You are here: Home » کھیل

Category Archives: کھیل

Feed Subscription

سرفراز نے ’کالا‘ کہنے پر معافی مانگ لی

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے جنوبی افریقہ کے ساتھ میچ کے دوران ایک کھلاڑی کو ’کالا‘ کہنے پر معافی مانگ لی ہے۔ سرفراز کا کہنا ہے ان کا مقصد کسی کی دل آزاری کرنا نہیں تھا۔ ڈربن میں پاکستان اور جنوبی افریقہ کے مابین کھیلے جانے والے دوسرے ایک روزہ کرکٹ میچ کے دوران پاکستانی کپتان سرفراز احمد نے مخالف ٹیم کے کھلاڑی اندیلی پہلوِک وایو کو ایک متنازعہ جملہ کہہ دیا تھا۔ اندیلی اپنے پچاس رن مکمل کرنے کے لیے جب بھاگے تو سرفراز کی جانب سے کہا گیا،’’ ابے کالے تیری امی آج کہاں بیٹھی ہیں؟ کیا پڑھوا کر آیا ہے آج ؟‘‘ اس جملے کو اسٹمپ کیمرے نے ریکارڈ کر لیا۔ سوشل میڈیا پر اس ریکارڈنگ کی ویڈیو وائرل ہو گئی۔ کئی کرکٹرز اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے سرفراز احمد کے ان الفاظ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ صحافی مہوش اعجاز نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا،’’سرفراز کے الفاظ کا دفاع نہیں کرنا چاہیے۔ جو انہوں نے کہا وہ غلط ہے۔ اس درجے پر کھیلنے والے کھلاڑیوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ انہوں نے کیا کہنا ہے اور کیا نہیں۔‘‘ کرکٹر شعیب اختر نے اپنی ٹویٹ میں لکھا،’’ میں امید کرتا ہوں کہ سرفراز اس مسئلے سے جلد نکل جائیں گے کیوں کہ ہمیں آنے والے ورلڈ کپ میں ان کی ضرورت ہو گی۔‘‘ سرفراز احمد نے اس واقعے پر معافی مانگتے ہوئے اپنی ٹویٹ میں لکھا،’’ میں یہ نہیں چاہتا تھا کہ میرے الفاظ کو سنا جاتا یا مخالف ٹیم یا کرکٹ کے فینز ان الفاظ کو سنتے۔ میں نے ماضی میں بھی کرکٹرز کی عزت کی ہے اور مستقبل میں بھی میں ان کی عزت کرنا جاری رکھوں گا۔‘‘ پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے بھی سرفراز احمد کے جملوں کے حوالے سے ایک بیان جاری کیا گیا ہے جس کے مطابق، ’’ بے شک سرفراز احمد ایک بہت کامیاب اور قابل کپتان ہیں لیکن اس قسم کے جملوں کو پاکستان کرکٹ بورڈ برداشت نہیں کرے گا۔‘‘

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے جنوبی افریقہ کے ساتھ میچ کے دوران ایک کھلاڑی کو ’کالا‘ کہنے پر معافی مانگ لی ہے۔ سرفراز کا کہنا ہے ان کا مقصد کسی کی دل آزاری کرنا نہیں تھا۔ ڈربن میں پاکستان اور جنوبی افریقہ کے مابین کھیلے جانے والے دوسرے ایک روزہ کرکٹ میچ کے دوران پاکستانی کپتان سرفراز ... Read More »

کرکٹ میں بدعنوانی، الجزیرہ کی رپورٹ پر ہل چل

آسٹریلیا اور انگلینڈ نے آج پیر کو کرکٹ میں بدعنوانی سے متعلق ٹیلی وژن چینل الجزیرہ کی رپورٹ کو مستردکر دیا ہے۔ الجزیرہ کے مطابق 15 بین الاقوامی مقابلوں میں اسپاٹ فکسنگ کے چھبیس واقعات رونما ہوئے ہیں۔ قطری چینل الجزیرہ نے اتوار کے روز دعویٰ کیا ہے کہ انگلینڈ کے کرکٹ کھلاڑیوں کا ایک چھوٹا سا گروپ 2011ء سے 2012ء کے درمیان سات مقابلوں میں مبینہ بدعنوانی کا مرتکب ہوا تھا۔ اس دوران یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ آسٹریلیا کے کچھ کھلاڑی بھی اسی عرصے کے دوران اسی نوعیت کے واقعات میں ملوث رہے تھے۔ مزید یہ کہ پاکستانی کھلاڑی تین میچوں جبکہ نامعلوم ٹیموں کے کھلاڑیوں نے ایک میچ میں اسپاٹ فکسنگ کی تھی۔ اس ٹی وی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ میچ فکسر یا جواری زیادہ تر بلے بازوں سے رابطے کرتے ہیں، جنہیں جان بوجھ کر خراب کارکردگی دکھانے کے عوض پیسوں کی پیشکش کی جاتی ہے۔ اس میں لارڈز میں انگلینڈ اور بھارت، کیپ ٹاؤن میں جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا جبکہ متحدہ عرب امارات میں پاکستان اور انگلینڈ ک درمیان کھیلی جانے والی سیریز کے متعدد میچوں کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ کرکٹ کی بین الاقوامی کونسل ( آئی سی سی) نے اس تناظر میں تحقیقات شروع کر دی ہیں اور اس مقصد کے لیے ماہرین کی خدمات لی جا رہی ہیں۔ آئی سی سی میں انسداد بدعنوانی کے نگران ادارے کے سربراہ الیکس مارشل کے مطابق، ’’ آئی سی سی کرکٹ کی ساکھ اور سالمیت کو برقرار رکھنے کے لیے پر عزم ہے۔ ان الزامات کی سنجیدگی سے جانچ پڑتال کی جائےگی۔‘‘ الجزیرہ اس سے قبل رواں برس کے آغاز میں کرکٹ میں بدعنوانی کے موضوع پر ایک دستاویزی فلم نشر کر چکا ہے اور تازہ رپورٹ بھی اسی کا تسلسل ہے۔ انگلینڈ اور آسٹریلیا نے پہلے کی طرح اس مرتبہ بھی الجزیرہ کے الزامات کو مسترد کیا ہے۔ آسٹریلوی کرکٹ بورڈ کے جیمز سدرلینڈ نے آج پپر کو کہا، ’’ آسٹریلیا میں کرکٹ کی ساکھ کو متاثر کرنے والے کسی بھی شخص کے حوالے سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاتا۔ ہمیں اپنے کھلاڑیوں پر مکمل بھروسا ہے کہ وہ کھیل کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔‘‘ اسی طرح انگلش کرکٹ بورڈ( ای سی بی) نے بھی کہا ہے کہ الجزیرہ کے دعوؤں میں صداقت کا فقدان دکھائی دیتا ہے۔

آسٹریلیا اور انگلینڈ نے آج پیر کو کرکٹ میں بدعنوانی سے متعلق ٹیلی وژن چینل الجزیرہ کی رپورٹ کو مستردکر دیا ہے۔ الجزیرہ کے مطابق 15 بین الاقوامی مقابلوں میں اسپاٹ فکسنگ کے چھبیس واقعات رونما ہوئے ہیں۔ قطری چینل الجزیرہ نے اتوار کے روز دعویٰ کیا ہے کہ انگلینڈ کے کرکٹ کھلاڑیوں کا ایک چھوٹا سا گروپ 2011ء سے ... Read More »

پاکستان میں 11 برس بعد بین الاقوامی گولف کی واپسی

کراچی گولف کلب میں گولف کا بین الاقوامی ٹورنامنٹ شروع ہو گیا ہے۔ اس چیمپیئن شپ میں دنیا بھر سے 132 کھلاڑی شریک ہیں۔ پاکستان میں 2007ء کے بعد سے گولف کا یہ پہلا بین الاقوامی مقابلہ ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایشین ٹور کے یو ایم اے سی این ایس چیمپیئن شپ کے لیے دنیا بھر سے 132 کھلاڑی شریک ہیں۔ پاکستان میں2007ء کے بعد سے گولف کا کوئی بین الاقوامی مقابلہ منعقد نہیں ہوا تھا۔ آخری ٹورنامنٹ 2008ء کے لیے شیڈول تھا مگر سکیورٹی خدشات کے پیش نظر اسے منسوخ کر دیا گیا تھا۔ ایشین ٹور کے ایونٹ ڈائریکٹر رابرٹ اینڈریو نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو میں سکیورٹی کے حوالے سے خدشات کو بے بنیاد قرار دیتے کہا، ’’پاکستان واپسی ہمارے لیے ایک بہترین موقع ہے۔‘‘ اینڈریو کا مزید کہنا تھا، ’’اس ایونٹ کی کامیابی کے بعد یہ مستقبل کے ایونٹس کے لیے نقطہ آغاز ثابت ہو گا۔‘‘ آسٹریلوی کھلاڑی مارکُوس بوتھ نے پاکستانی لوگوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا، ’’یہاں آنا ہمیشہ ایک بہترین تجربہ ہے کیونکہ یہاں لوگ بہت اچھے اور دوستانہ رویہ رکھنے والے ہیں۔‘‘ پاکستان کے بارے میں عمومی رائے کی نفی کرتے ہوئے بوتھ کا کہنا تھا، ’’میں یہاں 10 سال پہلے آیا تھا۔ عمومی رائے بُری ہے مگر اصلیت اس سے بہت مختلف ہے۔‘‘ 2009ء میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر لاہور میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے بعد پاکستان میں تقریباﹰ ہر طرح کی بین الاقوامی کھیلوں کے راستے بند ہو گئے تھے۔ اُس حملے میں آٹھ افراد ہلاک ہوئے تاہم مہمان کھلاڑی محفوظ رہے تھے۔ تاہم پاکستانی فوج کی طرف سے افغان سرحد کے قریب ملک کے شمال مغربی حصے میں شدت پسندوں اور دہشت گردوں کے خلاف کامیاب آپریشن کے بعد سے پاکستان میں سکیورٹی کی صورتحال کافی بہتر ہوئی ہے۔ پاکستان سپر لیگ کرکٹ ٹورنامنٹ کے فائنل مقابلے دو بار پاکستان میں منعقد ہو چکے ہیں جن میں بین الاقوامی کھلاڑیوں نے بھی شرکت کی۔ اس کے علاوہ گزشتہ 18 ماہ کے دوران زمبابوے اور سری لنکا کے ساتھ محدود اوورز کی کرکٹ سیریز کے علاوہ ورلڈ الیون کی ٹیم بھی پاکستان میں میچ کھیل چکی ہے۔

کراچی گولف کلب میں گولف کا بین الاقوامی ٹورنامنٹ شروع ہو گیا ہے۔ اس چیمپیئن شپ میں دنیا بھر سے 132 کھلاڑی شریک ہیں۔ پاکستان میں 2007ء کے بعد سے گولف کا یہ پہلا بین الاقوامی مقابلہ ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایشین ٹور کے یو ایم اے سی این ایس چیمپیئن شپ کے لیے دنیا ... Read More »

پی سی بی نے نا انصافی کی، چیف جسٹس سوموٹو ایکشن لیں:شرجیل

اسپاٹ فکسنگ مقدمے میں پانچ سالہ پابندی کا سامنا کرنے والے پاکستانی کرکٹر شرجیل خان کہتے ہیں کہ پی سی بی نے ان سے نا انصافی کی۔ چیف جسٹس پاکستان کو اس معاملے کا از خود نوٹس لینا چاہیے۔ منگل کی دوپہر نیشنل ہاکی اسٹیڈیم لاہور میں اپنے وکلاء کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل خان نے حلفیہ کہا کہ انہوں نے کوئی اسپاٹ فکسنگ نہیں کی، ’’ میں بے قصور ہوں، مجھے پی سی بی اینٹی کرپشن یونٹ نے اس معاملے میں پھنسایا۔ اینٹی کرپشن یونٹ کے کرنل اعظم مجھ پر دباؤ ڈالتے رہے کہ اگر اعتراف جرم نہ کیا تو زندگی بھر بلے کو ہاتھ نہیں لگا سکو گے۔ مجھے زبردستی اسپاٹ فکسر بنایا جا رہا ہے۔ کرکٹ میرے خون میں شامل ہے۔ میں نے ہمیشہ پاکستان کے لیے کھیلا ، کبھی خود غرضی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ اس الزام کے بعد میرے خاندان کے لئے مسائل ہیں۔ اس داغ کو ختم کرنے کے لئے ہر حد تک جاؤں گا۔‘‘ کھلاڑی جاتے رہتے ہیں اور کرکٹ چلتی رہتی ہے شرجیل خان نے وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی اور چیف آف آرمی اسٹاف جرنل قمر جاوید باجوہ سے اپیل کی کہ وہ ان کے خلاف ہونے والی نا انصافی کا نوٹس لیں۔ انہوں نے کہا چیف جسٹس ثاقب نثار اس پر سوموٹو نوٹس لیں۔ شرجیل خان کے وکیل شیغان اعجاز نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ دوران سماعت پاکستان کرکٹ بورڈ نے اپنے اینٹی کرپشن کوڈ میں ترمیم کی جس سے پی سی بی کی نیک نیتی ظاہر نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے پاس شرجیل کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت نہیں تھا۔ پی سی بی اینٹی کرپشن کے بیانات من گھڑت تھے۔ انہوں نے کہا کہ ممکن ہے پی سی بی نے کچھ دوسرے کرکٹرز کو بچانے کے لئے شرجیل کو سزا دی ہو۔ شیغان اعجاز نے سوال اٹھایا کہ جب عمر امین نے چھ فروری کو ہونیوالی پیشکش کی اطلاع پی سی بی کو دی تھی تو اینٹی کرپشن یونٹ نے دوسرے کھلاڑیوں کو کیوں خبردار نہ کیا؟ فکسنگ ثابت، شرجیل خان پر پانچ سالہ پابندی عائد انہوں نے کہا کہ پی سی بی اینٹی کرپشن یونٹ نے 28 جولائی کو اپنے کوڈ میں ترمیم کی کہ کھلاڑی اینٹی کرپشن یونٹ کا فیصلہ پاکستانی عدالتوں میں چیلنج نہیں کر سکیں گے۔ 30 اگست کو فیصلے سے پہلے بورڈ نے اچانک شق ڈالی کہ فیصلے کے خلاف صرف عالمی ثالثی عدالت میں ہی اپیل کی جا سکتی ہے۔ شیغان اعجاز نے بتایا کہ عالمی ثالثی عدالت میں جانے پر ڈیڑھ کروڑ اخراجات آتے ہیں، پی سی بی پاکستانی عدالتوں کا اختیار ختم کر کے کھلاڑی کو صرف پاکستان کرکٹ بورڈ کے رحم و کرم پر چھوڑنا چاہتا ہے۔ واضح رہے شرجیل خان پر رواں برس ہونیوالی پاکستان سپرلیگ کے دبئی میں ہونیوالے افتتاحی میچ میں بکی سے ساز باز کر کے دو ڈاٹ گیندیں کھیلنے کا الزام ہے، جس کی پاداش میں ان پر کرکٹ کھیلنے کی پانچ سالہ پابندی لگائی جا چکی ہے۔ اس میں ڈھائی سالہ سزا معطل ہے۔

اسپاٹ فکسنگ مقدمے میں پانچ سالہ پابندی کا سامنا کرنے والے پاکستانی کرکٹر شرجیل خان کہتے ہیں کہ پی سی بی نے ان سے نا انصافی کی۔ چیف جسٹس پاکستان کو اس معاملے کا از خود نوٹس لینا چاہیے۔ منگل کی دوپہر نیشنل ہاکی اسٹیڈیم لاہور میں اپنے وکلاء کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل خان نے حلفیہ کہا ... Read More »

ٹیم پر بوجھ نہیں بننا چاہتا، سعید اجمل کا ریٹائرمنٹ کا اعلان

پاکستان کے مشہور آف اسپنر سعید اجمل نے کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا۔ سعید اجمل کا کہنا ہے کہ وہ قومی ٹونٹی ٹونٹی ٹورنامنٹ کے بعد کھیل کو الوداع کہہ دیں گے۔ سعید اجمل نے 35 ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ چالیس سالہ سعید اجمل ان دنوں راولپنڈی میں نیشنل ٹی ٹونٹی کپ میں فیصل آباد کی کپتانی کر رہے ہیں۔ آج پیر 13 نومبر کو انہوں نے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہا، ’’میں کسی ٹیم پر بوجھ نہیں بننا چاہتا اور نہ خود پر سفارشی کھلاڑی کی مہر لگوانا چاہتا ہوں اس لیےاب وقت آگیا ہے کہ میں کھیل سے کنارہ کش ہو جاؤں۔ موجودہ چمپیئن شپ کے بعد کرکٹ کھیلنا چھوڑ دوں گا۔‘‘ سعید اجمل نے پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم کی نمائندگی کرتے ہوئے 35 ٹیسٹ میچوں میں 178 وکٹیں حاصل کیں۔ انہوں نے 113 ون ڈے اور 64 ٹونٹی ٹونٹی بین لاقوامی میچ بھی پاکستانی جرسی میں کھیلنے کا اعزاز حاصل کیا۔ سعید اجمل نے اپنے کیریئر کی ابتدا 2008ء میں بھارت کے خلاف کراچی میں ایشیا کپ کے میچ سے کی تھی۔ یوسف پٹھان انٹرنیشنل کرکٹ میں ان کا پہلا شکار تھے۔ اجمل نے اپنے کیریئر کا آغاز 30 برس کی عمر میں کیا تھا۔ اپنی آف اسپن کے ساتھ دوسرا کی ورائٹی کے ذریعہ اجمل نے پاکستان کو کئی یادگار فتوحات سے ہمکنار کیا جن میں 2009ء کا عالمی ٹونٹی ٹونٹی اور 2012ء کی انگلینڈ کے خلاف ہوم سیریز بھی شامل ہے۔ سعید اجمل کا باؤلنگ ایکشن اگست 2014ء میں سری لنکا کے دورہ کے دوران مشکوک قرار دیا گیا تھا۔ سابق آف اسپنر ثلقین مشتاق کی مدد سے انہوں نے اپنا باؤلنگ ایکشن تبدیل کیا لیکن ان کی باؤلنگ کی کاٹ ختم ہوگئی تھی اور 2015ء میں دورہ بنگلہ دیش کے بعد وہ کبھی پاکستانی ٹیم میں شامل نہ ہوسکے۔ سعید اجمل نے مزید بتایا کہ اس وقت کوئی آف اسپنر سرکٹ میں موجود نہیں لیکن اس کے باوجود اب وہ کھیلنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ سعید اجمل اپنے ایکشن پراعتراض کے بعد سے پاکستان کرکٹ بورڈ کے رویے پر بھی ناخوش تھے تاہم گزشتہ ہفتے انہیں اسلام آباد یونائیٹد نے پاکستان سپر لیگ کے تیسرے ایڈیشن میں اپنا اسپن باؤلنگ کوچ مقرر کیا تھا جس کے بعد ماضی کے اس سپرسٹار باؤلر نے کرکٹ کو خیرباد کہنے کا اعلان کر دیا۔

پاکستان کے مشہور آف اسپنر سعید اجمل نے کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا۔ سعید اجمل کا کہنا ہے کہ وہ قومی ٹونٹی ٹونٹی ٹورنامنٹ کے بعد کھیل کو الوداع کہہ دیں گے۔ سعید اجمل نے 35 ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ چالیس سالہ سعید اجمل ان دنوں راولپنڈی میں نیشنل ٹی ٹونٹی کپ میں فیصل آباد ... Read More »

ون ڈے سیریز: پاکستان کے ہاتھوں سری لنکا کا وائٹ واش مکمل

پاکستان نے شارجہ میں پانچویں اور آخری ایک روزہ میچ میں سری لنکا کو نو وکٹوں سے ہرا کر سیریز میں وائٹ واش مکمل کر لیا۔ سری لنکا کے لیے نئے پاکستانی فاسٹ بولر عثمان شنواری کی باؤلنگ انتہائی تباہ کن رہی۔ شنواری کی باؤلنگ کے باعث سری لنکن بیٹنگ ستائیسویں اوور میں ہی ایک سو تین رنز پر ڈھیر ہوگئی تھی۔ جواب میں پاکستان نے مطلوبہ ہدف اکیس اوورز سے بھی پہلے پورا کر لیا۔ پاکستان نے سری لنکا کو پہلی بار کسی سیریز میں وائٹ واش کیا ہے۔ اس سے قبل پاکستان کے ہاتھوں بنگلہ دیش اور زمبابوے کی دو دو بار اور نیوزی لینڈ کی ایک بار ایسی سبکی ہو چکی ہے۔ سری لنکا کے کپتان اپل تھرانگا نے سیریز میں مسلسل تیسری مرتبہ ٹاس جیت کر ڈے نائٹ میچ میں پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا لیکن ابھی دونوں ٹیموں کے حامی اسٹیڈیم کے اسٹینڈز میں اپنی کرسیوں پر صحیح طرح بیٹھنے بھی نہ پائے تھے کہ شنواری کی تیز اور سوئنگ ہوتی ہوئی گیندوں کے سامنے سری لنکا کی بیٹنگ پسپا ہوگئی۔ کبڈی کھلاڑی سے بہترین بولر تک کا سفر ابوظہبی میں بھی پاکستان جیت گیا ٹیسٹ اور ون ڈے لیگ مقابلوں پر اصولی اتفاق ہو گیا پاکستان کے شمالی مغربی علاقے خیبر ایجنسی میں پیدا ہونے والے تئیس سالہ لیفٹ آرم سیمر عثمان خان شنواری نے اپنی پہلی اکیس گیندوں میں پانچ کھلاڑی آؤٹ کر کے سنسنی پھیلا دی۔ شنواری نے اپنے پہلے اوور کا اختتام سدارا سماراوکرما اور چندی مال کو آؤٹ کر کے کیا۔ فٹ بال اسٹیڈیم اینڈ سے شنواری کے دوسرے اوور کی ابتدا میں تھرانگا نے چوکا لگا کر ان کی ہیٹ ٹرک کی کوشش ناکام بنا دی لیکن اسی اوور میں پہلے ون ڈے کپتان تھرانگا اور پھر ٹیسٹ کپتان چندی مال اپنی وکٹوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ سری لنکا کا اسکورجب بیس پر پہنچا تو شنواری نے سری وردنے کو بھی واپس پویلین بھیج کر مہمانوں کی رہی سہی امید بھی خاک میں ملا دی۔ سری لنکا کے ابتدائی چھ فل ٹائم بیٹسمینوں میں صرف لائرو تھریمانے انیس رنز کے ساتھ ڈبل فگر میں داخل ہو سکے۔ لوئرآرڈر میں تیسارا پریرا نے پچیس اور سیکوگا پرسنا نے سولہ رنز کے ساتھ کچھ مزاحمت کی لیکن اس وقت تک پانی سر سے بہت اونچا ہو چکا تھا۔ اِن فارم پاکستان بولر حسن علی اور لیگ اسپنر شاداب خان نے دو دو وکٹیں لے کر حریف بیٹنگ کا کام کھانے کے وقفے سے پہلے ہی تمام کر دیا۔ شنواری نے، جنہیں محمد عامر کے زخمی ہونے پر پاکستان سے ہنگامی طور پر بلایا گیا تھا، چونتیس رنز دے کر پانچ کھلاڑی آؤٹ کیے جس پر انہیں مین آف دی میچ قرار دیا گیا۔ خواتین کرکٹرز کی تنخواہیں بھی بڑھائی جائیں ٹیسٹ سیریز: سری لنکا کی یادگار جیت اور پاکستان کی ’پہلی ہار‘ ایک سو چار رنز کا ہدف پاکستان کے لیے اونٹ کے منہ میں زیرہ ثابت ہوا۔ فخر زمان اور امام الحق نے کسی سری لنکن بولر کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اسکور کو سترہویں اوور میں چوراسی تک پہنچا دیا تھا۔اس موقع پر فخر زمان سینتالیس رنز پر جیفری وینڈرسے کی گیند پر وکٹ کیپر کو کیچ دے بیٹھے۔ ان کی اننگز سات شاندار چوکوں سے مزین تھی۔ شارجہ میں مغرب کی اذان سے چند لمحے پہلے ہی یہ ڈے نائٹ میچ امام الحق نے جیفری کی ایک گیند پر ایک شاندار باؤنڈری لگا کر ختم کر دیا۔ اس وقت پاکستان کی اننگز میں انتیس اوورز اور نو وکٹیں ابھی باقی تھیں۔ امام الحق نے چار چوکوں اور ایک فلک شگاف چھکے کی مدد سے پینتالیس رنز ناٹ آؤٹ کی اننگز کھیلی۔ پاکستانی بولرز نے سیریز میں اپنی دھاک بٹھائی اور کسی بولر نے پانچوں میچوں میں ایک بھی نو بال نہیں کی۔ دنیا کے نمبر ایک بولر حسن علی کو چودہ وکٹیں لینے پر مین آف دی سیریز قرار دیا گیا۔ عثمان شنواری کا کہنا تھا کہ ان کے کیریئر کی ابھی ابتدا ہو رہی ہے، اس لیے پانچ وکٹیں لینا آسان نہ تھا۔ انہوں نے کہا، ’’لیکن ٹیم کا ماحول اچھا ہے، جس کی وجہ سے ایسی کارکردگی سامنے آئی۔‘‘ پاکستانی کپتان سرفراز احمد کا کہنا تھا کہ شنواری کا باؤلنگ غیر معمولی تھی، جس نے پہلے پانچ اوورز میں ہی میچ ختم کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی ٹیم میں نئے آنے والے باصلاحیت ہیں اور جیت ٹیم ورک کا نتیجہ ہے۔ البتہ سرفراز کے بقول پاکستان کو بڑی ٹیموں کو ہرانے کے لیے ابھی اپنی بیٹنگ کو مزید بہتر بنانا ہو گا تاکہ بڑے اسکور بنائے جا سکیں۔ پاکستان نے ون ڈے کرکٹ میں مسلسل نواں میچ جیتا ہے جبکہ سری لنکا کو رواں برس جنوبی افریقہ اور بھارت کے بعد ون ڈے میچوں میں تیسری بار وائٹ واش کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

پاکستان نے شارجہ میں پانچویں اور آخری ایک روزہ میچ میں سری لنکا کو نو وکٹوں سے ہرا کر سیریز میں وائٹ واش مکمل کر لیا۔ سری لنکا کے لیے نئے پاکستانی فاسٹ بولر عثمان شنواری کی باؤلنگ انتہائی تباہ کن رہی۔ شنواری کی باؤلنگ کے باعث سری لنکن بیٹنگ ستائیسویں اوور میں ہی ایک سو تین رنز پر ڈھیر ... Read More »

سری لنکا کی ٹیم جلد پاکستان کا دورہ کرے گی

نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق سری لنکا کے کرکٹ بورڈ کے جاری کردہ ایک اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سری لنکن کرکٹ ٹیم جلد پاکستان کا دورہ کرے گی۔ پاکستان میں کرکٹ کی واپسی کے لیے یہ خوش آئند بات ہے، کیوں کہ پاکستانی سرزمین پر گزشتہ آٹھ برسوں سے بین الاقوامی کرکٹ میچوں کا انعقاد نہیں ہو سکا ہے، جس کی بنیادی وجہ سن 2009 میں لاہور میں سری لنکا کی ٹیم پر ہونے والا ایک دہشت گرد حملہ تھا۔ اس واقعے میں سری لنکن ٹیم کی حفاظت پر مامور آٹھ اہلکار ہلاک ہو گئے تھے، جب کہ مہمان ٹیم کے متعدد کھلاڑی بھی زخمی ہوئے تھے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے نئے سربراہ نجم سیٹھی کيا پاکستان ميں بين الاقوامی کھيلوں کی واپسی ہو رہی ہے؟ پاکستان سُپر لیگ کا فائنل لازمی لاہور میں ہونا چاہیے، جائلز کلارک سری لنکن کرکٹ بورڈ کے چیف تھیلنگاسوماتھیپالا نے تمام سکیورٹی امور کوتسلی بخش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سری لنکن ٹیم پاکستان کے ساتھ تین ٹی ٹوینٹی میچ کھیلنے پاکستان جائے گی۔ سری لنکن کرکٹ بورڈ کے سربراہ کے مطابق وہ چاہیں گے کہ ان تین ٹی ٹوئنٹی میچوں میں سے کم از کم ایک لاہور میں کھیلا جائے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ چاہیں گے کہ دیگر ممالک کی ٹیمیں پاکستان کا دورہ کریں۔ سری لنکن کرکٹ بورڈ کے سربراہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے، ’’سلامتی کے امور سے متعلق ہمارے معائنہ کاروں نے پاکستان کا دورہ کیا اور ان کے مطابق تمام معاملات مثبت سمت میں آگے بڑھے ہیں۔ انہوں نے لاہور شہر میں ٹیم کی سلامتی کی صورت حال پر تسلی کا اظہار کیا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ نجم سیٹھی نےاس بات کی یقین دھانی کرائی ہےکہ اس سیریز کی کامیابی اور کھلاڑیوں کے تحفظ کے لیے پاکستانی سکیورٹی فورسز ہر ممکن کوششیں بروئے کار لائیں گی۔

نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق سری لنکا کے کرکٹ بورڈ کے جاری کردہ ایک اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سری لنکن کرکٹ ٹیم جلد پاکستان کا دورہ کرے گی۔ پاکستان میں کرکٹ کی واپسی کے لیے یہ خوش آئند بات ہے، کیوں کہ پاکستانی سرزمین پر گزشتہ آٹھ برسوں سے بین الاقوامی کرکٹ میچوں کا انعقاد نہیں ... Read More »

شہریارکا مشکل دور تمام، سیٹھی کرکٹ بورڈ کے نئے سربراہ ہوں گے

شہریارخان نے آج بروز جمعہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو خیرباد کہہ دیا ہے جسکے ساتھ ہی بطورچیئرمین پی سی بی میں اُنکا تین سالہ مشکل دور بھی تمام ہوا۔ معروف صحافی نجم سیٹھی شہریار خان کے جانشین ہونگے۔ پاکستان میں وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے بعد پی سی بی کی چیئرمین شپ سب سے پرکشش سول عہدہ خیال کیا جاتا ہے اور شہریار خان پاکستان کرکٹ بورڈ کی 69 سالہ تاریخ میں پہلی شخصیت ہیں جنہیں دو مرتبہ اس منصب تک پہنچنے کا موقع ملا۔ شہریارخان نے آج صبح قذافی اسٹیڈیم میں آخری بار اپنے دفتر آکر بورڈ ملازمین سے الوداعی ملاقاتیں کیں۔ بھوپال کے شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والے شہریار خان پہلی بار فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں 2003ء سے 2006ء تک چیئرمین بورڈ رہے تھے، جسکے بعد اگست 2014ء میں قسمت ان پر پھرمہربان ہوئی اورحال ہی میں معزول ہونیوالے وزیراعظم میاں نواز شریف کے ایماء پر وہ دوبارہ کرکٹ کے منصب دار بن بیٹھے۔ سرکردہ کرکٹ تجزیہ کار شاہد ہاشمی نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، " شہریار خان کا دوسرا دور اُن کے پہلے دور سے بہت مختلف اورمشکل رہا کیونکہ ان تین برسوں میں انکے ساتھ بورڈ میں ایک اور طاقتور شخصیت نجم سیٹھی کی صورت میں موجود رہی۔ سیٹھی خود عدالتی فیصلوں کی وجہ سے 2014ء میں بورڈ کی چیئرمین شپ چھوڑ کر آئین میں ترمیم کے ذریعے چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی بنے تھے۔" شاہد ہاشمی کے بقول شہریار خان کو اپنے اکثر فیصلوں پر سیٹھی کی جانب سے مزاحمت کا سامنا رہا لیکن ان کے دور کا سب سے اہم فیصلہ نوّے کی دہائی کے کرکٹرز کا بورڈ سیٹ اپ اورسلیکشن کمیٹی لانا تھا۔ ہاشمی کے مطابق اس سے نئی سوچ سامنے آئی اور نتیجہ چمپیئنز ٹرافی میں پاکستان کی کامیابی کی صورت میں مل گیا۔ مکی آرتھر کو کوچ مقرر کرنے کا بھی فائدہ ہوا۔ شاہد ہاشمی نے مزید بتایا ، "شہریار زمبابوے کو لاہور لانے کی کاوش کے باوجود پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ بحال نہ کراسکے، اس طرح بورڈ ملازمین کم کرنے اور ڈومیسٹک کرکٹ میں بہتری لانے میں بھی انہیں خاطر خواہ کامیابی نہ ملی، البتہ آئی سی سی میں بگ تھری کو ختم کرنے میں شہریارخان کا کردار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔" دوسری جانب شہریار خان کی جگہ لینے کے لئے اب نجم سیٹھی تیار بیٹھے ہیں۔ بورڈ کے نئے سربراہ کا انتخاب دس رکنی گورننگ بورڈ کرے گا۔ نجم سیٹھی کی نامزدگی میاں نواز شریف وزارت عظمیٰ سے ہاتھ دھونے سے پہلے ہی کر گئے تھے۔ پی سی بی کے ترجمان نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ سابقہ جج جسٹس افضل حیدر نے پی سی بی الیکشن کمشنر کے فرائض سنبھال لئے ہیں اور بورڈ انتخابات اگلے ہفتے 9( اگست) کو لاہور میں منعقد ہونگے۔ نئے چیئرمین کا انتخاب جو دس رکنی گورننگ بورڈ کرے گا اس میں علاقائی کرکٹ ایسوسی ایشنز لاہور، سیالکوٹ، کوئٹہ اور فاٹا کے علاوہ چار کرکٹ کھیلنے والے محکموں کے نمائندے بھی شامل ہیں، جبکہ دیگر دو گورننگ بورڈ اراکین کی نامزدگی پی سی بی کے سرپرست اعلیٰ وزیر اعظم پاکستان نے کی ہے۔

شہریارخان نے آج بروز جمعہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو خیرباد کہہ دیا ہے جسکے ساتھ ہی بطورچیئرمین پی سی بی میں اُنکا تین سالہ مشکل دور بھی تمام ہوا۔ معروف صحافی نجم سیٹھی شہریار خان کے جانشین ہونگے۔ پاکستان میں وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے بعد پی سی بی کی چیئرمین شپ سب سے پرکشش سول عہدہ خیال کیا جاتا ہے ... Read More »

میں کہیں نہیں جا رہا، کرسٹیانو رونالڈو

شہرہ آفاق فٹ بالر کرسٹیانو رونالڈو نے بالآخر ایسی خبروں کو مسترد کر دیا ہے کہ وہ ہسپانوی کلب رئیل میڈرڈ کو خیرباد کہنے والے ہیں۔ پرتگیزی اسٹار نے کہا ہے کہ وہ مزید کامیابیاں سمیٹنے کی خاطر رئیل میڈرڈ کا ہی حصہ رہیں گے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی نے پچیس جولائی بروز منگل بتایا ہے کہ رئیل میڈرڈ کے اسٹرائیکر کرسٹیانو رونالڈو نے واضح کر دیا ہے کہ وہ کلب بدلنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ ’رونالڈو نے چیمپئنز لیگ کا فائنل جیت لیا‘ سن 2016 کے لیے کرہٴ ارض کا بہترین فٹ بالر: کرسٹیانو رونالڈو میں دنیا کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں سے ایک بننا چاہتا ہوں، رونالڈو ایک ہسپانوی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں بتیس سالہ رونالڈو نے کہا کہ گزشتہ سیزن میں انہیں رئیل میڈرڈ میں بہت زیادہ عزت ملی اور اس ٹیم نے کئی اہم کامیابیاں حاصل کیں اور وہ مستقبل میں بھی رئیل میڈرڈ کے ساتھ رہتے ہوئے ہی ایسی مزید کامیابیوں کے حصول کے لیے کوشاں رہیں گے۔ گزشتہ ماہ پرتگیزی اخبارنے کہا تھا کہ رونالڈو آئندہ سیزن میں رئیل میڈرڈ کا حصہ نہیں رہیں گے۔ یہ خبر اس وقت زیادہ گرم ہو گئی تھی، جب رونالڈو نے اس کی تردید نہیں کی تھی۔ گزشتہ ہفتوں کے دوران رونالڈو کے مداحین اس معاملے پر کافی زیادہ بحث مباحثہ کرتے رہے کہ آخر کیا وجہ ہوئی کہ رونالڈو نے رئیل میڈرڈ کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہسپانوی ٹیکس حکام کی تحقیقات کے باعث ایسے امکانات بڑھ گئے تھے کہ غالبا رونالڈ اپنے کلب کو چھوڑ کر کسی اور کلب کو جوائن کر لیں۔ رونالڈو پر الزام ہے کہ انہوں نے 14.7 ملین یورو کی ٹیکس چوری کی ہے۔ اکتیس جولائی کو انہوں نے میڈرڈ کی ایک عدالت میں پیش ہونا ہے، جہاں وہ خود پر عائد ایسے چار مختلف الزامات کا دفاع کریں گے۔ رونالڈو نے ایک انٹرویو میں ان الزامات کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ اگر ان کے خلاف ٹیکس چوری کی تحقیقات جاری رہیں تو وہ ہسپانوی کلب رئیل میڈرڈ کو چھوڑ دیں گے۔ رونالڈو نے گزشتہ نومبر میں ہی رئیل میڈرڈ کے ساتھ سن 2021 تک کا معاہدہ طے کیا تھا۔ فوربز میگزین کے مطابق رونالڈو دنیائے کھیل کے مہنگے ترین کھلاڑی ہیں۔ سن دو ہزار سولہ اور سترہ کے دوران ان کی آمدنی 93 ملین ڈالر قرار پائی تھی۔ رئیل میڈرڈ کے منیجر زیڈان نے یقین دہانی کرائی ہے کہ رونالڈو اپنے کلب کو چھوڑ کر کہیں نہیں جائیں گے۔ انہوں نے بتایا ہے کہ رونالڈو چھٹی منانے گئے ہوئے ہیں اور وہ پانچ اگست کو کلب دوبارہ جوائن کر لیں گے۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ دنیائے فٹ بال کا سپر اسٹار آئندہ دو تین سالوں کے لیے رئیل میڈرڈ کا حصہ ہی رہے گا۔

شہرہ آفاق فٹ بالر کرسٹیانو رونالڈو نے بالآخر ایسی خبروں کو مسترد کر دیا ہے کہ وہ ہسپانوی کلب رئیل میڈرڈ کو خیرباد کہنے والے ہیں۔ پرتگیزی اسٹار نے کہا ہے کہ وہ مزید کامیابیاں سمیٹنے کی خاطر رئیل میڈرڈ کا ہی حصہ رہیں گے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی نے پچیس جولائی بروز منگل بتایا ہے کہ رئیل ... Read More »

جنوبی افریقہ کے خلاف میچ، پاکستانی کرکٹ کا وقار داؤ پر

آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی میں بدھ سات جون کو جنوبی افریقہ کے خلاف میچ میں پاکستانی کرکٹ کا وقار داؤ پر ہو گا۔ پاکستانی ٹیم کے کوچ مکی آرتھر کے بقول بھارت کے ہاتھوں شکست کے بعد اس میچ میں پاکستانی ٹیم بھرپور مقابلہ کرے گی۔ برطانیہ میں، جہاں یہ چیمپئنز ٹرافی کھیلی جا رہی ہے، برمنگھم سے منگل چھ جون کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق پاکستانی ٹیم کے کوچ مکی آرتھر کو اس بات میں ایک فیصد بھی شبہ نہیں کہ سات جون کو جنوبی افریقہ کے خلاف میچ میں پاکستانی کھلاڑی اپنی بھرپور اہلیت کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کریں گے۔ پاکستان کے لیے یہ میچ جیتنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ اگر وہ اس ٹورنامنٹ کے سیمی فائنل تک پہنچنا چاہتا ہے، تو اسے جنوبی افریقہ کو ہر حال میں شکست دینا ہو گی۔ مکی آرتھر نے، جو خود بھی جنوبی افریقہ کی قومی ٹیم کے سٹار کرکٹر رہ چکے ہیں، کہا کہ پاکستانی ٹیم میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ جنوبی افریقہ کو ہرا سکے۔ لیکن یہ امکان بھی کسی حد تک اپنی جگہ ہے کہ بدھ سات جون کے روز پاکستان اور جنوبی افریقہ کا میچ اس سے بھی زیادہ یکطرفہ ہو، جیسا کہ اتوار چار جون کو پاکستان اور بھارت کے میچ میں دیکھنے میں آیا تھا۔ کوچ مکی آرتھر نے اس کی وجہ یہ بتائی کہ جنوبی افریقہ اس وقت ون ڈے کرکٹ میں بین الاقوامی کرکٹ کونسل کی رینکنگ کے مطابق دنیا کی اول نمبر کی ٹیم ہے جب کہ پاکستان اسی رینکنگ میں آٹھویں نمبر پر آتا ہے۔ ایجبیسٹن گراؤنڈ میں کھیلا جانے والا پاکستان اور بھارت کا میچ اس ٹورنامنٹ میں پاکستان کا پہلا میچ تھا، جس میں پاکستانی ٹیم اپنے ہمسایہ اور روایتی حریف ملک بھارت کی ٹیم سے 124 رنز سے ہار گئی تھی۔ اس میچ میں ماہرین کے مطابق تقریباﹰ ہر شعبے میں ہی پاکستانی ٹیم کی کارکردگی بھارتی ٹیم کے مقابلے میں بہت بری رہی تھی اور یوں پاکستان کو آئی سی سی مقابلوں میں بھارت کے ہاتھوں ایک بار پھر جس شکست کا سامنا کرنا پڑا، اسے بھارتی روزنامے انڈین ایکسپریس نے کرکٹ کے ’تمام غیر متوازن میچوں کی ماں‘ قرار دیا تھا۔ اے ایف پی نے لکھا ہے کہ اتوار کے میچ میں بھارت نے پاکستان کو جس طرح ہرایا، اس نے ثابت کر دیا کہ بھارتی ٹیم بولنگ، فیلڈنگ اور بیٹنگ ہر شعبے میں پاکستانی ٹیم سے بہتر تھی، حالانکہ یہ بات بھی اہم ہے کہ جس کارکردگی کا مظاہرہ بھارت نے کیا، اسے انڈین کرکٹ ٹیم کی بہترین کارکردگی بھی نہیں کہا جا سکتا۔ اس میچ میں بھارتی ٹیم نے پہلے کھیلتے ہوئے تین وکٹوں کے نقصان پر 319 رنز بنائے تھے اور بارش کی وجہ سے میچ رک جانے کے بعد پاکستانی ٹیم کو جیتنے کے لیے 41 اوورز میں 289 رنز کا ہدف ملا تھا لیکن گرین شرٹس کی پوری ٹیم محض 164 رنز پر ہی آؤٹ ہو گئی تھی۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے پاکستانی ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے بھی پاکستان ٹیم پر شدید تنقید کی اور کہا کہ ٹیم کی بیٹنگ ناقابل فہم تھی اور فیلڈنگ خامیوں سے بھرپور اور انتہائی غیر معیاری۔ مکی آرتھر کے مطابق ان کی رائے میں پریشانی کی بات یہ ہے کہ پاکستانی ٹیم کے کھلاڑی کئی بنیادی کام ہی غلط کرتے ہیں، مثلاﹰ بہت آسان کیچ چھوڑ دینا، وکٹوں کے درمیان اچھے طریقے سے نہ دوڑنا اور رنز نہ بنانا، اور بولرز کا یہ نہ سمجھنا کہ بولنگ کس وقت بڑے تنوع سے کرائی جانا چاہیے۔ اس انٹرویو میں ملکی آرتھر نے، جو اپنے وطن جنوبی افریقہ کے علاوہ آسٹریلیا کے کوچ بھی رہ چکے ہیں، کہا کہ ایسا بھی نہیں کہ پاکستان کے لیے اس ٹرافی میں آگے جانے کے امکانات ابھی سے ختم ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’پاکستانی ٹیم جنوبی افریقہ کو ہرانے کی بھرپور کوشش کرے گی کیونکہ میرے رائے میں پاکستانی کھلاڑی یہ کام کر سکتے ہیں۔‘‘

آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی میں بدھ سات جون کو جنوبی افریقہ کے خلاف میچ میں پاکستانی کرکٹ کا وقار داؤ پر ہو گا۔ پاکستانی ٹیم کے کوچ مکی آرتھر کے بقول بھارت کے ہاتھوں شکست کے بعد اس میچ میں پاکستانی ٹیم بھرپور مقابلہ کرے گی۔ برطانیہ میں، جہاں یہ چیمپئنز ٹرافی کھیلی جا رہی ہے، برمنگھم سے منگل ... Read More »

Scroll To Top