You are here: Home » Tag Archives: برطانیہ

Tag Archives: برطانیہ

Feed Subscription

’بریگزٹ‘، برطانيہ کی سب سے تباہ کن حقيقت

’برطانوی پارلیمان میں بریگزٹ ڈیل کی عدم منظوری کی ذمہ داری صرف وزیر اعظم ٹریزا مے پر عائد ہوتی ہے‘۔ ڈی ڈبلیو کی تبصرہ نگار باربرا ویسل کے خیال میں اس ناکامی کے بعد مے کو استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ برطانوی پارلیمان میں بریگزٹ ڈیل کی عدم منظوری کے بعد وزیر اعظم ٹریزا مے کو مستعفی ہو جانا چاہیے تھا لیکن انہوں نے کہا ہے کہ وہ برطانیہ کے یورپی یونین سے علیحدگی کو یقینی بنانے تک اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش نہیں ہوں گی۔ مے نے کہا ہے کہ یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ بریگزٹ کو یقینی بنائیں کیونکہ وہ وزیر اعظم بنائی ہی اس مقصد کے لیے گئی تھیں۔ ڈی ڈبلیو کی تبصرہ نگار باربرا ویسل کے مطابق مے کے خلاف تحریک عدم اعتماد ناکام ہو جائے گی، کیونکہ قدامت پسند اقتدار پر اپنی گرفت کمزور نہیں ہونے دیں گے۔ تاہم قدامت پسندوں کا یہ رویہ برطانوی سیاست کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ مے شکست کی مستحق تھیں باربرا ویسل کے مطابق مے کی بریگزٹ ڈیل کی ناکامی کی ذمہ دار وہ خود ہی ہیں۔ وہ لکھتی ہیں کہ بریگزٹ کا معاملہ برطانوی سیاست میں ایک تقسیم کی وجہ بن چکا ہے۔ اس تناظر میں قدامت پسندوں کی صفوں میں بھی اختلافات نمایاں ہوتے جا رہے ہیں۔ باربرا ویسل کے مطابق برطانوی پارلیمان میں بریگزٹ ڈیل کی عدم منظوری دراصل ٹریزا مے کی سیاسی نااہلیت کی غمازی کرتی ہے۔ مے نے اس تمام کہانی میں صرف اپنے قریبی ساتھیوں کو ہی سامنے رکھا اور کسی دوسرے کی ایک نا سنی۔ یوں مے اپوزیشن اور اپنی ہی پارٹی کے اندر کئی اہم دھڑوں کا اعتماد نہ جیت سکیں۔ ویسل مزید لکھتی ہیں کہ مے نے بریگزٹ ڈیل کی تیاری اور اس کی منظوری کے مرحلوں میں برطانیہ میں مقیم یورپی ورکنگ کلاس کے خلاف ایک سخت لہجہ اختیار کیا، جو دراصل بحیثت مجموعی یورپ کے خلاف ہی دیکھا گیا۔ اس طرح وہ یورپی سطح پر بھی تنہا ہو گئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مے سربراہ حکومت کے عہدے کے لائق ہی نہیں ہیں۔ ڈی ڈبلیو کی تبصرہ نگار ویسل کے مطابق مے اس مخصوص صورتحال میں برطانیہ کی ویلفیئر یا مستقبل کے حوالے سے ذمہ داری کا مظاہرہ بھی نہیں کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بریگزٹ کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ بطور سیاستدان ٹریزا مے انتہائی تنگ نظر، ضدی، چھوٹے دماغ کی مالک اور تخیلاتی طاقت سے عاری معلوم ہوتی ہیں۔ ویسل کے مطابق برطانیہ کو ایک نئے سربراہ کی ضرورت ہے۔ تاہم اپوزیشن رہنما جیرمی کوربین ابھی تک وہ مقبولیت حاصل نہیں کر سکے ہیں کہ وہ وزیر اعظم بن سکیں۔ اس تناظر میں ویسل کہتی ہیں کہ بریگزٹ کے معاملے پر کسی اچھی خبر کی کوئی ضمانت نظر نہیں آتی۔ بریگزٹ کے سلسلے میں ہونے والی اب تک کی پیشرفت نے نہ صرف یورپی یونین کے اتحاد کو نقصان پہنچایا ہے بلکہ برطانیہ کو بھی منقسم کر دیا ہے۔

’برطانوی پارلیمان میں بریگزٹ ڈیل کی عدم منظوری کی ذمہ داری صرف وزیر اعظم ٹریزا مے پر عائد ہوتی ہے‘۔ ڈی ڈبلیو کی تبصرہ نگار باربرا ویسل کے خیال میں اس ناکامی کے بعد مے کو استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ برطانوی پارلیمان میں بریگزٹ ڈیل کی عدم منظوری کے بعد وزیر اعظم ٹریزا مے کو مستعفی ہو جانا چاہیے تھا ... Read More »

بریگزٹ مذاکرات میں اہم پیش رفت

برطانیہ اور یورپی یونین کے مابین راتوں رات ہونے والی ’ٹیلیفون ڈپلومیسی‘ کے ذریعے بریگزٹ مذاکرات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ اس حوالے سے یورپین کمیشن کے صدر ژاں کلود یُنکر کا کہنا تھا،’’میرا یہ ماننا ہے کہ ہم نے ایک اہم مرحلہ عبور کیا ہے جس کی بے حد ضرورت تھی۔‘‘ یہ بات انہوں نے برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہی۔ جرمنی اور یورپ جمود کے متحمل نہیں ہو سکتے یورو زون: آبادی 34 کروڑ، عالمی پیداوار میں حصہ 11 فیصد اس پریس کانفرنس میں ژاں کلود یُنکر کا یہ بھی کہا کہ وہ یورپی یونین کے رہنماؤں کو تجویز دیں گے کہ بریگزیٹ کے حوالے سے ہونے والی اس اہم پیش رفت کے بعد اب مستقبل میں تعلقات اور تجارت کے سلسلے میں بات چیت کا آغاز کریں۔ اس دوران یہ تو نہیں بتایا گیا کہ تجارتی حوالے سے آئرلینڈ کی سرحد کے بارے میں برطانیہ اور یورپی یونین کس طرح سے اپنے اختلاف کو سلجھائیں گے۔ تاہم اس سے اس جانب اشارہ ضرور دیا گیا کہ اصل میں اب سب باتوں کا انحصار برطانیہ اور یورپی یونین کے مابین آئندہ ہونے والےتجارتی مذاکرات پر ہو گا۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ یورپی رہنما چودہ دسمبر کو برسلز میں ملاقات کر رہے ہیں جس دوران امکان یہ ہی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ برطانیہ کے لیے مالی تصفیہ، آئرلینڈ کی سرحدی حیثیت اور بریگزٹ کے بعد شہری حقوق جیسے معاملات پر اب تک ہونے والی پیش رفت پر اعتماد کا اظہار کریں گے۔ اس کے بعد مذکرات کا اگلا مرحلہ شروع کیا جا سکے گا۔ اس سے قبل بریگزٹ مذاکرات کو اگلے مرحلے تک پہنچانے کے لیے برطانیہ اور یورپی اتحاد کسی معاہدے پر پہنچنے میں ناکام ہو گئے تھے۔ اس کی وجہ، برطانیہ کی مخلوط حکومت کی کلیدی پارٹی، ڈیموکریٹک یونینسٹ پارٹی، ڈی یو پی کے آئرلینڈ کے سرحدی معاملات پر رعایت دینے سے انکار تھی۔ برطانیہ شمالی آئرلینڈ کے یورپی اتحاد کی ’کسٹمز یونین‘ اور ’سنگل مارکیٹ‘ رہنے سے متعلق نام کے سوا تقریباً ہر بات ماننے پر تیار تھا لیکن ڈی یو پی کی رہنما آرلین فوسٹر کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت ایسے قواعد کو تسلیم نہیں کرے گی جو شمالی آئرلینڈ کو برطانیہ سے الگ کرتے ہوں۔ اس اختلاف کے بعد مذاکرات ناکام ہو گئے تھے۔ مستقبل کا ڈیجیٹل یورپ کیسا ہو گا؟ ای یو رہنماؤں کی سمٹ بریگزٹ کے خلاف لندن میں ہزارہا شہریوں کا احتجاجی مظاہرہ

برطانیہ اور یورپی یونین کے مابین راتوں رات ہونے والی ’ٹیلیفون ڈپلومیسی‘ کے ذریعے بریگزٹ مذاکرات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ اس حوالے سے یورپین کمیشن کے صدر ژاں کلود یُنکر کا کہنا تھا،’’میرا یہ ماننا ہے کہ ہم نے ایک اہم مرحلہ عبور کیا ہے جس کی بے حد ضرورت تھی۔‘‘ یہ بات انہوں نے برطانوی وزیر ... Read More »

ٹرمپ جیسی عوامیت پسندی کا جرمنی میں کوئی امکان نہیں

جرمنی میں ووٹرز کے رویوں کے موضوع پر ایک تازہ جائزے میں عوامیت پسندوں کے بجائے مرکزی جماعتوں کے لیے بہت زیادہ حمایت پائی گئی ہے۔ اس جائزے میں یہ بھی واضح ہوا کہ جرمن ووٹرز میں امریکیوں کے مقابلے میں غصہ کم پایا جاتا ہے۔ امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر منتخب ہونے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کی ایک وجہ عوام میں اینٹی اسٹیبلشمنٹ یا افسر شاہی کے خلاف پائی جانے والی مایوسی تھی۔ اسی طرح برطانیہ کے یورپی یونین سے انخلاء کے نام پر ہونے والے ریفرنڈم یا ’بریگزٹ‘ کی کامیابی کی وجوہات بھی کچھ اسی سے ملتی جلتی تھیں۔ بیرٹلزمان فاؤنڈیشن کے تازہ جائزے کے مطابق جرمنی میں اینٹی اسٹیبلشمنٹ جذبات پائے تو جاتے ہیں لیکن وہ امریکا اور برطانیہ کی طرح شدید نہیں ہیں اور ستمبر میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں یہ جذبات کوئی فیصلہ کن کردار ادا نہیں کریں گے۔ ماہرین عوامیت پسندی کو افسر شاہی سے عداوت سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس جائزے کے نتائج میں واضح کیا گیا کہ تقریباً 29 فیصد اہل جرمن ووٹرز پوری طرح سے عوامیت پسند ہیں جبکہ 33 فیصد سے زائد کچھ حد تک عوامیت پسندانہ سوچ کی حمایت کرتے ہیں جبکہ 36.9 فیصد عوامیت پسندی کو مکمل طور پر رد کرتے ہیں۔ دنیا بھر میں سیاسی پاپولزم بہت شدید مسئلہ، ہیومن رائٹس واچ عوامیت پسندی سے ہٹلر جیسے ’نجات دہندگان‘ کا خطرہ: پوپ فرانسس جرمنوں کا ایک مخصوص حلقہ جمہوریت کی موجودہ صورت سے بالکل بھی مطمئن نہیں ہے۔ تاہم سخت گیر سوچ رکھنے والے عوامیت پسندوں میں بھی ایسے گروپ ہیں، جو جمہوریت کو اصل نظام سیاست سمجھتے ہیں۔ اس جائزے کے شریک مصنف روبرٹ فیئرکیمف نے برلن میں اس دستاویز کو پیش کرتے ہوئے کہا، ’’جرمنی میں عوامیت پسند رویہ رکھنے والوں میں جمہوریت سے نالاں افراد شامل ہیں لیکن یہ لوگ جمہوریت کے دشمن نہیں۔‘‘

جرمنی میں ووٹرز کے رویوں کے موضوع پر ایک تازہ جائزے میں عوامیت پسندوں کے بجائے مرکزی جماعتوں کے لیے بہت زیادہ حمایت پائی گئی ہے۔ اس جائزے میں یہ بھی واضح ہوا کہ جرمن ووٹرز میں امریکیوں کے مقابلے میں غصہ کم پایا جاتا ہے۔ امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر منتخب ہونے کے بارے میں کہا جاتا ہے ... Read More »

لندن حملہ، بارہ مشتبہ افراد گرفتار

لندن حملے میں ملوث ہونے کے شُبے میں بارہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ برطانوی وزیراعظم نے ان حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اب بہت ہو گیا‘ اور سخت اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ برطانوی وزیراعظم ٹریزا مے نے اتوار کے روز مسلمان انتہا پسندوں کو سخت جواب دینے کا کہا ہے۔ ٹیلی وژن پر خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اب یہ کہنے کا وقت آ گیا ہے کہ ’بہت ہو چکا۔‘‘ مے کا کہنا تھا، ’’اب چیزوں کو مزید ایسے نہیں چلنے دیا جا سکتا، جیسے یہ چل رہی ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ انسداد دہشت گردی پالیسی کو مزید سخت بنایا جائے گا، جس میں جیل کی طویل سزائیں اور انٹرنیٹ سے متعلق نئے قواعد و ضوابط شامل ہیں۔ گزشتہ رات لندن برج پر تین حملہ آوروں میں سے ایک حملہ آور نے لوگوں پر وین چڑھا دی تھی اور بعدازاں وہاں موجود لوگوں کو چاقوؤں سے وار کرتے ہوئے زخمی کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا تھا۔ ان حملوں میں مجموعی طور پر سات افراد ہلاک جبکہ اڑتالیس زخمی ہوئے تھے۔ برطانیہ کی قومی ہیلتھ سروس کے مطابق زخمیوں میں سے اکیس کی حالت انتہائی تشویش ناک ہے۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ مرکزی لندن میں پیش آنے والے ان واقعات میں ملوث تینوں حملہ آوروں کو پولیس نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ برطانوی انسداد دہشت گردی پولیس کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ تین حملہ آوروں کو ہلاک کرنے کے لیے پولیس کی جانب سے غیرمعمولی تعداد میں گولیاں فائر کی گئی تھیں۔ پولیس کو شک تھا کہ حملہ آور خودکش جیکٹیں پہنے ہوئے ہیں لیکن یہ شک غلط ثابت ہوا۔ بتایا گیا ہے کہ آٹھ پولیس اہلکاروں نے پچاس راؤنڈز فائر کیے۔ دریں اثناء لندن حملے میں ملوث ہونے کے شبے میں برطانوی پولیس نے بارہ مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ آج بروز اتوار یہ گرفتاریاں لندن کے مشرقی علاقے سے کی گئی ہیں۔ برطانوی پولیس نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ یہ مسلم انتہا پسندوں کی کارروائی ہو سکتی ہے۔ برطانیہ میں یہ حملے ایک ایسے وقت میں ہوئے ہیں، جب پانچ دن بعد وہاں پارلیمانی انتخابات کا انعقاد ہونے والا ہے۔ گزشتہ تین ماہ سے بھی کم وقت میں برطانیہ کو تیسری مرتبہ نشانہ بنایا گیا ہے۔

لندن حملے میں ملوث ہونے کے شُبے میں بارہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ برطانوی وزیراعظم نے ان حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اب بہت ہو گیا‘ اور سخت اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ برطانوی وزیراعظم ٹریزا مے نے اتوار کے روز مسلمان انتہا پسندوں کو سخت جواب دینے کا کہا ہے۔ ٹیلی وژن ... Read More »

لندن حملوں پر بین الاقوامی ردعمل

عالمی رہنماؤں کی جانب سے برطانوی دارالحکومت لندن میں گزشتہ شب ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کی مذمت کی جا رہی ہے۔ جرمن چانسلر انگیلا میرکل سمیت یورپ اور دنیا بھر کے رہنماؤں نے ان حملوں پر افسوس ظاہر کیا ہے۔ جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے اتوار کی صبح لندن حملوں پر اپنے ردعمل میں کہا کہ جرمنی اس موقع پر لندن کے رہنے والوں کے ساتھ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں لندن حملوں کا سن کر انتہائی افسوس ہوا۔ ’’ہم آج خوف اور دہشت کے سائے میں ہیں، جو ہر سرحد سے بالا ہے مگر اسے کے خلاف متحد اور پرعزم ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’ہم ہر طرح کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصروف ہیں اور پورے عزم کے ساتھ برطانیہ کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘‘ فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں نے ان حملوں کو ’بزدلانہ‘ قرار دیتے ہوئے بتایا کہ لندن حملوں میں زخمی ہونے والوں میں دو فرانسیسی شہری بھی شامل ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا، ’’فرانس دہشت گردی کے خلاف پوری قوت سے اپنی لڑائی جاری رکھے گا۔‘‘ لندن میں فرانسیسی ایک بڑی تعداد میں آباد ہیں، جب کہ سیاحت کی غرض سے لندن جانے والے فرانسیسی شہریوں کی تعداد بھی خاصی زیادہ ہوتی ہے۔ رواں برس مارچ میں لندن ہی میں گاڑی کے ذریعے کیے گئے حملے میں بھی متعدد فرانسیسی شہری زخمی ہوئے تھے۔ یہ بات اہم ہے کہ فرانس بھی دہشت گردی سے متاثرہ ممالک میں سے ایک ہے، جہاں نومبر 2015ء میں پیرس میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کے بعد سے ہنگامی حالت نافذ ہے جب کہ اس کے بعد بھی متعدد مرتبہ فرانس میں دہشت گردانہ حملے ہو چکے ہیں۔ لندن حملے ایک ایسے موقع پر ہوئے ہیں جب جمعرات کے روز برطانیہ میں عام انتخابات کا انعقاد ہونے جا رہا ہے۔ اسی تناظر میں کنزرویٹیو پارٹی نے ان انتخابات کے سلسلے میں جاری اپنی انتخابی مہم اتوار کو معطل کرنے کا اعلان کیا۔ فی الحال یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ آیا، یہ انتخابی مہم دوبارہ کب شروع ہو گی۔ یورپ کا دورہ کرنے والے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بھی لندن حملوں پر گہرے رنج کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ایک ’دھچکا‘ قرار دیا ہے۔ اپنے ایک مختصر بیان میں انہوں نے ان حملوں میں ہلاک ہونے والے افراد کے اہل خانہ سے تعزیت اور زخمی ہونے والوں کی صحت کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ دوسری جانب لندن حملوں کے فوری بعد اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانوی عوام کے ساتھ اظہار یک جہتی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی جانب سے چھ مسلم ممالک کے شہریوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی کے ہدایات نامے پر عمل درآمد نہایت ضروری ہے۔ ’’سلامتی کی بہتر سطح کے لیے ہمیں سفری پابندیوں پر عمل درآمد کی ضرورت ہے۔‘‘ اپنے ایک اور ٹوئٹر پیغام میں ٹرمپ نے کہا، ’’ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ خدا آپ کی حفاظت کرے۔‘‘

عالمی رہنماؤں کی جانب سے برطانوی دارالحکومت لندن میں گزشتہ شب ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کی مذمت کی جا رہی ہے۔ جرمن چانسلر انگیلا میرکل سمیت یورپ اور دنیا بھر کے رہنماؤں نے ان حملوں پر افسوس ظاہر کیا ہے۔ جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے اتوار کی صبح لندن حملوں پر اپنے ردعمل میں کہا کہ جرمنی اس موقع ... Read More »

لندن حملہ خالد مسعود نامی برطانوی شہری نے کیا

لندن دہشت گردانہ حملے میں ملوث شخص کی نشاندہی کر دی گئی ہے۔ باون سالہ خالد مسعود برطانیہ ہی میں پیدا ہوا تھا۔ اس سے قبل شدت پسند گروپ ’اسلامک اسٹیٹ‘ نے لندن حملے کی ذمہ داری قبول کر لی تھی۔ برطانوی پولیس نے لندن میں دہشت گردانہ حملہ کرنے والے شخص کی نشاندہی کر دی ہے۔ برٹش پارلیمنٹ کے سامنے خنجر حملے میں ایک پولیس اہلکار کو ہلاک کرنے اور ویسٹ منسٹر برج پر عام لوگوں پر گاڑی چڑھا کر دو افراد کو ہلاک اور چالیس سے زائد لوگوں کو زخمی کرنے والا ایک ہی حملہ آور تھا۔ پولیس کے مطابق باون سالہ خالد مسعود تھا لندن کے جنوب مشرق میں واقع کینٹ نامی علاقے میں پیدا ہوا اور وہ برطانوی شہری تھا۔ پولیس کے مطابق خالد مسعود ماضی میں بھی مختلف جرائم میں ملوث ہونے کے باعث پولیس کی نظروں میں تھا، تاہم اس سے پہلے وہ کسی دہشت گردانہ کارروائی میں ملوث نہیں رہا تھا۔ برطانوی پولیس کی جانب سے آج تئیس فروری جمعرات کے روز جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق، ’’پولیس کی کسی بھی جاری تفتیش میں مسعود کا نام شامل نہیں تھا اور اس سے قبل خفیہ اداروں کو بھی اس کے دہشت گردانہ حملہ کرنے کے ارادے کے بارے میں بھی کوئی معلومات نہیں تھیں۔‘‘ اسی بیان میں مزید بتایا گیا کہ ’’ماضی میں متعدد جرائم میں ملوث ہونے کے باعث پولیس اسے جانتی تھی۔ ان جرائم میں جارحیت اور شدید جسمانی نقصان پہنچانے، غیر قانونی ہتھیار رکھنے اور نقص عامہ جیسے جرائم شامل ہیں۔‘‘ پہلی مرتبہ سن 1983 میں خالد مسعود کو مجرمانہ اقدام کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا جب کہ آخری بار اسے سن 2003 کے اواخر میں ممنوعہ خنجر رکھنے کے جرم میں گرفتار کیا گیا تھا۔ خالد مسعود نے اس حملے کے لیے استعمال کی جانے والی کار برطانوی شہر برمنگھم سے گزشتہ ہفتے کرائے پر حاصل کی تھی۔ انٹرپرائز نامی کار کمپنی نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے۔ اس سے قبل آج لندن اور برمنگھم میں پولیس نے متعدد چھاپے مار کر آٹھ مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا تھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لندن حملوں میں ایک امریکی کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک ٹویٹر پیغام میں لکھا، ’’ایک عظیم امریکی، کُرٹ کوچران لندن میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے میں ہلاک ہو گیا، میری دعائیں اس کے اہل خانہ اور دوستوں کے ساتھ ہیں۔‘‘ آج صبح دہشت گرد گروپ ’اسلامک اسٹیٹ‘ نے لندن میں کیے گئے دہشت گردانہ حملے کی ذمہ داری بھی قبول کر لی تھی۔ ’اسلامک اسٹیٹ‘ سے قریبی وابستگی رکھنے والی ایجنسی اعماق کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق برطانوی پارلیمان کے قریب حملہ کرنے والا شخص ’اسلامک اسٹیٹ‘ کا ایک ’سپاہی‘ تھا۔

لندن دہشت گردانہ حملے میں ملوث شخص کی نشاندہی کر دی گئی ہے۔ باون سالہ خالد مسعود برطانیہ ہی میں پیدا ہوا تھا۔ اس سے قبل شدت پسند گروپ ’اسلامک اسٹیٹ‘ نے لندن حملے کی ذمہ داری قبول کر لی تھی۔ برطانوی پولیس نے لندن میں دہشت گردانہ حملہ کرنے والے شخص کی نشاندہی کر دی ہے۔ برٹش پارلیمنٹ کے ... Read More »

برطانوی پارلیمان نے بریگزٹ کی راہ ہموار کر دی

برطانوی پارلیمان نے بریگزٹ بل کی منظوری دے دی ہے، جس کے باعث اب برطانیہ کا یورپی یونین سے اخراج کا مرحلہ شروع ہو سکے گا۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی نے برطانوی میڈیا کے حوالے سے بتایا ہے کہ متوقع طور پر چودہ مارچ بروز پیر اس بل کو قانونی شکل دے دی جائے گی۔ برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے اس بل کی حتمی منظوری کے بعد آرٹیکل پچاس کے تحت برسلز سے بریگزٹ پر مذاکرات شروع کرنے کے قابل ہو جائیں گی۔ ’بریگزٹ‘ مے کو بات چیت شروع کرنے کا اختیار مل گیا برطانیہ: بریگزٹ منصوبے پر لندن پارلیمنٹ میں بحث شروع بریگزٹ کے بعد برطانیہ میں نفرت پر مبنی جرائم میں اضافہ برطانوی عوام نے ایک ریفرنڈم میں یورپی یونین سے الگ ہونے کے حق میں فیصلہ دیا تھا تاہم اس عمل میں کچھ قانونی مسائل حائل ہیں۔ البتہ گزشتہ روز برطانوی پارلیمان کی طرف سے منظوری کے بعد یہ عمل اب آسان ہو گیا ہے۔ اسکاٹ لینڈ کا کہنا ہے کہ برطانیہ سے نکلنے کے لیے ایک نیا عوامی ریفرنڈم کرائے جانے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔ اسکاٹ لینڈ کی فرسٹ منسٹر نکولا سٹرجن کے مطابق یہ ریفرنڈم ممکنہ طور پر برطانیہ کے یورپی یونین سے نکلنے سے قبل کرا لیا جائے گا۔ تاہم اس مقصد کے لیے اسکاٹ لینڈ کو لندن حکومت کی منظوری حاصل کرنا پڑے گی اور لندن کی جانب سے ایسی اجازت ملنے کے امکانات نہایت کم ہیں۔ دو ہزار چودہ میں بھی اسکاٹ لینڈ کے برطانیہ سے اخراج کے لیے ریفرنڈم کرایا گیا تھا جس میں پچپن فیصد اسکاٹش عوام نے برطانیہ میں شامل رہنے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ تاہم بریگزٹ ریفرنڈم میں اسکاٹش عوام کی اکثریت نے یورپی یونین میں شامل رہنے کی حمایت کی تھی۔ گزشتہ برس جون میں برطانیہ میں بریگزٹ ریفرنڈم کے نتائج کی وجہ سے یورپی یونین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی اور سرمایہ کاروں کے ساتھ ساتھ تاجر یورپی یونین کے مستقبل کے حوالے سے خدشات کا شکار ہو گئے تھے۔ ابتدائی طور پر ایسی قیاس آرائیاں کی جارہی تھیں کہ یورپی یونین کے حامی ارکان پارلیمان شاید بریگزٹ کے عمل کا راستہ روک لیں گے۔ بریگزٹ کے حوالے سے پیش کی جانے والی قرارداد پر پانچ روز سے جاری بحث کے دوران یہ واضح ہو گیا تھا کہ زیادہ تر ارکان اس عمل کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنیں گے۔ ان میں وہ ارکان بھی شامل ہیں، جو برطانیہ کے یورپی یونین سے انخلا کو ایک بڑی غلطی سے تعبیر کرتے ہیں۔

برطانوی پارلیمان نے بریگزٹ بل کی منظوری دے دی ہے، جس کے باعث اب برطانیہ کا یورپی یونین سے اخراج کا مرحلہ شروع ہو سکے گا۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی نے برطانوی میڈیا کے حوالے سے بتایا ہے کہ متوقع طور پر چودہ مارچ بروز پیر اس بل کو قانونی شکل دے دی جائے گی۔ برطانوی وزیر اعظم ... Read More »

ڈونلڈ ٹرمپ کا دورہ برطانیہ منسوخ کیا جائے، صادق خان

لندن کے میئر صادق خان نے امریکی صدر کی طرف سے عائد کردہ سفری پابندیوں کو ظالمانہ اور متعصبانہ قرار دیا ہے جبکہ برطانیہ بھر میں ٹرمپ مخالف احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے ان کا دورہ برطانیہ منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ صادق خان کا کہنا تھا کہ سات مسلمان ممالک کے شہریوں پر سفری پابندیاں عائد کرنے سے امریکی سلامتی میں بہتری کی بجائے اسے مزید نقصان پہنچے گا۔ برطانیہ کے اہم ترین مسلم رہنماؤں میں شامل صادق خان کے مطابق وہ اس حوالے سے جلد ہی اعلیٰ امریکی سفارت کاروں سے ملنے والے ہیں اور انہیں بھی اپنی تشویش سے آگاہ کریں گے۔ میڈیا پر جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق صادق خان کا کہنا تھا، ’’ لوگوں کو بغیر کسی وجہ کے اور صرف ان کے عقیدے یا پھر کسی ملک میں پیدا ہونے کی وجہ سے نشانہ بنانا ایک ظالمانہ اور متعصبانہ رویہ ہے۔‘‘ اپوزیشن جماعت لیبر پارٹی سے تعلق اور گزشتہ برس لندن کے میئر منتخب ہونے والے خان کا وزیر اعظم ٹریزا مے سے کہنا تھا کہ انہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورے کو اس وقت تک منسوخ کر دینا چاہیے، جب تک مسلمانوں پر سفری پابندی ختم نہیں کی جاتی۔ دوسری جانب گزشتہ روز برطانیہ بھر میں امریکی صدر کے طے شدہ دورہ برطانیہ اور سات مسلم ممالک کے شہریوں پر ویزہ پابندی عائد کرنے کے خلاف مظاہرے کیے گئے۔ برطانیہ میں امریکی صدر کے دورے کے خلاف ایک آن لائن پٹیشن بھی دائر کی گئی ہے، جس پر اب تک سولہ لاکھ سے زائد برطانوی شہری دستخط کر چکے ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق امریکی صدر کے اس دورے سے متعلق بیس فروری کو برطانوی پارلیمان میں باقاعدہ بحث کی جائے گی کیوں کہ برطانوی پارلیمان میں ہر اس پیٹیشن پر بحث ہوتی ہے، جس پر دس لاکھ سے زائد افراد دستخط کر دیتے ہیں۔ اسی روز اس دوسری پٹیشن پر بھی بحث کی جائے گی، جس میں اس دورے کے حق میں 10 لاکھ سے زائد برطانوی شہریوں نے دستخط کر دیے ہیں۔ برطانیہ کی وزارت خارجہ کے ایک سابق سربراہ پیٹر ریکیٹس کا مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’ مجھے حیرت ہوئی ہے کہ ٹرمپ کو اتنی جلدی سرکاری دورے کی دعوت دے دی گئی ہے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح ملکہ برطانیہ کو مشکل میں ڈال دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق اگر ٹرمپ کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ یونہی جاری رہا تو ملکہ برطانیہ کے لیے امریکی صدر کا استقبال کرنا مشکل ہو جائے گا۔ ان کے مطابق بہتر یہ ہوتا کہ ٹرمپ کو ’اسٹیٹ وزٹ‘ کی بجائے ’آفیشل وزٹ‘ کا درجہ دیا جاتا۔ برطانیہ میں ’اسٹیٹ وزٹ‘ کرنے والے مہمانوں کو خصوصی پروٹوکول ملتا ہے اور ایسے مہمانوں کا استقبال برطانوی ملکہ بھی کرتی ہیں۔

لندن کے میئر صادق خان نے امریکی صدر کی طرف سے عائد کردہ سفری پابندیوں کو ظالمانہ اور متعصبانہ قرار دیا ہے جبکہ برطانیہ بھر میں ٹرمپ مخالف احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے ان کا دورہ برطانیہ منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ صادق خان کا کہنا تھا کہ سات مسلمان ممالک کے شہریوں پر سفری پابندیاں عائد کرنے سے ... Read More »

برطانیہ: بریگزٹ منصوبے پر لندن پارلیمنٹ میں بحث شروع

برطانوی وزیر اعظم ٹیریزا مے نے یورپی یونین سے برطانیہ کے الگ ہونے کے سلسلے میں جو پلان تیار کیا ہے، منگل اکتیس جنوری سے اُس پر لندن پارلیمنٹ میں بحث کا آغاز ہو گیا ہے اور اس پلان کی منظوری کے روشن امکانات ہیں۔ برطانوی پارلیمنٹ کے کئی ارکان برطانیہ کے بدستور یورپی یونین ہی میں شامل رہنے کے حامی ہیں اور اِن ارکان کی کوشش ہے کہ حکومت کو اپنی حکمتِ عملی پر نظر ثانی کرنے کے لیے مجبور کر دیا جائے۔ تاہم نیوز ایجنسی روئٹرز کے ایک جائزے کے مطابق منگل اکتیس جنوری کو پہلے روز کی کارروائی کو دیکھتے ہوئے توقع کی جا سکتی ہے کہ یہ پلان پارلیمنٹ کی جانب سے کئی ہفتوں پر پھیلے ہوئے کسی شدید بحث مباحثے کی زَد میں آنے سے بچ جائے گا۔ گزشتہ ہفتے برطانوی سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ وزیر اعظم مے آرٹیکل پچاس پر عملدرآمد اور یورپی یونین کو چھوڑنے کے لیے قانونی طریقہٴ کار شروع کرنے کا فیصلہ اکیلے ہی یکطرفہ طور پر نہیں کر سکتیں اور اُنہیں اس سلسلے میں پارلیمنٹ سے رجوع کرنا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ اب وزیر اعظم مے نے ایک قانونی مسودہ بحث کے لیے پارلیمنٹ میں پیش کر دیا ہے اور اس مسودے کی منظوری کا مطلب یہ ہو گا کہ مے کو یورپی یونین سے الگ ہونے کا طریقہٴ کار شروع کرنے کی باقاعدہ اجازت مل جائے گی۔ بریگزٹ سے متعلقہ برطانوی وزیر ڈیوڈ ڈیوس نے اِس بِل پر دو روزہ بحث کے آغاز پر، جو کہ قانون سازی کا پہلا مرحلہ ہے، کہا:’’اس بِل کا سیدھے سیدھے مقصد یہ ہے کہ ریفرنڈم کے نتائج کو عملی شکل دی جائے، اس ریفرنڈم کی شکل میں برطانوی عوام نے اپنا فیصلہ دے دیا ہے اور وہ اس پیش رفت کو روکنے کی کسی بھی کوشش کو اچھی نظر سے نہیں دیکھیں گے۔‘‘ کچھ ارکان کی کوشش ہو گی کہ وہ قانون سازی کے اِس عمل سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مے کو مجبور کریں کہ وہ یورپی یونین کے ساتھ مذاکراتی عمل کے دوران اپنی حکمتِ عملی کے بارے میں زیادہ سے زیادہ تفصیلات بتائیں۔ وہ چاہیں گے کہ اس مذاکراتی عمل میں پارلیمنٹ کو بھی اپنا کردار ادا کرنے کا اختیار دیا جائے اور ہو سکے تو بریگزٹ کا پورا عمل ہی روک دیا جائے۔ تاہم قدامت پسند مے کو پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اُن کا یہ مسودہٴ قانون پروگرام کے مطابق اور زیادہ رد و بدل کے بغیر ہی مارچ کے آخر تک پارلیمنٹ سے منظور ہو جائے گا۔ پارلیمان کی دوسری بڑی جماعت لیبر پارٹی نے یہ تو کہا ہے کہ پارلیمنٹ کو بریگزٹ عمل کی اور زیادہ سختی سے جانچ کرنی چاہیے تاہم اُس نے کہا ہے کہ وہ اس عمل کے راستے میں رکاوٹ نہیں ڈالے گی۔ لیبر کے بہت سے ارکانِ پارلیمان انفرادی سطح پر بہرحال اس قانون کی مخالفت کریں گے۔ مختلف اپوزیشن جماعتوں کے ارکان کی جانب سے مے کے تجویز کردہ مسودے میں ترامیم کے لیے پانچ الگ الگ درخواستیں دی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک یورپی یونین کی حامی سکاٹش نیشنل پارٹی کی جانب سے ہے، جس پر رائے شماری بدھ کو ہو گی۔

برطانوی وزیر اعظم ٹیریزا مے نے یورپی یونین سے برطانیہ کے الگ ہونے کے سلسلے میں جو پلان تیار کیا ہے، منگل اکتیس جنوری سے اُس پر لندن پارلیمنٹ میں بحث کا آغاز ہو گیا ہے اور اس پلان کی منظوری کے روشن امکانات ہیں۔ برطانوی پارلیمنٹ کے کئی ارکان برطانیہ کے بدستور یورپی یونین ہی میں شامل رہنے کے ... Read More »

دو برسوں میں ایک لاکھ سے زائد پاکستانیوں نے یورپ میں پناہ کی درخواستیں دیں

گزشتہ دو برسوں کے دوران ایک لاکھ سے زائد پاکستانی شہریوں نے مختلف یورپی ملکوں میں سیاسی پناہ کی درخواستیں دیں۔ ان میں سے قریب نصف تعداد نے یہ درخواستیں صرف دو ممالک جرمنی اور اٹلی میں جمع کرائیں۔ یورپ میں مہاجرین کے حالیہ بحران کے دوران شام، عراق اور افغانستان جیسے خانہ جنگی اور شورش سے متاثرہ ممالک کے لاکھوں شہریوں نے یورپی یونین کا رخ کیا۔ تاہم پاکستان میں سکیورٹی کی نسبتاﹰ بہتر صورت حال کے باوجود پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد بھی ابھی تک یورپ کا رخ کر رہی ہے۔ مہاجرین کو ترک شہریت دی جائے گی، ایردوآن لکسمبرگ میں یورپی یونین کے دفتر شماریات یوروسٹَیٹ کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2015ء اور 2016ء کے دوران پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایک لاکھ سے زائد افراد نے یورپی یونین کے رکن مختلف ممالک میں سیاسی پناہ کے حصول کے لیے درخواستیں دیں۔ زیادہ تر پاکستانیوں نے جرمنی اور اٹلی کا رخ کیا۔ گزشتہ برس یورپ پہنچنے والے پاکستانیوں کی تعداد میں کچھ کمی دیکھی گئی جس دوران تینتالیس ہزار سے زائد پاکستانی مختلف یورپی ممالک پہنچے جب کہ اس سے ایک سال قبل2015ء کے دوران اڑتالیس ہزار سے زائد پاکستانی زیادہ تر غیر قانونی طور پر یورپ آئے تھے۔ جرمنی اور اٹلی پاکستانی شہریوں کی پسندیدہ منازل ہیں جہاں گزشتہ دو برسوں کے دوران چھیالیس ہزار سے زائد پاکستانیوں نے سیاسی پناہ حاصل کرنے کے لیے درخواستیں جمع کرائیں۔ یوروسٹَیٹ کے مطابق پچھلے سال کے پہلے گیارہ ماہ کے دوران صرف جرمنی میں پندرہ ہزار جب کہ اٹلی میں قریب ساڑھے دس ہزار پاکستانی پہچنے۔ ان دو ملکوں کے علاوہ برطانیہ، یونان، ہنگری، آسٹریا اور بلغاریہ میں بھی ہزاروں کی تعداد میں پاکستانی شہریوں نے سیاسی پناہ کے حصول کے لیے درخواستیں دیں۔ غیر قانونی طریقوں سے یورپ کا رخ کرنے والے پاکستانی زیادہ تر معاشی وجوہات کی بنا پر ترک وطن کرتے ہیں۔ یوروسٹَیٹ کے اعداد و شمار کے مطابق بھی یونین میں آنے والے پاکستانیوں کی اکثریت نوجوان مردوں پر مشتمل ہے۔ پچھلے برس قریب تین ہزار پاکستانی خواتین جب کہ چالیس ہزار سے زائد مرد مختلف یورپی ممالک پہنچے۔ یورپی ممالک کے قوانین کے مطابق معاشی وجوہات کی بنا پر یورپ کا رخ کرنے والے افراد کو یورپ میں مہاجر تسلیم نہیں کیا جاتا۔ جرمنی کے وفاقی دفتر برائے مہاجرت اور ترک وطن (BAMF) کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق 2016ء کے دوران قریب دس ہزار پاکستانیوں کی درخواستوں پر ابتدائی فیصلے سنائے گئے۔ ان میں سے محض 353 افراد یا 3.5 فیصد کو پناہ دی گئی جب کہ باقی تمام درخواستیں مسترد کر دی گئیں۔ اس کے برعکس افغانستان سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کی پناہ کی درخواستوں کی کامیابی کا تناسب پچپن فیصد رہا جب کہ عراقی تارکین وطن میں سے بھی ستر فیصد کو جرمنی میں پناہ دے دی گئی۔ شام سے تعلق رکھنے والے قریب سبھی (98.1 فیصد) درخواست دہندہ شہریوں کو بھی جرمنی میں بطور مہاجرین پناہ دے دی گئی۔ یورپ آنے والے سبھی مہاجرین کی دوبارہ جانچ پڑتال کا مطالبہ

گزشتہ دو برسوں کے دوران ایک لاکھ سے زائد پاکستانی شہریوں نے مختلف یورپی ملکوں میں سیاسی پناہ کی درخواستیں دیں۔ ان میں سے قریب نصف تعداد نے یہ درخواستیں صرف دو ممالک جرمنی اور اٹلی میں جمع کرائیں۔ یورپ میں مہاجرین کے حالیہ بحران کے دوران شام، عراق اور افغانستان جیسے خانہ جنگی اور شورش سے متاثرہ ممالک کے ... Read More »

Scroll To Top