You are here: Home » قومی

Category Archives: قومی

Feed Subscription

کیا پاکستان امریکا کے ساتھ مزید تعاون کے لیے تیار ہے؟

ڈو مور پالیسی کے ساتھ اسلام آباد میں پہنچنے والے امریکی وزیرِ خارجہ ریکس ٹلرسن نے وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی اور دیگر اعلیٰ پاکستانی حکام سے ملاقات کی ہے۔ کیا پاکستان مزید تعاون کے لیے تیار ہو چکا ہے؟ پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس ملاقات میں آرمی چیف جنرل قمر باجوہ، ڈی جی آئی ایس آئی جنرل نوید مختار ، وزیرِ خارجہ خواجہ آصف ، وزیرِ داخلہ احسن اقبال اور وزیرِ دفاع خرم دستگیر بھی موجود تھے۔ اس ملاقات میں پاک امریکہ تعلقات اور خطے کی صورتِ حال پر بات چیت کی گئی۔ پاکستان میں ریکس ٹلرسن کے دیے گئے اس بیان کو انتہائی نا پسندیدگی کی نظر سے دیکھا گیا ہے، جو انہوں نے کل بروز پیرکابل میں دیا تھا۔ اس بیان میں میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ صدر ٹرمپ کے اس مطالبے کا اعادہ کریں گے، جس میں پاکستان سے کہا گیا تھا کہ وہ طالبان اور دوسرے انتہاپسند گروپوں کے خلاف اپنی سر زمین پر کارروائی کرے۔ پاکستان کی ایوان بالا کے چیئرمین میاں رضا ربانی نے اس بیان پر سخت ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے نا قابلِ قبول اور نا مناسب قرار دیا ہے۔ رضا ربانی کا کہنا تھا کہ ٹلرسن پاک امریکا تعلقات پر پاکستانی پارلیمنٹ کی قرارداد کا مطالعہ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ ٹلرسن نے کچھ مطالبات وزیرِ اعظم کو پیش کئے ہیں اور وزیر خارجہ کل ان مطالبات سے ایوان کو آگاہ کریں گے۔ سیاسی مبصرین کے خیال میں یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہورہی ہے، جب پاکستانی اندورنی طور پر غیر یقینی سیاسی صورتِ حال کے شکا ر ہے اور بیرونی طور پر اسے واشنگٹن کی طرف سے کئی الزامات کا سامنا ہے۔ کچھ دنوں پہلے سی آئی اے کے ڈائریکٹر مائیک پومپیو نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ امریکی یرغمالی خاتون، ان کے خاوند اور بچے پانچ برس تک پاکستان میں تھے جب کہ یرغمال خاتون نے کل بروز پیر کو ایک کینیڈین اخبار کو اپنے پہلے انٹرویو میں بتایا کہ ان کی یرغمالی کے آخری سال میں انہیں پاکستان میں رکھا گیا۔ اس صورتِ حال کی وجہ سے پاکستان میں خیال کیا جا رہا ہے کہ واشنگٹن اسلام آباد پر مزید دباو ڈالے گا۔ تاہم کچھ تجزیہ نگاروں کے خیال میں واشنگٹن اب ماضی کی طرح اسلام آباد پر دباو نہیں ڈال سکتا ہے۔ نیشنل یونیورسٹی فار سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اسلام آباد کے ادارہ برائے عالمی امن وسلامتی سے وابستہ ڈاکڑ بکر نجم الدین کے خیال میں پاکستان اس وقت کمزور پوزیشن میں نہیں ہے۔ اس دورے کے حوالے سے انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’امریکا پاکستان کے سامنے اپنے مطالبات رکھے گا اور ڈو مور کا بھی مطالبہ کرے گا لیکن پاکستان صرف وہی کرے گا جو اس کے قومی مفادات میں ہوگا۔ ماضی میں پاکستان صرف امریکی امداد پر انحصار کرتا تھا لیکن اب خطیر چینی سرمایہ کاری کی وجہ سے یہ انحصار کافی حد تک کم ہو سکتا ہے یا کم از کم اب پاکستان کے پاس زیادہ راستے ہیں، تو وہ امریکا کے بے جا مطالبات کو خاطر میں نہیں لائے گا۔ امریکا پاکستان پر دباو برقرار رکھے گا کیونکہ وہ خطے میں بھارت کو خوش رکھنا چاہتا ہے۔ پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں اب بھارت فیکٹر بہت اہم ہوگیا ہے۔‘‘ ’افغانستان کا مستقبل، اب بھارت کو نظر انداز کرنا مشکل‘ لیکن لاہور سے تعلق رکھنے والے تجزیہ نگار احسن رضا کے خیال میں ساری چینی سرمایہ کاری کے باوجود پاکستان کا امریکا پر انحصار برقرار رہے گا۔ ٹلرسن کے دورے کے حوالے سے انہوں نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’ملکی معاشی حالت کا جنازہ نکلا ہوا ہے۔ ہمارا کرنٹ خسارہ بڑھا ہوا ہے اور قوی امکان ہے کہ ہمیں آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑے، تو ہم امریکا کو کیسے ناراض کر سکتے ہیں؟ امریکا کا ان اداروں پر بہت اثر ورسوخ ہے۔‘‘ ان کاکہنا تھا کہ پاکستان کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں کہ وہ ڈو مور والے امریکی مطالبے کو سنے اور امریکا سے تعاون بھی کرے کیونکہ جہاں تک انتہا پسند گروپوں کے خلاف کارروائی کرنے کی بات ہے، یہ صرف امریکی مطالبہ نہیں ہے بلکہ چین بھی ایسا ہی چاہتا ہے۔ احسن رضا کا کہنا تھا کہ امریکا پر انحصار کرنے کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ بین الاقوامی معاملات میں آج بھی واشنگٹن بیجنگ سے زیادہ طاقت ور ہے،’’کل اگر پاکستان اور بھارت کا کوئی مسئلہ ہوتا ہے تو واشنگٹن ہی نئی دہلی پر اپنے اثر ورسوخ کو استعمال کر سکتا ہے۔ کارگل کے موقع پر بھی امریکا نے ہی پاکستان کو ریسکیو کیا تھا۔ چین کا تو نئی دہلی پر کوئی اثر ورسوخ نہیں ہے۔ تو ہمیں اپنے مفادات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے امریکا کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرنا چاہیے۔‘‘

ڈو مور پالیسی کے ساتھ اسلام آباد میں پہنچنے والے امریکی وزیرِ خارجہ ریکس ٹلرسن نے وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی اور دیگر اعلیٰ پاکستانی حکام سے ملاقات کی ہے۔ کیا پاکستان مزید تعاون کے لیے تیار ہو چکا ہے؟ پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس ملاقات میں آرمی چیف جنرل قمر باجوہ، ڈی جی آئی ایس آئی جنرل نوید ... Read More »

نواز، مریم اور صفدر پر فردِ جرم عائد: کیا یہ سیاسی انتقام ہے؟

شریف فیملی کے ان ارکان کے خلاف نیب کا یہ ریفرنس ان کے لندن فلیٹس کے حوالے سے دائر کیا گیا ہے۔ تینوں ملزمان نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے، ان مقدمات کا سامنا کرنا کا کہا ہے۔ فردِ جرم عائد ہونے کے بعد ن لیگ کے رہنماؤں نے ایک بار پھر اپنے خلاف مقدمات کو بے بنیاد قرار دیا ہے اور مریم نواز نے خبر دار کیا ہے کہ جو احتساب کو انتقام میں بدل رہے ہیں، ان سے قانون کے مطابق نمٹا جائے گا۔ کئی سیاسی مبصرین بھی یہ سمجھتے ہیں کہ ان مقدمات کے حوالے سے لوگوں کے ذہنوں میں سوالات ہیں۔ تجزیہ نگار کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کے خیال میں لوگ سوال کر رہے ہیں کہ کرپشن کے مقدمات تو اور لوگوں پر بھی ہیں، تو پھر ان کو کٹہرے میں کیوں نہیں لایا جارہا: ’’سابق آمر جنرل پرویز مشرف کے خلاف بھی کرپشن کے مقدمات ہیں۔ طاہر القادری اور عمران خان کو عدالتیں اشتہاری قرار دے چکی ہیں لیکن انہیں کوئی نہیں پکڑ رہا۔ یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ ایک مقبول سیاسی رہنما کے خاندان کے تقریباﹰ تمام افراد کو عدالت میں گھسیٹا جارہا ہے اور کچھ لوگ اشتہاری ہونے کے باوجود دندناتے پھر رہے ہیں۔ جس کی وہ سے لوگوں کے ذہنوں میں ان مقدمات کی شفاعیت پر سوالات جنم لے رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا بات صرف نواز اور ان کی فیملی تک نہیں رہے گی: ’’شہباز شریف کے خلاف بھی ماڈل ٹاؤن والا مقدمہ کھلنے والا ہے۔ اس کے علاوہ حمزہ شریف اور شہباز کے اور قریبی لوگوں کے گرد بھی گھیرا تنگ کیا جائے گا۔ میں یہ نہیں کہتا ہے کہ مقدمات نہ چلائے جائیں لیکن فیصلوں میں اور عدالتی کارروائی میں شفاعیت ضرور ہونی چاہیے۔‘‘ لیکن کئی سیاست دان اور سیاسی مبصرین غیر شفاعیت کے دعووں کو ن لیگ کا پراپیگنڈہ قرار دیتے ہیں۔ سابق وزیرِ مملکت برائے صنعت و پیداوار آیت اللہ درانی نے اس مسئلے پر اپنی رائے دیتے ہوئے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’سب سے پہلے تو نون لیگ کا یہ دعویٰ غلط ہے کہ ان کا خاندان پاکستان کی تاریخ میں پہلا خاندان ہے، جس پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جار ہے ہیں۔ کون سا ان پر اب تک ظلم ہوا ہے۔ ان کے بچے عدالتوں اور اداروں کا دھمکیاں دیتے پھر رہے ہیں۔ انہیں پورا پروٹوکول مل رہا ہے۔ وہ شاہی خاندان کے افراد کی طرح عدالتوں میں پیش ہو رہے ہیں۔ ظلم تو بھٹو کے خاندان کے ساتھ ہوا۔ اس کے پورے خاندان کو ختم کر دیا گیا۔‘‘ انہوں نے کہا نواز شریف کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی نہیں ہورہی: ’’کیا کسی کو اس بات میں شک ہے کہ نواز شریف نے کرپشن نہیں کی ہے۔ کیا یہ بات سچ نہیں ہے کہ انہوں نے غیر قانونی طریقوں سے مال بنایا، اقربا پروری کو فروغ دیا اورپاکستان کے تمام اداروں کو برباد کیا۔ ان کے بھائی نے بھی غیر قانونی طریقوں سے مال بنایا۔ اگر انہوں نے ایسا نہیں کیا تو شور مچانے کے بجائے ، اپنی بے گناہی ثابت کریں۔‘‘ ماضی میں نواز شریف کے قریب رہنے والے ن لیگ کے ناراض رہنما ظفر علی شاہ نے بھی اس بات کو مسترد کیا کہ نوازشریف سے کوئی سیاسی انتقام لیا جارہا ہے۔ ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’سیاسی انتقام میں پارٹی رہنماؤں کو جیلوں میں پھینکا جاتا ہے اور سیاسی بنیادوں پر ان کے خلاف مقدمات بنائے جاتے ہیں۔ یہاں تو میاں صاحب کے ذاتی کرپشن کی بات ہے۔ میرے خیال میں ان پر بنائے گئے مقدمات سو فیصد صحیح ہیں اور ان کے خلاف کوئی سیاسی انتقام نہیں لیا جا رہا۔جن طریقوں سے میاں نواز شریف، شہباز شریف اور ان کے خاندان کے بقیہ افراد نے پیسے بنائے، ان پر کئی سوالات ہیں اور یہ صرف کوئی عام آدمی نہیں کہہ رہاخودسپریم کورٹ نے کہا ہے کہ ان کے خلاف کرپشن کے مقدمات چلائے جائیں۔‘‘

شریف فیملی کے ان ارکان کے خلاف نیب کا یہ ریفرنس ان کے لندن فلیٹس کے حوالے سے دائر کیا گیا ہے۔ تینوں ملزمان نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے، ان مقدمات کا سامنا کرنا کا کہا ہے۔ فردِ جرم عائد ہونے کے بعد ن لیگ کے رہنماؤں نے ایک بار پھر اپنے خلاف مقدمات کو بے بنیاد قرار ... Read More »

کوئٹہ میں خواتین کے عملے پر مشتمل پہلا ریسٹورنٹ

حمیدہ علی ہزارہ کا تعلق کوئٹہ کی ہزارہ کمیونٹی سے ہے۔ حقوق نسواں کی علمبردار اس خاتون نے کوئٹہ شہر میں ایک ایسے ریسٹورنٹ کا آغاز کیا ہے، جس میں زیادہ تر عملہ خواتین پر مشتمل ہے۔ حمیدہ علی نے کوئٹہ سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ جہاں وہ رہتی ہیں وہاں عورتوں کا گھروں سے نکلنا عام نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا،’’ بہت سی عورتوں کو گھر وں سے باہر جانے کی اجازت نہ تھی، میں چاہتی تھی کہ عورتوں کو گھروں کی دیواروں سے باہر نکالوں اور انہیں اپنے پاؤں پر کھڑا کروں۔‘‘ حمیدہ نے تین ماہ قبل کوئٹہ کے ہزارہ ٹاؤن میں ’ہزارہ ریسٹورنٹ‘ کا آغاز کیا تھا۔ حمیدہ بتاتی ہیں کہ اس کاروبار کا آغاز کرنا ان کے لیے آسان نہ تھا۔ انہوں نے بتایا،’’ میں کافی عرصے سے پیسے جمع کر رہی تھی۔ مجھے دھمکیاں بھی دی گئیں۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ اس کام کے بجائے عورتوں کے لیے چندہ جمع کر لیتی۔ کچھ نے کہا کہ کسی مسجد یا امام بارگاہ میں بیٹھ جاتی۔کچھ نے کہا کہ عورت کا کاؤنٹر پر بیٹھنا ’بے غیرتی‘ ہے۔‘‘ حمیدہ کہتی ہیں کہ انہوں نے ہمت نہ ہاری اور اس منصوبے کو پایہء تکمیل تک پہنچایا۔ ہزارہ ریسٹورنٹ میں کل سات خواتین کام کر رہی ہیں، جو کھانا پکاتی بھی ہیں اور گاہکوں کو کھانا پیش بھی کرتی ہیں۔ حمیدہ نے بتایا کہ انہوں نے اشیائے خورد ونوش خریدنے کے لیے دو مردوں کو ملازمت دی ہوئی ہے۔ کیا عورتیں ان کے ساتھ کام کرنے پر آسانی سے تیار ہو گئی تھیں ؟ اس سوال جواب دیتے ہوئے حمیدہ نے کہا، ’’عورتوں کو سہارا چاہیے تھا۔ اب یہ خواتین گھر سے باہر نکل کر کام کر رہی ہیں۔ جو گاہک کھانا کھانے آتے ہیں، وہ حیران ہوتے ہیں اور انہیں یقین نہیں آتا کہ اس جگہ صرف خواتین نہیں بلکہ مرد بھی کھانا کھانے آسکتے ہیں۔‘‘ حمیدہ نے بتایا کہ یہاں خانسامہ خواتین مختلف طرح کے کھانے پکاتی ہیں۔ اس ریسٹورنٹ کی سب سے زیادہ پسند کی جانی والی ڈش ہزارہ کمیونٹی کی روایتی ڈش ’آعش‘ ہے۔ اس کھانے میں آٹے کے نوڈلز کے ساتھ دالیں، لوبیا، پالک اور دہی ڈالا جاتا ہے۔ یہ ہزارہ کی ایک ایسی خاص ڈش ہے، جسے بہت سے لوگ پسند کرتے ہیں۔ حمیدہ بتاتی ہیں کہ کچھ ایسے واقعات پیش آئے جب لوگوں نے یہاں کام کرنے والی خواتین کی بہت حوصلہ افزائی کی اور کھانا پیش کرنے والی خواتین کو زیادہ ٹپ بھی دی۔ لیکن ان خواتین کو مشکل حالات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حمیدہ نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’کھانا پیش کرنے والی خواتین کو تلخ جملے بھی سننے کو ملے ہیں۔ کچھ گاہکوں نے کہا کہ تم عورتوں کے گھروں کے مرد ’بے غیرت‘ ہیں جنہوں نے اپنے گھروں کی عورتوں کو گھر سے باہر بھیجا ہے۔‘‘ ہزارہ ریسٹورنٹ میں خواتین گاہک بھی بہت شوق سے آتی ہیں۔ حمیدہ نے ڈی ڈبلیو کو بتایا،’’بہت سی عورتیں جو شام میں خریداری کرنے بازار آتی ہیں وہ اکثر ہمارے ریسٹورنٹ میں آجاتی ہیں۔ اسی طرح طالبات بھی اپنی سہیلیوں کے ساتھ یہاں دیر تک بیٹھنا پسند کرتی ہیں۔‘‘ حمیدہ کوئٹہ میں ’حرمت نسواں فاؤنڈیشن‘ بھی چلاتی ہیں اور عورتوں کی کھیلوں میں شمولیت، تعلیم اور صحت کے حوالے سے کام بھی کرتی ہیں۔ حمیدہ نے ڈی ڈبلیو سے اپنی جدوجہد کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’جب تک آپ خود قدم نہیں بڑھائیں گی تو کوئی آپ کا ساتھ نہیں دے گا۔‘‘ حمیدہ کہتی ہیں کہ آپ کے لیے مسائل پیدا کیے جائیں گے لیکن، ’’ اگر ہم پر عزم رہیں، تو سب کچھ حاصل کرنا ممکن ہے۔‘‘

حمیدہ علی ہزارہ کا تعلق کوئٹہ کی ہزارہ کمیونٹی سے ہے۔ حقوق نسواں کی علمبردار اس خاتون نے کوئٹہ شہر میں ایک ایسے ریسٹورنٹ کا آغاز کیا ہے، جس میں زیادہ تر عملہ خواتین پر مشتمل ہے۔ حمیدہ علی نے کوئٹہ سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ جہاں وہ رہتی ہیں وہاں عورتوں کا ... Read More »

نواز شریف ایک مرتبہ پھر مسلم لیگ نون کے صدر منتخب

کرپشن اسکینڈل اور سپریم کورٹ کی طرف سے برطرفی کے بعد نواز شریف کو پاکستان کی حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ نون کا دوبارہ سربراہ منتخب کر لیا گیا ہے۔ اس کے لیے گزشتہ روز پارلیمان نے ایک خصوصی بل منظور کیا تھا۔ پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف کو ایک مرتبہ پھر آئندہ چار برس کے لیے مسلم لیگ نون کا صدر بلا مقابلہ منتخب کر لیا گیا ہے۔ مسلم لیگ نون کی جنرل کونسل کے اجلاس میں آج اس کی توثیق بھی کر دی گئی ہے۔ منگل کے روز ان کو ایک ایسے وقت میں دوبارہ صدر منتخب کیا گیا ہے، جب ایک روز پہلے ہی پارلیمان نے ایک نیا بل منظور کیا تھا۔ اس بل کے مطابق عدالتوں سے نا اہل قرار دیے جانے والے افراد پارٹی عہدہ رکھنے کے اہل ہو گئے ہیں۔ اس سے پہلے قانون یہ تھا کہ جب عدالت کسی شخص کو نااہل قرار دے دیتی ہے تو اس کے پاس کوئی پارٹی عہدہ بھی نہیں رہتا۔ پاکستان کی سپریم کورٹ نے جولائی میں کرپشن اسکینڈل میں نواز شریف کو نااہل قرار دے دیا تھا، جس کے بعد ان کے پاس پارٹی کی صدارت بھی نہیں رہی تھی۔ کہیں یہ بھی ن لیگ توڑنے کی کوشش تو نہیں؟ دوسری جانب پاکستان کی اپوزیشن جماعتوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس بِل کو عدالت میں چیلنج کریں گی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ بل صرف نواز شریف کو پارٹی کا دوبارہ صدر بنانے کے لیے منظور کیا گیا ہے۔ مسلم لیگ نون کا جنرل کونسل کا اجلاس آج اسلام آباد میں ہوا۔ جب نواز شریف تقریر کرنے کے لیے آئے تو ان کا پارٹی کارکنان کی طرف سے پرجوش استقبال کیا گیا۔ نواز شریف کا اپنے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’مجھے بار بار اقتدار سے نکالنے کی کوشش کی گئی لیکن آپ مجھے پھر واپس لے آئے۔‘‘ نواز شریف کے بیٹوں کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری تقریب میں جب مسلم لیگ نون کے کارکن نعروں کے ذریعے ان سے محبت کا اظہار کر رہے تھے تو نواز شریف نے انگریزی زبان میں جواب دیتے ہوئے کہا ’آئی آلسو لو یو‘۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کی جانب سے نااہل قرار دیے جانے کے بعد کوئی پارٹی عہدہ نہیں رکھ سکتا، یہ قانون پاکستان کے سابق حکمران پرویز مشرف نے بنایا تھا اور اسے ختم کرتے ہوئے یہ آج ان کے ’منہ پر واپس مار دیا‘ گیا ہے۔

کرپشن اسکینڈل اور سپریم کورٹ کی طرف سے برطرفی کے بعد نواز شریف کو پاکستان کی حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ نون کا دوبارہ سربراہ منتخب کر لیا گیا ہے۔ اس کے لیے گزشتہ روز پارلیمان نے ایک خصوصی بل منظور کیا تھا۔ پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف کو ایک مرتبہ پھر آئندہ چار برس کے لیے مسلم لیگ ... Read More »

پاکستان کی نئی وفاقی کابینہ، فوج کے ناقدین نمایاں

پاکستان میں نئی وفاقی کابینہ کے ارکان نے اپنے عہدوں کے حلف اٹھا لیے ہیں۔ مسلم لیگ نون کی حکومت کی اس نئی ملکی وفاقی کابینہ کے ارکان میں ملک کی طاقتور فوج پر تنقید کرنے والے سیاست دانوں کو نمایاں عہدے دیے گئے ہیں۔ گزشتہ ہفتے پاکستان کی سپریم کورٹ کی جانب سے نواز شریف کو نا اہل قرار دیے جانے کے بعد پاکستان کے ایوان زیریں نے انہی کی سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے شاہد خاقان عباسی کو ملک کا نیا وزیر اعظم منتخب کر لیا تھا۔ آج چار اگست بروز جمعہ صدر ممنون حسین نے چھیالیس رکنی وفاقی کابینہ سے حلف لیا، جس کے بعد نئی وفاقی حکومت کی تشکیل کا عمل مکمل ہو گیا ہے۔ یکم اگست کو پاکستانی پارلیمان نیا وزیراعظم منتخب کرے گی پاناما سے اقامہ تک، نواز شریف کا احتساب: تبصرہ وفاقی کابینہ کی حلف برداری کی تقریب ایوان صدر میں منعقد ہوئی جسے حکومتی نشریاتی ادارے پر براہ راست نشر کیا گیا۔ جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے نے اپنی رپورٹوں ميں لکھا ہے کہ پاکستان کی نئی وفاقی کابینہ میں ملکی فوج پر تنقید کرنے والے لیگی سیاست دانوں کو اہم عہدے سونپے گئے ہیں۔ عباسی کی جانب سے ملکی فوج کی سیاست میں مداخلت کے خلاف تنقید کرنے والوں کو اپنی کابینہ میں شامل کرنا اس بات کا اشارہ ہے کہ نئی پاکستانی حکومت ملک میں سول حکومت کی بالادستی قائم کرنے کی کوشش کرے گی۔ وفاقی کابینہ میں نواز شریف کے قریبی رشتہ دار اور سابق وفاقی وزیر اسحاق ڈار کو ایک مرتبہ پھر وزارت خزانہ کا قلمدان سونپا گیا ہے۔ خواجہ آصف کو وفاقی وزیر خارجہ بنایا گیا ہے جب کہ وزارت داخلہ کا قلمدان احسن اقبال کو دیا گیا ہے۔ خواجہ سعد رفیق نئی وفاقی کابینہ میں بھی ریلوے کے وفاقی وزیر برقرار رکھے گئے ہیں۔ نواز شریف کو نا اہل قرار دیے جانے کے عدالتی فیصلے پر تنقید کا سلسلہ بھی جاری ہے اور کئی سیاسی تجزیہ کاروں کی رائے میں یہ فیصلہ یک طرفہ تھا اور اس کے پیچھے ممکنہ طور پر پاکستان کی طاقتور فوج کا ہاتھ کارفرما تھا۔ تین مرتبہ ملک کے وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہونے والے نواز شریف کی حکومت تینوں مرتبہ ہی اپنی مدت پوری کرنے میں ناکام رہی ہے۔ فوجی آمر ضیا الحق کے دور میں سیاست شروع کرنے والے نواز شریف کو اب پاکستانی سیاست میں فوج کے کردار کی مخالفت کرنے والے سیاست دانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ شاہد خاقان عباسی نے بھی وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد اپنی تقریر میں نواز شریف کا سیاسی اور معاشی ایجنڈا جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا۔

پاکستان میں نئی وفاقی کابینہ کے ارکان نے اپنے عہدوں کے حلف اٹھا لیے ہیں۔ مسلم لیگ نون کی حکومت کی اس نئی ملکی وفاقی کابینہ کے ارکان میں ملک کی طاقتور فوج پر تنقید کرنے والے سیاست دانوں کو نمایاں عہدے دیے گئے ہیں۔ گزشتہ ہفتے پاکستان کی سپریم کورٹ کی جانب سے نواز شریف کو نا اہل قرار ... Read More »

’سیاسی جماعتوں میں جنسی طور پر ہراساں کرنا ایک معمول ہے‘

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی سابقہ اہلیہ اور صحافی ریحام خان کا کہنا ہے کہ اگر سیاسی جماعتوں کو خدا کا خوف ہوتا تو ’عزت دار گھرانوں‘ کی خواتین اُن کاحصہ بنتیں۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں ریحام خان نے الزام عائد کیا کہ پاکستان تحریک انصاف، پاکستان مسلم لیگ نون اور پاکستان پیپلز پارٹی جمہوری جماعتیں نہیں ہیں۔ ریحام خان کا کہنا تھا کہ اب آمروں اور سیاست دانوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا:’’وہ خواتین، جو اِن کے جلسوں کی رونق بنتی ہیں، کیا آپ نے کبھی انہیں اسٹیج پر بیٹھے دیکھا ہے؟‘‘ پاکستان تحریک انصاف نے ریحام خان کے اس بیان کو پی ٹی آئی پر براہ راست حملہ ٹھہرایا ہے۔ ساتھ ہی اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر بھی ایک زور دار بحث چھڑ گئی ہے۔ خواتین سمیت کئی افراد کا کہنا ہے کہ ریحام خان کی جانب سے یہ بیان حقائق کے برعکس ہے۔ پی ٹی آئی کی رکن ناز بلوچ نے ریحام خان کے بیان کے حوالے سے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا:’’ریحام بی بی، پی ٹی آئی کی تمام خواتین کارکنان عزت دار ہیں اور انہیں آپ کی طرف سے کریکٹر سرٹیفیکیٹ نہیں چاہیے، ایسے بیانات دینے سے قبل سوچ لیا کریں۔‘‘ پی ٹی آئی کی ہی ایک رکن صائمہ ندیم نے لکھا:’’ہم ریحام خان سے اپنے اس بیان پر معافی مانگنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ انہوں نے پی ٹی آئی کی عزت دار خواتین پر الزمات لگائے ہیں۔‘‘ صحافی مہر تارڑ نے لکھا:’’میں پی ٹی آئی کی کئی خواتین سے مل چکی ہوں، ان خواتین کا تعلق امیر اور مڈل کلاس سے ہے اور ان میں وہ خواتین بھی ہیں، جو نوکری پیشہ ہیں۔ یہ سب پی ٹی آئی کے منشور سے پُر خلوص ہمدردی رکھتی ہیں اور بہت محنتی ہیں۔‘‘ پی ٹی آئی کی کئی خواتین کارکنان نے سوشل میڈیا پر ویڈیو پیغامات جاری کیے ہیں، جن میں وہ دعویٰ کر رہی ہیں کہ اس سیاسی جماعت میں ’عزت دار گھرانوں‘ کی خواتین شامل ہیں اور وہ بحیثیت عورت اس سیاسی جماعت میں بہت خوش اور مطمئن ہیں۔ خود ریحام خان نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا:’’پاکستانی سیاسی جماعتوں میں آزادانہ کام کرنے والے شکایتی سیل ہونے چاہییں، جہاں جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کی شکایات درج کروائی جا سکیں۔ دست درازیاں اور جنس کی بنیاد پر مراعات کھلے عام دیکھی جا سکتی ہیں۔‘‘ کچھ افراد نے ریحام خان کے حق میں بھی بات کی ہے۔ ٹوئٹر پر ایک شخص نے لکھا:’’پی ٹی آئی کی تنقید کا تن تنہا سامنا کرنا ایک بہت ہی بہادرانہ عمل ہے۔‘‘

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی سابقہ اہلیہ اور صحافی ریحام خان کا کہنا ہے کہ اگر سیاسی جماعتوں کو خدا کا خوف ہوتا تو ’عزت دار گھرانوں‘ کی خواتین اُن کاحصہ بنتیں۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں ریحام خان نے الزام عائد کیا کہ پاکستان تحریک انصاف، پاکستان مسلم لیگ نون اور پاکستان پیپلز پارٹی ... Read More »

قائد اعظم يونيورسٹی کا شعبہ فزکس ڈاکٹر عبدالسلام کے نام منسوب

پاکستانی وزير اعظم نواز شريف نے قائد اعظم يونيورسٹی کے شعبہ فزکس کو نوبل انعام يافتہ پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام کے نام سے منسوب کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ پاکستانی ذرائع ابلاغ پر جاری کردہ رپورٹوں کے مطابق وزير اعظم نواز شريف نے اس فيصلے پر عمل در آمد کے ليے وزارت تعليم کو ہدايات جاری کر دی ہيں۔ يوں دارالحکومت اسلام آباد ميں قائم قائد اعظم يونيورسٹی کے نيشنل سنٹر فار فزکس کے نام کو اب عبدالسلام فزکس سنٹر کے نام سے تبديل کيا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر عبدالسلام انتيس جنوری سن 1926 کو پاکستانی صوبہ پنجاب ميں جھنگ کے ايک قريبی گاؤں ميں پيدا ہوئے تھے۔ ان کا تعلق درميانے درجے کی آمدنی والے گھرانے سے تھا اور انہوں نے اردو ميڈيم اسکول ميں ابتدائی تعليم حاصل کی۔ چودہ برس کی ہی عمر ميں انہوں نے ميٹرک کے امتحانات ميں رياضی ميں سب سے زيادہ نمبر حاصل کيے اور سترہ برس ميں اپنا پہلا ريسرچ پيپر چھاپ ڈالا۔ ليکن اس وقت بھی کسی کو يہ علم نہ تھا کہ آگے جا کر يہی عبدالسلام فزکس ميں ’يونيفيکيشن تھيوری‘ کے ليے کافی خدمات ادا کرنے پر فزکس کے نوبل انعام کا حقدار قرار پائے گا۔ سلام سن 1960 سے لے کر سن 1974 تک حکومت پاکستان کے ليے سائنسی امور پر مشير کے حيثيت سے کام کرتے تھے۔ اس دوران انہوں نے پاکستان کے ليے کئی خدمات انجام ديں۔ وہ نہ صرف ’اسپيس اينڈ اپر ايٹماسفيئرک ريسرچ کميشن (SUPARCO) کے بانی ڈائريکٹر تھے بلکہ اس کے علاوہ انہوں نے پاکستان اٹامک انرجی کميشن ميں تھيوريٹيکل فزکس گروپ کی تشکيل ميں بھی کليدی کردار ادا کيا۔ پاکستانی پارليمان کی جانب سے احمدی مسلمانوں کو غير مسلمان قرار دينے کے حوالے سے ايک متنازعہ بل کی منظوری کے بعد ڈاکٹر عبدالسلام نے سن 1974 ميں پاکستان چھوڑ ديا تھا۔ انہيں سن 1979 ميں فزکس کے نوبل انعام سے نوازا گيا۔ وہ کسی بھی ميدان ميں نوبل انعام حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی ہيں۔ ڈاکٹر عبدالسلام کا انتقال اکيس نومبر سن 1996 کو برطانوی شہر آکسفورڈ ميں ہوا تھا۔

پاکستانی وزير اعظم نواز شريف نے قائد اعظم يونيورسٹی کے شعبہ فزکس کو نوبل انعام يافتہ پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام کے نام سے منسوب کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ پاکستانی ذرائع ابلاغ پر جاری کردہ رپورٹوں کے مطابق وزير اعظم نواز شريف نے اس فيصلے پر عمل در آمد کے ليے وزارت تعليم کو ہدايات جاری کر دی ہيں۔ ... Read More »

نئے آرمی چیف پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں لائیں گے، وزیر دفاع

پاکستان کے وزیر دفاع نے واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئے آرمی چیف پاکستانی فوج کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں لائیں گے۔ دوسری جانب بھارتی فوج کے سابق سربراہ کی جانب سے بھی پاکستانی فوج کے نئے سربراہ کی تعریف کی گئی ہے۔ پاکستان کے موجودہ آرمی چیف راحیل شریف کی تین سالہ مدت ملازمت منگل کے روز ختم ہو جائے گی اور ان کی جگہ لیفٹیننٹ جنرل قمر جاوید باجوہ لے رہے ہیں۔ نیوز ایجنسی روئٹرز کے مطابق جنرل راحیل شریف عوام میں انتہائی مقبول تھے لیکن ان کی مدت ملازمت کے دوران سویلین حکومت اور فوج کے درمیان تعلقات اکثر اوقات کشیدہ رہے ہیں۔ گزشتہ تین برسوں میں پاکستان کے بیرونی دنیا کے ساتھ بھی تعلقات متاثر ہوئے ہیں۔ امریکا اور افغانستان شکایت کرتے چلے آ رہے ہیں کہ پاکستان اپنی سرزمین پر عسکریت پسندوں کے خلاف بھرپور کارروائی سے گریزاں ہے جبکہ کشمیر کے معاملے میں بھی پاکستان نے گزشتہ تین برسوں کے دوران سخت موقف اپنایا ہے۔ عوامی سطح پر کم ہی لوگ جانتے ہیں کہ بنیادی امور کے حوالے سے پاکستانی فوج کے نئے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے نظریات کیسے ہیں؟ وہ بھارت کے ساتھ تعلقات یا مقامی سطح پر پائی جانے والی عسکریت پسندی جیسے معاملات سے کیسے نمٹیں گے؟ تاہم اب پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف نے واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ فوجی پالسیی میں فوری طور پر کوئی بھی بڑی تبدیلی نہیں لائیں گے۔ جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع کا کہنا تھا، ’’فوجی پالیسی اسی طرح جاری رہے گی، اس میں فوری طور پر کوئی تبدیلی نہیں لائی جا رہی۔‘‘ کیا جنرل قمر جاوید باجوہ راحیل شریف سے مختلف ثابت ہوں گے؟ ان کا اس حوالے سے مزید کہنا تھا، ’’جنرل راحیل کی وراثت ان کی قائم کردہ مثال کی روشنی میں جاری رہے گی۔‘‘ جنرل راحیل شریف کے دور میں مجموعی طور پر پاکستان میں سلامتی کی صورتحال بہتر ہوئی ہے لیکن وقفے وقفے سے بڑے دہشت گردانہ حملے بھی ہوتے رہے ہیں۔ اتوار کے روز امریکا نے جنرل باجوہ کی تقرری کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر انسداد دہشت گردی کی پاکستانی کوششوں کا ساتھ دیتا رہے گا۔ پاکستان میں قائم امریکی سفارت خانے سے جاری ہونے والے بیان میں بھی اسی سے ملتے جلتے خیالات کا اظہار کیا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان اور بھارت کے مابین اس وقت کشیدگی عروج پر ہے اور وزیراعظم نواز شریف اس وقت کوئی بھی بڑا قدم اٹھانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ دوسری جانب بھارت کے سابق فوجی سربراہ بکرم سنگھ نے جنرل قمر جاوید باجوہ کی تعریف کی ہے۔ وہ کانگو میں اقوام متحدہ کے امن دستوں میں شامل ہو کر جنرل باجوہ کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔ ان کا انڈیا ٹوڈے ٹیلی وژن سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’ بین الاقوامی ماحول میں ان کی کارکردگی پیشہ وارانہ اور شاندار تھی۔‘‘ تاہم جب صحافیوں نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ بھارت کے حوالے سے پالیسی تبدیل کریں گے تو بکرم سنگھ کا کہنا تھا، ’’مجھے کوئی تبدیلی نظر نہیں آتی۔‘‘

پاکستان کے وزیر دفاع نے واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئے آرمی چیف پاکستانی فوج کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں لائیں گے۔ دوسری جانب بھارتی فوج کے سابق سربراہ کی جانب سے بھی پاکستانی فوج کے نئے سربراہ کی تعریف کی گئی ہے۔ پاکستان کے موجودہ آرمی چیف راحیل شریف کی تین سالہ مدت ملازمت منگل کے روز ... Read More »

بھارت میں بڑے نوٹ ختم کرنے کا فیصلہ نقصان دہ ہو گا؟

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ وہ پراعتماد ہیں کہ بڑے نوٹوں کو ختم کرنے کی حکومتی پالیسی سے بھارت کی اقتصادی حالت بہتر ہو گی۔ کئی ناقدین کے بقول یہ قدم بھارتی معیشت کے نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کے روز کہا کہ ان کی اس نئی پالیسی کے نتیجے میں بھارت طویل المدتی بنیادوں پر اپنی معیشت کو بہتر بنانے میں کامیاب ہو جائے گا۔ اپنے ماہانہ ریڈیو خطاب میں مودی نے کہا کہ دنیا اس وقت بھارت کو دیکھ رہی ہے کہ وہ اپنی اس پالیسی کے باعث اپنی معیشت کو بہتر بنانے میں کامیاب ہو سکے گا یا نہیں۔ ’پاکستان میں ایک اور پانچ ہزار کے نوٹ منسوخ کیے جائیں‘ پانچ سو اور ایک ہزار روپے کے نوٹ ختم کرنے کا اعلان ’پاکستان میں ایک اور پانچ ہزار کے نوٹ منسوخ کیے جائیں‘ بھارت: ’سب سے تیز رفتار شرح نمو والی بڑی معیشت‘ مودی نے مزید کہا، ’’دنیا کو اس حوالے سے سوال یا شک ہو سکتے ہیں لیکن بھارت کو اپنے لوگوں پر اعتماد ہے۔ ہمارا ملک اس آگ سے سونے کی طرح چمکتا ہوا نکلے گا۔ اس کی وجہ عوام پر ہمارا اعتماد ہے۔‘‘ بھارت میں ایک ہزار اور پانچ سو روپے کے نوٹوں کو ختم کرنے کا مقصد ملک میں پائی جانے والی بدعنوانی کا خاتمے کی ایک کوشش تھا لیکن اب ایسے اشارے سامنے آ رہے ہیں کہ اس فیصلے سے ملکی اقتصادیات متاثر ہو سکتی ہے۔ بھارت میں کئی اقتصادی تجزیہ نگاروں نے کہا تھا کہ ملک میں ایک ہزار اور پانچ سو روپے کے نوٹوں کو ختم کرنے سے بدعنوانی کے خاتمے کے لیے جاری حکومتی مہم کو فائدہ ہو گا۔ تاہم اب صورتحال کچھ مختلف ہوتی نظر آ رہی ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں لکھا ہے کہ بھارت میں بڑے نوٹوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے مارکیٹ میں کیش کی کمی واقع ہو چکی ہے، جس کے باعث روزمرہ کا کاروبار متاثر ہونے لگا ہے۔ بھارت ایک ایسا ملک ہے، جہاں روزمرہ کا کاروبار نقد رقوم کے ساتھ ہی کیا جاتا ہے۔ تقریباﹰ تین ہفتے قبل بھارتی وزیر اعظم نے اچانک اعلان کیا تھا کہ ایک ہزار اور پانچ سو روپے کے نوٹ ختم کیے جا رہے ہیں اور جن کے پاس یہ نوٹ ہیں، وہ بینکوں سے انہیں تبدیل کرا لیں۔ اسی کے ساتھ بھارت میں دو ہزار روپے کے نئے نوٹوں کا اجراء بھی کر دیا گیا تھا۔ یوں بھارت میں چلنے والی چھاسی فیصد کرنسی ختم ہو گئی تھی۔ اس صورتحال میں متعدد بینکوں کی اے ٹی ایم مشینیں خالی ہیں جبکہ بڑے نوٹ تبدیل کرانے والے افراد کی لمبی لمبی قطاریں بینکوں کے باہر دیکھی جا سکتی ہیں۔ اس تبدیلی سے نہ صرف کاروباری افراد متاثر ہوئے ہیں بلکہ عام شہریوں کی روزمرہ زندگی میں بھی ایک بھونچال آ چکا ہے۔ کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ نوٹ تبدیل نہیں کرا سکتے کیونکہ بینکوں کے پاس نئے نوٹ ہیں ہی نہیں۔ سابق وزیر اعظم اور ماہر معاشیات منموہن سنگھ نے گزشتہ ہفتے ہی پارلیمان کو بتایا تھا کہ موجودہ حکومت کے اس فیصلے کے باعث ملکی اقتصادیات کو رواں برس کے دوران دو فیصد کا نقصان ہو گا کیونکہ اس پلان پر عملدرآمد سے متعلق انتظامی معاملات حل نہیں کیے جا سکے۔ دوسری طرف کئی ماہرین کے بقول بھارتی حکومت کے اس اقدام کے نتیجے میں ملکی معیشت پر کیا اثرات ہوں گے، اس بارے میں فوری طور پر کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا۔ سیاسی تجزیہ نگار دیودن چوہدری نے اے ایف پی سے گفتگو میں کہا، ’’اس نئی پالیسی کے نتائج آہستہ آہستہ سامنے آنے لگے ہیں۔ آئندہ ماہ اس حوالے سے انتہائی اہم ہو گا۔‘‘

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ وہ پراعتماد ہیں کہ بڑے نوٹوں کو ختم کرنے کی حکومتی پالیسی سے بھارت کی اقتصادی حالت بہتر ہو گی۔ کئی ناقدین کے بقول یہ قدم بھارتی معیشت کے نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کے روز کہا کہ ان کی اس نئی پالیسی ... Read More »

کیا جنرل قمر جاوید باجوہ راحیل شریف سے مختلف ثابت ہوں گے؟

جنرل قمرباجوہ کی فوجی سربراہ کے تقرری کے اعلان سے پاکستان سمیت دنیا بھر میں غیر معمولی تجسس کا سبب بنا ہوا ایک اہم مرحلہ طے پا گیا- جنرل باجوہ کو بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا ہو گا- شعبہ اردو کی سربراہ کشور مصطفیٰ کا تبصرہ چھبیس نومبر بروز ہفتہ ہونے والے اس اہم اعلان کے ساتھ ہی جنرل زبیر ... Read More »

Scroll To Top