You are here: Home » اہم خبریں

Category Archives: اہم خبریں

Feed Subscription

اٹھائیس لاپتہ افراد کی بازیابی، لیکن کیا یہ کافی ہے؟

پاکستان کے صوبے بلوچستان کے کم ازکم اٹھائیس گمشدہ افراد اپنے گھروں کو واپس آگئے ہیں لیکن انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ تعداد بہت تھوڑی ہے، حکومت کو سارے لاپتہ افراد کو بازیاب کرانا چاہیے۔ انسانی حقوق کی کچھ تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ ملک کے طول و عرض سے ہزاروں افراد گمشدہ ہیں جنہیں جبری طور پر اٹھایا گیا تھا۔ ان تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ سب سے زیادہ افراد پاکستان کے مغربی صوبے بلوچستان سے غائب کیے گئے ہیں جہاں کئی برسوں سے علیحدگی پسندی کی ایک تحریک چل رہی ہے۔ بلوچ جنگجو اور گمشدہ افراد کی بازیابی کے حق میں آواز اٹھانے والی تنظیمیں پاکستان کے حساس اداروں پر یہ الزام لگاتی ہیں کہ وہ بلوچستان میں بلوچوں کو ماورائے قانون اٹھا رہے ہیں اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ دوسری جانب حکومت کا کہنا ہے کہ در اصل بلوچ جنگجو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کر رہے ہیں اور صوبے میں بسنے والے نہ صرف غیر بلوچ اقوام کو اپنی دہشت گردانہ کارروائیوں کا نشانہ بناتے ہیں بلکہ ان کے نشانے پر فوج اور پولیس کے علاوہ وہ بلوچ سیاسی رہنما بھی ہیں، جو وفاق اور مرکزی حکومت کے حامی ہیں۔ بلوچ گمشدہ افراد کے لیے کام کرنے والے ماما قدیر کا کہنا ہے کہ انہیں اس رہائی سے یہ امید نہیں کہ ہزاروں کی تعداد میں جبری طور پر گمشدہ افراد کو بازیاب کرا لیا جائے گا۔ ماما قدیر نے ڈی ڈبلیو کو بتایا،’’یہ بات صیح ہے کہ اٹھائیس افراد کو رہا کر دیا گیا ہے جن میں سے کچھ کئی برسوں سے غائب تھے۔ لیکن اتنے کم افراد کو چھوڑنے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔ یہ آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ پینتالیس ہزار افراد لاپتہ ہیں اور اب تک دس ہزار کے قریب مسخ شدہ لاشیں ملی ہیں۔ ہم نے ان ہزاروں افراد کی فہرست حکومت کو دے دی ہے۔ جب تک یہ بازیاب نہیں ہوتے ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔ گمشدہ افراد کے مسئلے پر صرف ایسی ہی بلوچ تنظیمیں حکومت سے ناراض نہیں ہیں جو علیحدگی پسندی پر یقین رکھتی ہیں بلکہ اس مسئلے پر بلوچستان میں وفاق کی سیاست کرنے والے سیاست دان بھی ریاستی اداروں سے ناراض ہیں اور وہ اس کو ایک بہت ہی سنگین مسئلہ قرار دیتے ہیں۔ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سینیٹر محمد اکرم کا کہنا ہے کہ اس رہائی کے ساتھ ساتھ مزید لوگوں کو بھی اٹھایا جارہا ہے۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا،’’ میرے اپنے علاقے دشت سے لوگوں کو اٹھایا گیا ہے۔ کوئی دو مہینے سے، کوئی تین توکوئی آٹھ مہینے سے غائب ہے۔کوہلو، ڈیرہ بگٹی، نصیر آباد، پنجگور اور کیج سمیت کئی علاقوں سے لوگوں کو اٹھایا گیا ہے۔ جب تک سارے افراد کورہا نہیں کیا جاتا بات نہیں بنے گی۔‘‘ محمد اکرام نے مزید کہا کہ یہ مسئلہ سینیٹ اور قومی اسمبلی سمیت کئی فورمز پر اٹھایا گیا لیکن کسی نے اس پر توجہ نہیں دی۔ کچھ حلقوں نے محتاط انداز میں 28 افراد کی بازیابی کا خیر مقدم بھی کیا ہے لیکن انہوں نے اس بات کا مطالبہ کیا ہے کہ تمام لاپتہ افراد کی بازیابی کو ممکن بنایا جائے۔ تنظیم برائے انسانی حقوق، ’ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان‘ کا کہنا ہےکہ ملک کے چاروں صوبوں سے لوگوں کو جبری طور پر اُٹھا لیا گیا ہے۔ تنظیم کے سربراہ ڈاکڑ مہدی حسن نے اس مسئلے پر اپنی رائے دیتے ہوئے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’میرے خیال میں رہا کیے گئے افراد کی تعداد بہت تھوڑی ہے۔ یہ رہائی مثبت ہے لیکن بہت نا کافی ہے۔ ہمارے اندازے کے مطابق ہزاروں افراد کو ملک کے طول وعرض سے اٹھایا گیا ہے اور ہمارا مطالبہ ہے کہ ان سب کو رہا کیا جانا چاہیے۔‘‘ کئی ناقدین کے خیال میں سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ ملک کے حساس اداروں کو اپنی آئینی حدود میں کام کرنے پر مجبور کر سکتا ہے لیکن مہدی حسن کے خیال میں ایسا ہوتا نظر نہیں آرہا۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا،’’ مسئلہ عدالت کا حکم دینا نہیں ہے بلکہ اس پر عمل درآمد کرانےکا ہے۔‘‘ ناقدین کا خیال ہے کہ حکومت نے گمشدہ افراد کے مسئلے پر خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔ لیکن بلوچستان حکومت کے ترجمان ظہور بلیدی کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت اس مسئلے کو حل کرنے کی بھر پور کوشش کر رہی ہے۔انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’ تیس کے قریب افراد کو رہا کر دیا گیا ہے۔ مزید گمشدہ افراد کو بازیاب کرانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس حوالے سے ہم نے وزیرِ اعظم عمران خان سے بھی رابطہ کیا ہے اور بلوچستان حکومت متعلقہ اداروں سے بھی رابطے میں ہے۔‘‘

پاکستان کے صوبے بلوچستان کے کم ازکم اٹھائیس گمشدہ افراد اپنے گھروں کو واپس آگئے ہیں لیکن انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ تعداد بہت تھوڑی ہے، حکومت کو سارے لاپتہ افراد کو بازیاب کرانا چاہیے۔ انسانی حقوق کی کچھ تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ ملک کے طول و عرض سے ہزاروں افراد گمشدہ ہیں جنہیں جبری ... Read More »

زہریلی شراب پینے سے بیسیوں بھارتی شہری ہلاک، درجنوں بیمار

شمالی بھارت کی دو ریاستوں کے متعدد دیہات میں غیر قانونی طور پر کشید کی گئی زہریلی شراب پینے سے بیسیوں شہری ہلاک اور درجنوں بیمار ہو گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق بیمار پڑ جانے والے افراد میں سے متعدد کی حالت نازک ہے۔ بھارتی ریاست اتر پردیش کے دارالحکومت لکھنؤ سے ہفتہ نو فروری کو ملنے والی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق غیر قانونی طور پر کشید کی گئی اس شراب میں میتھینول نامی زہریلا مادہ موجود تھا اور اب تک کم از کم 39 افراد کی ہلاکت اور 27 دیگر کے شدید بیمار ہو جانے کی تصدیق ہو چکی ہے۔ پولیس کے ایک سینیئر افسر شوک کمار نے بتایا کہ ان ہلاکتوں میں سے 26 ملکی دارالحکومت نئی دہلی سے مشرق کی طرف تقریباﹰ 306 کلومیٹر دور ریاست اتر پردیش میں اور 13 دیگر ہلاکتیں اتر پردیش کی ہمسایہ بھارتی ریاست اتر آکھنڈ میں ہوئیں۔ اتر آکھنڈ میں زہریلی شراب پینے سے مرنے والوں کی زیادہ تر تعداد کا تعلق بالپور نامی ایک گاؤں سے تھا۔ پولیس افسر اشوک کمار نے بتایا کہ ان تمام افراد نے یہ زہریلی شراب جمعرات سات فروری کی رات پی تھی، جس کے بعد بیسیوں کی تعداد میں لوگ بیمار پڑ گئے تھے۔ ان افراد کو فوری طبی امداد مہیا کرنے کی کوشش کی گئی تاہم ان میں سے درجنوں کل جمعہ آٹھ فروری تک انتقال کر گئے تھے جبکہ باقی ماندہ افراد کی جانیں بچانے کی پوری کوشش کی جا رہی ہے۔ ہلاک شدگان کے پوسٹ مارٹم سے بھی یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ انہوں نے جو ‌غیر قانونی طور پر کشید کردہ شراب پی تھی، اس میں میتھینول شامل تھی۔ پولیس نے مرنے والوں کو یہ زہریلی دیسی شراب فروخت کرنے کے شبے میں آٹھ مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا ہے جبکہ اتر پردیش اور اتر آکھنڈ کی ریاستی حکومتوں نے اتنے زیادہ جانی نقصان پر 35 سرکاری اور 12 پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا ہے۔ بھارت میں زہریلی شراب پینے سے انسانی ہلاکتوں کی رپورٹیں بار بار ملتی رہتی ہیں۔ اس لیے کہ آبادی کے لحاظ سے دنیا کے اس دوسرے سب سے بڑے ملک میں مقامی اور غیر قانونی طور پر کشید کردہ شراب کا کاروبار عام ہے۔ یہ شراب پینے والے اکثر بھارت کے وہ بہت غریب شہری ہوتے ہیں، جو مہنگی شراب خریدنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ غیر قانونی طور پر کشید کردہ اس شراب میں عام طور پر اسے زیادہ زود اثر بنانے کے لیے کئی بہت زہریلی زرعی ادویات اور دیگر کیمیائی مادے بھی شامل کر دیے جاتے ہیں۔ بھار ت کی چند ریاستوں میں شراب کی فروخت پر پابندی کی وجہ سے وہاں شراب کی اسمگلنگ بھی بہت منافع بخش کاروبار بن چکی ہے۔

شمالی بھارت کی دو ریاستوں کے متعدد دیہات میں غیر قانونی طور پر کشید کی گئی زہریلی شراب پینے سے بیسیوں شہری ہلاک اور درجنوں بیمار ہو گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق بیمار پڑ جانے والے افراد میں سے متعدد کی حالت نازک ہے۔ بھارتی ریاست اتر پردیش کے دارالحکومت لکھنؤ سے ہفتہ نو فروری کو ملنے والی نیوز ایجنسی ... Read More »

سعودی عرب پر دباؤ، يورپ کے ساتھ تعلقات پيچيدہ ہونے کا امکان

سعودی عرب کا نام ايسے ملکوں کی فہرست ميں شامل کر ليا گيا ہے، جن ميں دہشت گرد عناصر کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کے انسداد کے ليے ناکافی اقدامات کیے جا رہے ہيں۔ آئندہ ہفتے اس فہرست اور مسودے کو حتمی شکل دے دی جائے گی۔ يورپی کميشن نے سعودی عرب کو ان ملکوں کی فہرست کے مسودے ميں شامل کر ليا ہے جن ميں منی لانڈرنگ اور دہشت گرد عناصر کی مالی معاونت کے انسداد کے ليے کنٹرول اور اقدامات ناکافی ہيں۔ دو مختلف ذرائع نے اس پيش رفت کی تصديق جمعے کی شب کی۔ فہرست ميں شامل ملکوں کو يورپی بلاک کی سلامتی کے ليے خطرہ قرار ديا جاتا ہے۔ فہرست کے مسودے ميں اس وقت سولہ ممالک شامل ہيں اور اسے بنيادی طور پر فنانشل ايکشن ٹاسک فورس (FATF) کی بنيادوں پر ہی تشکيل ديا گيا ہے۔ يہ فہرست اور اس کا مسودہ فی الحال عام نہيں کيا گيا ہے۔ يورپی کميشن نے سن 2017 ميں منظور شدہ نئے قوائد و ضوابط کے تحت ايسے ملکوں کی فہرست ميں اضافہ کيا ہے۔ صحافی جمال خاشقجی کے ترک شہر استنبول ميں واقع سعودی قونصل خانے ميں قتل کے بعد سے رياض حکومت پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ اس تناظر ميں سعودی عرب کافی تنقيد کی زد ميں ہے۔ رياض حکومت ملکی معيشت کو بہتر بنانے کے ليے بيرونی سرمايہ کاروں کو راغب کرنا چاہتی ہے تاہم يہ تازہ پيش رفت ايسی کوششوں کے ليے بھی ايک دھچکہ ہے۔ فی الحال عرب نے اس پر کوئی رد عمل ظاہر نہيں کيا ہے۔ يورپی کميشن کی جانب سے سعودی عرب کو اس فہرست ميں شامل کيے جانے سے ايک طرف تو رياض حکومت کی ساکھ متاثر ہو گی تو دوسری طرف اس کے نتيجے ميں اقتصادی و مالی روابط بھی پيچيدہ ہو جائيں گے۔ يورپی يونين کے رکن ممالک کو مالی سودوں ميں رقوم کی ادائیگی و وصولی پر نگرانی بڑھانا پڑے گی۔ يہ امر اہم ہے کہ اس قدم کی ابھی يونين کے اٹھائيس رکن ممالک سے توثيق باقی ہے، جس کے بعد آئندہ ہفتے اس پر باقاعدہ طور پر عملدرآمد شروع ہو جائے گا۔ يورپی کميشن نے سن 2017 ميں منظور شدہ نئے قوائد و ضوابط کے تحت سعودی عرب کا نام اس فہرست ميں شامل کيا ہے۔ برسلز ميں ايک اور يورپی اہلکار نے اپنا نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتايا کہ چند ديگر ملکوں کا نام بھی آئندہ کچھ ايام ميں اس فہرست ميں شامل کيا جائے گا۔ يورپی کميشن کے ايک ترجمان نے البتہ اس بارے ميں بات کرنے سے انکار کر ديا اور ان کا کہنا تھا کہ فی الحال يہ فہرست حتمی نہيں ہے۔ اس فہرست ميں جن ملکوں کے نام شامل ہوتے ہيں، ان ميں منی لانڈرنگ اور دہشت گرد عناصر کی مالی معاونت کے انسداد کے ليے اقدامات ميں نقص ہوتے ہيں اور جو يورپی يونين کے معاشی نظام کے ليے خطرہ ثابت ہو سکتے ہيں

سعودی عرب کا نام ايسے ملکوں کی فہرست ميں شامل کر ليا گيا ہے، جن ميں دہشت گرد عناصر کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کے انسداد کے ليے ناکافی اقدامات کیے جا رہے ہيں۔ آئندہ ہفتے اس فہرست اور مسودے کو حتمی شکل دے دی جائے گی۔ يورپی کميشن نے سعودی عرب کو ان ملکوں کی فہرست کے مسودے ... Read More »

گولڈن گلوب ایوارڈز، بوہیمین رہپسڈی سب سے کامیاب فلم

برطانوی روک بینڈ کوئین کی کہانی پر بنائی گئی فلم بوہیمین رہپسڈی نے گولڈن گلوب ایوارڈز کا میلہ اپنے نام کر لیا۔ یہ فلم اس بینڈ کے رکن فریڈی کو مرکزی کردار بنا کر تخلیق کی گئی ہے۔ اس فلم نے گولڈن گلوب ایوارڈز کے لیے فیورٹ سمجھی جانے والی فلم ’اے اسٹار از بورن‘‘ یا ’ایک ستارے کا جنم ہوا‘‘ کو شکست دے دی۔ 76 ویں گولڈن گلوب ایوارڈز کی تقریب میں بہترین ڈرامہ اور بہترین اداکار کا ایوارڈ لے کر بوہیمین رہپسڈی نے ایک طرح سے ایک غیرمتوقع کامیابی حاصل کی، کیوں کہ زیادہ تر افراد کا خیال تھا کہ ’اے اسٹار از بورن‘ یہ ایوارڈ جیت جائے گی۔ اس فلم میں رامی مالک نے مرکزی کردار ادا کیا ہے اور بہترین اداکار کا ایوارڈ بھی انہی کو ملا۔ گولڈن گلوب ایوارڈز، ’تھری بل بورڈز‘ کی بڑی کامیابی گولڈن گلوب ایوارڈز، میرل اسٹریپ ٹرمپ پر برس پڑیں آسکر نامزدگی حاصل کرنے والے روسی ہدایت کار کو تنقید کا سامنا لیڈی گاگا بھی ’اے اسٹار از بورن‘ کا حصہ ہیں۔ اس فلم کے حوالے سے عمومی رائے یہ تھی کہ یہ آئندہ آسکر ایوارڈ تک اپنے نام کر سکتی ہے۔ یہ بات اہم ہے کہ فلمی دنیا کے سب سے معتبر اکیڈمی ایوارڈز (آسکرز) کی امسالہ تقریب 24 فروری کو منعقد ہو گی۔ گولڈن گلوب ایوارڈز کی اس تقریب کی میزبانی سینڈرا اوہ اور اینڈی سیمبرگ نے کی، جس دوران وہ مختلف چٹکلے بھی سناتے رہے۔ سینڈرا اوہ بھی ٹی وی ڈرامے ’کِلنگ ایو‘ ’یا قاتل شام‘ میں بہترین اداکارہ کا ایوارڈ جیت گئیں۔ انہوں نے اس موقع پر کوریا میں مقیم اپنے والدین کا شکریہ ادا کیا۔ یہ تیسرا موقع ہے کہ انہوں نے کوئی گولڈن گلوب ایوارڈ جیتا ہے۔ امسالہ گولڈن گلوب ایوارڈز میں بہترین اداکار کا ایوارڈ جیتنے والے رامی مالک اس سے قبل ٹی وی ڈرامے ’مسٹر روبوٹ‘ میں بہترین اداکاری کے شعبے میں دو مرتبہ گولڈن گلوب کے لیے نام زد ہو چکے ہیں، تاہم یہ ان کی زندگی کا پہلا گولڈن گلوب ہے۔ ایوارڈ وصول کرتے ہوئے انہوں نے کوئین بینڈ کے ارکان فرائن مے، روجر ٹیلر اور فریڈی مرکری کا شکریہ بھی ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ فریڈی مرکری کا کردار ذاتی طور پر ان کے دل کے نہایت قریب اس لیے بھی تھا کہ اس میں ایک تارک وطن کی جدوجہد اور شناخت کی تلاش جیسے معاملات دکھائے گئے ہیں۔ ’’میں نے کوشش کی کہ بہ طور تارک وطن جو جو کچھ میں نے محسوس کیا، یا ابھی تک کرتا ہوں، اسے سامنے رکھ کر ہی یہ فلمی کردار ادا کروں۔‘‘

برطانوی روک بینڈ کوئین کی کہانی پر بنائی گئی فلم بوہیمین رہپسڈی نے گولڈن گلوب ایوارڈز کا میلہ اپنے نام کر لیا۔ یہ فلم اس بینڈ کے رکن فریڈی کو مرکزی کردار بنا کر تخلیق کی گئی ہے۔ اس فلم نے گولڈن گلوب ایوارڈز کے لیے فیورٹ سمجھی جانے والی فلم ’اے اسٹار از بورن‘‘ یا ’ایک ستارے کا جنم ... Read More »

ساہیوال سانحے کے ذمہ داران کو سخت سزا دی جائے گی، عمران خان

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ساہیوال ميں پيش آنے والے واقعے پر عوام میں پایا جانے والا غم و غصہ جائز اور قابل فہم ہے۔ عمران خان کے بقول قطر سے واپسی کے بعد وہ ذمہ داران کو سخت سزا دلوائیں گے۔ اپنی ٹوئیٹ میں عمران خان نے لکھا ہے کہ وہ قوم کو یقین دلاتے ہیں کہ قطر کے سرکاری دورے سے واپسی پر وہ اس واقعے کے ذمہ داران کو عبرت ناک سزا دیں گے۔ اس کے علاوہ وہ پنجاب پولیس کے پورے ڈھانچے کا جائزہ لیں گے اور اس کی اصلاح کا آغاز بھی کریں گے۔ پولیس کے انسداد دہشت گردی کے محکمے کی جانب سے کہا گیا کہ انہوں نے ایک شادی شدہ جوڑے اور ان کی تیرہ سالہ بیٹی سمیت چار افراد کو پولیس مقابلے کے دوران گزشتہ ہفتے ہلاک کر دیا تھا۔ اس واقعے میں بچ جانے والے تین کم سن بچوں نے بھی ايک ویڈیو میں کچھ کہا، جو قانونی نافذ کرنے والے ادارے کے بيان کی نفی کرتا ہے۔ یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی اور عوام کی جانب سے اس واقعے پر شدید غم اور غصے کا اظہار کیا گیا۔ عمران خان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ اس واقعے کے خلاف فوری کارروائی کرائيں گے۔ اتوار کو پولیس کی جانب سے کی جانے والی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے خلیل اور اس کی اہلیہ نبیلہ، ان کی بیٹی عریبہ اور پڑوسی ذیشان کے نماز جنازے کے وقت کہا گیا کہ پولیس در اصل ذیشان کا پیچھا کر رہی تھی اور ان سے غلطی سے شادی شدہ جوڑا اور ان کی بیٹی مارے گئے۔ پاکستان کی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے بھی آج اس حوالے سے ایک ٹوئیٹ میں لکھا، ’’چاہے راؤ انوار ہو یا ساہیوال کا سانحہ، بطور حکومت یہ ہمارا فرض ہے کہ ’پولیس مقابلوں‘ ميں لوگوں کو ہلاک کيے جانے کی روایت کو ختم کیا جائے۔ سابقہ حکومتیں جس چیز کی حوصلہ افزائی کرتی تھیں اب اس کا خاتمہ ہونا چاہیے اور قانون کی بالادستی ہونی چاہیے۔‘‘

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ساہیوال ميں پيش آنے والے واقعے پر عوام میں پایا جانے والا غم و غصہ جائز اور قابل فہم ہے۔ عمران خان کے بقول قطر سے واپسی کے بعد وہ ذمہ داران کو سخت سزا دلوائیں گے۔ اپنی ٹوئیٹ میں عمران خان نے لکھا ہے کہ وہ قوم کو یقین ... Read More »

قطر میں افغان طالبان اور امریکی نمائندوں کے مابین مذاکرات

افغان طالبان اور امريکی اہلکاروں کے مابين حاليہ دنوں ميں اختلافات اور تعطلی کے شکار امن مذاکرات قطر ميں رواں ہفتے کے آغاز سے بحال ہو گئے ہيں۔ مذاکرات ميں طالبان کے ايک ديرينہ مطالبے پر بھی بات چيت جاری ہے۔ افغان طالبان نے امريکا کے افغانستان کے ليے خصوصی مندوب زلمے خلیل زاد کے ساتھ قطر ميں پير اکيس جنوری کے روز ملاقات کی تصديق کر دی ہے۔ طالبان کے ترجمان ذبيح اللہ مجاہد نے اس بارے ميں جاری کردہ اپنے ایک بيان ميں کہا، ’’طالبان رہنماؤں اور امريکی اہلکاروں کے مابين مذاکرات قطر ميں آج سے شروع ہو گئے ہيں۔‘‘ افغانستان ميں سترہ برس سے جاری جنگ کے خاتمے اور قيام امن کے ليے مذاکراتی عمل پچھلے دنوں اختلافات کے سبب تعطلی کا شکار بھی رہا۔ پچھلے ہفتے کے اختتام پر ہی طالبان نے افغانستان کے ليے خصوصی مندوب زلمے خليل زاد سے پاکستان ميں ملاقات کرنے سے انکار کر ديا تھا۔ اختلافات کی ايک اہم وجہ يہ بھی ہے کہ طالبان کابل حکومت کے نمائندوں کے ساتھ مذاکرات پر قطعی طور پر راضی نہيں۔ امريکا اس بات سے نالاں ہے۔ امن مذاکرات سے وابستہ ايک ذريعے نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر نیوز ایجنسی روئٹرز کو بتايا کہ پير کو قطر ميں ہونے والی ملاقات ميں افغانستان سے غير ملکی افواج کے انخلاء کا طريقہ کار اور شيڈول بھی امکاناً طے کر لیا جائے گا۔ اس ملاقات کے حوالے سے فی الحال زيادہ تفصيلات سامنے نہیں آئی ہیں۔ دريں اثناء امن مذاکرات ميں یہ پيش رفت ايک ايسے وقت ہوئی، جب وسطی افغانستان ميں طالبان کے ايک حملے ميں ايک سو سے زائد افغان سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔ ميدان وردک صوبے ميں حملہ آوروں نے بارود سے لدی ايک گاڑی سے نيشنل ڈائريکٹوريٹ فار سکيورٹی کو نشانہ بنايا۔ بعد ازاں کم از کم دو حملہ آوروں نے فائرنگ بھی کی، جنہيں جوابی کارروائی ميں ہلاک کر ديا گيا۔

افغان طالبان اور امريکی اہلکاروں کے مابين حاليہ دنوں ميں اختلافات اور تعطلی کے شکار امن مذاکرات قطر ميں رواں ہفتے کے آغاز سے بحال ہو گئے ہيں۔ مذاکرات ميں طالبان کے ايک ديرينہ مطالبے پر بھی بات چيت جاری ہے۔ افغان طالبان نے امريکا کے افغانستان کے ليے خصوصی مندوب زلمے خلیل زاد کے ساتھ قطر ميں پير اکيس ... Read More »

ورلڈ اکنامک فورم 2019: ٹرمپ، مے اور ماکروں غیر حاضر

سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈاووس میں جاری ورلڈ اکنامک فورم کی رونقیں یورپی یونین سے برطانیہ کے اخراج، عالمی سطح پر بڑھتی عوامیت پسندی اور ماحولیاتی تبدیلی سے لاحق خطرات سے متاثر ہوئی ہیں۔ برازیل کے نئے صدر ژائیر بولسونارو نے اپنے غیر ملکی دوروں کا آغاز سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈاووس سے کیا ہے۔ ڈاووس میں جاری عالمی اقتصادی فورم سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ماحولیات کا تحفظ ملکی اقتصادی ترقی میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔ انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے سابقہ فوجی کپتان ژیئر بولسونارو اپنی انتخابی مہم کے دوران یہ نعرہ لگاتے رہے ہیں کہ وہ اقتدار میں آ کر ملک کو اقتصادی بحران سے نکال لیں گے۔ عالمی اقتصادی فورم میں صدر بولسونارو کا کہنا ہے کہ وہ ڈاووس میں عالمی اشرافیہ کے سامنے سرمایہ کاری کے لیے تیار برازیل پیش کریں گے۔ ڈاووس آمد کے موقع پر انہوں رپورٹرز کو بتایا کہ، ’’ہم دنیا کو دکھائیں گے کہ برازیل سرمایہ کاری کے لیے محفوظ ملک ہے، خصوصاﹰ زراعت کے شعبے میں جو کہ بہت اہم ہے۔‘‘ برف، ٹرمپ اور بہت کم خواتین: عالمی اقتصادی فورم کا میزانیہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دورہ ڈاووس منسوخ کیے جانے کے بعد صدر بولسونارو ان کی جگہ فورم سے خطاب کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق برازیل کے صدر چین پر تنقید کی وجہ سے پہلے سے ہی صدر ٹرمپ کے نقش قدم پر گامزن ہیں۔ صدر ٹرمپ ہی صرف وہ واحد رہنما نہیں ہیں، جنہوں نے عالمی اقتصادی فورم میں شرکت کرنے کے بجائے ملک کے داخلی حالات کو ترجیح دی ہے۔ برطانوی وزیراعظم ٹریزا مے اور فرانسیسی صدر ایمانویل ماکروں نے بھی شرکت سے معذرت کر لی ہے۔ تاہم جرمن چانسلر انگیلا میرکل اور جاپانی وزیراعظم شینزو آبے بدھ کے روز فورم سے خطاب کریں گے۔ ڈاووس میں آج سے ورلڈ اکنامک فورم کا باقاعدہ آغاز ہو رہا ہے۔ عالمی سطح پر یہ فورم سماجی و بین الاقوامی امور سميت معاشرتی اور اقتصادی بحث و تمحیص کا ایک اہم پلیٹ فارم ہے۔ تاہم رواں برس ڈاووس میں جاری ورلڈ اکنامک فورم کی رونقیں یورپی یونین سے برطانیہ کے اخراج، عالمی سطح پر بڑھتی عوامیت پسندی اور ماحولیاتی تبدیلی سے لاحق خطرات سے متاثر ہوئی ہیں۔ عالمی اقتصادی فورم کے بانی کلاؤس شواب نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چند مایوس کن خیالات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا، ’’ہم انسانیت کی تاریخ کے نازک موڑ پر کھڑے ہیں، لہٰذا ہمیں مستقبل کی سمت طے کرنی ہوگی۔‘‘

سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈاووس میں جاری ورلڈ اکنامک فورم کی رونقیں یورپی یونین سے برطانیہ کے اخراج، عالمی سطح پر بڑھتی عوامیت پسندی اور ماحولیاتی تبدیلی سے لاحق خطرات سے متاثر ہوئی ہیں۔ برازیل کے نئے صدر ژائیر بولسونارو نے اپنے غیر ملکی دوروں کا آغاز سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈاووس سے کیا ہے۔ ڈاووس میں جاری عالمی اقتصادی فورم سے ... Read More »

جرمن شہریوں کی اسلحہ لائسنس کے حصول دلچسپی، پولیس کی تشویش

2018ء کے دوران جرمن شہریوں کی جانب سے اسلحہ لائسنس کے لیے دی جانے والی درخواستوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ رجحان سلامتی کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے بھی بڑھ رہا ہے۔ جرمن پولیس نے تاہم خبردار کیا ہے کہ زیادہ شہریوں کے پاس لائسنس والا اسلحہ امنِ عامہ کی صورتحال کے لیے خطرناک بھی ہو سکتا ہے۔ جرمن وزارت داخلہ کے مطابق اکتیس دسمبر 2018ء تک 610,937 جرمن شہریوں کو بنیادی اسلحے کے لائسنس جاری کیے گئے۔ یہ تعداد 2017ء کے مقابلے میں53,377 زیادہ ہے، جو تقریباً 9.6 فیصد کا اضافہ بنتا ہے۔ بنیادی اسلحے میں گیس پسٹل، فلیئر گن، مرچوں والا اسپرے اور ایسے بہت سے ہتھیار، جنہیں کسی کو ہلاک کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ پولیس کے مطابق اس پیش رفت کی ایک اہم وجہ شہریوں میں عدم تحفظ کا بڑھتا ہوا احساس بھی ہے۔ تاہم بائیں بازو کی جماعت ڈی لنکے کی داخلہ امور کی ماہر اولا یلپکے نے کہا کہ یہ رجحان امن و امان کے حوالے سے اس افراتفری کا نتیجہ ہے، جو وزیر داخلہ ہورسٹ زیہوفر جیسے سیاستدانوں نے پھیلائی ہے۔ ان کے بقول اس میں دائیں بازو کی جماعت آلٹرنیٹو فار جرمنی ( اے ایف ڈی) کا بھی ہاتھ ہے۔

2018ء کے دوران جرمن شہریوں کی جانب سے اسلحہ لائسنس کے لیے دی جانے والی درخواستوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ رجحان سلامتی کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے بھی بڑھ رہا ہے۔ جرمن پولیس نے تاہم خبردار کیا ہے کہ زیادہ شہریوں کے پاس لائسنس والا اسلحہ امنِ عامہ کی صورتحال کے ... Read More »

کینیا: ہوٹل پر حملہ کرنے والے تمام دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے

کینیا کے صدر نے کہا ہے کہ نیروبی حملے کے تمام دہشت گردوں کو سکیورٹی فورسز نے ہلاک کر دیا ہے۔ یہ حملہ منگل پندرہ جنوری کو کیا گیا اور جوابی فوجی کارروائی بارہ گھنٹے سے زائد جاری رہی۔ مشرقی افریقی ملک کینیا کے دارالحکومت نیروبی کے ایک بڑے ہوٹل کمپلیکس پر عسکریت پسندوں کے حملے میں کم از کم چودہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ کینیا کے صدر اوہورو کینیاٹا نے ملکی وزارت داخلہ کے بیان کی تصدیق کی ہے کہ اس حملے میں ملوث تمام دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ اس حملے کے دوران عمارتوں کے کمپلیکس میں سے سات سو افراد کو ریسکیو کیا گیا۔ حملے کا نشانہ بننے والے DusitD2 نامی کمپلیکس میں فائیو اسٹار ہوٹل کے علاوہ بارز، بینک، شاپنگ مال اور دفاتر بھی موجود ہیں۔ منگل پندرہ جنوری کی شام سے شروع ہونے والے اس حملے کے بعد اس ہوٹل کے ارد گرد کا علاقہ دھماکوں اور بھاری فائرنگ سے گونج اٹھا تھا۔ دہشت گردوں نے عمارت میں داخل ہو کر بلا اشتعال فائرنگ کا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔ نگرانی کے کیمروں سے معلوم ہوتا ہے کہ دہشت گردوں کی تعداد چار تھی۔ دہشت گردوں نے اس حملے کی ابتدا اس کمپلیکس میں واقع ایک بینک کے باہر کھڑی تین گاڑیوں پر بم دھماکوں سے کی تھی۔ اس کے بعد یہ اندر داخل ہوئے اور ہوٹل کی لابی میں پہنچ گئے۔ ہوٹل کی لابی میں کی جانے والی فائرنگ سے کئی افراد زخمی ہوئے۔ نیروبی کے سکیورٹی حکام نے زخمیوں کی تعداد بارے کچھ نہیں بتایا ہے۔ کینیا کی وزارت داخلہ کے مطابق کمپلیکس کے اندر واقع عمارات کو سکیورٹی دستوں نے بارہ گھنٹوں سے زائد جاری رہنے والی فوجی کارروائی کے بعد محفوظ بنا لیا ہے۔ صدر اوہورو کینیاٹا کے مطابق ملکی سکیورٹی اہلکاروں نے ہر ممکن سلامتی کے اقدامات اس آپریشن کے دوران اٹھائے۔ انہوں نے کمپلیکس کے اندر کام کرنے والے ملازمین سے کہا ہے کہ وہ بغیر کسی خوف اور خطرے کے اپنے کام کے مقام پر جا سکتے ہیں۔ اس حملے کی ذمہ داری صومالیہ سے تعلق رکھنے والی شدت پسند تنظیم الشباب نے قبول کی ہے۔ الشباب اس سے قبل بھی کینیا کے دارالحکومت نیروبی کے ویسٹ گیٹ مال پر سن 2013 میں دہشت گردانہ حملہ کر چکی ہے۔ پانچ برس کے قبل کے حملے میں سڑسٹھ افراد کی ہلاکت ہوئی تھی۔ خاص طور پر اس افریقی ملک کے سرحدی علاقوں پر صومالی دہشت گرد گروپ کے جنگجو گاہے گاہے حملے کرتے رہتے ہیں۔ یہ جہادی گروپ بھی القاعدہ دہشت گردانہ نیٹ ورک سے وابستہ ہے

کینیا کے صدر نے کہا ہے کہ نیروبی حملے کے تمام دہشت گردوں کو سکیورٹی فورسز نے ہلاک کر دیا ہے۔ یہ حملہ منگل پندرہ جنوری کو کیا گیا اور جوابی فوجی کارروائی بارہ گھنٹے سے زائد جاری رہی۔ مشرقی افریقی ملک کینیا کے دارالحکومت نیروبی کے ایک بڑے ہوٹل کمپلیکس پر عسکریت پسندوں کے حملے میں کم از کم ... Read More »

’بریگزٹ‘، برطانيہ کی سب سے تباہ کن حقيقت

’برطانوی پارلیمان میں بریگزٹ ڈیل کی عدم منظوری کی ذمہ داری صرف وزیر اعظم ٹریزا مے پر عائد ہوتی ہے‘۔ ڈی ڈبلیو کی تبصرہ نگار باربرا ویسل کے خیال میں اس ناکامی کے بعد مے کو استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ برطانوی پارلیمان میں بریگزٹ ڈیل کی عدم منظوری کے بعد وزیر اعظم ٹریزا مے کو مستعفی ہو جانا چاہیے تھا لیکن انہوں نے کہا ہے کہ وہ برطانیہ کے یورپی یونین سے علیحدگی کو یقینی بنانے تک اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش نہیں ہوں گی۔ مے نے کہا ہے کہ یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ بریگزٹ کو یقینی بنائیں کیونکہ وہ وزیر اعظم بنائی ہی اس مقصد کے لیے گئی تھیں۔ ڈی ڈبلیو کی تبصرہ نگار باربرا ویسل کے مطابق مے کے خلاف تحریک عدم اعتماد ناکام ہو جائے گی، کیونکہ قدامت پسند اقتدار پر اپنی گرفت کمزور نہیں ہونے دیں گے۔ تاہم قدامت پسندوں کا یہ رویہ برطانوی سیاست کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ مے شکست کی مستحق تھیں باربرا ویسل کے مطابق مے کی بریگزٹ ڈیل کی ناکامی کی ذمہ دار وہ خود ہی ہیں۔ وہ لکھتی ہیں کہ بریگزٹ کا معاملہ برطانوی سیاست میں ایک تقسیم کی وجہ بن چکا ہے۔ اس تناظر میں قدامت پسندوں کی صفوں میں بھی اختلافات نمایاں ہوتے جا رہے ہیں۔ باربرا ویسل کے مطابق برطانوی پارلیمان میں بریگزٹ ڈیل کی عدم منظوری دراصل ٹریزا مے کی سیاسی نااہلیت کی غمازی کرتی ہے۔ مے نے اس تمام کہانی میں صرف اپنے قریبی ساتھیوں کو ہی سامنے رکھا اور کسی دوسرے کی ایک نا سنی۔ یوں مے اپوزیشن اور اپنی ہی پارٹی کے اندر کئی اہم دھڑوں کا اعتماد نہ جیت سکیں۔ ویسل مزید لکھتی ہیں کہ مے نے بریگزٹ ڈیل کی تیاری اور اس کی منظوری کے مرحلوں میں برطانیہ میں مقیم یورپی ورکنگ کلاس کے خلاف ایک سخت لہجہ اختیار کیا، جو دراصل بحیثت مجموعی یورپ کے خلاف ہی دیکھا گیا۔ اس طرح وہ یورپی سطح پر بھی تنہا ہو گئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مے سربراہ حکومت کے عہدے کے لائق ہی نہیں ہیں۔ ڈی ڈبلیو کی تبصرہ نگار ویسل کے مطابق مے اس مخصوص صورتحال میں برطانیہ کی ویلفیئر یا مستقبل کے حوالے سے ذمہ داری کا مظاہرہ بھی نہیں کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بریگزٹ کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ بطور سیاستدان ٹریزا مے انتہائی تنگ نظر، ضدی، چھوٹے دماغ کی مالک اور تخیلاتی طاقت سے عاری معلوم ہوتی ہیں۔ ویسل کے مطابق برطانیہ کو ایک نئے سربراہ کی ضرورت ہے۔ تاہم اپوزیشن رہنما جیرمی کوربین ابھی تک وہ مقبولیت حاصل نہیں کر سکے ہیں کہ وہ وزیر اعظم بن سکیں۔ اس تناظر میں ویسل کہتی ہیں کہ بریگزٹ کے معاملے پر کسی اچھی خبر کی کوئی ضمانت نظر نہیں آتی۔ بریگزٹ کے سلسلے میں ہونے والی اب تک کی پیشرفت نے نہ صرف یورپی یونین کے اتحاد کو نقصان پہنچایا ہے بلکہ برطانیہ کو بھی منقسم کر دیا ہے۔

’برطانوی پارلیمان میں بریگزٹ ڈیل کی عدم منظوری کی ذمہ داری صرف وزیر اعظم ٹریزا مے پر عائد ہوتی ہے‘۔ ڈی ڈبلیو کی تبصرہ نگار باربرا ویسل کے خیال میں اس ناکامی کے بعد مے کو استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ برطانوی پارلیمان میں بریگزٹ ڈیل کی عدم منظوری کے بعد وزیر اعظم ٹریزا مے کو مستعفی ہو جانا چاہیے تھا ... Read More »

Scroll To Top