You are here: Home » بین الاقوامی (page 10)

Category Archives: بین الاقوامی

Feed Subscription

بھارت: پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے نتائج

بھارت کی پانچ اہم ریاستوں کے صوبائی انتخابات میں وزیر اعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی شمال مشرقی ریاست آسام میں پہلی مرتبہ کامیاب ہوئی جب کہ کانگریس پارٹی کے ہاتھوں سے مزید دو ریاستیں نکل گئیں۔ سیاسی لحاظ سے اہمیت کی حامل پانچ بھارتی ریاستوں آسام، مغربی بنگال، تمل ناڈو، کیرالہ اور پڈوچیری میں صوبائی اسمبلی کے انتخابات ہوئے تھے۔ ان میں سے دو ریاستوں، مغربی بنگال اور جنوبی ریاست تمل ناڈو میں دونوں خواتین وزراء اعلیٰ بالترتیب ممتا بنرجی اور جے جیہ للیتا پانچ سال کی دوسری مدت کے لئے بھی اپنی حکومت برقرار رکھنے میں کامیاب رہیں۔ ممتا بنرجی کی پارٹی ترنامول کانگریس پچھلی مرتبہ کے مقابلے اس بار زیادہ طاقت کے ساتھ اقتدار میں آئی ہے۔294 سیٹوں والی ریاستی اسمبلی میں اس پارٹی نے گزشتہ الیکشن میں 184 سیٹوں حاصل کی تھیں جب کہ اس مرتبہ ترنامول کانگریس نے 215 سیٹیں حاصل کرکے ایک نئی تاریخ رقم کردی ہے۔ جب کہ جیہ للیتا کی آل انڈیا انا ڈی ایم کے پارٹی گزشتہ ستائیس برسوں کے وقفے کے بعد مسلسل دوسری مرتبہ کامیاب ہونے والی پارٹی بن گئی ہے۔ اس سے پہلے ان کے سیاسی گرو اور اداکار ایم جی رام چندرن نے یہ کارنامہ انجام دیا تھا۔رام چندرن ہی جیہ للیتا کو فلموں سے سیاست میں لے کر آئے تھے۔ جنوبی ریاست کیرالہ میں کانگریس کی قیادت والے یونائٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کو بائیں محاذ کی قیادت والے ’لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ‘ کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ البتہ پڈوچیری میں برسراقتدار جماعت کانگریس اپنی لاج بچانے میں کامیاب رہی۔ ان اسمبلی انتخابات میں سرحدی ریاست آسام کے نتائج کو سب سے اہم قرا ردیا جارہا ہے۔ آسام کی سرحدیں بنگلہ دیش سے ملتی ہیں اور ریاست میں بنگلہ دیشی مسلمانوں کا مسئلہ ایک مستقل سیاسی مسئلہ ہے جسے سیاسی جماعتیں اپنے فائدے کے لئے استعمال کرتی رہی ہیں۔ ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی اس ریاست میں کامیابی اس لحاظ سے بھی اہمیت کی حامل ہے کہ وہ مبینہ غیر قانونی طور پر مقیم بنگلہ دیشی مسلمانوں کو بھارت سے نکال باہر کرنے کی مہم چلاتی رہی ہے۔ اس ریاست میں گزشتہ پندرہ برسوں سے کانگریس اقتدار میں تھی۔ آسام کے نتائج بھارتیہ جنتا پارٹی اور خود وزیر اعظم نریندر مودی کے لئے اس لحاظ سے بھی کافی اہم ہیں کہ 2014ء کے عام انتخابات میں ان کی زبردست کامیابی کے بعد ملکی دارالحکومت دہلی اور مشرقی ریاست بہار کے اسمبلی انتخابات میں انہیں بری طرح شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا اور ان کی شہرت کو کافی نقصان پہنچا تھا۔ یہ پہلا موقع ہے جب بی جے پی شمال مشرقی خطے کی کسی ریاست میں اپنی حکومت بنائے گی۔ تجزیہ کار اسے بھارت کے نقشے پر ہندو قوم پرستوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے طور پر بھی دیکھ رہے ہیں۔ سیاسی تجزیہ نگار منوج جوشی کے مطابق، ’’ان اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کا کوئی نقصان نہیں ہونے والا تھا، اگر کچھ ہوتا تو اسے فائدہ ہی ہوتا، اور اسے فائدہ ہوگیا، اس سے پتہ چلتا ہے کہ فی الحا ل ہوا اس کے حق میں چل رہی ہے۔‘‘ اس وقت بی جے پی کی حکومت نو ریاستوں میں ہے جب کہ چار ریاستوں میں وہ اقتدار میں شراکت دار ہے۔ دوسری طرف کانگریس بھارت کی 29 ریاستوں میں سے اب صرف چھ میں ہی سمٹ کر رہ گئی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے ان انتخابات میں بی جے پی کو ووٹ دینے کے لئے عوا م کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ٹوئٹ کیاکہ پورے بھارت میں اب لوگ بھارتیہ جنتا پارٹی پراعتماد کرنے لگے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ یہی پارٹی ملک کی ہمہ جہت اور جامع ترقی ممکن بنا سکتی ہے۔ انہوں نے آسام میں پارٹی کی جیت کو غیر معمولی قرار دیا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان اسمبلی انتخابات کے نتائج کے بھارت کی قومی سیاست پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ مودی حکومت کو اقتدار میں آئے ہوئے اگلے ہفتے دو برس مکمل ہو رہے ہیں اور اس پر اپنے انتخابی وعدوں کو پورا نہ کرنے اور دیگر پارٹیوں کی ریاستی حکومتوں کو گرانے کی سازش کرنے کے جو الزامات عائد کیے جارہے تھے وہ کسی حد تک پس پشت چلے جائیں گے۔ دوسری طرف ملک کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں اگلے سال ہونے والے اسمبلی انتخابات میں پارٹی زیادہ جوش و خروش کے ساتھ میدان میں آسکے گی۔ بہرحال وزیر اعظم نریندر مودی کو اقتصادی اصلاحات کے حوالے سے اہم بل پاس کرانے میں پارلیمان کے ایوان بالا یعنی راجیہ سبھا میں ابھی بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا کیوں کہ وہاں اپوزیشن کو اکثریت حاصل ہے۔ کانگریس نے ان انتخابات میں اپنی شکست تسلیم کرلی ہے ۔پارٹی کے نائب صدر راہل گاندھی نے ایک ٹوئٹ میں کہا، ’’میں عوام کے فیصلے کے آگے سر تسلیم خم کرتا ہوں اور وعدہ کرتا ہوں کہ ان کی بہتری کے لئے کام کرتا رہوں گا۔‘‘ دوسری طرف کانگریس کے ایک سینئر رہنما اور سابق معاون وزیر خارجہ ششی تھرور نے اس شکست کو تاریخی تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ سیاست میں ہار جیت ہوتی رہتی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پورے بھارت میں اگر بی جے پی کا کوئی متبادل ہے تو وہ کانگریس ہی ہے۔

بھارت کی پانچ اہم ریاستوں کے صوبائی انتخابات میں وزیر اعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی شمال مشرقی ریاست آسام میں پہلی مرتبہ کامیاب ہوئی جب کہ کانگریس پارٹی کے ہاتھوں سے مزید دو ریاستیں نکل گئیں۔ سیاسی لحاظ سے اہمیت کی حامل پانچ بھارتی ریاستوں آسام، مغربی بنگال، تمل ناڈو، کیرالہ اور پڈوچیری میں صوبائی اسمبلی کے انتخابات ... Read More »

آئینی بحران کے حل کے لیے وقت درکار ہے، پولینڈ

پولش نائب وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ پولینڈ کو آئینی کورٹ ڈیڈ لاک سے نکلنے کے لیے مزید وقت درکار ہو گا۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ وارسا حکومت کو اس مسئلے کو فوری طور پر حل کر لینا چاہیے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز نے پولش حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ وارسا کی کوشش ہے کہ جلد ہی اس مسئلے کو حل کر لیا جائے لیکن انتظامی وجوہات کی بنا پر اس مزید وقت درکار ہو سکتا ہے۔ تاہم بدھ کے دن یورپی کمیشن نے وارسا پر دباؤ میں مزید اضافہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ملکی سطح پر عدلیہ میں کی جانے والی اصلاحات پر یونین کی تحفظات کو فوری طور پر دور کیا جائے۔ یورپی کمیشن نے مزید کہا ہے کہ آئندہ ہفتے کے دوران اگر تناظر میں مزید تاخیر کی گئی تو برسلز باقاعدہ طور پر کارروائی کر سکتاہے۔ پولینڈ میں گزشتہ برس نومبر میں قدامت پسندوں کی طرف سے اقتدار سنبھالنے کے بعد کچھ ایسے متنازعہ اقدامات اٹھائے ہیں، جن سے انسانی حقوق کے کارکنان کو خدشہ ہے کہ عدلیہ اور پبلک براڈ کاسٹرز پر حکومت کی گرفت مضبوط ہو سکتی ہے۔ یورپی کمیشن نے جنوری میں ان اعتراضات کے نتیجے میں ایک کمیٹی قائم کیا تھا، جس نے پولینڈ میں ہونے والی اصلاحات کا جائزہ لینا تھا۔ اس انکوائری رپورٹ میں کمیٹی نے کچھ تجاویز دی تھیں، جس پر ابھی تک موثر طریقے سے عملدرآمد نہیں کیا جا سکا ہے۔ یورپی کمیشن کو سب سے زیادہ اعتراض اس بات پر ہے کہ نئے حکومتی اقدامات کی وجہ سے پولینڈ میں آئینی ٹریبیونل میں ججوں کی تقرری میں حکومت کا اختیار بڑھ سکتا ہے۔ اسی طرح میڈیا کے شعبے میں ہونے والی اصلاحات میں بھی پولش حکومت کو زیادہ اختیار حاصل ہو گیا ہے کہ وہ پبلک براڈکاسٹر اداروں میں اعلیٰ عہدوں پر اپنی پسند کے امیدوروں کو ترجیح دے سکے گی۔

پولش نائب وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ پولینڈ کو آئینی کورٹ ڈیڈ لاک سے نکلنے کے لیے مزید وقت درکار ہو گا۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ وارسا حکومت کو اس مسئلے کو فوری طور پر حل کر لینا چاہیے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز نے پولش حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ وارسا کی کوشش ہے کہ ... Read More »

مالدیپ نے ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کر دیے

مالدیپ نے سعودی عرب کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ایران کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات ختم کر لیے ہیں۔ مالدیپ نے ایران پر مشرق وسطیٰ میں امن و سلامتی کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا ہے۔ مالدیپ کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے،’’مشرق وسطیٰ کے حوالے سے ایران کی پالیسیاں اس خطے میں سکیورٹی اور امن کے لیے انتہائی نقصان دہ ہیں۔‘‘ اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مالدیپ ایران سے اس لیے اپنے تعلقات ختم کر رہا ہے کیوں کہ مشرق وسطیٰ کا امن مالدیپ کے امن وسلامتی سے جڑا ہوا ہے۔ مالدیپ نے ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات کا آغاز سن 1975ء میں کیا تھا لیکن دونوں ممالک کا ایک دوسرے کے ملک میں نہ ہی کوئی سفارتخانہ ہے اور نہ ہی کوئی قونصل خانہ۔ سری لنکا میں موجود ایرانی سفیر نے گزشتہ ماہ مالدیپ کے صدر عبداللہ یامین سے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات کے بعد عبداللہ یامین نے امید ظاہر کی تھی کہ مالدیپ اور ایران کے تعلقات مضبوط ہو سکتے ہیں اور ان کا ملک ایران سے تیل درآمد کر سکے گا۔ واضح رہے کہ مالدیپ میں تین لاکھ چالیس ہزار کے لگ بھگ سنی مسلمان آباد ہیں۔ دوسری جانب سنی مسلمانوں کے اکثریتی ملک سعودی عرب نے مالدیپ کی مالی امداد بڑھا دی ہے۔ حال ہی میں سعودی عرب نے مالدیپ کے عسکری ہاؤسنگ منصوبے کے لیے 50 ملین ڈالر کی امداد کا اعلان کیا ہے۔ ایک مقامی ویب سائٹ کے مطابق مالدیپ اپنے ایئرپورٹ کی توسیع کے لیے بھی سعودی عرب سے ایک سو ملین ڈالر کی امداد حاصل کرنے کی توقع کر رہا ہے۔گزشتہ چند برسوں میں سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے سیاحت کے لیے مشہور مالدیپ کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔ یاد رہے کہ سعودی عرب نے ایران کے ساتھ اس برس جنوری میں اپنے سفارتی تعلقات ختم کر دیے تھے۔ اس کی بڑی وجہ سعودی عرب میں ایک شعیہ رہنما کو پھانسی دیے جانے کے بعد ایران میں سعودی سفارتخانے پر مشتعل مظاہرین کا حملہ بنا۔

مالدیپ نے سعودی عرب کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ایران کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات ختم کر لیے ہیں۔ مالدیپ نے ایران پر مشرق وسطیٰ میں امن و سلامتی کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا ہے۔ مالدیپ کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے،’’مشرق وسطیٰ کے حوالے سے ایران کی پالیسیاں ... Read More »

اڈومينی ميں پھنسے پناہ گزين حالات کا مقابلہ کس طرح کر رہے ہيں؟

شمالی يونان ميں اڈومينی کے مقام پر کئی مہينوں سے پھنسے مہاجرين اب اپنا پيٹ پالنے اور ديگر ضروريات پوری کرنے کے ليے نت نئے طريقے اختيار کر رہے ہيں۔ بہت سوں نے چھوٹے چھوٹے کاروبار شروع کر ليے ہيں۔ سامنے کچھ ہی فاصلے پر سرحد ہے جہاں دھاری دھار باڑ نصب ہے۔ مقدونيہ کے فوجی چوکنا کھڑے ہيں۔ ادھر پينتيس سالہ عراقی پناہ گزين صائمہ ہوڈيپ اسٹيل کی ايک راڈ کی مدد سے روٹی کے ليے آٹا گوند رہی ہے اور اس کی منتظر ہے کہ کچھ صارفين آئيں گے اور اس سے روٹی خريديں گے۔ شمالی يونان ميں اڈومينی کے مقام پر اپنا پيٹ پالنے کے ليے اس قسم کا چھوٹا موٹا کام کرنے والی صائمہ تنہا نہيں بلکہ انتظار کرتے کرتے اور حالات سے تھک ہار کے کئی لوگ اس راستے پر چل رہے ہيں۔ يونان اور مقدونيہ کی سرحد پر واقع اڈومينی کے مہاجر کيمپ ميں اس وقت بھی قريب دس ہزار پناہ گزين قيام پذير ہيں۔ يہ يورپ کا اس وقت سب سے بڑا مہاجر کيمپ ہے اور يہاں مقيم لوگ، يونانی حکام کی تمام تر کوششوں کے باوجود يہ مقام چھوڑنے کو تيار نہيں۔ صائمہ يوميہ بنيادوں پر تقريباً ايک سو روٹياں فروخت کرتی ہے۔ اس کی سترہ سالہ بيٹی ساون کہتی ہے، ’’کچھ ہی ہفتے قبل ہمارے پيسے ختم ہونے کے بعد ميرے والدين کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا، انہيں رقم کا انتظام کرنے کے ليے کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی تھا۔‘‘ چار ماہ قبل شروع ہونے والے اڈومينی کے اس کيمپ ميں اس وقت شامی، عراقی اور افغان پناہ گزين پناہ ليے ہوئے ہيں۔ جس وقت يہ کيمپ شروع ہوا تھا، اس وقت جرمنی جيسے ملکوں ميں پناہ کے ليے متعدد تارکين وطن اس راستے سے مغربی يورپ کی جانب بڑھ رہے تھے۔ تاہم بعد ازاں بلقان خطے کے ممالک کی جانب سے متعارف کردہ سرحدی بندشوں کے نتيجے ميں يہ عمل رک گيا اور اس مقام پر موجود ہزارہا پناہ گزين يہيں پھنس کر رہ گئے۔ يونانی حکام کی کوششوں اور مقدونيہ کی افواج کی جانب سے آنسو گيس کے استعمال کے باوجود يہ لوگ وہاں سے ہلنے کا نام ہی نہيں ليتے۔ آج کل اس کيمپ ميں تين مساجد ہيں، چھوٹے بچوں اور بڑے بچوں کا ايک ايک اسکول ہے اور مشرق وسطیٰ کے معروف پکوان فلافل بنانے کی کم از کم چار دکانيں ہيں۔ رعيد انبوٹے کا تعلق شامی شہر حلب سے ہے۔ وہ اڈومينی ميں تين ماہ سے پھنسا ہوا ہے جب کہ اس کے اہل خانہ جرمنی پہنچ چکے ہيں۔ پچھلے دس دنوں سے وہ اپنا پيٹ پالنے کے ليے فلافل بنا کر بيچ رہا ہے۔ اسی طرح کی ايک اور مثال رضوان کيکو کی ہے، جو انتيس سالہ ہے اور فلسطين کا رہنے والا ہے۔ وہ آج کل کيمپ ميں پھل وغيرہ فروخت کرتا ہے تاکہ شوگر کی مريضہ اپنی والدہ کے ليے انسولين اور ديگر ادويات خريد سکے۔ اقوام متحدہ کے ہائی کميشن برائے مہاجرين يو اين ايچ سی آر کے مقامی دفتر کے سربراہ مارکو برونو کے بقول ايسے چھوٹے چھوٹے کاروباروں کا فروغ ممکنہ طور پر اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ يہ لوگ سمجھ چکے ہيں کہ بارڈر اب بند ہی رہے گا۔

شمالی يونان ميں اڈومينی کے مقام پر کئی مہينوں سے پھنسے مہاجرين اب اپنا پيٹ پالنے اور ديگر ضروريات پوری کرنے کے ليے نت نئے طريقے اختيار کر رہے ہيں۔ بہت سوں نے چھوٹے چھوٹے کاروبار شروع کر ليے ہيں۔ سامنے کچھ ہی فاصلے پر سرحد ہے جہاں دھاری دھار باڑ نصب ہے۔ مقدونيہ کے فوجی چوکنا کھڑے ہيں۔ ادھر ... Read More »

نقل کے لیے عقل استعمال کرنے والے بھی پکڑے گئے

تھائی لینڈ میں جاسوسی کے کیمروں سے نقل کرنے والے طلبا پکڑے گئے ہيں۔ یہ طلباء نقل کرنے کے لیے ہائی ٹیک آلات کا استعمال کر رہے تھے کہ اُن کے ٹیچروں نے انہیں پکڑ لیا۔ تھائی لینڈ میں نقل کے لیے جاسوس کیمروں اور اسمارٹ واچ کے استعمال کو انگریزی فلم ’مشن امپاسیبل‘ کے پلاٹ سے تشبیہ دی گئی ہے۔ مشہور رانگ سیٹ یونیورسٹی نے نقالی کے جدید انداز کی تصاویر جاری کی ہیں۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے میڈیکل کالج میں داخلے کے امتحان میں ہائی ٹیک نقالی کے عمل کے افشاء پر داخلے کے امتحان کو منسوخ کر دیا ہے۔ انتظامیہ نے نقل کرنے والے طلبا کی تعداد تین بیان کی ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے تینوں طلبا اور ٹیوٹر گروپ کے ناموں کی تفصیل جاری نہیں کی ہے۔ رانگ سیٹ یونیورسٹی کے ریکٹر ارہیٹ اوئراٹ نے بتایا ہے کہ تین طلبا نے اِس نقالی کے طریقے کے لیے فی کس آٹھ لاکھ بھاٹ یا تیئس ہزار امریکی ڈالر دیے تھے اور سسٹم کے پیچھے ایک ٹیوٹر گروپ طلباء کو سوالات کے جوابات فراہم کرنے پر مامور تھا۔ اسی ٹیوٹر گروپ نے نقالی کے ہائی ٹیک پلان کو وضع کرتے ہوئے اِس کے لیے سسٹم کو ڈیزائن کیا۔ ان تینوں طلبا کی عینکوں میں وائر لیس کیمرے نصب کیے گئے تھے۔ ان کیمروں سے ٹیوٹر گروپ سوالات دیکھ کر جواب اسمارٹ واچ کے ذریعے روانہ کر رہے تھے۔ تھائی لینڈ کے ایک ٹیلی وژن کے مطابق نقل کرنے والے تینوں طلبا کو بلیک لسٹ کر دیا گیا ہے۔ یونیورسٹی کے ریکٹر نے نقل کرنے والوں کو پکڑنے والی ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اُن کی ٹیم نے مقررہ وقت میں کامیابی حاصل کی اور یہ قابلِ تعریف ہے۔ تھائی لینڈ کے چینل تھری پر یونیورسٹی کے ریکٹر ارہیٹ اوئراٹ نے بتایا کہ نقالی کے اِس سسٹم کو جلد ٹیلی وژن پر دکھایا جائے گا تاکہ دوسرے کالجوں اور یونیورسٹیوں کی انتظامیہ کو بھی ایسے ہائی ٹیک نقالی کے نظام بارے معلومات حاصل ہو سکيں۔ تھائی لینڈ میں ڈاکٹر بننا ایک پرکشش پروفیشن خیال کیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ڈاکٹری کی ڈگری کے ساتھ پرائیویٹ سیکٹر میں نوکری اور اچھی تنخواہ ملنا قدرے آسان خیال کیا جاتا ہے۔ تھائی لینڈ کو مشرقِ بعید میں علاج کا ایک بڑا گڑھ قرار دیا جاتا ہے۔ دوسری جانب اقتصادی طور پر بہتر کارکردگی دکھانے کے بعد بھی تھائی تعلیمی ادارے عالمی درجہ بندی میں خاصے نیچے خیال کیے جاتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ کمزور تعلیمی نظام اور فرسودہ نصاب قرار دیا جاتا ہے۔ گلوبل ایجوکیشن اسٹینڈرڈز کے مطابق تھائی طلبا عالمی معیار سے کہیں کم ہیں اور ان سے بہتر تو ویت نام کے طلبا کو قرار دیا جاتا ہے۔

تھائی لینڈ میں جاسوسی کے کیمروں سے نقل کرنے والے طلبا پکڑے گئے ہيں۔ یہ طلباء نقل کرنے کے لیے ہائی ٹیک آلات کا استعمال کر رہے تھے کہ اُن کے ٹیچروں نے انہیں پکڑ لیا۔ تھائی لینڈ میں نقل کے لیے جاسوس کیمروں اور اسمارٹ واچ کے استعمال کو انگریزی فلم ’مشن امپاسیبل‘ کے پلاٹ سے تشبیہ دی گئی ... Read More »

جرمنی : اسمارٹ فون ايپليکيشن کے ذريعے اپنی قابليت منوائيں

جرمنی ميں ايک ايسی اسمارٹ فون ايپ موجود ہے، جس کی مدد سے سياسی پناہ کے متلاشی افراد روزگار کی منڈی تک رسائی کے ليے اپنی تعليمی اور پيشہ وارانہ صلاحيتوں کو منوا سکتے ہيں يا مقامی سطح پر ان کی قدر کا اندازہ لگا سکتے ہيں۔ وفاقی جرمن ادارہ برائے ہجرت و مہاجرين کے ايک پروگرام کے تحت ايک ايسی اسمارٹ فون ايپ تيار کی گئی ہے جس کی بدولت پناہ کے متلاشی لوگ اپنی پيشہ وارانہ صحلاحيتوں اور قابليتوں کو مقامی مارکيٹ ميں منوا سکتے ہيں يا ان کی قدر کا اندازہ لگا سکتے ہيں۔ ايپليکيشن کو اينڈروئيڈ، ايپل اور ونڈوز کے اسمارٹ فونز يا ٹيبلٹس کے ليے تيار کی گئی ہے اور اسے جرمن زبان کے علاوہ پشتو، عربی، دری اور فارسی ميں بھی استعمال کيا جا سکتا ہے۔ يہ ايپليکشن صارفين کو آسان زبان ميں متعلقہ موضوع پر ابتدائی معلومات فراہم کرنے کے علاوہ مختلف محکموں کے بارے ميں مطلع کرتی ہے۔ جرمنی کی وفاقی وزير برائے تعليم يوہانا وانکا کے مطابق، ’’مہاجرين کو ابتدائی سہوليات اور رہائش کی فراہمی کے بعد اگلے مرحلے ميں ان کی تعليم و تربيت سميت پيشہ وارانہ تربيت پر زور دیا جا رہا ہے۔‘‘ ان کے بقول مہاجرين اور ان کی مدد کرنے والے اداروں اور افراد کو قابل بھروسہ معلومات درکار ہوتی ہے، جو انہيں پيشہ وارانہ قابليت کے تعين ميں بلا رکاوٹ مدد فراہم کر سکے۔ ان کے مطابق ان عوامل کے ليے يہ ايپليکيشن کافی کار آمد ثابت ہو سکتی ہے۔ يہ ايپليکيشن صارفين کو ان سے قريب ترين واقع ايسے مشاورتی محکموں کی تفصيلات فراہم کرتی ہے، جو فنڈنگ پروگرام سے منسلک ہوں۔ بعد ازاں کونسلنگ سينٹر مزيد معلومات فراہم کرتا ہے۔ اس ايپليکيشن کی فنڈنگ وفاقی جرمن ادارہ برائے ووکيشنل ايجوکيشن اور ٹريننگ کی جانب سے گئی ہے اور اسے ايپ اسٹور سے بلا معاوضہ ڈاؤن لوڈ کيا جا سکتا ہے۔ ايپليکيشن کو مندرجہ ذيل ايڈريس سے بھی ڈاؤن لوڈ کيا جا سکتا ہے:۔ بيرون ملک حاصل کردہ تعليم اور پيشہ وارانہ تربيت کی جرمنی ميں قدر معلوم کرنے کے ليے يہاں مستقل رہائش کی اجازت ہونا لازمی نہيں۔ يہ امر اہم ہے کہ جرمنی ميں چند ملازمتوں کے ليے نہ عمل لازمی ہے، مثال کے طور پر ڈاکٹر، نرس يا استاد کی حيثيت سے کام کرنے کے ليے جرمنی ميں مقامی سطح پر ڈگريوں يا تربيت کا موزانہ لازمی ہے۔

جرمنی ميں ايک ايسی اسمارٹ فون ايپ موجود ہے، جس کی مدد سے سياسی پناہ کے متلاشی افراد روزگار کی منڈی تک رسائی کے ليے اپنی تعليمی اور پيشہ وارانہ صلاحيتوں کو منوا سکتے ہيں يا مقامی سطح پر ان کی قدر کا اندازہ لگا سکتے ہيں۔ وفاقی جرمن ادارہ برائے ہجرت و مہاجرين کے ايک پروگرام کے تحت ايک ... Read More »

انڈونیشیا میں انتہا پسندی کے خلاف مسلمان سائبر آرمی فعال

’سائبر آرمی‘ پرعزم ہے کہ وہ جہادی نظریات کا زہریلا اثر ختم کرنے کے لیے اسلام کے اعتدال پسندانہ نظریات کا پرچار کرتی رہے گی۔ یہ ’آرمی‘ انٹرنیٹ کے ذریعے داعش کے جارحانہ میڈیا پراپیگنڈے کا جواب دینے کی کوشش میں ہے۔ انڈونیشیا کی ’نہضہ العلماء‘ نامی تنظیم دنیا بھر میں مسلمانوں کی سب سے بڑی تنظیم ہے۔ اس تنظیم کے مطابق اس کے ممبران کی تعداد چالیس ملین ہے۔ انڈونیشیا میں ایک طویل عرصے سے سرگرم اس اسلامی تنظیم نے حال ہی میں ایک نیا منصوبہ شروع کیا، جس کے تحت اسلام کی اعتدال پسندانہ تشریحات کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد دراصل انتہا پسند گروپ داعش کے سخت نظریات اور اسلام کی سخت تشریحات کا جواب دینا ہے۔ اس تنظیم کے تقریباﹰ پانچ سو ممبران کو خصوصی طور پر فرائض سونپے گئے ہیں کہ وہ نہ صرف ملک بھر میں بلکہ عالمی سطح پر انٹرنیٹ پر جہادیوں کی طرف سے شروع کیے گئے پراپیگنڈے کا جواب دیں۔ اس مقصد کے لیے انہیں کمپیوٹرز، لیپ ٹاپس اور سمارٹ فونز مہیا کیے گئے ہیں۔ ’نہضہ العلماء‘ کے ایک سینیئر ممبر سیافی علی اپنی ایک ٹویٹ میں کہتے ہیں، ’’ہم اسلام کو ایسے لوگوں کے ہاتھوں ہائی جیک نہیں ہونے دیں گے، جو نفرت پھیلاتے ہیں۔‘‘ اس اسلامی تنظیم نے اپنی اس ٹیم کو ’سائبر آرمی‘ قرار دیا ہے۔ داعش کی طرف سے جدید اور مربوط انداز سے کیے جانے والے سائبر پراپیگنڈے کے باعث متعدد لوگ اس جہادی گروہ کی طرف مائل ہوئے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ صرف انڈونیشیا میں ہی پانچ سو افراد جہادی سوچ اپنانے کے بعد داعش کے شانہ بشانہ لڑنے کی خاطر مشرق وسطیٰ جا چکے ہیں۔ ایسے خدشات بھی موجود ہیں کہ آبادی کے لحاظ سے دنیا کے سب سے بڑے اسلامی ملک انڈونیشیا میں داعش اپنی جڑیں مزید مضبوط بنا سکتی ہے۔ اسی صورتحال کے تناظر میں ’نہضہ العلماء‘ کی سائبر آرمی کچھ پریشان بھی ہے، کیونکہ اس کا کہنا ہے کہ اس کے پاس وہ مالی وسائل نہیں، جو جہادیوں کے پاس ہیں۔ اگرچہ اس مسلم تنظیم نے اسلام کے اعتدال پسندانہ نظریات کے فروغ کے لیے ویب سائٹس اور ایپس کے علاوہ ایک ٹیلی وژن اسٹیشن بھی بنا لیا ہے لیکن پھر بھی داعش کے میڈیا سیل کا پراپیگنڈا زیادہ بڑے پیمانے پر جاری ہے۔ ’نہضہ العلماء‘ کے سیکرٹری جنرل یحییٰ نے اے ایف پی کو بتایا کہ انہیں بنیاد پرستانہ اور شدت پسندانہ پراپیگنڈے سے نمٹنے میں مشکلات درپیش ہیں، ’’جب بھی ہم انہیں کسی سائبر محاذ پر شکست دیتے ہیں، تو دیر نہیں لگتی کہ وہ دوبارہ اس کا جواب دے دیتے ہیں۔‘‘ اچھی نیت کے باوجود ’نہضہ العلماء‘ کی سائبر آرمی داعش کے جنگجوؤں کے مقابلے میں کمزور معلوم ہوتی ہے۔ جہادیوں کے آن لائن آپریشن انتہائی مربوط اور جدید ہیں۔ وہ اس مقصد کے لیے سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز کا انتہائی چابکدستی سے استعمال کر رہے ہیں۔ فیس بک، ٹوئٹر، وٹس ایپ، لائن یا دیگر آن لائن ذرائع سے ان کے پیغامات ارسال کرنے کی رفتار انتہائی تیز ہے۔ امریکی حکام کے اعداد و شمار کے مطابق یہ جہادی گروہ صرف امریکا میں روزانہ دو لاکھ جہادی پیغامات بھیجتا ہے۔ داعش کی اپنی ایک نیوز ایجنسی بھی ہے۔ عماق نامی خبر رساں ادارہ ہی جہادیوں کی طرف سے کی جانے والی پرتشدد کارروائیوں کی خبریں بریک کرتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ گروہ تشہیری ویڈیوز بنانے میں بھی مہارت رکھتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اسی طرح انٹرنیٹ پر پراپیگنڈے کی مدد سے یہ انتہا پسند گروہ دنیا بھر میں اپنے لیے نئے جہادیوں کی بھرتی کا کام بھی کرتا ہے۔ انڈونیشیا میں انسداد دہشت گردی کے ماہر روبی سوگارا کے مطابق البتہ ’نہضہ العلماء‘ کی کوشش قابل ستائش ہے کیونکہ آج کل جہادی نظریات کا پرچار انٹرنیٹ پر کچھ زیادہ ہی ہو چکا ہے، ’’اسلامی نظریات کے حوالے سے انٹرنیٹ ایک میدان جنگ بن چکا ہے۔ اعتدال پسندی کی حامی جتنی زیادہ ویب سائٹس بنائی جائیں گی، لوگوں کے ذہن اتنے ہی زیادہ صحت مند رہیں گے۔‘‘

’سائبر آرمی‘ پرعزم ہے کہ وہ جہادی نظریات کا زہریلا اثر ختم کرنے کے لیے اسلام کے اعتدال پسندانہ نظریات کا پرچار کرتی رہے گی۔ یہ ’آرمی‘ انٹرنیٹ کے ذریعے داعش کے جارحانہ میڈیا پراپیگنڈے کا جواب دینے کی کوشش میں ہے۔ انڈونیشیا کی ’نہضہ العلماء‘ نامی تنظیم دنیا بھر میں مسلمانوں کی سب سے بڑی تنظیم ہے۔ اس تنظیم ... Read More »

کینیڈا، آگ پھیلتی ہوئی سیسکیچوان پہنچ گئی

کینیڈا کے صوبے البرٹا میں گزشتہ سات دنوں سے لگی جنگلاتی آگ مزید پھیلتی ہوئی ہمسایہ ریاست سیسکیچوان پہنچ گئی ہے جبکہ اس پر قابو پانے کی کوششوں میں کئی ماہ درکار ہو سکتے ہیں۔ فورٹ میکمری میں اتوار کے دن بارش شروع ہو گئی ہے، جسے آگ بجھانے کی کوشش میں معاون قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم ابھی تک اس آگ کے شعلوں میں دوگنا اضافہ ہو چکا ہے۔ البرٹا اور ساسکیچوان میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے اور لوگوں کو خبردار رہنے کا کہا گیا ہے۔ کینیڈا کے صوبے البرٹا کے علاقے فورٹ میکمری میں یہ آگ گزشتہ اتوار کو عالمی وقت کے مطابق رات دس بجے بھڑکی، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے ایک بڑے رقبے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ حکام نے بتایا ہے کہ آگ اتنی تیزی سے پھیلی کہ لوگوں کو اپنا سامان محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا وقت بالکل نہ ملا۔ صوبائی حکومت کے مطابق ایک لاکھ سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ بہت سے لوگ نزدیکی علاقوں میں عارضی رہائش گاہوں میں بھی رہنے پر مجبور ہیں۔ صورتحال کی سنگینی کے تناظر میں حکام نے خبردار کیا ہے کہ یہ آگ اب ہمسایہ ریاست سیسکچیوان کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ ابھی تک اس آگ کے باعث ہونے والی تباہ کاریوں کی وجہ سے کسی کے ہلاک ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔ آٹھ مئی بروز اتوار فورٹ میکمری میں بارش شروع ہوگئی ہے۔ فائر فائٹرز کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ ٹھنڈی ہوا اور بارش کی وجہ سے آگ پر قابو پانے میں مدد مل سکے گی لیکن پھر اس آگ کو مکمل طور پر کنٹرول کرنے میں کئی ماہ درکار ہو سکتے ہیں۔ پانچ سو سے زائد فائر فائٹرز پندرہ ہیلی کاپٹروں اور چودہ ایئر ٹینکرز کے ساتھ اس آگ پر قابو پانے کی کوشش میں ہیں۔ البرٹا حکومت کے مطابق اب تک یہ آگ دو لاکھ ہیکٹرز (چار لاکھ پچانوے ہزار ایکڑ) تک پھیل چکی ہے۔ گزشتہ ہفتے کے دوران گرم اور خشک موسم کے ساتھ ساتھ تیز ہواؤں نے اس آگ کو بھڑکانے میں اہم کردار کیا۔ محکمہ جنگلات کے مطابق اس علاقے میں گزشتہ دو ماہ سے بارش نہیں ہوئی تھی، جس کی وجہ سے موسم زیادہ گرم رہا۔ البرٹا وائلڈ فائر محکمے سے وابستہ چاڈ موریسن نے روئٹرز کو بتایا کہ اتنے بڑے پیمانے پر لگی آگ کو بجھانے میں انتہائی مشکلات درپیش آتی ہیں اور اگر زیادہ مقدار میں بارش نہ ہوئی تو مسائل شدید بھی ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ رہائشی علاقوں کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچانے کا عمل بھی جاری ہے۔ ایسے خدشات بھی برقرار ہیں کہ یہ آگ پھیلتے ہوئے سانکور آئل سینڈز فیلڈ کے قریب پہنچ سکتی ہے۔ یہ مقام فورٹ میمکری سے پندرہ میل دور شمال میں واقع ہے۔ تاہم حکام نے کہا ہے کہ فائر فائٹرز کی بھرپور کوشش ہے کہ اس آگ کو اس مقام تک نہ پھیلنے دیا جائے۔ اسی اثناء اس آئل فیلڈ میں تعینات غیر ضروری عملے کو نکال لیا گیا ہے۔ اس آگ کی وجہ سے کینیڈا کی تیل کی پیداوار بھی متاثر ہونے کے امکانات ہیں، جس کی وجہ سے اقتصادی نقصان ہونا بھی ناگزیر ہو جائے گا۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے کینیڈا کو پہلے بھی مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ البرٹا میں تیل کے ذخائر کو دنیا میں پائے جانے والے تیل کے تیسرے بڑے ذخائر کا درجہ حاصل ہے۔

کینیڈا کے صوبے البرٹا میں گزشتہ سات دنوں سے لگی جنگلاتی آگ مزید پھیلتی ہوئی ہمسایہ ریاست سیسکیچوان پہنچ گئی ہے جبکہ اس پر قابو پانے کی کوششوں میں کئی ماہ درکار ہو سکتے ہیں۔ فورٹ میکمری میں اتوار کے دن بارش شروع ہو گئی ہے، جسے آگ بجھانے کی کوشش میں معاون قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم ابھی ... Read More »

کینیڈا: البیرٹا میں آتشزدگی، ہنگامی حالت کا نفاذ

کینیڈا کے صوبے البیٹرا میں آسمان کو چھوتی ہوئی آگ بے قابو انداز میں مسلسل آگے بڑھ رہی ہے۔ حکام نے کسی بڑے نقصان کے پیش نظر علاقے میں ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے۔ البیٹرا کے حکام کے مطابق آگ بجھانے والا عملہ تیز ہواؤں کی وجہ سے ابھی تک آگ کو آگے بڑھنے سے روکنے میں ناکام ہے، جس کی وجہ سے ہنگامی حالت نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ شعلوں کی زد میں آ کر ابھی تک سولہ سو مکانات اور کئی دیگر عمارتیں خاکستر ہو چکی ہیں۔ آگ سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا علاقہ فورٹ میک مری ہے، جہاں سے اسی ہزار سے زائد شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔ البیٹرا کی وزیر اعلٰی ریشل نوٹلی نے آگ سے ہونے والے نقصان کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ فائر بریگیڈ کے کارکنوں کی ناقابل بیان کوششوں کی وجہ سے شعلے شہر کے مرکز تک نہیں پہنچ سکے۔ ابھی تک کسی بھی شخص کی ہلاکت یا شدید زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ بدھ کو رات دیر گئے آگ ہوائی اڈے کے قریب پہنچ گئی تھی تاہم وہاں موجود عملے نے فوری طور پر شعلوں پر قابو پا لیا۔ اس دوران فورٹ میک مری آنے اور وہاں سے جانے والی تمام پروازیں منسوخ کر دی گئی تھیں۔ غیر متوقع شدید گرمی اور خشک موسم کی وجہ سے البیٹرا کے دیگر جنگلاتی علاقوں میں کسی وقت بھی آگ بھڑک سکتی ہے۔ فورٹ میک مری کا علاقہ بھی جنگلات میں گھرا ہوا ہے اور یہاں پر سعودی عرب اور وینیزویلا کے بعد دنیا میں خام تیل کے تیسرے بڑے ذخائر پائے جاتے ہیں۔ البیرٹا کی وزیر اعلی نوٹلی نے متاثرہ علاقوں کا دورہ بھی کیا اور فضائی جائزے کے دوران اتاری گئی تصاویر بھی پوسٹ کیں، ’’ فضا سے دکھائی دینے والے مناظر دل دہلا دینے والے ہیں۔‘‘ اس دوران ایک جانب فائر بریگیڈ کا عملہ آگ کو آگے بڑھنے سے روک رہا ہے جبکہ دوسری جانب ہائی وے اور ایک اہم پل کو تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ہائی وے 63 پر گاڑیوں کی قطاریں لگی ہوئی ہیں اور بہت سی گاڑیاں ایندھن بھی ختم ہو گیا ہے۔ آگ کے پھیلنے کے ڈر سے ہائی وے پر کئی پٹرول پمپ بھی بند کر دیے گئے تھے، جن میں اب کئی کو کھول دیا گیا تھا۔

کینیڈا کے صوبے البیٹرا میں آسمان کو چھوتی ہوئی آگ بے قابو انداز میں مسلسل آگے بڑھ رہی ہے۔ حکام نے کسی بڑے نقصان کے پیش نظر علاقے میں ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے۔ البیٹرا کے حکام کے مطابق آگ بجھانے والا عملہ تیز ہواؤں کی وجہ سے ابھی تک آگ کو آگے بڑھنے سے روکنے میں ناکام ہے، ... Read More »

ہیرا اتنا بڑا جتنا ٹینس بال، ستر ملین ڈالر میں نیلامی متوقع

گزشتہ ایک صدی سے بھی زائد عرصے کے دوران دریافت کیا گیا دنیا کا سب سے بڑا ہیرا ٹینس بال کے سائز کا ہے، جو جون میں لندن میں نیلام کیا جائے گا۔ یہ ہیرا ستر ملین ڈالر سے زائد کے عوض فروخت ہو گا، جو نیا عالمی ریکارڈ ہو گا۔ برطانوی دارالحکومت لندن سے بدھ چار مئی کے روز موصولہ نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق انتہائی بیش قیمت نوادرات کی فروخت کے لیے مشہور نیلام گھر کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ ماہرین کی رائے میں یہ بہت بڑا ہیرا تین بلین سال پرانا ہے اور پچھلے ایک سو سال سے بھی زائد عرصے کے دوران دنیا میں کہیں بھی اس سے بڑا ہیرا دریافت نہیں ہوا۔ اس ہیرے کو لیسیڈی لا رونا کا نام دیا گیا ہے اور اس کی نیلامی لندن میں 29 جون کو ہو گی۔ یہ ’عظیم الجثہ‘ ہیرا گزشتہ برس نومبر میں افریقی ملک بوٹسوانہ میں ہیروں کی ایک کان سے نکالا گیا تھا۔ یہ کان ہیروں کی کان کنی کرنے والی کینیڈا کی فرم لُوکارا ڈائمنڈ کارپوریشن کی ملکیت ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اس ہیرے کا وزن 1109 قیراط ہے اور یہ انسانی تاریخ میں آج تک دریافت کیا جانے والا دوسرا سب سے بڑا خام ہیرا ہے۔ براعظم افریقہ کے جنوب میں بولی جانے والی سوانہ زبان میں اس ہیرے کے نام کا مطلب ہے: ’ہماری روشنی‘۔ اس ہیرے کی نیلامی کے ذمے دار نیلام گھر کے مطابق یہ خام قیمتی پتھر ’غیر معمولی حد تک شفاف‘ ہے اور اس سے دنیا کو انتہائی اعلیٰ معیار کا آج تک کا وہ سب سے بڑا ہیرا مل جائے گا، جسے تراشنے کے بعد پالش کیا گیا ہو۔ جیولری کے شعبے کے سربراہ ڈیوڈ بینَیٹ کے مطابق اس ہیرے کی نیلامی ایک ایسا عمل ہو گا ، جس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا، ’’اہم بات یہ بھی ہے کہ اتنا بڑا خام اور اتنا شفاف ہیرا اب تک دنیا میں عوامی سطح پر کہیں نیلام ہوا ہی نہیں۔‘‘ عالمی سطح پر سب سے بڑے ہیرے کی دریافت کا ریکارڈ 1905 میں بنا تھا۔ تب جنوبی افریقہ کی ایک کان سے کَلینن نامی ہیرا نکالا گیا تھا، جس کا خام حالت میں وزن 3106 قیراط تھا۔ تب اس ہیرے کو نو بڑے بڑے ٹکڑوں میں کاٹا گیا تھا، جو اس وقت سے برطانوی شاہی خاندان کے جواہرات کا حصہ ہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس نے لکھا ہے کہ ’لیسیڈی لا رونا‘ کی 70 ملین ڈالر سے زائد کے عوض نیلامی متوقع ہے اور یہ کسی ایک ہیرے کی زیادہ سے زیادہ قیمت کا گزشتہ ریکارڈ بھی توڑ دے گا۔ اب تک اس قیمت کا ریکارڈ 48.5 ملین ڈالر ہے، جو 2015 میں جنیوا میں 12.03 قیراط کے ہیرے کے لیے ادا کی گئی تھی۔ یہ ’نیلا چاند‘ ہانگ کانگ کے ارب پتی شہری جوزف لاؤ نے تب اپنی سات سالہ بیٹی کو تحفے میں دینے کے لیے خریدا تھا۔

گزشتہ ایک صدی سے بھی زائد عرصے کے دوران دریافت کیا گیا دنیا کا سب سے بڑا ہیرا ٹینس بال کے سائز کا ہے، جو جون میں لندن میں نیلام کیا جائے گا۔ یہ ہیرا ستر ملین ڈالر سے زائد کے عوض فروخت ہو گا، جو نیا عالمی ریکارڈ ہو گا۔ برطانوی دارالحکومت لندن سے بدھ چار مئی کے روز ... Read More »

Scroll To Top