You are here: Home » اہم خبریں » زہریلی شراب پینے سے بیسیوں بھارتی شہری ہلاک، درجنوں بیمار
زہریلی شراب پینے سے بیسیوں بھارتی شہری ہلاک، درجنوں بیمار

زہریلی شراب پینے سے بیسیوں بھارتی شہری ہلاک، درجنوں بیمار

شمالی بھارت کی دو ریاستوں کے متعدد دیہات میں غیر قانونی طور پر کشید کی گئی زہریلی شراب پینے سے بیسیوں شہری ہلاک اور درجنوں بیمار ہو گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق بیمار پڑ جانے والے افراد میں سے متعدد کی حالت نازک ہے۔

بھارتی ریاست اتر پردیش کے دارالحکومت لکھنؤ سے ہفتہ نو فروری کو ملنے والی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق غیر قانونی طور پر کشید کی گئی اس شراب میں میتھینول نامی زہریلا مادہ موجود تھا اور اب تک کم از کم 39 افراد کی ہلاکت اور 27 دیگر کے شدید بیمار ہو جانے کی تصدیق ہو چکی ہے۔

پولیس کے ایک سینیئر افسر شوک کمار نے بتایا کہ ان ہلاکتوں میں سے 26 ملکی دارالحکومت نئی دہلی سے مشرق کی طرف تقریباﹰ 306 کلومیٹر دور ریاست اتر پردیش میں اور 13 دیگر ہلاکتیں اتر پردیش کی ہمسایہ بھارتی ریاست اتر آکھنڈ میں ہوئیں۔ اتر آکھنڈ میں زہریلی شراب پینے سے مرنے والوں کی زیادہ تر تعداد کا تعلق بالپور نامی ایک گاؤں سے تھا۔

پولیس افسر اشوک کمار نے بتایا کہ ان تمام افراد نے یہ زہریلی شراب جمعرات سات فروری کی رات پی تھی، جس کے بعد بیسیوں کی تعداد میں لوگ بیمار پڑ گئے تھے۔ ان افراد کو فوری طبی امداد مہیا کرنے کی کوشش کی گئی تاہم ان میں سے درجنوں کل جمعہ آٹھ فروری تک انتقال کر گئے تھے جبکہ باقی ماندہ افراد کی جانیں بچانے کی پوری کوشش کی جا رہی ہے۔
ہلاک شدگان کے پوسٹ مارٹم سے بھی یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ انہوں نے جو ‌غیر قانونی طور پر کشید کردہ شراب پی تھی، اس میں میتھینول شامل تھی۔ پولیس نے مرنے والوں کو یہ زہریلی دیسی شراب فروخت کرنے کے شبے میں آٹھ مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا ہے جبکہ اتر پردیش اور اتر آکھنڈ کی ریاستی حکومتوں نے اتنے زیادہ جانی نقصان پر 35 سرکاری اور 12 پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا ہے۔

بھارت میں زہریلی شراب پینے سے انسانی ہلاکتوں کی رپورٹیں بار بار ملتی رہتی ہیں۔ اس لیے کہ آبادی کے لحاظ سے دنیا کے اس دوسرے سب سے بڑے ملک میں مقامی اور غیر قانونی طور پر کشید کردہ شراب کا کاروبار عام ہے۔ یہ شراب پینے والے اکثر بھارت کے وہ بہت غریب شہری ہوتے ہیں، جو مہنگی شراب خریدنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔

غیر قانونی طور پر کشید کردہ اس شراب میں عام طور پر اسے زیادہ زود اثر بنانے کے لیے کئی بہت زہریلی زرعی ادویات اور دیگر کیمیائی مادے بھی شامل کر دیے جاتے ہیں۔ بھار ت کی چند ریاستوں میں شراب کی فروخت پر پابندی کی وجہ سے وہاں شراب کی اسمگلنگ بھی بہت منافع بخش کاروبار بن چکی ہے۔

Deutsche Welle

Share Button

Leave a Reply

Scroll To Top