You are here: Home » انسانی حقوق

Category Archives: انسانی حقوق

Feed Subscription

اٹھائیس لاپتہ افراد کی بازیابی، لیکن کیا یہ کافی ہے؟

پاکستان کے صوبے بلوچستان کے کم ازکم اٹھائیس گمشدہ افراد اپنے گھروں کو واپس آگئے ہیں لیکن انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ تعداد بہت تھوڑی ہے، حکومت کو سارے لاپتہ افراد کو بازیاب کرانا چاہیے۔ انسانی حقوق کی کچھ تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ ملک کے طول و عرض سے ہزاروں افراد گمشدہ ہیں جنہیں جبری طور پر اٹھایا گیا تھا۔ ان تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ سب سے زیادہ افراد پاکستان کے مغربی صوبے بلوچستان سے غائب کیے گئے ہیں جہاں کئی برسوں سے علیحدگی پسندی کی ایک تحریک چل رہی ہے۔ بلوچ جنگجو اور گمشدہ افراد کی بازیابی کے حق میں آواز اٹھانے والی تنظیمیں پاکستان کے حساس اداروں پر یہ الزام لگاتی ہیں کہ وہ بلوچستان میں بلوچوں کو ماورائے قانون اٹھا رہے ہیں اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ دوسری جانب حکومت کا کہنا ہے کہ در اصل بلوچ جنگجو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کر رہے ہیں اور صوبے میں بسنے والے نہ صرف غیر بلوچ اقوام کو اپنی دہشت گردانہ کارروائیوں کا نشانہ بناتے ہیں بلکہ ان کے نشانے پر فوج اور پولیس کے علاوہ وہ بلوچ سیاسی رہنما بھی ہیں، جو وفاق اور مرکزی حکومت کے حامی ہیں۔ بلوچ گمشدہ افراد کے لیے کام کرنے والے ماما قدیر کا کہنا ہے کہ انہیں اس رہائی سے یہ امید نہیں کہ ہزاروں کی تعداد میں جبری طور پر گمشدہ افراد کو بازیاب کرا لیا جائے گا۔ ماما قدیر نے ڈی ڈبلیو کو بتایا،’’یہ بات صیح ہے کہ اٹھائیس افراد کو رہا کر دیا گیا ہے جن میں سے کچھ کئی برسوں سے غائب تھے۔ لیکن اتنے کم افراد کو چھوڑنے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔ یہ آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ پینتالیس ہزار افراد لاپتہ ہیں اور اب تک دس ہزار کے قریب مسخ شدہ لاشیں ملی ہیں۔ ہم نے ان ہزاروں افراد کی فہرست حکومت کو دے دی ہے۔ جب تک یہ بازیاب نہیں ہوتے ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔ گمشدہ افراد کے مسئلے پر صرف ایسی ہی بلوچ تنظیمیں حکومت سے ناراض نہیں ہیں جو علیحدگی پسندی پر یقین رکھتی ہیں بلکہ اس مسئلے پر بلوچستان میں وفاق کی سیاست کرنے والے سیاست دان بھی ریاستی اداروں سے ناراض ہیں اور وہ اس کو ایک بہت ہی سنگین مسئلہ قرار دیتے ہیں۔ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سینیٹر محمد اکرم کا کہنا ہے کہ اس رہائی کے ساتھ ساتھ مزید لوگوں کو بھی اٹھایا جارہا ہے۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا،’’ میرے اپنے علاقے دشت سے لوگوں کو اٹھایا گیا ہے۔ کوئی دو مہینے سے، کوئی تین توکوئی آٹھ مہینے سے غائب ہے۔کوہلو، ڈیرہ بگٹی، نصیر آباد، پنجگور اور کیج سمیت کئی علاقوں سے لوگوں کو اٹھایا گیا ہے۔ جب تک سارے افراد کورہا نہیں کیا جاتا بات نہیں بنے گی۔‘‘ محمد اکرام نے مزید کہا کہ یہ مسئلہ سینیٹ اور قومی اسمبلی سمیت کئی فورمز پر اٹھایا گیا لیکن کسی نے اس پر توجہ نہیں دی۔ کچھ حلقوں نے محتاط انداز میں 28 افراد کی بازیابی کا خیر مقدم بھی کیا ہے لیکن انہوں نے اس بات کا مطالبہ کیا ہے کہ تمام لاپتہ افراد کی بازیابی کو ممکن بنایا جائے۔ تنظیم برائے انسانی حقوق، ’ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان‘ کا کہنا ہےکہ ملک کے چاروں صوبوں سے لوگوں کو جبری طور پر اُٹھا لیا گیا ہے۔ تنظیم کے سربراہ ڈاکڑ مہدی حسن نے اس مسئلے پر اپنی رائے دیتے ہوئے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’میرے خیال میں رہا کیے گئے افراد کی تعداد بہت تھوڑی ہے۔ یہ رہائی مثبت ہے لیکن بہت نا کافی ہے۔ ہمارے اندازے کے مطابق ہزاروں افراد کو ملک کے طول وعرض سے اٹھایا گیا ہے اور ہمارا مطالبہ ہے کہ ان سب کو رہا کیا جانا چاہیے۔‘‘ کئی ناقدین کے خیال میں سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ ملک کے حساس اداروں کو اپنی آئینی حدود میں کام کرنے پر مجبور کر سکتا ہے لیکن مہدی حسن کے خیال میں ایسا ہوتا نظر نہیں آرہا۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا،’’ مسئلہ عدالت کا حکم دینا نہیں ہے بلکہ اس پر عمل درآمد کرانےکا ہے۔‘‘ ناقدین کا خیال ہے کہ حکومت نے گمشدہ افراد کے مسئلے پر خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔ لیکن بلوچستان حکومت کے ترجمان ظہور بلیدی کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت اس مسئلے کو حل کرنے کی بھر پور کوشش کر رہی ہے۔انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’ تیس کے قریب افراد کو رہا کر دیا گیا ہے۔ مزید گمشدہ افراد کو بازیاب کرانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس حوالے سے ہم نے وزیرِ اعظم عمران خان سے بھی رابطہ کیا ہے اور بلوچستان حکومت متعلقہ اداروں سے بھی رابطے میں ہے۔‘‘

پاکستان کے صوبے بلوچستان کے کم ازکم اٹھائیس گمشدہ افراد اپنے گھروں کو واپس آگئے ہیں لیکن انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ تعداد بہت تھوڑی ہے، حکومت کو سارے لاپتہ افراد کو بازیاب کرانا چاہیے۔ انسانی حقوق کی کچھ تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ ملک کے طول و عرض سے ہزاروں افراد گمشدہ ہیں جنہیں جبری ... Read More »

سعودی عرب پر دباؤ، يورپ کے ساتھ تعلقات پيچيدہ ہونے کا امکان

سعودی عرب کا نام ايسے ملکوں کی فہرست ميں شامل کر ليا گيا ہے، جن ميں دہشت گرد عناصر کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کے انسداد کے ليے ناکافی اقدامات کیے جا رہے ہيں۔ آئندہ ہفتے اس فہرست اور مسودے کو حتمی شکل دے دی جائے گی۔ يورپی کميشن نے سعودی عرب کو ان ملکوں کی فہرست کے مسودے ميں شامل کر ليا ہے جن ميں منی لانڈرنگ اور دہشت گرد عناصر کی مالی معاونت کے انسداد کے ليے کنٹرول اور اقدامات ناکافی ہيں۔ دو مختلف ذرائع نے اس پيش رفت کی تصديق جمعے کی شب کی۔ فہرست ميں شامل ملکوں کو يورپی بلاک کی سلامتی کے ليے خطرہ قرار ديا جاتا ہے۔ فہرست کے مسودے ميں اس وقت سولہ ممالک شامل ہيں اور اسے بنيادی طور پر فنانشل ايکشن ٹاسک فورس (FATF) کی بنيادوں پر ہی تشکيل ديا گيا ہے۔ يہ فہرست اور اس کا مسودہ فی الحال عام نہيں کيا گيا ہے۔ يورپی کميشن نے سن 2017 ميں منظور شدہ نئے قوائد و ضوابط کے تحت ايسے ملکوں کی فہرست ميں اضافہ کيا ہے۔ صحافی جمال خاشقجی کے ترک شہر استنبول ميں واقع سعودی قونصل خانے ميں قتل کے بعد سے رياض حکومت پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ اس تناظر ميں سعودی عرب کافی تنقيد کی زد ميں ہے۔ رياض حکومت ملکی معيشت کو بہتر بنانے کے ليے بيرونی سرمايہ کاروں کو راغب کرنا چاہتی ہے تاہم يہ تازہ پيش رفت ايسی کوششوں کے ليے بھی ايک دھچکہ ہے۔ فی الحال عرب نے اس پر کوئی رد عمل ظاہر نہيں کيا ہے۔ يورپی کميشن کی جانب سے سعودی عرب کو اس فہرست ميں شامل کيے جانے سے ايک طرف تو رياض حکومت کی ساکھ متاثر ہو گی تو دوسری طرف اس کے نتيجے ميں اقتصادی و مالی روابط بھی پيچيدہ ہو جائيں گے۔ يورپی يونين کے رکن ممالک کو مالی سودوں ميں رقوم کی ادائیگی و وصولی پر نگرانی بڑھانا پڑے گی۔ يہ امر اہم ہے کہ اس قدم کی ابھی يونين کے اٹھائيس رکن ممالک سے توثيق باقی ہے، جس کے بعد آئندہ ہفتے اس پر باقاعدہ طور پر عملدرآمد شروع ہو جائے گا۔ يورپی کميشن نے سن 2017 ميں منظور شدہ نئے قوائد و ضوابط کے تحت سعودی عرب کا نام اس فہرست ميں شامل کيا ہے۔ برسلز ميں ايک اور يورپی اہلکار نے اپنا نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتايا کہ چند ديگر ملکوں کا نام بھی آئندہ کچھ ايام ميں اس فہرست ميں شامل کيا جائے گا۔ يورپی کميشن کے ايک ترجمان نے البتہ اس بارے ميں بات کرنے سے انکار کر ديا اور ان کا کہنا تھا کہ فی الحال يہ فہرست حتمی نہيں ہے۔ اس فہرست ميں جن ملکوں کے نام شامل ہوتے ہيں، ان ميں منی لانڈرنگ اور دہشت گرد عناصر کی مالی معاونت کے انسداد کے ليے اقدامات ميں نقص ہوتے ہيں اور جو يورپی يونين کے معاشی نظام کے ليے خطرہ ثابت ہو سکتے ہيں

سعودی عرب کا نام ايسے ملکوں کی فہرست ميں شامل کر ليا گيا ہے، جن ميں دہشت گرد عناصر کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کے انسداد کے ليے ناکافی اقدامات کیے جا رہے ہيں۔ آئندہ ہفتے اس فہرست اور مسودے کو حتمی شکل دے دی جائے گی۔ يورپی کميشن نے سعودی عرب کو ان ملکوں کی فہرست کے مسودے ... Read More »

ساہیوال سانحے کے ذمہ داران کو سخت سزا دی جائے گی، عمران خان

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ساہیوال ميں پيش آنے والے واقعے پر عوام میں پایا جانے والا غم و غصہ جائز اور قابل فہم ہے۔ عمران خان کے بقول قطر سے واپسی کے بعد وہ ذمہ داران کو سخت سزا دلوائیں گے۔ اپنی ٹوئیٹ میں عمران خان نے لکھا ہے کہ وہ قوم کو یقین دلاتے ہیں کہ قطر کے سرکاری دورے سے واپسی پر وہ اس واقعے کے ذمہ داران کو عبرت ناک سزا دیں گے۔ اس کے علاوہ وہ پنجاب پولیس کے پورے ڈھانچے کا جائزہ لیں گے اور اس کی اصلاح کا آغاز بھی کریں گے۔ پولیس کے انسداد دہشت گردی کے محکمے کی جانب سے کہا گیا کہ انہوں نے ایک شادی شدہ جوڑے اور ان کی تیرہ سالہ بیٹی سمیت چار افراد کو پولیس مقابلے کے دوران گزشتہ ہفتے ہلاک کر دیا تھا۔ اس واقعے میں بچ جانے والے تین کم سن بچوں نے بھی ايک ویڈیو میں کچھ کہا، جو قانونی نافذ کرنے والے ادارے کے بيان کی نفی کرتا ہے۔ یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی اور عوام کی جانب سے اس واقعے پر شدید غم اور غصے کا اظہار کیا گیا۔ عمران خان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ اس واقعے کے خلاف فوری کارروائی کرائيں گے۔ اتوار کو پولیس کی جانب سے کی جانے والی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے خلیل اور اس کی اہلیہ نبیلہ، ان کی بیٹی عریبہ اور پڑوسی ذیشان کے نماز جنازے کے وقت کہا گیا کہ پولیس در اصل ذیشان کا پیچھا کر رہی تھی اور ان سے غلطی سے شادی شدہ جوڑا اور ان کی بیٹی مارے گئے۔ پاکستان کی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے بھی آج اس حوالے سے ایک ٹوئیٹ میں لکھا، ’’چاہے راؤ انوار ہو یا ساہیوال کا سانحہ، بطور حکومت یہ ہمارا فرض ہے کہ ’پولیس مقابلوں‘ ميں لوگوں کو ہلاک کيے جانے کی روایت کو ختم کیا جائے۔ سابقہ حکومتیں جس چیز کی حوصلہ افزائی کرتی تھیں اب اس کا خاتمہ ہونا چاہیے اور قانون کی بالادستی ہونی چاہیے۔‘‘

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ساہیوال ميں پيش آنے والے واقعے پر عوام میں پایا جانے والا غم و غصہ جائز اور قابل فہم ہے۔ عمران خان کے بقول قطر سے واپسی کے بعد وہ ذمہ داران کو سخت سزا دلوائیں گے۔ اپنی ٹوئیٹ میں عمران خان نے لکھا ہے کہ وہ قوم کو یقین ... Read More »

’چند ممالک سعودی لڑکيوں کو بغاوت پر اکسا رہے ہيں‘

سعودی عرب کی حمايت يافتہ ايک تنظيم نے متعدد ممالک پر الزام عائد کيا ہے کہ وہ نوجوان سعودی لڑکيوں کو اپنے اہل خانہ کو چھوڑ کر فرار ہونے کی ترغيب ديتے ہيں۔ سعودی نيشنل سوسائٹی فار ہيومن رائٹس (NSHR) کے سربراہ مفلح القحتانی نے الزام عائد کيا ہے کہ چند ممالک اور تنظيميں اپنے سياسی مقاصد کے حصول کے ليے لڑکيوں کو انجان راستوں پر دھکيل ديتے ہيں جن کے نتيجے ميں وہ انسانوں کے اسمگلروں کے چنگل ميں بھی پھنس سکتی ہيں۔ القحتانی نے يہ بيان اتوار کی شب ديا۔ اس تنظيم کے سربراہ نے اپنے بيان ميں کسی بھی ملک يا تنظيم کا نام نہيں ليا البتہ وہ امکاناً اٹھارہ سالہ رہف محمد القنون کے حوالے سے ہونے والی پيش رفت کے تناظر ہی ميں بات کر رہے تھے۔ يہ امر اہم ہے کہ انسانی حقوق کے حوالے سے سعودی عرب کا ريکارڈ کچھ زيادہ اچھا نہيں۔ صحافی جمال خاشقجی کے ترک شہر استنبول ميں سعودی قونصل خانے ميں پچھلے سال قتل کے بعد رياض حکومت کی ساکھ کو اور بھی زيادہ نقصان پہنچا ہے۔ پھر يمن کی متنازعہ جنگ ميں بھی سعودی عسکری اتحاد کی کارروائياں عالمی سطح پر تنقيد کی زد ميں ہيں۔ نيشنل سوسائٹی فار ہيومن رائٹس کا دعوی ہے کہ وہ ايک آزاد تنظيم ہے ليکن امريکی محکمہ خارجہ اسے حکومت کی جانب سے فراہم کردہ فنڈنگ سے چلنے والی ايک تنظيم مانتی ہے۔ تنظيم کے سربراہ کے تازہ بيان ميں کہا گيا ہے کہ اسے اس بات پر کافی حيرت ہے کہ کس طرح چند رياستيں منحرف سعودی لڑکيوں کو اپنے خاندانی اقدار سے بغاوت پر اکسا رہی ہيں اور پھر انہيں ’پناہ‘ فراہم کی جا رہی ہے۔ القحتانی نے مزيد کہا کہ سعودی قوانين خواتین کے ساتھ بد سلوکی کو روکتے ہيں اور ايسی صورت ميں انہيں يہ اختيار بھی ہوتا ہے کہ وہ اس بارے ميں شکايت درج کرائيں۔ تاہم کئی سعودی عورتوں کا کہنا ہے پوليس سے رابطہ کرنا، ان کے ليے خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔ القنون پچھلے ہفتے کے روز کينيڈا پہنچيں، جہاں ميزبان ملک کی وزير خارجہ کرسٹيا فری لينڈ نے ان کا استقبال کيا۔ يہ امر اہم ہے کہ اوٹاوا حکومت اور رياض حکومت کے مابين پہلے ہی کشيدگی پائی جاتی ہے جس کی وجہ پچھلے سال کينيڈا کی جانب سے سعودی عرب ميں زير حراست انسانی حقوق کے کارکنان کی فوری رہائی کا مطالبہ تھا۔ اس پر رياض حکومت نے کينيڈا سے اپنے سفير کو واپس طلب کر ليا تھا اور کينيڈا ميں مقيم اپنے ملک کے تمام شہريوں سے واپس آنے کا بھی کہہ ديا تھا۔

سعودی عرب کی حمايت يافتہ ايک تنظيم نے متعدد ممالک پر الزام عائد کيا ہے کہ وہ نوجوان سعودی لڑکيوں کو اپنے اہل خانہ کو چھوڑ کر فرار ہونے کی ترغيب ديتے ہيں۔ سعودی نيشنل سوسائٹی فار ہيومن رائٹس (NSHR) کے سربراہ مفلح القحتانی نے الزام عائد کيا ہے کہ چند ممالک اور تنظيميں اپنے سياسی مقاصد کے حصول کے ... Read More »

انسانی حقوق کے لیے سرگرم افراد کو بہتر تحفظ فراہم کیا جائے، ایمنسٹی

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مختلف ممالک کی حکومتوں سے انسانی حقوق کے کارکنوں کو بہتر تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی کے مطابق گزشتہ برس دنیا بھر میں دوسروں کے حقوق کے دفاع کرنے کی پاداش میں 280 سے زائد خواتین اور مردوں کو قتل کیا گیا۔ اس بیان میں عالمی سطح پر انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر تشویش کا اظہار بھی کیا گیا۔ ایمنسٹی کی جانب سے یہ بیان کل اتوار کو منائے جانے والے انسانی حقوق کے عالمی دن کے حوالے سے جاری کیا گیا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مختلف ممالک کی حکومتوں سے انسانی حقوق کے کارکنوں کو بہتر تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی کے مطابق گزشتہ برس دنیا بھر میں دوسروں کے حقوق کے دفاع کرنے کی پاداش میں 280 سے زائد خواتین اور مردوں کو قتل کیا گیا۔ اس بیان میں عالمی سطح پر انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال ... Read More »

ٹیکساس فائرنگ، امریکا سوگوار

امریکا میں آج پپر کے دن فضا سوگوار ہے۔ گزشتہ روز ایک مسلح شخص نے ریاست ٹیکساس کے ایک چھوٹے سے علاقے میں واقع ایک کلیسا پر فائرنگ کرتے ہوئے دو درجن سے زائد افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔ چرچ میں فائرنگ کے اس واقعے میں کم از کم چھبیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ریاست کے گورنر گریگ ایبٹ نے بتایا کہ سدر لینڈ اسپرنگ کے علاقے میں ایک شخص نے بیپٹسٹ چرچ کو اس وقت نشانہ بنایا، جب وہاں ایک دعائیہ تقریب ہو رہی تھی۔ ایبٹ کے بقول تقریباً بیس افراد کو معمولی اور شدید زخموں کے ساتھ قریبی ہسپتالوں میں داخل کر دیا گیا ہے۔ پولیس نے بتایا کہ مشتبہ حملہ آور کی لاش اس کی گاڑی سے ملی ہے جبکہ کار سے مزید اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہوا ہے کہ مشتبہ حملہ آور پولیس فائرنگ سے ہلاک ہوا یا پھر اس نے خود اپنی جان لی۔حکام نے ابھی تک فائرنگ کرنے والے شخص کی باقاعدہ شناخت ظاہر نہیں کی ہے تاہم مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ کارروائی چھبیس سالہ کیون کیلی کی ہے، جو ایئر فورس کا سابق ملازم تھا۔ کیلی قریب ہی نیو براؤں فیلس نامی علاقے کا رہائشی تھا۔ عینی شاہدین کے مطابق کیلی سیاہ لباس پہنے ہوئے تھا اور اس نے پہلے چرچ کو باہر سے نشانہ بنایا اور پھر اندر داخل ہو کر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ اس نے چرچ کے باہر کھڑے دو افرد کو گولی ماری اور پھر بقیہ تیئس افراد چرچ کے اندر ہلاک ہوئے جبکہ ایک شخص بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔ سدر لینڈ اسپرنگ کی انتظامیہ نے ابھی تک ہلاک شدگان کی ناموں کا اعلان نہیں کیا ہے تاہم پادری فرینک پومیرؤ کے مطابق اس واقعے میں ان کی چودہ سالہ بیٹی انابیلا بھی ہلاک ہوئی ہیں۔ ہلاک شدگان میں ایک پانچ سالہ بچی بھی شامل ہے۔ سدر لینڈ اسپرنگ کی آبادی صرف سات سو ہے۔ اسے ریاست ٹیکساس کا ایک خونریز ترین واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔ پولیس فائرنگ کے اس واقعے کا پس منظر جاننے کے لیے تفتیش کر رہی ہے۔ نیو یارک میں دہشت گردی، آٹھ افراد ہلاک: زخمی حملہ آور گرفتار امریکی تاریخ کا انتہائی خون ریز واقعہ، پچاس سے زائد ہلاکتیں لاس ویگاس حملہ آور کا مقصد کیا تھا؟

امریکا میں آج پپر کے دن فضا سوگوار ہے۔ گزشتہ روز ایک مسلح شخص نے ریاست ٹیکساس کے ایک چھوٹے سے علاقے میں واقع ایک کلیسا پر فائرنگ کرتے ہوئے دو درجن سے زائد افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔ چرچ میں فائرنگ کے اس واقعے میں کم از کم چھبیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ریاست کے گورنر گریگ ایبٹ ... Read More »

افغانستان میں پاکستانی قونصل خانے کے ملازم کا قتل

افغان صوبے ننگرہار میں قائم پاکستانی قونصلیٹ کے ایک ملازم کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ اس پاکستانی شہری کو نامعلوم مسلح افراد نے گولیاں مار کر قتل کیا۔ مشرقی افغان صوبے ننگرہار کے گورنر کے ترجمان عطا اللہ خوگیانی نے نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستانی قونصل خانے کے ايک ملازم کو ہلاک کر دیے جانے کی تصدیق کی ہے۔ پاکستانی ذرائع ابلاغ پر مقتول ملازم کا نام نیر اقبال بتایا گیا ہے۔ ترجمان عطا اللہ خوگیانی نے اس واقعے کی تفصیلات نہیں بتائی ہیں۔ صرف اتنی معلومات پر اکتفا کیا کہ وہ جلال آباد شہر کے کسی بازار میں خریداری کے لیا گیا ہوا تھا۔ دوسری جانب پاکستانی میڈیا کے مطابق مقتول نیر اقبال شام کی نماز پڑھ کر گھر لوٹ رہا تھا کہ راستے میں اُسے گولیاں مار دی گئیں۔ اطلاعات کے مطابق مقتول کو حملہ آوروں کی کم از کم چھ گولیاں لگی تھیں۔ اُس کی لاش کو شہر کے ہسپتال میں پوسٹ مارٹم کے لیے پہنچا ديا گیا ہے۔ تاحال کسی بھی گروپ نے اس قتل کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ نیر اقبال جلال آباد کے پاکستانی قونصل خانے کے ویزا دفتر میں متعین تھا۔ اُس کا تعلق پاکستانی شہر سیالکوٹ سے بتایا گیا ہے۔ جلال آباد میں قائم پاکستانی قونصل خانے کی جانب سے اپنے ملازم کی ہلاکت پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

افغان صوبے ننگرہار میں قائم پاکستانی قونصلیٹ کے ایک ملازم کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ اس پاکستانی شہری کو نامعلوم مسلح افراد نے گولیاں مار کر قتل کیا۔ مشرقی افغان صوبے ننگرہار کے گورنر کے ترجمان عطا اللہ خوگیانی نے نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستانی قونصل خانے کے ايک ملازم کو ہلاک کر دیے ... Read More »

بھارت میں سو سالہ خاتون کا ریپ، معمر خاتون انتقال کر گئیں

بھارتی پولیس کا کہنا ہے کہ ملک کے شمالی حصے میں پيش آنے والے ايک واقعے ميں شراب کے نشے میں مدہوش ايک شخص نے ایک سو سالہ بوڑھی خاتون کے ساتھ جنسی زيادتی کی، جس کے باعث یہ خاتون انتقال کر گئی ہیں۔ یہ واقعہ اتوار کو رات گئے بھارتی رياست اتر پردیش کے ضلع میرٹھ میں پیش آیا۔ جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے سے فون پر بات کرتے ہوئے مقامی پولیس افسر راجیش کمار کا کہنا تھا، ’’یہ بوڑھی خاتون اپنے گھر کے برآمدے میں سوئی ہوئی تھیں، جب نشے میں دھت ایک شخص نے انہيں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ خاتون کو طبی امداد کے لیے ہسپتال لے جایا گیا جہاں وہ پیر کے روز انتقال کر گئیں۔‘‘ بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنسی زیادتی کے جرم کا مرتکب ہونے والے اس شخص کی عمر بیس برس سے زيادہ ہے اور اسے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ملزم پر ریپ اور قتل کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ میڈیا رپورٹوں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملزم نے اس جرم کے ارتکاب سے انکار کیا ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے بھارت خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے جرائم کے حوالے سے خبروں میں ہے۔ سن 2012 میں بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں ایک طالبہ کے ساتھ گینگ ریپ کے واقعے نے ملک بھر میں شدید غم و غصے کی فضا کو جنم دیا تھا اور اس حوالے سے قوانین بھی سخت تر بنائے گئے تھے۔ تھامسن روئٹرز فاؤنڈیشن کے ایک تازہ جائزے کے مطابق خواتین پر جنسی حملوں کے لحاظ سے نئی دہلی کو دنیا کے بد ترین اور غیر محفوظ ترین شہروں میں سے ایک قرار دیا گیا ہے۔ رواں برس کے آغاز ہی میں نئی دہلی پولیس کی جانب سے اعداد و شمار جاری کیے گئے تھے جن کے مطابق بھارتی دارالحکومت میں گزشتہ برس ہر چار گھنٹے میں ایک خاتون جنسی زیادتی کا شکار ہوئی۔ سن 2016 میں ریپ کے 2155 مقدمات درج کیے گئے تھے۔

بھارتی پولیس کا کہنا ہے کہ ملک کے شمالی حصے میں پيش آنے والے ايک واقعے ميں شراب کے نشے میں مدہوش ايک شخص نے ایک سو سالہ بوڑھی خاتون کے ساتھ جنسی زيادتی کی، جس کے باعث یہ خاتون انتقال کر گئی ہیں۔ یہ واقعہ اتوار کو رات گئے بھارتی رياست اتر پردیش کے ضلع میرٹھ میں پیش آیا۔ ... Read More »

’تباہ کن حالات‘ کے شکار تیرہ ملین شامیوں کو مدد کی اشد ضرورت

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا گیا ہے کہ برسوں سے خانہ جنگی کے شکار ملک شام میں اس وقت ’تباہ کن حالات‘ کا سامنا کرنے پر مجبور تیرہ ملین یا سوا کروڑ سے زائد انسانوں کو فوری مدد کی اشد ضرورت ہے۔ امریکی شہر نیو یارک سے منگل اکتیس اکتوبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق عالمی ادارے کے امدادی کارروائیوں کے رابطہ کار مارک لوکاک نے اردن سے ایک ویڈیو رابطے کے ذریعے سلامتی کونسل کے ارکان کو بتایا کہ شام میں شدت پسند تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش کے خلاف جنگ میں کامیابیوں کے باوجود 13 ملین شامی باشندوں کو ابھی تک فوری مدد کی ضرورت ہے۔ بکھرتی ’خلافت‘ کے صحراؤں کی خاک چھانتے جہادی شامی خانہ جنگی کی مختصر تاریخ داعش کے ٹوٹنے سے القاعدہ کی طاقت میں اضافہ مارک لوکاک نے سلامتی کونسل کے ایک اجلاس کو بتایا، ’’ہم جس نتیجے پر پہنچے ہیں، وہ کسی بھی شک و شبے سے بالا تر ہے اور وہ یہ کہ شام کے خونریز بحران کے عام شہریوں پر ابھی تک شدید اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔‘‘ اقوام متحدہ کے اس اعلیٰ اہلکار نے سکیورٹی کونسل کو بتایا کہ شام کے صرف ایک شمالی شہر الرقہ سے، جسے داعش نے اپنا دارالخلافہ قرار دے رکھا تھا، چار لاکھ چھتیس ہزار افراد فرار ہو کر ساٹھ سے زائد مختلف مقامات پر پناہ لینے پر مجبور ہو گئے۔ اسی طرح شام کے مشرقی شہر دیرالزور سے اس سال اگست سے لے کر اب تک ساڑھے تین لاکھ شامی باشندے اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔ ان میں سے ڈھائی لاکھ یا ایک چوتھائی ملین تو ایسے شامی باشندے تھے، جن کے پاس صرف اس سال اگست سے لے کر اب تک دیر الزور میں اپنے گھروں سے رخصتی کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ مارک لوکاک کے مطابق جنگ کی تباہ کاریوں سے متاثرہ اور انتہائی پریشان کن حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ان سوا کروڑ سے زائد شامی باشندوں میں سے قریب تین ملین تو وہ ہیں، جو ایسے علاقوں میں مقیم ہیں، جہاں امدادی کارکنوں کی ان تک رسائی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ سلامتی کونسل کے ارکان کو بتایا گیا کہ ان حالات کی وجہ سے شام میں اقوام متحدہ اور اس کے پارٹنر اداروں کی طرف سے جن امدادی منصوبوں پر کام کیا جا رہا ہے، وہ اس وقت دنیا بھر میں سب سے بڑی امدادی کارروائیاں ہیں۔ ترک فوج شامی صوبے ادلب ميں داخل شامی باغیوں کا ترک فوج پر حملہ فتح کے قریب ہیں، شامی وزیر خارجہ اس بریفنگ کے بعد اقوام متحدہ میں برطانیہ کے سفیر میتھیو رائکروفٹ نے سلامتی کونسل کے ارکان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک برطانیہ، امریکا، فرانس، روس اور چین کو شام میں قیام امن کے لیے اگلے ماہ جنیوا میں ہونے والے نئے مذاکراتی دور کی کامیابی کے لیے بھرپور کاوشیں کرنا چاہییں۔ شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی مندوب اشٹیفان ڈے مستورا کے مطابق اقوام متحدہ کی ثالثی میں جنیوا میں شامی امن بات چیت کا اگلا اور مجموعی طور پر آٹھواں دور اٹھائیس نومبر کو ہو گا۔ اس سے قبل انہی مذاکرات کا ساتواں دور بھی جنیوا ہی میں جولائی میں ہوا تھا۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا گیا ہے کہ برسوں سے خانہ جنگی کے شکار ملک شام میں اس وقت ’تباہ کن حالات‘ کا سامنا کرنے پر مجبور تیرہ ملین یا سوا کروڑ سے زائد انسانوں کو فوری مدد کی اشد ضرورت ہے۔ امریکی شہر نیو یارک سے منگل اکتیس اکتوبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی ڈی پی اے ... Read More »

پاکستانی صحافی احمد نورانی پر اسلام آباد میں حملہ

پاکستان کے ایک انگریزی روزنامے سے وابستہ تحقیقاتی صحافی احمد نورانی اسلام آباد میں ایک حملے میں زخمی ہو گئے ہیں۔ نورانی کو سر پر چوٹیں آئی ہیں اور وہ ملکی دارالحکومت کے ایک ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ پاکستان کے وفاقی دارالحکومت سے ملنے والی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق احمد نورانی، جو صحافت میں اپنی تحقیقاتی رپورٹنگ اور بے لاگ اظہار رائے کی وجہ سے کافی جانے جاتے ہیں، آج جمعہ ستائیس اکتوبر کے روز اسلام آباد ہی میں اپنی گاڑی میں سفر پر تھے کہ اچانک تین موٹر سائیکلوں پر سوار نامعلوم افراد نے ان کی کار کے آگے آ کر انہیں رکنے پر مجبور کر دیا۔ کوئٹہ: نامعلوم حملہ آوروں کی فائرنگ سے صحافی ہلاک مسلح حملہ آوروں کی فائرنگ سے پاکستانی صحافی ہلاک مجھے خفیہ ایجنسیوں سے خطرہ تھا، حامد میر ان حملہ آوروں نے انہیں ان کی گاڑی سے گھسیٹ کر باہر نکالا اور پھر ڈنڈوں سے انہیں پیٹنا شروع کر دیا۔ اس واقعے کو موقع پر موجود کئی راہ گیروں نے بھی دیکھا اور حملے کے بعد حملہ آور احمد نورانی کو زخمی چھوڑ کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ نیوز ایجنسی اے پی کے مطابق اس حملے میں احمد نورانی کافی زخمی ہو گئے اور انہیں سر پر چوٹیں آئی ہیں۔ انہیں فوری طور پر ایک مقامی ہسپتال پہنچا دیا گیا، جہاں ان کا علاج کیا جا رہا ہے۔ اس واقعے کے کئی گھنٹے بعد جمعے کی شام تک کسی بھی عسکریت پسند گروہ یا تنظیم نے اس حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی تھی۔ اس حملے کی احمد نورانی کے رفقاء کار، پاکستانی صحافتی تنظیموں اور حکومتی اہلکاروں نے بھرپور مذمت کی ہے۔ احمد نورانی پاکستان میں جنگ میڈیا گروپ کے انگریزی زبان کے اخبار ’دا نیوز‘ کے لیے کام کرتے ہیں۔ ان پر حملے کے خلاف جمعے کے روز ہی اسلام آباد میں صحافیوں نے ایک احتجاجی مظاہرے میں اس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے میڈیا کارکنوں کے لیے تحفظ کا مطالبہ بھی کیا۔ آج کے حملے میں زخمی ہونے والے صحافی نے، جو سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر ملکی سیاسی اور اقتصادی موضوعات پر کھل کر اظہار رائے کرتے تھے، چند روز قبل غیر متوقع طور پر اپنا ٹوئٹر اکاؤنٹ استعمال کرنا بند کر دیا تھا۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق پاکستان دنیا بھر میں صحافیوں کے لیے خطرناک ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے اور وہاں ملکی خفیہ ادارے، مختلف عسکریت پسند گروپ اور مجرموں کے گروہ پریس فریڈم پر حملہ کرتے ہوئے صحافیوں کو نشانہ بناتے رہتے ہیں۔ احمد نورانی پر اسلام آباد میں کیے گئے اس حملے سے قریب دو ہفتے قبل پاکستان میں طالبان عسکریت پسندوں نے شمالی مغربی شہر صوابی میں ایک حملہ کر کے ایک مقامی صحافی ہارون خان کو بھی قتل کر دیا تھا۔

پاکستان کے ایک انگریزی روزنامے سے وابستہ تحقیقاتی صحافی احمد نورانی اسلام آباد میں ایک حملے میں زخمی ہو گئے ہیں۔ نورانی کو سر پر چوٹیں آئی ہیں اور وہ ملکی دارالحکومت کے ایک ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ پاکستان کے وفاقی دارالحکومت سے ملنے والی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق احمد نورانی، جو صحافت میں ... Read More »

Scroll To Top