You are here: Home » قومی (page 3)

Category Archives: قومی

Feed Subscription

خیبر ایجنسی: پابندی کے بعد منشیات کے کاروبار میں جدت

پاکستان کے شمال مغربی قبائلی علاقے ایک طرف جہاں آئے روز کے شدت پسندانہ واقعات کی وجہ سے مشہور ہیں، وہیں پر یہ علاقے منشیات کی پیداوار اور خرید و فروخت کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں، جو ایک بہت منافع بخش کاروبار ہے۔ منشیات کا یہ کاروبار زیادہ تر خیبر ایجنسی کے راستے کیا جاتا ہے۔ ایک جانب اگر انتظامیہ نے گزشتہ تین برسوں سے خیبر ایجنسی میں ہر قسم کی منشیات کے کاروبار پر مکمل پابندی عائد کر رکھی ہے تو دوسری جانب جدید دور کی سہولیات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے منشیات فروشوں نے اپنے کاروبار کے لیے سوشل میڈیا کو بھی استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ پشاور کے قدرے مہنگے سمجھے جانے والے رہائشی علاقے یونیورسٹی ٹاؤن کے ایک نوجوان نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ حکومت کی جانب سے خیبر ایجنسی میں منشیات کے کاروبار پر پابندی کے باعث اب منشیات کھلے عام تو فروخت نہیں ہو رہیں تاہم بہت سے افراد اپنے گھروں اور حجروں سے یہ کاروبار ابھی تک جاری رکھے ہوئے ہیں۔ پشاور کے اس شہری نے بتایا، ’’بعض منشیات فروش قانون کی نظر میں آنے سے بچنے کے لیے موبائل فون، وٹس ایپ جیسی اسمارٹ فون ایپلیکیشن یا دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا سہارا لیتے ہیں۔ میں خود گزشتہ آٹھ سال سے چرس پیتا ہوﺍ، لیکن اب حالات کافی بدل گئے ہیں۔ سکیورٹی حکام کی سختی کی وجہ سے اب کارخانو مارکیٹ یا جمرود میں منشیات بہت مشکل سے ملتی ہیں تاہم کئی منشیات فروشوں نے اپنے کاروبار کے لیے متعدد متبادل راستے بھی تلاش کر لیے ہیں۔‘‘ اس پاکستانی نوجوان کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ قریب ایک مہینے سے اپنے فون پر وٹس ایپ کے ذریعے ایک ایسے گروپ کا حصہ ہے، جہاں وہ آسانی سے منشیات کے ڈیلر سے رابطہ کر سکتا ہے۔ اس نوجوان نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’میں صرف اپنے ذاتی استعمال کے لیے چرس خریدتا ہوں۔ اس کے لیے چند گھنٹے پہلے ایک پیغام کے ذریعے ڈیلر کو مطلوبہ مقدار اور جگہ سے مطلع کر دیا جاتا ہے۔‘‘ اس بارے میں خیبر ایجنسی میں کارخانو چیک پوسٹ کے انچارج، کمانڈر اتحاد آفریدی کا ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے کہنا تھا کہ انہیں منشیات کے اس قسم کے کاروبار کا علم نہیں ہے، تاہم خیبر ایجنسی کی پولیٹیکل انتظامیہ کے احکامات کے مطابق منشیات کا کاروبار ایک سنگین جرم ہے۔ ان کے مطابق صرف کارخانو مارکیٹ میں منشیات فروشی کی قریب پانچ سو دکانیں تھیں، جنہیں بند کرایا جا چکا ہے۔ اتحاد آفریدی نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’ہمیں ہدایات دی گئی ہیں کہ کسی بھی مارکیٹ میں یا دکاندار کے پاس اگر کسی بھی قسم کی منشیات پائی جائیں تو متعلقہ افراد کو 30 لاکھ روپے تک جرمانہ کرنے کے علاوہ اس دکان یا مارکیٹ کو بھی مسمار کر دیا جائے۔‘‘ اتحاد آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ چرس، ہیروئن اور الکوحل جیسی منشیات پر اس علاقے میں مکمل پابندی ہے، لیکن ’آئس‘ یا ’کرسٹل‘ جیسا انتہائی خطرناک نشہ وہاں پشاور سے پہنچ رہا ہے، جس کی فوری روک تھام کی اشد ضرورت ہے۔ خیبر ایجنسی کی تحصیل جمرود کے رہائشی محمد امین کی بھی کارخانو مارکیٹ میں منشیات کی ایک دکان تھی، جس کی حکومتی سختی کے نتیجے میں بندش کے بعد امین اب اپنا ایک کریانہ سٹور چلا رہا ہے۔ محمد امین نے کہا، ’’پہلے اس علاقے میں ہم آزادی سے منشیات کا کاروبار کر سکتے تھے۔ اب لوگ بہت ڈرتے ہیں۔ حکومت نے منشیات فروشی کی سزائیں بہت سخت کر رکھی ہیں۔‘‘ منشیات کے اسی کاروبار کے سلسلے میں خیبر ایجنسی کے ایک اور رہائشی، پچیس سالہ عنایت اللہ نے کہا کہ ٹیکنالوجی میں جدت آ چکی ہے۔ زیادہ تر لوگ اسمارٹ فون استعمال کر رہے ہیں۔ ’’وٹس ایپ یا کسی دوسری موبائل فون ایپلیکیشن کے ذریعے منشیات کا کاروبار نیا لیکن کافی حد تک قابل فہم ہے۔ منشیات فروش اپنے لیے قانون سے بچنے کی کوشش کرتے ہوئے کوئی نہ کوئی راستہ نکال ہی لیتے ہیں۔‘‘

پاکستان کے شمال مغربی قبائلی علاقے ایک طرف جہاں آئے روز کے شدت پسندانہ واقعات کی وجہ سے مشہور ہیں، وہیں پر یہ علاقے منشیات کی پیداوار اور خرید و فروخت کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں، جو ایک بہت منافع بخش کاروبار ہے۔ منشیات کا یہ کاروبار زیادہ تر خیبر ایجنسی کے راستے کیا جاتا ہے۔ ایک جانب اگر ... Read More »

مودی کے بیان کے خلاف بلوچستان میں بڑے پیمانے پر احتجاج

بھارتی وزیر اعظم مودی کے بلوچستان سے متعلق حالیہ بیان کے خلاف کوئٹہ سمیت صوبے بھر میں عوام نے شدید احتجاج کیا ہے۔ مظاہروں اور ریلیوں میں شریک مشتعل مظاہرین نے بھارتی پرچم اور نریندر مودی کے پتلے بھی نذر آتش کیے۔ جمعرات اٹھارہ اگست کے روز اس احتجاج کے دوران سب سے بڑی احتجاجی ریلی صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے میزان چوک سے نکالی گئی، جو مختلف شاہراہوں سے ہوتی ہوئی پریس کلب پہنچ کر ختم ہوئی۔ اس ریلی میں سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی اور زندگی کے دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ ریلی کے شرکاء نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے، جن پر بلوچستان میں مبینہ بھارتی مداخلت کے خلاف نعرے درج تھے۔ مظاہرین نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور جلاوطن بلوچ علیحدگی پسند رہنما براہمداغ بگٹی کے خلاف بھی شدید نعرے لگائے اور اقوام متحدہ سے بھارتی مداخلت کا سختی سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔ کوئٹہ کے ساتھ ساتھ بلوچستان کے دیگر اضلاع مستونگ، سبی، لورالائی، نوشکی، چاغی، تربت پنجگور، گوادر، پشین اواران، سبی، ڈیرہ مراد جمالی، چمن اور دیگر اضلاع میں بھی احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ ان مظاہروں کے دوران شرکاء نے صوبے میں ہونے والی دہشت گردی کا ذمہ دار بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کو ٹھہراتے ہوئے بھارتی حکومت کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ کوئٹہ لاء کالج میں بلوچستان میں بیرونی مداخلت کے موضوع پر آج ایک سیمینار بھی منعقد ہوا، جس سے وزیر اعلٰی بلوچستان، وزیر داخلہ اور دیگر مقررین نے خطاب کیا۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر اعلٰی نواب ثنااللہ زہری کا کہنا تھا کہ بھارت بلوچستان میں مداخلت کر کے مسئلہ کشمیر کو دبانے کی کوشش کر رہا ہے مگر یہ کوششیں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتیں۔ ثنااللہ زہری نے کہا، ’’سانحہ آٹھ اگست کوئٹہ کے بعد ہم نے واضح طور پر یہ کہا تھا کہ یہاں ہونے والی دہشت گردی میں بھارتی ’را‘ ملوث ہے۔ اب نریندر مودی کے بیان نے ہمارے اس موقف کی باقاعدہ تائید کر دی ہے۔ بلوچستان کے بھٹکے ہوئے لوگ دشمنوں کے ہاتھوں میں کھیل کر آزادی کے خواب کو کبھی شرمندہ تعبیر نہیں کر سکتے۔ ہم آزاد ہیں اور اپنا دفاع کرنا خوب جانتے ہیں۔‘‘ ثنا اللہ زہری کے مطابق جلاوطن بلوچ علیحدگی پسند رہنما براہمداغ بگٹی نے بھارت کو بلوچستان میں مداخلت کی دعوت دے کر اپنی غداری کا ثبوت دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا، ’’بلوچستان کے محب وطن اور غیور لوگ ایسے لیڈروں کو کبھی معاف نہیں کریں گے جو اپنی سرزمین پر غیروں کو یلغار کی دعوت دے رہے ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ اب صوبے کے عوام بھی ان افراد کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں، جو عوام کے نام کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔‘‘ اس سیمینار سے صوبائی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے بھی خطاب کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں بھارتی مداخلت کا سب سے بڑا ثبوت ’را‘ کے حاضر سروس افسر کلبھوشن یادیو کی گرفتاری ہے، جس نے بھارتی عزائم کو ہر حوالے سے بے نقاب کر دیا ہے۔ سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں جو لوگ بیرونی اشاروں پر بد امنی پھیلا رہے ہیں، انہیں کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے حکومت تمام وسائل بروئے کار لا ئے گی۔ اسی دوران دفاعی امور کے سینئر تجزیہ کار میجر (ر) محمد عمر کے بقول بھارتی وزیر اعظم کا بلوچستان کے حوالے سے حالیہ بیان پاک بھارت کشیدگی میں مزید اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔ ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’پاکستان اور بھارت کے تعلقات پہلے ہی تناؤ کا شکار ہیں۔ لیکن اب یوں لگتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان دوریوں میں اضافہ ہو گا۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے بیان نے پاکستان کے اس موقف کی تائید کی ہے کہ بھارت بلوچستان میں بد امنی میں ملوث ہے۔ اس قسم کے بیانات موجودہ حالات میں جاری کرنا کسی بھی طور دانشمندی کا عکاس نہیں ہے۔ بھارت اگر پاکستان سے بعض معاملات پر اختلاف رکھتا ہے، تو اسے سفارتی سطح پر پاکستان کو اپنے تحفظات سے آگاہ کرنا چاہیے۔‘‘ محمد عمرکا کہنا تھا کہ دو طرفہ تعلقات میں بہتری لانے کے لیے زمینی حقائق کو مد نظر رکھنا بہت ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا، ’’پاکستانی حکومت پہلے ہی بلوچستان میں مبینہ بھارتی مداخلت کے حوالے سے اپنی آواز بین الاقوامی سطح پر بلند کر چکی ہے۔ بھارت اگرچہ پاکستانی الزامات کی ہمیشہ سے تردید کرتا آیا ہے تاہم وزیر اعظم نریندر مودی کے بیان سے بھارتی حکومت کی اپنے موقف کی بھی تردید ہو گئی ہے۔‘‘ بلوچستان کے سیاسی امور کے ماہر حکیم بلوچ کہتے ہیں کہ صوبے میں شورش حکومت کے لیے مسائل کا سبب تو بن رہی ہے تاہم اس صورتحال سے کسی ہمسایہ ملک کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہو گا۔ ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے حکیم بلوچ نے کہا، ’’بلوچستان میں پسماندہ علاقوں کے عوام میں بہت شعور آ گیا ہے۔ صوبے میں لوگ اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں۔ انہیں اس بات کا بھی بخوبی ادراک ہو چکا ہے کہ ان کی پسماندگی کا ذمہ دار کون ہے۔ اس وقت سب سے اہم مسئلہ یہ نہیں کہ صوبے میں شدت پسندی کے فروغ میں مبینہ طور پر باہر سے کوئی کردار ادا کیا جا رہا ہے۔ یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ حکومت تمام تر وسائل استعمال کرنے کے باوجود بلوچستان کے مسئلے کے پرامن حل میں اب تک کوئی پیش رفت حاصل نہیں کر سکی۔‘‘ حکیم بلوچ کے مطابق بلوچ جلاوطن رہنماؤں کو صوبے میں بیرونی مداخلت کی دعوت کے بجائے اپنے علاقوں کے عوام کی پسماندگی اور دیرینہ مسائل کے حل کے لیے خود بھی کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم نے ہمیشہ یہ کہا ہے کہ بلوچستان کے حالات کے ذمہ دار جتنے دیگر لوگ ہیں، اتنے ہی قصور وار وہ لوگ بھی ہیں جنہیں یہاں کے عوام نے نمائندگی کا حق تو کئی بار دیا لیکن جو عوام کی توقعات پر کبھی پورا نہیں اترے۔‘‘ ’’باہر سے اگر یہاں مداخلت ہو رہی ہے تو لوگ تو ہمارے ہی استعمال ہو رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ حکمرانوں نے ایسے حالات پیدا ہی کیوں کیے کہ اب یہاں جمہوری طریقےسے احتجاج کے بجائے لوگ شدت پسندی کی جانب راغب ہو رہے ہیں؟‘‘ واضح رہے کہ حال ہی میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نےاپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ کشمیرکی موجودہ صورتحال کی وجہ سرحد پار پاکستان سے ہونے والی مبینہ دہشت گردی ہے اور اب پاکستان کو بھی بلوچستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مبینہ زیادتیوں کے لیے دنیا کے سامنے جواب دہ ہونا ہو گا۔

بھارتی وزیر اعظم مودی کے بلوچستان سے متعلق حالیہ بیان کے خلاف کوئٹہ سمیت صوبے بھر میں عوام نے شدید احتجاج کیا ہے۔ مظاہروں اور ریلیوں میں شریک مشتعل مظاہرین نے بھارتی پرچم اور نریندر مودی کے پتلے بھی نذر آتش کیے۔ جمعرات اٹھارہ اگست کے روز اس احتجاج کے دوران سب سے بڑی احتجاجی ریلی صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے ... Read More »

جلسے اور سیاسی بیانات، پاکستان میں سیاسی درجہء حرارت بڑھ رہا ہے

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے انکشاف کیا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں دو افراد نواز شریف کے کاغذات ٹھیک کر رہے ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کبھی بھی ٹیکس جمع نہیں کرسکتا۔ لیاقت باغ راولپنڈی میں احتساب ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کپتان نے کہا، ’’نیب چھوٹے چوروں کو پکڑ رہی ہے اور ملک کے سب سے بڑے ٹیکس چور کو آزاد چھوڑا ہوا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا ملک کے سارے ادارے کرپشن کے باعث تباہ ہوچکے ہیں۔اس موقع پر انہوں نے اعلان کیا کہُ ان کی پارٹی نیب، ایف بی آر اور الیکشن کمیشن کے دفاتر کے سامنے مظاہرے کرے گی۔ انہوں نے نواز شریف پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا، ’’نواز شریف کا نام پانامہ لیکس میں آیا ہے اور ہم پانچ ماہ سے نواز شریف سے پوچھ رہے ہیں کہ انہوں نے یہ اربوں کی جائیدادیں کیسے بنائی۔ اِس ریلی کی منزل مقصود لاہور ہے۔ میاں صاحب ہمارے لاہور آنے سے پہلے کچھ کر لو۔ پھر آپ کچھ نہیں کر سکو گے اور اس مرتبہ آپ کے پاس جدہ جانے کا وقت بھی نہیں ہوگا۔‘‘ عمران خان نے نواز شریف کے ترقیاتی پروگراموں پر تنقید کرتے ہوئے کہا، ’’قومیں اُس وقت ترقی کرتی ہیں، جب وہ میڑو کے بجائے انسانوں پر پیسہ خرچ کرتی ہیں۔ تعلیم و صحت پر پیسہ خرچ کرتی ہیں اور لوگوں کو روزگار فراہم کرتی ہیں۔‘‘ عمران خان کی تنقید کا فوری جواب وفاقی حکومت کے ترجمان پرویز رشید کی طرف سے آیا، جنہوں نے عمران خا ن اور ان کو قریبی رفقاء پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اُن کے نام آف شور کمپنیوں میں ہیں۔ انہوں کے کہا عمران خان کو ملنے والی چیرٹی کی رقم کی ذاتی اکاوئنٹس میں منتقلی پر برطانیہ میں تحقیق ہورہی ہے۔ ’’قومی وحدت کے دن عمران خان قوم کو تقسیم کیوں کرتے ہیں۔ جھوٹ کے راستے پر گامزن عمران خان ہمارے سوالوں کے سچ جواب نہیں دیں گے۔‘‘ عمران خان کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے مسلم لیگ نون کے رہنما دانیال عزیز نے میڈیا کو یہ بیان جاری کیا، ’’عمران خان اسٹیٹیس کو کے ہاتھوں یرغمال ہیں۔ عمران خان خود آف شور کمپنیوں، پارٹی فنڈز میں خردبرد اور سٹہ بازی کے حوالے سے جواب دیں۔‘‘ پاکستان کے سیاسی درجہء حرارت میں ہفتے کی صبح سے ہی حدت محسوس ہو رہی۔ ہفتے کی صبح وزیرِاعظم نواز شریف نے پنجاب میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جہاں اپنی حکومت کے کارناموں سے عوام کو متاثر کرنے کی کوشش کی وہیں انہوں نے حزب اختلاف کو بھی آڑے ہاتھوں لینے کی کوشش کی۔ انہوں نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’سنجیدہ سیاست کنٹینر سے نہیں کی جاتی۔ یہ کوئی ون ڈے یا ٹیسٹ میچ نہیں ہے۔ عوام نے گندی زبان کی سیاست کو مسترد کر دیا ہے۔‘‘ کراچی میں اپوزیشن رہنما خورشید شاہ اور لاہور میں حمزہ شہبازکے بیانات بھی آج ذرائع ابلاغ کی زینت بنے رہے۔ شاہ صاحب نے ایک بار پھر اپنی توپوں کا رخ وزیرِ داخلہ کی طرف کرتے ہوئے کہا،’’چوہدری نثار اگر کام کر رہے ہوتے تو نیشنل ایکشن پلان پر کام ہو رہا ہوتا۔ نثار ملک میں افراتفری پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ میاں نواز شریف کو دیکھنا چاہیے کہ چوہدری نثار کے بیانات کہیں جمہوریت کے خلاف سازش تو نہیں ہیں۔‘‘ لاہور میں حمزہ شہباز نے عمران خان پر طنز کرتے ہوئے کہا،’’عمران خان کو شیروانی اپنی جیب سے سلوا کر دے دیتا ہوں۔ عمران خان کے ٹارگٹ بدلتے رہتے ہیں لیکن اصل ہدف کرسی ہے۔ لوگوں کو کہیں کہ وہ عمران خان کو وزیرِ اعظم کہیں۔‘‘ بیانات اور رد بیانات کا سلسلہ رات گئے تک جاری رہا، جہاں پنڈی میں شیخ رشید اور نون لیگ نے اپنی اپنی سیاسی طاقت کا مظاہرہ کیا۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے انکشاف کیا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں دو افراد نواز شریف کے کاغذات ٹھیک کر رہے ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کبھی بھی ٹیکس جمع نہیں کرسکتا۔ لیاقت باغ راولپنڈی میں احتساب ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کپتان نے کہا، ’’نیب چھوٹے چوروں کو پکڑ ... Read More »

دہشت گردی کا ہر واقعہ ہمارے عزم کو مضبوط بناتا ہے، وزیراعظم نواز شریف

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں میں مزید تیزی لانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی فوج اور سیاسی قیادت ایک ساتھ ہیں۔ کوئٹہ میں دہشت گردانہ حملے کے دو روز بعد پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے پارلیمنٹ سے خطاب میں کہا ہے کہ دہشت گردوں کا جلد ہی خاتمہ کر دیا جائے گا اور اس کے لیے تمام تر ممکنہ اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ وزیراعظم نے اپنی تقریر میں کہا کہ حکومت پاکستان ملک کو تمام نسلوں اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے محفوظ بنانے کے لیے کوششیں جاری رکھے گی۔ دو روز قبل کوئٹہ میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے میں 72 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس حملے میں کوئٹہ کے وکلاء کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ پارلیمنٹ سے خطاب کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ ملک کے دشمنوں کے ناپاک عزائم کو مات دینے کے لیے پاکستان کی خفیہ ایجنسیاں دن رات کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن ضرب عضب ایک متفقہ قومی ایجنڈا ہے، جس کو ہر صورت پایہء تکمیل تک پہنچایا جائے گا۔ نواز شریف نے کہا، ’’کوئٹہ حملے کے پیچھے وہی سوچ ہے، جس کے تحت دیگر دہشت گردانہ حملوں کے ذریعے پاکستانیوں کو نشانہ بنایا گیا، کوئٹہ حملہ ایک منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا تھا، یہ سوچ پاکستان اور خصوصی طور پر بلوچستان میں امن کی دشمن ہے۔‘‘ وزیراعظم کے خطاب کے بعد وزیر داخلہ چودھری نثار علی نے نام لیے بغیر محمود خان اچکزئی کے اس بیان کو تنقید کا نشانہ بنایا، جس میں انہوں نے ان سکیورٹی اور خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں کو اس وجہ سے بر طرف کرنے کا مطالبہ کیا تھا کہ وہ کوئٹہ حملہ روکنے میں ناکام رہے ہیں۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ اپنے ملک کی ایجنسیوں کو مورد الزام ٹہرانے کے بجائے ہمسایہ ممالک کی پاکستان میں سرگرمیوں کی مذمت کرنی چاہیے۔

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں میں مزید تیزی لانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی فوج اور سیاسی قیادت ایک ساتھ ہیں۔ کوئٹہ میں دہشت گردانہ حملے کے دو روز بعد پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے پارلیمنٹ سے خطاب میں ... Read More »

پاکستان میں طوفانی بارشیں، دو دن میں درجنوں ہلاکتیں

پاکستانی کے جنوبی شہر اور اقتصادی مرکز کراچی اور صوبہ سندھ کے متعدد دیگر علاقوں میں جمعے سے جاری شدید بارشوں کے باعث کم از کم 21 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ مقامی میڈیا کے مطابق جنوبی صوبے سندھ میں شدید بارشوں کا آغاز جمعے کی شام ہوا، جو بغیر کسی وقفے کے ہفتے کی دوپہر تک جاری رہیں۔ ان بارشوں کی وجہ سے کراچی شہر میں بجلی کے نظام کو شدید نقصان پہنچا اور قریب ڈھائی سو فیڈرز ٹرِپ کر گئے، جس کے نتیجے میں شہر کے متعدد حصے تاریکی میں ڈوبے رہے۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق شہر میں متعدد سڑکیں اب بھی زیرآب ہیں اور شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ریسکیو اور سرکاری ذرائع کےمطابق صرف کراچی میں کرنٹ لگنے اور چھتیں گرنے کے باعث کم از کم 14 افراد ہلاک ہوئے ہیں، جب کہ بدین، مٹھی اور ٹھٹھہ میں بھی کم از کم سات افراد مارے گئے۔ شدید بارشوں کی وجہ سے جمعے کی شام کراچی شہر کی متعدد سڑکوں پر شدید ٹریفک جام بھی دیکھا گیا، جب کہ ہفتے کو زیادہ تر افراد گھروں ہی میں رہے اور سڑکیں مکمل طور پر خالی نظر آئی۔ سوشل میڈیا پر بھی عوام نے بارشوں کے حوالے سے کمزور حکومتی اقدامات کو تنقید کا نشانہ بنایا، جب کہ مختلف سوشل میڈیا صارف مختلف علاقوں کی تصاویر بھی پوسٹ کرتے رہے۔ ایک ٹوئٹر صارف فیضان لاکھانی نے ایک زیرآب سڑک کی تصویر کے ساتھ لکھا کہ حکومت نے ’تیرنے کا نہایت عمدہ انتظام‘ کیا ہے۔ ایک اور صارت عمران غزالی کا بھی ایک ایسی تصویر کے ساتھ کہنا ہے کہ بارش سے کم از کم ’پودے اور درخت خوش‘ ضرور ہو گئے ہیں۔ ٹوئٹر صارف سیدہ یشما امتیاز نے بھی ایک تصویر پوسٹ کی جس میں شہر کی ایک سڑک پر ٹریفک کا اژدھام دکھائی دے رہا ہے۔ پاکستانی محکمہ موسمیات کے مطابق اگلے چوبیس گھنٹوں تک بارشوں کا یہ سلسلہ جاری رہے گا اور پاکستانی کے جنوبی حصوں میں شدید بارشوں کا امکان موجود ہے۔ محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر عبدالرشید نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ ہوا کے کم دباؤ کا ایک نظام بھارتی علاقے راجستھان کی جانب سے صوبہ سندھ کی طرف بڑھ رہا ہے، جس کی وجہ سے صوبہ سندھ کے متعدد دیہی اضلاع میں اگلے تین روز تک بارشوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔ محکمہء موسمیات کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملک بھر میں مزید بارشیوں کے امکانات ہیں اور اسی شدت کے دو اور برساتی سلسلے اگلے چند روز میں ملک کے متعدد مقامات کو جل تھل کر دیں گے۔

پاکستانی کے جنوبی شہر اور اقتصادی مرکز کراچی اور صوبہ سندھ کے متعدد دیگر علاقوں میں جمعے سے جاری شدید بارشوں کے باعث کم از کم 21 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ مقامی میڈیا کے مطابق جنوبی صوبے سندھ میں شدید بارشوں کا آغاز جمعے کی شام ہوا، جو بغیر کسی وقفے کے ہفتے کی دوپہر تک جاری رہیں۔ ان ... Read More »

پاکستان: جمہوری حکومت کے خلاف نئی احتجاجی لہر

پاکستان میں مسلم لیگ نواز کی حکومت کے خلاف نئی احتجاجی مہم کا آغاز ہو گیا ہے۔ یہ احتجاجی تحریک پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کی طرف سے چلائی جا رہی ہے۔ اس حوالے سے ایک جانب تو آج پاکستان تحریک انصاف نے پانامہ لیکس کے حوالے سے تحریک احتساب کے نام سے احتجاجی مہم شروع کر دی ہے تو دوسری طرف پاکستان عوامی تحریک نے سانحہ ماڈل ٹاون میں 14 افراد کی ہلاکت کے خلاف تحریک قصاص کا آغازکر دیا ہے۔ تحریک احتساب کے تحت اتوار کے روز پشاور سے اسلام آباد تک ایک بڑی احتجاجی ریلی نکالی گئی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اس ریلی کی قیادت کر رہے ہیں۔ اس ریلی میں صوبے کے مختلف حصوں سے آئے ہوئے پی ٹی آئی کے کارکن بڑی تعداد میں شریک ہیں۔ پشاور سے اٹک تک ریلی کے راستے (جی ٹی روڈ) کو احتجاجی بینروں اور پی ٹی آئی کے پرچموں سے سجایا گیا ہے۔ پی ٹی آئی کے خیر آباد میں ایک بڑا جلسہ کرنے کی اطلاعات بھی ہیں۔ ریلی کے آغاز پر تقریر کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ ملک کے ادارے کرپشن کی وجہ سے تباہ ہو رہے ہیں، نواز شریف اپنے آپ کو قانون سے بالا تر سمجھتے ہیں۔نیب نواز شریف اور اسحق ڈار کو بچا رہا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا نیب صرف پٹواریوں کو پکڑنے کے لیئے ہے۔ انہوں نے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ،’’پاکستانیو ، میں آپ کی جنگ لڑ رہا ہوں ، آپ کا پیسہ لوٹ کر باہر لے جایا گیا ہے، آپ کو اپنے قومی وسائل کو بچانے کے لیئے اس جدوجہد میں شریک ہونا ہوگا۔‘‘ عمران خان نے مزیدکہا کہ موجودہ احتجاج تو محض ایک ٹریلر ہے اصل میچ تو ابھی شروع ہونے والا ہے۔ اٰدھرگذشتہ روز پاکستان عوامی تحریک کی طرف سے لاہور کراچی، اسلام آباد، فیصل آباد اور گوجرانوالہ میں احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں اور احتجاجی دھرنے دیے گئے۔ اس سلسلے میں سب سے بڑا احتجاجی مظاہرہ لاہور کے مال روڈ پر ہوا۔ اس احتجاجی دھرنے میں پاکستان عوامی تحریک کے علاوہ پاکستان مسلم لیگ (ق)، پاکستان تحریک انصاف، پاکستان پیپلز پارٹی، مجلس وحدت المسلمین اور سنی اتحاد کونسل کے کارکنوں نے بھی شرکت کی۔ پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر االقادری نے لاہور ہی کے علاقے مال روڈ پر عوامی تحریک کے زیر اہتمام منعقدہ قصاص مارچ اور دھرنے سے ماڈل ٹاون سے کیے جانے والے اپنے ٹیلی فونک خطاب میں کہا کہ شہدائے ماڈل ٹاؤن کے خون کا قصاص لینے اور پانامہ لیکس کے کرپٹ کرداروں کو کیفر کردار تک پہنچانے کی تحریک کا با ضابطہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ،"اب آل شریف کے اقتدار کا خاتمہ ہو گا اور شریف خاندان کو اب بھارت کے سوا کوئی پناہ نہیں دے گا۔‘‘ تحریک قصاص مارچ کا آغاز جی پی او چوک سے ہوا جو مسجد شہداء سے ہوتا ہوا چیئرنگ کراس پر اختتام پذیر ہوا جہاں پر عوامی تحریک کے کارکنان نے متحدہ اپوزیشن کے ہمراہ دھرنا دیا ۔ڈاکٹر طاہر القادری نے دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قوم کو فیصلہ کرنا ہو گا انہیں ریاست پاکستان چاہیے یا سلطنت شریفیہ۔ ان کے مطابق پاکستان کی بیوروکریسی کی نج کاری ہو چکی ،نیب ،ایف بی آر،پولیس اور دیگر ادارے آل شریف کی ذاتی ملکیت اور جاگیر بن چکے ،انہوں نے کہاکہ میں دکھی دل سے کہہ رہا ہوں اس نظام میں آئین و قانون کا چیک اینڈ بیلنس ختم ہو گیا،انصاف نام کی کوئی چیز نہیں بچی ۔حکمران کاروبار کیلئے اقتدار میں ہیں ۔ نہ یہ ملک کے وفادار ہیں اور نہ انہیں ملکی سلامتی سے کوئی غرض ہے ۔ڈاکٹر قادری کا یہ بھی کہنا تھا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کا قصاص صرف عوامی تحریک کا مطالبہ نہیں ہے ،اب اس مطالبے میں تمام اپوزیشن جماعتیں اور عوامی حلقے بھی شامل ہو چکے ہیں۔ ادھر اسلام آباد میں تحریک قصاص کے شرکا نے آب پارہ چوک پر دھرنا دیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ 14 اگست کے بعد ملک کی تمام اپوزیشن پارٹیاں اس حکمت عملی کے خلاف متحد نظر آئیں گی۔ گوجرانوالہ میں ماڈل ٹاون سے ریلی نکالی گئی اور سیالکوٹی دروازے پر دھرنا دیا گیا جس سے شہر کی ٹریفک کافی دیر جام رہی۔ فیصل آباد میں عوامی تحریک کے کارکنوں نے ریلوے اسٹیشن سے گھنٹہ گھر چوک تک احتجاجی مارچ کیا جبکہ کراچی میں احتجاجی کارکن نمائش چورنگی سے تبت سنٹر اور ایم اے جناح روڈ تک گئے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ تحریک قصاص کے پہلے مرحلے میں پاکستان عوامی تحریک متحدہ اپوزیشن کے ساتھ ملکر سولہ، بیس اور ستائیس اگست کو ملک کے بڑے شہروں میں احتجاجی مظاہرے کرنے جا رہی ہے، اس مرحلے کے اختتام پر 30 اگست کو اسلام آباد میں ایک بڑے احتجاجی مظاہرے کی کال دی گئی ہے۔ دوسری طرف مسلم لیگ نون نے بھی حزب اختلاف کے احتجاج سے نمٹنے کے لیئے حکمت عملی ترتیب دے لی ہے۔ مسلم لیگ نون کی طرف سے نواز شریف کی حمایت میں نواز شریف زندہ باد ریلیاں نکالی جا رہی ہیں، ہفتے کے روز ملتان میں نکالی گئی ایک ایسی ہی ریلی میں عمران خان اور ڈاکٹر طاہرالقادری کے پتلے بھی نذر آتش کیئے گئے۔ اتوار کے روز پشاورشہر میں پاکستان مسلم لیگ نون کی طرف سے بھی حکومت کی حمایت میں ایک بڑے جلسے کا اہتمام کیا گیا۔ ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے سینیئر تجزیہ کار سجاد میر نے بتایا کہ یہ ماننا بڑا مشکل ہے کہ طاہرالقادری یہ احتجاجی مہم اپنی مرضی سے یا نیک مقاصد کے تحت چلا رہے ہیں، دوسری طرف ان کے بقول عمران خان کے بارے میں بھی یہ تاثر ماجود ہے کہ ان کی احتجاجی تحریک کے پیچھے نادیدہ نہیں بلکہ دیدہ ہاتھ موجود ہیں، ان کے بعض اپنے بیانات (جیسے ایمپائر کی انگلی کے کھڑے ہو جانے کی بات) بھی صورت حال کو مشکوک بنا دیتے ہیں۔ سجاد میر کے بقول اپوزیشن کی تقریر نواز حکومت کی ساکھ کو بری طرح متاثر کر رہی ہے، اس کا فائدہ اپوزیشن کو اگلے انتخابات میں ہو سکتا ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ پانامہ لیکس کے معاملے پر حکومت بیک فٹ پر آ گئی ہے، لیکن اس کے باوجود احتجاجی تحریک کے نتیجے میں اس حکومت کے خاتمے کا فی الحال کوئی امکان نہیں ہے۔ ڈی ڈبلیو سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے خیبر پختون خواہ کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر شوکت یوسف زئی نے اس تاثر کی تردید کی کہ پاکستان تحریک انصاف کی احتجاجی تحریک کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ یا کسی اور طاقتور حلقے کا ہاتھ ہے۔ " ہمارے پیچھے صرف اللہ کی مدد اور عوام کا ساتھ ہے، اور کرپٹ حکومت کے خلاف جدوجہد کرنا ہمارا جمہوری حق ہے اور ہم اپنی جدوجہد کو منطقی انجام تک پہنچا کر رہیں گے۔‘‘

پاکستان میں مسلم لیگ نواز کی حکومت کے خلاف نئی احتجاجی مہم کا آغاز ہو گیا ہے۔ یہ احتجاجی تحریک پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کی طرف سے چلائی جا رہی ہے۔ اس حوالے سے ایک جانب تو آج پاکستان تحریک انصاف نے پانامہ لیکس کے حوالے سے تحریک احتساب کے نام سے احتجاجی مہم شروع کر دی ... Read More »

چیف جسٹس سندھ کے بیٹے اویس شاہ کی بازیابی

پاکستان میں سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے بیٹے کو بازیاب کرا لیا گیا ہے۔ اویس علی شاہ کو گزشتہ ماہ کراچی سے اغوا کیا گیا تھا۔ پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باوجوہ کے نے آج منگل کو بتایا کہ اویس علی شاہ کو آزاد کرانے کی یہ کارروائی ڈیرہ اسماعیل خان کے قریب واقع ٹانک نامی ایک گاؤں میں کی گئی۔ اس کارروائی میں تین اغوا کار ہلاک بھی ہوئے۔ ان کے بقول منگل کو علی الصبح فوجی جوانوں نے اس وقت اغوا کاروں پر دھاوا بولا جب وہ اویس کو ایک کار میں بٹھا کر کسی دوسرے مقام منتقل کرنا چاہتے تھے۔ فوجی ترجمان کے مطابق اویس بالکل خیریت سے ہیں اور انہیں ایک طیارے کے ذریعے کراچی پہنچا دیا گیا ہے۔ پاکستان کے مقامی ذرائع ابلاغ نے اویس کے گھر پہنچنے کی تصاویر بھی نشر کی ہیں۔ چیف جسٹس سندھ سجاد علی شاہ نے اپنے بیٹے کی رہائی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے بازیابی کی اس کارروائی کو سراہا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اس علاقے میں اس طرح اغوا کی کارروائیاں اکثر ہوتی رہتی ہیں۔ چیف جسٹس کے بیٹے اویس علی شاہ کو گزشتہ ماہ نقاب پوش افراد نے پاکستانی کے ساحلی شہر کراچی سے اغوا کیا تھا۔ انہیں ایک سُپر مارکیٹ کے باہر سے اغوا کیا گیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اغوا کار مسلسل ان کا پیچھا کر رہے تھے۔ عینی شاہدین کے مطابق اویس علی نے مزاحمت کی تھی لیکن نقاب پوش افراد نے جلد ہی ان پر قابو پا لیا اور انہیں ایک سفید رنگ کی گاڑی میں ڈالنے میں کامیاب رہے۔ بیس ملین نفوس پر مشتمل شہر کراچی ایک عرصے سے مذہبی، نسلی اور سیاسی تشدد کا سامنا کرتا آ رہا ہے لیکن ستمبر دو ہزار تیرہ سے جاری پیرا ملٹری آپریشن کے بعد سے اس شہر میں ہونے والے جرائم کی تعداد میں کچھ کمی واقع ہوئی ہے۔

پاکستان میں سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے بیٹے کو بازیاب کرا لیا گیا ہے۔ اویس علی شاہ کو گزشتہ ماہ کراچی سے اغوا کیا گیا تھا۔ پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باوجوہ کے نے آج منگل کو بتایا کہ اویس علی شاہ کو آزاد کرانے کی یہ کارروائی ڈیرہ اسماعیل خان کے قریب واقع ٹانک ... Read More »

آرمی پبلک اسکول پر حملے کا ماسٹر مائنڈ ڈرون اٹیک میں ہلاک

افغانستان میں دہشت گرد گیدڑ گروپ کا سربراہ ایک امریکی ڈرون حملے میں مارا گیا ہے۔ ہلاک ہونے والا عمر نارے ہے۔ نارے کی ہلاکت بارے معلومات پاکستانی خفیہ ذرائع نے نیوز ایجنسی کو بتائی ہے۔ آرمی پبلک اسکول پشار کے حملے میں 150 ہلاکتیں ہوئی تھیں جن میں سے زیادہ تر اسکول کے بچے تھے۔ ایک انٹیلیجنس اہلکار نے ڈی پی اے کو بتایا کہ خلیفہ عمر منصور کے نام سے جانا جانے والا عمر نارے اپنے تین دیگر ساتھیوں سمیت ہفتے کے روز صوبہ ننگرہار میں ہونے والے ایک ڈرون حملے میں ہلاک ہوا۔ ننگرہار صوبے کی سرحد پاکستان سے ملتی ہے۔ اسی باعث یہاں کے افغانیوں کے سرحد پار پاکستانیوں کے ساتھ گہرے روابط اور تعلقات ہیں۔ کابل میں موجود امریکی حکام نے اس ڈرون حملے کی تصدیق کی ہے۔ امریکی فوج کی کیپٹن اندریا ڈائکس نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ درست ہے کہ ہفتے کے روز افغان صوبے ننگرہار میں ایک ڈرون حملہ کیا گیا تھا لیکن اُس حملے کے حوالے سے تفصیلات عام کی اجازت نہیں دی گئی۔ پاکستانی خفیہ اداروں کے اہلکارں نے بتایا ہے کہ ڈرون حملے کا نشانہ یقینی طور پر پاکستانی عسکریت پسندوں کا ایک ٹھکانہ تھا۔ پاکستانی طالبان کے ایک کمانڈر نے اپنی شناخت مخفی رکھتے ہوئے نیوز ایجنسی ڈی پی اے کو بتایا کہ وہ کسی ڈرون حملے یا اُس میں ہلاک ہونے والے کمانڈر یا عمر نارے کے مارے جانے کی رپورٹوں پر کسی قسم کا تبصرہ نہیں کر سکتا۔ اسی کمانڈر نے یہ ضرور کہا کہ حتمی معلومات دستیاب ہونے پر اِس رپورٹ کی تردید یا تصدیق کا بیان جاری کیا جائے گا۔ خفیہ ذرائع کے مطابق عمر نارے طالبان کے ایک دھڑے کی ذیلی شاخ کا سربراہ تھا۔ اُس کے گروپ کو گیدڑ گروپ کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ اسی گروپ کی جانب سے خیبرپختونخوا کے شہر چارسدہ کی باچا خان یونیورسٹی پر حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا بیان نارے نے جاری کیا تھا۔ باچا خان یونیورسٹی میں 21 جانیں ضائع ہوئی تھیں۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق عسکریت پسندوں کا گیدڑ گروپ پشاور اور اُس کے گردونواح میں سرگرم رہ چکا ہے۔ امکان ہے کہ عمر نارے کی ہلاکت کی تصدیق ہونے پر گیدڑ گروپ کی سرگرمیوں کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔ عمر نارے کا پورا نام خلیفہ عمر منصور بتایا جاتا ہے لیکن وہ منصور نارے کی عرفیت رکھتا ہے۔ نارے کی وجہ اُس کا دھان پان اور لمبا تڑنگا جسم بتایا گیا ہے۔ وہ تقریباً 37 برس کے لگ بھگ ہے۔ اُس کی ایک بڑی شناخت اُس کے چہرے پر غیرمعمولی لمبی داڑھی بتائی جاتی ہے۔ اُس نے بچپن کے کچھ برس پاکستانی دارالکومت اسلام آباد میں بسر کرتے ہوئے تھوڑی بہت تعلیم بھی حاصل کی تھی۔ اُس نے کراچی میں اپنے دوسرے بھائیوں کے ہمراہ محنت مزدوری بھی کی۔

افغانستان میں دہشت گرد گیدڑ گروپ کا سربراہ ایک امریکی ڈرون حملے میں مارا گیا ہے۔ ہلاک ہونے والا عمر نارے ہے۔ نارے کی ہلاکت بارے معلومات پاکستانی خفیہ ذرائع نے نیوز ایجنسی کو بتائی ہے۔ آرمی پبلک اسکول پشار کے حملے میں 150 ہلاکتیں ہوئی تھیں جن میں سے زیادہ تر اسکول کے بچے تھے۔ ایک انٹیلیجنس اہلکار نے ... Read More »

’ایدھی: ناکامی کی شکار ریاست اور ایک مسیحا‘

جہاں پاکستان کی ریاست اور حکومتیں عوام کی جانب اپنی ذمے داریاں پوری کرنے میں ناکام ہوئیں، وہاں فلاحی کارکن عبدالستار ایدھی نے چھ دہائیوں تک لوگوں کی خدمت کر کے اس خلا کو پُر کیا۔ ڈی ڈبلیو کی کشور مصطفیٰ کا تبصرہ۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں شہری اور عسکری بیوروکریسی انتہائی وسیع ہے۔ ملک میں بے شمار سرکاری شعبے ہیں، وزارتیں ہیں اور لاتعداد وزیر بھی ہیں۔ پاکستان کے سن انیس سو سینتالیس میں انگریز حکم رانوں سے آزادی کے باوجود اب تک ریاست اپنے شہریوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے سے قاصر رہی ہے۔ 'پاکستان کے مدر ٹیریسا‘ کہلائے جانے والے عبدالستار ایدھی نہ سیاست دان تھے اور نہ ہی امیر بزنس مین، مگر عوامی فلاح و بہبود کے لیے ان کی لگن اور ان تھک محنت نے پاکستان کے غریب افراد کو وہ کچھ دیا جو ریاست نہ دے سکی۔ جب ایدھی کو یہ اندازہ ہوا کہ ریاست اپنی ذمے داریاں پوری نہیں کر رہی تو انہوں نے اپنے طور پر عوام کی فلاح کا بیڑا اٹھا لیا اور ایدھی فاؤنڈیشن کو قائم کیا۔ ابتدا میں یہ صرف لوگوں کو عارضی مدد فراہم کرنے والا ادارہ تھا، تاہم جب پاکستان میں انیس سو اسی اور انیسی سو نوے کی دہائیوں میں سکیورٹی کی حالت ابتر ہوتی گئی تو ایدھی نے اپنے مشن کو وسیع کرتے ہوئے دہشت گردی کا نشانہ بننے والے افراد کی بھی مدد کرنا شروع کی۔ ایدھی ایک بہت مشکل کام حکومت کی کسی بھی مدد کے بغیر کر رہے تھے۔ اور انہوں نے یہ کام اس قدر عاجزی اور سنجیدگی کے ساتھ کیا کہ پاکستان کے عوام نے اس کی مثال اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ انہوں نے اپنی زندگی سادگی سے گزاری اور اپنی زندگی میں ہی ان کو ایک ’درویش‘ کا درجہ حاصل ہو گیا۔ آج ایدھی فاؤنڈیشن کے پاس جنوبی ایشیا میں ایمبولینسوں کا سب سے بڑا نیٹ ورک ہے۔ وہ ’عوامی باورچی خانے‘ بھی چلاتی ہے جہاں سے ہر روز ہزاروں بھوکے افراد کو کھانا ملتا ہے۔ ایدھی کا فلاحی ادارہ ’دارالاطفال‘ بھی چلاتا ہے، جہاں وہ بچے لائے جاتے ہیں جن کا کوئی کفیل نہیں ہوتا۔ اسی طرح ایدھی فاؤنڈیشن گھریلو تشدد کا شکار خواتین کے لیے درالامان بھی چلاتی ہے۔ عبدالستار ایدھی کی زندگی، ان کی جدوجہد اور ان کا فلسفہء حیات ان لوگوں کو متاثر کرتا رہے گا جو انسانیت کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔ ان کی وراثت ثابت کرتی ہے کہ انسانیت کسی بھی قومی، لسانی اور مذہبی وابستگی سے بالاتر ہے۔ لاکھوں کی تعداد میں غریب افراد ایدھی صاحب کے بنائے ان اداروں سے مستفید ہوتے رہیں گے۔ اس عظیم فلاحی کارکن کو نو جولائی کو پاکستانی ریاست کی جانب سے پورے اعزازات کے ساتھ دفنا دیا گیا۔ فوجی اور سویلین قیادت نے ایدھی کی سماج کے لیے خدمات پر انہیں سیلوٹ بھی پیش کیا۔ تاہم ایدھی کو کسی ریاستی اعزاز کی ضرورت نہیں تھی۔ ان کی جدوجہد اس بات کو ظاہر کرتی تھی کہ ریاستی رہنما اپنی ذمے داری پوری نہیں کر رہے تھے۔ جو محبت اور عزت انہیں پاکستان کے عوام سے ملی وہی ان کے لیے سب سے بڑا اعزاز تھا۔

جہاں پاکستان کی ریاست اور حکومتیں عوام کی جانب اپنی ذمے داریاں پوری کرنے میں ناکام ہوئیں، وہاں فلاحی کارکن عبدالستار ایدھی نے چھ دہائیوں تک لوگوں کی خدمت کر کے اس خلا کو پُر کیا۔ ڈی ڈبلیو کی کشور مصطفیٰ کا تبصرہ۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں شہری اور عسکری بیوروکریسی انتہائی وسیع ہے۔ ملک میں بے شمار ... Read More »

نواز شریف کی ’بدلے ہوئے پاکستان‘ میں واپسی

پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف دل کے آپریشن کے تقریباﹰ ڈیڑھ مہینے بعد وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔ مگر بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ وہ جس پاکستان میں واپس آئے ہیں وہ اس پاکستان سے بہت مختلف ہے جسے وہ چھوڑ کر گئے تھے۔ تجزیہ نگاروں کے بقول دیکھنا یہ ہے کہ صحت کی موجودہ صورتحال میں وزیراعظم نواز شریف نئے چیلنجز کا سامنا کیسے کرتے ہیں۔ دفاعی تجزیہ نگار بریگیڈیئر(ر) فاروق حمید کے مطابق نواز شریف جس پاکستان میں لوٹ کر آئے ہیں اس ملک کے الیکشن کمیشن کے سامنے وزیر اعظم کے خلاف تین ریفرنسز دائر ہو چکے ہیں، سانحہ ماڈل ٹاؤن کے حوالے سے قصاص کے مطالبے شدت اختیار کر چکے ہیں، پانامہ لیکس کے معاملے پر عمران خان حزب اختلاف کی کئی جماعتوں کو اپنے ساتھ ملا نے میں کامیاب ہو چکے ہیں اور حکومت مخالف احتجاجی تحریک کی تیاریاں عروج پر ہیں۔ فاروق حمید کے مطابق کراچی کی صورتحال ایک مرتبہ پھر خراب ہوتی دکھائی دے رہی ہے، کرپشن کے خلاف مؤثر کارروائی نہ ہوسکنے، آپریشن ضرب عضب میں مطلوبہ حکومتی تعاون نہ مل سکنے اور پاک بھارت حکومتی پالیسی کی وجہ سے سول ملٹری تعلقات میں پائے جانے والا تناؤ بھی ایک نئے چیلنج کی صورت میں نواز شریف کے سامنے ہے: ’’اقتصادی راہداری کے منصوبے کو درپیش چیلجز اس کے علاوہ ہیں۔ اس صورتحال میں بظاہر ہشاش بشاش اور تندرست نظر آنے والے وزیراعظم نواز شریف کو فالو اپ وزٹ کے لیے دوبارہ برطانیہ بھی جانا پڑ سکتا ہے۔ کیا نواز شریف ان حالات میں پہلے کی طرح معمول کے مطابق سرگرمی کے ساتھ کاروبار مملکت چلا سکیں گے؟یہ ایک اہم سوال ہے۔‘‘ پاکستان مسلم لیگ نون کی رکن صوبائی اسمبلی حنا پرویز بٹ ان لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے نواز شریف سے حال ہی میں ملاقات کی۔ ان کا کہنا ہے کہ نواز شریف مکمل طور پر روبصحت ہیں اور وہ امور مملکت چلانے کے لیے عنقریب اپنی معمول کی مصروفیات شروع کر دیں گے۔ ادھر لاہور کے علامہ اقبال ایئر پورٹ پر اترنے کے بعد وزیر اعظم نواز شریف ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعے اپنے گھر جاتی عمرہ چلے گئے۔ انہوں نے یا ان کے ساتھیوں نے میڈیا کا سامنا کرنے سے گریز کیا۔ اپنی مرضی سے بلائے گئے چند ایک منتخب صحافیوں کے ساتھ مختصر بات چیت میں ان کا کہنا تھا کہ وہ فرائض کی انجام دہی کے لیے مکمل طور پر فٹ ہیں اور ان کے بقول وہ قوم کی خدمت کرتے رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا، ’’دھرنا مسائل کا حل نہیں، ملک ترقی کر رہا ہے، اپوزیشن بھی عوام کی خدمت کرے اور ہمارا ساتھ دے۔‘‘ آج اتوار 10 جولائی کی صبح چند ارکان پارلیمنٹ پھولوں کے گلدستے لے کر وزیراعظم سے ملنے جاتی عمرہ پہنچے تھے۔ ان ارکان پارلیمنٹ کو کولڈ ڈرنکس سے تواضع اور پھولوں کے شکریے کے ساتھ ، یہ اطلاع دے کر واپس بھجوا دیا گیا کہ وزیر اعظم چند دن بعد سب سے ملاقاتیں کریں گے۔ وزیر اعظم نے اپنے قریبی رفقا سے ٹیلی فون پر بات چیت کرتے ہوئے تازہ حالات کے بارے میں بریفنگ بھی لی۔ ادھر مسلم لیگ نون کے کارکنوں نے نواز شریف کی ہدایت پر ان کی صحت یابی کی خوشی میں منائے جانے والے یوم تشکر کی تقریبات کو عبدالستار ایدھی کے لیے یوم دعا میں تبدیل کر دیا۔ اس حوالے سے ہونے والی تقریبات میں ایدھی صاحب کیے لیے دعائے مغفرت کے ساتھ ساتھ نواز شریف کی صحت یابی پر شکرانے کے نوافل بھی پڑھے گئے۔ پاکستان عوامی لیگ کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے آج اتوار کے روز ایک مرتبہ پھر کہا کہ ماڈل ٹاون کے سانحے میں 14 بے گناہ انسانوں کی جان لینے والے حکمرانوں کو معاف نہیں کیا جائے گا اور ان سے قصاص (خون کے بدلے خون) لیا جائے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت کا خاتمہ عنقریب ہونے والا ہے۔ پاکستان کے ممتاز صحافی اور سینیئر کالم نگار ارشاد احمد عارف نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ یہ بات درست ہے کہ اس وقت سیاسی درجہ حرارت بہت بلند ہے اور نواز شریف کو بہت سنگین چیلنجز کا سامنا ہے لیکن ان کے بقول ان کی صحت کا مسئلہ ان کے کام میں اس لیے زیادہ رکاوٹ کا باعث نہیں بنے گا کیونکہ وزیر اعظم پہلے ہی کچن کیبنٹ اور چند جونیئر بیوروکریٹس کے ساتھ ہی حکومت کرنے کے عادی ہیں، اسی طرح وہ اب بھی کام چلاتے رہیں گے۔ ارشاد عارف نہیں سمجھتے کہ وزیر اعظم کی سوچ میں اس علالت کے بعد کوئی بڑی تبدیلی رونما ہوئی ہو گی۔ ایک سوال کے جواب میں ارشاد عارف کا کہنا تھا، ’’ڈاکٹر طاہرالقادری اگرچہ بات درست کر رہے ہیں لیکن پچھلے دھرنے کے بعد ملک سے چلے جانے سے ان کی کریڈبیلیٹی بہت متاثر ہوئی تھی، انہوں نے اپنی ساکھ کی بہتری کے لیے بھی کوئی خاص کوششیں نہیں کیں اس لیے اب عوام ان کی باتوں کو سنجیدگی سے نہیں لیتے۔‘‘

پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف دل کے آپریشن کے تقریباﹰ ڈیڑھ مہینے بعد وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔ مگر بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ وہ جس پاکستان میں واپس آئے ہیں وہ اس پاکستان سے بہت مختلف ہے جسے وہ چھوڑ کر گئے تھے۔ تجزیہ نگاروں کے بقول دیکھنا یہ ہے کہ صحت کی موجودہ صورتحال میں وزیراعظم ... Read More »

Scroll To Top