You are here: Home » صحت

Category Archives: صحت

Feed Subscription

اپنے پاؤں کے لیے پانچ منٹ

سارا دن آپ کے پاؤں پیدل چلنے اور کام کاج کے باعث تھک جاتے ہیں۔ اب وقت ہے کہ آپ اپنے پاؤں کی دیکھ بھال کے لیے بھی کچھ کریں۔ طبی ماہرین کی رائے میں آپ کو ہر روز پانچ منٹ ننگے پیر چلنا چاہیے۔ پیدل چلنے سے پاؤں اور ٹخنوں کے پٹھے مضبوط ہوتے ہیں اور جسمانی توازن درست ہوتا ہے۔ اگر آپ کو کوئی چوٹ لگی ہوئی ہے یا خون کی روانی کا مسئلہ ہے تو بہتر ہے کہ جوتے پہن کر چلا جائے۔ اگر آپ دھوپ میں پیدل چلنا چاہتے ہیں تو سورج کی تمازت سے بچنے کے لیے جلد کی کریم کا استعمال ضرور کریں۔

سارا دن آپ کے پاؤں پیدل چلنے اور کام کاج کے باعث تھک جاتے ہیں۔ اب وقت ہے کہ آپ اپنے پاؤں کی دیکھ بھال کے لیے بھی کچھ کریں۔ طبی ماہرین کی رائے میں آپ کو ہر روز پانچ منٹ ننگے پیر چلنا چاہیے۔ پیدل چلنے سے پاؤں اور ٹخنوں کے پٹھے مضبوط ہوتے ہیں اور جسمانی توازن درست ... Read More »

انٹرسیکس بچوں کے جنسی اعضاء کی سرجری پر پابندی کا مطالبہ

انسانی حقوق کے سرکردہ کارکنوں نے مطالبہ کیا ہے کہ بین صنفی نوزائیدہ بچوں کے اعضائے جنسی کی سرجری نہ کی جائے کیونکہ جراحی کا یہ عمل انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ انسانی حقوق کے لیے سرگرم عناصر پر مشتمل ایک گروپ نے کہا ہے کہ صرف امریکا میں ہی حالیہ برسوں کے دوران کئی سو ایسے انٹر سیکس (بین صنفی) بچوں کے جنسی اعضاء کی سرجری کی گئی، جن کی پیدائش کے وقت ان کی صنف غیر واضح تھی۔ ایک غلط جسم میں قید ہونا کیسا لگتا ہے؟ پاکستانی ہیجڑوں کے دکھ کون سنے؟ ’خدا میرا بھی ہے‘ مردوں اور خواتین دونوں ہی کی جنسی خصوصیات کے ساتھ پیدا ہونے والے بچوں کو بین صنفی کہا جاتا ہے۔ بین صنفی بچے بعض اوقات مرد اور عورت دونوں کے جنسی اعضاء کی ساخت کے مرکب کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں تاہم نہ تو وہ واضح طور پر لڑکا اور نہ ہی لڑکی نظر آتے ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ اور انٹر ایکٹ نے اپنی مشترکہ رپورٹ میں لکھا ہے کہ ایسے بین صنفی بچوں کو لڑکا یا لڑکی بنانے کی خاطر ایسے آپریشن کرنے کا رواج بڑھ چکا ہے۔ عام طور سے سرجن جن بچوں میں جس جنس کی خصوصیات زیادہ ہوتی ہیں، انہیں وہی جنس دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ جراحی کے ذریعے ان بچوں کے جنسی اعضاء کے خد و خال واضح کر دیے جاتے ہیں۔ اس رپورٹ میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ واشنگٹن حکومت ایسے تمام جراحی اعمال پر پابندی لگا دے۔ ہیومن رائٹس واچ سے منسلک محقق کیل نائٹ نے تھامسن روئٹرز فاؤنڈیشن کو بتایا کہ ایسے آپریشنز ’طبی شعبے میں انسانیت کے خلاف زیادتیوں‘ کے زمرے میں بھی آ سکتے ہیں، ’’یہ جراحی اعمال طبی طور پر غیر ضروری ہیں۔ یہ نقصان دہ ہیں اور ان سے مطلوبہ نتائج حاصل ہونے کی کوئی ضمانت بھی نہیں دی جا سکتی۔‘‘ رپورٹ کے مطابق بچوں میں جنس کے تعین کو یقینی بنانے کے حوالے سے کیے جانے والے آپریشنز نقصان دہ تو ثابت ہوئے ہیں لیکن اس کا فائدہ ابھی تک واضح نہیں ہو سکا ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق خیال کیا جاتا ہے کہ دنیا کی مجموعی آبادی میں سے 1.7 فیصد یا 127.5 ملین افراد دونوں صنفی خصوصیات کے ساتھ پیدا ہوئے ہیں۔ امریکا میں تین سابق سرجن ڈاکٹروں کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق بچوں کے اعضائے مخصوصہ کی پلاسٹک سرجری مستقبل میں ’جذباتی دباؤ‘ کا سبب بن سکتی ہے۔ نوے کی دہائی سے کئی طبی حلقے اس عمل کے حوالے سے خبردار کر رہے ہیں تاہم اس ضمن میں ان کی کوششیں کارآمد ثابت نہیں ہو سکی ہیں۔ اقوام متحدہ کے کئی ادارے بھی اسے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دے چکے ہیں۔ سن دو ہزار پندرہ میں مالٹا ایسا پہلا ملک بن گیا تھا، جس نے انٹر سیکس یا بین صنفی بچوں کی غیر ضروری سرجری پر پابندی عائد کی تھی۔

انسانی حقوق کے سرکردہ کارکنوں نے مطالبہ کیا ہے کہ بین صنفی نوزائیدہ بچوں کے اعضائے جنسی کی سرجری نہ کی جائے کیونکہ جراحی کا یہ عمل انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ انسانی حقوق کے لیے سرگرم عناصر پر مشتمل ایک گروپ نے کہا ہے کہ صرف امریکا میں ہی حالیہ برسوں کے دوران کئی سو ایسے انٹر سیکس ... Read More »

مسلمان کا دل ایک ہندو مریض کو عطیہ، جان بچا لی گئی

ایک مفلوج ذہن والے مسلمان اور اس کے اہلخانہ نے ایک ہندو مریض کی جان بچا لی ہے۔ مسلم خاندان نے ڈاکٹروں کو اجازت دی تھی کہ وہ دل کا ٹرانسپلانٹ آپریشن کرتے ہوئے ہندو مریض کو زندہ رکھ سکتے ہیں۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق آصف جُنیجہ نامی مسلمان تحصیل سہور کے ایک گاؤں کا رہائشی تھا اور اب اس کے دل کا ٹرانسپلانٹ آپریشن کرتے ہوئے امبالیہ نامی ہندو کی جان بچا لی گئی ہے۔ مسلمان کسان کا دل باؤنگر سے ایک چارٹرڈ طیارے کے ذریعے احمد آباد پہنچایا گیا اور وہاں کے ایک نجی ہسپتال میں ہندو مریض کی سرجری کی گئی۔ آصف جُنیجہ سترہ دسمبر کے روز ایک کار حادثے میں زخمی ہو گئے تھے۔ انہیں جلد ہی ایک ہسپتال پہنچا دیا گیا تھا لیکن ڈاکٹروں نے بتایا کہ اس کا دماغ مفلوج ہو چکا ہے۔ اس کے بعد نیورو سرجن نے مسلم خاندان کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے مریض کا دل کسی ایسے شخص کو عطیہ کر دیں، جس کو اس کی شدید ضرورت ہے۔ نیوروسرجن ڈاکٹر راجندر کباریہ کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’ہم نے جنیجہ کے اہلخانہ سے درخواست کی کہ وہ مریض کے ایسے تمام اعضاء عطیہ کر دیں، جنہیں استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔ اس کے خاندان نے ہمارے اس مشورے کا قبول کرتے ہوئے دل کے ساتھ ساتھ اس کے دو گردے بھی عطیہ کرنے کی اجازت دے دی۔ اس کے علاوہ مسلمان مریض کے جگر اور لبلبے کو بھی چار دیگر ضرورت مند مریضوں میں ٹرانسپلانٹ کیا گیا۔‘‘ اعضاء عطیہ کرنے کے رجحان کی مہم ڈاکٹر کباریہ کا کہنا تھا کہ باؤنگر کی ہسپتال انتظامیہ نے احمد آباد کے ایک ہسپتال سے رابطہ کیا، جہاں ایک ایجنسی کے ذریعے امبالیہ کا علاج کیا جا رہا تھا۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ جب ایکسیڈنٹ ہوا تھا تو جنیجہ کی صحت بہت ہی اچھی تھی اور اس کے خون کا گروپ بھی او نیگیٹیو تھا۔ او نیگیٹیو گروپ والے شخص کو یونیورسل ڈونر کہا جاتا ہے اور ایسے شخص کے عطیہ کردہ اعضاء ہر کسی مریض کو لگائے جا سکتے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ہندو مریض کو ایمرجنسی وارڈ میں ایک وینٹیلیٹر پر رکھا گیا تھا۔ احمد آباد ہسپتال کے ڈاکٹر شاہ کا صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’جب ہمیں یقین ہو چلا تھا کہ امبالیہ کی جان نہیں بچائی جا سکتی تو ہمیں خبر ملی کی مفلوج ذہن والے ایک مریض کا دل عطیے کے طور پر مل سکتا ہے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا، ’’باؤنگر کے ہسپتال میں آٹھ بج کر بیس منٹ پر دل نکالا گیا۔ ایک خصوصی طیارے کے ذریعے احمد آباد لایا گیا۔ ہم نے سفر اور وقت کم سے کم رکھنے کے لیے ایک گرین کوریڈور تشکیل دے رکھا تھا۔ نو بج کر تیس منٹ پر امبالیہ کی سرجری شروع کی گئی جو مسلسل چار گھنٹے تک جاری رہی اور آپریشن کامیاب رہا۔‘‘ اس حوالے سے انہوں نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں ہیں۔

ایک مفلوج ذہن والے مسلمان اور اس کے اہلخانہ نے ایک ہندو مریض کی جان بچا لی ہے۔ مسلم خاندان نے ڈاکٹروں کو اجازت دی تھی کہ وہ دل کا ٹرانسپلانٹ آپریشن کرتے ہوئے ہندو مریض کو زندہ رکھ سکتے ہیں۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق آصف جُنیجہ نامی مسلمان تحصیل سہور کے ایک گاؤں کا رہائشی تھا اور اب اس ... Read More »

سرجن مریض کے بازو پر ہی کان اُگانے میں کامیاب

کاسمیٹک طب میں اسے ایک انقلابی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ ایک چینی سرجن متاثرہ مریض کے بازو پر ہی انسانی کان اُگانے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ مریض کا کان گزشتہ برس ایک حادثے میں ضائع ہو گیا تھا۔ نیوز ایجنسی روئٹرز کے مطابق مریض کا نام مسٹر چی ہے اور وہ گزشتہ برس ایک حادثے کے دوران شدید زخمی ہو گیا تھا۔ اس حادثے کے دوران اس کا دائیاں کان اس کے چہرے سے الگ ہو گیا تھا۔ اس شخص کے چہرے کو دوبارہ درست حالت میں لانے کے لیے متعدد آپریشن کیے جا چکے ہیں لیکن ڈاکٹر مریض کے کان کو دوبارہ درست حالت میں لانے میں ناکام رہے ہیں۔ ڈاکٹر گو شو ژونگ چین کے معروف پلاسٹک سرجن ہیں۔ جب مسٹر چی نے ان کے بارے میں سنا تو ان سے رابطہ کیا۔ ڈاکٹر گو نے چہرے کا ٹرانسپلانٹ آپریشن پہلی مرتبہ سن دو ہزار چھ میں کیا تھا اور انہوں نے تین مرحلوں میں مسٹر چی کا علاج کرنے کی حامی بھری تھی۔ شیان جیاؤٹونگ یونیورسٹی کے اس ڈاکٹر نے سب سے پہلے مرحلے میں مریض کے بازو پر جلد کو پھیلایا۔ دوسرے مرحلے میں پسلی کی نرم ہڈیوں کے مخصوص حصوں کو اتارے ہوئے انہیں بازو کی جلد میں داخل کیا گیا۔ کان کی شکل میں کاٹی ہوئی ان ہڈیوں کو جلد کے اندر اس وجہ سے ڈالا گیا تاکہ ان پر جلد آ سکے اور یہ آہستہ آہستہ کان کی شکل میں تبدیل ہو جائیں۔ ابھی اگایا جانے والا کان مکمل طور پر اس حالت میں نہیں آیا ہے کہ اسے دائیں کان کی جگہ ٹرانسپلانٹ کیا جا سکے۔ سرجن نے امید ظاہر کی ہے کہ ایک ماہ کے اندر اندر اس سرجری کو مکمل کر لیا جائے گا۔ مریض کا چائنا نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’میرا ایک کان نہیں ہے اور مجھے محسوس ہوتا ہے میں جسمانی طور پر مکمل نہیں ہوں۔‘‘ سرجن کے مطابق سب سے مشکل مرحلہ کان کو مریض کے بازو سے جوڑنا تھا تاکہ اس کی افزائش ہو سکے، جو بخوبی طے پا گیا ہے۔ مسٹر چی نے امید ظاہر کی ہے کہ وہ دوبارہ اپنی زندگی کو ویسے ہی گزار سکیں گے، جیسے حادثے سے پہلے گزار رہے تھے۔

کاسمیٹک طب میں اسے ایک انقلابی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ ایک چینی سرجن متاثرہ مریض کے بازو پر ہی انسانی کان اُگانے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ مریض کا کان گزشتہ برس ایک حادثے میں ضائع ہو گیا تھا۔ نیوز ایجنسی روئٹرز کے مطابق مریض کا نام مسٹر چی ہے اور وہ گزشتہ برس ایک حادثے کے دوران ... Read More »

’پاکستان اس سال کے اختتام تک پولیو فری ہو جائے گا‘

ریڈیو پاکستان کو انٹرویو دیتے ہوئے یونیسیف کی پاکستان میں نمائندہ انجیلا کیئرنی نے کہا ہے کہ اس سال کے اختتام تک پاکستان پولیو سے آزاد ہو جائے گا۔ انجیلنا کیئرنی نے پولیو پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سن 2014 میں پاکستان میں پولیو کے 309 کیسز سامنے آئے تھے۔ سن 2016 میں صرف سترہ پولیو کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ پولیو کے کیسز میں انتی زیادہ کمی ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔‘‘ کیئرنی نے کہا کہ عالمی ادارہء صحت، ملنڈا گیٹس فاؤنڈیشن اور حکومت پاکستان اور دیگر بین الااقوامی تنظیموں کی مدد سے اس سال کے اختتام تک پاکستان پولیو سے آزاد ہو جائے گا۔ پاکستان میں آج سے تین روزہ پولیو مہم کا آغاز ہو گیا ہے جس میں لگ بھگ بارہ لاکھ بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے۔ پاکستان کے قبائلی علاقوں کے ادارے فاٹا سیکریٹیریٹ کے ترجمان نے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے کہا،’’ ہمیں پورا یقین نے کہ سیاسی انتظامیہ، بین الاقوامی تنظیموں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد سے فاٹا میں پولیو مہم اپنے تمام اہداف ہورے کرے گی۔‘‘ ترجمان نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ اس سال جنوبی وزیرستان میں پولیو کے صرف دو کیسز سامنے آئے تھے اور وہ ان خاندانوں کے تھے جو فوجی آپریشن کے باعث نقل مکانی کرکے افغانستان چلے گئے تھے۔ حکومت پاکستان اور پولیو مہم میں شامل اس کے دیگر شراکت داروں کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر جاری بیان کے مطابق پاکستان کے 77 اضلاع میں پولیو مہم کے ذریعے بچوں کو پولیو کے قطرے اور انجیکشنز دیے جائیں گے۔ واضح رہے کہ پاکستان کا شمار دنیا کے ان تین ممالک میں ہے جہاں پولیو وائرس کا خطرہ برقرار ہے۔ پاکستان کے علاوہ نائجیریا اور افغانستان میں پولیو وائرس اب بھی بچوں کی زندگیوں کو متاثر کر رہا ہے۔

ریڈیو پاکستان کو انٹرویو دیتے ہوئے یونیسیف کی پاکستان میں نمائندہ انجیلا کیئرنی نے کہا ہے کہ اس سال کے اختتام تک پاکستان پولیو سے آزاد ہو جائے گا۔ انجیلنا کیئرنی نے پولیو پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سن 2014 میں پاکستان میں پولیو کے 309 کیسز سامنے آئے تھے۔ سن 2016 میں صرف سترہ پولیو کے کیسز رپورٹ ... Read More »

جرمنی: ہم جنس پرست مردوں میں ایڈز سب سے زیادہ

تمام تر حفاظتی اقدامات کے باوجود گزشتہ برس ایچ آئی وی کے مریضوں کی تعداد میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔ ماضی کی طرح سب سے زیادہ متاثر وہ مرد ہوئے ہیں، جو ہم جنس پرست ہیں یا مردوں سے جنسی ملاپ کا رجحان رکھتے ہیں۔ مشہور رابرٹ کوخ انسٹی ٹیوٹ (آر کے آئی) کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق جرمنی میں گزشتہ برس ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کی تعداد میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے جبکہ اس مہلک وائرس سے متاثر ہونے والے نئے مریضوں کی تعداد میں بھی کمی کا کوئی واضح نشان نظر نہیں آیا۔ آر کے آئی کے اعداد و شمار کے مطابق سن دو ہزار پندرہ کے اختتام تک جرمنی میں ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کی تعداد چوراسی ہزار سات سو کے قریب تھی۔ ان میں سے تقریباﹰ تین ہزار دو سو افراد ایسے ہیں، جو گزشتہ برس ایچ آئی وی جیسے موذی وائرس کا شکار ہوئے۔ انسٹی ٹیوٹ کے صدر لوتھر ویلر کا کہنا تھا کہ اگر متاثرہ افراد کا موازنہ سن دو ہزار چودہ میں متاثر ہونے والے افراد سے کیا جائے تو اس میں کوئی کمی نہیں ہوئی ہے۔ تاہم کئی دیگر ملکوں کے مقابلے میں جرمنی کے لیے یہ بھی ایک مثبت خبر بھی ہے کیوں کہ یورپ کے کئی دیگر ملکوں میں ایچ آئی وی سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ لوتھر ویلر کا کہنا تھا ایچ آئی وی کی روک تھام کے لیے وفاقی حکومت کی طرف سے اپنائی گئی حکمت عملی میں تبدیلی کی ضرورت ہے تاکہ اس خطرناک بیماری پر قابو پایا جا سکے۔ رپورٹ میں جنسی تعلق کے وقت کنڈوم کے استعمال کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے جب کہ ایچ آئی وی اور ایڈز کو مستقبل میں بھی جرمنوں کی صحت کے لیے خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ماضی کی طرح جرمنی میں ایچ آئی وی سے سب سے زیادہ وہ مرد متاثر ہو رہے ہیں، جو مردوں کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرتے ہیں۔ گزشتہ برس دو ہزار دو سو ہم جنس پرست مرد اس بیماری میں مبتلا ہوئے۔ اسی طرح سات سو پچاس مرد و خواتین نے غیر محتاط طریقے سے جنسی تعلق قائم کیا اور وہ اس بیماری سے متاثر ہوئے۔ منشیات کے عادی دو سو پچاس افراد ایسے تھے، جنہوں نے آلودہ سرنجیں استعمال کیں اور یہ وائرس ان کو لگا۔ بتایا گیا ہے کہ سن دو ہزار پندرہ میں تقریباﹰ چار سو ساٹھ افراد اس بیماری کی وجہ سے ہلاک ہوئے تھے۔ جرمنی میں موجود اس وقت اسی ہزار سے زائد ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد میں گیارہ ہزار سے زائد غیر ملکی پس منظر رکھتے ہیں اور وہ اس وائرس سے بیرون ملک متاثر ہوئے۔

تمام تر حفاظتی اقدامات کے باوجود گزشتہ برس ایچ آئی وی کے مریضوں کی تعداد میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔ ماضی کی طرح سب سے زیادہ متاثر وہ مرد ہوئے ہیں، جو ہم جنس پرست ہیں یا مردوں سے جنسی ملاپ کا رجحان رکھتے ہیں۔ مشہور رابرٹ کوخ انسٹی ٹیوٹ (آر کے آئی) کی تازہ ترین رپورٹ کے ... Read More »

پولیو: زندگی بھر پیچھا کرنے والا مرض

ٹانگوں اور بازوؤں کا مفلوج ہونا، پولیو کی عام علامات ہیں۔ بہت سے مریض ورزش کے ذریعے اس حالت میں بہتری لانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں مگر اس بات کا خطرہ موجود رہتا ہے کہ یہ علامات ایک بار پھر لوٹ آئیں۔ پولیومیلائٹس ایک وائرل انفیکشن ہے جو منہ کے راستے کسی فرد کے جسم میں منتقل ہوتا ہے۔ اس انفیکشن سے متاثرہ فرد کے لعاب یا فضلے کے ذریعے یہ دوسرے افراد کے معدے تک پہنچتا ہے اور پھر وہاں سے ان کے خون میں شامل ہو جاتا ہے۔ بہت سے افراد جو اس وائرس سے متاثر ہو بھی جائیں تو ان میں اس مرض کی علامات کبھی ظاہر نہیں ہوتیں۔ قریب 90 فیصد افراد کو یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ وہ اس وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں۔ ایسے لوگوں میں اس وائرس کے خلاف مزاحمت پیدا ہو جاتی ہے۔ عام طور پر بچے ہی اس خطرناک وائرس کے اثرات سے متاثر ہوتے ہیں۔ پولیو سے اعصابی نظام متاثر ہوتا ہے جس کا نتیجہ فالج کی صورت میں نکلتا ہے، خاص طور پر ٹانگوں، بازوؤں اور کمر وغیرہ کا حصہ۔ یہ چیز خطرناک ہو سکتی ہے۔ پولیو سے متاثر ہونے والے مریض ایک سال سے لے کر کئی دہائیوں تک اس مرض کے اثرات میں مبتلا رہ سکتے ہیں۔ پولیو میں مبتلا ہونے والے بچوں کی ایک ٹانگ یا بازو اکثر چھوٹا رہ جاتا ہے۔ مگر عام طور پر صحت مند اعصاب، بیماری سے متاثرہ اعصاب کی جگہ لے لیتے ہیں اور اس کے اثرات میں کمی واقع ہو جاتی ہے اور چند برس بعد بہت سے مریض معمول کی زندگی کی طرف لوٹ آتے ہیں۔ کیا پولیو دوبارہ بھی ہو سکتا ہے؟ جی ہاں، پوسٹ پولیو سینڈروم ، دراصل کسی کو بہت پہلے ہونے والے ایسے انفیکشن کا نتیجہ ہوتا ہے جس سے وہ بچپن میں متاثر ہوا ہو۔ عام طور پر تقریباﹰ تمام ایسے لوگوں کو جو کسی حد تک پولیو سے متاثر ہو چُکے ہوں تو انہیں 30 سے 40 برس بعد دوبارہ یہ مرض کسی نہ کسی حد تک دوبارہ متاثر کرسکتا ہے۔ عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ پی پی ایس کی وجہ بہت زیادہ جسمانی مشقت پر مبنی کام یا اسپورٹس بنتے ہیں۔ مریض جب یہ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ وہ اس بیماری پر قابو پا چکے ہیں، انہیں ایک بار پھر اس کی علامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کی علامات میں جسمانی تکلیف، سانس لینے میں مشکل، بے آرام نیند اور تھکن وغیرہ شامل ہیں۔ ان تکالیف کا نتیجہ بالآخر وہیل چیئر پر زندگی کی صورت میں نکلتا ہے۔

ٹانگوں اور بازوؤں کا مفلوج ہونا، پولیو کی عام علامات ہیں۔ بہت سے مریض ورزش کے ذریعے اس حالت میں بہتری لانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں مگر اس بات کا خطرہ موجود رہتا ہے کہ یہ علامات ایک بار پھر لوٹ آئیں۔ پولیومیلائٹس ایک وائرل انفیکشن ہے جو منہ کے راستے کسی فرد کے جسم میں منتقل ہوتا ہے۔ ... Read More »

ہاتھ دھونے کو اپنی عادت بنائیے

دنیا بھر میں ہاتھ دھونے کا عالمی دن منایا گیا۔ اس دن کو منانے کا مقصد لوگوں میں اُن بیماریوں کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا ہے، جو ہاتھ نہ دھونے کی وجہ سے جنم لے سکتی ہیں۔ دنیا بھر میں 2008ء سے یہ دن منایا جا رہا ہے۔ رواں برس یہ دن ’’ہاتھ دھونے کو اپنی عادت بنائیے‘‘ کے پیغام کے ساتھ منایا گیا ہے۔ اس کا مقصد حفظان صحت کے اصولوں کی پابندی کرنا سکھانا ہے۔ گلوبل ہینڈ واشنگ ڈے کے موقع پر دنیا بھر میں مختلف تقریبات کا اہتمام کیا گیا ۔ مختلف ممالک میں غیر سرکاری تنظیمیں عوامی مقامات پر ہاتھ دھونے کے فوائد سے لوگوں کو آگاہ کر رہی ہیں اور اس دوران عملی مظاہرہ بھی کر رہی ہیں کہ صابن سے ہاتھ دھونے سے کس حد تک بیکٹریا سے نجات مل جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ایک سینٹی میٹر پر ایک ہزار سے دس ہزار تک بیکٹریا جمع ہو سکتے ہیں۔ بیکٹریا صرف ایک خلیے یا سیل پر مشتمل ہوتے ہیں۔ بیکٹریا صرف صحت کو نقصان ہی نہیں پہنچاتے بلکہ یہ فائدہ مند بھی ہوتے ہیں۔ تاہم اس انتہائی ننھے سے جسم کے باوجود ان میں وہ سب چیزیں موجود ہوتی ہیں، جس کی جسم کو ضرورت ہوتی ہے۔ مثال کے طور بیکٹیریا کھانے کے ساتھ بدن میں جانے والی چربی کو حل کرنے میں فائدہ مند ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہاضمے میں بھی ان کا مفید کردار ہے۔ تاہم دوسری جانب بیکٹریا متعدد بیماریوں کے پھیلاؤ میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان میں خناق، ہیضہ، کالی کھانسی اور تپ دق بھی شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق صابن کے ساتھ اچھی طرح ہاتھ دھونے سے اسہال کا خطرہ تیس سے پچاس فیصد تک کم ہو جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 2008ء کو صحت و صفائی (سینیٹیشن) کا سال قرار دیا تھا اور ہاتھ دھونے کا عالمی دن اسی کی ایک کڑی ہے۔

دنیا بھر میں ہاتھ دھونے کا عالمی دن منایا گیا۔ اس دن کو منانے کا مقصد لوگوں میں اُن بیماریوں کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا ہے، جو ہاتھ نہ دھونے کی وجہ سے جنم لے سکتی ہیں۔ دنیا بھر میں 2008ء سے یہ دن منایا جا رہا ہے۔ رواں برس یہ دن ’’ہاتھ دھونے کو اپنی عادت بنائیے‘‘ کے ... Read More »

تھائی حکومت کا اسقاطِ حمل کے قوانین میں نرمی کا فیصلہ

بدھ مت کی اکثریتی آبادی والے ملک تھائی لینڈ میں حکام کے مطابق تھائی حکومت اسقاطِ حمل کے خلاف اپنے سخت قوانین میں نرمی لائے گی۔ ایسا زیکا وائرس سے منسلک پیدائشی نقائص کے ثابت ہونے کی صورت میں کیا جائے گا۔ زیکا وائرس مچھر کے کاٹنے سے پھیلتا ہے۔ تھائی لینڈ نے گزشتہ ہفتے زیکا وائرس سے متاثرہ پہلے ایسے کیس کی تصدیق کی تھی جس میں پیدائشی طور پر جسم کے مقابلے میں سر چھوٹا رہ جاتا ہے۔ مچھر کے کاٹنے سے پھیلنے والے اس وائرس سے منسلک کوتاہ سری کے پیدائشی نقص کے پہلے دو کیسز سب سے پہلے جنوبی ایشیا میں سامنے آئے تھے۔ اس کے بعد امریکا میں بھی اس وائرس سے متاثرہ مریضوں کا پتہ چلا تھا۔ تھائی لینڈ میں صحت کے ماہرین جو رواں ہفتے زیکا وائرس سے متاثر حاملہ خواتین کے لیے ہدایت نامے کا مسودہ بنانے کے لیے جمع ہوئے تھے، اس نتیجے پر پہنچے کہ سنگین پیدائشی نقائص کی صورت میں حمل ٹھہرنے کے چوبیس ہفتے بعد تک اسقاطِ حمل کرایا جا سکتا ہے۔ رائل تھائی کالج آف گائنا کولوجی کے سر براہ پیسیک لومپیکانون نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ،’’ زیکا وائرس کے کیس میں سب سے مشکل کام کوتاہ سری کے پیدائشی نقص کا تعین کرنا ہے کیونکہ اس کا پتہ حمل ٹھہرنے کے کافی دیر بعد چلتا ہے۔‘‘ تھائی لینڈ میں اسقاطِ حمل غیر قانونی ہے۔ صرف ریپ یا کسی خاتون کی زندگی بچانے کی صورت میں اور یا پھر اس کی صحت کے تحفظ کے لیے ہی اس کی اجازت دی جاتی ہے۔ عالمی ادارہ برائے صحت کے مطابق زیکا وائرس کے نتیجے میں جسم کے مقابلے میں سر چھوٹا رہ جانے کے پیدائشی نقص کا پتہ چلانے کے لیے کوئی مخصوص ٹیسٹ نہیں ہیں۔ تاہم الٹرا ساؤنڈ اسکینگ کے ذریعے حمل کے تیسرے دور میں اس کا پتہ لگایا جا سکتا ہے۔ تھائی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ احتیاطی تدبیر کے طور پر تمام حاملہ خواتین کو زیکا وائرس کا ٹیسٹ کروانے پر غور کر رہی ہے۔ یاد رہے کہ رواں برس جنوری سے تھائی حکومت نے زیکا وائرس کے تین سو بانوے کیسز کی تصدیق کی ہے جن میں انتالیس حاملہ خواتین بھی شامل ہیں۔ جبکہ سنگا پور میں اس وائرس سے متاثر تین سو ترانوے مریض رجسٹر کیے گئے ہیں اور اُن میں حاملہ خواتین کی تعداد سولہ ہے۔

بدھ مت کی اکثریتی آبادی والے ملک تھائی لینڈ میں حکام کے مطابق تھائی حکومت اسقاطِ حمل کے خلاف اپنے سخت قوانین میں نرمی لائے گی۔ ایسا زیکا وائرس سے منسلک پیدائشی نقائص کے ثابت ہونے کی صورت میں کیا جائے گا۔ زیکا وائرس مچھر کے کاٹنے سے پھیلتا ہے۔ تھائی لینڈ نے گزشتہ ہفتے زیکا وائرس سے متاثرہ پہلے ... Read More »

اسی فیصد پاکستانی آلودہ پانی پینے پر مجبور

پاکستان کے وفاقی وزیر رانا تنویر نے بتایا ہے کہ ملک بھر کے 24 اضلاع اور 2807 دیہات سے اکٹھے کیے گئے 62 سے 82 فیصد پانی کے نمونوں سے پتا چلا ہے کہ پینے کا پانی انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ پاکستانی میڈیا رپورٹوں کے مطابق پانی کے نمونوں کے ٹیسٹ ’پاکستان کونسل فار ریسرچ ان واٹر ریسورسز‘ کی سربراہی میں کیے گئے تھے۔ ان ٹیسٹوں کے نتائج سے پتا چلا ہے کہ پانی کے اکثر نمونے بیکٹیریا، آرسینک (سنکھیا)، نائٹریٹ اور دیگر خطرناک دھاتوں سے آلودہ تھے۔ رانا تنویر نے میڈیا کو بتایا کہ ملک بھر میں پانی کے معیار کو جانچنے کے لیے 24 لیبارٹریاں قائم کی گئی ہیں اور دیگر اقدامات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔ وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی نے بتایا کہ ملک کے کئی علاقوں میں پانی میں بیکٹریا کی مقدار 62 فیصد اور آرسینک (سنکھیا) کی مقدار 24 فیصد تک پائی گئی ہے۔ واضح رہے کہ بیکٹیریا سے آلودہ پانی ملک میں ہیپاٹائٹس، خسرے اور ہیضہ جیسی بیماریوں کا سبب بنتا ہے جبکہ پانی میں آرسینک کی زیادہ مقدار ذیابیطس، سرطان، پیدائشی نقص، جلد، گردوں اور دل کی بیماریوں کا سبب بنتی ہے۔ پاکستانی انگریزی اخبار ڈان کے مطابق ’پاکستان کونسل فار ریسرچ ان واٹر ریسورسز‘ کے پاس فنڈنگ کی کمی ہے اور اس کی کچھ لیبارٹریاں بند ہونے کا بھی خدشہ ہے۔

پاکستان کے وفاقی وزیر رانا تنویر نے بتایا ہے کہ ملک بھر کے 24 اضلاع اور 2807 دیہات سے اکٹھے کیے گئے 62 سے 82 فیصد پانی کے نمونوں سے پتا چلا ہے کہ پینے کا پانی انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ پاکستانی میڈیا رپورٹوں کے مطابق پانی کے نمونوں کے ٹیسٹ ’پاکستان کونسل فار ریسرچ ان واٹر ... Read More »

Scroll To Top