پاکستان بھی کئی دہائیوں سے اس صورت حال کا شکار ہے۔

شمالی نائجیریا سعودی عرب اور ایران کی ’پراکسی جنگ‘ کا تازہ ترین میدان بن گیا ہے۔ اس علاقے میں ان دو ممالک کے حامیوں کے درمیان شدید جھڑپیں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔ عزالہ تحریک سے تعلق رکھنے والے افراد، جن کی پشت پر سعودی عرب ہے، نے گزشتہ ماہ اسلامک موومنٹ اِن نائجیریا (آئی ایم این) کے حمایتیوں پر ... Read More »

سعودی عرب کے لیے ایک ارب ڈالر کے امریکی ٹینک، مشین گنیں

امریکا نے سعودی عرب کو ایک ارب ڈالر سے زائد مالیت کے ٹینکوں، مشین گنوں اور دیگر فوجی ساز و سامان کی ممکنہ فروخت کی منظوری دے دی ہے۔ یمنی تنازعے کے پس منظر میں اس دفاعی سمجھوتے کی مجموعی مالیت 1.15 بلین ڈالر بنتی ہے۔ واشنگٹن سے موصولہ نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے بتایا کہ اس ڈیل کے تحت امریکا سعودی عرب کو 153 ٹینک، 100 سے زائد مشین گنیں اور کئی طرح کا دوسرا عسکری ساز و سامان فراہم کرے گا۔ پینٹاگون کا یہ اعلان تقریباﹰ اسی وقت کیا گیا جب یہ خبریں سامنے آئیں کہ سعودی عرب کی قیادت میں قائم عسکری اتحاد نے قریب پانچ ماہ کے وقفے کے بعد حوثی شیعہ باغیوں کے خلاف کارروائیاں کرتے ہوئے یمنی دارالحکومت صنعاء پر اپنے فضائی حملے دوبارہ شروع کر دیے ہیں۔ جنگی طیاروں سے کیے جانے والے یہ فضائی حملے یمنی تنازعے کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کی ناکامی کے بعد بحال کیے گئے تھے، جو یمنی ذرائع کے بقول پہلے ہی روز 14 عام شہریوں کی ہلاکت کا سبب بنے تھے۔ انہی حملوں کے سلسلے میں کئی ماہ کے وقفے کے بعد صنعاء کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ بھی کم ازکم تین دن کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔ امریکی محکمہ خارجہ کی خاتون ترجمان الزبتھ ٹروڈو نے صنعاء پر نئے اتحادی فضائی حملوں میں تازہ شہری ہلاکتوں پر گہری تشویش کا اظہار تو کیا لیکن اس سوال پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا کہ آیا واشنگٹن میں وزارت خارجہ کو اس بارے میں بھی کوئی تشویش ہے کہ سعودی عرب کو بیچے جانے والے ہتھیار داخلی طور پر یا بیرونی ممالک میں عام شہریوں کے خلاف بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ اس بارے میں امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی ترجمان ٹروڈو نے کہا، ’’ہم باقاعدگی سے دنیا بھر میں اپنے پارٹنر اور اتحادی ملکوں سے اس حوالے سے بات چیت کرتے رہتے ہیں کہ شہری ہلاکتیں ہمارے لیے ظاہر ہے کہ گہری تشویش کی وجہ بنتی ہیں۔‘‘ امریکا کی ڈیفنس سکیورٹی کوآپریشن ایجنسی کے مطابق اس ڈیل کے تحت ریاض کو 133 امریکی ٹینک مہیا کیے جائیں گے، جنہیں خاص طور پر سعودی عرب کی عسکری ضروریات کے مطابق ڈھالا گیا ہو گا۔ دیگر ساز و سامان میں مختلف بور کی سینکڑوں مشین گنیں اور دھوئیں والے گرینیڈ فائر کرنے کے لیے استعمال ہونے والے لانچر بھی شامل ہیں۔ واشنگٹن میں محکمہ خارجہ کے مطابق ڈی ایس سی اے نے اس ڈیل کی منظوری دیتے ہوئے اس بارے میں امریکی کانگریس کو باقاعدہ طور پر مطلع کر دیا ہے۔ اے ایف پی نے لکھا ہے کہ اس ڈیل کے بارے میں تفصیلات بتاتے ہوئے پینٹاگون کی طرف سے یمنی تنازعے کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔

امریکا نے سعودی عرب کو ایک ارب ڈالر سے زائد مالیت کے ٹینکوں، مشین گنوں اور دیگر فوجی ساز و سامان کی ممکنہ فروخت کی منظوری دے دی ہے۔ یمنی تنازعے کے پس منظر میں اس دفاعی سمجھوتے کی مجموعی مالیت 1.15 بلین ڈالر بنتی ہے۔ واشنگٹن سے موصولہ نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق امریکی محکمہ ... Read More »

یمن میں حوثی باغیوں کے زیر تسلط علاقوں پر سعودی فضائی حملے

یمن میں باغیوں کے زیر تسلط علاقوں میں سعودی عرب کے زیر قیادت فوجی اتحاد نے سلسلہ وار فضائی حملے کیے ہیں۔ گزشتہ روز ہی اقوام متحدہ کے ذریعے ہونے والے یمن امن مذاکرات کسی نتیجے کے بغیر ختم ہو گئے تھے۔ کم از کم آٹھ فضائی حملے حوثی باغیوں کا گڑھ سمجھے جانے والے شمالی صوبے صعدہ میں کیے گئے تاہم مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں ہلاکتوں کی اطلاعات نہیں ہیں۔ اتحادی طیاروں نے سعودی عرب کی سرحد کے قریب شمال مغربی یمنی صوبے حاجہ میں بھی حوثی باغیوں اور ان کے اتحادیوں کی تنصیبات پر بمباری کی ہے۔ حاجہ کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اتحادی طیاروں کی بمباری نے باغیوں کےفوجی ساز وسامان کو تباہ کر دیا ہے۔ دوسری جانب حوثی نواز نشریاتی ادارے المسیراح نے خبر دی ہے کہ نجران اور جیزان کے سعودی سرحدی قصبوں میں آج ہونے والے باغیوں کے حملوں میں سعودی اہلکاروں کی نامعلوم تعداد ہلاک ہوئی ہے۔ گزشتہ روز یمن کے لیے اقوام متحدہ کے مندوب اسماعیل اولد شیخ احمد نے رواں سال کویت میں شروع ہونے والے یمن امن مذاکرات کے خاتمے کا اعلان کیا تھا۔ شیخ احمد نے اعلان کیا تھا کہ امن مذاکرات کا دور ایک ماہ کے عرصے میں دوبارہ شروع کیا جائے گا تاہم جگہ کا تعین ابھی باقی ہے۔ دوسری جانب یمنی حکومت کی طرف سے مذاکرات کاروں نے کہا ہے کہ مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ انہوں نے مذاکرات میں تعطل کے لیے شیعہ باغیوں کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ یمن تنازعے میں مارچ سن 2015 سے شدت آئی تھی جب ایران کے اتحادی باغیوں نے عدن کے جنوبی شہر کی جانب پیش قدمی شروع کر دی تھی۔ جس کے بعد ہی سعودی عرب اور اس کے سنی اتحادیوں نے یمن میں اس گروپ کے خلاف فضائی حملوں کا آغاز کر دیا تھا۔ سعودی عرب کو خطرہ ہے کہ حوثی باغی اس کے روایتی حریف شیعہ اکثریتی ملک ایران کو جزیرہ نما عرب میں اپنے قدم جمانے میں مددگار ہو سکتے ہیں۔

یمن میں باغیوں کے زیر تسلط علاقوں میں سعودی عرب کے زیر قیادت فوجی اتحاد نے سلسلہ وار فضائی حملے کیے ہیں۔ گزشتہ روز ہی اقوام متحدہ کے ذریعے ہونے والے یمن امن مذاکرات کسی نتیجے کے بغیر ختم ہو گئے تھے۔ کم از کم آٹھ فضائی حملے حوثی باغیوں کا گڑھ سمجھے جانے والے شمالی صوبے صعدہ میں کیے ... Read More »

یمنی حکومت نے اقوام متحدہ کا امن معاہدہ منظور کر لیا

حکومت نے اتوار کے روز بتایا کہ اس نے ملک میں جاری خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے اقوام متحدہ کا تجویز کردہ امن معاہدہ قبول کر لیا ہے۔ باغیوں کی جانب سے اب تک یہ تصدیق نہیں کی گئی کہ آیا انہوں نے بھی اس معاہدے کی حمایت کی ہے۔ معاہدے کی منظوری سے متعلق اعلان ریاض میں ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا، جس کی سربراہی سعودی حمایت یافتہ یمنی صدر منصور ہادی نے کی۔ اجلاس کے بعد جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا گیا، ’’اجلاس میں اقوام متحدہ کی جانب سے پیش کردہ ایک قرارداد کے مسودے پر اتفاق ہو گیا ہے، جس کے بعد تنازعے کے حل اور صنعاء سے باغیوں کے انخلاء کا راستہ ہم وار ہو گیا ہے۔‘‘ کویت میں یمن کی طرف سے مذاکراتی وفد میں شامل وزیر خارجہ عبدالمالک المخلافی کا کہنا ہے کہ انہوں نے اقوام متحدہ کو ایک خط ارسال کر دیا ہے، جس میں یمن کی طرف سے ’کویت معاہدے‘ کی منظوری دے دی گئی ہے۔ المخلافی نے البتہ یہ ضرور کہا کہ معاہدے پر اطلاق کی ایک شرط یہ ہے کہ سابق صدر علی عبداللہ صالح کے حامی حوثی باغی سات اگست تک معاہدے پر دستخط کریں۔ باغیوں کی جانب سے اب تک اس معاہدے کے بارے میں کوئی تصدیق سامنے نہیں آئی۔ فیصلہ کن مذاکرات سترہ جولائی کو اقوام متحدہ کے خصوصی مندوب اسمٰعیل شیخ نے یمن میں برسر پیکار متحارب فریقین پر زور دیا تھا کہ وہ مذاکرات کو سنجیدگی سے لیں۔ یمن کے تنازعے کو حل کرنے کے لیے دوبارہ بات چیت کا آغاز دو ہفتے قبل ہوا تھا۔ اس سے پندرہ روز قبل یمنی حکومت کے نمائندوں نے مذاکرات کا بائیکاٹ کر دیا تھا۔ اقوام متحدہ کے مندوب کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں زور اس بات پر تھا کہ یمن کے شیعہ حوثی باغی اور صدر منصور ہادی کے نمائندے جنگ بندی کے معاہدے پر مکمل طور پر عمل کریں۔ یمن میں گیارہ اپریل سے جنگ بندی کا معاہدہ نافذ ہے تاہم فریقین اس کی کثرت سے خلاف ورزی کرتے رہتے ہیں۔ پراکسی وار حوثی باغی یمن میں اب بھی طاقت ور ہیں حالاں کہ سعودی عرب اور اُس کے اتحادی یمن پر فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان حملوں کی ابتدا گزشتہ برس چھبیس مارچ کو ہوئی تھی۔ اس فضائی کارروائی میں سعودی عرب کو اپنے خلیجی اتحادیوں کی حمایت بھی حاصل ہے۔ امریکا اور برطانیہ بھی سعودی عرب کی کارروائی کی تائید کر چکے ہیں۔ ریاض کے مطابق ان حملوں کا مقصد یمن میں ایران نواز شیعہ حوثی باغیوں کی ملک میں بڑھتی ہوئی پیش قدمی کو روکنا اور ملک پر صدر منصور ہادی کا کنٹرول بحال کرانا ہے۔ یمن کی اس جنگ کو خطے کے بعض دیگر ممالک کی طرح ایران اور سعودی عرب کی علاقائی بالادستی کی جنگ یا ’پراکسی وار‘ بھی قرار دیا جاتا ہے۔

حکومت نے اتوار کے روز بتایا کہ اس نے ملک میں جاری خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے اقوام متحدہ کا تجویز کردہ امن معاہدہ قبول کر لیا ہے۔ باغیوں کی جانب سے اب تک یہ تصدیق نہیں کی گئی کہ آیا انہوں نے بھی اس معاہدے کی حمایت کی ہے۔ معاہدے کی منظوری سے متعلق اعلان ریاض میں ہونے ... Read More »

Scroll To Top