You are here: Home » بین الاقوامی

Category Archives: بین الاقوامی

Feed Subscription

بھارت ’دشمن کی جائیدادیں‘ فروخت کرے گا

نئی دہلی حکومت نے بھارت چھوڑ کر پاکستان یا چین چلے جانے والے شہریوں کی املاک فروخت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ بھارت چھوڑ جانے والے ان افراد کی جائیدادوں کی مالیت چار سو ملین ڈالر کے برابر ہے۔ بھارتی حکومت کے منصوبے کے مطابق چین اور پاکستان کے ساتھ جنگوں کے بعد ملک چھوڑ کر ان ممالک کا رخ کرنے والے افراد کی املاک فروخت کر دی جائیں گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ’دشمن کی جائیدادیں‘ 996 کمپنیوں کی شکل میں ہیں، جن کے مالک بیس ہزار افراد یا ادارے تھے۔ یہ املاک پاکستان کے ساتھ سن 1947، 1965 اور 1971 کے تنازعات جب کہ سن 1962 میں چین کے ساتھ سرحدی جنگ کے بعد سرکاری قبضے میں لے لی گئی تھیں۔ ’لو جہاد‘ کا کوئی ثبوت نہیں، بھارتی قومی تفتیشی ایجنسی پاکستانی شہر مٹھی، ہندو مسلم رواداری کا نخلستان ان املاک کی فروخت کی نگرانی بھارتی وزیرخزانہ کر رہے ہیں۔ انہیں توقع ہے کہ اس سے حکومت کو 413 ملین ڈالر کی آمدن ہو گی۔ جمعرات کے روز ایک حکومت عہدیدار نے اس منصوبے کا اعلان کیا۔ حکومتی بیان میں کہا گیا ہے کہ اس طرح سے حاصل ہونے والی آمدن کو ملک میں ترقی اور بہبود کے مختلف پروگرامز میں استعمال کیا جائے گا۔ حکومتی بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اینیمی شیئرز‘ نامی اس منصوبے کو بھارت میں 1968 کی اس تعریف کے تحت استوار کیا گیا ہے، جس میں ’دشمن کے اثاثوں‘ کا تعین کیا گیا تھا۔ اس بھارتی قانون کے تحت ایسے افراد جو بھارت یا چین کے ساتھ تنازعات کے بعد ملک چھوڑ کر ان ممالک کو ہجرت کر گئے، ان کی املاک اور اثاثے ’دشمن کی املاک‘ قرار دیے گئے تھے۔ یہ بات اہم ہے کہ ایسے بہت سے افراد بھی موجود ہیں، جن کے رشتہ دار ملک چھوڑ کر ہجرت کر گئے، تاہم وہاں ان کے دیگر رشتہ داروں نے رہنا یا ان املاک کو استعمال کرنا شروع کر دیا۔ سن 2017 میں نریندر مودی کی قوم پرست حکومت نے اس متنازعہ قانون میں ترمیم کی تھی، جس کے تحت ایسے بھارتی شہری جو قانونی طور پر یہ جائیداد بھی استعمال کر رہے تھے، ان سے یہ املاک لی جا سکتی ہیں۔ اس ترمیم پر بھارت میں شدید بحث ہوئی تھی، کیوں کہ بھارت سے ہجرت کر کے پاکستان چلے جانے والے زیادہ تر افراد مسلمان تھے جب کہ ان املاک میں بسنے والے خاندانوں کو یہ خدشات لاحق ہو گئے تھے کہ انہیں کسی بھی وقت ان مکانات سے نکالا جا سکتا ہے۔ رواں برس جنوری میں حکومت نے اعلان کیا تھا کہ 9400 ایسی املاک کی شناخت کر لی گئی ہے، جو ’دشمن کے اثاثے‘ ہیں اور انہیں نیلام کیا جائے گا۔ ان شناخت کردہ اثاثوں میں سے 9280 ان افراد کی ہیں، جو بھارت سے پاکستان ہجرت کر گئے، جب کہ 126 ایسی املاک ہیں، جن کے مالک چین چلے گئے تھے۔

نئی دہلی حکومت نے بھارت چھوڑ کر پاکستان یا چین چلے جانے والے شہریوں کی املاک فروخت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ بھارت چھوڑ جانے والے ان افراد کی جائیدادوں کی مالیت چار سو ملین ڈالر کے برابر ہے۔ بھارتی حکومت کے منصوبے کے مطابق چین اور پاکستان کے ساتھ جنگوں کے بعد ملک چھوڑ کر ... Read More »

شام کے ساتھ دو اہم سرحدی گزر گاہيں کھول دی گئيں

اسرائيل نے گولان کے مقبوضہ پہاڑی علاقے ميں شام کے ساتھ قنيطرہ نامی سرحدی گزرگاہ کھول دی ہے جبکہ اسی دوران تجارت اور امدادی اشياء کی ترسيل کے ليے اردن اور شام کے درميان بھی ايک اہم گزر گاہ کھول دی گئی ہے۔ گولان کے مقبوضہ پہاڑی علاقے ميں قنيطرہ نامی اہم سرحدی گزر گاہ کو رواں ہفتے کے آغاز پر دوبارہ کھول ديا گيا ہے۔ سرحدی گزر گاہ کے کھولنے کے ليے پندرہ اکتوبر کو باقاعدہ ايک تقريب منعقد کی گئی، جس ميں اقوام متحدہ کے نمائندے بھی شريک تھے۔ اسرائيل نے سن 2014 ميں شامی خانہ جنگی کے سبب يہ کراسنگ بند کر دی تھی۔ شامی باغيوں کی چھڑھائی کے بعد اقوام متحدہ کے دستے وہاں سے نکل گئے تھے۔ شامی صدر بشار الاسد کی افواج نے قنيطرہ کے علاقے کو رواں سال جولائی ميں بازياب کرايا۔ اب اس سرحدی گزر گاہ کو دوبارہ فعال بنا ديا گيا ہے۔ واضح رہے کہ اس علاقے ميں اقوام متحدہ کی زير نگرانی اسرائيل اور شام کے مابين عسکری سرگرمياں بند رکھنے سے متعلق ايک معاہدے پر عملدرآمد سن 1974 جاری ہے۔ بتايا گيا ہے کہ یہ گزر گاہ کھلنے کے بعد اقوام متحدہ کے امن دستوں کے استعمال ميں رہے گی۔ اسرائيلی فوج کے ترجمان ليفٹيننٹ کرنل جوناتھن کونريکوس کے بقول اقوم متحدہ کے دستوں نے اسرائيلی علاقے ميں اپنی پوزيشنيں سنبھال لی ہيں۔ دريں اثناء پير پندرہ اکتوبر کو ہی ہونے والی اسی طرز کی ايک اور پيش رفت ميں اردن اور شام کے درميان بھی ايک اہم سرحدی گزر گاہ کو کھول ديا گيا۔ اردنی سر زمين پر جابر اور شامی سرزمين پر نصيب کے نام سے جانی جانے والی يہ گزر گاہ پچھلے تين سال سے بند پڑی تھی۔ دونوں ملکوں کے مابين آمد و رفت و تجارت کا اہم ذريعہ بننے والی اس گزر گاہ کو اردن حکومت نے اپريل 2015ء ميں شامی باغيوں کی جانب سے اس علاقے پر قبضے کے بعد بند کر ديا تھا۔ اس سرحدی گزر گاہ سے منسلک علاقے کو شامی حکومت کے دستوں نے روس کی ثالثی ميں طے پانے والی ايک ڈيل کے بعد جولائی ميں بازياب کرايا تھا۔ اردن کا برآمدات اور بيرونی امدادی اشياء پر دار و مدار ہے اور اکثريتی سامان شام سے گزرتا ہے۔ مارچ سن 2011 ميں شامی خانہ جنگی کے آغاز سے قبل اردن اور شام کے مابين تجارت کا حجم 530 ملين يورو کے لگ بھگ تھا۔ يہ پيش رفت نہ صرف شامی اقتصاديات کے ليے اچھی ہے بلکہ اسے اسد حکومت کی سفارتی کاميابی کے طور پر بھی ديکھا جا رہا ہے۔

اسرائيل نے گولان کے مقبوضہ پہاڑی علاقے ميں شام کے ساتھ قنيطرہ نامی سرحدی گزرگاہ کھول دی ہے جبکہ اسی دوران تجارت اور امدادی اشياء کی ترسيل کے ليے اردن اور شام کے درميان بھی ايک اہم گزر گاہ کھول دی گئی ہے۔ گولان کے مقبوضہ پہاڑی علاقے ميں قنيطرہ نامی اہم سرحدی گزر گاہ کو رواں ہفتے کے آغاز ... Read More »

برلن میں نسل پرستی کے خلاف بڑا مارچ

جرمن دارالحکومت برلن میں ہفتے کے دن نسل پرستی اور اجانب دشمنی کے خلاف ایک بڑی احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ اس ریلی میں جرمنی بھر سے آئے افراد نے شرکت کی اور دائیں بازو کی انتہا پسندی کو مسترد کر دیا۔ خبر رساں ادارے روئٹرز نے منتظمین کے حوالے سے بتایا ہے کہ جرمن دارالحکومت برلن میں منعقد ہوئی اس ریلی میں تقریبا ڈھائی لاکھ افراد نے شرکت کی۔ اس مارچ کے شرکا نے دائیں بازو کی انتہا پسندی کو بھی مسترد کر دیا۔ مظاہرین نے کہا کہ دیواریں کھڑی کرنے کے بجائے انسانوں کے مابین پل تعمیر کیے جانا چاہییں۔ حالیہ برسوں میں اس مارچ کو اپنی نوعیت کا سب سے بڑا احتجاج قرار دیا جا رہا ہے۔ اس مارچ کو دائیں بازو کے نظریات کی حامل مہاجرت مخالف سیاسی پارٹی اے ایف ڈی کی عوامیت پسند نظریات کا جواب بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ جرمنی میں مہاجرین کی بڑے پیمانے پر آمد کی وجہ سے اے ایف ڈی نے عوامی حمایت حاصل کی ہے۔ جس کا ایک ثبوت گزشتہ برس منعقد ہوئے الیکشن میں اس پارٹی کی کامیابی بھی ہے۔ اے ایف ڈی جدید جرمنی میں پہلی مرتبہ پارلیمان تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ اس پیشرفت کی وجہ سے جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی سیاسی پارٹی کرسچن ڈیموکریٹک یونین اور سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کی عوامی مقبولیت میں کمی بھی واقع ہوئی ہے۔ حالیہ عرصے میں جرمنی کے کئی شہروں میں مہاجرت مخالف مظاہروں کا انعقاد کیا گیا تھا۔ برلن میں ہونے والے اس مارچ کو منتظمین نے انتہا پسندانہ سوچ کا ایک زوردار جواب قرار دیا جا رہا ہے۔ اس مارچ میں مختلف اداروں اور تنظیموں کی طرف سے لوگوں کو برلن آنے کی دعوت دی گئی تھی۔ بتایا گیا ہے کہ متعدد مزدور یونیںز کے علاوہ انسانی حقوق کے کئی اداروں نے بھی اس مارچ کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس مارچ میں شرکاء نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے اور وہ مہاجرین اور تارکین وطن کو محفوظ ٹھکانہ فراہم کرنے کے لیے بھی نعرے لگا رہے تھے۔ اس مارچ کے دوران موسیقی اور رقص کا اہتمام بھی کیا گیا تھا۔ برلن میں منعقد ہ اس مارچ کے شرکا ناچتے رہے اور موسیقی سے لطف اندوز بھی ہوتے رہے۔ برلن کے علاوہ جرمنی کے دیگر کئی دوسرے شہروں میں بھی اس طرح کی ریلیاں منعقد کی جا رہی ہیں، جس میں جرمن عوام نسل پرستی، نفرت اور اجانب دشمنی کو مسترد کرتے نظر آ رہے ہیں۔

جرمن دارالحکومت برلن میں ہفتے کے دن نسل پرستی اور اجانب دشمنی کے خلاف ایک بڑی احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ اس ریلی میں جرمنی بھر سے آئے افراد نے شرکت کی اور دائیں بازو کی انتہا پسندی کو مسترد کر دیا۔ خبر رساں ادارے روئٹرز نے منتظمین کے حوالے سے بتایا ہے کہ جرمن دارالحکومت برلن میں منعقد ... Read More »

نکی ہیلی نے استعفٰی دے دیا، ذرائع

اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکی ہیلی نے استعفٰی دے دیا ہے۔ روئٹرز نے میڈیا رپورٹوں کے حوالے سے منگل کے دن تصدیق کر دی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہیلی کا استعفیٰ قبول کر لیا ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی نے امریکی میڈیا کے حوالے سے بتایا ہے کہ اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکی ہیلی اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئی ہیں۔ متعدد ذرائع نے بتایا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہیلی کا استعفی قبول کر لیا ہے۔ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ چھیالیس سالہ نکی ہیلی نے اقوام متحدہ کے اس اہم عہدے سے الگ ہونے کا فیصلہ کیوں کیا ہے۔ حال ہی میں امریکی صدر ٹرمپ کی قومی سلامتی کی ٹیم کے متعدد رکن استعفے دے چکے ہیں، جن میں تازہ ترین مثال ریکس ٹلرسن کی ہے۔ ٹلرسن نے مارچ میں وزیر خارجہ کے عہدے سے الگ کا اعلان کیا تھا۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق نکی ہیلی اس وقت واشنگٹن میں موجود ہیں اور وہ جلد ہی امریکی صدر سے ملاقات کرنے والی ہیں۔ ادھر وائٹ ہاؤس کی ترجمان سارہ ساندرز نے بتایا ہے کہ ٹرمپ اور ہیلی جلد ہی اوول آفس میں ملاقات کریں گے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اپنی ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ وہ اپنی دوست نکی ہیلی کے ساتھ ایک بڑا اعلان کرنے والے ہیں۔ ہیلی نے جنوری سن دو ہزار سترہ میں اقوام متحدہ میں امریکی مندوب کے طور پر اپنی ذمہ داریاں نبھانا شروع کی تھیں۔ نکی ہیلی حکمران پارٹی ری پبلکن کی حامی ہیں۔ وسط مدتی الیکشن سے قبل ہیلی کے اس عہدے سے الگ ہونے کے فیصلے کو ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک اور دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ ہیلی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ناقد رہی ہیں۔

اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکی ہیلی نے استعفٰی دے دیا ہے۔ روئٹرز نے میڈیا رپورٹوں کے حوالے سے منگل کے دن تصدیق کر دی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہیلی کا استعفیٰ قبول کر لیا ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی نے امریکی میڈیا کے حوالے سے بتایا ہے کہ اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکی ... Read More »

امریکا جزیرہ نما کوریا میں کشیدگی کا باعث ہے، شمالی کوریا

تقریباً گزشتہ آٹھ برسوں میں اقوام متحدہ کے کسی سینیئر اہلکار کا شمالی کوریا کا یہ پہلا دورہ تھا۔ اس دورے کا مقصد شمالی کوریائی بحران کی شدید کشیدہ صورتحال میں کمی لانے کی کوشش ہے۔ اقوام متحدہ کے سفارت کار جیفری فیلٹمین نے شمالی کوریا کا دورہ مکمل کر لیا ہے۔ وہ پانچ دن شمالی کوریائی دارالحکومت پیونگ یانگ میں گزارنے کے بعد بیجنگ پہنچ گئے ہیں۔ پیونگ یانگ میں قیام کے دوران فیلٹمین نے وزیر خارجہ ری یونگ ہو کے علاوہ نائب وزیر خارجہ پاک میونگ کُک سے ملاقاتیں کی تھیں۔ امریکا کے ساتھ جنگ اب ’ناگزیر‘ ہے، شمالی کوریا جرمنوں کی نظر میں ٹرمپ شمالی کوریا اور روس سے زیادہ بڑا خطرہ شمالی کوریا ناپسندیدہ جنگی صورتحال کے قریب ہے، امریکا شمالی کوریا: سلامتی کونسل کی قراردار کی ایک اور خلاف ورزی ان ملاقاتوں میں شمالی کوریائی حکام نے اقوام متحدہ کے نمائندے پر واضح کیا کہ جزیرہ نما کوریا میں امریکا کا رویہ کشیدگی اور تناؤ کا باعث ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا جوہری بلیک میلنگ کا مرتکب ہوا ہے اور اسی باعث اس خطے میں صورت حال مسلسل بگڑتی جا رہی ہے۔ شمالی کوریا کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ اُس کا جوہری ہتھیار سازی کا پروگرام کلی طور پر دفاعی ہے۔ کمیونسٹ ملک کی نیوز ایجنسی کے سی این اے کے مطابق پیونگ یانگ حکام نے عالمی ادارے کے سفارت کار پر واضح کیا کہ امریکی پالیسی جارحیت پر مبنی ہے۔ اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ شمالی کوریائی حکام نے اقوام متحدہ کے ساتھ مختلف سطحوں پر تواتر کے ساتھ رابطے رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ کے سی این اے کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ آیا اقوام متحدہ کے اہلکار کی شمالی کوریائی لیڈر کم جونگ اُن سے بھی ملاقات ہوئی ہے۔ جیفری فیلٹمین کا دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایک ہفتہ قبل شمالی کوریا نے ایک طاقتور بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا تھا تو دوسری جانب اسی ہفتے کے دوران امریکا اور جنوبی کوریا کی فوجی مشقوں کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔ جیفری فیلٹمین اقوام متحدہ کے سیاسی امور کے نائب سیکرٹری جنرل ہیں۔ سن 2010 کے بعد اقوام متحدہ کے کسی اعلٰی اہلکار کا پہلا شمالی کوریائی دورہ ہے۔ انہوں نے اپنے دورے کے اختتام پر چینی دارالحکومت کے ہوائی اڈے پر میڈیا کے نمائندوں سے کوئی بات نہیں کی۔

تقریباً گزشتہ آٹھ برسوں میں اقوام متحدہ کے کسی سینیئر اہلکار کا شمالی کوریا کا یہ پہلا دورہ تھا۔ اس دورے کا مقصد شمالی کوریائی بحران کی شدید کشیدہ صورتحال میں کمی لانے کی کوشش ہے۔ اقوام متحدہ کے سفارت کار جیفری فیلٹمین نے شمالی کوریا کا دورہ مکمل کر لیا ہے۔ وہ پانچ دن شمالی کوریائی دارالحکومت پیونگ یانگ ... Read More »

ایرانی اور عراقی سرحدی علاقے میں شدید زلزلہ، سینکڑوں ہلاک

اتوار اور پیر کی شب آنے والے اس شدید زلزلے کی ریکٹر اسکیل پر شدت سات اعشاریہ تین نوٹ کی گئی۔ ایرانی وزارت داخلہ کے مطابق اب تک دو سو سے زائد افراد ہلاک جب کہ سترہ سو زخمی ہوئے ہیں۔ امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق گزشتہ شب آنے والے زلزلے کی ریکٹر اسکیل پر شدت 7.3 تھی اور اس کا مرکز عراق کے مشرقی شہر حلبجة سے اکتیس کلومیٹر دور تھا۔ ادارے کے مطابق یہ زلزلہ تیئس کلو میٹر گہرائی میں آیا۔ جیولوجیکل سروے کے مطابق اتنی شدت اور کم گہرائی میں آنے والے زلزلے عام طور پر انتہائی تباہ کن ثابت ہوتے ہیں۔ سونامی جاپانی جانوروں کو ہزاروں میل بہا کر امریکا لے آئی پاکستان: جنوب مغربی ساحلی علاقوں میں طاقتور زلزلہ ایرانی وزارت داخلہ نے ابتدائی رپورٹوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ اب تک دو سو سے زائد افراد ہلاک جب کہ سترہ سو سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ جب کہ بغداد حکومت کی جانب سے فوری طور پر اس زلزلے کے بعد عراقی حدود میں ہونے والی ہلاکتوں کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔ عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی نے ملکی سول ڈیفنس کے ادارے کو متاثرہ علاقے میں فوری امدادی کارروائیاں شروع کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اس زلزلے کی شدت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اس کے جھٹکے سینکڑوں کلومیٹر دور عراقی دارالحکومت بغداد اور ترکی میں بحیرہ روم کے ساحلی علاقوں تک بھی محسوس کیے گئے۔ سب سے زیادہ تباہی ایران کے مغربی صوبے کرمانشاہ میں ہوئی۔ ایران اور عراق کو منقسم کرنے والے زاگرس کے پہاڑی سلسلے پر واقع ایرانی اور عراقی شہر سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ شدید زلزلے کے باعث اس علاقے کے مکینوں میں خوف و حراس پھیل گیا۔ ایرانی سوشل میڈیا پر جاری ہونے والی تصاویر اور ویڈیو میں زلزلے کے فوری بعد ہونے والی تباہی کے مناظر دیکھے گئے ہیں۔ ابتدائی زلزلے کے بعد پچاس سے زیادہ آفٹر شاکس آ چکے ہیں۔ ایرانی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق امدادی کارروائیوں کا سلسلہ رات میں ہی شروع کر دیا گیا تھا جب کہ آج دن کے وقت مزید امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں پہنچ جائیں گی۔ سرکاری میڈیا کے مطابق اس شدید زلزلے سے ایران کے چودہ صوبے متاثر ہوئے ہیں۔ میکسیکو: زلزلے کے بعد سمندری طوفان، کم از کم 61 ہلاکتیں

اتوار اور پیر کی شب آنے والے اس شدید زلزلے کی ریکٹر اسکیل پر شدت سات اعشاریہ تین نوٹ کی گئی۔ ایرانی وزارت داخلہ کے مطابق اب تک دو سو سے زائد افراد ہلاک جب کہ سترہ سو زخمی ہوئے ہیں۔ امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق گزشتہ شب آنے والے زلزلے کی ریکٹر اسکیل پر شدت 7.3 تھی اور اس ... Read More »

’افغانستان کا مستقبل، اب بھارت کو نظر انداز کرنا مشکل‘

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے افغان صدر اشرف غنی کے ساتھ دہشت گردی کے خاتمے سمیت مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دینے کے حوالے سے تفصیلی مذاکرات کیے ہیں۔ دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ بھی بھارت پہنچنے والے ہیں۔ دونوں رہنماوں کے مابین تفصیلی ملاقات کے بعد ان کی میڈیا کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ بعدازاں ایک حکومتی بیان جاری کیا گیا، جس کے مطابق دونوں رہنماؤں نے علاقائی سیاست ، عالمی امور اور باہمی تعلقات کو مستحکم بنانے کے لیے تفصیلی تبادلہ خیال کیا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے خطے میں دہشت گردی کے خاتمے کے لئے اپنا عزم بھی دہرایا ہے۔ سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ افغانستان دفاع اور سکیورٹی کے شعبوں میں بشمول افغان دفاعی افواج اور سکیورٹی اہلکاروں کو تربیت دینے کے لئے ہندوستان کے تعاون کو تحسین کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ دوسری طرف بھارت نے افغان دفاعی افواج اور پولیس فورسز کو ضرورت کے مطابق مزید مدد فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ بیان میں بامعنی ترقی اور دیر پاامن کے لئے تشدد اور دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے سرحد پار دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں اور پناہ گاہوں کو تباہ کرنے کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارت افغانستان میں سیاسی مفاہمت کی کوششوں اور افغان قیادت کے ذریعے ہی افغانیوں کے لئے خود فیصلہ کرنے کی حمایت کرتا ہے۔ امريکی وزير خارجہ کا دورہ پاکستان اور بھارت، کسے کيا ملے گا؟ افغان صدر کا یہ ایک روزہ دورہ ایسے وقت ہوا ہے، جب امریکا، چین، پاکستان اور افغانستان کی گزشتہ ہفتے مسقط میں میٹنگ ہوئی تھی۔ یہ گروپ طالبان اور کابل کے درمیان براہ راست بات چیت کے لئے راستہ ہموار کرنے کی کوشش کر رہا ہے حالانکہ اسے ابھی تک کامیابی نہیں مل سکی ہے۔ کابل اور طالبان کے درمیان امن بات چیت کے لئے اسی طرح کی ایک اور کوشش روس، پاکستان اور چین بھی کر رہے ہیں۔ افغان صدر وزیر اعظم مودی کی دعوت پر نئی دہلی پہنچے ہیں۔ اس سے قبل بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال سولہ اکتوبر کو کابل گئے تھے اور مسٹر غنی کو مسٹر مودی کی طرف سے دعوت نامہ دیا گیا تھا۔ دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات کا اندازہ اس بات سےبھی لگایا جا سکتا ہے کہ افغانستان کے چیف ایگزیکٹیو افسر ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ گزشتہ ماہ کے اوآخر میں اور وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی ستمبر کے اوائل میں دہلی کا دورہ کر چکے ہیں۔ بھارت افغانستان کو اپنا قریبی دوست سمجھتا ہے۔ اس نے جنگ سے تباہ حال ملک کی تعمیر نو کے لئے 3.1 بلین ڈالر کی امداد دی ہے۔ باہمی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لئے گزشتہ ماہ بھارت نے افغانستان میں ایک سو سولہ نئے منصوبوں کا اعلان کیا تھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ اگست میں جب نئی افغان پالیسی کا اعلان کیا تھا تو بھارت کو اس میں ’بڑا کردار‘ دینے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ بھارت نے افغانستان میں اپنی فوج بیجھنے سے انکار کر دیا تھا البتہ وہ افغانستان میں ترقی اور باہمی تعلقات کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ’بھارتی فوجی بوٹوں کی چاپ افغان سرزمین پر سنائی نہیں دے گی‘ بھارتی اسٹریٹیجک تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ افغانستان کے مستقبل کے منصوبوں کے حوالے سے اب بھارت کو نظر انداز کرنا مشکل ہے۔ معروف تھینک ٹینک وویکانند انٹرنیشنل فاؤنڈیشن سے وابستہ پاک افغانستان امور کے ماہر سشانت سرین کا اس حوالے سے کہنا تھاکہ افغانستان میں قیام امن کے سلسلے میں جو متعدد سفارتی کوششیں جاری ہیں انہیں دیکھتے ہوئے یہ محسوس ہوتا ہے کہ افغانستان اور بھارت کے درمیان نہایت گہرا ربط ہے اور اشرف غنی کا یہ دورہ بھی اسی صورت حال کا مظہر ہے۔ سشانت سرین کا مزید کہنا تھا، ’’افغانستان کے سلسلے میں روس کے خصوصی سفیر ضمیرکابلوف صلاح و مشورے کے لئے ستمبر میں نئی دہلی آئے تھے۔ یہ پیش رفت بتاتی ہے کہ اب جب بھی افغانستان کے مستقبل کے سلسلے میں کوئی بات ہو گی تو بھارت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ افغانستان، امریکا اور روس کے نئی دہلی کے یہ دورے پاکستان کے لئے یہ پیغام بھی ہے کہ جب بھی افغانستان کے مستقبل کی بات ہوگی تو بھارت بھی اس میں شامل رہے گا۔‘‘ قبل ازیں نئی دہلی پہنچنے کے بعد افغان صدر نے اپنے بھارتی ہم منصب رام ناتھ کووند سے راشٹرپتی بھون میں ملاقات کی۔ راشٹرپتی بھون سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے، ’’بھارت امن قائم کرنے کی افغانستان کے عوام کی امنگوں کا پوری طرح ساتھ دیتا ہے۔ بھارت کا خیال ہے کہ افغانستان میں قیام امن کے لئے جو بھی اقدامات کیے جارہے ہیں وہ خود افغانستان کی قیادت میں کئے جائیں اور ان پر افغانستان کا کنٹرول ہو۔‘‘ افغان صدر نے بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج سے بھی ملاقات کی۔ دریں اثنااشرف غنی کی آج شام دہلی سے روانگی کے چند گھنٹے بعد ہی امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن بھارتی دارالحکومت پہنچ رہے ہیں۔ پچھلے ماہ امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس بھی نئی دہلی آئے تھے اور افغانستان کے استحکام میں مدد کے لئے بھارت سے زیادہ بڑا کردار ادا کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے افغان صدر اشرف غنی کے ساتھ دہشت گردی کے خاتمے سمیت مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دینے کے حوالے سے تفصیلی مذاکرات کیے ہیں۔ دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ بھی بھارت پہنچنے والے ہیں۔ دونوں رہنماوں کے مابین تفصیلی ملاقات کے بعد ان کی میڈیا کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ ... Read More »

جاپان ميں طاقتور طوفان، دو افراد ہلاک

جاپان ميں طاقتور سمندری طوفان ’لين‘ کی زد میں آ کر کم از کم دو افراد ہلاک جبکہ ايک لاپتہ ہو گیا ہے۔ اس طوفان نے بالخصوص ملک کے وسطی حصوں ميں پير کی صبح تباہی مچائی۔ اطلاعات ہيں کہ ہوا کے تیز جھکڑوں اور شديد بارشوں کے سبب کم از کم 170 پروازيں منسوخ کر دی گئيں۔ اس کے علاوہ کئی مقامات پر ٹرين سروس بھی معطّل ہے۔ يہ جاپان ميں اس سيزن ميں آنے والا اکيسواں طوفان تھا۔

جاپان ميں طاقتور سمندری طوفان ’لين‘ کی زد میں آ کر کم از کم دو افراد ہلاک جبکہ ايک لاپتہ ہو گیا ہے۔ اس طوفان نے بالخصوص ملک کے وسطی حصوں ميں پير کی صبح تباہی مچائی۔ اطلاعات ہيں کہ ہوا کے تیز جھکڑوں اور شديد بارشوں کے سبب کم از کم 170 پروازيں منسوخ کر دی گئيں۔ اس کے ... Read More »

روہنگیا بحران کا پائیدار حل تلاش کرنا ہو گا، بھارتی وزیر خارجہ

میانمار سے جان بچا کر بنگلہ دیش پہنچنے والے روہنگیا مسلمانوں کی تعداد چھ لاکھ ہو گئی ہے۔ ادھر بھارت نے بنگلہ دیش سے کہا ہے کہ اس بحران سے نمٹنے کی خاطر میانمار کو ان روہنگیا مہاجرین کو واپس اپنے ملک آباد کرنا ہو گا۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایشیا میں مہاجرین کے اس بدترین بحران کے حل کی خاطر میانمار کو تمام روہنگیا مہاجرین کو واپس لینا ہو گا۔ انہوں نے بنگلہ دیشی وزیر اعظم حسینہ واجد سے ملاقات میں کہا کہ عشروں بعد اس خطے میں پیدا ہونے والے مہاجرین کے اس بحران کا یہی واحد حل ہے۔ روہنگیا کے خلاف بدھ بھکشوؤں کا مظاہرہ ہزاروں مزید روہنگیا بنگلہ دیش کے راستے میں ہیں، اقوام متحدہ میانمار روہنگیا مسلمانوں کو مظالم سے بچانے میں ناکام رہا، اقوام متحدہ حسینہ واجد نے سرحدی محافظوں اور متعلقہ حکام سے کہا ہے کہ میانمار سے فرار ہو کر بنگلہ دیش پہنچنے والے روہنگیا مسلمانوں کو ملک میں آنے کی اجازت دی جائے اور انہیں کوکس بازار میں قائم کردہ عارضی کیمپوں میں رہائش دی جائے۔ ڈھاکا حکومت کوشش میں ہے کہ وہ ان کیمپوں میں روہنگیا مہاجرین کو ضروری امداد بھی پہنچائے لیکن بنگلہ دیش کو ان افراد کی بڑی تعداد کے باعث انتظامی مسائل کا سامنا ہے۔ اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ پچیس اگست سے شروع ہونے والے اس بحران کے نتیجے میں بنگلہ دیش پہنچنے والے روہنگیا مہاجرین کی تعداد چھ لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔ یہ عالمی ادارہ میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف جاری ریاستی کریک ڈاؤن کو ’نسلی تطہیر‘ قرار دے چکا ہے۔ اقوام متحدہ نے ینگون حکومت سے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ اس کریک ڈؤان کو فوری طور پر روکا جائے اور ان مہاجرین کی واپسی کا عمل شروع کیا جائے۔ اے پی نے ’یونائیٹڈ نیوز ایجنسی آف بنگلہ دیش‘ کے حوالے سے بتایا ہے کہ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے اتوار کو اپنے بنگلہ دیشی ہم منصب محمود علی سے ملاقات کے بعد کہا، ’’میانمار کو ہر حالت میں روہنگیا مہاجرین کو واپس لینا ہو گا کیونکہ یہ بنگلہ دیش پر ایک بڑا بوجھ بن رہے ہیں۔ بنگلہ دیش کب تک اس بوجھ کو برداشت کرے گا؟ اس بحران کا پائیدار حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے مزید کہا کہ بھارتی حکومت میانمار میں جاری تشدد پر تحفظات رکھتی ہے۔ بنگلہ دیشی وزیر خارجہ نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ میانمار پر سفارتی دباؤ بڑھائے تاکہ روہنگیا مہاجرین کے بحران کا پرامن حل تلاش کیا جا سکے۔ عالمی برادری کا بھی مطالبہ ہے کہ میانمار اس بحران کے حل کی خاطر فعال کردار کرے۔ یہ امر اہم ہے کہ میانمار ایسے الزامات مسترد کرتا ہے کہ ملکی سکیورٹی فورسز روہنگیا مسلمانوں کے خلاف ظلم وستم پر مبنی کریک ڈاؤن کر رہی ہیں۔

میانمار سے جان بچا کر بنگلہ دیش پہنچنے والے روہنگیا مسلمانوں کی تعداد چھ لاکھ ہو گئی ہے۔ ادھر بھارت نے بنگلہ دیش سے کہا ہے کہ اس بحران سے نمٹنے کی خاطر میانمار کو ان روہنگیا مہاجرین کو واپس اپنے ملک آباد کرنا ہو گا۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کے حوالے ... Read More »

شینزو آبے نے الیکشن جیت لیا، مگر لوگوں کے دل نہ جیت پائے

جاپان میں اتوار بائیس اکتوبر کے پارلیمانی الیکشن میں جاپانی وزیراعظم بھاری کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ ان کی سیاسی جماعت اور حلیف پارٹی کو اس الیکشن میں دو تہائی اکثریت حاصل ہوئی ہے۔ جاپانی سیاست کے مبصرین کا کہنا ہے کہ اتوار کے انتخابات میں شینزو آبے ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں لیکن وہ اپنے عوام کے دل اور دماغ کو جیتنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ جاپانی ووٹرز شاکی ہیں کہ شینزو آبے اُن کے ملک کے امن پسندانہ دستورکی بنیادی روح کو تبدیل کرنے کی کوشش میں ہیں۔ اب شمالی کوریا سے ثابت قدمی سے نمٹا جائے گا، آبے شمالی کوریا نے جاپان کے اوپر سے ایک اور میزائل داغ دیا ’’مستقبل قریب میں جوہری جنگ کا خطرہ‘‘ جاپانی وزیراعظم نے ایوانِ زیریں تحلیل کر دیا جاپان کی سرکاری نیوز ایجنسی کیوڈو کے کرائے گئے رائے عامہ کے ايک جائزے میں اکاون فیصد شرکاء نے واضح کیا کہ وہ شینزو آبے پر اعتماد نہیں کرتے۔ ایک اور آزاد ادارے اساہی شمبُون کے رائے عامہ کے جائزے کے مطابق 47 فیصد جاپانی عوام کا خیال ہے کہ اُن کے ملک پر شینزو آبے نہیں بلکہ کوئی اور حکمرانی کر رہا ہے۔ جاپانی ووٹرز کو ایک اور پریشانی یہ بھی لاحق ہے کہ اپوزیشن پوری طرح بکھر کر رہ گئی ہے اور صرف آبے اور اُن کی سیاسی جماعت ہی ملکی سیاسی منظر پر متحد دکھائی دیتی ہے۔ بائیس اکتوبر کے الیکشن میں بھی وزیراعظم کی قدامت پسند رجحان رکھنے والی سیاسی جماعت لبرل ڈیموکریٹک پارٹی نے اپوزیشن کی سیاسی پارٹیوں کو پوری طرح تتربِتر کر دیا ہے۔ اکتوبر کے انتخابات سے ایک دو ماہ قبل ٹوکیو شہر کی خاتون گورنر یوریکو کوئکے نے ایک نئی سیاسی جماعت بنائی۔ اس کا نام ’پارٹی آف ہوپ‘ ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ بظاہر کوئکے کا انتخابی منشور بھی لبرل ڈیمیوکریٹک پارٹی سے ملتا جلتا ہے لیکن عوام کو اگلے الیکشن تک اس پارٹی کی شکل میں ایک نئی قیادت اور تبدیلی میسر آ سکتی ہے۔ حالیہ الیکشن میں یہ تیسری پوزیشن پر آئی ہے اور پارلیمنٹ میں چالیس سے زائد سیٹیں حاصل کر سکی ہے۔ شینزو آبے کی مخالف بائیں بازو کی بڑی اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹک پارٹی کے خراب حال ہونے کی ایک بڑی وجہ اُس کے کئی ورکرز کی خاتون سیاستدان کی نئی سیاسی جماعت میں شمولیت بھی خیال کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ بائیں بازو کی سیاسی جماعت ڈیموکریٹک پارٹی کے کئی اہم رہنماؤں نے کانسٹیٹیوشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے نام سے ایک سیاسی جماعت قائم کر دی ہے۔ اس نئی سیاسی پارٹی کو تازہ الیکشن میں دوسری پوزیشن حاصل ہوئی ہے اور یہ پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں میں ساٹھ کے قریب نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے۔

جاپان میں اتوار بائیس اکتوبر کے پارلیمانی الیکشن میں جاپانی وزیراعظم بھاری کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ ان کی سیاسی جماعت اور حلیف پارٹی کو اس الیکشن میں دو تہائی اکثریت حاصل ہوئی ہے۔ جاپانی سیاست کے مبصرین کا کہنا ہے کہ اتوار کے انتخابات میں شینزو آبے ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں لیکن وہ اپنے ... Read More »

Scroll To Top