You are here: Home » دیگر

Category Archives: دیگر

Feed Subscription

کوہلی کا ايک اور ريکارڈ، ایک سال میں تین ایوارڈ جیت لیے

بھارتی کرکٹ ٹيم کے کپتان اور ايک مايہ ناز بلے باز ويراٹ کوہلی نے انٹرنيشنل کرکٹ کونسل کے تين اہم ترين ايوارڈز بيک وقت جيت کر نئی تاريخ رقم کر دی ہے۔ سن 2018 کے ليے سال کے سب سے بہترين کھلاڑی، ٹيسٹ ميچز کے سب سے عمدہ بيٹسمين اور ايک روزہ کرکٹ کے سب سے کامياب بلے باز، بھارتی کرکٹر ويراٹ کوہلی کو ان تينوں ہی اعزازات سے نوازا گيا ہے۔ منگل بائیس جنوری کے روز ویراٹ کوہلی انٹرنيشنل کرکٹ کونسل کے تين اہم ترين ايوارڈز بيک وقت جيتنے والے پہلے کھلاڑی بن گئے ہيں۔ پچھلے سال کے دوران کوہلی نے ٹيسٹ کر کٹ ميں پانچ سنچريوں کی مدد سے اور 55.8 کی اوسط سے 1,322 رنز اسکور کيے۔ ون ڈے کرکٹ ميں کوہلی نے چھ سنچرياں اور مجموعی طور پر 1,202 رنز بنائے۔ کوہلی نے اس پيش رفت کے بعد اپنے احساسات کا اظہار کچھ يوں کيا، ’’يہ ايک بہترين احساس ہے۔ يہ اس محنت کا صلحہ ہے، جو آپ مکمل برس میں کرتے ہيں۔ ميں بہت شکر گزار ہوں کہ ٹيم بھی عمدہ پرفارمنس کا مظاہرہ کر رہی ہے اور ميری اپنی کارکردگی بھی اچھی جارہی ہے۔‘‘ سن 2018 کے ليے سال کے سب سے بہترين کھلاڑی بننے پر کوہلی کو سر گارفيلڈ سوبرز ٹرافی دی گئی۔ يہ امر اہم ہے کہ کوہلی يہ ٹرافی پچھلی مرتبہ بھی جيتے تھے۔ انہيں 2017ء ميں ون ڈے کرکٹ کا سب سے بہترين کھلاڑی بھی قرار ديا گيا تھا۔ آئی سی سی کے چيف ايگزيکيٹو ڈيوڈ رچرڈسن نے اس موقع پر کوہلی کو مبارک باد دی۔ انہوں نے کہا، ’’خود کو کرکٹ کے ايک زبردست کھلاڑی کے طور پر منوانے کے ليے لازمی ہے کہ کوئی کھلاڑی تمام فارميٹس ميں عمد پرفارم کرے اور کوہلی نے ايسا کر دکھايا ہے۔ وہ اس کھيل کے ايک بہترين سفير ہيں۔‘‘ عالمی رينکنگ ميں سن 2018 کے اختتام پر ٹيسٹ کرکٹ ميں پہلی پوزيشن پر بھارت کی ٹيم رہی جبکہ ايک روزہ کرکٹ ميں انگلينڈ کی ٹيم سر فہرست ثابت ہوئی

بھارتی کرکٹ ٹيم کے کپتان اور ايک مايہ ناز بلے باز ويراٹ کوہلی نے انٹرنيشنل کرکٹ کونسل کے تين اہم ترين ايوارڈز بيک وقت جيت کر نئی تاريخ رقم کر دی ہے۔ سن 2018 کے ليے سال کے سب سے بہترين کھلاڑی، ٹيسٹ ميچز کے سب سے عمدہ بيٹسمين اور ايک روزہ کرکٹ کے سب سے کامياب بلے باز، بھارتی ... Read More »

جنرل دوستم طالبان کے خلاف اپنے ساتھی متحد کرنے میں مصروف

عسکریت پسند طالبان شمالی افغانستان میں اپنی عسکری کارروائیوں میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں، جب کہ سابق ازبک جنرل عبدالرشید دوستم اپنے ہم خیال ساتھیوں کو عسکریت پسندوں کے خلاف لڑائی کے لیے جمع کرنے میں مصروف ہیں۔ سابق جنگی سردار جنرل عبدالرشید دوستم عسکریت پسندوں کو مار بھگانے میں اپنا نام رکھتے ہیں اور اب وہ شمالی افغانستان میں مضبوط ہوتے عسکریت پسندوں کو ٹھکانے لگانے کے لیے اپنے ساتھیوں کو منظم کر رہے ہیں۔ عبدالرشید دوستم اس وقت کسی بھی فوجی عہدے پر موجود نہیں، تاہم حال ہی میں انہوں نے اپنے ساتھوں کے ہمراہ طالبان کے خلاف کارروائیوں کا آغاز باآواز بلند کیا ہے۔ افغانستان کے جنوبی علاقوں کو طالبان کا گڑھ سمجھا جاتا تھا، تاہم عسکریت پسندی اب جنوب کی بجائے افغانستان کے شمال کی جانب منتقل ہو گئی ہے اور طالبان شمالی علاقوں میں سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ دوستم کی اس مہم کو گو کہ افغانستان میں خاصی شہرت حاصل ہے، تاہم وہ اور ان کے ساتھی فریاب صوبے میں طالبان کی مسلسل پیش قدمی کو روکنے میں اب تک ناکام رہے ہیں اور یہ عسکریت پسند اب اس صوبے کے دارالحکومت کے قریب پہنچ چکے ہیں جب کہ کئی اضلاع کا قبضہ اب طالبان کے پاس ہے۔ کچھ عرصے قبل طالبان نے قندوز پر بھی کم وقت کے لیے ہی سہی قبضہ کر لیا تھا، جسے بعد میں افغان سیکورٹی فورسز نے نیٹو فوج کی مدد سے عسکریت پسندوں سے چھڑایا۔ طالبان عسکریت پسندوں سے اپنے آبائی علاقے کو بچانے کے لیے سابق نائب صدر فوجی یونیفارم پہنے اپنے ذاتی اثرورسوخ سے وہ تمام قوتیں جمع کر رہے ہیں، جو افغانستان کے شمالی علاقے کو طالبان سے دور رکھنا چاہتی ہیں۔ افغانستان میں گزشتہ چالیس برسوں سے جاری مسلح تنازعے میں ایسے موقع متعدد مرتبہ آئے ہیں، جب دوستم نے اپنی وفاداریاں بدلی ہیں اور اب ایک مرتبہ پھر وہ طالبان کے خلاف لڑائی میں اپنی مضبوطی کے لیے ان قوتوں سے بھی مل رہے ہیں، جنہیں وہ ماضی میں اپنا حریف سمجھتے تھے۔ جنبش ملی نامی اپنے مسلح گروہ کے ساتھ مل کر عسکریت پسندوں کا مقابلہ کرنے والے دوستم جمعیت اسلامی کو بھی اپنے ساتھ ملا چکے ہیں اور اب ماضی میں یہ دو حریف گروہ ایک دوسرے کے ساتھ خفیہ معلومات کے ساتھ ساتھ ہتھیار بھی بانٹ رہے ہیں۔ شمالی افغانستان کے صوبے بلخ میں یہ جماعت انتہائی مضبوط ہے اور اس گروہ کی سربراہی بلخ صوبے کے گورنر عطا محمد نور کرتے ہیں۔ جنبش ملی اور جمیعت اسلامی ماضی کے تمام اختلافات بھلا کر اب بڑے عسکری جتھوں کے ساتھ عسکریت پسندوں کے خلاف برسرپیکار ہیں اور ان کے اختلاط سے اب یہ امید ہو چلی ہے کہ شاید شمالی افغانستان میں عسکریت پسندوں کی پیش قدمی کو خاصی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

عسکریت پسند طالبان شمالی افغانستان میں اپنی عسکری کارروائیوں میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں، جب کہ سابق ازبک جنرل عبدالرشید دوستم اپنے ہم خیال ساتھیوں کو عسکریت پسندوں کے خلاف لڑائی کے لیے جمع کرنے میں مصروف ہیں۔ سابق جنگی سردار جنرل عبدالرشید دوستم عسکریت پسندوں کو مار بھگانے میں اپنا نام رکھتے ہیں اور اب وہ شمالی افغانستان ... Read More »

يونان پہنچنے کی کوشش میں ايک درجن مہاجرين ہلاک

يورپ پہنچنے کی کوشش میں بارہ مہاجرين يونان اور ترکی کے درميان واقع بحيرہ ايجيئن ميں ڈوب کر ہلاک ہو گئے ہيں جبکہ ترک ساحلی محافظوں نے پچيس مہاجرين کو ڈوبنے سے بچا ليا ہے۔ ترکی کی سرکاری اندولو نيوز ايجنسی کے مطابق مہاجرين کی ہلاکتيں بحيرہ ايجيئن ميں ترک ساحل کے قريب ان کی کشتی ڈوبنے کے نتيجے ميں ہوئيں۔ ايجنسی کے مطابق اس دوران پچيس مہاجرين کو ڈوبنے سے بچا بھی ليا گيا۔ مہاجرين کا يہ گروپ يونانی جزيرے ليسبوز پہنچنے کی کوشش ميں تھا، جو يورپ تک رسائی کے ليے ابتدائی مقام کی حيثيت رکھتا ہے۔ تاحال ہلاک ہونے والوں کی شہريت کے بارے ميں کوئی اطلاع نہيں۔ ترک کوسٹ گارڈز کے مطابق مہاجرين کی لاشيں ايک لکڑی کی کشتی سے مليں، جو ترکی کے شمال مغربی ساحلی شہر سے ليسبوز کے ليے روانہ ہوئی تھی۔ ريسکيو حکام نے مہاجرين کی ٹيلی فون کالز موصول ہونے کے بعد پچيس مہاجرين کو بچا بھی ليا، جن کی کشتی ڈوب رہی تھی۔ واضح رہے کہ يورپ تک پہنچنے کی کوشش کے دوران اس سال بحیرہ روم ميں ڈوب کر تين ہزار سے زائد مہاجرين ہلاک ہو چکے ہيں۔ دريں اثناء ايمنسٹی انٹرنيشنل نے ہفتہ بتاریخ سترہ اکتوبر يورپی يونين کے رہنماوں پر زور ديا ہے کہ وہ مہاجرين کے حقوق کو اپنی بيرونی سرحدوں کی نگرانی کے معاملے پر فوقيت ديں۔ ايمنسٹی کی طرف سے اس بارے ميں بيان ايک ايسے وقت جاری کيا گيا، جب جرمن چانسلر انگيلا ميرکل اتوار کے دن انقرہ حکام سے بات چيت کرنے والی ہيں۔ اس ملاقات ميں مہاجرين کی ترکی کے راستے يورپ تک رسائی کو کم کرنے اور اس کے بدلے انقرہ حکومت کی مدد سے متعلق يورپی يونين کا ايک مجوزہ منصوبہ زير بحث آئے گا۔ ذرائع کے مطابق اس منصوبے کے تحت ترک حکومت کو امدادی پيکج کے علاوہ ترک شہريوں کے ليے يورپی ممالک کے ويزوں ميں آسانی اور ترکی کی يورپی يونين ميں رکنت سے متعلق مذاکراتی عمل ميں تيزی لائی جانے کی پيشکش کی جائے گی۔ اس کے برعکس ايمنسٹی انٹرنيشنل کا کہنا ہے مہاجرين کو ترکی ہی ميں رکھنے سے متعلق يہ ڈيل دو بنيادی چيلنجز، ترکی ميں موجود مہاجرين کو درپيش مسائل کا حل تلاش کرنا اور يورپی يونين کی طرف سے مہاجرين کو تحفظ فراہم کرنے، کو نظر انداز کرتی ہے۔ اس تنظيم کے مطابق يورپی يونين کو مہاجرين کے ليے يورپ تک رسائی کے قانونی اور محفوظ راستے تلاش کرنے پر توجہ دينا چاہيے۔ دوسری جانب کروشيا سے بسوں پر آنے والے مہاجرين کا پہلا گروپ سلووينيہ کی سرحد پر پہنچ چکا ہے۔ مغربی يورپ پہنچنے کے خواہاں ان مہاجرين کو يہ نيا راستہ ہنگری کی طرف سے اپنی سرحديں بند کر دينے کے نتيجے ميں اختيار کرنا پڑا۔ سلووينيہ کی پوليس کے مطابق ہفتے کے دن پانچ بسوں ميں قريب تين سو مہاجريننامی چيک پوائنٹ پر پہنچے، جہاں دستاويزی کارروائی کے بعد انہيں آسٹريا کی سرحد پر مہاجرين کے ايک سينٹر منتقل کر ديا جائے گا۔ سلووينیہ کی نيشنل سکيورٹی کونسل آج اس موضوع پر مزيد بحث کر رہی ہے۔

يورپ پہنچنے کی کوشش میں بارہ مہاجرين يونان اور ترکی کے درميان واقع بحيرہ ايجيئن ميں ڈوب کر ہلاک ہو گئے ہيں جبکہ ترک ساحلی محافظوں نے پچيس مہاجرين کو ڈوبنے سے بچا ليا ہے۔ ترکی کی سرکاری اندولو نيوز ايجنسی کے مطابق مہاجرين کی ہلاکتيں بحيرہ ايجيئن ميں ترک ساحل کے قريب ان کی کشتی ڈوبنے کے نتيجے ميں ... Read More »

یورپی یونین کے ’توانائی یونین‘ کے منصوبے

یورپی یونین کے پالیسی سازوں نے ایسے منصوبوں کا اعلان کیا ہے، جن کا مقصد اِس اٹھائیس رکنی بلاک کے ہر کونے میں گیس اور بجلی کی آزادانہ فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ ان منصوبوں کو ’توانائی یونین‘ کا نام دیا جا رہا ہے۔ یورپی پالیسی سازوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ نصف صدی سے زیادہ عرصے کے دوران توانائی کے شعبے میں متعارف کروائے گئے اپنی نوعیت کے ان سب سے بڑے منصوبوں کی مدد سے سالانہ چالیس ارب یورو کی بچت کی جا سکے گی۔ دوسرے لفظوں میں پانچ سو ملین نفوس پر مشتمل یورپی یونین میں فی کس سالانہ اَسّی یورو کی بچت کی جا سکے گی۔ یورپی براعظم پر سب سے پہلے 1951ء میں ’کول اینڈ اسٹیل کمیونٹی‘ قائم کی گئی تھی، جو کہ یورپی یونین ہی کی ایک ابتدائی شکل تھی۔ تبھی سے یورپی اتحاد کے داعی توانائی کے شعبے میں زیادہ سے زیادہ قریبی تعاون پر زور دیتے رہے ہیں۔ یورپی یونین کے رکن ملک اپنی توانائی کی ایک تہائی ضروریات کے لیے ماسکو پر انحصار کرتے ہیں۔ یورپی کمیشن کا موقف یہ ہے کہ روس کی جانب سے یوکرائن کے علاقے کریمیا کو جبراً اپنے ساتھ ملانے پر پائے جانے والے تنازعے کے بعد یہ بات اور بھی زیادہ ضروری ہو گئی ہے کہ یونین کے رکن ممالک اپنے وسائل کو یکجا کریں۔ دوسری جانب یورپی یونین کے رکن ملکوں کی قومی حکومتوں کی کوشش ہمیشہ یہ رہی ہے کہ توانائی سے متعلق فیصلوں کا کنٹرول ہمیشہ اُن کے اپنے ہی ہاتھ میں رہے۔ ’توانائی یونین‘ سے متعلق تفصیلات یورپی کمیشن کے نائب صدر ماروس سیفکووِچ نے برسلز میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائیں۔ واضح رہے کہ ’توانائی یونین‘ اُنہی کے دائرہٴ اختیار میں آتی ہے۔ ماروس سیفکووِچ کے مطابق ’توانائی یونین‘ کے تحت جو اقدامات تجویز کیے گئے ہیں، اُن میں دستیاب سپلائی کو سرحد پار مل کر استعمال کرنے کے لیے اقتصادی ڈھانچے کو بہتر بنانا بھی شامل ہے، جس کے لیے یونین کے مالی وسائل خرچ کیے جائیں گے۔ دیگر اقدامات میں مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کے ٹرمینلز کی تعداد بڑھانا اور مقابلہ بازی سے متعلق یورپی یونین کے قانون پر پُر زور طریقے سے عملدرآمد کروانا بھی شامل ہے۔ یورپی کمیشن رکن ملکوں اور کمپنیوں پر یہ بھی زور دے رہا ہے کہ وہ روس جیسے ممالک کے ساتھ توانائی کی بڑی مقدار کے سودے کرتے وقت کمیشن کے ساتھ صلاح و مشورے کی روایت ڈالیں تاکہ ماسکو حکومت کی ’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘ کی اُس حکمتِ عملی کا مقابلہ کیا جا سکے، جس کے تحت کچھ ملک دوسرے ملکوں کے مقابلے میں زیادہ بہتر شرائط والے سودے کرنے میں کامیاب ہوتے رہے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ ماضی میں مختلف حکومتیں اور کمپنیاں یورپی کمیشن کی معلومات حاصل کرنے کی کوششوں کے خلاف سخت مزاحمت کرتی رہی ہیں۔ اب یورپی کمیشن یوکرائن اور روس کے تنازعے کے بعد جنم لینے والی نئی جغرافیائی سیاسی صورتِ حال میں یہ امید کر رہا ہے کہ رکن ممالک توانائی کے شعبے میں زیادہ قریبی اشتراکِ عمل کے فوائد کو سمجھیں گے اور آئندہ کمیشن کے ساتھ زیادہ بہتر انداز میں تعاون کریں گے۔ ماحول دوست حلقوں نے ’توانائی یونین‘ کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں گیس پر حد سے زیادہ توجہ دی گئی ہے اور توانائی کے متبادل ذرائع کو قدرے کم اہمیت دی گئی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ ان حلقوں نے توانائی کے استعمال میں آئندہ زیادہ کفایت شعاری سے کام لینے کے عزم کو سراہا بھی ہے۔ توانائی کے شعبے میں سرگرمِ عمل کمپنیوں نے ’توانائی یونین‘ کے منصوبوں کا خیر مقدم کیا ہے ا ور کہا ہے کہ توانائی کے مشترکہ منصوبوں کی مدد سے اخراجات میں کمی کی جا سکے گی، جس کا فائدہ بالآخر عام صارف کو پہنچے گا۔

یورپی یونین کے پالیسی سازوں نے ایسے منصوبوں کا اعلان کیا ہے، جن کا مقصد اِس اٹھائیس رکنی بلاک کے ہر کونے میں گیس اور بجلی کی آزادانہ فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ ان منصوبوں کو ’توانائی یونین‘ کا نام دیا جا رہا ہے۔ یورپی پالیسی سازوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ نصف صدی سے زیادہ عرصے کے دوران توانائی ... Read More »

پاکستان میں خام لوہے کے ’بڑے ذخائر‘ دریافت، حکام

پاکستانی حکام نے کہا ہے کہ صوبہ پنجاب میں خام لوہے کے ’بڑے ذخائر‘ دریافت کر لیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ تانبے، چاندی اور سونے کے ذخائر دریافت کرنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ چین کے ایک میٹالرجیکل گروپ کے تعاون سے یہ ذخائر پنجاب کے شہر چنیوٹ میں دریافت کیے گئے ہیں۔ یہ شہر لاہور سے تقریباً ایک سو ساٹھ کلومیٹر کی دوری پر شمال مغرب میں واقع ہے۔ ایک سینئر صوبائی انتظامی عہدیدار نے بتایا ہے کہ ابتدائی اندازوں کے مطابق یہ ذخائر پانچ سو ملین ٹن خام لوہے کے ہیں۔ اسٹیل میکنگ میں خام لوہا انتہائی بنیادی جزو ہے۔ سوئس اور کینیڈین لیبارٹریز کی تجزیاتی رپورٹوں کے مطابق یہ خام لوہا ساٹھ سے پینسٹھ فیصد ہائی گریڈ کا ہے۔ حکام کے مطابق چاندی، تانبے اور سونے کے نمونے بھی جلد جانچ کے لیے بیرون ملک بھیج دیے جائیں گے۔ آج پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف نے بھی سائٹ کا دورہ کیا۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ یہ دریافت پاکستان کی کمزور معیشت کو سہارا دے سکتی ہے اور دوسرے ملکوں سے بھیک مانگنے کے کلچر کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔ پاکستانی وزیراعظم کے ہمراہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف اور ڈاکٹر ثمر مبارک مند بھی موجود تھے۔ نواز شریف کا اس موقع پر کہنا تھا، ’’یہ اللہ کی نعمت ہے کہ سرسبز کھیتوں کے نیچے تانبے، لوہے اور سونے کے ذخائر موجود ہیں۔‘‘ پاکستان ایک عرصے سے دہشت گردی، کرپشن، عدم استحکام اور بجلی کے بحران کا شکار ہے اور انہی وجوہات کی وجہ سے اس کی معیشت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ سن 2013ء میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف نے پاکستان کو چھ اعشاریہ چھ ارب ڈالر کا قرضہ فراہم کرنے کا معاہدہ کیا تھا لیکن اس کے ساتھ مشکل شرائط بھی رکھی تھیں۔

پاکستانی حکام نے کہا ہے کہ صوبہ پنجاب میں خام لوہے کے ’بڑے ذخائر‘ دریافت کر لیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ تانبے، چاندی اور سونے کے ذخائر دریافت کرنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ چین کے ایک میٹالرجیکل گروپ کے تعاون سے یہ ذخائر پنجاب کے شہر چنیوٹ میں دریافت کیے گئے ہیں۔ ... Read More »

چین میں سال نو کی تقریب میں بھگدڑ، کم ازکم 35 افراد ہلاک

چینی شہر شنگھائی میں گزشتہ شب نئے سال کو خوش آمدید کہنے کے لیے منعقد کی گئی ایک تقریب میں بھگدڑ کے واقعے میں کم از کم 35 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ حکام کے مطابق یہ واقعہ ممکنہ طور پر اس وقت پیش آیا، جب ایک عمارت سے جعلی نوٹ پھینکے گئے اور لوگ ان نوٹوں کو اصلی سمجھتے ... Read More »

باپ نے بوکوحرام کے حوالے کیا، تیرہ سالہ بچی کا انکشاف

نائجیریا کے شمالی شہر کانو میں ایک دہشت گردانہ واقعے میں خود کو دھماکا خیز مواد کے ساتھ اڑانے سے انکار کر دینے والی ایک تیرہ سالہ بچی نے پولیس کو بتایا ہے کہ اسے اس کے باپ نے شدت پسند گروہ بوکوحرام کے حوالے کیا تھا۔ واضح رہے کہ نائجیریا کے دوسرے سب سے بڑے شہر کانو میں شدت پسند گروہ بوکوحرام نے خودکش بمبار لڑکیاں بھیجی تھیں، جن میں سے ایک لڑکی نے اپنے وجود سے بندھا دھماکا خیز مواد تباہ کرنے سے انکار کر دیا تھا اور اسے بعد میں سکیورٹی فورسز نے اپنی تحویل میں لے لیا تھا۔ حالیہ مہینوں میں نائجیریا نے دہشت گردانہ حملوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے اور ان میں متعدد حملوں میں خودکش بمبار یا تو خواتین تھیں یا بچیاں۔ ان حملوں کے بعد نائجیریا میں لوگوں نے خدشات ظاہر کیے تھے کہ ممکنہ طور پر شدت پسند تنظیم بوکوحرام اغوا کی گئی بچیوں کو استعمال کر رہی ہے۔ بدھ کی رات ایک نیوز کانفرنس میں اس تیرہ سالہ بچی نے بتایا کہ اس نے بوکوحرام کے ایک کمیپ میں کئی افراد کو زندہ دفن کرنے کے مناظر دیکھے۔ اس بچی کا کہنا تھا کہ اسے اس کا باپ کانو کے مشرق میں باؤچی ریاست کے ایک جنگلاتی علاقے میں بوکوحرام کے ایک مرکز میں لے گیا اور وہاں اسے عسکریت پسندوں کے حوالے کر دیا گیا۔ اس بچی کا کہنا تھا کہ اسے اپنے پاس رکھنے والوں نے اس سے پوچھا، ’’کیا تم جنت میں جانا چاہتی ہو۔ جس کے جواب میں نے کہا ہاں۔ تو انہوں نے کہا کہ تمہیں اس کے لیے بم دھماکا کرنا ہو گا اور مرنا ہو گا مگر میں نے کہا کہ میں ایسا نہیں کر سکتی۔‘‘ اس لڑکی کا مزید کہنا تھا، ’’ اس پر ان مسلح افراد نے مجھے قتل کی دھمکی دی، جس پر میں نے انہیں اپنے وجود سے دھماکا خیز مواد سے بھری جیکٹ باندھنے دی۔ کیوں کے مجھے زندہ دفن کر دیے جانے کا خوف تھا۔‘‘ واضح رہے کہ دس دسمبر کو کانو میں کپڑے کی ایک مارکیٹ میں اس لڑکی کے ہمراہ دیگر دو بچیوں نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا تھا، تاہم اس بچی نے دھماکا نہیں کیا تھا۔ اس واقعے میں چار افراد ہلاک اور دیگر سات زخمی ہو گئے تھے۔

نائجیریا کے شمالی شہر کانو میں ایک دہشت گردانہ واقعے میں خود کو دھماکا خیز مواد کے ساتھ اڑانے سے انکار کر دینے والی ایک تیرہ سالہ بچی نے پولیس کو بتایا ہے کہ اسے اس کے باپ نے شدت پسند گروہ بوکوحرام کے حوالے کیا تھا۔ واضح رہے کہ نائجیریا کے دوسرے سب سے بڑے شہر کانو میں شدت ... Read More »

وزیر اعظم نواز شريف کا تين روزہ دورہ جرمنی

پاکستان کے وزير اعظم نواز شريف چين کا دورہ مکمل کرنے کے بعد پير دس نومبر سے يورپی ملک جرمنی کا تين روزہ دورہ شروع کر رہے ہيں۔ وہ اس دورے میں جرمن چانسلر انگيلا ميرکل کے ساتھ ساتھ دیگر اعلیٰ حکام سے بھی ملاقاتیں کريں گے۔ ذرائع کے مطابق پاکستانی وزير اعظم نواز شريف آئندہ پير دس نومبر کے روز دو پہر کے وقت جرمن دارالحکومت برلن پہنچ رہے ہيں۔ نواز شريف جرمنی کے وفاقی وزير برائے اقتصادی تعاون اور ترقی گيرڈ مولر سے ملاقات کے بعد پاکستان جرمنی بزنس فورم کے شرکاء سے خطاب کريں گے۔ بعد ازاں اسی دن ان کی ايک عشائيے ميں شرکت بھی طے ہے۔ پاکستانی وزیراعظم کے اس دورے کا مقصد اقتصادی اور دفاعی تعلقات میں مضبوطی لانا بتایا گیا ہے۔ منگل گيارہ نومبر کے روز پاکستانی وزير اعظم نواز شريف برلن ميں جرمن چانسلر انگيلا ميرکل سے ملاقات طے ہے، جس کے بعد دونوں رہنما ايک مشترکہ پريس کانفرنس سے خطاب کريں گے۔ بعد ازاں نواز شريف جرمن پارليمان کا دورہ کريں گے، جہاں وہ پارليمان کے صدر پروفيسر نوربرٹ لامرٹ اور جرمنی کی پارليمانی کميٹی برائے ترقی و خارجہ امور کے ارکان سے بھی ملیں گے۔ نواز شريف کی وطن واپسی بارہ نومبر کو طے ہے۔ روايتی طور پر پاکستان اور جرمنی کے مابين باہمی تعلقات کافی اچھے رہے ہيں۔ سرد جنگ کے بعد دونوں ممالک کے موقف يکساں تھے جبکہ امريکا ميں 2001ء ميں ہونے والے ستمبر 9/11 کے حملوں کے بعد اسلام آباد اور برلن حکومتوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ ميں بھرپور تعاون کا مظاہرہ کيا۔ پاکستان اور جرمنی کے درميان دو طرفہ سرمايہ کاری سے متعلق معاہدہ 1959ء ميں طے پايا تھا، جو اس وقت اپنی نوعيت کا پہلا ايسا معاہدہ تھا۔ موجودہ اعداد و شمار کے لحاظ سے جرمنی عالمی سطح پر پاکستان کا چوتھا سب سے بڑا اور يورپی سطح پر سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے۔ حاليہ برسوں کے دوران 2012ء ميں شروع ہونے والے پاک جرمنی اسٹريٹيجک ڈائيلاگ کے علاوہ يورپی يونين ميں پاکستان کے ليے جی ایس پی پلس درجے کے حصول ميں برلن کی مسلسل اور عملی حمايت سے دونوں ممالک کے باہمی تعلقات مزيد بہتر ہو رہے ہيں۔ اس دورے کے دوران جرمنی میں پاکستان تحریک انصاف کے کارکن بھی وزیراعظم کے ہوٹل کے قریب احتجاجی مظاہرہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

پاکستان کے وزير اعظم نواز شريف چين کا دورہ مکمل کرنے کے بعد پير دس نومبر سے يورپی ملک جرمنی کا تين روزہ دورہ شروع کر رہے ہيں۔ وہ اس دورے میں جرمن چانسلر انگيلا ميرکل کے ساتھ ساتھ دیگر اعلیٰ حکام سے بھی ملاقاتیں کريں گے۔ ذرائع کے مطابق پاکستانی وزير اعظم نواز شريف آئندہ پير دس نومبر کے ... Read More »

ہانگ کانگ ، مظاہرین پر پولیس کا تشدد

ہانگ کانگ میں سادہ لباس میں ملبوس سکیورٹی اہلکاروں کی طرف سے حکومت مخالف مظاہروں میں شریک ایک طالب علم کو تشدد کا نشانہ بنانے پر پولیس کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ہانگ کانگ سے موصولہ رپورٹوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ سادہ لباس میں پولیس اہلکاروں نے مظاہرہ کرنے والے ایک ایسے شخص کو نشانہ بنایا ، جو ہتھکڑی پہنے ہوئے تھا۔ اس واقعے کی ویڈیو بھی جاری کر دی گئی ہے، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اسے لاتوں اور ہاتھوں سے مارا جا رہا ہے۔ یہ ویڈیو چار منٹ دورانیے کی ہے، جس میں چھ افسران ایک نہتے شخص کو بری طرح تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔

ہانگ کانگ میں سادہ لباس میں ملبوس سکیورٹی اہلکاروں کی طرف سے حکومت مخالف مظاہروں میں شریک ایک طالب علم کو تشدد کا نشانہ بنانے پر پولیس کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ہانگ کانگ سے موصولہ رپورٹوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ سادہ لباس میں پولیس اہلکاروں نے ... Read More »

فلسطين کے ليے سفارت کاری کا اہم دور

فلسطينی حکام رواں ہفتے تين اہم محاذوں پر کام شروع کر رہے ہيں، جن ميں داخلی سطح پر موجود مختلف سياسی دھڑوں کے اختلافات دور کرنا، اسرائيل کے ساتھ امن مذاکرات کی بحالی اور اقوام متحدہ ميں تازہ اپيل کرنا شامل ہيں۔ نيوز ايجنسی اے ايف پی کے مطابق ان تينوں معاملات کے ليے زيادہ تر سفارت کاری مصری دارالحکومت قاہرہ ميں ہو گی۔ سب سے پہلے منگل تيئس ستمبر کو فلسطينی تنظيم حماس اور الفتح پارٹی کے نمائندے ملاقات کريں گے، جس ميں رواں برس اپريل ميں مفاہمت سے متعلق طے پانے والے معاہدے پر عمل در آمد سے متعلق اٹھنے والے مسائل کا حل تلاش کيا جائے گا۔ فلسطين ميں رواں برس جون ميں حماس اور الفتح پارٹی کی ’متحدہ حکومت‘ قائم ہوئی تھی۔ اميد کی جا رہی تھی کہ اس سمجھوتے سے مغربی کنارے ميں اکثريت کی حامل فلسطينی صدر محمود عباس کی الفتح پارٹی اور غزہ پٹی ميں اکثريتی طور پر حمايت يافتہ تنظيم حماس کے مابين سالہا سال سے چلی آرہی کشيدگی ختم ہو سکے گی۔ تاہم متحدہ حکومت کے قيام کے بعد جلد ہی تازہ اختلافات ابھر آئے۔ قاہرہ ميں تين روز تک جاری رہنے والے ان مذاکرات ميں حماس اور الفتح پارٹی کے نمائندے انہی اختلافات کو دور کرنے کی کوشش کريں گے۔ دريں اثناء منگل ہی کے روز حماس اور الفتح کے ارکان پر مشتمل فلسطينی وفد اسرائيل کے ساتھ چھبيس اگست کو طے پانے والی جنگ بندی ڈيل کے حوالے سے يکساں موقف تلاش کرنے کی کوشش کرے گا۔ تاہم متعدد سياسی مبصرين کا کہنا ہے کہ اسرائيل کے ساتھ مذاکرات سے قبل مختلف فلسطينی گروپوں کو اپنے اندرونی اختلافات دور کرتے ہوئے ايک مشترکہ اور يکساں حکمت عملی اختيار کرنا ہو گی۔ يہ امر اہم ہے کہ اسرائيل کے ساتھ مذاکرات کا عمل بالواسطہ طور پر ہوگا۔ چھبيس اگست کو طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کی شرائط کے تحت حماس اور اسرائيل نے آئندہ ايک ماہ ميں دوبارہ ملنے کی حامی بھری تھی تاکہ سخت اختلافات کا سبب بننے والے معاملات پر بات چيت کی جا سکے۔ مصری دارالحکومت ميں سفارت کاری کے بعد فلسطينی اتھارٹی کے صدر محمود عباس چھبيس ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کريں گے۔ جنرل اسمبلی ميں اپنے تقرير کے دوران عباس فلسطين پر اسرائيل کے قبضے کوآئندہ تين برسوں ميں ختم کرانے اور 1967ء کی سرحدوں پر فلسطينی رياست کے قيام کے اپنے عزم کے ليے حمايت حاصل کرنے کی کوشش کريں گے۔

فلسطينی حکام رواں ہفتے تين اہم محاذوں پر کام شروع کر رہے ہيں، جن ميں داخلی سطح پر موجود مختلف سياسی دھڑوں کے اختلافات دور کرنا، اسرائيل کے ساتھ امن مذاکرات کی بحالی اور اقوام متحدہ ميں تازہ اپيل کرنا شامل ہيں۔ نيوز ايجنسی اے ايف پی کے مطابق ان تينوں معاملات کے ليے زيادہ تر سفارت کاری مصری دارالحکومت ... Read More »

Scroll To Top