You are here: Home » تفریح

Category Archives: تفریح

Feed Subscription

گولڈن گلوب ایوارڈز، بوہیمین رہپسڈی سب سے کامیاب فلم

برطانوی روک بینڈ کوئین کی کہانی پر بنائی گئی فلم بوہیمین رہپسڈی نے گولڈن گلوب ایوارڈز کا میلہ اپنے نام کر لیا۔ یہ فلم اس بینڈ کے رکن فریڈی کو مرکزی کردار بنا کر تخلیق کی گئی ہے۔ اس فلم نے گولڈن گلوب ایوارڈز کے لیے فیورٹ سمجھی جانے والی فلم ’اے اسٹار از بورن‘‘ یا ’ایک ستارے کا جنم ہوا‘‘ کو شکست دے دی۔ 76 ویں گولڈن گلوب ایوارڈز کی تقریب میں بہترین ڈرامہ اور بہترین اداکار کا ایوارڈ لے کر بوہیمین رہپسڈی نے ایک طرح سے ایک غیرمتوقع کامیابی حاصل کی، کیوں کہ زیادہ تر افراد کا خیال تھا کہ ’اے اسٹار از بورن‘ یہ ایوارڈ جیت جائے گی۔ اس فلم میں رامی مالک نے مرکزی کردار ادا کیا ہے اور بہترین اداکار کا ایوارڈ بھی انہی کو ملا۔ گولڈن گلوب ایوارڈز، ’تھری بل بورڈز‘ کی بڑی کامیابی گولڈن گلوب ایوارڈز، میرل اسٹریپ ٹرمپ پر برس پڑیں آسکر نامزدگی حاصل کرنے والے روسی ہدایت کار کو تنقید کا سامنا لیڈی گاگا بھی ’اے اسٹار از بورن‘ کا حصہ ہیں۔ اس فلم کے حوالے سے عمومی رائے یہ تھی کہ یہ آئندہ آسکر ایوارڈ تک اپنے نام کر سکتی ہے۔ یہ بات اہم ہے کہ فلمی دنیا کے سب سے معتبر اکیڈمی ایوارڈز (آسکرز) کی امسالہ تقریب 24 فروری کو منعقد ہو گی۔ گولڈن گلوب ایوارڈز کی اس تقریب کی میزبانی سینڈرا اوہ اور اینڈی سیمبرگ نے کی، جس دوران وہ مختلف چٹکلے بھی سناتے رہے۔ سینڈرا اوہ بھی ٹی وی ڈرامے ’کِلنگ ایو‘ ’یا قاتل شام‘ میں بہترین اداکارہ کا ایوارڈ جیت گئیں۔ انہوں نے اس موقع پر کوریا میں مقیم اپنے والدین کا شکریہ ادا کیا۔ یہ تیسرا موقع ہے کہ انہوں نے کوئی گولڈن گلوب ایوارڈ جیتا ہے۔ امسالہ گولڈن گلوب ایوارڈز میں بہترین اداکار کا ایوارڈ جیتنے والے رامی مالک اس سے قبل ٹی وی ڈرامے ’مسٹر روبوٹ‘ میں بہترین اداکاری کے شعبے میں دو مرتبہ گولڈن گلوب کے لیے نام زد ہو چکے ہیں، تاہم یہ ان کی زندگی کا پہلا گولڈن گلوب ہے۔ ایوارڈ وصول کرتے ہوئے انہوں نے کوئین بینڈ کے ارکان فرائن مے، روجر ٹیلر اور فریڈی مرکری کا شکریہ بھی ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ فریڈی مرکری کا کردار ذاتی طور پر ان کے دل کے نہایت قریب اس لیے بھی تھا کہ اس میں ایک تارک وطن کی جدوجہد اور شناخت کی تلاش جیسے معاملات دکھائے گئے ہیں۔ ’’میں نے کوشش کی کہ بہ طور تارک وطن جو جو کچھ میں نے محسوس کیا، یا ابھی تک کرتا ہوں، اسے سامنے رکھ کر ہی یہ فلمی کردار ادا کروں۔‘‘

برطانوی روک بینڈ کوئین کی کہانی پر بنائی گئی فلم بوہیمین رہپسڈی نے گولڈن گلوب ایوارڈز کا میلہ اپنے نام کر لیا۔ یہ فلم اس بینڈ کے رکن فریڈی کو مرکزی کردار بنا کر تخلیق کی گئی ہے۔ اس فلم نے گولڈن گلوب ایوارڈز کے لیے فیورٹ سمجھی جانے والی فلم ’اے اسٹار از بورن‘‘ یا ’ایک ستارے کا جنم ... Read More »

آسکر کے لیے ایرانی فلم کی نامزدگی، قدامت پسند حلقے ناخوش

آسکر ایوارڈز کی غیرملکی فلم کی کیٹیگری کے لیے ایرانی حکام کی جانب سے فلم نامزد کر دی گئی ہے۔ اس نامزدگی پر ایران کے قدامت پسند حلقوں نے اپنی ناخوشی کا اظہار کیا ہے۔ ایران کے قدامت پسند حلقوں کا خیال ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کی جانے والی نئی پابندیوں کے تناظر میں سبھی ایرانی حلقوں اور اداروں کو امریکی رابطوں سے منہ موڑ لینا چاہیے۔ یہ تنقید آسکر ایوارڈز کی غیرملکی کیٹیگری کے لیے ایک ایرانی فلم کی نامزدگی کے بعد شروع ہوئی ہے۔ ایران کی فارابی سینما فاؤنڈیش ہر سال بین الاقوامی فلمی میلوں کے لیے نمائندہ فلموں کا انتخاب کرتی ہے۔ اسی فاؤنڈیشن نے ہدایت کار وحید جلیلوَند کی فلم ’نہ تاریخ نہ دستخط‘ یعنی ’نو ڈیٹ نو سگنیچر‘ کو آسکر ایوارڈز کی غیرملکی فلموں کی کیٹیگری کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ فلم ’ نہ تاریخ نہ دستخط‘ کو رواں برس دنیا بھر کے معتبر فلمی میلوں میں انتہائی اہم مقام رکھنے والے وینس فلم فیسٹول میں بہترین ہدایت کار اور بہترین اداکار کے ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔ ایرانی انتہا پسندوں کی تنقید کے جواب میں فارابی فاؤنڈیشن کی جانب سے جواب ضرور سامنے آیا ہے۔ اس میں یہ بھی کہا گیا کہ ہر سال اس نامزدگی سے قبل تنقیدی سلسلہ شروع کر دیا جاتا ہے اور یہ ایک قابلِ تعریف عمل نہیں ہے۔ فاؤنڈیشن نے یہ بھی کہا کہ وہ بھی امریکا میں عوامیت پسندی پر تنقید کرتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر تنقید کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے کیونکہ ٹرمپ حکومت نسل پرستی اور یک جہتی حکومتی عمل کی تشہیر کو فروغ دے رہی ہے۔ انتہا پسند ایرانی حلقے کے اخبار جوان نے اپنے ادارتی نوٹ میں تحریر کیا ہے کہ امریکی صدر کی حکمت عملی کے تناظر میں آسکر ایوارڈز کے لیے جس فلم کا انتخاب کیا گیا ہے، وہ ایران کے حوالے سے منفی تاثر رکھتی ہے اور اس میں انتہائی مایوس کن ماحول کو پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ جوان اخبار کے مطابق فلم ’نہ تاریخ نہ دستخط‘ کا انتخاب کسی بھی طور پر متاثر کن نہیں ہے۔ ایسا تاثر سامنے آیا ہے کہ انتہا پسند حلقے ہدایتکار ابراہیم حاتمکیا کی نئی فلم کی نامزدگی چاہتے تھے۔ اس فلم میں سرمایہ کاری پاسدارانِ انقلاب نے کی تھی اور اس کا موضوع بھی ایران کی ایلیٹ فورس کے ساتھ جڑا تھا۔ یہ فلم ایرانی دارالحکومت میں سپر ہٹ قرار دی گئی تھی۔

آسکر ایوارڈز کی غیرملکی فلم کی کیٹیگری کے لیے ایرانی حکام کی جانب سے فلم نامزد کر دی گئی ہے۔ اس نامزدگی پر ایران کے قدامت پسند حلقوں نے اپنی ناخوشی کا اظہار کیا ہے۔ ایران کے قدامت پسند حلقوں کا خیال ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کی جانے والی نئی پابندیوں کے تناظر میں ... Read More »

جرمن زبان کی ترویج کا ایوارڈ، گلوکاروں کے ایک گروپ کے نام

جرمن زبان کی ترویج کا خصوصی پرائز جیکب گرِم ایوارڈ رواں برس جرمن گلوکاروں کے ایک گروپ کو دیا گیا ہے۔ اس انعام کے ساتھ تیس ہزار یورو بھی شامل ہوتے ہیں۔ یہ پرائز سالانہ بنیاد پر جرمن زبان کے فروغ کے لیے کی جانے والی کوششوں کے اعتراف میں دیا جاتا ہے۔ جرمن شہر کاسل میں رَیپ گلوکاروں کے ایک گروپ کو رواں برس کے جیک گرِم پرائز سے نوازا گیا۔ سن 2018 کے لیے یہ پرائز حاصل کرنے والے میوزیکل گروپ کا نام ’دی فینٹاسٹک فور‘ ہے۔ اس کو جرمن زبان میں ’ ڈی فینٹاٹشن فیئر‘ کہا جاتا ہے۔ اس گروپ کا تعلق جرمن شہر اشٹٹ گارٹ سے ہے۔ اس کے اراکین کے نام میشی بیک، تھوماس ڈی، اینڈ اپسیلون اور سموڈو ہیں۔ انعام کی تقریب میں یہ چاروں فنکار موجود تھے اور انہوں نے اسٹیج پر آ کر یہ معتبر انعام خود وصول کیا۔ اس گروپ کے ایک رکن تھوماس ڈی نے خصوصی پرائز وصول کرنے پر اظہار مسرت کرتے ہوئے کہا کہ یہ پرانے قصہ گوئی کرنے والوں کی جانب سے نئے قصہ گو فنکاروں کی صلاحیتوں کا اعتراف ہے۔ دی فینٹاسٹک فور میوزیکل بینڈ کو یہ انعام اپنی مقامی زبان کو اختراعی انداز میں پاپولر موسیقی میں استعمال کرنے پر دیا گیا ہے۔ جیکب گرِم پرائز کی جیوری کے ایک رکن ہیلموٹ گلُؤک کا کہنا ہے کہ جرمن زبان کے فروغ کے لیے موسیقی کا یہ اختراعی استعمال یقینی طور پر بریک تھرو ہے اور یہ انداز قابلِ تعریف بھی ہے۔ جرمن زبان کے فروغ اور ترویج کے لیے جیکب گرم ایوارڈ حاصل کرنے والوں میں مشہور کارٹونسٹ لوریوٹ، جرمن پارلیمنٹ کے سابق اسپیکر نوربرٹ لامیرٹ اور راک میوزک لیجنڈ اُوڈو لنڈن بیرگ کے نام بھی شامل ہیں۔ اس انعام کا مقصد جرمن زبان و ادب کے اسکالرز اور فنکاروں کی حوصلہ افزائی ہے۔ جیکب گرِم پرائز انیسویں صدی کے اسی نام کے ایک جرمن اسکالر کے نام پر رکھا گیا ہے۔ انہوں نے اپنے بھائی ولہلم کے ساتھ مل کر جرمن ادب میں خاص طور پر بچوں کے لیے کئی مشہور کہانیاں تخلیق کیں۔ یہ برادرز گرِم کے نام سے مشہور ہیں۔ جیکب گرِم چار جنوری سن 1785 میں جرمن شہر ہاناؤ میں پیدا ہوئے تھے۔ برادرز گرِم کی کہانیوں میں سینڈریلا اور لمبے سنہرے والوں کی شہزادی ’روپینزل‘ کی کہانیاں ساری دنیا میں شہرت رکھتی ہیں۔

جرمن زبان کی ترویج کا خصوصی پرائز جیکب گرِم ایوارڈ رواں برس جرمن گلوکاروں کے ایک گروپ کو دیا گیا ہے۔ اس انعام کے ساتھ تیس ہزار یورو بھی شامل ہوتے ہیں۔ یہ پرائز سالانہ بنیاد پر جرمن زبان کے فروغ کے لیے کی جانے والی کوششوں کے اعتراف میں دیا جاتا ہے۔ جرمن شہر کاسل میں رَیپ گلوکاروں کے ... Read More »

پیراڈائز پیپرز کا انڈیا کنیکشن

حال ہی میں جاری کیے گئے پیراڈائز پیپرز میں ایک مرکزی وزیر اور فلم اداکار امیتابھ بچن سمیت 714 بھارتی شامل ہیں۔ یہ انکشافات قوم پرست بی جے پی حکومت کے لیے ایک دہچکا قرار دیا گیا ہے۔ پیراڈائز پیپرز کی اشاعت کے بعد سب سے بڑی اپوزیشن کانگریس پارٹی نے مرکزی وزیر جینت سنہا سے استعفی اور حکومت سے پورے معاملے کی اعلی سطحی انکوائری کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ انکشافات نریندر مودی حکومت کے لئے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جارہا ہے۔ کنسورشیم آف انویسٹیگیٹو جرنلسٹس (آئی سی آئی جے) کی بھارتی شریک کار انگلش روزنامہ انڈین ایکسپریس ہے۔ اس اخبار میں شائع پیراڈائز پیپرز کے مطابق جن 180 ملکوں کو تفتیش میں شامل کیا گیا ‘ بھارت ان میں انیسویں نمبر پر ہے۔ ’پاناما پیپرز‘ منظر عام پر لانے والوں کے لیے پولٹزر پرائز پاناما پیپرز، طاقتور شخصیات کے خفیہ اثاتے اور تفصیلات پاناما پیپرز: بھارتیوں کے ملوث ہونے کی انکوائری کا حکم آئس لینڈ کے وزیراعظم پاناما لیکس کا پہلا شکار پیراڈائز پیپرز کے مطابق مشہورفلم اداکار امیتابھ بچن نے سال2000-2002 کے درمیان بلیک منی کو قانونی بنانے والی فرضی کمپنیوں کی مدد سے ٹیکس ہیون کے طورپر برمودا میں ایک فرضی کمپنی میں شیئرز خریدے تھے۔ یہ وہ دور تھا جب امیتابھ نے مشہور ٹی وی شو’کون بنے گا کروڑ پتی‘ کے پہلے ایڈیشن کی میزبانی کی تھی۔ انہوں نے جلوہ نامی میڈیا کمپنی میں پیسہ لگایا اور اس کے پارٹنر بنے۔ یہ کمپنی 2005 میں مبینہ طورپر بند کردی گئی۔ رپورٹ کے مطابق امیتابھ بچن نے اپنی آمدنی پرٹیکس دینے سے بچنے کیلئے ایک ایسی کمپنی میں پیسہ لگایا جس کا شاید کبھی وجود ہی نہیں تھا۔ حالانکہ امیتابھ بچن نے ایسے الزامات کی ہمیشہ تردید کی ہے۔ پیراڈائز پیپرز کے انکشاف سے ایک دن قبل ہی اپنے بلاگ میں انہوں نے لکھا کہ’اس سے قبل بوفورز اسکینڈ ل اورپاناماپیپرز میں بھی ان کانا م آیا تھا اور ان سے وضاحت طلب کی گئی تھی ۔ میں نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے میرا نام استعمال کئے جانے پر جواب طلب کیا تھا لیکن جواب کبھی نہیں ملا۔‘ امیتابھ نے مزید لکھا ہے کہ ’وہ ہمیشہ ایک ذمہ دار شہری ہیں اور ہمیشہ ہرتفتیش میں تعاون کیا ہے۔‘ پیراڈائز پیپرز میں ایک اور بھارتی فلمی اداکار سنجے دت کی بیوی مانیتا دت(سابقہ نام دل نشیں) کا بھی ذکر ہے۔ مانیتا دت نے 2003 میں فلم گنگا جل میں ایک آئٹم سانگ کیا تھا۔ فی الحال وہ سنجے دت پروڈکشنز پرائیوٹ لمیٹیڈ کے بورڈ کی اہم رکن کے علاوہ کئی دیگر کمپنیوں کے بورڈ میں شامل ہیں۔ رپورٹ میں انہیں بہاماز کی ایک کمپنی کا ڈائریکٹر بتایا گیا ہے۔ مرکزی وزیر جینت سنہا نے پیراڈائز پیپر س میں اپنا نام آنے کے بعد آج کئی وضاحتی ٹویٹ کئے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کے تمام لین دین قانونی اوردرست ہیں۔ جینت سنہا پہلے فنانس کے نائب وزیر تھے۔ حکمراں بی جے پی کے ممبر پارلیمان رویندر کشورسنہا نے پیراڈائز پیپرس میں اپنا نام آنے کے بعد خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ دریں اثنا دہلی میں حکمراں جماعت عام آدمی پارٹی کے سینئر رہنما آشوتوش کا کہنا ہے کہ پاناما پیپرس کے بعد پیراڈائز پیپرس نے بھارتی سسٹم میں پائی جانے والی خامیوں کو اجاگر کردیا ہے۔

حال ہی میں جاری کیے گئے پیراڈائز پیپرز میں ایک مرکزی وزیر اور فلم اداکار امیتابھ بچن سمیت 714 بھارتی شامل ہیں۔ یہ انکشافات قوم پرست بی جے پی حکومت کے لیے ایک دہچکا قرار دیا گیا ہے۔ پیراڈائز پیپرز کی اشاعت کے بعد سب سے بڑی اپوزیشن کانگریس پارٹی نے مرکزی وزیر جینت سنہا سے استعفی اور حکومت سے ... Read More »

متنازعہ فلم ماٹِلڈا کی روسی سینما گھروں میں نمائش

فلم ماٹِلڈا پر روس کے کئی حلقے اعتراض رکھتے ہیں۔ روسی اشرفیہ کا خیال ہے کہ اس میں سابقہ روسی زار کو نامناسب انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ روس کے بادشاہوں کو زار کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ فلم ماٹِلڈا نمائش سے قبل ہی متنازعہ ہو چکی تھی، اس لیے مظاہروں یا کسی جھگڑے کے تناظر میں اس فلم کے پوسٹرز مختلف مقامات پر چسپاں نہیں کیے گئے اور نہ ہی اولین شو کے لیے کوئی خاص پروگرام ترتیب دیا گیا۔ اس فلم کے ہدایت کار الیکسی اُوچل ہیں، جو روسی فلمی صنعت کا ایک معتبر نام تصور کیا جاتا ہے۔ ماٹلڈا فلم کی کہانی ایک پولستانی رقاصہ کے گرد گھومتی ہے۔ بیلے ڈانس کے لیے ماٹِلڈا کاچنسکایا کو خدادا صلاحیتیں حاصل تھیں۔ اس حسین رقاصہ کو دیکھتے ہی روس کے آخری زار نکولس دوم ولی عہد کے اپنے دور میں فریفتہ ہو گئے۔ سن 1890 میں شروع ہونے والا عشق چھ برس کے بعد اُس وقت ختم ہوا جب نکولس دوم کی تخت نشینی ہوئی۔ یہ حقیقت ہے کہ اُس وقت کے ولی عہد نے اس عشق کی خاطر اپنے تاج و تخت کو داؤ پر لگا دیا تھا۔ مارین لے پین پر متنازعہ فلم، کیا ووٹرز کی رائے متاثر ہو گی؟ سلمان خان ریپ سے متعلق بیان کے باعث شدید تنقید کی زد میں گھر میں پابندی اور باہر پذیرائی: ایرانی فلمیں پھر برلینالے میں میونخ فلم فیسٹیول آج سے: ممنوعہ، جنسی موضوعات پر فلمیں بھی الیکسی اُوچل نے یہ فلم ہالی وڈ کے انداز میں تخلیق کی ہے۔ اس فلم کے لیے زرق برق پہناوے اور پرشکوہ لائف اسٹائل کو خاص طور پیش کیا ہے۔ اس فلم کی پروڈکشن پر روس کے آرتھوڈکس چرچ نے بھی بہت اعتراضات کیے ہیں۔ یہ بھی کہا گیا کہ ماٹِلڈا روسی آرتھوڈکس چرچ کی آنکھ میں کانٹے کی طرح چُبھی ہوئی ہے۔ چرچ کا خیال ہے کہ فلم میں نفرت اور تشدد کو ہوا دی گئی ہے۔ اس فلم کی مخالفت میں روسی اشرافیہ کی کئی شخصیات بھی شامل ہیں۔ ان میں ایک خاتون نتالیا پوکلوسکایا ہیں، جن کا تعلق کریمیا سے ہے اور وہ اب طاقتور روسی ایوانِ زیریں دُوما کی رکن ہے۔ ان کا بھی کہنا ہے کہ جس انداز سے فلم میں روسی بادشاہ کا کردار پیش کیا گیا ہے، وہ انتہائی نامناسب ہے۔ اس فلم میں ماٹلڈا میں نکولس دوم کا کردار جرمن اداکار لارس آئڈنگر نے ادا کیا ہے۔ آئڈنگر نے بھی فلم کی نمائش کے وقت پرتشدد واقعات کے تناظر میں اپنا روسی دورہ منسوخ کر دیا ہے۔ روسی ایوانِ زیریں نے فلم کو دیکھنے کے بعد عام نمائش کے لیے پیش کرنے کی اجازت دی۔ روسی شہر ایکترین برگ میں ماٹلڈا کی خصوصی نمائش کے وقت ایک ٹرک سے سینما گھر کو ٹکر ماری گئی اور سینما گھر میں آگ بھی لگائی گئی۔ ہدایتکار الیکسی اُوچل کو اکثر خصوصی سکیورٹی فراہم کی جاتی ہے۔ ماسکو میں ہدایتکار اُوچل کے وکیل کا گھر بھی جلا دیا گیا۔ ایسے کسی اور واقعات ہیں جو ماٹلڈا کی نمائش کے ساتھ جڑے ہیں۔

فلم ماٹِلڈا پر روس کے کئی حلقے اعتراض رکھتے ہیں۔ روسی اشرفیہ کا خیال ہے کہ اس میں سابقہ روسی زار کو نامناسب انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ روس کے بادشاہوں کو زار کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ فلم ماٹِلڈا نمائش سے قبل ہی متنازعہ ہو چکی تھی، اس لیے مظاہروں یا کسی جھگڑے کے تناظر میں ... Read More »

برینجلینا کا عروج و زوال

مسٹر اینڈ مسز سمتھ کے سیٹ پر محبت کا آغاز جولی اور پٹ میں محبت کا آغاز سن دو ہزار چار میں بنائی جانے والی کامیڈی اور ایکشن فلم ’’مسٹر اینڈ مسز سمتھ‘‘ کے سیٹ پر ہوا۔ اس فلم کی شوٹنگ کے دوران ہی دونوں کی محبت کی خبریں منظر عام پر آنا شروع ہو گئی تھیں لیکن اس وقت تک پٹ اداکارہ جینیفر اینسٹن کے ساتھ شادی کے بندھن میں بندے ہوئے تھے۔ برینجلینا کی بڑی فیملی ہالی وُڈ اسٹار بریڈ پٹ کے ساتھ جولی کے چھ بچے ہیں۔ ان میں سے تین کو انہوں نے گود لیا ہے۔ جولی کے ہاں پہلی بیٹی سن دو ہزار چھ میں پیدا ہوئی جبکہ سن دو ہزار آٹھ میں جولی کے ہاں جڑواں بچے پیدا ہوئے۔ جولی اور پٹ کا محل جولی اور پٹ سن دو ہزار آٹھ میں ’شیتو میروال‘ میں منتقل ہو گئے۔ یہ علاقہ فرانس کے جنوب میں واقع ہے اور اعلیٰ معیار کی وائن کے لیے مشہور ہے۔ بعد ازاں اس جوڑے نے اپنی شادی کی تقریب بھی اسی گھر میں منعقد کی۔ شادی میں تاخیر سن دو ہزار چھ میں اپنے ایک انٹرویو میں پٹ کا کہنا تھا کہ وہ اور جولی ’اس وقت تک باقاعدہ شادی نہیں کریں گے، جب تک امریکا میں ہر وہ شخص قانونی طور پر شادی کے قابل نہیں ہو جاتا، جو شادی کرنا چاہتا ہے۔‘‘ امریکا میں ہم جنس پرستوں کو شادی کی اجازت کہیں سن دو ہزار پندرہ میں ملی۔ فلاحی کاموں میں حصہ لینے والا جوڑا پٹ اور جولی نے ایک امدادی تنظیم کی بنیاد رکھی اور فلاحی کام کرنے والی تنظیموں کا ساتھ دینا شروع کر دیا۔ اس جوڑے نے لاکھوں ڈالر عطیے میں دیے۔ سن دو ہزار بارہ میں اقوام متحدہ نے جولی کو مہاجرین کے لیے خصوصی مندوب نامزد کر دیا۔ ایک حیران کن فیصلہ سن دو ہزار تیرہ میں انجلینا جولی نے یہ انکشاف کیا کہ انہوں نے رحم کے کینسر سے بچنے کے لیے احتیاطی تدبیر کے طور پر اپنی بیضہ دانی اور بیض کی نالیاں نکلوا دی ہیں۔ انہوں نے چھاتی کے کینسر سے بچنے کے لیے دیگر خواتین کو بھی ایسا کرنے کا کہا۔ فرانس میں شادی آخر کار سن دو ہزار چودہ میں پٹ اور جولی نے فرانس کے جنوب میں واقع اپنے گھر پر شادی کی۔ بچوں نے اپنی ماں جولی کی شادی کا جوڑا تیار کرنے میں مدد کی۔ ان بچوں نے اپنے والدین کی شادی کی باقی تقریبات میں بھی بھرپور حصہ لیا۔ آخری فلم سن دو ہزار پندرہ میں امریکی سپر اسٹار انجلینا جولی نے اپنی نئی فلم ’سمندر کنارے‘ میں ایک شادی شدہ جوڑے کے مسائل کو موضوع بنایا۔ اس فلم میں وہ اپنے حقیقی شوہر بریڈ پِٹ کے ساتھ جلوہ گر ہوئیں۔ اب ستمبر میں جولی نے پٹ سے طلاق لینے کے لیے درخواست دے دی ہے۔

مسٹر اینڈ مسز سمتھ کے سیٹ پر محبت کا آغاز جولی اور پٹ میں محبت کا آغاز سن دو ہزار چار میں بنائی جانے والی کامیڈی اور ایکشن فلم ’’مسٹر اینڈ مسز سمتھ‘‘ کے سیٹ پر ہوا۔ اس فلم کی شوٹنگ کے دوران ہی دونوں کی محبت کی خبریں منظر عام پر آنا شروع ہو گئی تھیں لیکن اس وقت ... Read More »

عامر ذکی انتقال کر گئے

پاکستان کے لیجنڈری گٹارنواز عامر ذکی انچاس برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ذکی انتہائی بلند پایہ ساز نواز تھے اور انہوں نے کئی ملکوں میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا تھا۔ عامر ذکی کے خاندان کے مطابق وہ جمعہ دو جون کو حرکتِ قلب بند ہو جانے سے انتقال کر گئے۔ وہ سن 1968 میں سعودی عرب میں پیدا ہوئے تھے۔ ذکی نے کم عمری ہی میں گٹار بجانا شروع کر دیا تھا اور بطور ٹین ایجر اُنہیں اس ساز کے بجانے میں کمال مہارت حاصل ہو گئی تھی۔ ٹین ایجر عامر ذکی کو سب سے پہلے مشہور گلوکار عالمگیر نے دریافت کیا تھا۔ عالمگیر کو پاکستانی پوپ موسیقی کا ایک اہم گلوکار تصور کیا جاتا تھا۔ عامر ذکی گٹار کے ساتھ عشق کرتے تھے اور انہوں نے اپنے شوق کی تکمیل کے لیےاس ساز میں اپنے مزاج کے مطابق تبدیلیاں بھی پیدا کی۔ یہ اختراعات گٹار کی تاروں میں نہیں بلکہ اُس کی جسامت میں پیدا کی تھیں۔ وہ اپنے اختراع شدہ گٹار کو’فلائنگ وی‘ کا نام دیتے تھے۔ یہ بھی اہم ہے کہ وہ اپنی زندگی کے دوران اپنے لیے گٹار خود ہی بنایا کرتے تھے۔ چودہ برس کی عمر میں کنسرٹ کے دوران آرکسٹرا کا حصہ ہوتے ہوئے گٹار بجانے والے عامر ذکی نے سن 1990 کی دہائی میں سولو یا اکیلے گٹار کی پرفارمنس دینے کا سلسلہ شروع کیا۔ انہوں نے کچھ عرصہ قبل ایک طیارے کے حادثے میں ہلاک ہو جانے والے نعت خوان جنید جمشید کے ساتھ بھی گٹار بجایا تھا۔ جنید جمشید نے بطور گلوکار ایک میوزک بینڈ ’وائٹل سائنز‘ بنا رکھا تھا۔ عامر ذکی نے کچھ عرصے ’وائٹل سائنز‘ میوزک بینڈ کا حصہ رہنے کے بعد اسے خیرباد کہہ دیا تھا۔ اس دہائی میں، سن 1994 میں اُن کا سولو البم ’سِگنیچر‘ ریلیز ہوا اور پاکستانی میوزک مارکیٹ میں اِس البم کو شاندار انداز میں پذیرائی حاصل ہوئی۔ اس البم پر انہیں ’ساؤنڈ کرافٹ گولڈ ڈسک‘ نامی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا تھا۔ اسی البم میں اُن کا مقبول ترین سازینہ ’میرا پیار‘ شامل تھا۔ پاکستان کے میوزک حلقوں کا خیال ہے کہ عامر ذکی کی گٹار نوازی سے کئی نوجوان متاثر ہوئے ہیں اور وہ جاز اندازِ موسیقی کے حوالے سے ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ کئی ماہرین موسیقی اس پر متفق ہیں کہ جب وہ گٹار کی تاروں کو چھوتے تھے تو اُس سے دل کی نازک رگیں کھچتی ہوئی محسوس ہوتی تھی۔

پاکستان کے لیجنڈری گٹارنواز عامر ذکی انچاس برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ذکی انتہائی بلند پایہ ساز نواز تھے اور انہوں نے کئی ملکوں میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا تھا۔ عامر ذکی کے خاندان کے مطابق وہ جمعہ دو جون کو حرکتِ قلب بند ہو جانے سے انتقال کر گئے۔ وہ سن 1968 میں سعودی عرب میں ... Read More »

جارج مائیکل کی موت قدرتی وجوہات کے باعث ہوئی: میڈیکل رپورٹ

ایک نئی تفصیلی میڈیکل رپورٹ کے مطابق برطانوی گلوکار جارج مائیکل کی موت قطعی طور پر ’قدرتی وجوہات‘ کے باعث ہوئی تھی۔ جارج مائیکل گزشتہ برس کرسمس کے دن اپنے گھر پر مشکوک حالات میں مردہ پائے گئے تھے۔ برطانوی دارالحکومت لندن سے منگل سات مارچ کو ملنے والی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق عالمی سطح پر شہرت یافتہ اس برطانوی گلوکار کی اچانک موت کی وجوہات کی چھان بین کرنے والے ایک طبی ماہر نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ جارج مائیکل کا انتقال دل کی بیماری اور جگر پر چربی کے طبی اثرات کی وجہ سے ہوا۔ برطانوی کاؤنٹی آکسفورڈشائر کے طب قانونی کے محکمے کے سینیئر اہلکار ڈیرن سالٹر کے مطابق جارج مائیکل کی لاش کے انتہائی تفصیلی پوسٹ مارٹم اور اس دوران حاصل کیے جانے والے نمونوں کے تجزیے سے پتہ چلا ہے کہ اس پاپ گلوکار کی موت کی وجہ ’کارڈیومایوپیتھی‘، ’مایوکارڈائٹس‘ اور جگر کے ارد گرد جمع ہو جانے والی چربی بنے۔ جارج مائیکل کا ’لاسٹ کرسمس‘ طبی اصطلاح میں ’کارڈیومایوپیتھی‘ ایک ایسی جسمانی حالت ہوتی ہے، جس میں انسانی دل کی خون کو پمپ کرنے کی صلاحیت محدود ہو جاتی ہے۔ اسی طرح ’مایوکارڈائٹس‘ کسی مریض کے دل کی ایسی حالت کو کہتے ہیں، جس میں ایک عضو کے طور پر دل کے پٹھے سوزش کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس پس منظر میں اپنی بہت مفصل اور طویل طبی چھان بین کے نتائج کے حوالے سے ڈیرن سالٹر نے منگل سات مارچ کے روز کہا، ’’جارج مائیکل کی موت قطعی طور پر قدرتی وجوہات کی بناء پر ہوئی۔ اس لیے اب ان کی موت کے اسباب کے طبی اور قانونی ماہرین کی کسی باقاعدہ تفتیشی کمیٹی کے ذریعے تعین کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ عشروں تک مغربی پاپ موسیقی کی دنیا پر گہرے اثرات مرتب کرنے والے انتہائی کامیاب گلوکار جارج مائیکل 53 برس کی عمر میں گزشتہ برس 25 دسمبر کے روز، جب دنیا بھر میں کرسمس کا مسیحی تہوار منایا جا رہا تھا، جنوبی انگلینڈ کی کاؤنٹی آکسفورڈشائر میں اپنے گھر میں مردہ پائے گئے تھے۔ ان کی لاش کا ایک ابتدائی پوسٹ مارٹم بھی کیا گیا تھا تاہم اس پوسٹ مارٹم کے نتائج کی روشنی میں تب جارج مائیکل کی اچانک موت کے اسباب کا حتمی تعین نہیں ہو سکا تھا۔

ایک نئی تفصیلی میڈیکل رپورٹ کے مطابق برطانوی گلوکار جارج مائیکل کی موت قطعی طور پر ’قدرتی وجوہات‘ کے باعث ہوئی تھی۔ جارج مائیکل گزشتہ برس کرسمس کے دن اپنے گھر پر مشکوک حالات میں مردہ پائے گئے تھے۔ برطانوی دارالحکومت لندن سے منگل سات مارچ کو ملنے والی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق عالمی سطح ... Read More »

پیرس: بھارتی اداکارہ ملائکہ شراوت پر حملہ

فرانسیسی پولیس کا کہنا ہے کہ معروف بھارتی اداکارہ ملائکہ شراوت پر پیرس میں چند نقاب پوشوں نے آنسو گیس کا اسپرے کیا اور اُن کے چہرے پر گھونسہ مارا ہے۔ یہ واقعہ پیرس کی ایک سپر مارکیٹ میں پیش آیا۔ پیرس میں پولیس کا کہنا ہے کہ چالیس سالہ بولی ووڈ اداکارہ ملائکہ شراوت اور اُن کے دوست پر تین نقاب پوشوں نے حملہ کیا۔ پولیس کے مطابق حملہ آور شراوت کا پرس چھیننا چاہتے تھے۔ یہ واقعہ رواں ماہ کی 11 تاریخ کو پیش آیا۔ جوڑے نے پولیس کو دیے اپنے بیان میں کہا ہے کہ حملہ آور پیرس میں اُن کے رہائشی اپارٹمنٹ کی عمارت کی لابی میں گھات لگا کر بیٹھے تھے۔ بھارتی اداکارہ پر حملے کا یہ واقعہ ا مریکی رائیلٹی شو اسٹار کِم کارداشیان پر پیرس میں ہوئے حملے کے چند ہفتوں بعد پیش آیا ہے۔ کِم کارداشیان پر پیرس میں ماسک پہنے ہوئے ایک گروہ نے حملہ کر کے قریب 9.3 ملین یورو مالیت کے زیورات چھین لیے تھے۔ تفتیش کاروں کا تاہم کہنا ہے کہ وہ پریشان ہیں کہ اگرچہ نقاب پوش افراد نے شراوت کا پرس چھیننے کی کوشش کی لیکن وہ خالی ہاتھ کیوں بھاگ گئے۔ تفتیش کاروں کے ذرائع نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بیان دیتے ہوئے کہا ، ’’ ہم حیران ہیں کہ حملہ آور کوئی چیز چھینے بغیر کیوں فرار ہو گئے۔ ‘‘ شروات جِن کا اصل نام ریما لامبھا ہے، نے سن دو ہزار چار میں قدامت پسند بھارتی فلم صنعت میں ایک ایسی فلم کے ذریعے قدم رکھا تھا جس میں بھارتی معاشرے میں جنس کے حوالے سے پابندیوں پر بات کی گئی تھی۔ شراوت نے بھارتی فلم ’مرڈر‘ میں اپنے کردار سے بے پناہ شہرت حاصل کی تھی۔ ملائکہ شراوت خواتین کے حقوق کے لیے سر گرم عمل کارکن بھی ہیں اور بھارتی معاشرے میں خواتین کے مقام پر اپنے متنازعہ تبصرے کے باعث زیرِ بحث رہی ہیں۔

فرانسیسی پولیس کا کہنا ہے کہ معروف بھارتی اداکارہ ملائکہ شراوت پر پیرس میں چند نقاب پوشوں نے آنسو گیس کا اسپرے کیا اور اُن کے چہرے پر گھونسہ مارا ہے۔ یہ واقعہ پیرس کی ایک سپر مارکیٹ میں پیش آیا۔ پیرس میں پولیس کا کہنا ہے کہ چالیس سالہ بولی ووڈ اداکارہ ملائکہ شراوت اور اُن کے دوست پر ... Read More »

فواد خان کی مشکل آسان

پاکستانی اداکار فواد خان کی بالی وڈ فلم ’اے دل ہے مشکل‘ کو فلم سازوں کی جانب سے مستقبل میں پاکستانی اداکاروں کے بھارتی فلم انڈسٹری میں کام کرنے پر پابندی کی حمایت کے فیصلے کے بعد ریلیز ہونے کی اجازت مل گئی ہے۔ گزشتہ ماہ ستمبر کی اٹھارہ تاریخ کو کشمیر میں اُڑی کے مقام پر ایک بھارتی فوجی چھاؤنی پر عسکریت پسندوں کے حملے کے ردّ عمل کے طور پر انتہا پسند سیاسی جماعت مہاراشٹر نو نرمان سینا ’ایم این ایس‘ نے دھمکی دی تھی کہ بھارتی ہدایت کار کرن جوہر کی پروڈکشن کمپنی کی فلم ’اے دل ہے مشکل‘ کو نمائش کے لیے پیش کرنے والے سنیما گھروں کو نذرِ آتش کر دیا جائے گا۔ وجہ یہ تھی کہ اس میں پاکستانی اداکار فواد خان ایک اہم رول ادا کر رہے ہیں۔ تاہم بائیس اکتوبر بہ روز ہفتہ بھارتی فلم اور پروڈیوسرز گِلڈ نے کرن جوہر اور ایم این ایس کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت کرن جوہر مستقبل میں پاکستانی اداکاروں کے بھارت میں کام کرنے پر پابندی پر اتفاق کر گئے ہیں۔ اِس معاہدے کے بعد اب فواد خان کی فلم ’اے دل ہے مشکل‘ آیندہ ہفتے دیوالی کے تہوار سے دو روز قبل نمائش کے لیے پیش کی جا رہی ہے۔ اجلاس کے بعد گلڈ کے سربراہ مکیش بھٹ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’بھارتی فوج، عوام اور تمام ملک کے جذبات کو مدّ نظر رکھتے ہوئے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ مستقبل میں کسی بھی پاکستانی اداکار کے ساتھ کام نہیں کیا جائے گا۔‘‘ معاہدے کے تحت ہدایت کار کَرن جوہر اور اُن کے ساتھی فلم میں پاکستانی اداکار کو نمایاں رول میں کاسٹ کرنے کی تلافی کے طور پر بھارتی فوج کے لیے مختص ایک فنڈ میں پانچ کروڑ روپے بھی جمع کروائیں گے۔ اُڑی حملے کے تناظر میں بھارت اور پاکستان کے درمیان تازہ ترین میدانِ جنگ بالی وڈ بنا ہوا ہے۔ جہاں بھارت میں ہندو قوم پرستوں نے پاکستانی اداکاروں کی فلمیں ریلیز کیے جانے پر متعلقہ سنیما گھروں کے خلاف کارروائی کرنے کی دھمکیاں دے رکھی ہیں تو دوسری جانب پاکستان نے بھی حالات ساز گار ہونے تک اپنے ہاں تمام بھارتی فلموں کی نمائش پر پابندی عائد کر دی ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان اس برس جولائی سے تناؤ جاری ہے۔ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں افواج نے حزب المجاہدین تنظیم کے رہنما برہان وانی کو جولائی میں ہلاک کر دیا تھا۔ دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی میں اضافہ رواں برس ستمبر میں اُس وقت ہوا جب پاک بھارت سرحدی علاقے اُڑی میں بھارتی افواج پر عسکریت پسندوں کے حملے میں انیس بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔ بھارت نے اس حملے کا الزام پاکستان میں موجود اسلامی عسکریت پسندوں پر ڈالا۔ پاکستان اس الزام کی تردید کرتا ہے۔ اڑی حملےکے چند دن بعد بھارت نے پاکستان ميں سرجیکل اسٹرائیکس کرنے کا دعوی بھی کيا تھا۔ پاکستان نے اس دعوے کو بھی بے بنیاد قرار دیا تھا۔

پاکستانی اداکار فواد خان کی بالی وڈ فلم ’اے دل ہے مشکل‘ کو فلم سازوں کی جانب سے مستقبل میں پاکستانی اداکاروں کے بھارتی فلم انڈسٹری میں کام کرنے پر پابندی کی حمایت کے فیصلے کے بعد ریلیز ہونے کی اجازت مل گئی ہے۔ گزشتہ ماہ ستمبر کی اٹھارہ تاریخ کو کشمیر میں اُڑی کے مقام پر ایک بھارتی فوجی ... Read More »

Scroll To Top