You are here: Home » Tag Archives: خواتین

Tag Archives: خواتین

Feed Subscription

کوئٹہ میں خواتین کے عملے پر مشتمل پہلا ریسٹورنٹ

حمیدہ علی ہزارہ کا تعلق کوئٹہ کی ہزارہ کمیونٹی سے ہے۔ حقوق نسواں کی علمبردار اس خاتون نے کوئٹہ شہر میں ایک ایسے ریسٹورنٹ کا آغاز کیا ہے، جس میں زیادہ تر عملہ خواتین پر مشتمل ہے۔ حمیدہ علی نے کوئٹہ سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ جہاں وہ رہتی ہیں وہاں عورتوں کا گھروں سے نکلنا عام نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا،’’ بہت سی عورتوں کو گھر وں سے باہر جانے کی اجازت نہ تھی، میں چاہتی تھی کہ عورتوں کو گھروں کی دیواروں سے باہر نکالوں اور انہیں اپنے پاؤں پر کھڑا کروں۔‘‘ حمیدہ نے تین ماہ قبل کوئٹہ کے ہزارہ ٹاؤن میں ’ہزارہ ریسٹورنٹ‘ کا آغاز کیا تھا۔ حمیدہ بتاتی ہیں کہ اس کاروبار کا آغاز کرنا ان کے لیے آسان نہ تھا۔ انہوں نے بتایا،’’ میں کافی عرصے سے پیسے جمع کر رہی تھی۔ مجھے دھمکیاں بھی دی گئیں۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ اس کام کے بجائے عورتوں کے لیے چندہ جمع کر لیتی۔ کچھ نے کہا کہ کسی مسجد یا امام بارگاہ میں بیٹھ جاتی۔کچھ نے کہا کہ عورت کا کاؤنٹر پر بیٹھنا ’بے غیرتی‘ ہے۔‘‘ حمیدہ کہتی ہیں کہ انہوں نے ہمت نہ ہاری اور اس منصوبے کو پایہء تکمیل تک پہنچایا۔ ہزارہ ریسٹورنٹ میں کل سات خواتین کام کر رہی ہیں، جو کھانا پکاتی بھی ہیں اور گاہکوں کو کھانا پیش بھی کرتی ہیں۔ حمیدہ نے بتایا کہ انہوں نے اشیائے خورد ونوش خریدنے کے لیے دو مردوں کو ملازمت دی ہوئی ہے۔ کیا عورتیں ان کے ساتھ کام کرنے پر آسانی سے تیار ہو گئی تھیں ؟ اس سوال جواب دیتے ہوئے حمیدہ نے کہا، ’’عورتوں کو سہارا چاہیے تھا۔ اب یہ خواتین گھر سے باہر نکل کر کام کر رہی ہیں۔ جو گاہک کھانا کھانے آتے ہیں، وہ حیران ہوتے ہیں اور انہیں یقین نہیں آتا کہ اس جگہ صرف خواتین نہیں بلکہ مرد بھی کھانا کھانے آسکتے ہیں۔‘‘ حمیدہ نے بتایا کہ یہاں خانسامہ خواتین مختلف طرح کے کھانے پکاتی ہیں۔ اس ریسٹورنٹ کی سب سے زیادہ پسند کی جانی والی ڈش ہزارہ کمیونٹی کی روایتی ڈش ’آعش‘ ہے۔ اس کھانے میں آٹے کے نوڈلز کے ساتھ دالیں، لوبیا، پالک اور دہی ڈالا جاتا ہے۔ یہ ہزارہ کی ایک ایسی خاص ڈش ہے، جسے بہت سے لوگ پسند کرتے ہیں۔ حمیدہ بتاتی ہیں کہ کچھ ایسے واقعات پیش آئے جب لوگوں نے یہاں کام کرنے والی خواتین کی بہت حوصلہ افزائی کی اور کھانا پیش کرنے والی خواتین کو زیادہ ٹپ بھی دی۔ لیکن ان خواتین کو مشکل حالات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حمیدہ نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’کھانا پیش کرنے والی خواتین کو تلخ جملے بھی سننے کو ملے ہیں۔ کچھ گاہکوں نے کہا کہ تم عورتوں کے گھروں کے مرد ’بے غیرت‘ ہیں جنہوں نے اپنے گھروں کی عورتوں کو گھر سے باہر بھیجا ہے۔‘‘ ہزارہ ریسٹورنٹ میں خواتین گاہک بھی بہت شوق سے آتی ہیں۔ حمیدہ نے ڈی ڈبلیو کو بتایا،’’بہت سی عورتیں جو شام میں خریداری کرنے بازار آتی ہیں وہ اکثر ہمارے ریسٹورنٹ میں آجاتی ہیں۔ اسی طرح طالبات بھی اپنی سہیلیوں کے ساتھ یہاں دیر تک بیٹھنا پسند کرتی ہیں۔‘‘ حمیدہ کوئٹہ میں ’حرمت نسواں فاؤنڈیشن‘ بھی چلاتی ہیں اور عورتوں کی کھیلوں میں شمولیت، تعلیم اور صحت کے حوالے سے کام بھی کرتی ہیں۔ حمیدہ نے ڈی ڈبلیو سے اپنی جدوجہد کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’جب تک آپ خود قدم نہیں بڑھائیں گی تو کوئی آپ کا ساتھ نہیں دے گا۔‘‘ حمیدہ کہتی ہیں کہ آپ کے لیے مسائل پیدا کیے جائیں گے لیکن، ’’ اگر ہم پر عزم رہیں، تو سب کچھ حاصل کرنا ممکن ہے۔‘‘

حمیدہ علی ہزارہ کا تعلق کوئٹہ کی ہزارہ کمیونٹی سے ہے۔ حقوق نسواں کی علمبردار اس خاتون نے کوئٹہ شہر میں ایک ایسے ریسٹورنٹ کا آغاز کیا ہے، جس میں زیادہ تر عملہ خواتین پر مشتمل ہے۔ حمیدہ علی نے کوئٹہ سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ جہاں وہ رہتی ہیں وہاں عورتوں کا ... Read More »

خاتون کا گینگ ریپ، بچی کا قتل: تین میں سے ایک ملزم گرفتار

بھارت میں ایک نوجوان خاتون کے گینگ ریپ اور اس کی شیر خوار بچی کے قتل کے تین ملزمان میں سے ایک کوگرفتار کر لیا گیا ہے۔ ملزمان نے اجتماعی جنسی زیادتی کے دوران اس خاتون کی نو ماہ کی بیٹی کو چلتے رکشے سے باہر پھینک دیا تھا۔ بھارتی دارالحکومت نئی دہلی سے بدھ سات جون کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق یہ خوفناک جرم بھارت میں خواتین کے خلاف جنسی جرائم کے بہت پریشان کن واقعات کے سلسلے کی تازہ ترین کڑی تھا، جس میں ایک نوجوان خاتون کو، جس کی عمر انیس بیس سال کے قریب ہے، ایک چلتے رکشے میں تین افراد نے گینگ ریپ کیا تھا۔ اس جرم کے ارتکاب کے دوران ملزمان نے اس خاتون کی ایک شیر خوار بچی کو، جس کی عمر صرف نو ماہ تھی، چلتے رکشے سے باہر پھینک دیا۔ یہ بچی سر پر لگنے والی شدید چوٹوں کی وجہ سے موقع پر ہی انتقال کر گئی تھی۔ ماں کا گینگ ریپ، رکشے سے باہر پھینکی گئی نو ماہ کی بچی ہلاک بھارتی خاتون کا ’آٹھ سال تک ریپ کرنے والے‘ پنڈت سے انتقام بھارت میں جرمن خاتون سیاح کا ریپ، ملزمان مفرور یہ واقعہ نئی دہلی کے مضافات میں ریاست ہریانہ کے علاقے گڑگاؤں میں انتیس مئی کو رات گئے اس وقت پیش آیا تھا، جب یہ خاتون اپنی شیر خوار بچی کے ہمراہ گڑگاؤں میں ہی اپنے والدین کے گھر جا رہی تھی۔ حملے کا نشانہ بننے والی نوجوان خاتون کی شکایت پر مقدمہ درج کیے جانے کی تصدیق پولیس نے کل منگل چھ جون کو کی تھی۔ گڑگاؤں کے پولیس کمشنر سندیپ کھیرواڑ نے بدھ کے روز کہا، ’’متاثرہ خاتون نے بتایا تھا کہ اس کے ساتھ رکشا ڈرائیور اور رکشے میں پہلے سے سوار دو مردوں نے اجتماعی جنسی زیادتی کی تھی، اور اپنے دفاع میں مزاحمت کرنے پر ملزمان نے اس کی نو ماہ کی بیٹی کو اس کی گود سے چھین کر چلتے رکشے سے باہر پھینک دیا تھا۔‘‘ پولیس کمشنر کے مطابق، ’’ہم نے منگل کی رات مشتبہ ملزمان کے خاکے جاری کر دیے تھے۔ اب تک ان تین میں سے ایک ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ باقی دو کی تلاش جاری ہے۔‘‘ گڑگاؤں کے پولیس کمشنر نے صحافیوں کو بتایا کہ باقی ماندہ دونوں ملزمان کی تلاش کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور انہیں بھی جلد ہی گرفتار کر لیا جائے گا۔ نئی دہلی میں ہر چار گھنٹے میں ایک ریپ چودہ سالہ لڑکی کا ریپ، بھارتی رکن پارلیمان گرفتار بھارت میں خواتین کے ساتھ جنسی زیادتیوں اور گینگ ریپ کے واقعات انتہائی تشویش ناک حد تک زیادہ ہو چکے ہیں۔ صرف ملکی دارالحکومت نئی دہلی ہی میں 2015ء میں 2200 خواتین کو ریپ کیا گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نئی دہلی میں اوسطاﹰ ہر روز چھ خواتین کو ریپ کر دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ پورے بھارت میں ہر سال اوسطاﹰ ریپ کے 40 ہزار واقعات رونما ہوتے ہیں اور خاص کر دیہی علاقوں میں یہ شرح اس لیے بھی زیادہ ہے کہ وہاں متاثرہ خاتون کے خاندان کی بے عزتی کے خوف سے پولیس کو ایسے ہر جرم کی اطلاع نہیں دی جاتی اور اکثر مظلوم خواتین اپنی شکایت لے کر پولیس کے پاس جانے سے گھبراتی ہیں۔

بھارت میں ایک نوجوان خاتون کے گینگ ریپ اور اس کی شیر خوار بچی کے قتل کے تین ملزمان میں سے ایک کوگرفتار کر لیا گیا ہے۔ ملزمان نے اجتماعی جنسی زیادتی کے دوران اس خاتون کی نو ماہ کی بیٹی کو چلتے رکشے سے باہر پھینک دیا تھا۔ بھارتی دارالحکومت نئی دہلی سے بدھ سات جون کو ملنے والی ... Read More »

امریکا کی پہلی مسلمان خاتون جج کی لاش دریائے ہڈسن سے برآمد

پولیس کا کہنا ہے کہ ایک سیاہ فام خاتون کی لاش بدھ کو نیو یار ک کے دریائے ہُڈسن سے ملی ہے۔ شیلا عبدالسلام نامی یہ خاتون امریکا کی پہلی مسلمان خاتون جج بھی تھیں۔ 65 سالہ شیلا عبدالسلام نیویارک کی اعلیٰ عدالت میں ایسوسی ایٹ جج کے عہدے پر فائز تھیں۔ گزشتہ روز نیو یارک کے دریائے ہڈسن میں دن کے پونے دو بجے ان کی لاش تیرتی ہوئی دکھائی دی تھی۔ نیوز ایجنسی روئٹرز کے مطابق پولیس نے عبدالسلام کی لاش کو پانی سے نکالا تھا تاہم انہیں موقع پر ہی مردہ قرار دے دیا گیا تھا۔ ان کے خاندان نے لاش کی شناخت کر لی ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد ہی عبدالسلام کی موت کی وجہ کی تصدیق ہو سکے گی۔ عبدالسلام واشنگٹن کی رہائشی تھیں اور یہ وہ پہلی امریکی سیاہ فام خاتون تھیں جنہیں سن 2013 میں گورنر ماریو کومو کی جانب سے ریاست کی ہائی کورٹ میں تعینات کیا گیا تھا۔ کومو نے عبدالسلام کے حوالے سے ایک بیان میں کہا،’’جسٹس شیلا عبدالسلام ایک بہادر جج تھیں جنہوں نے ساری عمر نیو یارک ریاست میں انصاف کو عام کرنے کی کوشش کی۔‘‘ واضح رہے کہ اخبار نیو یارک پوسٹ نے نامعلوم ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ عبدالسلام بدھ کی صبح سے لاپتہ تھیں تاہم ان کے اہل خانہ نے اس بات کی تصدیق نہیں کی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ایک سیاہ فام خاتون کی لاش بدھ کو نیو یار ک کے دریائے ہُڈسن سے ملی ہے۔ شیلا عبدالسلام نامی یہ خاتون امریکا کی پہلی مسلمان خاتون جج بھی تھیں۔ 65 سالہ شیلا عبدالسلام نیویارک کی اعلیٰ عدالت میں ایسوسی ایٹ جج کے عہدے پر فائز تھیں۔ گزشتہ روز نیو یارک کے دریائے ہڈسن میں ... Read More »

’سیاسی جماعتوں میں جنسی طور پر ہراساں کرنا ایک معمول ہے‘

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی سابقہ اہلیہ اور صحافی ریحام خان کا کہنا ہے کہ اگر سیاسی جماعتوں کو خدا کا خوف ہوتا تو ’عزت دار گھرانوں‘ کی خواتین اُن کاحصہ بنتیں۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں ریحام خان نے الزام عائد کیا کہ پاکستان تحریک انصاف، پاکستان مسلم لیگ نون اور پاکستان پیپلز پارٹی جمہوری جماعتیں نہیں ہیں۔ ریحام خان کا کہنا تھا کہ اب آمروں اور سیاست دانوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا:’’وہ خواتین، جو اِن کے جلسوں کی رونق بنتی ہیں، کیا آپ نے کبھی انہیں اسٹیج پر بیٹھے دیکھا ہے؟‘‘ پاکستان تحریک انصاف نے ریحام خان کے اس بیان کو پی ٹی آئی پر براہ راست حملہ ٹھہرایا ہے۔ ساتھ ہی اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر بھی ایک زور دار بحث چھڑ گئی ہے۔ خواتین سمیت کئی افراد کا کہنا ہے کہ ریحام خان کی جانب سے یہ بیان حقائق کے برعکس ہے۔ پی ٹی آئی کی رکن ناز بلوچ نے ریحام خان کے بیان کے حوالے سے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا:’’ریحام بی بی، پی ٹی آئی کی تمام خواتین کارکنان عزت دار ہیں اور انہیں آپ کی طرف سے کریکٹر سرٹیفیکیٹ نہیں چاہیے، ایسے بیانات دینے سے قبل سوچ لیا کریں۔‘‘ پی ٹی آئی کی ہی ایک رکن صائمہ ندیم نے لکھا:’’ہم ریحام خان سے اپنے اس بیان پر معافی مانگنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ انہوں نے پی ٹی آئی کی عزت دار خواتین پر الزمات لگائے ہیں۔‘‘ صحافی مہر تارڑ نے لکھا:’’میں پی ٹی آئی کی کئی خواتین سے مل چکی ہوں، ان خواتین کا تعلق امیر اور مڈل کلاس سے ہے اور ان میں وہ خواتین بھی ہیں، جو نوکری پیشہ ہیں۔ یہ سب پی ٹی آئی کے منشور سے پُر خلوص ہمدردی رکھتی ہیں اور بہت محنتی ہیں۔‘‘ پی ٹی آئی کی کئی خواتین کارکنان نے سوشل میڈیا پر ویڈیو پیغامات جاری کیے ہیں، جن میں وہ دعویٰ کر رہی ہیں کہ اس سیاسی جماعت میں ’عزت دار گھرانوں‘ کی خواتین شامل ہیں اور وہ بحیثیت عورت اس سیاسی جماعت میں بہت خوش اور مطمئن ہیں۔ خود ریحام خان نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا:’’پاکستانی سیاسی جماعتوں میں آزادانہ کام کرنے والے شکایتی سیل ہونے چاہییں، جہاں جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کی شکایات درج کروائی جا سکیں۔ دست درازیاں اور جنس کی بنیاد پر مراعات کھلے عام دیکھی جا سکتی ہیں۔‘‘ کچھ افراد نے ریحام خان کے حق میں بھی بات کی ہے۔ ٹوئٹر پر ایک شخص نے لکھا:’’پی ٹی آئی کی تنقید کا تن تنہا سامنا کرنا ایک بہت ہی بہادرانہ عمل ہے۔‘‘

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی سابقہ اہلیہ اور صحافی ریحام خان کا کہنا ہے کہ اگر سیاسی جماعتوں کو خدا کا خوف ہوتا تو ’عزت دار گھرانوں‘ کی خواتین اُن کاحصہ بنتیں۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں ریحام خان نے الزام عائد کیا کہ پاکستان تحریک انصاف، پاکستان مسلم لیگ نون اور پاکستان پیپلز پارٹی ... Read More »

افغان طالبان نے ایک اور خاتون کو سنگسار کر دیا

افغانستان کے شمال مشرقی صوبے بدخشاں میں طالبان عسکریت پسندوں نے مبینہ غیر ازدواجی جنسی رابطوں کے الزام میں ایک خاتون کو سنگسار کر دیا جبکہ ایک مرد کو کوڑے لگائے۔ ان واقعات کی افغان حکام نے تصدیق کر دی ہے۔ افغان دارالحکومت کابل سے جمعرات نو مارچ کو موصولہ نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق طالبان عسکریت پسندوں کی طرف سے ایک عورت اور ایک مرد کو یہ سزائیں جمعرات آٹھ مارچ کے روز، جب پوری دنیا میں خواتین کا عالمی دن منایا جا رہا تھا، بدخشاں کے ضلع وردوج میں دی گئیں۔ بدخشاں میں خواتین سے متعلقہ امور کے صوبائی محکمے کی سربراہ ذوفنون ناطق نے بتایا کہ شالی مشرقی افغان صوبے بدخشاں کا ضلع وردوج طالبان شدت پسندوں کے کنٹرول میں ہے اور وہاں سے ملنے والی محدود معلومات بھی تاخیر سے موصول ہوتی ہیں۔ افغان طالبان نے نوجوان خاتون کو سنگسار کر دیا طالبان کی عدالت کا فیصلہ، افغان جوڑا سنگسار کر دیا گیا ذوفنون ناطق کے بقول وردوج میں ایک مقامی خاتون کا سنگسار کیا جانا گزشتہ بارہ مہینوں کے دوران ایسا آٹھواں واقعہ ہے کہ طالبان نے اپنے وضع کردہ نام نہاد نظام انصاف کے تحت مبینہ ’اخلاقی جرائم‘ کے نام پر کسی خاتون کو ہلاک کر دیا۔ ایسے واقعات میں طالبان نے اپنے ’قاتلانہ انصاف‘ کا نشانہ بننے والی تمام آٹھوں خواتین کو سنگسار نہیں کیا تھا بلکہ قریب ایک مہینہ پہلے بدخشاں صوبے میں ہی جن دو خواتین پر ’غیر قانونی جنسی تعلقات‘ کا الزام لگایا تھا، انہیں گولی مار دی گئی تھی۔ جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے نے لکھا ہے کہ افغانستان کے طول وعرض میں ایسے یا ان سے ملتے جلتے ہلاکت خیز واقعات کی تعداد مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔ جنوری کے مہینے میں وسطی افغانستان میں طالبان کی طرف سے چھ افراد کو رہزنی اور غیر ازدواجی جنسی روابط کے الزام میں سرعام کوڑے مارے گئے تھے۔ ہندوکش کی اس ریاست میں انسانی حقوق کے غیر جانبدار کمیشن AIHRC کے مانیٹرنگ اور چھان بین کے شعبے کے کوآرڈینیٹر حسین معین کے مطابق یہ صورت حال ان کے ادارے کے لیے حقیقی معنوں میں گہری تشویش کا باعث ہے۔ حسین معین نے ڈی پی اے کو بتایا کہ طالبان عسکریت پسندوں یا دیگر شدت پسند عناصر کے ہاتھوں ایسی ماورائے عدالت ہلاکتوں کے واقعات تقریباﹰ ہمیشہ ہی ان علاقوں میں پیش آتے ہیں جو حکومت کے کنٹرول سے باہر اور غیر محفوظ ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اکثر ایسی ماورائے عدالت ہلاکتوں کی چھان بین کے قابل ہی نہیں ہوتی۔

افغانستان کے شمال مشرقی صوبے بدخشاں میں طالبان عسکریت پسندوں نے مبینہ غیر ازدواجی جنسی رابطوں کے الزام میں ایک خاتون کو سنگسار کر دیا جبکہ ایک مرد کو کوڑے لگائے۔ ان واقعات کی افغان حکام نے تصدیق کر دی ہے۔ افغان دارالحکومت کابل سے جمعرات نو مارچ کو موصولہ نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق طالبان ... Read More »

داعش سنی خواتین پر جنسی حملوں میں بھی ملوث، ہیومن رائٹس واچ

ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ شدت پسند تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے ایزدی خواتین پر تشدد اور ان کے ساتھ جنسی زیادتیوں کے واقعات تو دستاویزی طور پر موجود ہیں، مگر یہ تنظیم سنی خواتین کے ساتھ بھی یہی سلوک کرتی رہی ہے۔ پیر کے روز انسانی حقوق کی اس عالمی تنظیم کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش کے عسکریت پسند عرب خواتین کے ساتھ جنسی زیادتیوں اور ان پر تشدد جیسے واقعات میں ملوث ہیں۔ اس تنظیم نے اس حوالے سے جہادیوں کے ہاتھوں ان سنی عرب خواتین کے اغوا، مار پیٹ، جبری شادیوں اور جنسی استحصال کی بابت دستاویزات مرتب کی ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ جہادیوں نے ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے زیرقبضہ علاقے حویجہ سے فرار ہونے کی کوشش کرنے والی سنی عرب خواتین کو تشدد اور جنسی استحصال کا نشانہ بنایا۔ اس تنظیم نے ایک 26 سالہ سنی عرب لڑکی حنان کی کہانی شائع کی ہے، جس کا شوہر حویجہ سے فرار ہو گیا تھا، تاہم اس لڑکی کو جہادیوں نے حراست میں لے لیا، اور پھر حویجہ کے علاقے سے فرار ہونے کی کوشش کرنے والی دیگر خواتین کے ساتھ ایک یرغمالی مرکز میں رکھا۔ ان جہادیوں نے اس خاتون سے کہا کہ اس کے شوہر کے فرار ہونے کی وجہ سے وہ بھی ’دائرہ اسلام سے خارج‘ ہو چکی ہے اور اس لیے اسے کسی مقامی جہادی رہنما سے شادی کرنا ہو گی۔ ہیومن رائٹس واچ کے مطابق اس لڑکی کی جانب سے انکار پر اسے پلاسٹک کی تاروں کے ساتھ پیٹا گیا اور اس کے ہاتھ پاؤں باندھ کر اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ حنان کے مطابق ایک جہادی قریب ایک ماہ تک روزانہ اسے اس کے بچوں کے سامنے جنسی زیادتی کا نشانہ بناتا رہا۔ ہیومن رائٹس واچ کے مطابق عالمی سطح پر اس واقعے پر توجہ نہیں دی گئی، جب کہ درست اقدامات کے ذریعے اسی تشدد کی شکار متعدد دیگر خواتین کو بچایا جا سکتا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کی ڈپٹی ڈائریکٹر برائے مشرق وسطیٰ لاما فقیہ کے مطابق، ’’اسلامک اسٹیٹ کے زیرقبضہ علاقوں میں سنی عرب خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات کو کم توجہ حاصل ہوتی ہے۔‘‘ فقیہ نے مزید کہا، ’’ہمیں امید ہے کہ بین الاقوامی برادری اور مقامی حکام متاثرین کے اس گروپ کو بھی وہ تمام مدد بہم پہنچائیں گے، جن کی یہ متقاضی ہے۔‘‘

ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ شدت پسند تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے ایزدی خواتین پر تشدد اور ان کے ساتھ جنسی زیادتیوں کے واقعات تو دستاویزی طور پر موجود ہیں، مگر یہ تنظیم سنی خواتین کے ساتھ بھی یہی سلوک کرتی رہی ہے۔ پیر کے روز انسانی حقوق کی اس عالمی تنظیم کی جانب سے جاری کردہ بیان میں ... Read More »

ٹرمپ کی صدارت کا پہلا دن، لاکھوں خواتین کا سڑکوں پر احتجاج

ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کے پہلے روز اُن کے ناقدین نے دنیا بھر میں مظاہرے کیے ہیں، جن میں خواتین پیش پیش ہیں۔ ایک بہت بڑا مظاہرہ امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں ہو رہا ہے، جس میں لاکھوں افراد بالخصوص خواتین شریک ہیں۔ یہ مظاہرہ ، جسے ’خواتین کے مارچ‘ کا نام دیا گیا ہے، مقامی وقت کے مطابق سہ پہر ایک بجے کے بعد شروع ہو رہا ہے تاہم اس میں شرکت کے لیے لاکھوں افراد علی الصبح سے جمع ہونا شروع ہو گئے تھے۔ اس احتجاجی مظاہرے میں بڑی تعداد میں امریکی شو بزنس سے تعلق رکھنے والے ستارے بھی شریک ہو رہے ہیں۔ ستّر سالہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ہی روز قبل ’نیشنل مال‘ پر پنتالیس ویں امریکی صدر کے طور پر اپنے عہدے کا حلف اٹھایا تھا۔ اپنے دورِ صدارت کے ابتدائی لمحات ہی میں ٹرمپ نے اپنے پیش رو باراک اوباما کی طرف سے عمل میں لائے گئے اقدامات کو منسوخ کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ ان اقدامات میں صحت کے شعبے میں اصلاحات کا پیکج ’اوباما کیئر‘ بھی شامل ہے، جس کے تحت انشورنس کمپنیوں کو اس بات کا بھی پابند کیا گیا تھا کہ وہ پہلے سے بیمار کسی فرد کو اپنے ہاں قبول کرنے سے انکار نہیں کریں گی اور چھبیس سال تک کی عمر کے افراد اپنے والدین کی انشورنس سے استفادہ کر سکیں گے۔ ’ویمنز مارچ آن واشنگٹن‘ نامی تحریک کے منتظمین نے ملک بھر میں سوشل میڈیا پر عوام سے اس جلوس میں شرکت کے لیے اپیل جاری کی تھی۔ جمعے کے روز تک ہی سوا دو لاکھ افراد نے اس مظاہرے میں اپنی شرکت کی تصدیق کر دی تھی۔ منتظمین کو توقع تھی کہ اس مظاہرے میں دو لاکھ افراد شرکت کریں گے تاہم آخری خبریں آنے تک اس مظاہرے میں شریک افراد کی تعداد پانچ لاکھ سے بھی تجاوُز کر چکی تھی۔ خواتین خاص طور پر گلابی رنگ کی ٹوپیاں اور ملبوسات پہنے اس مظاہرے میں شرکت کر رہی ہیں۔ ان خواتین کے احتجاج کا مقصد اپنے اُن حقوق کا دفاع کرنا ہے، جنہیں وہ ٹرمپ کے ماضی کے بیانات اور مستقبل کی ممکنہ پالیسیوں کے تناظر میں خطرے میں دیکھ رہی ہیں۔ واضح رہے کہ متعدد خواتین ٹرمپ پر اپنے خلاف جنسی حملوں کے الزامات لگا چکی ہیں جبکہ اسقاط حمل کے حوالے سے ٹرمپ کے کچھ بیانات بھی متنازعہ حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ واشنگٹن میں مظاہرہ کرنے والی خواتین کے ساتھ یک جہتی کے طور پر امریکا بھر کے تین سو شہروں میں ’سسٹرز مارچ‘ منظم کیے جا رہے ہیں۔ ان شہروں میں نیویارک، بوسٹن، لاس اینجلس اور سیئیٹل بھی شامل ہیں۔ ان امریکی خواتین کے ساتھ یک جہتی کا اظہار دنیا بھر کے تین سو شہروں میں بھی کیا جا رہا ہے۔ دنیا بھر میں ہونے والے مظاہروں کا آغاز ہفتے کی صبح آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ سے ہوا تھا۔ بعد ازاں کئی یورپی شہروں بشمول برلن میں بھی مظاہرے منظم کیے گئے۔ واشنگٹن میں ہونے والے اجتماع کے موقع پر شو بزنس کی کئی اہم شخصیات مظاہرین سے خطاب بھی کریں گی، جن میں ہالی وُڈ کی نامور اداکارہ سکارلیٹ جوہانسن اور ڈائریکٹر مائیکل مُور بھی شامل ہیں۔ امریکا اور دیگر ملکوں میں ادیب ادبی نشستوں کا اہتمام کرتے ہوئے ٹرمپ کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ گزشتہ کئی عشروں میں کسی بھی امریکی صدر نے عوام کو اس حد تک تقسیم نہیں کیا، جتنا کہ جائیداد کی خرید و فروخت کا کاروبار کرنے والے ارب پتی ڈونلڈ ٹرمپ نے کر دیا ہے۔ جمعے کے روز ٹرمپ کی حلف برداری کے موقع پر واشنگٹن ہی میں پُر تشدد مظاہرے بھی ہوئے، جن کے دوران پولیس نے دو سو سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا۔ اکیس جنوری ہفتے کے روز ٹرمپ کے پروگرام میں محض ایک مذہبی سروس میں شرکت شامل تھی، جس میں ایک یہودی ربی اور ایک امام سمیت دیگر مذاہب کے نمائندوں کو بھی شریک ہونا تھا۔ جمعے کو ہی ٹرمپ نے وزیر دفاع جیمز ماتیس اور وزیر داخلہ جان کیلی کی حلف برداری کی دستاویزات پر دستخط کر دیے۔ اس سے پہلے سینیٹ نے ٹرمپ کی کابینہ کے ان دونوں ناموں کی توثیق کر دی تھی۔ ٹرمپ نے کہا کہ چھیاسٹھ چھیاسٹھ سال کی عمروں کے یہ دونوں سابق جنرل ’امریکی ہیرو‘ ہیں اور فوج کے ڈھانچے میں اصلاحات عمل میں لانے، امریکی قوم کے دفاع کو مضبوط کرنے اور سرحدوں کو محفوظ بنانے کے سلسلے میں ’فوری طور پر اپنی ذمہ داریاں نبھانے کا سلسلہ شروع کر رہے ہیں‘۔ ماتیس افغانستان اور عراق میں جبکہ کیلی بھی عراق میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کے پہلے روز اُن کے ناقدین نے دنیا بھر میں مظاہرے کیے ہیں، جن میں خواتین پیش پیش ہیں۔ ایک بہت بڑا مظاہرہ امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں ہو رہا ہے، جس میں لاکھوں افراد بالخصوص خواتین شریک ہیں۔ یہ مظاہرہ ، جسے ’خواتین کے مارچ‘ کا نام دیا گیا ہے، مقامی وقت کے مطابق سہ پہر ... Read More »

داعش کے خلاف لڑائی میں افغان عورتوں نے بھی ہتھیار اٹھا لیے

گل بی بی 80 برس سے بھی زائد عمر کی افغان خاتون ہیں۔ انہوں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ایک دن انہیں شدت پسندوں کے خلاف لڑائی کے لیے اس طرح ہتھیار اٹھانا پڑیں گے۔ گل بی بی اب ان سو سے زائد خواتین میں شامل ہیں، جو شمالی افغان صوبے جوزان میں شدت پسند مسلم جنگجوؤں کے خلاف ہتھیار اٹھا چکی ہیں۔ ان میں سے تقریباﹰ تمام وہ خواتین ہیں، جن کے شوہر، یا بھائی یا والد طالبان یا پھر ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے ہاتھوں مارے جا چکے ہیں۔ ترکمانستان کی سرحد سے متصل اس صوبے میں ان دنوں شدت پسند گروہ داعش اپنا دائرہٴ کار وسیع کر رہا ہے۔ بی بی نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات چیت میں کہا، ’’میں نے اپنے خاندان کے نو افراد کھو دیے۔ طالبان اور داعش نے میرے پانچ بیٹے اور چار بھتیجے قتل کر دیے۔‘‘ اپنے اہل خانہ کی زندگیوں کی حفاظت کے لیے پُرعزم ان خواتین نے مقامی پولیس کمانڈر شیر علی سے گزشتہ دسمبر میں رابطہ کیا اور ان سے ہتھیار اور گولیاں مانگیں۔ شیر علی نے تھومس روئٹرز فاؤنڈیشن کا بتایا، ’’یہ خواتین میرے پاس آئیں اور کہا کہ اگر میں نے انہیں ہتھیار نہ دیے، تو اس سے پہلے کہ داعش اور طالبان انہیں ماریں، وہ خودکشی کر لیں گی۔‘‘ شیر علی کے مطابق خواتین کا یہ گروپ منظم نہیں ہے اور نہ ہی ان کی کوئی وردی ہے۔ ’’انہوں نے کوئی عسکری تربیت بھی حاصل نہیں کی، سوائے اس کے کہ کس طرح بندوق کی نال دشمن کی جانب کرنی ہے، اور کس طرح گولی چلانی ہے۔‘‘ گزشتہ دہائی میں طالبان جوزان کے صوبے میں مسلسل دہشت گردانہ حملے کرتے آئے ہیں، جن کا مقصد افغان حکومتی فورسز اور غیرملکی فوجیوں کے خلاف دباؤ بڑھانا تھا۔ تاہم اب شدت پسند گروہ ’اسلامک اسٹیٹ‘ بھی اس صوبے میں سرگرم ہو چکا ہے۔ گزشتہ برس اس صوبے میں طالبان کے ایک کمانڈر اور پچاس دیگر جنگجوؤں نے داعش سے وفاداری کا اعلان کر دیا تھا۔ 25 دسمبر کو اسی صوبے میں داعش کے شدت پسندوں نے گرمجار نامی گاؤں پر حملہ کر کے وہاں پانچ عام شہریوں کو ہلاک کر دیا، جب کہ قریب ساٹھ مکانات کو آگ لگائی دی گئی، جس کی وجہ سے تقریباﹰ ڈیڑھ سو خاندان بے گھر ہو گئے۔ ایک نوجوان لڑکی نے اپنا نام ظاہر کیے بغیر بتایا کہ طالبان نے اس کے شوہر اور خاندان کے متعدد دیگر افراد کو ہلاک کیا اور اب وہ ان عسکریت پسندوں کے خلاف ہتھیار اٹھا چکی ہے۔ ’’میں نے اس مشین گن سے طالبان پر حملہ کیا اور طالبان فرار ہو گئے۔ ان کے بہت سے لوگ مارے گئے۔ میں داعش کے خلاف بھی لڑوں گی اور انہیں بھی مار بھگاؤں گی۔‘‘

گل بی بی 80 برس سے بھی زائد عمر کی افغان خاتون ہیں۔ انہوں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ایک دن انہیں شدت پسندوں کے خلاف لڑائی کے لیے اس طرح ہتھیار اٹھانا پڑیں گے۔ گل بی بی اب ان سو سے زائد خواتین میں شامل ہیں، جو شمالی افغان صوبے جوزان میں شدت پسند مسلم جنگجوؤں کے خلاف ... Read More »

جس کے خلاف جنسی جرم، اسی سے مجرم کی شادی کا متنازعہ قانون

ترکی میں صدر ایردوآن کی حکمران جماعت کے ارکان پارلیمان کی طرف سے ایک ایسا نیا قانون تجویز کر دیا گیا ہے، جس کے تحت جنسی مجرم اپنے جرائم کی شکار خواتین سے شادیاں کر سکیں گے۔ یہ حکومتی مسودہ قانون بہت متنازعہ ہے۔ استنبول سے جمعہ اٹھارہ نومبر کو ملنے والی جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق اس قانونی بل کی منظوری کی صورت میں جنسی جرائم کے مرتکب افراد چند خاص شرائط پوری کرنے پر اپنے جرائم کا نشانہ بننے والے افراد سے شادی کر کے سزا سے بچ سکیں گے۔ اس مسودہ قانون کی ترک اپوزیشن سیاسی جماعتوں اور خواتین کے حقوق کی بہت سی تنظیموں نے بھرپور مذمت کرتے ہوئے اس کے خلاف احتجاج کیا ہے۔ ترک صدر رجب طیب ایردوآن کی جماعت پارٹی برائے انصاف اور ترقی یا اے کے پی کے منتخب ارکان کی طرف سے ایوان میں پیش کردہ اس مسودہ قانون نے پارلیمانی کارروائی کا پہلا مرحلہ عبور کر لیا ہے۔ اب آئندہ منگل 22 نومبر کے روز اس مسودے پر انقرہ کی پارلیمان میں باقاعدہ رائے شماری ہو گی۔ اس قانونی مسودے کے ترک سیکولر سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے مخالفین کا کہنا ہے کہ یہ مجوزہ قانون دراصل جبری شادیوں کو قانونی رنگ دینے کا باعث ہو گا۔ یعنی تب جنسی جرائم کا شکار ہو جانے کی صورت میں ایسی لڑکیوں کی بھی شادی کی جا سکے گی، جو اب تک رائج قانون کے مطابق اپنے نابالغ ہونے کی وجہ سے کم از کم قانونی عمر کو پہنچنے سے پہلے شادی نہیں کر سکتیں۔ ناقدین کے بقول اس بل کا ایک دوسرا نقصان یہ بھی ہو گا کہ یوں ایک ایسے سابق قانون کے لیے پھر سے چور دروازہ کھول دیا جائے گا، جسے ترک پارلیمان نے ایک عشرے سے بھی زائد عرصہ قبل خود اس وقت منسوخ کر دیا تھا، جب ترک معاشرہ ترقی پسندی کے ایک دور سے گزر رہا تھا۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ترک شاخ کی ایک عہدیدار بیگم بسداس کا کہنا ہے، ’’اس طرح کا ایک قانون 2005ء سے پہلے تک موجود تھا۔ یعنی کسی کو ریپ والے کرنے یا کسی دوسرے جنسی حملے کے مرتکب کسی شہری کی اگر جنس مخالف سے تعلق رکھنے اور اس جرم کا نشانہ بننے والے کسی دوسرے فرد سے شادی ہو جائے تو ایسا کوئی بھی مجرم سزا سے بچ سکے گا۔‘‘ ماہرین کے مطابق اس مجوزہ قانون کا انسانی سطح پر ایک منفی پہلو یہ بھی ہے کہ اکثر جنسی جرائم کے مرتکب مرد ہوتے ہیں اور نشانہ بننے والی خواتین۔ ایسی صورت میں بہت سے واقعات میں متعلقہ خاتون کی مجرم مرد سے شادی اسے انصاف دینے کی بجائے اس کے ساتھ عمر بھر کے لیے معاشرتی ظلم ہو گا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی بیگم بسداس کے مطابق ترک خواتین کی تحریک نے ماضی میں رائج اس سابقہ قانون میں سزا سے بچاؤ کی شق کے خاتمے کے لیے بہت جدوجہد کی تھی تا کہ ظالم کی مظلوم سے شادی کو سزا کی منسوخی یا معطلی کے لیے جواز کے طور پر استعمال نہ کیا جا سکے۔ ترکی میں یہ مسودہ قانون اگرچہ بہت متنازعہ ہے تاہم صدر ایردوآن کی جماعت سے تعلق رکھنے والے وزیر اعظم بن علی یلدرم نے زور دے کر کہا ہے کہ مجوزہ قانونی بل میں جنسی زیادتی کرنے والے مجرموں کو کوئی عمومی معافی نہیں دی گئی۔ ڈی پی اے کے مطابق ترکی میں حکمران جماعت کا کہنا ہے کہ اس قانونی بل میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ اس کا ممکنہ اطلاق صرف ان جرائم کے واقعات میں کیا جائے گا، جن میں جنسی تعلق کے لیے کوئی تشدد یا طاقت کا استعمال نہ کیا گیا ہو۔ ترک وزیر انصاف بوزداگ کے مطابق پارلیمانی منظوری کی صورت میں اس قانون کے تحت دستیاب امکانات سے قریب تین ہزار تک ترک مرد فائدہ اٹھا سکیں گے۔

ترکی میں صدر ایردوآن کی حکمران جماعت کے ارکان پارلیمان کی طرف سے ایک ایسا نیا قانون تجویز کر دیا گیا ہے، جس کے تحت جنسی مجرم اپنے جرائم کی شکار خواتین سے شادیاں کر سکیں گے۔ یہ حکومتی مسودہ قانون بہت متنازعہ ہے۔ استنبول سے جمعہ اٹھارہ نومبر کو ملنے والی جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں ... Read More »

پاکستان میں جنسی امتیاز کیوں بڑھ رہا ہے؟

عالمی اقتصادی فورم نے جنسی امتیاز سے متعلق اپنی رپورٹ میں پاکستان کو دنیا کے 144 ممالک میں سے 143 ویں نمبر پر رکھا ہے۔ اس سے پاکستانی معاشرے میں عورتوں کو لاحق مسائل واضح ہوتے ہیں۔ گزشتہ ہفتے ورلڈ اکنامک فورم کی جانب سے جاری کردہ اس رپورٹ میں پاکستان کی پوزیشن دس برس قبل کی صورت حال سے بھی دگرگوں ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستانی معاشرے میں خواتین کو منظم انداز سے ان سماجی سہولیات سے دور رکھا جاتا ہے، جو اس جنسی امتیاز کی بنیاد تصور کی جاتی ہیں، ان میں تعلیم، صحت، معاشی مواقع اور سیاسی اختیارات شامل ہیں۔ ماضی میں پاکستان پر بین الاقوامی برادری کا دباؤ رہا ہے کہ وہ اپنے ہاں جنسی بنیادوں پر عدم مساوات کے خاتمے کے لیے اقدامات کرے۔ سن 1979ء میں پاکستان میں وزارت برائے بہبودِ خواتین بنائی گئی تھی، جس کی وجہ اقوام متحدہ کے کمیشن برائے حالتِ نسواں کی جانب سے دی گئی تجاویز تھیں۔ اس وزارت نے خواتین کی تعلیم، صحت، قانونی خدمات اور صوبائی اور قومی سطح پر سیاسی نمائندگی کے لیے کام کیا۔ اسی وزارت کے تحت خواتین کو تعلیم اور ہنر کے شعبوں میں قرضوں کے اجراء جیسے اقدامات بھی کیے گئے، جب کہ بچوں کی حامل خواتین کے لیے چائلڈ کیئر جیسی سہولیات بھی فراہم کی گئیں۔ ان اقدامات نے خواتین کی حالت میں کسی حد تک بہتری میں کردار ادا کیا، تاہم مردوں کی برتری والے پاکستانی معاشرے میں ان اقدامات کا استحکام ہمیشہ مشکل میں رہا، جس کی ایک وجہ مذہبی طبقے کی جانب سے مخالفت بھی رہی۔ حتیٰ کہ جب پاکستان کی وزیر اعظم بھی ایک خاتون (بے نظیر بھٹو) تھیں، تب بھی خواتین کو یہ احساس نہ ہوا کہ وزیر اعظم ہاؤس میں بھی ایک خاتون ہی ہے۔ سن 2010ء میں پاکستان میں یہ وزارت ہی ختم کر دی گئی اور ماضی میں خواتین کی حالت کی بہتری کے لیے اس وزارت کی جانب سے کیے گئے تمام اقدامات کو صوبائی حکومتوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔ سابق وفاقی سیکرٹری رخسانہ شاہ کے مطابق صوبائی حکومتیں اس حوالے سے کوئی سیاسی عزم نہیں رکھتیں۔ ’’یوں لگتا ہے، جیسے صوبائی حکومتیں، خواتین کے حوالے سے پورے ملک میں موجود عمومی معاشرتی رویے سے ہٹ کر کچھ بھی کرنا نہیں چاہتیں۔‘‘ شاہدہ جمیل، پاکستان کی پہلی وفاقی خاتون وزیر برائے قانون، انصاف اور پارلیمانی امور تھیں۔ شاہدہ جمیل کا بھی کہنا ہے کہ پاکستان میں کوئی بھی جنسی عدم مساوات کو سنجیدہ معاملے کے طور پر دیکھنے کو تیار نہیں اور ان میں خود وزیر اعظم بے نظیر بھٹو بھی شامل تھیں۔ ’’آپ کو حیرت ہو گی کہ نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو کے علاوہ کوئی بھی خاتون ان کی جماعت (پاکستان پیپلز پارٹی) میں کسی اہم منصب پر فائز نہیں تھی۔ دیگر تمام عورتیں جماعت کے خواتین کے ونگ سے منسلک تھیں اور انہیں یہ اجازت نہیں تھی کہ وہ پارٹی کی مرکزی رکن بنیں۔‘‘ شاہدہ جمیل نے بتایا کہ تیس برس تک پیپلز پارٹی نے اس معاملے کو خفیہ رکھا جب کہ خواتین کی حالت کی بہتری کے لیے اقدامات کیے بھی گئے تو ان کا مقصد اصل میں خواتین کی بہتری نہیں بلکہ بین الاقوامی برادری سے داد وصول کرنا ہی رہا تھا۔

عالمی اقتصادی فورم نے جنسی امتیاز سے متعلق اپنی رپورٹ میں پاکستان کو دنیا کے 144 ممالک میں سے 143 ویں نمبر پر رکھا ہے۔ اس سے پاکستانی معاشرے میں عورتوں کو لاحق مسائل واضح ہوتے ہیں۔ گزشتہ ہفتے ورلڈ اکنامک فورم کی جانب سے جاری کردہ اس رپورٹ میں پاکستان کی پوزیشن دس برس قبل کی صورت حال سے ... Read More »

Scroll To Top