You are here: Home » بزنس

Category Archives: بزنس

Feed Subscription

ایشیا میں بینکوں کی اجارہ داری کی جنگ

ایشیائی ترقیاتی بینک کے قیام کو پچاس برس ہونے والے ہیں۔ جاپان اور امریکی اثرو رسوخ والے اس بینک کے مقابلے میں چین اپنا ایک ایسا ہی ادارہ قائم کر چکا ہے۔ امریکی ورلڈ بینک ان علاقائی بینکوں کو کس نظر سے دیکھتا ہے؟ تجزیہ کاروں کے مطابق ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) اس وقت شدید دباؤ میں ہے، اور یہی وجہ ہے کہ اس کی پچاس سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ اس کے سالانہ اجلاس کا انعقاد جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں کیا جا رہا ہے۔ انیس سو ساٹھ کی دہائی کے اوائل میں جب اس بینک کے قیام کی تجویز پیش کی گئی تھی تو امریکا اس کے خلاف تھا۔ اس وقت دلیل یہ پیش کی جاتی تھی کہ جب ورلڈ بینک موجود ہے تو دنیا کو علاقائی بینک کی کیوں ضرورت ہے؟ 1944ء میں ورلڈ بینک کے قیام کے بعد سے ترقیاتی منصوبوں کی فنانسگ عالمی بینک کرتا آ رہا تھا اور اس بینک میں امریکی اثر و رسوخ سب سے زیادہ تھا۔ عالمی بینک واشنگٹن ڈی سی میں واقع ہے اور روایتی طور پر اس کے سربراہ کا بھی ایک امریکی شہری ہونا ضروری ہے۔ اسی دوران ویتنام جنگ کی وجہ سے امریکا پر دباؤ بڑھا اور امریکی صدر لِنڈن بی جانسن نے اپنا موقف تبدیل کر لیا اور اس طرح سولہ دسمبر 1966ء میں فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں ایشیائی ترقیاتی بینک کی بنیاد رکھ دی گئی۔ طاقت کس کے پاس ہے؟ ایشیائی ترقیاتی بینک بھی عالمی بینک کی طرز پر بنایا گیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس میں بھی ایک ملک کا غلبہ ہے۔ 1966ء سے اس بینک کا سربراہ کوئی جاپانی شہری ہی چلا آ رہا ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کے سب سے زیادہ شیئرز بھی جاپان ہی کے پاس ہیں۔ اس طرح جاپان کو 12.8 فیصد کے ساتھ سب سے زیادہ ویٹو پاور حاصل ہے۔ اس کے بعد امریکا اس بینک کے 12.7 فیصد شیئرز کے ساتھ دوسرے نمبر پر آتا ہے۔ اس بینک کے 67 رکن ملک ہیں اور ان میں سے اڑتالیس کا تعلق ایشیا سے ہے۔ اس کے علاوہ انیس ممالک کا تعلق ایشیا سے نہیں ہے اور ان میں امریکا، کینیڈا، جرمنی اور یورپی ممالک شامل ہیں۔ ایشیائی ترقیاتی بینک پر جاپان اور امریکا کا غلبہ ہے اور اس کے قیام کے بعد سے یہ بات مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ چین ایشیا کی سب سے اہم معیشت ہے اور اس کا ووٹنگ کا حق صرف 5.5 ہے۔ یہ جرمنی سے کچھ زیادہ ہے۔ چین متعدد مرتبہ اس کے شیئر ہولڈنگ کے ڈھانچے میں تبدیلیاں لانے کی کوشش کر چکا ہے لیکن ابھی تک ناکام رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین اس کے مقابلے میں اپنا بینک لے آیا ہے۔ اس کا نام ایشیائی انفراسٹرکچر اور انوسٹمنٹ بینک (اے آئی آئی بی) ہے۔ حریف بینک امریکا اور جاپان کو خوف ہے کہ ایشیا میں ان کا اثرو رسوخ کم ہو سکتا ہے اور اسی وجہ سے وہ ابھی تک چینی بینک کا حصہ نہیں بنے ہیں۔ لیکن ان کے برعکس ایشیا کے سینتیس ممالک اور اس خطے سے باہر بیس ممالک چین کے ساتھ ’’ممکنہ بانی ممالک کا معاہدہ‘‘ کر چکے ہیں اور ان میں متعدد یورپی ملک بھی شامل ہیں۔ دوسری جانب ایشیائی ترقیاتی بینک اپنا دائرہ کار مزید وسیع اور کار آمد بنانا چاہتا ہے تاکہ اس کی اہمیت میں اضافہ ہو۔ اس بینک نے مختلف منصوبوں کی قرض دینے کی شرح بڑھا کر چالیس فیصد تک کرنے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔ فرینکفرٹ کے اجلاس میں اگر بورڈ آف گورنرز نے اس منصوبے کی منظوری دے دی تو سن دو ہزار سترہ سے اس پر عمل درآمد شروع ہو جائے گا۔ جرمنی میں اس اجلاس کا ایک مقصد مزید جرمن اداروں کو حصے دار بنانا بھی ہے۔

ایشیائی ترقیاتی بینک کے قیام کو پچاس برس ہونے والے ہیں۔ جاپان اور امریکی اثرو رسوخ والے اس بینک کے مقابلے میں چین اپنا ایک ایسا ہی ادارہ قائم کر چکا ہے۔ امریکی ورلڈ بینک ان علاقائی بینکوں کو کس نظر سے دیکھتا ہے؟ تجزیہ کاروں کے مطابق ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) اس وقت شدید دباؤ میں ہے، ... Read More »

ٹیکس کی عدم ادائیگی کے پاکستانی معیشت پر اثرات

خبر رساں ادارے اے ایف پی کی ایک رپورٹ کے مطابق تمام تر امیدوں اور توقعات کے باوجود پاکستان کو مالی بحران کا سامنا ہے۔ ملک میں ٹیکسوں کی وصولی کے غیر معیاری نظام کی وجہ سے پاکستان اپنے مالی وسائل پورے نہیں کر پا رہا۔ مالی سال 2014ء اور 2015ء کے دوران پاکستان کی معیشت میں4.24 فیصد کا اضافہ ہوا ہے اور اسی طرح فی کس آمدنی بھی نو اعشاریہ دو پانچ فیصد بڑھی ہے، جس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی کافی حد تک بحال ہوا ہے۔ برطانوی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی’ ڈی آئی ایف ڈی‘ کے تعاون سے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم ’رفتار‘ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی معیشت مسلسل تجارتی اور رعایتی قرضو‌ں اور غیر ملکی امداد پر انحصار کر رہی ہے۔ ٹیکس سے لے کر مجموعی قومی پیداوار تک کی شرح نو اعشاریہ چار فیصد ہے، جو پوری دنیا میں سب سے کم ترین شرح میں سے ایک ہے، جس سے ریاستی قرضے میں بھی ایک سو تریسٹھ بلین ڈالرز تک کا اضافہ ہو گیا ہے۔ رپورٹ میں یہ الزام بھی لگا یا گیا ہے کہ سرکاری سطح پر بد انتظامی اور بدعنوانی کی وجہ سے پاکستان میں ٹیکس کی ادائیگی کا رواج بھی عام نہیں ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق 68 فیصد ٹیکس کی رقم ایندھن، خوراک اور بجلی یا توانائی پر عائد کیے جانے والے بلاواسطہ ٹیکس سے پوری کی جاتی ہے۔ اس صورتحال سے سب سے زیادہ نقصان غریب عوام کو پہنچ رہا ہے۔ ٹیکس کی عدم ادائیگی کی وجہ سے ملک کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور بجلی کی پیداوار پر بھی منفی اثرات مرتب ہو ر ہے ہیں۔ جیسا کہ اس سال مرسم گرما میں ملک میں بجلی کا شارٹ فال چار ہزار میگا واٹ تک پہنچ گیا تھا اور جس سے ملک کی مجموعی قومی پیداوار کو تقریباً پندرہ بلین ڈالرز کا نقصان پہنچا ہے۔ حال ہی میں انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کی جانب سے پاکستان کو چھ اعشاریہ چھ بلین ڈالرزکا قرض اس شرط پر دیا گیا ہے کہ پاکستان توانائی اور ٹیکس کے اپنے شعبوں میں وسیع پیمانے پراصلا حات کرے گا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کی ایک رپورٹ کے مطابق تمام تر امیدوں اور توقعات کے باوجود پاکستان کو مالی بحران کا سامنا ہے۔ ملک میں ٹیکسوں کی وصولی کے غیر معیاری نظام کی وجہ سے پاکستان اپنے مالی وسائل پورے نہیں کر پا رہا۔ مالی سال 2014ء اور 2015ء کے دوران پاکستان کی معیشت میں4.24 فیصد کا اضافہ ... Read More »

چینی بازار حصص میں دوسرے روز بھی شدید مندی کا رجحان

دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت چین کے بازار حصص میں آج منگل کو مسلسل دوسرے روز بھی شدید مندی کا رجحان پایا جاتا ہے۔ ایشیا کی دوسری سٹاک مارکیٹوں میں گزشتہ روز عالمی منڈیوں میں نظر آنے والی گراوٹ کے بعد ابھی تک اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ چین سٹاک مارکیٹ میں شنگھائی کمپوزٹ انڈیکس میں آج منگل کے روز مزید 3.2 فیصد کی کمی ہوئی جبکہ پیر کو یہ انڈیکس ڈرامائی طور پر ساڑھے آٹھ فیصد تک گر گیا تھا۔ گزشتہ روز یورپی اور امریکی سٹاک مارکیٹوں میں بھی شدید مندی دیکھی گئی۔ ماہرین عالمی سطح پر ان نقصانات کی وجہ چینی معیشت میں ترقی کی سست روی بتا رہے ہیں اور خدشہ ہے کہ یہ صورت حال عالمی منڈیوں کو مزید متاثر کرے گی۔

دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت چین کے بازار حصص میں آج منگل کو مسلسل دوسرے روز بھی شدید مندی کا رجحان پایا جاتا ہے۔ ایشیا کی دوسری سٹاک مارکیٹوں میں گزشتہ روز عالمی منڈیوں میں نظر آنے والی گراوٹ کے بعد ابھی تک اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ چین سٹاک مارکیٹ میں شنگھائی کمپوزٹ انڈیکس میں آج منگل ... Read More »

نیسلے نے بھارت میں نوڈلز پر عائد پابندی کو چیلنج کر دیا

نیسلے کمپنی نے بھارت میں میگی نوڈلز پر پابندی کے فیصلے کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کیا ہے۔ نیسلے کے مطابق اس سلسلے میں ممُبئی کی ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا ہے تاکہ عدالت پانچ جون کے فیصلے پر نظر ثانی کر سکے۔ اس کمپنی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ نیسلے کی نوڈلز مضر صحت نہیں ہیں۔ تحفظ حوراک کے بھارتی محکمے نے میگی نوڈلز میں سیسے کی زیادہ مقدار کی وجہ سے ان کی فروخت پر پابندی عائد کر دی تھی۔ اس اعلان کے بعد ممُبئی کے بازار حصص میں سوئس کمپنی نیسلے کے شیئرز کی قیمت میں نو فیصد کی کمی واقع ہوئی تھی۔

نیسلے کمپنی نے بھارت میں میگی نوڈلز پر پابندی کے فیصلے کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کیا ہے۔ نیسلے کے مطابق اس سلسلے میں ممُبئی کی ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا ہے تاکہ عدالت پانچ جون کے فیصلے پر نظر ثانی کر سکے۔ اس کمپنی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ نیسلے کی نوڈلز مضر صحت ... Read More »

ہم قسط نہیں دے سکتے، یونانی حکومت

یونانی حکومت کے ایک وزیر نےاتوار کے روز کہا ہے کہ ایتھنز عالمی مالیاتی ادارے’ آئی ایم ایف‘ کی اگلے قسط ادا نہیں کر سکے گا۔ یونان کو یہ قسط اگلے ماہ ادا کرنی ہے۔ یونان کے وزیر داخلہ نکوس فوتسس نے میگا ٹی وی سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ عالمی مالیاتی ادارے کو جون میں 1.6 ارب یورو ادا کیے جانا ہیں۔ یہ رقم ادا نہیں کی جا سکتی کیونکہ اس حقیقت سے تمام حلقے واقف ہے کہ یونان کے پاس وسائل نہیں ہیں۔ اس طرح یونان نے قرض دینے والے بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی جانب سے دیے جانے والے اُن تمام انتباہات کو رد کر دیا ہے، جو اس سلسلے میں ہونے والے مذاکرات کے دوران کیے گئے تھے۔ وزیر داخلہ فوتسس نے مزید کہا کہ ایتھنز کے آئی ایم ایف اور قرضہ فراہم کرنے والے دیگر اداروں کے ساتھ مذاکرات جاری رہیں گے۔ پانچ جون کے بعد ایتھنز حکام کے ذمے آئی ایم ایف کی چار اقساط ہو جائیں گی اور یونانی حکومت اس کوشش میں لگی ہوئی ہے کہ اس مقصد کے لیے بین الاقوامی اداروں کی جانب سے دیے جانے والے مالیاتی پیکج کواستعمال نہیں کیا جائے۔ اگر یونانی حکومت اپنے ذمے واجب الادا یہ رقم لوٹانے میں کامیاب نہیں ہوتی تو اس کے دیوالیہ ہونے کا خطرہ بڑھ جائے گا اور اس کا یورو کرنسی زون سے اخراج بھی ممکن ہے۔ گزشتہ ہفتے حکومتی پارٹی سیریزا سے تعلق رکھنے والے نکوس فیلس نے کہا تھا کہ حکومت کی ترجیح ہے کہ ملازمین کو تنخواہیں ادا کی جائیں، پینش ادا کی جائے اور دیگر ضروری اخراجات پر توجہ مرکوز کی جائے’’ کوئی بھی ملک اپنے ذمے قرضہ بجٹ کے لیے مختص رقم سے ادا نہیں کر سکتا‘‘۔ اسی طرح وزیر مالیات یانس فاروفاکس اور کابینہ کے دیگر وزراء نے بھی کہا ہے کہ حکومت کی اولین ترجیح اپنی داخلی ضروریات کو پورا کرنا ہے۔ یونان میں سیریزا پارٹی کی حکومت کے آئی ایم ایف، یورپی یونین اور یورپی مرکزی بینک کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔ اس دوران کوشش کی جا رہی ہے کہ ان تینوں اداروں کو 7.2 ارب یورو قسط جاری کرنے پر راضی کیا جائے۔ ان تینوں اداروں کی جانب سے یونان کے لیے 24 ارب یورو کے مالیاتی پیکج کا اعلان کیا گیا تھا، جسے اس ملک میں ہونے والی اصلاحات سے مشروط کیا گیا تھا۔ یونانی حکومت نے ان اداروں کی جانب سے سخت شرائط کو مسترد کر دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق بین الاقوامی اداروں نے یونانی حکومت سے پینشن اور تنخواہوں میں مزید کمی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

یونانی حکومت کے ایک وزیر نےاتوار کے روز کہا ہے کہ ایتھنز عالمی مالیاتی ادارے’ آئی ایم ایف‘ کی اگلے قسط ادا نہیں کر سکے گا۔ یونان کو یہ قسط اگلے ماہ ادا کرنی ہے۔ یونان کے وزیر داخلہ نکوس فوتسس نے میگا ٹی وی سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ عالمی مالیاتی ادارے کو جون میں 1.6 ارب یورو ... Read More »

یورو کو ایک اور جھٹکا، فرانک نے بھی ساتھ چھوڑ دیا

سوئٹزرلینڈ کے مرکزی بینک نے یورو کے مقابلے میں سوئس فرانک کی قدر کو ایک محدود حد تک رکھنے کی پالیسی ختم کر دی ہے۔ اس اعلان کے ساتھ ہی فرانک کے مقابلے میں یورو کی قیمت میں نمایاں کمی آئی ہے۔ سوئٹزرلینڈ کے مرکزی بینک نے جمعرات کے روز اچانک اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک یورو کو 1.20 فرانک تک محدود رکھنے کی اپنی تین سالہ پرانی پالیسی کو ختم کر رہا ہے۔ اس اعلان کے ساتھ ہی یورپ کی مشترکہ کرنسی کے مقابلے میں فرانک کی قدر میں تقریباً تیس فیصد کا اضافہ ہو گیا۔ سوئس نیشنل بینک ’ایس این بی‘ کی جانب سے 2011 میں ’ایکسچینج ریٹ کیپ پالیسی‘ اپنائی گئی تھی۔ ایس این بی نے یورو زون کے اقتصادی بحران کے دور میں سوئس کرنسی اور ملکی برآمدات کو فائدہ پہنچانے کے لیے یہ اقدام اٹھایا تھا۔ اُس دور میں یورو زون کے ٹوٹنے کی خبروں کی وجہ سے سوئس فرانک متاثر ہو رہا تھا اور اس کی قدر کے بارے میں غلط اندازے لگائے جا رہے تھے۔ اسی طرح روسی کرنسی روبل کی گرتی ہوئی قدر بھی فرانک پر منفی انداز میں اثر انداز ہو رہی ہے۔ مالیاتی شعبے کے حکام نے بتایا کہ یہ پالیسی ایک ایسے وقت میں اپنائی گئی تھی جب مالیاتی منڈیاں غیر یقینی کا شکار تھیں۔ ایس این بی کے مطابق ڈالر کے مقابلے میں یورو کی قدر میں شدید کمی آئی ہے اور اس وجہ سے ڈالر کے مقابلے میں فرانک بھی کمزور ہوا ہے۔ اس بیان میں مزید بتایا گیا کہ فرانک کو موجودہ مالیاتی صورتحال کے موافق بنانا ہے۔ ’’ فرانک ابھی بھی مضبوط ہے تاہم اس کی اصل قدر کے حوالے سے جو بہت اونچے اندازے لگائے جا رہے تھے، اس میں کمی آئی ہے‘‘۔ اس سال کے آغاز میں ہی سوئس بینک کے سربراہ تھوماس جارڈن نے اس پالیسی کو فرانک اور سوئٹزرلینڈ کے لیے ناگزیر قرار دیا تھا۔ سوئئس نیشنل بینک کے اس اقدام سے مالیاتی منڈیوں کو شدید جھٹکا لگا ہے۔ دنیا بھر میں تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں اور امریکا میں تیزی سے ہونے والی اقتصادی ترقی نے یورو کو شدید متاثر کیا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ سوئس بینک کے اس اعلان کے بعد یورو کرنسی کی قدر میں مزید کمی ہونے کا خدشہ ہے اور وہ بھی انتہائی تیزی سے۔ گزشتہ دنوں کے دوران عالمی منڈی میں یورو کی قدر میں شدید کمی واقع ہوئی ہے اور یہ سلسلہ مسلسل جاری ہے۔

سوئٹزرلینڈ کے مرکزی بینک نے یورو کے مقابلے میں سوئس فرانک کی قدر کو ایک محدود حد تک رکھنے کی پالیسی ختم کر دی ہے۔ اس اعلان کے ساتھ ہی فرانک کے مقابلے میں یورو کی قیمت میں نمایاں کمی آئی ہے۔ سوئٹزرلینڈ کے مرکزی بینک نے جمعرات کے روز اچانک اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک یورو کو ... Read More »

جرمن سونا واپس ملکی مرکزی بینک میں

کئی عشروں تک جرمن بینکوں کے سونے کے ذخائر نیو یارک، لندن اور پیرس کے مرکزی بینکوں کے خزانوں میں رکھے جاتے تھے۔ تاہم اب اسے واپس لانے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس رجحان کی کچھ تاریخی وجوہات تھیں۔ ایسا خاص طور سے سرد جنگ کی وجہ سے تھا اور جرمن بینک کے اہلکاروں کے لیے یہ کوئی پریشانی کی بات بھی نہیں تھی۔ انہیں پورا یقین تھا کہ اُن کا سونا ملک سے باہر محفوظ ہے۔ تاہم 2003ء سے جرمنی کے مرکزی بینک ’بنڈس بنک‘ نے کئی ٹن گولڈ بارز کو غیر ملکی بینکوں سے نکال کر فرینکفرٹ میں اپنے مرکزی خزانے میں جمع کرنا شروع کر دیا۔ ماہرین کے مطابق حد سے حد 2020ء تک جرمنی کے نصف سے زائد سونے کے ذخائر فرینکفرٹ کے بینک میں جمع ہو چُکے ہوں گے۔ گزشتہ برس کے اختتام تک اس کا حجم اس کا ایک تہائی بھی نہیں تھا۔ جرمنی کے ’بنڈس بنک‘ کے صدر ژینس وائیڈ من نے اس بارے میں ابھی حال ہی میں انکشاف کیا ہے۔ ان کے بقول، ہم مکمل طور پر اپنے منصوبے کے تحت آگے بڑھ رہے ہیں۔ اس سے بہت سے جرمن باشندوں کو خوشی ہوگی۔ خاص طور سے ان جرمنوں کو جو یہ سمجھتے ہیں کہ ملک کا خزانہ اُن کے گھر یعنی جرمنی ہی میں سب سے زیادہ محفوظ ہے۔ جرمن عوام دراصل اس بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہیں کہ آیا غیر ملکی بینکوں میں جمع جرمنی کا سونا واقعی انہی بینکوں میں جمع ہیں جن میں وہ سمجھ رہے ہیں؟ اور یہ کہ کیا جرمنی ہنگامی صورتحال اور ضرورت پڑنے پر اس سونے کو واپس اپنے ملک لا سکے گا؟ جرمنی کے مرکزی اکاؤنٹنگ آفس نے مطالبہ کیا ہے کہ جرمنی کے سونے کی ایک باقائدہ انوینٹری یا فہرست تیار کی جائے اور اس پر نظر رکھی جانی چاہیے اور برابر اس کا کنٹرول کیا جائے۔ تاہم بنڈس بنک کے ایگزیکٹیو بورڈ کے رکن کارل لوڈویش تھیلے کا کہنا ہے، سونے کو اپنے ہاں ذخیرہ کرنے کے خیال بُنڈس بنک کے بورڈ آف ایگزیکیٹیوز کے ایک آزاد فیصلے کا نتیجہ ہے۔ اب ہم اس پر عمل کر رہے ہیں۔ دراصل غیر ملکوں کے مرکزی بینکوں میں جمع جرمن سونے کی 2013ء میں ملک واپس منتقلی کا عمل سست رفتار رہا ہے۔ 2020ء تک 674 ٹن سونا نیو یارک اور پیرس سے فرینکفرٹ منتقل ہونا ہے۔ اس میں سے گزشتہ برس محض 37 ٹن ٹرانسفر ہو سکا ہے۔ پانچ ٹن نیویارک اور باقی پیرس سے فرینکفرٹ پہنچا ہے۔ جرمن بینک نے اس عمل میں سست روی کی وجہ سکیورٹی اقدامات بتائی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اتنی بھاری مقدار میں سونے کی جرمنی منتقلی کے لیے انصرامی نوعیت کی تدابیر کی اشد ضرورت ہے۔ سونے کی حفاظت کے سبب اسے کم مقدار میں جرمنی لایا جا رہا ہے۔ رواں سال اب اختتام کو پہنچنے والا ہے اور اس سال جرمنی کے سونے کو واپس ملک پہنچانے کی رفتار میں اضافہ درکار ہے۔ رواں برس مارچ میں کہا گیا تھا کہ 2014ء کے آخر تک نیو یارک سے 30 تا 50 ٹن سونا جرمنی منتقل کر دیا جائے گا جبکہ پیرس سے بھی 50 ٹن سونا واپس لایا جانا تھا۔ اب جبکہ سال ختم ہونے کو ہے جرمنی کے ’ بنڈس بنک‘ کی طرف سے یہ نہیں بتایا جا رہا کہ یہ ہدف مکمل ہوا ہے یا نہیں۔ بنڈس بنک کے ایگزیکٹیو بورڈ کے رکن کارل لوڈویش تھیلے نے محض یہ کہا ہے، غیر ملکوں سے جرمن سونے کو واپس لانے کا عمل مکمل طور سے مقررہ وقت کے مطابق پورا ہو رہا ہے۔

کئی عشروں تک جرمن بینکوں کے سونے کے ذخائر نیو یارک، لندن اور پیرس کے مرکزی بینکوں کے خزانوں میں رکھے جاتے تھے۔ تاہم اب اسے واپس لانے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس رجحان کی کچھ تاریخی وجوہات تھیں۔ ایسا خاص طور سے سرد جنگ کی وجہ سے تھا اور جرمن بینک کے اہلکاروں کے لیے یہ کوئی پریشانی کی ... Read More »

روسی کرنسی کی گرتی قدر، عالمی اقتصادیات کے متاثر ہونے کا خطرہ

روسی کرنسی کی گرتی قدر سے روس کو درپیش مالیاتی بحران کے حوالے سے ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ اس بحران کے اثرات عالمی اقتصادیات پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ یورپی براعظم کی مجموعی اقتصادیات کو علیل خیال کیا جاتا ہے اور دوسری جانب جاپان، چین اور لاطینی امریکا کے مالی حالات بھی کچھ زیادہ اچھے نہیں ہیں۔ اِس بنا پر ماہرین اقتصادیات کا خیال ہے کہ روسی کرنسی رُوبل کی گرتی قدر کا وائرس کسی نہ کسی طور پر جاپانی، چین اور لاطینی امریکی کی مُضمحل معیشت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ ایسے اندازہ بھی لگائے گئے ہیں کہ مُرجھائے ہوئے رُوبل کو اندرون ملک ماسکو حکومت نے شرح سُود میں اضافہ کر کے تقویت دینے کی ضرور کوشش کی ہے لیکن خام تیل کی عالمی منڈیوں میں قیمتوں میں کمی کے رجحان اور یوکرائنی بحران کے حوالے سے امریکا اور مغربی اقوام کی پابندیوں نے روسی کرنسی کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ گزشتہ چند روز کے دوران رُوبل کرنسی کی قدر میں دس فیصد کی کمی کو روس کی اقتصادی گاڑی کے پنکچر ہونے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ سرمایہ کاروں کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں کہ آیا روس اپنے غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی بھی بروقت کر سکے گا یا نہیں۔ اِن کے مطابق اگر ایسا نہ ہوا تو روس میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اربوں ڈالر ڈوب جائیں گے۔ بعض مالیاتی امور کے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ آئندہ مہینوں میں روس کا امریکا اور یورپی اقوام کے ساتھ تناؤ اور کشیدگی میں اضافہ ممکن ہے۔ امریکی صدر باراک اوباما نے منگل 16 دسمبر کو روس پر مزید پابندیوں کی منظوری دی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ رُوبل کے زوال کے اثرات معاشی جھیل میں پھینکے پتھر کی طرح ہیں اور اِس کی لہریں جس جس براعظم تک پہنچیں گی، منفی رجحانات سامنے آنا شروع ہو جائیں گے۔ عالمی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق رواں برس کے آغاز پر روس کا شمار دنیا کی آٹھویں بڑی اقتصادیات کے طور پر کیا گیا تھا اور اِس کی بنیاد 2.1 ٹریلین ڈالر کا جی ڈی پی تھا۔ گزشتہ چند دنوں کے دوران روسی کرنسی رُوبل کی قدر اتنی کم ہو گئی ہے کہ ایک رُوبل کی اوقات دو تین امریکی پینی جتنی رہ گئی ہے۔ رُوسی کرنسی میں گراوٹ کا جو عمل جاری ہے، اُس کے تحت ایک رُوبل نے ایک امریکی ڈالر کے مقابلے میں اپنی پچاس فیصد حیثیت کھو دی ہے۔ قدر کی اس کمی کے بعد روسی معیشت کا مجموعی 2.1 ٹریلین ڈالر کا حجم نصف ہو کر رہ گیا ہے۔ اِس طرح اب اِس کی پوزیشن آٹھویں مقام سے گر کر پندرہویں پوزیشن پر خیال کی جا رہی ہے جو انڈونیشیا یا میکسیکو کے برابر ہے۔ روس کے اقتصادی حکام پہلے ہی یہ کہہ چکے ہیں کہ سن 2015 میں روسی معیشت پانچ فیصد سکڑ سکتی ہے۔ روس کی ایکسپورٹ کا حجم 324 بلین ڈالر ہے اور اِس کے بڑے ٹریڈ پارٹنرز میں چین، جرمنی، یوکرائن، بیلاروس اور جاپان شمار کیے جاتے ہیں۔ یوکرائنی بحران کے بعد اِن ملکوں میں روسی مصنوعات خاصی مہنگی ہو چکی ہیں۔ روس کی کرنسی سن 1998 میں بھی کریش کر چکی ہے اور تب اِسے ورلڈ بینک اور انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کی مالی معاونت حاصل ہوئی تھی۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن کو ایک بہت بڑے اقتصادی چیلنج کا سامنا ہے۔

روسی کرنسی کی گرتی قدر سے روس کو درپیش مالیاتی بحران کے حوالے سے ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ اس بحران کے اثرات عالمی اقتصادیات پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ یورپی براعظم کی مجموعی اقتصادیات کو علیل خیال کیا جاتا ہے اور دوسری جانب جاپان، چین اور لاطینی امریکا کے مالی حالات بھی کچھ زیادہ اچھے نہیں ہیں۔ اِس ... Read More »

بھارت روسی تعاون سے 10 نئے جوہری ری ایکٹرز تعمیر کرے گا، مودی

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ بھارت اپنے سویلین جوہری پروگرام کو وسعت دیتے ہوئے 10 نئے جوہری ری ایکٹرز تعمیر کرے گا جس میں روسی مدد شامل ہو گی۔ جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق مودی کی طرف سے یہ بیان روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے ساتھ ملاقات کے بعد سامنے آیا ہے۔ مودی کے مطابق انتہائی محفوظ اسٹینڈرز کے مطابق تعمیر کیے جانے والے ان ری ایکٹرز کے لیے پرزے بھی بھارت میں تیار کیے جانے پر اتفاق ہوا ہے۔ پوٹن کے مطابق روس اور بھارت نے دیگر ممالک کے لیے جوہری پاور پلانٹس تعمیر کرنے میں تعاون پر بھی اتفاق کیا ہے۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ بھارت اپنے سویلین جوہری پروگرام کو وسعت دیتے ہوئے 10 نئے جوہری ری ایکٹرز تعمیر کرے گا جس میں روسی مدد شامل ہو گی۔ جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق مودی کی طرف سے یہ بیان روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے ساتھ ملاقات کے بعد سامنے آیا ہے۔ مودی ... Read More »

ایئر بس کے شیئرز کی قیمتوں میں کمی

بازار حصص میں طیارہ ساز ادارے ایئر بس کے شیئرز کی قیمتیں گر گئی ہیں۔ اس ادارے کے سربراہ ٹوم اینڈرز نے جنیوا میں سرمایہ کاروں کے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ 2017ء سے ایئر بس کے بنیادی آپریشنز میں اضافے کا امکان ہے۔ تاہم اس سے قبل ایئر بس کے شیئرز میں دس فیصد کے محتاط منافع کے اندازے لگائے گئے تھے۔ ایئربس کے سب سے بڑے طیارےاے-380 کا مستقبل بھی غیر واضح ہے۔ ابھی تک ایئر بس کو اس طیارے کے صرف 318 آرڈرز ملے ہیں، جو اندازہ لگائی جانے والی مانگ کا صرف ایک چوتھائی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ادارہ اس صورتحال میں اپنی صنعتی پیداوار کو کم کر سکتا ہے۔

بازار حصص میں طیارہ ساز ادارے ایئر بس کے شیئرز کی قیمتیں گر گئی ہیں۔ اس ادارے کے سربراہ ٹوم اینڈرز نے جنیوا میں سرمایہ کاروں کے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ 2017ء سے ایئر بس کے بنیادی آپریشنز میں اضافے کا امکان ہے۔ تاہم اس سے قبل ایئر بس کے شیئرز میں دس فیصد کے محتاط منافع کے ... Read More »

Scroll To Top