You are here: Home » ماحولیات

Category Archives: ماحولیات

Feed Subscription

اسٹیفن ہاکنگ کی وہیل چیئر لاکھوں ڈالر میں فروخت

ایک بولی میں مشہور سائنس دان اسٹیفن ہاکنگ کی خودکار وہیل چیئر اور ایک مقالہ ایک ملین ڈالر سے زائد رقم میں فروخت کر دیا گیا ہے۔ اس سے حاصل شدہ آمدن دو خیراتی اداروں کو دی جائے گی۔ اسٹیفن ہاکنگ کی سرخ خودکار وہیل چیئر جمعرات کے روز کرسٹی نیلام گھر نے تین لاکھ پاؤنڈ (قریب چار لاکھ ڈالر) میں فروخت کی جب کہ ان کے ایک مکالے کو اس سے دوگنی رقم میں فروخت کیا گیا۔ برطانوی نظریاتی طبعیات دان اور ماہر فلکیات، اسٹیفن ہاکنگ کو کائنات کی ابتدا سے متعلق ان کے کام، وقت کی نوعیت اور ماہیت اور بلیک ہولز سے متعلق ان کے انقلابی نظریات کی وجہ سے دنیا بھر میں جانا مانا جاتا تھا۔ ہاگنگ رواں برس مارچ میں 76 برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔ ان کی زندگی کا ایک بڑا حصہ موٹر نیورون بیماری کی وجہ سے وہیل چیئر پر گزرا۔ اسٹیفن ہاکنگ کی ویل چیئر کو پندرہ ہزار کی بولی کے ساتھ نیلام کے لیے پیش کیا گیا تھا، تاہم وہ تین لاکھ پاؤنڈ تک پہنچ گئی۔ اسی طرح سن 1965 میں اسٹیفن ہاکنگ کے لکھے ایک سو ستر صفحاتی مقالے ’پراپرٹیز آف ایکسپینڈنگ یونیورسز‘ یا ’کائناتوں کے پھیلاؤ کے خواص‘ کو قریب پانچ لاکھ پچاسی ہزار پاؤنڈز میں فروخت کیا گیا۔ اس مقالے کی فروخت کی یہ قیمت اس سے متعلق توقع سے ڈیڑھ لاکھ پاؤنڈز زیادہ ہے۔ یہ نیلامی کرسٹی نیلام گھر نے آن لائن کی، جو نو روز تک جاری رہی۔ اس نیلامی کو ’ان دا شولڈرز آف جائنٹس‘ یا ’یہ دیوقامتوں کے کندھوں پر‘ رکھا گیا تھا۔ اس سے ہونے والی آمدن کو ہاکنگ فاؤنڈیشن اور موٹر نیورون ڈیزیز ایسوسی ایشن کو دی جا رہی ہے۔ ہاکنگ کی بیٹی لوسی نے کہا ہے کہ اس نیلامی کے ذریعے اسٹیفن ہاکنگ کے چاہنے والوں کو ہاکنگ کے کام اور غیرمعمولی زندگی کی جھلک سے آشنائی ہوئی ہے۔ واضح رہے کہ ہاکنگ کو رواں ماہ اس قبرستان میں دفن کیا گیا تھا، جہاں آئزک نیوٹن اور سر جے جے تھامسن جیسے شہرت یافتہ سائنس دان دفن ہیں۔

ایک بولی میں مشہور سائنس دان اسٹیفن ہاکنگ کی خودکار وہیل چیئر اور ایک مقالہ ایک ملین ڈالر سے زائد رقم میں فروخت کر دیا گیا ہے۔ اس سے حاصل شدہ آمدن دو خیراتی اداروں کو دی جائے گی۔ اسٹیفن ہاکنگ کی سرخ خودکار وہیل چیئر جمعرات کے روز کرسٹی نیلام گھر نے تین لاکھ پاؤنڈ (قریب چار لاکھ ڈالر) ... Read More »

کم کام کرنے والے چینی کارکن: پینے کو پیشاب، کھانے کو کاکروچ

چینی میں مکانات کی تعمیر و تزئین کرنے والی ایک کمپنی کے ’کم کام کرنے والے‘ کارکنوں کو ان کی سرزنش کے لیے جبراﹰ پیشاب پلایا اور کاکروچ کھلائے جاتے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی چمڑے کی بیلٹوں سے پٹائی بھی کی جاتی رہی ہے۔ چینی دارالحکومت بیجنگ سے جمعرات آٹھ نومبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق چین کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے ملکی سوشل میڈیا پر جاری کردہ تصویروں اور ویڈیو فوٹیج کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ جو چینی کارکن اپنے افسران کی طرف سے دیے گئے پیشہ ورانہ اہداف کے حصول میں ناکام رہتے تھے، انہیں غیر قانونی طور پر لیکن طرح طرح کی سزائیں دی جاتی تھیں۔ ان سزاؤں میں یہ بھی شامل تھا کہ ایسے کارکنوں کی یا تو تنخواہیں ایک ماہ کے لیے روک دی جاتی تھیں، یا ان کے سر منڈوا دیے جاتے تھے، یا پھر انہیں کسی بیت الخلا میں ٹائلٹ سیٹ کے اندر موجود پانی پینے پر مجبور کیا جاتا تھا۔ سرکاری میڈیا کے مطابق یہ سب کچھ جنوب مغربی صوبے گُوئی ژُو کی ایک تعمیراتی کمپنی کے ملازمین کے ساتھ کیا جاتا رہا۔ اس غیر انسانی برتاؤ کی اس کمپنی کے کئی سابقہ ملازمین نے بھی تصدیق کر دی ہے اور یہ بھی ثابت ہو گیا ہے کہ اس کمپنی کے انتظامی عملے کی موجودگی میں کئی کارکنوں کے ساتھ ایسا سلوک سرعام روا رکھا گیا۔ روئٹرز کے مطابق یہ بھی بار بار دیکھنے میں آیا تھا کہ کام پر جانے والے جو کارکن چمڑے کے جوتے یا اپنا مناسب پیشہ ورانہ لباس پہننا بھول گئے تھے، انہیں 50 یوآن جرمانہ بھی کیا گیا۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس کمپنی کی طرف سے ’توقع سے کم کام کرنے والے‘ کارکنوں کے خلاف ایسی سزاؤں کا طریقہ کار اس سال کے آغاز سے متعارف کرایا گیا تھا۔ دریں اثنا چین کے عوامی تحفظ کے ملکی دفتر (پبلک سکیورٹی بیورو) کی مقامی شاخ نے بھی تصدیق کر دی ہے کہ ایسی ذلت آمیز سزاؤں کے باوجود متاثرہ کارکنوں کی اکثریت نے اپنا روزگار نہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا کیونکہ وہ اس امر کی متحمل نہیں ہو سکتی تھی کہ اس کو پاس کوئی روزگار نہ ہو۔ پبلک سکیورٹی بیورو کے مطابق اس طرح کے غیر انسانی رویوں کے باعث اب تک اس چینی کمپی کے تین اعلیٰ انتظامی اہلکاروں کو پانچ سے لے کر دس روز تک کی قید کی سزائیں بھی سنائی جا چکی ہیں۔ چین میں، جہاں قومی سطح پر اقتصادی ترقی اور مجموعی سالانہ پیداوار میں اضافے کی شرح دنیا کے بہت سے دیگر ممالک کے مقابلے میں بہت اونچی ہے، عام کارکنوں کے لیے روزگار کے حالات کو انسانی حقوق کے کئی ادارے ’بہت سخت اور معاف کر دینے کی سوچ سے عاری‘ قرار دیتے ہیں۔ اس کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ چینی مزدوروں کی بہت بڑی تعداد کے روزانہ اوقات کار بہت طویل ہوتے ہیں، انہیں تنخواہیں بھی بہت کم ملتی ہیں اور وہ اکثر درجنوں کی تعداد میں چھوٹے چھوٹے کوارٹروں میں رہتے ہیں۔ ریاستی میڈیا کے مطابق صوبے گُوئی ژُو کی جس کمپنی کے ملازمین کو یہ شرمناک سزائیں دی گئیں، ان کی اکثریت نے اپنی اس تذلیل کے باوجود ان سزاؤں پر ’بہت زیادہ ناخوشی کا اظہار کرنے کے بجائے اسے اپنی قسمت سمجھ کر تسلیم کر لیا تھا

چینی میں مکانات کی تعمیر و تزئین کرنے والی ایک کمپنی کے ’کم کام کرنے والے‘ کارکنوں کو ان کی سرزنش کے لیے جبراﹰ پیشاب پلایا اور کاکروچ کھلائے جاتے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی چمڑے کی بیلٹوں سے پٹائی بھی کی جاتی رہی ہے۔ چینی دارالحکومت بیجنگ سے جمعرات آٹھ نومبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز ... Read More »

موسمیاتی تبدیلیوں کے موضوع پر بین الاقوامی اجلاس

تحفظ ماحول کے لیے عملی اقدامات کی درخواستوں کے ساتھ بون میں موسمیاتی تبدیلیوں کے موضوع پر بین الاقوامی اجلاس کا آغاز ہو گیا ہے۔ جرمن وزیر ماحولیات باربرا ہینڈرکس نے ایک اچھی خبر کے ساتھ جرمن پویلین کا افتتاح کیا۔ جرمن وزیر ماحولیات باربرا ہینڈرکس نے افتتاحی تقریب کے موقع پر ترقی پذیر ممالک میں موسمیاتی تبدیلیوں کو روکنے کیے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کے لیے ایک سو ملین یورو کی امداد کا اعلان کیا ہے۔ اس سے قبل جرمن حکومت اس بین الاقوامی مطابقتی فنڈ کے لیے 190 ملین یورو مہیا کر چکی ہے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا، ’’جرمنی، موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثرین کے ساتھ کھڑا ہے‘‘۔ موضوعات: اقوام متحدہ کے مطابق قریب دو ہفتوں تک جاری رہنے والے اس اجلاس میں تقریباً دو سو ممالک کے وفود شریک ہیں۔ اس دوران دو سال قبل طے پانے والے تحفظ ماحول کے پیرس معاہدے کو عملی شکل دینے کے موضوع پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ عالمی حدت کو محدود رکھنے اور ضرر رساں گیسوں کے اخراج کو کم کرنے کے حوالے سے 2015ء کے پیرس معاہدےکو اس کرہ ارض کے تحفظ کے لیے ایک ضمانت قرار دیا جاتا ہے۔ اس معاہدے کے مطابق کوشش کی جائے گی کہ عالمی درجہ حرارت کو 1.5 سینٹی گریڈ تک محدود کر دیا جائے۔ اس پر اطلاق 2020ء سے شروع ہو گا۔ دیگر کے علاوہ اس دوران کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کے حوالے سے ٹھوس ضوابط ترتیب دیے جائیں گے۔ اس دوران یہ بھی جائزہ لیا جائے گا کہ پیرس معاہدے سے امریکا کے دستبردار ہونے کے اعلان سے دیگر اہم ممالک کی کوششوں کو برباد نہ ہونے دیا جائے۔ اقوام متحدہ کے مطابق زمین سے فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کا ارتکاز ایک نئی ریکارڈ حد تک پہنچ گیا ہے۔ عالمی موسمیاتی تنظیم نے بتایا کہ اس کی بدلتے موسمی حالات سے بھی بڑی وجہ زمین پر انسانوں کی ماحول دشمن سرگرمیاں ہیں۔ مشکلات: امریکا کی جانب سے پیرس معاہدے سے دستبرداری کے اعلان کے بعد اس پر مکمل طور پر عمل درآمد ایک مشکل مرحلہ تصور کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ کچھ دیگر ممالک بھی امریکا کی تقلید کر سکتے ہیں ، جس سے معاملہ اور بھی گھمیر ہو جائے گا۔ اس اجلاس کا میزبان ملک فیجی ہے تاہم اس جزیرے پر پچیس ہزار مہمانوں کی گنجائش نہ ہونے کی وجہ سے اسے بون میں کرایا جا رہا ہے۔

تحفظ ماحول کے لیے عملی اقدامات کی درخواستوں کے ساتھ بون میں موسمیاتی تبدیلیوں کے موضوع پر بین الاقوامی اجلاس کا آغاز ہو گیا ہے۔ جرمن وزیر ماحولیات باربرا ہینڈرکس نے ایک اچھی خبر کے ساتھ جرمن پویلین کا افتتاح کیا۔ جرمن وزیر ماحولیات باربرا ہینڈرکس نے افتتاحی تقریب کے موقع پر ترقی پذیر ممالک میں موسمیاتی تبدیلیوں کو روکنے ... Read More »

کلائمیٹ ڈیل، دنیا کو محفوظ بنانے کا موقع مل گیا

پیرس میں طے پانے والی کلائمیٹ ڈیل پر عالمی رہنماؤں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک تاریخی پیشرفت قرار دیا ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ اس ڈیل نے دنیا کو محفوظ بنانے کے لیے ایک موقع فراہم کر دیا ہے۔ فرانس میں اقوام متحدہ کی عالمی کلائمیٹ کانفرنس کے دوران گزشتہ روز طے پانے والی ڈیل کو اس کرہ ارض کے تحفظ کے لیے ایک ضمانت قرار دیا جا رہا ہے۔ امریکی صدر باراک اوباما نے کہا ہے کہ اس ڈیل سے ایک نئی امید پیدا ہوئی ہے جبکہ چین اور بھارت نے بھی اس معاہدے کو عالمی درجہ حرارت میں کمی اور ضرر رساں سبز مکانی گیسوں کے اخراج پر کنٹرول کے حوالے سے انتہائی اہم پیشرفت قرار دیا ہے۔ صدر اوباما کے مطابق پیرس کلائمیٹ ڈیل نے اس دنیا کو محفوظ بنانے کے حوالے سے ایک موقع فراہم کیا ہے اور اب تمام عالمی رہنماؤں کو اس امر کو یقینی بنانا چاہیے کہ وہ اس ڈیل پر عمل کرتے ہوئے ضرر رساں گیسوں کے اخراج میں کمی کریں۔ یہ سبز مکانی گیسیں ہی عالمی درجہ حرارت میں اضافہ کی ایک بڑی وجہ تصور کی جاتی ہیں۔ پیرس کلائمیٹ سمٹ کا ایک بنیادی مقصد بھی یہی تھا کہ کاربن کے اخراج میں کمی ممکن بنائی جائے اور مختلف ممالک کے لیے اس کی ایک حد مقرر کر دی جائے۔ پیرس میں دو سو سے زائد ممالک کے مندوبین پہلی مرتبہ ایک ایسی ڈیل پر متفق ہوئے ہیں، جس کے تحت سبز مکانی گیسوں کے اخراج میں کمی کو ممکن بنانا ہے۔ اس ڈیل کی کچھ شقوں پر عملدرآمد تمام ممالک پر لازم ہو گا۔ عالمی رہنما پہلی مرتبہ اس امر پر بھی متفق ہوئے ہیں کہ عالمی درجہ حرارت کو دو سینٹی گریڈ سے کم رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔ اس ڈیل کے مسودے کے مطابق کوشش ہو گی کہ عالمی درجہ حرارت کو 1.5 سینٹی گریڈ تک محدود کر دیا جائے۔ اس ڈیل پر اطلاق 2020ء سے شروع ہو گا۔ امریکی صدر اوباما نے عالمی رہنماؤں کے مابین ہونے والے اس اتفاق رائے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’سب نے مل کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ اگر ہم متحد ہو جائیں تو کیا کچھ ہو سکتا ہے‘۔ تاہم انہوں نے یہ اعتراف بھی کیا کہ یہ معاہدہ ’کامل‘ نہیں ہے۔ دوسری طرف چین نے بھی کہا ہے کہ یہ ڈیل ’مثالی‘ نہیں ہے لیکن اس نے دنیا کو محفوظ بنانے کے لیے ایک بہتر سمت کا تعین کر دیا ہے۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا کہنا ہے کہ پیرس ڈیل نے دنیا کے بہتر مستقبل کی راہ ہموار کر دی ہے۔ انہوں نے اتوار کے دن اپنے ایک ٹویٹ پیغام میں کہا، ’ماحولیاتی تبدیلیاں ایک بہت بڑا مسئلہ ہیں۔ پیرس معاہدے نے واضح کر دیا ہے کہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے دنیا کس قدر پرعزم ہے‘۔ پیرس کانفرنس کے دوران مودی کا موقف تھا کہ غربت کے خاتمے کے لیے بھارت کو سستے کوئلے کا زیادہ استعمال کرنا پڑے گا جبکہ امیر ترین ممالک کو کاربن کے اخراج کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کرنے چاہییں۔ یہ امر اہم ہے کہ بھارت ایسی ضرررساں گیسوں کا اخراج کرنے والا دنیا کا تیسرا سب سے بڑا ملک ہے۔ پیرس کلائمیٹ ڈیل میں جہاں عالمی رہنماؤں نے عالمی درجہ حرارت کو دو ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود کرنے کے علاوہ کاربن کے اخراج کے حوالے سے روک لگانے کا عزم ظاہر کیا ہے، وہیں ماحولیاتی تبدیلیوں سے متاثرہ ممالک کے لیے ایک مالیاتی فنڈ قائم کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ سالانہ سو بلین ڈالر مالیت کے اس فنڈ سے انتہائی متاثرہ ممالک کو بدلتے ہوئے موسموں سے مطابقت پیدا کرنے کی ترغیب دی جائے گی۔ ابتدائی طور پر یہ رقوم 2020ء تک فراہم کی جائیں گے لیکن اس کے بعد بھی متاثرہ ممالک کی مالی مدد کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ پیرس ڈیل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہر پانچ برس بعد ماحولیاتی تبدیلیوں میں کمی کے حوالے سے کیے جانے والے اقدامات کی جانچ پڑتال کی جائے گی اور دیکھا جائے گا کہ کاربن کے اخراج میں کمی کے حوالے سے کیے گئے وعدے کس حد تک وفا ہوئے ہیں۔ دوسری طرف ماحول دوست کارکنوں نے کہا ہے کہ پیرس کلائمیٹ ڈیل سے دنیا کے ماحول کا تحفظ یقینی بنانا مشکل ہو گا۔

پیرس میں طے پانے والی کلائمیٹ ڈیل پر عالمی رہنماؤں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک تاریخی پیشرفت قرار دیا ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ اس ڈیل نے دنیا کو محفوظ بنانے کے لیے ایک موقع فراہم کر دیا ہے۔ فرانس میں اقوام متحدہ کی عالمی کلائمیٹ کانفرنس کے دوران گزشتہ روز طے پانے والی ڈیل ... Read More »

موسمیاتی تبدیلیاں: جزیرہ اقوام کی اقوام متحدہ سے ہنگامی مدد کی اپیل

ایک درجن سے زائد جزیرہ اقوام نے موحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے ہنگامی مدد کی اپیل کی ہے۔ جمعرات کے روز یہ اپیل کرنے والے جزائر میں فیجی، ساموآ اور کیریبین کے علاقے کے ممالک شامل ہیں۔ ان ممالک کی جانب سے کہا گیا ہے کہ سمندری سطح میں اضافے سے نمٹنے کے لیے انہیں فوری مدد درکار ہے۔ ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ان جزیرہ اقوام کو سخت موسمیاتی حالات کا سامنا ہے، جن میں سمندری طوفانوں میں اضافہ اور سیلاب شامل ہیں۔

ایک درجن سے زائد جزیرہ اقوام نے موحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے ہنگامی مدد کی اپیل کی ہے۔ جمعرات کے روز یہ اپیل کرنے والے جزائر میں فیجی، ساموآ اور کیریبین کے علاقے کے ممالک شامل ہیں۔ ان ممالک کی جانب سے کہا گیا ہے کہ سمندری سطح میں اضافے سے ... Read More »

ماحولیاتی تبدیلی صحت کی ہنگامی صورتحال کا سبب

ماہرین کے مطابق موسمیاتی شدت کے سبب رونما ہونے والے ماحولیاتی واقعات جیسے کے سیلاب اور شدید گرمی کی لہر یا لُو وغیرہ سے متعدی امراض، غذائی خرابی اور اسٹریس یا ذہنی دباؤ میں غیر معمولی اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرِماحولیات نے متنبہ کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اتنی سنگین شکل اختیار کرتی جا رہی ہے کہ اس سے گزشتہ 50 سالوں میں عالمی سطح پر صحت کے شعبے میں ہونے والی ترقی کے فوائد کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور یہ انسانی صحت کے لیے بڑے خطرے کا باعث ہے۔ ماہرین کے مطابق موسمیاتی شدت کے سبب رونما ہونے والے ماحولیاتی واقعات جیسے کے سیلاب اور شدید گرمی کی لہر یا لُو وغیرہ سے متعدی امراض، غذائی خرابی اور اسٹریس یا ذہنی دباؤ میں غیر معمولی اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک اور اہم مسئلے کی نشاندہی کرتے ہوئے ماہرین نے کہا ہے کہ امراض قلب اور سانس یا تنفس کی بیماریوں میں غیر معمولی اضافے کی بڑی وجہ وہ آلودہ شہر بن رہے ہیں جہاں کارکُن کئی کئی گھنٹے کام کرتے ہیں۔ انہیں نہ تو تازہ ہوا نہ ہی چہل قدمی کے مواقع میسر ہوتے ہیں۔ طویل گھنٹوں تک کام سے جُڑے رہنے والے یہ کار کُن نہ تو سائیکلنگ کر پاتے ہیں نہ ہی انہیں ریلیکس یا آرام کرنے کا موقع ملتا ہے۔ یونیورسٹی کالج آف لندن سے منسلک انسٹیٹیوٹ فار گلوبل ہیلتھ نے ماحولیاتی تبدیلی کے انسانی صحت پر مرتب ہونے والے اثرات سے متعلق اس رپورٹ کی تیاری میں معاونت کی ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا کے قریب 200 ممالک نے ماحولیاتی تبدیلی کو محدود رکھنے کے لیے صنعتی دور سے قبل کے اوسط گلوبل درجہ حرارت میں 2 ڈگری سینٹی گریڈ کے اضافے کی جو حد مقرر کر رکھی تھی وہ برقرار رہتی دکھائی نہیں دے رہی بلکہ سائنسدانوں نے کہا ہے کہ موجودہ عالمی ماحولیاتی صورتحال اوسط درجہ حرارت میں قریب 4 ڈگری سینٹی گریڈ تک کے اضافے کے امکانات کی نشاندہی کر رہی ہے۔ انسٹیٹیوٹ فار گلوبل ہیلتھ کے ڈائریکٹر انتھونی کوسٹیلو اس بارے میں کہتے ہیں، ’’اس کے انسانی صحت اور انسانی بقا پر گہرے، سنگین اور تباہ کُن اثرات مُرتب ہو سکتے ہیں۔ انتھونی کوسٹیلو نے لندن میں صحافیوں کو ایک بریفنگ دیتے ہوئے کہا، ’’ہم ماحولیاتی تبدیلی کو صحت سے متعلق ایک بڑے مسئلے کی شکل میں دیکھ رہے ہیں اور یہی وہ مسئلہ ہے جو اکثر پالیسی مباحثوں میں نظر انداز ہو رہا ہے‘‘۔ یہ رپورٹ معروف طبی جریدے ’دی لینسٹ‘ میں شائع ہوئی ہے۔ اسے سائنسدانوں کے ایک پینل نے مرتب کیا ہے۔ اس پینل میں یورپ اور چین سے تعلق رکھنے والے ماحولیاتی امور کے ماہرین اور سائنسدان، ماہرین جغرافیہ، سوشل اور ماحولیاتی سائنسدان اور حیاتیاتی تنوع کے ماہرین کے علاوہ صحت کے ماہرین شامل ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی میں کمی لانے کی کوششیں انسانی صحت کے لیے براہ راست اور بالواسطہ فوائد کا سبب ہیں۔ اس میں ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے سے لے کر غذا کو بہتر بنانے تک کا عمل شامل ہے۔ اس ضمن میں ایک اجتماعی کوشش گلوبل ہیلتھ یا عالمی صحت کی صورتحال میں بہتری کا انوکھا موقع فراہم کر سکتی ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بار بار یا مسلسل اور شدید نوعیت کے موسمیاتی واقعات کے رونما ہونے کے انسانی صحت پر سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں جبکہ اس کے بالواسطہ اثرات متعدی بیماریوں کی نوعیت یا انداز، ماحولیاتی آلودگی، غذائی عدم تحفظ اور قلت سے لے کر نقل مکانی اور تنازعات کی صورت میں عالمی سطح پر سامنے آ رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق موسمیاتی شدت کے سبب رونما ہونے والے ماحولیاتی واقعات جیسے کے سیلاب اور شدید گرمی کی لہر یا لُو وغیرہ سے متعدی امراض، غذائی خرابی اور اسٹریس یا ذہنی دباؤ میں غیر معمولی اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرِماحولیات نے متنبہ کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اتنی سنگین شکل اختیار کرتی جا رہی ہے کہ اس سے گزشتہ ... Read More »

پیرو، گلوبل وارمنگ سے نمٹنے کے لیے اہم پیشرفت

اقوام متحدہ کے رکن ممالک ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے حوالے سے ایک اہم معاہدے پر متفق ہو گئے ہیں۔ پیرو کے دارالحکومت لیما میں منعقد ہوئی کانفرنس کے صدر نے اتوار کے دن بتایا کہ سفارتکار سبز مکانی گیسوں کی اخراج میں کمی کے لیے قومی سطح پر اقدامات اٹھانے پر رضا مند ہو گئے ہیں۔ اس اتفاق رائے کو دسمبر 2015ء کی کلائمٹ کانفرنس کے لیے ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے، جہاں اقوام متحدہ کے رکن ممالک زمين کے درجہ حرارت ميں اضافے کو صنعتی انقلاب کے دور کے مقابلے ميں دو ڈگری سينٹی گريڈ تک محدود رکھنے اور ضرر رساں سبز مکانی گيسوں کے اخراج ميں کمی کے حوالے سے ایک حتمی ڈیل کو طے کرنے کی کوشش کریں گے۔

اقوام متحدہ کے رکن ممالک ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے حوالے سے ایک اہم معاہدے پر متفق ہو گئے ہیں۔ پیرو کے دارالحکومت لیما میں منعقد ہوئی کانفرنس کے صدر نے اتوار کے دن بتایا کہ سفارتکار سبز مکانی گیسوں کی اخراج میں کمی کے لیے قومی سطح پر اقدامات اٹھانے پر رضا مند ہو گئے ہیں۔ اس اتفاق رائے ... Read More »

لیما ماحولیاتی کانفرنس پر اختلافات کے سائے

پیرو کے دارالحکومت لیما میں اقوام متحدہ کی ماحولیاتی کانفرنس میں شریک ممالک نے کانفرنس کی معیاد میں تو وسعت دے دی، تاہم باہمی اختلافات کے سائے اب تک کسی اہم پیش رفت کی راہ میں بڑی رکاوٹ دکھائی دیتے ہیں۔ اس کانفرنس میں شریک ممالک ایک مسودے کی تیاری پر اختلافات کا شکار ہیں کہ کس طرح دنیا بھر کے ممالک ماحولیاتی تبدیلیوں کے انسداد کے لیے اپنی اپنی جانب سے ٹھوس اقدامات کی جانب بڑھیں، جو اگلے برس پیرس میں منعقد ہونے والی عالمی کانفرنس میں پیش کیے جا سکیں۔ ایسے مواقع کم ہی آتے ہیں کہ جب ماحولیات کے موضوع پر اقوام متحدہ کی سالانہ کانفرنسیں اپنے طے شدہ وقت پر ختم ہوں۔ گزشتہ قريب دو ہفتوں سے جاری لیما کانفرنس کے بارے میں بھی ایسے ہی خدشات شروع دن سے سامنے آ رہے تھے اور ہوا بھی یہی۔ جمعے کا دن اس کانفرنس کے لیے طے کردہ دور کا آخری روز تھا، تاہم باہمی اختلافات کی وجہ سے اسے آگے بڑھانا پڑا۔ چینی وفد میں شامل زانگ جیوتیان نے جمعے کے روز کہا، ’آج یہ کانفرنس ختم نہیں ہو گی۔ اب بھی متعدد امور ہیں، جب پر بحث کی جانا ہے۔‘ یہ بات اہم ہے کہ لیما کانفرنس میں شامل 190 ممالک کے وفود کے درمیان اختلافات کا محور نکتہ یہ بھی ہے کہ حکومتیں کون کون سی معلومات فراہم کریں گی، جو اگلے برس ماحولیاتی تبدیلیوں کے انسداد سے متعلق عالمی معاہدے میں شامل کی جائیں گی۔ اس سلسلے میں اگلے برس پیرس میں ہونے والی عالمی ماحولیاتی کانفرنس میں کسی بین الاقوامی معاہدے تک پہنچنے کی سرتوڑ کوشش کی جا رہی ہے۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ترقی یافتہ ممالک کا اصرار ہے کہ اس معاہدے میں کاربن ڈائی آکسائیڈ سمیت حدت کو کرہء ہوائی میں قید کر دینے والی ضرر رساں گیسوں کے اخراج میں کمی کی کوششوں پر توجہ مرکوز کی جانا چاہیے۔ ان ممالک کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں غریب ممالک کو ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے سرمایہ فراہم کرنے کے وعدے بھی شامل ہونا چاہیئں۔ دوسری جانب کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کے اعتبار سے سرفہرست چین اور دیگر ترقی پزیر ممالک ان منصوبوں کی مخالفت کر رہے ہیں، جن میں ان منصوبوں پر پیرس میں ہونے والی ماحولیاتی کانفرنس میں تجزیہ اور موازنہ کیا جانا ہے۔ ترقی پزیر ممالک اس سلسلے میں پیش کیے جانے والے منصوبوں کی شدید مخالفت کر رہے ہیں۔ بحرالکاہل میں واقع مارشل جزائر کے وزیرخارجہ ٹونی ڈے بروم نے کہا، ’میں حیران ہوں کہ ہمارے کچھ ساتھی اس سلسلے میں امید کی روشنی تک پہنچنے کی مخالفت کر رہے ہیں۔‘ یہ بات اہم ہے کہ سمندروں کی سطح میں اضافے کی وجہ سے بحرالکاہل میں واقع اس قوم کی بقا کو خطرات لاحق ہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ انسانی سرگرمیاں زمینی درجہ حرات میں اضافے کا اہم ترین محرک ہیں، جس میں پیٹرولیم مصنوعات، کوئلے اور قدرتی گیس کا استعمال سرفہرست ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق تاریخی طور پر مغربی اقوام ضرر رساں گیسوں کے اخراج میں سب سے آگے رہی ہیں، تاہم اب چین اور بھارت سمیت ترقی پزیر ممالک صنعتی ترقی کی وجہ سے ان گیسوں کے اخراج میں پیش پیش ہیں۔

پیرو کے دارالحکومت لیما میں اقوام متحدہ کی ماحولیاتی کانفرنس میں شریک ممالک نے کانفرنس کی معیاد میں تو وسعت دے دی، تاہم باہمی اختلافات کے سائے اب تک کسی اہم پیش رفت کی راہ میں بڑی رکاوٹ دکھائی دیتے ہیں۔ اس کانفرنس میں شریک ممالک ایک مسودے کی تیاری پر اختلافات کا شکار ہیں کہ کس طرح دنیا بھر ... Read More »

امیر اور غریب ممالک موحولیاتی ڈیل پر متفق ہوں، کیری کی جذباتی اپیل

امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے جمعرات کے روز اقوام عالم سے اپنی جذباتی اور پرجوش تقریر میں اپیل کی ہے کہ وہ اگلے برس ماحولیاتی کانفرنس میں کسی بین الاقوامی معاہدے پر رضامند ہو جائیں۔ اپنی تقریر میں کیری نے کہا کہ ’وقت ہاتھ سے نکلا جا رہا ہے اور راستہ واپسی کی بجائے المیے کی جانب بڑھ رہا ہے۔‘ انہوں نے اپنی تقریر میں صدر باراک اوباما کے ان ناقدین کو بھی کڑے ہاتھوں لیا، جو یہ کہتے ہیں کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ انسانی سرگرمیاں نہیں۔ جان کیری نے کہا کہ سائنسی حقائق بہت واضح ہيں اور ’چیچ چیخ کر بتا رہے، خبردار کر رہے ہیں۔‘ جان کیری نے لیما میں اقوام متحدہ کی ماحولیاتی کانفرنس کے موقع پر اپنی اس تقریر میں کہا، ’ہر قوم کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس سلسلے میں اپنے حصے کا کام کرے۔‘ خیال رہے کہ لاطینی امریکی ملک پیرو کے شہر لیما میں جاری اس کانفرنس میں اقوام متحدہ کی 190 رکن ریاستوں کے وفود شریک ہیں، جو ایک معاہدے کے مسودے پر کام کر رہے ہیں، جس کی منظوری اگلے برس پیرس میں عالمی ماحولیاتی کانفرنس میں دے جا سکے گی اور اس کے ذریعے فضا میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی ممکن ہو پائے گی۔ جان کیری نے کہا کہ اوباما انتظامیہ نے ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کو انسداد دہشت گردی، غربت میں کمی اور جوہری پھیلاؤ کے انسداد کے ساتھ اہم ترین ترجیحات مین شامل کر رکھا ہے۔ ان کا کہنا تھا، ’اگر آپ ایک اہم ترقی یافتہ قوم ہیں اور آپ اس سلسلے میں مدد کے لیے تیار نہیں، تو آپ بھی اس مسئلے کا حصہ ہیں۔‘ انہوں نے ممالک کا نام لیے بغیر کہا، ’نصف سے زائد گرین ہاؤس گیسیں ترقی یافتہ ممالک سے خارج ہو رہی ہیں۔ یہ لازم ہیں کہ انہیں اس کے انسداد کے لیےسرگرم کردار ادا کرنا ہو گا۔‘ خیال رہے کہ چین، امریکا، یورپی یونین اور بھارت سبز مکانی گیسوں کے اخراج کے اعتبار سے سرفہرست ہیں۔ کیری نے جذباتی انداز میں کہا، ’موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے دو دہائیوں سے جاری بات چیت کے باوجود ہم آج بھی المیے کے راستے پر ہیں۔‘ کیری کے اس خطاب کے موقع پر اقوام متحدہ کے ماحولیات کے شعبے کی سربراہ کرسیٹینا فیگوریس اور پیرو کے وزیر ماحولیات مانویل پُلگار فیڈال بھی موجود تھے۔ یہ بات اہم ہے کہ ترقی پزیر ممالک اور ماحولیات کے تحفظ کی تنظمیں واشنگٹن پر الزام عائد کرتی ہیں کہ اس کی طرف سے اس سلسلے میں عملی طور پر بہت کم اقدامات کیے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ سن 2012ء میں امریکا نے اقوام متحدہ کی سن 1990ء کی طے کردہ حد سے چار اعشاریہ تین فیصد زائد سبز مکانی گیسیں فضا میں خارج کیں۔ ماحولیاتی تنظیم فرینڈز آف ارتھ یا زمین کے دوست سے وابستہ کارین اورین سٹائن نے کیری کے خطاب کے ردعمل میں کہا، دنیا امریکی قیادت کی عمل سے خالی باتیں سن سن کر تھک چکی ہے، دوسری جانب گلیشیئرز پگھل رہے ہیں۔

امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے جمعرات کے روز اقوام عالم سے اپنی جذباتی اور پرجوش تقریر میں اپیل کی ہے کہ وہ اگلے برس ماحولیاتی کانفرنس میں کسی بین الاقوامی معاہدے پر رضامند ہو جائیں۔ اپنی تقریر میں کیری نے کہا کہ ’وقت ہاتھ سے نکلا جا رہا ہے اور راستہ واپسی کی بجائے المیے کی جانب بڑھ رہا ہے۔‘ ... Read More »

برلن ڈونرز کانفرنس: ’گرين کلائميٹ فنڈ‘ کے ليے 9.3 بلين ڈالر

جرمن دارالحکومت برلن ميں منعقدہ ايک ڈونرز کانفرنس ميں اقوام متحدہ کے اُس فنڈ کی مد ميں 9.3 بلين ڈالر کے وعدے سامنے آئے ہيں، جس کے تحت ماحولیاتی تبديليوں سے نمٹنے کے ليے ترقی پذير ممالک کی معاونت کی جانا ہے۔ بيس نومبر کے روز برلن ميں ہونے والی ڈونرز کانفرنس ميں اقوام متحدہ کے ’گرين کلائميٹ فنڈ‘ کے ليے قريب 9.3 بلين ڈالرز کے وعدے سامنے آئے ہيں۔ اہلکاروں اور منتظمين کے مطابق امکان ہے کہ سال رواں کے اختتام تک کينيڈا کی طرف سے بھی مالی امداد کا وعدہ سامنے آ سکتا ہے۔ جی سی ایف کی ايگزيکيٹو ڈائريکٹر ہيلا چيکہورُوہُو نے برلن کانفرنس کو کامياب قرار ديتے ہوئے کہا کہ ’يہ ايک تاريخی دن ہے‘۔ اقوام متحدہ کا يہ ’گرين کلائميٹ فنڈ‘ 2009ء ميں منظور شدہ اس بڑے منصوبے کا کليدی حصہ ہے، جس کے تحت ترقی يافتہ يا امير ممالک نے 2020ء سے نجی اور سرکاری ذرائع سے سالانہ بنيادوں پر ايک سو بلين ڈالر جمع کرنے پر اتفاق کيا ہے۔ اس منصوبے کے تحت ترقی يافتہ ممالک ملکی سطح پر کاربن گيسوں کے اخراج ميں کمی لانے کی کوشش کريں گے اور موسمياتی تبديليوں کے منفی اثرات سے نمٹنے کے ليے ترقی پزیر ممالک کی مدد کی جائے گی۔ اقوام متحدہ نے ابتدائی وعدوں کے ذريعے اس فنڈ کے ليے دس بلين ڈالر جمع کرنے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے۔ اس سلسلے ميں ہونے والی کانفرنس کے ميزبان ملک جرمنی کے مطابق 9.3 بلين ڈالر کے وعدوں کے بعد اب اس ہدف تک پہنچنا ممکن ہو گيا ہے۔ گرين پيس کی جانب سے برلن ميں 9.3 بلين ڈالر کے وعدے سامنے آنے کا خير مقدم کيا گيا ہے اور اسے پہلا اور اہم قدم قرار ديا گيا ہے۔ ادارے نے کسی بھی قسم کی مالی امداد نہ کرنے پر آسٹريليا، روس اور چند ديگر ممالک کو تنقيد کا نشانہ بھی بنايا ہے۔ اس موقع پر گرين پيس جرمنی کے سياسی يونٹ کے سربراہ اسٹيفان کروگ نے کہا، ’’حالاں کہ موسمياتی تبديلياں توقع سے زيادہ تيز رفتری سے رونما ہو رہی ہيں تاہم ان ممالک کے ليے مالی امداد، جو ان تبديليوں سے سب سے زيادہ متاثر ہو رہے ہيں، کافی سست روی کا شکار ہے۔‘‘ دوسری جانب ترقی پذير ممالک کا مطالبہ ہے کہ اس فنڈ ميں پندرہ بلين ڈالر کی دستيابی یقینی بنائی جائے۔ برلن ميں منعقدہ کانفرنس کے بعد ماحول کے ليے سرگرم کارکنوں کا يہ بھی کہنا ہے کہ يہ فنڈز مطلوبہ رقم سے کہيں کم ہيں۔

جرمن دارالحکومت برلن ميں منعقدہ ايک ڈونرز کانفرنس ميں اقوام متحدہ کے اُس فنڈ کی مد ميں 9.3 بلين ڈالر کے وعدے سامنے آئے ہيں، جس کے تحت ماحولیاتی تبديليوں سے نمٹنے کے ليے ترقی پذير ممالک کی معاونت کی جانا ہے۔ بيس نومبر کے روز برلن ميں ہونے والی ڈونرز کانفرنس ميں اقوام متحدہ کے ’گرين کلائميٹ فنڈ‘ کے ... Read More »

Scroll To Top