You are here: Home » Tag Archives: بریگزٹ

Tag Archives: بریگزٹ

Feed Subscription

’بریگزٹ‘، برطانيہ کی سب سے تباہ کن حقيقت

’برطانوی پارلیمان میں بریگزٹ ڈیل کی عدم منظوری کی ذمہ داری صرف وزیر اعظم ٹریزا مے پر عائد ہوتی ہے‘۔ ڈی ڈبلیو کی تبصرہ نگار باربرا ویسل کے خیال میں اس ناکامی کے بعد مے کو استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ برطانوی پارلیمان میں بریگزٹ ڈیل کی عدم منظوری کے بعد وزیر اعظم ٹریزا مے کو مستعفی ہو جانا چاہیے تھا لیکن انہوں نے کہا ہے کہ وہ برطانیہ کے یورپی یونین سے علیحدگی کو یقینی بنانے تک اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش نہیں ہوں گی۔ مے نے کہا ہے کہ یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ بریگزٹ کو یقینی بنائیں کیونکہ وہ وزیر اعظم بنائی ہی اس مقصد کے لیے گئی تھیں۔ ڈی ڈبلیو کی تبصرہ نگار باربرا ویسل کے مطابق مے کے خلاف تحریک عدم اعتماد ناکام ہو جائے گی، کیونکہ قدامت پسند اقتدار پر اپنی گرفت کمزور نہیں ہونے دیں گے۔ تاہم قدامت پسندوں کا یہ رویہ برطانوی سیاست کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ مے شکست کی مستحق تھیں باربرا ویسل کے مطابق مے کی بریگزٹ ڈیل کی ناکامی کی ذمہ دار وہ خود ہی ہیں۔ وہ لکھتی ہیں کہ بریگزٹ کا معاملہ برطانوی سیاست میں ایک تقسیم کی وجہ بن چکا ہے۔ اس تناظر میں قدامت پسندوں کی صفوں میں بھی اختلافات نمایاں ہوتے جا رہے ہیں۔ باربرا ویسل کے مطابق برطانوی پارلیمان میں بریگزٹ ڈیل کی عدم منظوری دراصل ٹریزا مے کی سیاسی نااہلیت کی غمازی کرتی ہے۔ مے نے اس تمام کہانی میں صرف اپنے قریبی ساتھیوں کو ہی سامنے رکھا اور کسی دوسرے کی ایک نا سنی۔ یوں مے اپوزیشن اور اپنی ہی پارٹی کے اندر کئی اہم دھڑوں کا اعتماد نہ جیت سکیں۔ ویسل مزید لکھتی ہیں کہ مے نے بریگزٹ ڈیل کی تیاری اور اس کی منظوری کے مرحلوں میں برطانیہ میں مقیم یورپی ورکنگ کلاس کے خلاف ایک سخت لہجہ اختیار کیا، جو دراصل بحیثت مجموعی یورپ کے خلاف ہی دیکھا گیا۔ اس طرح وہ یورپی سطح پر بھی تنہا ہو گئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مے سربراہ حکومت کے عہدے کے لائق ہی نہیں ہیں۔ ڈی ڈبلیو کی تبصرہ نگار ویسل کے مطابق مے اس مخصوص صورتحال میں برطانیہ کی ویلفیئر یا مستقبل کے حوالے سے ذمہ داری کا مظاہرہ بھی نہیں کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بریگزٹ کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ بطور سیاستدان ٹریزا مے انتہائی تنگ نظر، ضدی، چھوٹے دماغ کی مالک اور تخیلاتی طاقت سے عاری معلوم ہوتی ہیں۔ ویسل کے مطابق برطانیہ کو ایک نئے سربراہ کی ضرورت ہے۔ تاہم اپوزیشن رہنما جیرمی کوربین ابھی تک وہ مقبولیت حاصل نہیں کر سکے ہیں کہ وہ وزیر اعظم بن سکیں۔ اس تناظر میں ویسل کہتی ہیں کہ بریگزٹ کے معاملے پر کسی اچھی خبر کی کوئی ضمانت نظر نہیں آتی۔ بریگزٹ کے سلسلے میں ہونے والی اب تک کی پیشرفت نے نہ صرف یورپی یونین کے اتحاد کو نقصان پہنچایا ہے بلکہ برطانیہ کو بھی منقسم کر دیا ہے۔

’برطانوی پارلیمان میں بریگزٹ ڈیل کی عدم منظوری کی ذمہ داری صرف وزیر اعظم ٹریزا مے پر عائد ہوتی ہے‘۔ ڈی ڈبلیو کی تبصرہ نگار باربرا ویسل کے خیال میں اس ناکامی کے بعد مے کو استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ برطانوی پارلیمان میں بریگزٹ ڈیل کی عدم منظوری کے بعد وزیر اعظم ٹریزا مے کو مستعفی ہو جانا چاہیے تھا ... Read More »

بریگزٹ مذاکرات میں اہم پیش رفت

برطانیہ اور یورپی یونین کے مابین راتوں رات ہونے والی ’ٹیلیفون ڈپلومیسی‘ کے ذریعے بریگزٹ مذاکرات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ اس حوالے سے یورپین کمیشن کے صدر ژاں کلود یُنکر کا کہنا تھا،’’میرا یہ ماننا ہے کہ ہم نے ایک اہم مرحلہ عبور کیا ہے جس کی بے حد ضرورت تھی۔‘‘ یہ بات انہوں نے برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہی۔ جرمنی اور یورپ جمود کے متحمل نہیں ہو سکتے یورو زون: آبادی 34 کروڑ، عالمی پیداوار میں حصہ 11 فیصد اس پریس کانفرنس میں ژاں کلود یُنکر کا یہ بھی کہا کہ وہ یورپی یونین کے رہنماؤں کو تجویز دیں گے کہ بریگزیٹ کے حوالے سے ہونے والی اس اہم پیش رفت کے بعد اب مستقبل میں تعلقات اور تجارت کے سلسلے میں بات چیت کا آغاز کریں۔ اس دوران یہ تو نہیں بتایا گیا کہ تجارتی حوالے سے آئرلینڈ کی سرحد کے بارے میں برطانیہ اور یورپی یونین کس طرح سے اپنے اختلاف کو سلجھائیں گے۔ تاہم اس سے اس جانب اشارہ ضرور دیا گیا کہ اصل میں اب سب باتوں کا انحصار برطانیہ اور یورپی یونین کے مابین آئندہ ہونے والےتجارتی مذاکرات پر ہو گا۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ یورپی رہنما چودہ دسمبر کو برسلز میں ملاقات کر رہے ہیں جس دوران امکان یہ ہی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ برطانیہ کے لیے مالی تصفیہ، آئرلینڈ کی سرحدی حیثیت اور بریگزٹ کے بعد شہری حقوق جیسے معاملات پر اب تک ہونے والی پیش رفت پر اعتماد کا اظہار کریں گے۔ اس کے بعد مذکرات کا اگلا مرحلہ شروع کیا جا سکے گا۔ اس سے قبل بریگزٹ مذاکرات کو اگلے مرحلے تک پہنچانے کے لیے برطانیہ اور یورپی اتحاد کسی معاہدے پر پہنچنے میں ناکام ہو گئے تھے۔ اس کی وجہ، برطانیہ کی مخلوط حکومت کی کلیدی پارٹی، ڈیموکریٹک یونینسٹ پارٹی، ڈی یو پی کے آئرلینڈ کے سرحدی معاملات پر رعایت دینے سے انکار تھی۔ برطانیہ شمالی آئرلینڈ کے یورپی اتحاد کی ’کسٹمز یونین‘ اور ’سنگل مارکیٹ‘ رہنے سے متعلق نام کے سوا تقریباً ہر بات ماننے پر تیار تھا لیکن ڈی یو پی کی رہنما آرلین فوسٹر کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت ایسے قواعد کو تسلیم نہیں کرے گی جو شمالی آئرلینڈ کو برطانیہ سے الگ کرتے ہوں۔ اس اختلاف کے بعد مذاکرات ناکام ہو گئے تھے۔ مستقبل کا ڈیجیٹل یورپ کیسا ہو گا؟ ای یو رہنماؤں کی سمٹ بریگزٹ کے خلاف لندن میں ہزارہا شہریوں کا احتجاجی مظاہرہ

برطانیہ اور یورپی یونین کے مابین راتوں رات ہونے والی ’ٹیلیفون ڈپلومیسی‘ کے ذریعے بریگزٹ مذاکرات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ اس حوالے سے یورپین کمیشن کے صدر ژاں کلود یُنکر کا کہنا تھا،’’میرا یہ ماننا ہے کہ ہم نے ایک اہم مرحلہ عبور کیا ہے جس کی بے حد ضرورت تھی۔‘‘ یہ بات انہوں نے برطانوی وزیر ... Read More »

یورپی یونین سمٹ: بریگزٹ اور کاتالونیا کو اہمیت حاصل رہے گی

یورپی لیڈروں کا اجلاس برسلز میں انیس اکتوبر سے شروع ہو گیا ہے۔ اس اجلاس میں کئی دوسرے موضوعات کے علاوہ بریگزٹ مذاکرات اور کاتالونیا کے بحران کو مرکزیت حاصل ہونے کا واضح امکان محسوس کیا گیا ہے۔ جمعرات انیس اکتوبر سے شروع ہونے والی دو روزہ سمٹ میں بریگزٹ مذاکرات پر یونین کے مذاکرات کار مشیل بارنیئر شریک لیڈران کو خصوصی بریفنگ دیں گے۔ یورپی یونین اور برطانیہ کے درمیان بریگزٹ مذاکرات اِس وقت پیچیدگی کا شکار ہو کر رہ گئے ہیں۔ اسی اجلاس میں شرکت کے لیے جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے برسلز پہنچ کر کہا ہے کہ مذاکرات میں کچھ حوصلہ افزا اشارے سامنے آئے ہیں اور امید ہے کہ اُن کی بنیاد پر مذاکراتی عمل آگے بڑھ سکے گا فلسطینی علاقوں میں تمام یہودی بستیاں غیر قانونی، یورپی یونین ممکنہ آزادی کے بعد کاتالونیا کا یورپی یونین میں مستقبل یورپی پارلیمان کے ارکان پناہ کے مشترکہ قوانین بنانے پر متفق ہسپانوی پولیس کے ’اقدامات‘ غیر منصفانہ ہیں، کاتالونیا حکومت برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مَے سمٹ میں شرکت کے لیے برسلز پہنچ گئی ہیں۔ وہ آج شام یورپی لیڈروں پر اپنا موقف واضح کریں گی۔ برسلز پہنچنے پر انہوں نے مذاکرات کے دوران برطانیہ میں کام کرنے والے یورپی شہریوں اور یونین کے رکن ملکوں میں بسے برطانوی شہریوں سے جڑے معاملات کو ترجیحی بنیاد پر حل کرنے کو اہم قرار دیا۔ بریگزٹ مذاکرت میں تجارت کے علاوہ شہریوں کے حقوق اور مالی ادائیگیوں پر مذاکرات کاروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ سمٹ کا ایک اور موضوع کاتالونیا کا بحران ہے۔ جرمن چانسلر اور فرانسیسی صدر ایمانویل ماکروں نے تنازعے میں ہسپانوی حکومت کی حمایت ظاہر کی ہے۔ آج سے شروع ہونے والی اس سمٹ میں اسپین کے قدامت پسند وزیراعظم ماریانو راخوئے بھی شریک ہوں گے۔ میرکل کا کہنا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ تنازعے کا حل ہسپانوی دستور میں سے تلاش کر لیا جائے گا۔ سمٹ سے قبل برسلز میں ایسے اجلاس منعقد کیے گئے ہیں جن میں اس بحران پر یورپی سیاستدانوں اور دانشوروں نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ یورپی لیڈران ترکی کی اندرونی صورت حال اور وہاں مقیم مہاجرین پر بھی فوکس کرنا چاہیں گے۔ ترکی کی یورپی یونین میں شمولیت کے لیے فراہم کی جانے والی مالی امداد میں یورپی پارلیمنٹ پچاس ملین یورو کٹوتی کی تجویز دے چکی ہے۔ اس تناظر میں جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے یورپی لیڈروں پر زور دیا ہے کہ وہ اس مد کے لیے مختص فنڈ میں کٹوتی کی حمایت کریں۔ یہ خصوصی مالی امداد یورپی یونین میں شمولیت کے لیے فراہم کی جا رہی تھی لیکن اب ترکی میں حکومتی عمل میں پیدا ہونے والی مبینہ آمریت پسندی کے رجحانات پر یونین کو تشویش لاحق ہے۔ جرمن چانسلر نے بھی اس صورت حال کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہاں قانون کی حکمران غلط سمت کی جانب بڑھ رہی ہے۔

یورپی لیڈروں کا اجلاس برسلز میں انیس اکتوبر سے شروع ہو گیا ہے۔ اس اجلاس میں کئی دوسرے موضوعات کے علاوہ بریگزٹ مذاکرات اور کاتالونیا کے بحران کو مرکزیت حاصل ہونے کا واضح امکان محسوس کیا گیا ہے۔ جمعرات انیس اکتوبر سے شروع ہونے والی دو روزہ سمٹ میں بریگزٹ مذاکرات پر یونین کے مذاکرات کار مشیل بارنیئر شریک لیڈران ... Read More »

ٹرمپ جیسی عوامیت پسندی کا جرمنی میں کوئی امکان نہیں

جرمنی میں ووٹرز کے رویوں کے موضوع پر ایک تازہ جائزے میں عوامیت پسندوں کے بجائے مرکزی جماعتوں کے لیے بہت زیادہ حمایت پائی گئی ہے۔ اس جائزے میں یہ بھی واضح ہوا کہ جرمن ووٹرز میں امریکیوں کے مقابلے میں غصہ کم پایا جاتا ہے۔ امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر منتخب ہونے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کی ایک وجہ عوام میں اینٹی اسٹیبلشمنٹ یا افسر شاہی کے خلاف پائی جانے والی مایوسی تھی۔ اسی طرح برطانیہ کے یورپی یونین سے انخلاء کے نام پر ہونے والے ریفرنڈم یا ’بریگزٹ‘ کی کامیابی کی وجوہات بھی کچھ اسی سے ملتی جلتی تھیں۔ بیرٹلزمان فاؤنڈیشن کے تازہ جائزے کے مطابق جرمنی میں اینٹی اسٹیبلشمنٹ جذبات پائے تو جاتے ہیں لیکن وہ امریکا اور برطانیہ کی طرح شدید نہیں ہیں اور ستمبر میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں یہ جذبات کوئی فیصلہ کن کردار ادا نہیں کریں گے۔ ماہرین عوامیت پسندی کو افسر شاہی سے عداوت سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس جائزے کے نتائج میں واضح کیا گیا کہ تقریباً 29 فیصد اہل جرمن ووٹرز پوری طرح سے عوامیت پسند ہیں جبکہ 33 فیصد سے زائد کچھ حد تک عوامیت پسندانہ سوچ کی حمایت کرتے ہیں جبکہ 36.9 فیصد عوامیت پسندی کو مکمل طور پر رد کرتے ہیں۔ دنیا بھر میں سیاسی پاپولزم بہت شدید مسئلہ، ہیومن رائٹس واچ عوامیت پسندی سے ہٹلر جیسے ’نجات دہندگان‘ کا خطرہ: پوپ فرانسس جرمنوں کا ایک مخصوص حلقہ جمہوریت کی موجودہ صورت سے بالکل بھی مطمئن نہیں ہے۔ تاہم سخت گیر سوچ رکھنے والے عوامیت پسندوں میں بھی ایسے گروپ ہیں، جو جمہوریت کو اصل نظام سیاست سمجھتے ہیں۔ اس جائزے کے شریک مصنف روبرٹ فیئرکیمف نے برلن میں اس دستاویز کو پیش کرتے ہوئے کہا، ’’جرمنی میں عوامیت پسند رویہ رکھنے والوں میں جمہوریت سے نالاں افراد شامل ہیں لیکن یہ لوگ جمہوریت کے دشمن نہیں۔‘‘

جرمنی میں ووٹرز کے رویوں کے موضوع پر ایک تازہ جائزے میں عوامیت پسندوں کے بجائے مرکزی جماعتوں کے لیے بہت زیادہ حمایت پائی گئی ہے۔ اس جائزے میں یہ بھی واضح ہوا کہ جرمن ووٹرز میں امریکیوں کے مقابلے میں غصہ کم پایا جاتا ہے۔ امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر منتخب ہونے کے بارے میں کہا جاتا ہے ... Read More »

برطانوی پارلیمان نے بریگزٹ کی راہ ہموار کر دی

برطانوی پارلیمان نے بریگزٹ بل کی منظوری دے دی ہے، جس کے باعث اب برطانیہ کا یورپی یونین سے اخراج کا مرحلہ شروع ہو سکے گا۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی نے برطانوی میڈیا کے حوالے سے بتایا ہے کہ متوقع طور پر چودہ مارچ بروز پیر اس بل کو قانونی شکل دے دی جائے گی۔ برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے اس بل کی حتمی منظوری کے بعد آرٹیکل پچاس کے تحت برسلز سے بریگزٹ پر مذاکرات شروع کرنے کے قابل ہو جائیں گی۔ ’بریگزٹ‘ مے کو بات چیت شروع کرنے کا اختیار مل گیا برطانیہ: بریگزٹ منصوبے پر لندن پارلیمنٹ میں بحث شروع بریگزٹ کے بعد برطانیہ میں نفرت پر مبنی جرائم میں اضافہ برطانوی عوام نے ایک ریفرنڈم میں یورپی یونین سے الگ ہونے کے حق میں فیصلہ دیا تھا تاہم اس عمل میں کچھ قانونی مسائل حائل ہیں۔ البتہ گزشتہ روز برطانوی پارلیمان کی طرف سے منظوری کے بعد یہ عمل اب آسان ہو گیا ہے۔ اسکاٹ لینڈ کا کہنا ہے کہ برطانیہ سے نکلنے کے لیے ایک نیا عوامی ریفرنڈم کرائے جانے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔ اسکاٹ لینڈ کی فرسٹ منسٹر نکولا سٹرجن کے مطابق یہ ریفرنڈم ممکنہ طور پر برطانیہ کے یورپی یونین سے نکلنے سے قبل کرا لیا جائے گا۔ تاہم اس مقصد کے لیے اسکاٹ لینڈ کو لندن حکومت کی منظوری حاصل کرنا پڑے گی اور لندن کی جانب سے ایسی اجازت ملنے کے امکانات نہایت کم ہیں۔ دو ہزار چودہ میں بھی اسکاٹ لینڈ کے برطانیہ سے اخراج کے لیے ریفرنڈم کرایا گیا تھا جس میں پچپن فیصد اسکاٹش عوام نے برطانیہ میں شامل رہنے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ تاہم بریگزٹ ریفرنڈم میں اسکاٹش عوام کی اکثریت نے یورپی یونین میں شامل رہنے کی حمایت کی تھی۔ گزشتہ برس جون میں برطانیہ میں بریگزٹ ریفرنڈم کے نتائج کی وجہ سے یورپی یونین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی اور سرمایہ کاروں کے ساتھ ساتھ تاجر یورپی یونین کے مستقبل کے حوالے سے خدشات کا شکار ہو گئے تھے۔ ابتدائی طور پر ایسی قیاس آرائیاں کی جارہی تھیں کہ یورپی یونین کے حامی ارکان پارلیمان شاید بریگزٹ کے عمل کا راستہ روک لیں گے۔ بریگزٹ کے حوالے سے پیش کی جانے والی قرارداد پر پانچ روز سے جاری بحث کے دوران یہ واضح ہو گیا تھا کہ زیادہ تر ارکان اس عمل کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنیں گے۔ ان میں وہ ارکان بھی شامل ہیں، جو برطانیہ کے یورپی یونین سے انخلا کو ایک بڑی غلطی سے تعبیر کرتے ہیں۔

برطانوی پارلیمان نے بریگزٹ بل کی منظوری دے دی ہے، جس کے باعث اب برطانیہ کا یورپی یونین سے اخراج کا مرحلہ شروع ہو سکے گا۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی نے برطانوی میڈیا کے حوالے سے بتایا ہے کہ متوقع طور پر چودہ مارچ بروز پیر اس بل کو قانونی شکل دے دی جائے گی۔ برطانوی وزیر اعظم ... Read More »

برطانیہ: بریگزٹ منصوبے پر لندن پارلیمنٹ میں بحث شروع

برطانوی وزیر اعظم ٹیریزا مے نے یورپی یونین سے برطانیہ کے الگ ہونے کے سلسلے میں جو پلان تیار کیا ہے، منگل اکتیس جنوری سے اُس پر لندن پارلیمنٹ میں بحث کا آغاز ہو گیا ہے اور اس پلان کی منظوری کے روشن امکانات ہیں۔ برطانوی پارلیمنٹ کے کئی ارکان برطانیہ کے بدستور یورپی یونین ہی میں شامل رہنے کے حامی ہیں اور اِن ارکان کی کوشش ہے کہ حکومت کو اپنی حکمتِ عملی پر نظر ثانی کرنے کے لیے مجبور کر دیا جائے۔ تاہم نیوز ایجنسی روئٹرز کے ایک جائزے کے مطابق منگل اکتیس جنوری کو پہلے روز کی کارروائی کو دیکھتے ہوئے توقع کی جا سکتی ہے کہ یہ پلان پارلیمنٹ کی جانب سے کئی ہفتوں پر پھیلے ہوئے کسی شدید بحث مباحثے کی زَد میں آنے سے بچ جائے گا۔ گزشتہ ہفتے برطانوی سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ وزیر اعظم مے آرٹیکل پچاس پر عملدرآمد اور یورپی یونین کو چھوڑنے کے لیے قانونی طریقہٴ کار شروع کرنے کا فیصلہ اکیلے ہی یکطرفہ طور پر نہیں کر سکتیں اور اُنہیں اس سلسلے میں پارلیمنٹ سے رجوع کرنا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ اب وزیر اعظم مے نے ایک قانونی مسودہ بحث کے لیے پارلیمنٹ میں پیش کر دیا ہے اور اس مسودے کی منظوری کا مطلب یہ ہو گا کہ مے کو یورپی یونین سے الگ ہونے کا طریقہٴ کار شروع کرنے کی باقاعدہ اجازت مل جائے گی۔ بریگزٹ سے متعلقہ برطانوی وزیر ڈیوڈ ڈیوس نے اِس بِل پر دو روزہ بحث کے آغاز پر، جو کہ قانون سازی کا پہلا مرحلہ ہے، کہا:’’اس بِل کا سیدھے سیدھے مقصد یہ ہے کہ ریفرنڈم کے نتائج کو عملی شکل دی جائے، اس ریفرنڈم کی شکل میں برطانوی عوام نے اپنا فیصلہ دے دیا ہے اور وہ اس پیش رفت کو روکنے کی کسی بھی کوشش کو اچھی نظر سے نہیں دیکھیں گے۔‘‘ کچھ ارکان کی کوشش ہو گی کہ وہ قانون سازی کے اِس عمل سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مے کو مجبور کریں کہ وہ یورپی یونین کے ساتھ مذاکراتی عمل کے دوران اپنی حکمتِ عملی کے بارے میں زیادہ سے زیادہ تفصیلات بتائیں۔ وہ چاہیں گے کہ اس مذاکراتی عمل میں پارلیمنٹ کو بھی اپنا کردار ادا کرنے کا اختیار دیا جائے اور ہو سکے تو بریگزٹ کا پورا عمل ہی روک دیا جائے۔ تاہم قدامت پسند مے کو پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اُن کا یہ مسودہٴ قانون پروگرام کے مطابق اور زیادہ رد و بدل کے بغیر ہی مارچ کے آخر تک پارلیمنٹ سے منظور ہو جائے گا۔ پارلیمان کی دوسری بڑی جماعت لیبر پارٹی نے یہ تو کہا ہے کہ پارلیمنٹ کو بریگزٹ عمل کی اور زیادہ سختی سے جانچ کرنی چاہیے تاہم اُس نے کہا ہے کہ وہ اس عمل کے راستے میں رکاوٹ نہیں ڈالے گی۔ لیبر کے بہت سے ارکانِ پارلیمان انفرادی سطح پر بہرحال اس قانون کی مخالفت کریں گے۔ مختلف اپوزیشن جماعتوں کے ارکان کی جانب سے مے کے تجویز کردہ مسودے میں ترامیم کے لیے پانچ الگ الگ درخواستیں دی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک یورپی یونین کی حامی سکاٹش نیشنل پارٹی کی جانب سے ہے، جس پر رائے شماری بدھ کو ہو گی۔

برطانوی وزیر اعظم ٹیریزا مے نے یورپی یونین سے برطانیہ کے الگ ہونے کے سلسلے میں جو پلان تیار کیا ہے، منگل اکتیس جنوری سے اُس پر لندن پارلیمنٹ میں بحث کا آغاز ہو گیا ہے اور اس پلان کی منظوری کے روشن امکانات ہیں۔ برطانوی پارلیمنٹ کے کئی ارکان برطانیہ کے بدستور یورپی یونین ہی میں شامل رہنے کے ... Read More »

بریگزٹ سے ڈونلڈ ٹرمپ تک: میرکل کا سیاسی وقار

ڈنمارک کے ایک قدامت پسند اخبار نےانگیلا میرکل کی بطور جرمن چانسلر چوتھی بار نامزدگی کے تناظر میں کہا ہے کہ جرمنی سمیت تمام یورپی رہنماؤں کو اپنے عوام میں بڑھتی ہوئی بے اطمینانی پر سنجیدگی سے توجہ دینا ہو گی۔ ڈنمارک کے ایک قدامت پسند اخبار نے آئندہ پارلیمانی انتخابات میں انگیلا میرکل کی بطور جرمن چانسلر چوتھی بار نامزدگی کے تناظر میں کہا ہے کہ جرمنی سمیت تمام یورپی رہنماؤں کو اپنے عوام میں بڑھتی ہوئی بے اطمینانی پر سنجیدگی سے توجہ دینی ہو گی۔ قدامت پسند روزنامہ نہ صرف ڈنمارک بلکہ دنیا کے قدیم ترین اخباروں میں سے ایک ہے۔ اس اخبار میں امریکا کے حالیہ صدارتی انتخابات میں ریپبلکن سیاستدان ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کے بعد متعدد مضامین اور تبصرے شائع ہوئے، جن میں اُن تمام خدشات کا اظہار کیا گیا جو امریکا سمیت تمام دنیا کے سیاسی اور عوامی حلقوں میں اب پائے جاتے ہیں۔ ڈنمارک کے اس اخبار نے گزشتہ اتوار کو جرمن چانسلر انگیلا میرکل کے اُس اعلان پر بھی اپنی رائے کا اظہار کیا ہے، جس میں میرکل نے نہایت پُر عزم اور مستحکم انداز میں یہ کہا کہ وہ 2017ء میں جرمنی کے پارلیمانی انتخابات میں ایک بار پھر چانسلر کے عہدے کے لیے اپنی نامزدگی کو نہایت اہم سمجھتی ہیں۔ مزید یہ کہ اُن کی قدامت پسند سیاسی جماعت کرسچین ڈیموکریٹک پارٹی سی ڈی یو اور اُس کی ہم خیال اور اُس سے قریب ترین سیاسی پارٹی کرسچین سوشل یونین سی ایس یو نے موجودہ علاقائی اور عالمی صورتحال کے تناظر میں متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا ہے کہ یورپ کی اقتصادی شہ رگ سمجھے جانے والے ملک جرمنی کی قیادت پر اِس وقت دُہری ذمہ داری عائد ہے اور اُس کے لیے انگیلا میرکل جیسے مضبوط، ٹھوس اور مخلص قائد کی اشد ضرورت ہے۔ میرکل اور یورپی چیلنجز ڈنمارک کے اخبار نے تاہم میرکل کی 2017 ء کے لیے بطور جرمن چانسلر نامزدگی کے اعلان پر تبصرہ کرتے ہوئے چند اہم امور پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ ڈینش روزنامے کے ایک حالیہ تبصرے کے الفاظ کچھ یوں تھے،’’امریکا کے صدارتی الیکشن کے نتائج کے اعلان کے فوراً بعد ہی میرکل نے جرمنی اور یورپ میں احتحاجی مہمات کے خلاف لبرل یا آزاد خیال اقدار کی آخری فصیلیں کھڑی کردیں، جن کے بارے میں کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ مغربی دنیا کو چکرا کر رکھ دیں گی۔ لیکن یہ ایک خطرناک خیال ہے۔ اگر میرکل کی کامیابی یقینی ہو تب بھی دیگر یورپی ممالک کے رہنماؤں کو اپنے عوام میں پائی جانے والے عدم اطمینان کی وجوہات سے نمٹنا ہو گا۔ اور اس ضمن میں سب سے اہم مہاجرین اور تارکین وطن کا بحران ہے۔ یہاں یورپی یونین نے واضح غلطیاں کی ہیں۔ اگر میرکل اور دیگر یورپی رہنماؤں نے کوئی پائیدار اور طویل المیعاد حل تلاش نہ کیا، جو کہ انتہائی دشوار گزار عمل ہوگا، تو میرکل ایک نہایت مشکل صورتحال سے دو چار ہوں گی۔ پھر میرکل کے لیے آئندہ الیکشن میں بطور جرمن چانسلر اقتدار میں رہنے کا کوئی جواز پیش کرنا مشکل ہوگا۔ خاص طور سے اُن ووٹرز کے سامنے جو اپنے ووٹوں کا حقدار میرکل کو ہی سمجھ رہے ہوں گے۔‘‘ قدامت پسند سیاسی رہنماؤں کی میراث 16 سال سے کرسچین ڈیموکریٹک یونین سی ڈی یو کی قائد چلی آ رہی انگیلا میرکل کا شمار اس وقت دنیا کے طاقتور ترین لیڈروں میں بھی ہو رہا ہے۔ مسلسل تین بار چانسلر کے عہدے پر فائض رہنے کے بعد اگر میرکل چوتھی بار بھی جرمنی کی چانسلر بنیں تو یہ جرمنی کی موجودہ تاریخ کا دوسرا موقع ہوگا۔ ان سے پہلے سی ڈی یو ہی کے سیاستدان ہیلمُوٹ کوہل چار مرتبہ یعنی مسلسل 16 برس تک جرمنی کے چانسلر رہے تھے۔ انہیں جدید جرمنی کے بانی کی حیثیت رکھنے والے معروف جرمن سیاستدان اُٹو فان بسمارک کے بعد طویل ترین عرصے تک چانسلر کے عہدے پر فائض رہنے کا اعزاز حاصل تھا۔ جرمن چانسلر انگیلا میرکل کو اس وقت دنیا کی ایک ایسی سیاسی شخصیت سمجھا جا رہا ہے، جن کی مہاجر دوست پالیسی کے سبب اندرون ملک کسی حد تک اُن کی مقبولیت میں کمی ضرور پیدا ہوئی لیکن اُنہوں نے اپنا موقف نہ تو تبدیل کیا اور نہ ہی اس ضمن میں انہوں نے یہ تاثر دیا کہ وہ تنقید اور مخالفتوں کے آگے ہتھیار ڈالنے والی سیاستدان ہیں۔ میرکل ایک نہایت مضبوط، ٹھوس اور دور اندیش لیڈر ہیں۔ انہیں ایک محنتی اور اپنے ملک و قوم کے ساتھ انتہائی مخلص رہنما کی حیثیت سے دیکھا جاتا ہے۔ میرکل کے عزائم میرکل نے جس وقت چوتھی بار بطور چانسلر الیکشن لڑنے کا اعلان کیا اُس وقت انہوں نے اُن تمام چیلنجز اور مشکلات کا اعتراف بھی کیا جن کا اُنہیں سامنا ہو سکتا ہے۔ اور مستقبل میں بھی ان کا یہ امیج قائم رہے گا۔ میرکل کی سیاسی جماعت سی ڈی یو کے لیے ایک بڑا سیاسی چیلنج انتہائی دائیں بازو کی پارٹی اے ایف ڈی بنی ہوئی ہے جو میرکل کی مہاجرین سے متعلق پالیسی کے خلاف اپنی بھرپور مہم جاری رکھے ہوئے ہے اور جرمنی کی 16 صوبائی پارلیمانوں میں سے 10 میں اے ایف ڈی کو نمائندگی حاصل ہو چکی ہے۔ تاہم امریکی وائٹ ہاؤس میں آئندہ برس سے ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی وہ اہم ترین محرک ہے جس کے سبب جرمنی ہی نہیں بلکہ پورے یورپ میں یہ تاثرات پائے جاتے ہیں کہ مغربی اقدار اور یکجہتی کا تحفظ انگیلا میرکل جیسی مضبوط سیاسی شخصیت ہی کر سکتی ہے۔ ایک وسیع تر یورپی، مغربی اور بین الاقوامی پس منظر میں دیکھا جائے تو بہت سے ماہرین کا یہ قول درست نظر آ رہا ہے کہ’’میرکل آزاد دنیا کی نئی قائد ہیں۔‘‘ یاد رہے کہ میرکل نے ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی پر انہیں مبارکباد تو پیش کی تھی تاہم ساتھ ہی واضح کر دیا تھا کہ امریکا اور یورپ کے تعلقات اور قریبی تعاون کی بنیاد جمہوری اقدار، آزادی، قانون کے احترام ، رنگ و نسل، مذہب و جنس اور سیاسی نظریات سے بالاتر ہو کر انسانی وقار پر ہی رکھی جانا چاہیے۔

ڈنمارک کے ایک قدامت پسند اخبار نےانگیلا میرکل کی بطور جرمن چانسلر چوتھی بار نامزدگی کے تناظر میں کہا ہے کہ جرمنی سمیت تمام یورپی رہنماؤں کو اپنے عوام میں بڑھتی ہوئی بے اطمینانی پر سنجیدگی سے توجہ دینا ہو گی۔ ڈنمارک کے ایک قدامت پسند اخبار نے آئندہ پارلیمانی انتخابات میں انگیلا میرکل کی بطور جرمن چانسلر چوتھی بار ... Read More »

بریگزٹ سے قبل بھارت کے ساتھ تجارت میں اضافہ کریں گے، مے

برطانوی وزیراعظم ٹیریزا مے نے کہا ہے کہ برطانیہ کو بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات میں اضافے کے لیے یورپی یونین سے نکلنے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔ یہ بات انہوں نے نئی دہلی میں پیر سات نومبر کو کہی ہے۔ برطانوی وزیر اعظم ٹیریزا مے اتوار چھ نومبر کی شب نئی دہلی پہنچی تھیں۔ رواں برس جولائی میں وزیراعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ ان کا یورپ سے باہر اور بھارت کا پہلا دورہ ہے۔ ان کے ساتھ اس دورے میں برطانوی تجارتی حکام اور کاروباری افراد کا ایک گروپ بھی شریک ہے۔ ٹیریزا مے اور ان کے بھارتی ہم منصب نریندر مودی کے درمیان ملاقات آج پیر سات نومبر کو ہوئی ہے۔ اس ملاقات میں دو طرفہ تعلقات میں اضافے اور تجارت اور سرمایہ میں فروغ کے علاوہ دیگر موضوعات پر بھی بات چیت ہوئی ہے۔ ٹیریزا مے نے بھارت اور برطانیہ کے درمیان تعلقات کے امکانات کو ’’غیر محدود‘‘ قرار دیتے ہوئے ایک اسکیم کا بھی اعلان کیا جس کے تحت بھارتی کاروباری افراد کو پاسپورٹ کنٹرول اور امیگریشن کے حوالے سے آسانیاں فراہم کی جائیں گی۔ نریندر مودی سے ملاقات سے قبل ٹیریزا مے کا کہنا تھا کہ وہ وزیراعظم مودی سے بات کریں گی کہ باہمی تجارت اور دونوں ممالک سرمایہ کاری میں اضافہ کیسے کیا جا سکتا ہے اور انڈسٹریز، ایکسپورٹس اور سرمایہ کاری کے میدانوں میں مزید کیا کر سکتے ہیں۔ مے کے مطابق، ’’اس کے لیے ضروری نہیں ہے کہ ہم یورپی یونین سے نکلنے کا انتظار کریں۔‘‘ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا کہنا تھا کہ یہ بات بہت اہم ہے کہ 21ویں صدی کی معیشت کے حوالے سے بھارت اور برطانیہ مل کر کام کریں۔ انہوں نے برطانوی سرمایہ کاروں کو دعوت دی کہ وہ ان کے ملک میں ہونے والے انقلابی کاموں میں شریک ہوں جن میں سے ایک 100 اسمارٹ شہر بسانے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔ بھارتی کمپنیاں، برطانیہ میں تیسری سب سے زیادہ سرمایہ کاری کرنے والی کمپنیاں ہیں۔ نریندر مودی نے امید ظاہر کی کہ برطانیہ بھی بھارت میں سرمایہ کاری میں اضافہ کرے گا۔ برطانیہ سے 65 برس سے زائد عرصہ قبل آزادی حاصل کرنے والے بھارت کی بعض کمپنیاں اس وقت برطانیہ کے ایسے برانڈز کی مالک ہیں جو دنیا بھر میں جانے پہچانے جاتے ہیں۔ ان میں جیگوار اور لینڈ روور جیسے گاڑیوں کے علاوہ ٹیٹلی چائے بھی شامل ہے۔

برطانوی وزیراعظم ٹیریزا مے نے کہا ہے کہ برطانیہ کو بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات میں اضافے کے لیے یورپی یونین سے نکلنے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔ یہ بات انہوں نے نئی دہلی میں پیر سات نومبر کو کہی ہے۔ برطانوی وزیر اعظم ٹیریزا مے اتوار چھ نومبر کی شب نئی دہلی پہنچی تھیں۔ رواں برس جولائی میں وزیراعظم ... Read More »

پارلیمنٹ بریگزٹ پر برطانوی عوام کی رائے کا احترام کرے، وزیر اعظم مے

برطانیہ کی خاتون وزیر اعظم ٹریزا مے کا کہنا ہے کہ ملکی پارلیمنٹ یہ تسلیم کرے کے عوام کا یورپی یونین سے اخراج کے حق میں فیصلہ قانونی تھا اور وہ حکومت کو اس کے مکمل اطلاق کو ممکن بنانے دے۔ ٹریزا مے نے اتوار کے روز کہا کہ انہیں یقین ہے کہ حکومت عدلیہ کے اس فیصلے کو تبدیل کروانے میں کامیاب ہو جائے گی جس میں اس نے کہا تھا کہ حکومت کو بریگزٹ کے معاملے پر پارلیمان کی منظوری لینا ہوگی تاکہ برطانیہ کے یورپی یونین سے اخراج کے عمل کو شروع کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے صورت حال واضح ہو سکے۔ حال ہی میں ملکی ہائی کورٹ نے حکومت کو حکم دیا تھا کہ وہ بریگزٹ کی منظوری پارلیمان سے حاصل کرے اور خود اس ضمن میں یک طرفہ فیصلہ نہ کرے۔ اس فیصلے پر یورپی یونین سے اخراج کے حامی خاصے ناراض ہیں کیوں کہ انہیں خدشہ ہے کہ پارلیمنٹ میں یورپی یونین کے حامی بریگزٹ کے خلاف فیصلہ دے سکتے ہیں یا وہ ایک ایسے بریگزٹ کی منظوری دے سکتے ہیں جو کہ عملی طور پر خاصا غیر مؤثر ہو۔ مے ’ہارڈ بریگزٹ‘ یا یورپی یونین کو بریگزٹ پر رعایات نہ دینے کی حامی ہیں۔ حزب اختلاف کے اراکین ایسا نہیں چاہتے۔ تاہم اتوار کو قدامت پسند وزیر اعظم ٹریزا مے نے برطانوی اخبار ’ٹیلی گراف‘ میں اپنے ایک مضمون میں کہا کہ وہ ایسی کسی بھی کوشش کی مزاحمت کریں گی۔ وہ لکھتی ہیں: ’’عوام نے (یورپی یونین سے اخراج کے حق میں) فیصلہ دے دیا ہے، اور بہت فیصلہ کن طور پر دیا ہے۔ اب یہ حکومت کی ذمے داری ہے کہ وہ مکمل طور پر اس فیصلے پر عمل درآمد کرے۔‘‘ گزشتہ روز برطانیہ کی حزب اختلاف جماعت لیبر پارٹی کے قائد جیریمی کوربن نے کہا ہے کہ وزیر اعظم مے کی حکومت برطانیہ کے یورپی یونین سے اخراج کے معاملے پر جمہوری احتساب سے بچ رہی ہے۔ انہوں نے ہفتے کے روز کہا کہ وزیر اعظم مے کو چاہیے کہ بریگزٹ پر یورپی یونین سے مذاکرات کے نکات کو پارلیمنٹ کے سامنے رکھے۔ کوربن کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر حکومت نے بریگزٹ کے معاملے پر لیبر پارٹی کی شرائط کو منظور نہ کیا تو وہ بریگزٹ منصوبے کو پارلیمنٹ میں روکنے کی کوشش کریں گے۔ تاہم مے کہتی ہیں کہ یہ پارلیمنٹ ہی تھی جس نے بریگزٹ کے معاملے پر عوام کی رائے جاننے کے لیے ایک ریفرینڈم کرانے کا اعلان کیا تھا، اور اس کا فیصلہ واضح طور پر آ چکا ہے، ’’وہ اراکین پارلیمان جو اب ریفرینڈم کروانے کے فیصلے پر پچھتا رہے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ عوام کی رائے کا احترام کریں۔‘‘

برطانیہ کی خاتون وزیر اعظم ٹریزا مے کا کہنا ہے کہ ملکی پارلیمنٹ یہ تسلیم کرے کے عوام کا یورپی یونین سے اخراج کے حق میں فیصلہ قانونی تھا اور وہ حکومت کو اس کے مکمل اطلاق کو ممکن بنانے دے۔ ٹریزا مے نے اتوار کے روز کہا کہ انہیں یقین ہے کہ حکومت عدلیہ کے اس فیصلے کو تبدیل ... Read More »

‘برطانیہ کو یورپی یونین سے اخراج میں جلدی نہیں کرنی چاہیے‘

اپنی ایک حالیہ تقریر میں برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے نے اپنے ملک کے یورپی یونین سے اخراج کے حوالے سے ’ہارڈ بریگزٹ‘ کا ذکر کیا تھا، تاہم جرمن ماہر معیشت کلیمنز فؤسٹ نے مے کو تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کو دیے گئے ایک انٹرویو میں معیشت دان کلیمنز فؤسٹ نے برطانوی وزیر اعظم مے کو مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ کو یورپی یونین سے اخراج کے معاملے پر ’’احتیاط‘‘ اور ’’کامن سینس‘‘ (سمجھ داری) سے کام لینا چاہیے۔ فؤسٹ کا تعلق جرمنی کے مؤقر ادارے آئی ایف او سے ہے جس کا دائرہ کار معاشی تحقیق ہے۔ برطانوی وزیر اعظم مے نے ایک حالیہ تقریر میں ’’ہارڈ بریگزٹ‘‘ کی اصطلاح استعمال کی تھی، جس سے ان کی مراد یورپی یونین سے برطانیہ کے اخراج کے حوالے سے غیر لچک دار رویے کا عدنیہ تھا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بریگزٹ مذاکرت میں وہ مہاجرین سے متعلق پالیسیوں پر کوئی سمجھوتا نہیں کریں گی۔ تاہم فؤسٹ نے اس سخت گیر مؤقف سے اجتناب کا مشورہ دیا ہے۔ ''میں امید کرتا ہوں کہ تمام فریق ہوش کے ناخن لیں گے۔ یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ’ہارڈ بریگزٹ‘ ناممکن ہے،‘‘ فؤسٹ نے ڈی پی اے سے جرمن دارالحکومت برلن میں بات کرتے ہوئے کہا۔ 'ہارڈ بریگزٹ‘ سے مراد عمومی طور یورپی یونین سے جلد از جلد اخراج لی جاتی ہے، جس میں فریقین متنازعہ امور پر لچک دکھانے سے انکار کرتے ہیں۔ جن امور پر اس وقت یورپی یونین اور برطانیہ کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے ان میں برطانیہ کی جانب سے مہاجرین کی یورپ سے برطانیہ آمد کو روکنے کے لیے سحت اقدامات اور برطانیہ کا یورپی یونین کی مجموعی مارکیٹ ترک کرنا سرفہرت ہیں۔ فؤسٹ کا کہنا ہے کہ فریقین کو سست روی سے مراحل طے کرنا چاہییں، ایک عبوری عرصہ جو برطانیہ کے اٹھائیس رکنی یورپی بلاک سے اخراج کا عمل مکمل کرنے پر محیط ہو اور کم از کم اسے کے لیے دس برس لگائے جائیں۔ فؤسٹ کا کہنا تھا کہ جلد بازی کے نتیجے میں برطانوی مارکیٹ اور اس کی کرنسی پاؤنڈ اسٹرلنگ کو شدید خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ جون کے مہینے میں یورپی یونین کے چھ بانی اراکین ممالک کے وزرائے خارجہ نے جرمن دارالحکومت برلن میں ملاقات کی تھی جس کے بعد ان کی طرف سے کہا گیا کہ برطانوی حکومت کو یورپی یونین سے جلد از جلد الگ ہو جانا چاہیے۔ ان کے موقف کے برعکس جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے برلن سے مغرب کی طرف واقع تاریخی جرمن شہر پوٹسڈام کے مضافات میں ہرمنز ورڈر کے مقام پر اپنی قدامت پسند سیاسی جماعت سی ڈی یو کے سیاست دانوں کے ساتھ ایک ملاقات میں کہا تھا، ’’برطانیہ سے مذاکرات کا انداز تجارتی ہونا چاہیے۔ یہ بات چیت ایک خوش گوار فضا میں ہونی چاہیے۔‘‘ میرکل کا کہنا تھا کہ برطانیہ یورپی یونین کا ایک قریبی ساتھی رہے گا اور اس کے ساتھ یورپی اتحاد کا گہرا اقتصادی تعلق رہا ہے۔ جرمن چانسلر نے واضح الفاظ میں کہا ہے، ’’یورپی معاہدے کے آرٹیکل نمبر 50 کے تحت لندن حکومت کو یورپی یونین چھوڑنے کے عمل میں کسی جلد بازی سے کام لینے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ فرانس، اٹلی، ہالینڈ، بیلجیم اور لکسمبرگ کے وزرائے خارجہ کی طرف سے برطانیہ کے اخراج کو جلد از جلد عمل میں لانے کے مطالبے کے برعکس جرمن چانسلر کا کہنا تھا، ’’یہ حقیقت ہے کہ اس عمل کو بہت طول نہیں دینا چاہیے لیکن میں اس وقت اس میں جلدی کے لیے کوئی زور نہیں دوں گی۔‘‘

اپنی ایک حالیہ تقریر میں برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے نے اپنے ملک کے یورپی یونین سے اخراج کے حوالے سے ’ہارڈ بریگزٹ‘ کا ذکر کیا تھا، تاہم جرمن ماہر معیشت کلیمنز فؤسٹ نے مے کو تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کو دیے گئے ایک انٹرویو میں معیشت دان کلیمنز ... Read More »

Scroll To Top