You are here: Home » Tag Archives: بھارت

Tag Archives: بھارت

Feed Subscription

زہریلی شراب پینے سے بیسیوں بھارتی شہری ہلاک، درجنوں بیمار

شمالی بھارت کی دو ریاستوں کے متعدد دیہات میں غیر قانونی طور پر کشید کی گئی زہریلی شراب پینے سے بیسیوں شہری ہلاک اور درجنوں بیمار ہو گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق بیمار پڑ جانے والے افراد میں سے متعدد کی حالت نازک ہے۔ بھارتی ریاست اتر پردیش کے دارالحکومت لکھنؤ سے ہفتہ نو فروری کو ملنے والی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق غیر قانونی طور پر کشید کی گئی اس شراب میں میتھینول نامی زہریلا مادہ موجود تھا اور اب تک کم از کم 39 افراد کی ہلاکت اور 27 دیگر کے شدید بیمار ہو جانے کی تصدیق ہو چکی ہے۔ پولیس کے ایک سینیئر افسر شوک کمار نے بتایا کہ ان ہلاکتوں میں سے 26 ملکی دارالحکومت نئی دہلی سے مشرق کی طرف تقریباﹰ 306 کلومیٹر دور ریاست اتر پردیش میں اور 13 دیگر ہلاکتیں اتر پردیش کی ہمسایہ بھارتی ریاست اتر آکھنڈ میں ہوئیں۔ اتر آکھنڈ میں زہریلی شراب پینے سے مرنے والوں کی زیادہ تر تعداد کا تعلق بالپور نامی ایک گاؤں سے تھا۔ پولیس افسر اشوک کمار نے بتایا کہ ان تمام افراد نے یہ زہریلی شراب جمعرات سات فروری کی رات پی تھی، جس کے بعد بیسیوں کی تعداد میں لوگ بیمار پڑ گئے تھے۔ ان افراد کو فوری طبی امداد مہیا کرنے کی کوشش کی گئی تاہم ان میں سے درجنوں کل جمعہ آٹھ فروری تک انتقال کر گئے تھے جبکہ باقی ماندہ افراد کی جانیں بچانے کی پوری کوشش کی جا رہی ہے۔ ہلاک شدگان کے پوسٹ مارٹم سے بھی یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ انہوں نے جو ‌غیر قانونی طور پر کشید کردہ شراب پی تھی، اس میں میتھینول شامل تھی۔ پولیس نے مرنے والوں کو یہ زہریلی دیسی شراب فروخت کرنے کے شبے میں آٹھ مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا ہے جبکہ اتر پردیش اور اتر آکھنڈ کی ریاستی حکومتوں نے اتنے زیادہ جانی نقصان پر 35 سرکاری اور 12 پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا ہے۔ بھارت میں زہریلی شراب پینے سے انسانی ہلاکتوں کی رپورٹیں بار بار ملتی رہتی ہیں۔ اس لیے کہ آبادی کے لحاظ سے دنیا کے اس دوسرے سب سے بڑے ملک میں مقامی اور غیر قانونی طور پر کشید کردہ شراب کا کاروبار عام ہے۔ یہ شراب پینے والے اکثر بھارت کے وہ بہت غریب شہری ہوتے ہیں، جو مہنگی شراب خریدنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ غیر قانونی طور پر کشید کردہ اس شراب میں عام طور پر اسے زیادہ زود اثر بنانے کے لیے کئی بہت زہریلی زرعی ادویات اور دیگر کیمیائی مادے بھی شامل کر دیے جاتے ہیں۔ بھار ت کی چند ریاستوں میں شراب کی فروخت پر پابندی کی وجہ سے وہاں شراب کی اسمگلنگ بھی بہت منافع بخش کاروبار بن چکی ہے۔

شمالی بھارت کی دو ریاستوں کے متعدد دیہات میں غیر قانونی طور پر کشید کی گئی زہریلی شراب پینے سے بیسیوں شہری ہلاک اور درجنوں بیمار ہو گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق بیمار پڑ جانے والے افراد میں سے متعدد کی حالت نازک ہے۔ بھارتی ریاست اتر پردیش کے دارالحکومت لکھنؤ سے ہفتہ نو فروری کو ملنے والی نیوز ایجنسی ... Read More »

کوہلی کا ايک اور ريکارڈ، ایک سال میں تین ایوارڈ جیت لیے

بھارتی کرکٹ ٹيم کے کپتان اور ايک مايہ ناز بلے باز ويراٹ کوہلی نے انٹرنيشنل کرکٹ کونسل کے تين اہم ترين ايوارڈز بيک وقت جيت کر نئی تاريخ رقم کر دی ہے۔ سن 2018 کے ليے سال کے سب سے بہترين کھلاڑی، ٹيسٹ ميچز کے سب سے عمدہ بيٹسمين اور ايک روزہ کرکٹ کے سب سے کامياب بلے باز، بھارتی کرکٹر ويراٹ کوہلی کو ان تينوں ہی اعزازات سے نوازا گيا ہے۔ منگل بائیس جنوری کے روز ویراٹ کوہلی انٹرنيشنل کرکٹ کونسل کے تين اہم ترين ايوارڈز بيک وقت جيتنے والے پہلے کھلاڑی بن گئے ہيں۔ پچھلے سال کے دوران کوہلی نے ٹيسٹ کر کٹ ميں پانچ سنچريوں کی مدد سے اور 55.8 کی اوسط سے 1,322 رنز اسکور کيے۔ ون ڈے کرکٹ ميں کوہلی نے چھ سنچرياں اور مجموعی طور پر 1,202 رنز بنائے۔ کوہلی نے اس پيش رفت کے بعد اپنے احساسات کا اظہار کچھ يوں کيا، ’’يہ ايک بہترين احساس ہے۔ يہ اس محنت کا صلحہ ہے، جو آپ مکمل برس میں کرتے ہيں۔ ميں بہت شکر گزار ہوں کہ ٹيم بھی عمدہ پرفارمنس کا مظاہرہ کر رہی ہے اور ميری اپنی کارکردگی بھی اچھی جارہی ہے۔‘‘ سن 2018 کے ليے سال کے سب سے بہترين کھلاڑی بننے پر کوہلی کو سر گارفيلڈ سوبرز ٹرافی دی گئی۔ يہ امر اہم ہے کہ کوہلی يہ ٹرافی پچھلی مرتبہ بھی جيتے تھے۔ انہيں 2017ء ميں ون ڈے کرکٹ کا سب سے بہترين کھلاڑی بھی قرار ديا گيا تھا۔ آئی سی سی کے چيف ايگزيکيٹو ڈيوڈ رچرڈسن نے اس موقع پر کوہلی کو مبارک باد دی۔ انہوں نے کہا، ’’خود کو کرکٹ کے ايک زبردست کھلاڑی کے طور پر منوانے کے ليے لازمی ہے کہ کوئی کھلاڑی تمام فارميٹس ميں عمد پرفارم کرے اور کوہلی نے ايسا کر دکھايا ہے۔ وہ اس کھيل کے ايک بہترين سفير ہيں۔‘‘ عالمی رينکنگ ميں سن 2018 کے اختتام پر ٹيسٹ کرکٹ ميں پہلی پوزيشن پر بھارت کی ٹيم رہی جبکہ ايک روزہ کرکٹ ميں انگلينڈ کی ٹيم سر فہرست ثابت ہوئی

بھارتی کرکٹ ٹيم کے کپتان اور ايک مايہ ناز بلے باز ويراٹ کوہلی نے انٹرنيشنل کرکٹ کونسل کے تين اہم ترين ايوارڈز بيک وقت جيت کر نئی تاريخ رقم کر دی ہے۔ سن 2018 کے ليے سال کے سب سے بہترين کھلاڑی، ٹيسٹ ميچز کے سب سے عمدہ بيٹسمين اور ايک روزہ کرکٹ کے سب سے کامياب بلے باز، بھارتی ... Read More »

ماسکو مذاکرات میں بھارتی شرکت: کیا امن کا راستہ کھل جائے گا؟

ماسکو میں ہونے والے افغان امن مذاکرات سے متعلق اجلاس میں بھارتی وفد کی شمولیت کو ماہرین خوش آئند قرار دے رہے ہیں اور ان کے خیال میں اس طرح ہندوکش کی اس جنگ زدہ ریاست میں امن کی فضا قائم کرنے میں مدد ملے گی۔ آج جمعہ نو نومبر کو روسی دارالحکومت ماسکو میں افغان امن کے حوالے سے مذاکرات کا ایک دور ہوا، جس میں امریکا، بھارت، چین، ایران، پاکستان، افغان طالبان اور افغان اعلیٰ امن کونسل کے ارکان کے علاوہ وسطی ایشیائی ریاستوں کے وفود نے بھی شرکت کی۔ یہ مذاکرات ستمبر میں ہونا تھے لیکن افغان حکومت کے اعتراضات کے بعد انہیں ملتوی کر دیا گیا تھا۔ بھارت کی طرف سے اس کے کسی وفد نے سرکاری طور پر اس اجلاس شرکت نہیں کی تاہم غیر رسمی طور پر اس میں بھارت کے طرف سے دو نمائندوں نے حصہ لیا، جو حکومتی نمائندے تو نہیں لیکن امور خارجہ کے ماہر سمجھے جاتے ہیں اور ماضی میں اعلیٰ سرکاری عہدوں پر کام کر چکے ہیں۔ افغان حکومت اور امریکا نے بھی اس میں غیر رسمی طور پر اپنے نمائندے بھیجے۔ افغان حکومت نے حکومتی نمائندوں کی جگہ اعلیٰ امن کونسل کے ارکان کو بھیجا جب کہ امریکا نے ماسکو میں تعینات اپنے سفارت کار کو اس اجلاس میں بھیجا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ بھارت نے ایسے کسی مذاکرات میں شرکت کی ہے، جس سے یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ یہ اجلاس امن کے لیے راستے کھول سکتا ہے۔ معروف پاکستانی تجزیہ نگار رحیم اللہ یوسف زئی کے خیال میں اس اجلاس میں اتنے سارے نمائندوں اور طالبان کی شرکت سے اس خیال کو تقویت مل رہی ہے کہ اب شاید افغانستان میں امن قائم ہو جائے۔ یوسف زئی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’میرے خیال میں بھارت کی ان مذاکرات میں شرکت بہت معنی خیز اور مثبت ہے کیونکہ افغان حکومت، امریکا اور بھارت کی سوچ تقریباﹰ ایک ہی جیسی ہے۔ ان کا اس طرح طالبان اور پاکستان کے نمائندوں کے سامنے بیٹھنا مسائل کو سمجھنے اور ان کو حل کرنے میں معاون ثابت ہو گا۔ اس اجلاس کی وجہ سے امریکا پر بھی دباؤ بڑھے گا کہ وہ امن کوششیں تیز کر دے۔ کیونکہ اگر وہ ایسا نہیں کرے گا، تو چین، روس، ایران، پاکستان اور بھارت خطے کے دوسرے ممالک کے ساتھ مل کر اس مسئلے میں رہنما کردار ادا کریں گے۔‘‘ رحیم اللہ یوسف زئی کا کہنا تھا کہ افغان طالبان پر بھی روس اور خطے کے دوسرے ممالک کا دباؤ بڑھے گا کہ وہ امن کے لیے کام کریں کیونکہ روس نے ان کو ایک طرح سے قانونی حیثیت دلوانے کی کوشش کی ہے۔ یوسف زئی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’میرے خیال میں بھارت کی ان مذاکرات میں شرکت بہت معنی خیز اور مثبت ہے کیونکہ افغان حکومت، امریکا اور بھارت کی سوچ تقریباﹰ ایک ہی جیسی ہے۔ ان کا اس طرح طالبان اور پاکستان کے نمائندوں کے سامنے بیٹھنا مسائل کو سمجھنے اور ان کو حل کرنے میں معاون ثابت ہو گا۔ اس اجلاس کی وجہ سے امریکا پر بھی دباؤ بڑھے گا کہ وہ امن کوششیں تیز کر دے۔ کیونکہ اگر وہ ایسا نہیں کرے گا، تو چین، روس، ایران، پاکستان اور بھارت خطے کے دوسرے ممالک کے ساتھ مل کر اس مسئلے میں رہنما کردار ادا کریں گے۔‘‘ رحیم اللہ یوسف زئی کا کہنا تھا کہ افغان طالبان پر بھی روس اور خطے کے دوسرے ممالک کا دباؤ بڑھے گا کہ وہ امن کے لیے کام کریں کیونکہ روس نے ان کو ایک طرح سے قانونی حیثیت دلوانے کی کوشش کی ہے۔

ماسکو میں ہونے والے افغان امن مذاکرات سے متعلق اجلاس میں بھارتی وفد کی شمولیت کو ماہرین خوش آئند قرار دے رہے ہیں اور ان کے خیال میں اس طرح ہندوکش کی اس جنگ زدہ ریاست میں امن کی فضا قائم کرنے میں مدد ملے گی۔ آج جمعہ نو نومبر کو روسی دارالحکومت ماسکو میں افغان امن کے حوالے سے ... Read More »

بھارت ’دشمن کی جائیدادیں‘ فروخت کرے گا

نئی دہلی حکومت نے بھارت چھوڑ کر پاکستان یا چین چلے جانے والے شہریوں کی املاک فروخت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ بھارت چھوڑ جانے والے ان افراد کی جائیدادوں کی مالیت چار سو ملین ڈالر کے برابر ہے۔ بھارتی حکومت کے منصوبے کے مطابق چین اور پاکستان کے ساتھ جنگوں کے بعد ملک چھوڑ کر ان ممالک کا رخ کرنے والے افراد کی املاک فروخت کر دی جائیں گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ’دشمن کی جائیدادیں‘ 996 کمپنیوں کی شکل میں ہیں، جن کے مالک بیس ہزار افراد یا ادارے تھے۔ یہ املاک پاکستان کے ساتھ سن 1947، 1965 اور 1971 کے تنازعات جب کہ سن 1962 میں چین کے ساتھ سرحدی جنگ کے بعد سرکاری قبضے میں لے لی گئی تھیں۔ ’لو جہاد‘ کا کوئی ثبوت نہیں، بھارتی قومی تفتیشی ایجنسی پاکستانی شہر مٹھی، ہندو مسلم رواداری کا نخلستان ان املاک کی فروخت کی نگرانی بھارتی وزیرخزانہ کر رہے ہیں۔ انہیں توقع ہے کہ اس سے حکومت کو 413 ملین ڈالر کی آمدن ہو گی۔ جمعرات کے روز ایک حکومت عہدیدار نے اس منصوبے کا اعلان کیا۔ حکومتی بیان میں کہا گیا ہے کہ اس طرح سے حاصل ہونے والی آمدن کو ملک میں ترقی اور بہبود کے مختلف پروگرامز میں استعمال کیا جائے گا۔ حکومتی بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اینیمی شیئرز‘ نامی اس منصوبے کو بھارت میں 1968 کی اس تعریف کے تحت استوار کیا گیا ہے، جس میں ’دشمن کے اثاثوں‘ کا تعین کیا گیا تھا۔ اس بھارتی قانون کے تحت ایسے افراد جو بھارت یا چین کے ساتھ تنازعات کے بعد ملک چھوڑ کر ان ممالک کو ہجرت کر گئے، ان کی املاک اور اثاثے ’دشمن کی املاک‘ قرار دیے گئے تھے۔ یہ بات اہم ہے کہ ایسے بہت سے افراد بھی موجود ہیں، جن کے رشتہ دار ملک چھوڑ کر ہجرت کر گئے، تاہم وہاں ان کے دیگر رشتہ داروں نے رہنا یا ان املاک کو استعمال کرنا شروع کر دیا۔ سن 2017 میں نریندر مودی کی قوم پرست حکومت نے اس متنازعہ قانون میں ترمیم کی تھی، جس کے تحت ایسے بھارتی شہری جو قانونی طور پر یہ جائیداد بھی استعمال کر رہے تھے، ان سے یہ املاک لی جا سکتی ہیں۔ اس ترمیم پر بھارت میں شدید بحث ہوئی تھی، کیوں کہ بھارت سے ہجرت کر کے پاکستان چلے جانے والے زیادہ تر افراد مسلمان تھے جب کہ ان املاک میں بسنے والے خاندانوں کو یہ خدشات لاحق ہو گئے تھے کہ انہیں کسی بھی وقت ان مکانات سے نکالا جا سکتا ہے۔ رواں برس جنوری میں حکومت نے اعلان کیا تھا کہ 9400 ایسی املاک کی شناخت کر لی گئی ہے، جو ’دشمن کے اثاثے‘ ہیں اور انہیں نیلام کیا جائے گا۔ ان شناخت کردہ اثاثوں میں سے 9280 ان افراد کی ہیں، جو بھارت سے پاکستان ہجرت کر گئے، جب کہ 126 ایسی املاک ہیں، جن کے مالک چین چلے گئے تھے۔

نئی دہلی حکومت نے بھارت چھوڑ کر پاکستان یا چین چلے جانے والے شہریوں کی املاک فروخت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ بھارت چھوڑ جانے والے ان افراد کی جائیدادوں کی مالیت چار سو ملین ڈالر کے برابر ہے۔ بھارتی حکومت کے منصوبے کے مطابق چین اور پاکستان کے ساتھ جنگوں کے بعد ملک چھوڑ کر ... Read More »

بھارت ميں خونريز ٹرين حادثے کے بعد اصلاحات کے مطالبات

بھارت ميں امرتسر کے قريب رونما ہونے والے خونريز ٹرين حادثے کے بعد ريلوے ٹريکس کو محفوظ بنانے اور اس نظام ميں اصلاحات کے مطالبات سامنے آ رہے ہيں۔ امرتسر کے چيف ميڈيکل آفيسر ہرديپ سنگھ نے انسٹھ افراد کی ہلاکت اور نوے کے زخمی ہونے کی تصديق کر دی ہے۔ ان کے بقول فی الحال صرف پچيس لاشوں کی شناخت مکمل ہو سکی ہے۔ بھارتی ميڈيا ميں ہلاک شدگان کی تعداد اکسٹھ بتائی جا رہی ہے۔ شمالی بھارت ميں امرتسر کے قريب مسافر ٹرين کا يہ حادثہ جمعے کے روز پيش آيا۔ ايک ہندو تہوار کے موقع پر درجنوں افراد ريل کی پٹری پر اور اس کے آس پاس بيٹھے تھے کہ تيز رفتار ٹرين کی زد ميں آ گئے۔ پوليس کے مطابق ٹريک پر بيٹھے لوگ پٹاخوں کے شور و غل کی وجہ سے جلندر امرتسر ايکسپريس کی آواز نہ سن سکے۔ حکام نے بتايا ہے کہ متعدد لاشيں اس قدر بری حالت ميں ہيں کہ ان کی شناخت ميں کافی وقت لگ سکتا ہے۔ اس واقعے کے بعد ہلاک شدگان اور زخميوں کی اتنی بڑی تعداد امرتسر پہنچی کہ شہر کے مرکزی ہسپتال ميں جگہ کم پڑ گئی۔ اطلاعات ہيں کہ چند ہلاک شدگان کو ہسپتال سے باہر بھی رکھنا پڑا۔ ہلاک ہونے والوں کی آخری رسومات ہفتے کے روز ادا کر دی گئيں۔ دريں اثناء اس حادثے کے بعد حکام کی جانب سے کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات سامنے آ رہے ہيں۔ رياست پنجاب کے گورنر وی پی سنگھ بدنور نے کہا ہے کہ جنہيں سزا ملنی چاہيے، انہيں سخت سزا دی جائے گی۔ بھارت ميں چھ سال قبل جاری ہونے والی ايک رپورٹ ميں ريلوے ٹريکس پر سالانہ بنيادوں پر پندرہ ہزار افراد کی اموات پر سخت تنقيد کی گئی تھی۔ نئی دہلی حکومت نے ريلوے نظام ميں بہتری کے ليے 137 بلين ڈالر مختص کر رکھے ہيں، جنہيں پانچ برسوں ميں خرچ کيا جانا ہے۔

بھارت ميں امرتسر کے قريب رونما ہونے والے خونريز ٹرين حادثے کے بعد ريلوے ٹريکس کو محفوظ بنانے اور اس نظام ميں اصلاحات کے مطالبات سامنے آ رہے ہيں۔ امرتسر کے چيف ميڈيکل آفيسر ہرديپ سنگھ نے انسٹھ افراد کی ہلاکت اور نوے کے زخمی ہونے کی تصديق کر دی ہے۔ ان کے بقول فی الحال صرف پچيس لاشوں کی ... Read More »

پیراڈائز پیپرز کا انڈیا کنیکشن

حال ہی میں جاری کیے گئے پیراڈائز پیپرز میں ایک مرکزی وزیر اور فلم اداکار امیتابھ بچن سمیت 714 بھارتی شامل ہیں۔ یہ انکشافات قوم پرست بی جے پی حکومت کے لیے ایک دہچکا قرار دیا گیا ہے۔ پیراڈائز پیپرز کی اشاعت کے بعد سب سے بڑی اپوزیشن کانگریس پارٹی نے مرکزی وزیر جینت سنہا سے استعفی اور حکومت سے پورے معاملے کی اعلی سطحی انکوائری کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ انکشافات نریندر مودی حکومت کے لئے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جارہا ہے۔ کنسورشیم آف انویسٹیگیٹو جرنلسٹس (آئی سی آئی جے) کی بھارتی شریک کار انگلش روزنامہ انڈین ایکسپریس ہے۔ اس اخبار میں شائع پیراڈائز پیپرز کے مطابق جن 180 ملکوں کو تفتیش میں شامل کیا گیا ‘ بھارت ان میں انیسویں نمبر پر ہے۔ ’پاناما پیپرز‘ منظر عام پر لانے والوں کے لیے پولٹزر پرائز پاناما پیپرز، طاقتور شخصیات کے خفیہ اثاتے اور تفصیلات پاناما پیپرز: بھارتیوں کے ملوث ہونے کی انکوائری کا حکم آئس لینڈ کے وزیراعظم پاناما لیکس کا پہلا شکار پیراڈائز پیپرز کے مطابق مشہورفلم اداکار امیتابھ بچن نے سال2000-2002 کے درمیان بلیک منی کو قانونی بنانے والی فرضی کمپنیوں کی مدد سے ٹیکس ہیون کے طورپر برمودا میں ایک فرضی کمپنی میں شیئرز خریدے تھے۔ یہ وہ دور تھا جب امیتابھ نے مشہور ٹی وی شو’کون بنے گا کروڑ پتی‘ کے پہلے ایڈیشن کی میزبانی کی تھی۔ انہوں نے جلوہ نامی میڈیا کمپنی میں پیسہ لگایا اور اس کے پارٹنر بنے۔ یہ کمپنی 2005 میں مبینہ طورپر بند کردی گئی۔ رپورٹ کے مطابق امیتابھ بچن نے اپنی آمدنی پرٹیکس دینے سے بچنے کیلئے ایک ایسی کمپنی میں پیسہ لگایا جس کا شاید کبھی وجود ہی نہیں تھا۔ حالانکہ امیتابھ بچن نے ایسے الزامات کی ہمیشہ تردید کی ہے۔ پیراڈائز پیپرز کے انکشاف سے ایک دن قبل ہی اپنے بلاگ میں انہوں نے لکھا کہ’اس سے قبل بوفورز اسکینڈ ل اورپاناماپیپرز میں بھی ان کانا م آیا تھا اور ان سے وضاحت طلب کی گئی تھی ۔ میں نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے میرا نام استعمال کئے جانے پر جواب طلب کیا تھا لیکن جواب کبھی نہیں ملا۔‘ امیتابھ نے مزید لکھا ہے کہ ’وہ ہمیشہ ایک ذمہ دار شہری ہیں اور ہمیشہ ہرتفتیش میں تعاون کیا ہے۔‘ پیراڈائز پیپرز میں ایک اور بھارتی فلمی اداکار سنجے دت کی بیوی مانیتا دت(سابقہ نام دل نشیں) کا بھی ذکر ہے۔ مانیتا دت نے 2003 میں فلم گنگا جل میں ایک آئٹم سانگ کیا تھا۔ فی الحال وہ سنجے دت پروڈکشنز پرائیوٹ لمیٹیڈ کے بورڈ کی اہم رکن کے علاوہ کئی دیگر کمپنیوں کے بورڈ میں شامل ہیں۔ رپورٹ میں انہیں بہاماز کی ایک کمپنی کا ڈائریکٹر بتایا گیا ہے۔ مرکزی وزیر جینت سنہا نے پیراڈائز پیپر س میں اپنا نام آنے کے بعد آج کئی وضاحتی ٹویٹ کئے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کے تمام لین دین قانونی اوردرست ہیں۔ جینت سنہا پہلے فنانس کے نائب وزیر تھے۔ حکمراں بی جے پی کے ممبر پارلیمان رویندر کشورسنہا نے پیراڈائز پیپرس میں اپنا نام آنے کے بعد خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ دریں اثنا دہلی میں حکمراں جماعت عام آدمی پارٹی کے سینئر رہنما آشوتوش کا کہنا ہے کہ پاناما پیپرس کے بعد پیراڈائز پیپرس نے بھارتی سسٹم میں پائی جانے والی خامیوں کو اجاگر کردیا ہے۔

حال ہی میں جاری کیے گئے پیراڈائز پیپرز میں ایک مرکزی وزیر اور فلم اداکار امیتابھ بچن سمیت 714 بھارتی شامل ہیں۔ یہ انکشافات قوم پرست بی جے پی حکومت کے لیے ایک دہچکا قرار دیا گیا ہے۔ پیراڈائز پیپرز کی اشاعت کے بعد سب سے بڑی اپوزیشن کانگریس پارٹی نے مرکزی وزیر جینت سنہا سے استعفی اور حکومت سے ... Read More »

بھارت میں سو سالہ خاتون کا ریپ، معمر خاتون انتقال کر گئیں

بھارتی پولیس کا کہنا ہے کہ ملک کے شمالی حصے میں پيش آنے والے ايک واقعے ميں شراب کے نشے میں مدہوش ايک شخص نے ایک سو سالہ بوڑھی خاتون کے ساتھ جنسی زيادتی کی، جس کے باعث یہ خاتون انتقال کر گئی ہیں۔ یہ واقعہ اتوار کو رات گئے بھارتی رياست اتر پردیش کے ضلع میرٹھ میں پیش آیا۔ جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے سے فون پر بات کرتے ہوئے مقامی پولیس افسر راجیش کمار کا کہنا تھا، ’’یہ بوڑھی خاتون اپنے گھر کے برآمدے میں سوئی ہوئی تھیں، جب نشے میں دھت ایک شخص نے انہيں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ خاتون کو طبی امداد کے لیے ہسپتال لے جایا گیا جہاں وہ پیر کے روز انتقال کر گئیں۔‘‘ بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنسی زیادتی کے جرم کا مرتکب ہونے والے اس شخص کی عمر بیس برس سے زيادہ ہے اور اسے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ملزم پر ریپ اور قتل کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ میڈیا رپورٹوں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملزم نے اس جرم کے ارتکاب سے انکار کیا ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے بھارت خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے جرائم کے حوالے سے خبروں میں ہے۔ سن 2012 میں بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں ایک طالبہ کے ساتھ گینگ ریپ کے واقعے نے ملک بھر میں شدید غم و غصے کی فضا کو جنم دیا تھا اور اس حوالے سے قوانین بھی سخت تر بنائے گئے تھے۔ تھامسن روئٹرز فاؤنڈیشن کے ایک تازہ جائزے کے مطابق خواتین پر جنسی حملوں کے لحاظ سے نئی دہلی کو دنیا کے بد ترین اور غیر محفوظ ترین شہروں میں سے ایک قرار دیا گیا ہے۔ رواں برس کے آغاز ہی میں نئی دہلی پولیس کی جانب سے اعداد و شمار جاری کیے گئے تھے جن کے مطابق بھارتی دارالحکومت میں گزشتہ برس ہر چار گھنٹے میں ایک خاتون جنسی زیادتی کا شکار ہوئی۔ سن 2016 میں ریپ کے 2155 مقدمات درج کیے گئے تھے۔

بھارتی پولیس کا کہنا ہے کہ ملک کے شمالی حصے میں پيش آنے والے ايک واقعے ميں شراب کے نشے میں مدہوش ايک شخص نے ایک سو سالہ بوڑھی خاتون کے ساتھ جنسی زيادتی کی، جس کے باعث یہ خاتون انتقال کر گئی ہیں۔ یہ واقعہ اتوار کو رات گئے بھارتی رياست اتر پردیش کے ضلع میرٹھ میں پیش آیا۔ ... Read More »

بھارت میں سوئس سیاحوں کی بری طرح پٹائی

آگرہ میں تاج محل سے کچھ ہی دوری پر واقع فتح پور سیکری میں ایک سوئس جوڑے کو بری طرح مارا پیٹا گیا ہے۔ اس واقعے کے بعد بھارت میں غیر ملکی سیاحوں کی سلامتی پر ایک بار پھر سوالات کھڑے ہوگئے ہیں۔ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے اس واقعے کا فوراً نوٹس لیتے ہوئے اترپردیش کی یوگی آدیتیہ ناتھ حکومت سے تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔ دوسری طرف وزیر سیاحت کے جے الفونس نے سوئٹزرلینڈ کے شہریوں کے ساتھ مار پیٹ کی اس واردات کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے واقعات سے ملک کے امیج پر منفی اثر پڑتا ہے اور بھارت کو سیاحوں کے لئے پرکشش مقام کے طور پر پیش کرنے کی حکومت کی کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔ اطلاعات کے مطابق سوئٹزرلینڈ کے لوزانے شہر کے 24 سالہ کوئنٹن جرمی کلارک اپنی ہم عمر خاتون دوست ماری ڈروز کے ساتھ آگرہ میں محبت کی علامت تاج محل دیکھنے کے بعد وہاں سے تقریباً چالیس کلومیٹر دور تاریخی مقام فتح پور سیکری گئے تھے۔ فتح پور سیکری میں تاریخی بلند دروازہ ہے جسے مغل بادشاہ اکبر نے سولہویں صدی میں تعمیرکرایا تھا۔گوکہ یہ تاج محل کی طرح مشہور نہیں ہے لیکن پھر بھی بڑی تعداد میں ملکی اور غیرملکی سیاح اسے دیکھنے آتے ہیں۔ خواتین پر جنسی حملے، دنیا کے بدترین شہر یہ ہیں فتح پور سیکری کی مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ کلارک اور ڈروز فتح پور سیکری میں ریلوے اسٹیشن کے نزدیک گھوم رہے تھے کہ مقامی نوجوانوں کے ایک گروپ نے ان کا پیچھا کرنا شروع کر دیا اور ان پر فقرے کسنے لگے۔ کلارک کی مخالفت کے باوجود ان لڑکوں نے پیچھا کرنا بند نہ کیا اور ان کی مسلسل تصویریں اتارتے رہے جبکہ انہوں نے لڑکی ڈروز کے اپنی گرفت میں لینے کی بھی کوشش کی۔ جب کلارک نے ان لوگوں کو سمجھانا چاہا تو یہ لوگ ان دونوں پر ٹوٹ پڑے۔ پولیس کے مطابق ان دونوں کو بری طرح مارا پیٹا گیا۔ اس سے کلارک کا سر پھٹ گیا اور ڈروز کو بھی کافی چوٹیں آئیں۔ دونوں خون میں لت پت سڑک پر گر پڑے۔ پولیس کے مطابق وہاں سے گذرنے والے نے بھی ان دونوں کی مدد کرنے کے بجائے موبائل سے ان کی تصویریں بناتے رہے۔ مقامی پولیس کو جب اس کی اطلاع ملی تو انہیں تھانے لے گئی۔ دونوں کو بعد میں علاج کے لئے دہلی کے اپولو ہسپتال میں منتقل کر دیا گیا۔ اپولو اسپتال کے نیورو سرجن ڈاکٹر راجندر پرساد کے مطابق کلارک فی الحال آئی سی یو میں ہیں۔ انہیں سماعت میں بھی پریشانی ہو رہی ہے۔ لیکن ابھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ آیا ان کی قوت سماعت ہمیشہ کے لئے متاثر ہوگئی ہے۔ ڈاکٹر پرساد کے مطابق ڈروز کا ہاتھ ٹوٹ گیا ہے۔ گوکہ انہیں ہسپتال سے چھٹی دے دی گئی ہے لیکن وہ فی الحال اپنے دوست کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ واردات کے بعد سے سوئس جوڑا صدمے میں ہے۔ اس دوران وزارت خارجہ کے افسران نے ہسپتال جا کر سوئٹزرلینڈ کے جوڑے کی خیریت دریافت کی۔ وزیر خارجہ سشما سوراج بھی ان سے ملاقات کے لئے جانے والی ہیں۔ پولیس نے واردات کے بعد مقدمہ درج کر لیا ہے اور چار ملزمین میں سے ایک کو گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے۔ بھارت میں سیاحوں کے ساتھ بدسلوکی اور زدوکوب کا یہ معاملہ پہلا نہیں ہے۔ اکثر ایسے واقعات خبروں کی زینت بنتے رہتے ہیں۔ 2014ء میں آگرہ کے ہی ایک ہوٹل منیجر پر ایک جرمن خاتون کے ساتھ دست درازی کا معاملہ درج کیا گیا تھا۔ اس سے قبل سن 2007 میں آگرہ میں ہی دو جاپانی سیاحوں کی اجتماعی عصمت دری کی گئی تھی۔ گزشتہ ہفتے دہلی میں ایک غیر ملکی طالب علم کے ساتھ جنسی استحصال کا معاملہ سامنے آیا تھا۔ دارالحکومت میں ہی گزشتہ سال ایک بیلجین خاتون کے ساتھ دست درازی کے بعد ملزم کو گرفتار کیا گیا تھا جب کہ اس سال کے اوائل میں ڈنمارک کی ایک خاتون کے ساتھ لوٹ مار اور عصمت دری کے واقعے کے بعد غیر ملکی سیاحوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ گیا ہے۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے اعداو شمار کے مطابق غیر ملکی سیاحوں کے لئے دہلی سب سے غیر محفوظ شہر ہے۔ 2014ء میں غیر ملکیوں کے ساتھ سنگین جرائم کے 164 مقدمات درج کئے گئے تھے۔ گوا میں 73 اترپردیش میں 66 اور راجستھان میں 59 مقدمات درج ہوئے تھے۔2014ء میں تین غیر ملکی سیاحوں کو اغوا بھی کر لیا گیا تھا۔ ایک مقامی ٹور آپریٹر کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات سے سیاحوں میں خوف پیدا ہوتا ہے اور بالخصوص خاتون سیاح دہلی آنے سے ڈرتی ہیں۔ دہلی کے ایک پولیس اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ غیر ملکی شہریوں کو اس لئے آسانی سے نشانہ بنا لیا جاتا ہے کیوں کہ وہ شہر سے پوری طرح واقف نہیں ہوتے۔ ان کا کہنا تھا، ’’ہم غیر ملکیوں کے خلاف کسی بھی کیس پر ترجیحی بنیاد پرکارروائی کرتے ہیں اور اسے جلد سے جلد حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم ہر غیر ملکی کی سلامتی کو بھی یقینی بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔‘‘

آگرہ میں تاج محل سے کچھ ہی دوری پر واقع فتح پور سیکری میں ایک سوئس جوڑے کو بری طرح مارا پیٹا گیا ہے۔ اس واقعے کے بعد بھارت میں غیر ملکی سیاحوں کی سلامتی پر ایک بار پھر سوالات کھڑے ہوگئے ہیں۔ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے اس واقعے کا فوراً نوٹس لیتے ہوئے اترپردیش کی یوگی آدیتیہ ... Read More »

شراب پر سخت ترین پابندی لیکن جیلیں شرابیوں سے بھری ہوئی

دس کروڑ کی آبادی والی بھارتی ریاست بہار میں شراب نوشی اور شراب فروشی پر پابندی کے انتہائی سخت قوانین نافذ ہیں، ریاستی سرحدوں کی کڑی نگرانی کی جاتی ہے لیکن پھر بھی جیلیں شرابیوں اور شراب بیچنے والوں سے بھری ہوئی ہیں۔ اس بارے میں نیوز ایجنسی اے ایف پی نے منگل چوبیس اکتوبر کے روز اپنے ایک تفصیلی مراسلے میں لکھا ہے کہ پریم پرکاش ریاست بہار کے ایکسائز کے محکمے کے ایک سپرنٹنڈنٹ ہیں، جو اپنے ساتھ کئی اہلکاروں کی ایک ٹیم لیے بہار اور ہمسایہ ریاست جھاڑکھنڈ کے درمیان راجولی چیک پوائنٹ پر وہاں سے گزرنے والے افراد، بسوں، گاڑیوں، حتیٰ کہ رکشوں تک کی مکمل تلاشی لیتے ہیں۔ شرابی شوہروں کی پٹائی کے لیے بلے فراہم شراب کے بغیر بھارتی ہائی ویز کا پہلا دن شراب کے خلاف انوکھا مظاہرہ ان اہلکاروں کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ بھات کے دوسرے صوبوں سے آنے والے لوگ اپنے ساتھ شراب نہ لا سکیں۔ لیکن ان کی یہی کوششیں راجولی چیک پوائنٹ پر بسوں اور گاڑیوں کی طویل قطاروں کی وجہ بنتی ہیں اور راجولی تو بہار اور جھاڑ کھنڈ کے درمیان بہت سے سرحدی چوکیوں میں سے صرف ایک چوکی ہے۔ بہار بھارت کا ایک ایسا صوبہ ہے، جو بہت غریب ہے اور جس کی آبادی 100 ملین کے قریب ہے۔ اس ریاست میں شراب پر پابندی کے ایسے قوانین نافذ ہیں، جو پورے بھارت میں اپنی نوعیت کے سخت ترین قوانین قرار دیے جاتے ہیں۔ اس وقت اس ریاست کی مختلف جیلوں میں کم از کم بھی 71 ہزار افراد قید ہیں، ان میں سے کچھ تو شراب نوشی یا شراب اپنے قبضے میں رکھنے کے جرم میں پانچ سال تک کی سزائے قید کاٹ رہے ہیں۔ اے ایف پی کے مطابق اس بھارتی ریاست میں شراب نوشی اور شراب فروشی پر پابندی کے حوالے سے اس قانون سے پہلے اور بعدکی صورت حال میں وہ سب کچھ زیادہ نظر نہیں آتا، جس کی ریاستی حکومت اور کئی سماجی ماہرین نے امید کی تھی۔ پاکستان میں شراب کی بڑھتی ہوئی مانگ پاکستان میں زہریلی شراب پینے سے کم از کم چوبیس افراد ہلاک بہار میں شراب نوشی اور اس کے کاروبار پر پابندی سے متعلق قانون سازی گزشتہ برس کی گئی تھی۔ تب سے اب تک پولیس مختلف کارروائیوں کے دوران اب تک قریب ایک ملین لٹر شراب اپنے قبضے میں لے چکی ہے۔ لیکن مقامی میڈیا کے مطابق اس میں سے کافی زیادہ شراب حکومتی قبضے میں ہونے کے باوجود غائب ہو چکی ہے اور حکام اب یہ چھان بین کر رہے ہیں کہ ایسا کیوں کر ہوا۔ بہار میں شراب پر پابندی کے ریاستی قانون کا احترام نہ کرنے کے ذمے دار اگر شراب نوشی کے عادی لاکھوں عام شہری بھی ہیں، تو وہ ریاستی اہلکار بھی بظاہر بہت معصوم نہیں، جنہوں نے سرکاری قبضے میں لی گئی شراب کا ایک بڑا حصہ غائب ہو جانے پر یہ کہا کہ ’یہ شراب چوہے پی گئے تھے‘۔ اسی طرح گزشتہ ماہ شراب فروشی کے الزام میں گرفتار کیے گئے چھ مبینہ ملزم اس وقت ایک جیل سے فرار ہو گئے تھے، جب اس جیل کے محافظوں کی کچھ دیر کے لیے ’آنکھ لگ گئی تھی‘۔ اس پر میڈیا میں لگائے جانے والےا لزامات کے بعد حکام کو ان دعووں کی تردید کرنا پڑی کہ جیل کے ان محافظوں نے خود بھی شراب پی رکھی تھی۔ تھائی لینڈ میں ’گناہ ٹیکس‘ نافذ ہو گیا شراب نوشی کے بعد گاڑی چلانے پر رونی گرفتار سویڈن میں افغان مہاجرین ہیروئن کی لت کا شکار ہوتے ہوئے بہار میں شراب پر پابندی کے مخالف بھی کافی ہیں۔ کئی شہریوں کو پولیس کی ان کارروائیوں سے بھی شکایت ہے، جو وہ شراب نوشی اور شراب فروشی کرنے والوں کے خلاف کرتی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ پولیس کی ایسی تمام کارروائیاں ہمیشہ شفاف اور بدعنوانی سے پاک نہیں ہوتیں۔ اس کے باوجود ریاستی حکومت کے لیے شراب پر پابندی کا قانونی فیصلہ ووٹروں کی حمایت میں اضافے کی وجہ بنا ہے۔ ریاستی وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی، جنہوں نے اس پابندی کو متعارف کرانے میں کلیدی کردار ادا کیا، ہندو قوم پرست بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی ذاتی طور پر تعریف کر چکے ہیں۔ اس قانون کے نفاذ کے بعد مودی نے اس پابندی اور نتیش کمار کے بارے میں کہا تھا، ’’یہ قانون ہماری آئندہ نسلوں کو بچانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ اس لیے ہر کسی کو ان (وزیر اعلیٰ نتیش کمار) کی حمایت کرنی چاہیے۔‘‘ بھارت: سگریٹ اور شراب نوشی میں کمی ایران میں سالانہ چھ کروڑ لٹر شراب پی جاتی ہے، سرکاری رپورٹ بہار میں اس پابندی کی عوامی اکثریت کی طرف سے حمایت کے بعد اس کے ملکی سطح پر اثرات بھی نظر آنے لگے ہیں۔ اب مدھیہ پردیش، جھاڑ کھنڈ، تامل ناڈو اور راجستھان جیسی دیگر بھارتی ریاستوں میں بھی حکومتیں یا تو ایسی قانون سازی کے وعدے کر چکی ہیں یا اس کی حامی ہیں۔ دوسری طرف بھارتی جریدے ’کاروان‘ کے پولیٹیکل ایڈیٹر ہرتوش سنگھ بال کہتے ہیں، ’’بھارت کے غریب گھرانوں میں شراب نوشی ایک بہت بڑا سماجی مسئلہ ہے۔ لیکن جس طرح نتیش کمار حکومت نے یہ قانون منظور کرایا، وہ ایک بہت پیچیدہ مسئلے کو سیاسی طور پر بہت عجلت میں حل کرنے کی ایک ایسی کوشش تھی، جس کے اب نتائج بھی دیکھنے میں آ رہے ہیں۔‘‘

دس کروڑ کی آبادی والی بھارتی ریاست بہار میں شراب نوشی اور شراب فروشی پر پابندی کے انتہائی سخت قوانین نافذ ہیں، ریاستی سرحدوں کی کڑی نگرانی کی جاتی ہے لیکن پھر بھی جیلیں شرابیوں اور شراب بیچنے والوں سے بھری ہوئی ہیں۔ اس بارے میں نیوز ایجنسی اے ایف پی نے منگل چوبیس اکتوبر کے روز اپنے ایک تفصیلی ... Read More »

کشمیر پر بات چيت کی پیش کش ’محض فریب ہے‘

بھارتی حکومت نے پیر کی شام اچانک اعلان کیا ہے کہ وہ کشمیر کے مسئلے کے حل کے لیے سبھی ’اسٹیک ہولڈرز‘ یعنی تمام فریقین کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہے۔ کشمیر کے حوالے سے نریندر مودی کی حکومت کا موقف اب تک بہت سخت رہا ہے۔ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ اس کے لیے ملک کے خفیہ ادارے انٹلیجنس بیورو ( آئی بی) کے سابق سربراہ دنیشور پرساد کو حکومت کی طرف سے ثالث مقرر کیا گيا ہے جو کشمیر میں کسی سے بھی بات کرنے کے مجاز ہیں۔ مرکزی حکومت اسے سیاسی مسئلہ تسلیم کرنے کے بجائے صرف امن و قانون کا مسئلہ بتاتی رہی ہے اور گزشتہ تین برس سے اس کی پالیسی یہ تھی کہ کشمیر کے علیحدگی پسندوں سے بات چيت نہیں ہوسکتی۔ اس نے ریاست میں مخالف آوازوں کو کچلنے کے لیے خفیہ ایجنسیوں اور فوج کو سختی برتنے کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔ اس کا خيال تھا کہ علیحدگی پسندوں سے سختی سے نمٹنے اور پاکستان کی مداخلت پر قابو پا لینے سے مسئلہ کشمیر حل ہو جائے گا۔ یہ پالیسی اب بھی جاری ہے لیکن حقیقتاﹰ یہ ناکام ثابت ہوئی ہے اور حالات اب پہلے سے کہیں زیادہ خراب ہیں۔ حکومت بھی اس بات سے آگاہ ہے کہ کشمیر میں اتنی بے چینی شاید اس سے پہلے کبھی بھی نہیں تھی جتنی اس وقت پائی جاتی ہے۔ کشمیر کی ہندو نواز سیاسی جماعتوں نے مذاکرات کی پیش کش کا خیر مقدم کیا ہے۔ ریاست کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے حکومت کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا حل صرف مذاکرات سے ہی ممکن ہے۔ ان کا کہنا تھا، ’’کشمیری عوام جن حالات سے گزر رہے ہیں، ایسے میں بات چیت کا آغاز بہت ضروری ہے۔ مذاکرات سے ہی لوگوں کی مشکلات دور ہوں گی۔‘‘ اپوزیشن نیشنل کانفرنس کے رہنما عمر عبداللہ نے بھی حکومت کی بات چیت کی پیش کش کا خیر مقدم کیا ہے تاہم انہوں نے اپنے ایک ٹویٹر پیغام میں حکومت پر طنز کرتے ہوئے لکھا ہے، ’’کشمیر کے مسئلے کو ایک سیاسی مسئلہ تسلیم کر لینا ان سبھی کی شکست فاش ہے، جو صرف طاقت کے استعمال کو اس مسئلے کا حل سمجھتے ہیں۔‘‘ عمر عبداللہ کا کہنا تھا کہ مذاکرات ہونے چاہئیں اور کشمیر پر بات چیت میں پاکستان کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔ کشمیر کی ہندو نواز سیاسی جماعتوں نے مذاکرات کی اس پیش کش کو خوش آئند بتایا ہے تاہم علیحدگی پسندوں کی جانب سے اس پر جو سرد مہری اختیار کی گئی ہے، اس سے لگتا ہے کہ وہ اس پیش کش کو مسترد کر چکے ہیں۔ ڈی ڈبلیو نے کشمیر کے علیحدگی پسند رہنماؤں سے بات چیت کی کوشش کی تاہم کسی نے بھی فون کال کا جواب نہیں دیا۔ وادی کشمیر کے دانشوروں، انسانی انسانی کے کارکنوں اور دیگر عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اعلانات پہلے بھی کئی بار ہوتے رہے ہیں لیکن ان کے نتائج بہت مایوس کن رہے ہیں۔ کشمیر یونیورسٹی میں شعبہ سیاست سے وابستہ ایک پروفیسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ڈی ڈبلیو سے بات چیت میں کہا، ’’تاریخی طور پر تو یہ ثابت ہے کہ یہ حکومت کی طرف سے بسوقت گزارنے کی ایک کوشش ہے۔ عوامی سطح پر بھی اس کی کوئی خاص اہمیت نہیں اور نہ ہی اس کا کوئی اثر پڑتا ہے کیونکہ اس طرح کے اعلانات بہت بار پہلے بھی ہو چکے ہیں لیکن حقیقت میں ہوتا کچھ بھی نہیں ہے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ مہینوں میں حکومت نے بہت سے لوگوں کو گرفتار کیا ہے تو ہو سکتا ہے کہ خفیہ ایجنسیوں کو ان سے کچھ ہاتھ لگا ہو کہ اس وقت بات چیت کرنے سے کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے، ’’شاید اسی لیے اس کا اعلان کیا گيا ہے۔‘‘ دارالحکومت دہلی میں بھی سیاسی اور سماجی حلقوں نے مذاکرات کا خیرمقدم کیا ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ آخر حکومت گزشتہ تین برسوں سے کیا کر رہی تھی؟ کشمیر مسئلے کے حل کے لیے کانگریس کی حکومت نے پہلے جو تین ثالث مقرر کیے تھے ان میں سے ایک ایم ایم انصاری نے حکومت کے اس اعلان کو فریب کا نام دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے، ’’ایک پولیس افسر کی بطور ثالث تقرری اس بات کی غماز ہے کہ حکومت ’کشمیریوں کو گولی یا گالی سے نہیں بلکہ گلے لگانے سے بات بنے گی‘ کے نعرے پر یقین نہیں رکھتی۔ حکومت اس مسئلے کو اب بھی سکیورٹی اور انٹلیجنس کے نظریے سے ہی دیکھ رہی ہے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا، ’’یہ بالکل ایسے ہی ہے کہ دل کے مرض کے علاج کے لیے ہڈی والے ڈاکٹر کے پاس جایا جائے۔ یہ ایک فریب ہے، بلکل بے کار عمل ہے۔‘‘ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں مستقل فوجی آپریشنوں، مسلسل گرفتاریوں، سکیورٹی فورسز کی جانب سے پرتشدد کارروائیوں اور علیحدگی پسندوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن جیسے اقدامات سے خوف و ہراس کا ماحول ہے، جس کے سبب لوگوں میں سخت مایوسی پیدا ہوئی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہی وجہ ہے کہ بھارتی حکومت کی اس پیش کش پر سرد مہری پائی جاتی ہے۔ انسانی حقوق کی علمبردار تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس وقت ہر عمر اور طبقے کے سینکڑوں کشمیری اس الزام میں جیلوں میں پڑے ہیں کہ انہوں نے بھارت مخالف مظاہروں میں حصہ لیا تھا جبکہ بیشتر علیحدگی پسند رہنما بھارتی ایجنسیوں کی حراست میں ہیں۔ سید علی گیلانی جیسے رہنما کئی برسوں سے گھر میں نظر بند ہیں جبکہ میر واعظ عمر فاروق کو تاریخی جامع مسجد میں جمعے کے اجتماع سے خطاب کی اجازت تک نہیں ہے۔ مبصرین کے مطابق اس طرح کی سختیوں کے ماحول میں بات چیت کی پیش کش بے معنی ہے اور اس سے گراؤنڈ پر کوئی تبدیلی نہیں آنے والی ہے۔

بھارتی حکومت نے پیر کی شام اچانک اعلان کیا ہے کہ وہ کشمیر کے مسئلے کے حل کے لیے سبھی ’اسٹیک ہولڈرز‘ یعنی تمام فریقین کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہے۔ کشمیر کے حوالے سے نریندر مودی کی حکومت کا موقف اب تک بہت سخت رہا ہے۔ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ ... Read More »

Scroll To Top