You are here: Home » بزنس (page 2)

Category Archives: بزنس

Feed Subscription

جنوبی یورپ کے لیے روسی گیس پائپ لائن منصوبہ ترک، پوٹن

روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے جنوبی یورپ میں اربوں ڈالر مالیت کے گیس پائپ لائن منصوبے کو آئندہ منسوخ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماسکو حکومت اب ترکی اور یونان کے درمیان سرحدی علاقے کو گیس کا مرکز بنانے پر توجہ دے گی۔ روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے پیر کے دن اپنے دورہ ترکی کے دوران اعلان کیا کہ ان کی حکومت جنوبی یورپ کے لیے ’ساؤتھ اسٹریم پائپ لائن‘ نامی منصوبے کو آگے نہیں بڑھائے گی بلکہ توانائی کے شعبے میں ترکی کے ساتھ تعاون بڑھانے پر غور کیا جائے گا۔ پوٹن نے اس موقع پر یورپی ممالک پر الزام عائد کیا کہ دراصل وہ اس منصوبے پر کام کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔ یوکرائن کے تنازعے کی وجہ سے روس اور یورپی ممالک میں تناؤ کی کیفیت برقرار ہے اور اس تازہ پیشرفت کو ابھی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ روسی حکام کا کہنا ہے کہ یورپی کمیشن دراصل سیاسی مقاصد کی بنیاد پر اس پائپ لائن منصوبے کی مخالفت کر رہا ہے جبکہ کمیشن کے مطابق اس منصوبے سے شاید یورپی یونین میں مسابقت کے قوانین کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے۔ ساؤتھ اسٹریم منصوبے کے تحت 930 کلو میٹر طویل پائپ لائن تعمیر کی جانا تھی۔ یہ منصوبہ اکتوبر 2013ء میں بلغاریہ میں شروع ہوا تھا لیکن رواں برس جون میں یورپی کمیشن نے اس پر اعتراض کر دیا تھا، جس کی وجہ سے یہ تعطل کا شکار ہو چکا ہے۔ روسی صدر پوٹن نے انقرہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’حقائق کو دیکھا جائے تو ہمیں ابھی تک بلغاریہ سے کوئی اجازت نہیں ملی۔ ہمیں یقین ہے کہ موجودہ صورتحال میں روس اس منصوبے پر کام جاری نہیں رکھ سکتا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اگر یورپ اس منصوبے پر کام نہیں چاہتا تو اس پر کام نہیں ہوگا۔ یہ امر اہم ہے کہ ترکی اور روس کے مابین شام اور یوکرائن کے تنازعات پر اختلافات پائے جاتے ہیں تاہم روسی صدر پوٹن نے اپنے ترک ہم منصب رجب طیب ایردوآن سے ملاقات میں باہمی تجارتی امور پر توجہ مرکوز رکھی۔ ان دونوں رہنماؤں نے گیس سپلائی، سیاحت اور تعمیراتی منصوبہ جات میں تعاون کو بڑھانے پر اتفاق رائے بھی کیا۔ بتایا گیا ہے کہ دونوں ممالک 2020ء تک باہمی تجارت کا حجم سو بلین یورو تک کرنے کے خواہاں ہیں جبکہ اس وقت یہ 33 بلین یورو سالانہ بنتا ہے۔ ترکی کی گیس کی ضروریات کو پورے کرنے والے ملک روس نے انقرہ حکومت کو یہ یقین بھی دلایا ہے کہ وہ وہاں پہلا جوہری پلانٹ تعمیر کرے گا جبکہ گیس کی قیمتوں میں چھ فیصد تک کمی بھی کرے گا۔ روسی صدر کے دورہ ترکی کے دوران ایک بڑا تجارتی وفد بھی ان کے ہمراہ تھا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ یوکرائن کے بحران میں ملوث ہونے پر امریکا اور یورپی یونین روس پر سخت اقتصادی پابندیاں عائد کر چکے ہیں۔ انقرہ حکومت بھی یوکرائن کی خود مختاری اور سالمیت کے حق میں ہے لیکن روسی صدر کے ساتھ ملاقات میں ایردوآن نے یوکرائن کے تنازعے پر کوئی بات نہ کی۔ اس تناظر میں انقرہ کی مڈل ایسٹ ٹیکنیکل یونیورسٹی سے وابستہ پروفیسر حسین باچی نے روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ترکی اور روس بہت سے معاملات پر اختلاف رائے رکھتے ہیں، بالخصوص شام کے تنازعے پر۔ لیکن ترکی اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے روس سے گیس خریدنے کا عمل جاری رکھے گا۔

روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے جنوبی یورپ میں اربوں ڈالر مالیت کے گیس پائپ لائن منصوبے کو آئندہ منسوخ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماسکو حکومت اب ترکی اور یونان کے درمیان سرحدی علاقے کو گیس کا مرکز بنانے پر توجہ دے گی۔ روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے پیر کے دن اپنے دورہ ترکی کے دوران اعلان ... Read More »

یورپ میں ’اقتصادی شینگن‘ کی تجویز

ماہرینِ اقتصادیات کی ایک ٹیم نے یورپ کے لیے ’اکنامک شینگن‘ کی تجویز پیش کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کے تحت جرمنی اور فرانس اقتصادی بحران سے نکلنے میں یورپ کی مدد کر سکتے ہیں۔ جرمنی اور فرانس یورپ کی سب سے بڑی اقتصادی طاقتیں ہیں۔ اقتصادی ماہرین یورپ کی اقتصادی بحالی کے لیے انہی طاقتوں کے کردار پر مشتمل ایک منفرد خیال سامنے لائے ہیں۔ ان میں سے ایک اقتصادیات کے پروفیسر ہینرک اینڈرلائن ہیں، جن کا کہنا ہے: ’’آج ہمیں جس چیز کی ضرورت ہے وہ ہے مشترکہ کارروائی۔‘‘ انہوں نے یہ باتیں ان دونوں ملکوں کے لیے اصلاحات کی سفارشات پیش کرتے ہوئے کہیں۔ انہوں نے اس خیال کو ’اقتصادی شینگن‘ قرار دیا جو دراصل متعدد یورپی ملکوں کے درمیان سرحدوں سے آزاد شینگن معاہدے سے لیا گیا ہے۔ اس تناظر میں اینڈرلائن نے مشترکہ قوانین اور اداروں کی ضرورت کا حوالہ دیا، بالخصوص انرجی ڈویلپمنٹ اور ڈیجیٹل اقتصادیات کے شعبوں میں۔ جرمن وزیر اقتصادیات زیگمار گابریئل کا کہنا ہے کہ اقتصادی شینگن ایک اچھوتا خیال ہے۔ ان کے فرانسیسی ہم منصب عمانوئل مارکوں نے فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں ایک ملاقات کے بعد کہا کہ دونوں ملکوں کو باہمی تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے۔ ماہرین نے فرانس میں اصلاحات اور جرمنی سے سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے زور دیا ہے۔ اینڈرلائن نے اس تجویز کے لیے اپنے شریک مصنف ژاں پیزینی فیری کے ساتھ فرانس کے لیے اقتصادی شرح نمو بڑھانے کے ایک ماڈل کی سفارش کی ہے۔ اس ماڈل کی بنیاد ورکرز کے لیے زیادہ سے زیادہ سہولت اور ان کی سکیورٹی پر ہو گی جبکہ مسابقت کے لیے زیادہ سے زیادہ مواقع اور بیوروکریسی کے کردار کو کم سے کم کرنے پر بھی توجہ دی جائے گی۔ ان اقتصادی ماہرین نے کہا ہے کہ جرمنی کو اپنی لیبر مارکیٹ میں مزید تارکینِ وطن اور خواتین کو شامل کرنا چاہیے اور طلب میں اضافہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے یورپی یونین کی اس سب سے بڑی اقتصادی طاقت پر زور دیا کہ نئی سرمایہ کاری کو آئندہ تین برسوں میں بڑھا کر 24 بلین یورو تک کر دیا جائے۔ تاہم زیگمار گابریئل نے اس ہدف کے حصول پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا۔ اینڈرلائن اور پیزینی فیری کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے مسائل ایک دوسرے سے بہت مختلف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فرانس اس وقت خود کو زیادہ مشکل صورتِ حال میں محسوس کر رہا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ بہتر پوزیشن تک پہنچنے کے لیے فرانسس کے امکانات ’برے نہیں‘ ہیں۔ ان ماہرینِ اقتصادیات نے خبردار کیا کہ جرمنی کی آبادی کم ہو رہی ہے جس کی وجہ سے مستقبل میں اسے بڑے اقتصادی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ماہرینِ اقتصادیات کی ایک ٹیم نے یورپ کے لیے ’اکنامک شینگن‘ کی تجویز پیش کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کے تحت جرمنی اور فرانس اقتصادی بحران سے نکلنے میں یورپ کی مدد کر سکتے ہیں۔ جرمنی اور فرانس یورپ کی سب سے بڑی اقتصادی طاقتیں ہیں۔ اقتصادی ماہرین یورپ کی اقتصادی بحالی کے لیے انہی طاقتوں کے ... Read More »

بھارتی اسٹیٹ بینک کا اسلامی سرمایہ کاری کا منصوبہ

بھارت کے سب سے بڑے سرکاری بینک نے ’اسلامک ایکوئٹی فنڈ‘ قائم کرنے منصوبہ تیار کیا ہے۔ اس کا مقصد ملک میں 170 ملین مسلمان باشندوں کے لیے سرمایہ کاری کو پرکشش بنانا ہے۔ خبر رساں ادارے اے پی نے نئی دہلی سے موصولہ اطلاعات کے حوالے سے بتایا ہے کہ بھارت میں بینکوں کے ریگولیٹری ادارے ’سکیوریٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا‘ نے ابھی حال ہی میں اسٹیٹ بینک آف انڈیا اور تین دیگر بینکوں کو شریعہ فنڈز کے قیام کی اجازت دی تھی۔ بدھ کے دن بھارت کے اس سرکاری بینک کے ایک اعلیٰ اہلکار نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک ابتدائی طور پر اس اسلامک فنڈ میں ایک بلین روپے کی سرمایہ کاری کرے گا۔ یہ فنڈ باقاعدہ طور پر یکم دسمبر سے لانچ کر دیا جائے گا۔ واضح رہے کہ بھارت میں صرف مسلمان سرمایہ کاروں کے لیے اس طرح کا کوئی فنڈ قائم کیا جا رہا ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ بھارت میں مسلمان آبادی کا ایک بڑا حصہ بھارت کے موجودہ بینکاری نظام سے دور ہے، جس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اسلامی بینکاری میں سود کی گنجائش نہیں ہے۔ حکام نے بتایا ہے کہ اس اسلامک فنڈ میں ایسی کمپنیوں کے حصص کا منافع نہیں ڈالا جائے گا، جو الکوحل، تمباکو، سٹہ بازی اور جوئے کے اڈوں میں سرمایہ کاری کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ ایسی مالیاتی کمپنیاں بھی اس فنڈ میں سرمایہ کاری نہیں کریں گی، جن کا نظام سود پر بھی چلتا ہے۔ ایس بی آئی میوچل فنڈ کے مینیجنگ ڈائریکٹر اور سی ای او دنیش کھارا نے ایسوسی ایٹڈ پریس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارت جیسے ملک میں اسلامک فنڈ کا مستقبل تابناک ہو گا۔ انہوں نے کہا، ’’اس ایکوئٹی فنڈ میں تنوع ہے۔ یہ بڑے، درمیانے اور چھوٹے درجے کے سبھی سرمایہ کاروں کے لیے خصوصی طور پر دلکش ہو گا۔‘‘ انہوں نے واضح کیا کہ اس فنڈ کے لیے ایسے اسٹاکس کا انتخاب کیا جائے گا، جو اسلامی بینکاری کے تمام قوانین کو ملحوظ رکھتے ہیں۔ بھارت میں مسلمانوں کی طرف سے بنائے گئے ’آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ‘ نے بھی اسلامک فنڈ کی منظوری دے دی ہے۔ یہ ایک ایسا بورڈ ہے، جو بھارت میں مسلمانوں سے متعلق سول قوانین کی نگرانی کرتا ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ بھارتی اسٹاک ایکسچینج میں چھ سو تا سات سو ایسی کمپنیاں بھی فعال ہیں، جو شرعی قوانین کے تحت کام کرتی ہیں۔ گزشتہ برس مئی میں ممبئی اسٹاک ایکسچینج نے ملک کا پہلا شریعہ انڈکس لانچ کیا تھا، جس کا مقصد اسلامی قوانین کی بنیاد پر چلائی جانے والی کمپنیوں کی کارکردگی پر نظر رکھنا تھا۔ بھارت اکثریتی طور پر ایسا دوسرا غیر مسلم ملک ہے، جہاں کا ریاستی بینک اسلامی بینکاری کے قوانین کے تحت مالیاتی منصوبہ جات شروع کر رہا ہے۔ قبل ازیں اس طرح کے اقدامات برطانیہ میں کیے گئے تھے۔ 2013ء میں عالمی سطح پر اسلامی بینکاری کے اثاثوں کی مجموعی مالیت کا اندازہ 1.8 ٹریلین ڈالر لگایا گیا تھا۔

بھارت کے سب سے بڑے سرکاری بینک نے ’اسلامک ایکوئٹی فنڈ‘ قائم کرنے منصوبہ تیار کیا ہے۔ اس کا مقصد ملک میں 170 ملین مسلمان باشندوں کے لیے سرمایہ کاری کو پرکشش بنانا ہے۔ خبر رساں ادارے اے پی نے نئی دہلی سے موصولہ اطلاعات کے حوالے سے بتایا ہے کہ بھارت میں بینکوں کے ریگولیٹری ادارے ’سکیوریٹیز اینڈ ایکسچینج ... Read More »

دنیا کے امیر ترین افراد مزید امیر ہوتے ہوئے

دنیا کی بالغ آبادی کے محض 0.004 فیصد لوگ مجموعی طور پر 30 ٹریلین امریکی ڈالرز کے مالک ہیں۔ یہ رقم دنیا کی کُل دولت کا 13 فیصد بنتی ہے۔ یہ بات جمعرات 20 نومبر کو جاری کی جانے والی ایک اسٹڈی میں بتائی گئی ہے۔ سوئس بینک اور لگژری انڈسٹری کنسلٹنٹ ’ویلتھ ایکس‘ کی طرف سے کی جانے والی اس اسٹڈی کے مطابق امیر ترین لوگوں کے ملکیت میں دولت کی مقدار بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں 211,275 ملین افراد ایسے ہیں جنہیں ’الٹرا ہائی نیٹ ورتھ‘ گروپ میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ یعنی ایسے افراد جن کے اثاثے 30 ملین ڈالرز سے زائد ہیں۔ ان میں سے محض 2325 افراد ایسے ہیں جن کی دولت ایک ٹریلین ڈالرز سے بھی زائد ہے۔ سب سے زیادہ جن افراد کی دولت میں اضافہ ہوا وہ ایسے ہیں جن کی اثاثوں کی مالیت نصف بلین سے لے کر ایک بلین امریکی ڈالرز کے درمیان ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق، ’’اتنی زیادہ مقدار میں دولت کا چند افراد کے ہاتھوں میں ارتکاز کا مطلب ہے کہ یہ افراد اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی طرف مائل ہوتے ہیں بھلے وہ عالمی مالیاتی مارکیٹ کے حوالے سے ہو یا مخص صنعتوں کے حوالے سے۔‘‘ 30 ٹریلین ڈالرز کے اس سرمائے میں سے جو امیر ترین افراد کی ملکیت میں ہے، ایک تہائی سے زیادہ صرف شمالی امریکا سے تعلق رکھنے والے بڑے امراء کے پاس، ایک چوتھائی سے زائد یورپی افراد کے پاس جبکہ اس کا 23 فیصد ایسے افراد کے پاس ہے جن کا تعلق ایشیا سے ہے۔ ان امیر ترین افراد کی کُل تعداد کا 87 فیصد مرد افراد ہیں جن کی اوسط عمر 59 برس ہے۔ جبکہ ان میں سے ایک چوتھائی افراد کا تعلق بینکنگ سے ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان میں 68 فیصد افراد ایسے ہیں جو اپنی محنت سے اس قدر دولت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے جبکہ 13 فیصد ایسے ہیں جنہیں وراثت میں دولت ملی جبکہ بقیہ افراد وہ ہیں جن کا تعلق دونوں گروپوں سے بنتا ہے۔ بہت زیادہ امیر خواتین کی اوسط عمر 57 برس ہے۔ ان میں سے نصف ایسی خواتین ہیں جنہیں دولت ورثے میں ملی جبکہ ان کی ایک تہائی تعداد ایسی ہے جو محنت کر کے اس قدر سرمایہ دار بننے میں کامیاب ہوئی۔

دنیا کی بالغ آبادی کے محض 0.004 فیصد لوگ مجموعی طور پر 30 ٹریلین امریکی ڈالرز کے مالک ہیں۔ یہ رقم دنیا کی کُل دولت کا 13 فیصد بنتی ہے۔ یہ بات جمعرات 20 نومبر کو جاری کی جانے والی ایک اسٹڈی میں بتائی گئی ہے۔ سوئس بینک اور لگژری انڈسٹری کنسلٹنٹ ’ویلتھ ایکس‘ کی طرف سے کی جانے والی ... Read More »

جاپان اقتصادی کساد بازاری کا شکار ہو گیا

دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت جاپان سال رواں کی تیسری سہ ماہی کے دوران اپنی اقتصادی کارکردگی میں غیر متوقع کمی کے نتیجے میں کساد بازاری کا شکار ہو گیا ہے۔ یوں عالمی معیشت میں ممکنہ بہتری بھی شبہات کا شکار ہو گئی ہے۔ ٹوکیو سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق جاپانی حکومت نے آج پیر کے روز ملکی معیشت میں کساد بازاری کی تصدیق کر دی۔ نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس نے اپنی رپورٹوں میں لکھا ہے کہ جاپانی معیشت کی کارکردگی میں اس اچانک تنزلی کا سبب سیلز ٹیکس کی شرح میں اضافے کے نتیجے میں ہاؤسنگ اور بزنس کے شعبوں میں کی جانے والی سرمایہ کاری میں کمی بنی۔ سرکاری اعدا د و شمار کے مطابق اس سال جولائی سے لے کر ستمبر تک کی سہ ماہی میں جاپانی معیشت کی کارکردگی میں 1.6 فیصد کی کمی دیکھی گئی۔ اس غیر متوقع کمی کے برعکس حکومت نے پیش گوئی یہ کی تھی کہ اپریل سے لے کر جون تک دوسری سہ ماہی کے دوران قومی معیشت کا حجم اچھا خاصا سکڑ جانے کے بعد تیسری سہ ماہی میں دوبارہ اقتصادی ترقی دیکھنے میں آئے گی۔ ایسوسی ایٹڈ پریس نے ٹوکیو حکومت کے آج کے بیانات کے بعد اپنے ایک جائزے میں لکھا ہے کہ دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت چین میں بھی اقتصادی ترقی کی رفتار سست ہو رہی ہے جبکہ یورپی یونین کے 18 ملکی یورو زون میں بھی سال رواں کی تیسری سہ ماہی کے دوران صرف 0.2 فیصد کی شرح سے ترقی ریکاڑد کی گئی جو بہت کم تھی۔ ایسے میں امریکا اور چین کے بعد تیسری سب سے بڑی اقتصادی طاقت جاپان کے کساد بازاری کا شکار ہو جانے نے عالمی معیشت میں بہتری کے بچے کھچے امکانات کو بھی شکوک و شبہات کا شکار بنا دیا ہے۔ جاپانی وزارت اقتصادیات کا کہنا ہے کہ 2014ء کی تیسری سہ ماہی میں مجموعی قومی پیداوار سے متعلق تازہ ترین ڈیٹا ظاہر کرتا ہے کہ اس عرصے کے دوران صارفین، صنعتی مصنوعات تیار کرنے والے اداروں اور تعمیراتی شعبے کی طلب میں کمی ہوئی۔ اس کا یقینی طور پر بڑا سبب یہ ہے کہ ملک میں سیلز ٹیکس کی شرح میں اضافے سے قبل عام صارفین اور کاروباری اور پیداواری اداروں نے کافی زیادہ رقوم خرچ کی تھیں۔ جاپانی حکومت نے اس سال اپریل میں سیلز ٹیکس کی شرح پانچ فیصد سے بڑھا کر آٹھ فیصد کر دی تھی اور اس کے بعد سے ملک میں عام شہریوں اور قومی معیشت میں اپنا کردار ادا کرنے والے اداروں کی طرف سے اشیاء اور سروسز کی خریداری سے پرہیز اور مالی وسائل کے کم تر استعمال کا رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے۔ آرایس بی جاپان سکیوریٹیز کے ماہر اقتصادیات جُنکو نیشی اوکا کے بقول سیلز ٹیکس کی شرح میں اضافے کے اثرات حکومتی اندازوں سے کہیں زیادہ شدید رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیلز ٹیکس کی شرح میں تین فیصد اضافے نے ملکی معیشت پر کساد بازاری مسلط کر دی ہے۔

دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت جاپان سال رواں کی تیسری سہ ماہی کے دوران اپنی اقتصادی کارکردگی میں غیر متوقع کمی کے نتیجے میں کساد بازاری کا شکار ہو گیا ہے۔ یوں عالمی معیشت میں ممکنہ بہتری بھی شبہات کا شکار ہو گئی ہے۔ ٹوکیو سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق جاپانی حکومت نے آج پیر کے روز ... Read More »

جرمنی میں ریلوے ڈرائیوروں کی چار روزہ ہڑتال

جرمنی کی سب سے بڑی ریلوے کمپنی ڈوئچے بان کے انجن ڈرائیوروں نے آج جعمرات سے اپنی چار روزہ ہڑتال شروع کر دی ہے۔ یہ ہڑتال جمعرات کی صبح شروع ہوئی جو پیر کی صبح ختم ہو گی۔ انجن ڈرائیوروں کی ٹریڈ یونین کی طرف سے یہ ہڑتال تنخواہوں میں اضافے سے متعلق تنازعے کی وجہ سے کی گئی ہے۔ آج اس ہڑتال کے پہلے روز لاکھوں مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ سینکڑوں کی تعداد میں علاقائی اور انٹرسٹی ریل گاڑیوں کی آمد و رفت معطل ہے۔

جرمنی کی سب سے بڑی ریلوے کمپنی ڈوئچے بان کے انجن ڈرائیوروں نے آج جعمرات سے اپنی چار روزہ ہڑتال شروع کر دی ہے۔ یہ ہڑتال جمعرات کی صبح شروع ہوئی جو پیر کی صبح ختم ہو گی۔ انجن ڈرائیوروں کی ٹریڈ یونین کی طرف سے یہ ہڑتال تنخواہوں میں اضافے سے متعلق تنازعے کی وجہ سے کی گئی ہے۔ ... Read More »

یورپی بینکوں کی نگرانی کا نیا قانون مؤثر، ڈی ڈبلیو کا تبصرہ

یورو زون کے بڑے بینکوں کی نگرانی کا نیا قانون منگل چار نومبر سے مؤثر ہو گیا ہے۔ یہ نگرانی یورپی مالیاتی استحکام کے ذمے دار یورپی مرکزی بینک کو سونپی گئی ہے۔ اس حوالے سے ماہرین ’مفادات کے تضاد‘ کا ذکر بھی کر رہے ہیں۔ یورپی مرکزی بینک ای سی بی نے یورو زون کے 120 سے زائد اہم ترین بینکوں کی کارکردگی کی نگرانی کا کام سنبھال لیا ہے۔ ڈوئچے ویلے کے تبصرہ نگار رولف وینکل کی رائے میں یورپی یونین کے کرنسی اتحاد میں شامل ملکوں میں مالیاتی استحکام کا کام کرنے والے مرکزی بینک کو اب اگر یورپی بینکوں کے لیے سپروائزری اتھارٹی کا کام بھی سونپ دیا گیا ہے، تو اسے محض ’مفادات کے تضاد‘ کا نام ہی دیا جا سکتا ہے۔ یعنی اصولی طور پر ای سی بی کے ایک طرح کے فرائض اس کے دوسری طرح کے فرائض کی انجام دہی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ یورپی مرکزی بینک کا قیام کسی فنانشل سپروائزی اتھارٹی کے طور پر عمل میں نہیں آیا تھا، نہ ہی اس بینک کے یہ نئے فرائض ان بنیادی دستاویزات میں لکھے گئے تھے، جو اس بینک کے قیام کی وجہ بنی تھیں۔ یہ بات گزشتہ قریب دو سال سے واضح تھی کہ فرینکفرٹ میں یورپی کرنسی کے محافظ ادارے کے طور پر ای سی بی کو بڑے بڑے یورپی بینکوں کا سپروائزر ادارہ بھی بنا دیا جائے گا۔ بہت سے ماہرین اقتصادیات اس تجویز کے خلاف تھے کہ یوں ای سی بی کے مقاصد اور فرائض باہم متنوع ہونے کی وجہ سے ممکنہ طور پر متصادم بھی ہو سکتے ہیں۔ کہا یہ جاتا تھا کہ اگر یورپی مرکزی بینک کے یورپی بینکوں کے سپروائزری ادارے کے طور پر فیصلوں نے اسی ادارے کے مالیاتی سیاست سے متعلق فیصلوں کو متاثر کیا، تو یہ ادارہ مضبوط کرنسی اور قیمتوں میں استحکام کے اپنے بنیادی فرائض کتنے منصفانہ انداز میں انجام دے سکے گا؟ یہ درست ہے کہ یہ دونوں کام یورپی مرکزی بینک کو سونپنے سے مفادات کا جو ممکنہ تضاد دیکھنے میں آ سکتا ہے وہ بس ایک امکان ہی ہے اور لازمی نہیں کہ ایسا ہو بھی۔ اس فیصلے کے حق میں ایک دلیل یہ بھی دی جاتی ہے کہ یورپی مرکزی بینک اگر شرحء سود میں اضافے یا اسی طرح کا کوئی دوسرا فیصلہ کرتا ہے، تو یہ قدم مرکزی بینک کی کونسل کی طرف سے اٹھایا جاتا ہے۔ اسی طرح بڑے بڑے یورپی بینکوں کی نگرانی کا کام جو سپروائزری اتھارٹی کرے گی، یورپی مرکزی بینک کی کونسل اس کے کام میں مداخلت کی مجاز بھی نہیں ہو گی۔ یہی نہیں بلکہ اس میں کسی بھی ملک یا سیاستدان کی طرف سے بھی کوئی مداخلت نہیں کی جا سکے گی۔ یورپی مرکزی بینک واضح طور پر کہہ چکا ہے کہ یورپی بینکوں کی نگرانی اور مالیاتی سیاسی فیصلے اسی بینک کی طرف سے لیکن ایک دوسرے سے بالکل علیحدہ رہتے ہوئے اور مختلف ماہرین کی طرف سے کیے جائیں گے اور ان مختلف ستونوں کا اتصال بس اعلیٰ ترین سطح پر ہو گا۔ تاہم دوسری طرف یہ محاورہ بھی ہے کہ جب کوئی مچھلی بو دینا شروع کرتی ہے، تو آغاز اس کے سر سے ہوتا ہے۔

یورو زون کے بڑے بینکوں کی نگرانی کا نیا قانون منگل چار نومبر سے مؤثر ہو گیا ہے۔ یہ نگرانی یورپی مالیاتی استحکام کے ذمے دار یورپی مرکزی بینک کو سونپی گئی ہے۔ اس حوالے سے ماہرین ’مفادات کے تضاد‘ کا ذکر بھی کر رہے ہیں۔ یورپی مرکزی بینک ای سی بی نے یورو زون کے 120 سے زائد اہم ... Read More »

پچیس بڑے بینک مرکزی یورپی بینک کے معیارات پر پورا اترنے میں ناکام

یورپ کے 130 بینکوں میں سے پچیس بڑے بینک مرکزی یورپی بینک کے ’اسٹریس ٹیسٹ‘ کو پاس کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ فرینکفرٹ اَم مائن میں ای سی بی نے بتایا ہے کہ ان بینکوں کی مالی حالت خراب تھی اور ان کے پاس موجود سرمایہ مطلوبہ سرمایے سے مجموعی طور پر پچیس ارب یورو کم تھا۔ ای سی بی کے مطابق اگرچہ اب ان میں سے بارہ بینکوں نے اپنے سرمایے میں پندرہ ارب یورو کا اضافہ کرتے ہوئے اپنی مالی حالت کو پھر سے مستحکم بنا لیا ہے تاہم تیرہ بینکوں کو ابھی اپنے ہاں سرمایے کی کمی کو پورا کرنا ہے۔ ٹیسٹ میں ناکام رہنے والے سب سے زیادہ یعنی نو بینکوں کا تعلق اٹلی سے ہے۔

یورپ کے 130 بینکوں میں سے پچیس بڑے بینک مرکزی یورپی بینک کے ’اسٹریس ٹیسٹ‘ کو پاس کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ فرینکفرٹ اَم مائن میں ای سی بی نے بتایا ہے کہ ان بینکوں کی مالی حالت خراب تھی اور ان کے پاس موجود سرمایہ مطلوبہ سرمایے سے مجموعی طور پر پچیس ارب یورو کم تھا۔ ای سی بی ... Read More »

چین سمیت 21 ممالک کی طرف سے نیا ’ایشیائی بینک‘

چین اور دیگر 20 ممالک نے جمعہ 24 اکتوبر کو ایک یادداشت پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت ایشیا کے لیے ایک انٹرنیشنل بینک کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ امریکا نے اسے فیصلے کو ورلڈ بینک جیسے عالمی اداروں کا غیر ضروری حریف ادارہ کھڑا کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ چینی دارالحکومت بیجنگ کے ’گریٹ ہال آف دا پیپل‘ میں 21 ممالک کے نمائندوں نے ’ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک‘ کا انفراسٹرکچر تیار کرنے کے لیے مفاہمت کی ایک یادداشت یا پر دستخط کیے ہیں۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ نیا بینک چین کی علاقائی سطح پر سرمایہ کاری کو فروغ دینے کی خواہش کے علاوہ امریکا کے ساتھ اس کے مسابقت پر مبنی تعلقات کا بھی عکاس ہے۔ خیال رہے کہ ورلڈ بینک، آئی ایم ایف یا عالمی مالیاتی فنڈ اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک جیسے اداروں پر امریکا، جاپان اور یورپی ممالک کی اجارہ داری ہے۔ نیا بینک ایشیا میں سڑکوں، ریلوے، پاور پلانٹس اور ٹیلی کمیونیکیشن نیٹ ورکس کی تعمیر جیسے منصوبوں کے لیے سرمایہ فراہم کرے گا۔ عالمی مالیاتی ماہرین کے مطابق یہ چیز علاقے کی معیشتوں کے لیے ضروی ہے۔ جن ممالک نے اس نئے بینک کے قیام کی یادداشت پر دستخط کیے ہیں، ان میں ایشیا کی ایک اور ابھرتی ہوئی قوت بھارت کے علاوہ، آبادی کے لحاظ سے چھوٹے مگر مضبوط معیشتوں کے مالک ممالک مثلاﹰ سنگاپور، ویت نام، فلپائن اور منگولیا وغیرہ شامل ہیں۔ تاہم جو ممالک اس ایم او یو میں شریک نہیں ہوئے، ان میں امریکا کے اتحادی جاپان، جنوبی کوریا اور آسٹریلیا شامل ہیں حالانکہ چین ان ممالک کو بھی اس بینک کے قیام میں شریک کرنے کا خواہاں ہے۔ چینی صدر شی جِن پِنگ کی طرف سے اس بینک کا خیال گزشتہ برس ایشیا پیسیفک کی اقوام کی ایک میٹنگ کے دوران پیش کیا گیا تھا۔ چین کی طرف سے قبل ازیں یہ بھی حامی بھری گئی تھی کہ وہ اس بینک کے 50 بلین امریکی ڈالرز کے ابتدائی سرمائے کا مکمل نہیں تو زیادہ تر حصہ فراہم کرے گا۔ بینک کے قیام کے سلسلے میں ایم او یو پر دستخط کے لیے منعقد کی گئی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چینی وزیر مالیات لُو جیوائی کا کہنا تھا، ’’ہمیں امید ہے کہ مشترکہ کوششوں سے ہم اے آئی آئی بی کو انفراسٹرکچر کے لیے ایک پیشہ ورانہ اور فعال مالیاتی پلیٹ فارم بنا سکیں گے۔‘‘ انہوں نے مستقبل کے اس بینک کو ایک ایسا کثیر القومی مالیاتی ادارہ قرار دیا، جو منصفانہ بنیادوں پر سب کی مدد کے لیے دستیاب ہو گا اور جس کو چلانے کے لیے بہترین طریقہ کار وضع کیا جائے گا۔ امریکا کی طرف سے اس بینک کی مخالفت کی بڑی وجوہات میں سرمائے کی فراہمی کے لیے بین الاقوامی اسٹینڈرڈز کو کم کرنے، موجودہ کثیر القومی مالیاتی اداروں کے مفادات کے خلاف کام کرنے اور مشکلات میں گِھری اقوام کے مفادات کو یقینی بنانے میں ناکامی کے امکانات اور ان پر تحفظات بتائے گئے ہیں۔ ان میں سے چند ایک تحفظات کا اظہار امریکی سیکرٹری خزانہ جیکب لیو کی طرف سے رواں ماہ کے شروع میں واشنگٹن میں ہونے والی ایک کانفرنس کے دوران عوامی سطح پر بھی کیا گیا تھا۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق عام طور پر امریکی انتظامیہ کی طرف سے اس بینک کے خلاف خاموشی سے رائے عامہ ہموار کرنے کی پالیسی پر عمل کیا جا رہا ہے، جس میں میڈیا کو دی جانے والی ’آف دا ریکارڈ بریفنگز‘ وغیرہ بھی شامل ہیں۔

چین اور دیگر 20 ممالک نے جمعہ 24 اکتوبر کو ایک یادداشت پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت ایشیا کے لیے ایک انٹرنیشنل بینک کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ امریکا نے اسے فیصلے کو ورلڈ بینک جیسے عالمی اداروں کا غیر ضروری حریف ادارہ کھڑا کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ چینی دارالحکومت بیجنگ کے ’گریٹ ہال ... Read More »

مودی تیز رفتار اقتصادی اصلاحات کی کوشش میں

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے گزشتہ ہفتے ملک میں تیز رفتار اقتصادی اصلاحات کا عمل متعارف کراتے ہوئے جن بڑے اقدامات کا اعلان کیا، وہ اس امر کے غماز ہیں کہ مودی ملکی معیشت میں جلد بہتری کا تہیہ کیے ہوئے ہیں۔ نئی دہلی سے آمدہ رپورٹوں میں نیوز ایجنسی اے ایف پی نے اپنے ایک تفصیلی جائزے میں لکھا ہے کہ اکتوبر کے تیسرے ہفتے میں ہندو قوم پسند جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی سے تعلق رکھنے والے نریندر مودی نے پٹرول کی قیمتوں پر مالی اعانتوں کے خاتمے، محنت سے متعلقہ ملکی قوانین کو سادہ بنانے اور کوئلے کی کان کنی کی صنعت کو نجی خریداروں کے لیے کھولنے سے متعلق جن فیصلوں کا اعلان کیا، ان کے ذریعے اس سال موسم گرما میں سربراہ حکومت بننے والے مودی اپنے ان وعدوں پر عمل کرنا چاہتے ہیں، جو انہوں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران بھارتی رائے دہندگان سے کیے تھے۔ مودی کی جماعت بی جے پی کو گزشتہ عام انتخابات میں جو کامیابی ملی تھی، وہ پچھلی تین دہائیوں میں اس پارٹی کی سب سے بڑی کامیابی تھی۔ اب موجودہ بھارتی وزیر اعظم نے اصلاحات کا جو سلسلہ شروع کیا ہے، وہ ان کی دائیں بازو کی جماعت کے لیے بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ کئی تجزیہ نگاروں کی رائے میں نریندر مودی نے اب تک جن شعبوں میں اصلاحات کی ہمت کی ہے، انہیں کسی درخت کے ایسے پھل سے تشبیہ دی جا سکتی ہے، جو شاخوں سے لٹکتے ہوئے کافی نیچے تک آ گیا ہو۔ اس کے برعکس زیادہ اہم بات یہ ہو گی کہ مودی سیاست کے درخت پر لگا ہوا وہ پھل کب توڑتے ہیں، جو کافی اونچائی پر ہو۔ اس پہلو کی وضاحت کرتے ہوئے نیوز ایجنسی اے ایف پی نے لکھا ہے کہ مودی اور ان کی حکومت کو ابھی تک بھارتی پارلیمان کے ایوان بالا یعنی راجیہ سبھا میں اتنی زیادہ نشستیں حاصل نہیں ہیں، جن کے بل پر وہ ملکی سیاست میں ایسے بڑے فیصلے کر سکیں جو حساس نوعیت کے ہوں اور جن کی مدد سے نئی دہلی میں موجودہ حکمران ملکی معیشت کو دوبارہ ترقی اور مضبوطی کے راستے پر ڈال سکیں۔ سربراہ حکومت بننے کے بعد سے مودی کو اب تک جس بات پر کسی حد تک تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے، وہ یہ تھی کہ انہوں نے اپنے انتخابی وعدوں پر عمل درآمد کا آغاز کرنے میں سست روی کا مظاہرہ کیا۔ اس دوران یہ بات بھی بار بار کہی گئی کہ نریندر مودی کو 1.2 ارب کی آبادی والے بھارت میں روزگار کے وہ نئے مواقع جلد از جلد پیدا کرنے چاہییں، جن کی ملکی لیبر مارکیٹ کو اشد ضرورت ہے۔ دوسری طرف مودی کی ترجیحات اور ان کے اب تک کے سیاسی اور اقتصادی فیصلوں کو قابل فہم قرار دینے والے حلقوں کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم مودی نے بھارت میں کاروبار کو زیادہ آسان بنا دینے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ ندن میں قائم اقتصادی مشاورتی ادارے کے بھارت کے لیے ڈائریکٹر دیپک لالوانی کہتے ہیں کہ نریندر مودی نے اب تک جو فیصلے کیے ہیں، ان کی وجہ سے بیرون ملک سرمایہ کاروں کے لیے بھارت پہلے کے مقابلے میں زیادہ پرکشش ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ مودی اب تک سرخ فیتے اور کاغذی کارروائیوں پر لازمی انحصار میں کافی کمی لا چکے ہیں۔ انہوں نے فیکٹریوں کے معائنوں کے طریقہء کار کو بھی بہتر بنا دیا ہے اور ایسے معائنوں کی تعداد بھی کم کر دی ہے تاکہ بھارت کی پیداواری صنعت پر غیر ضروری بوجھ کم کیا جا سکے۔ اے ایف پی کے مطابق بھارت اس وقت کاروبار کرنے میں آسانی کے حوالے سے ورلڈ بینک کی تیار کردہ عالمی فہرست میں 134 ویں نمبر پر ہے۔ مودی حکومت کو بھارت کی اس پوزیشن پر فخر نہیں ہو سکتا۔ اسی لیے وہ اس فہرست میں بھارت کے مقام میں واضح بہتری کے لیے کوشاں ہے۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے گزشتہ ہفتے ملک میں تیز رفتار اقتصادی اصلاحات کا عمل متعارف کراتے ہوئے جن بڑے اقدامات کا اعلان کیا، وہ اس امر کے غماز ہیں کہ مودی ملکی معیشت میں جلد بہتری کا تہیہ کیے ہوئے ہیں۔ نئی دہلی سے آمدہ رپورٹوں میں نیوز ایجنسی اے ایف پی نے اپنے ایک تفصیلی جائزے میں ... Read More »

Scroll To Top