You are here: Home » Other » (Urdu) بھارت میں یوم جمہوریہ تقریبات اور متنازعہ ’اعزازات‘
(Urdu) بھارت میں یوم جمہوریہ تقریبات اور متنازعہ ’اعزازات‘

(Urdu) بھارت میں یوم جمہوریہ تقریبات اور متنازعہ ’اعزازات‘

بھارت میں آج 26 جنوری کو 70واں یوم جمہوریہ جوش و خروش کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ کسی ناخوشگوار واقعہ کو ٹالنے کے لیے ملک بھر میں سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔

اس موقع پر سب سے بڑی تقریب ملکی دارالحکومت دہلی میں ہوئی۔ چپے چپے پر نگاہ رکھنے کے لیے پچیس ہزارسے زائد سیکورٹی اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ بلند عمارتوں پر ‘شارپ شوٹر‘ موجود تھے جب کہ ڈرون کے ذریعے بھی سیکورٹی پر نگاہ رکھی جا رہی تھی۔

دارالحکومت کے راج پتھ پر منعقدہ تقریب میں بھارت نے اپنی فوجی طاقت، دفاعی، اقتصادی، سماجی اور سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ہونے والی ترقی نیز رنگارنگ تہذیبی اور ثقافتی ورثے کی جھلکیاں بھی پیش کیں۔ اس موقع پر بھارتی صدر رام ناتھ کووند نے فوجی پریڈ کی سلامی لی۔

جنوبی افریقہ کے صدر سیرل راما فوسا تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔ وہ 1995 میں نیلسن منڈیلا کے بعد اس تقریب کو زینت بخشنے والے جنوبی افریقہ کے پہلے صدر ہیں۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ مودی حکومت نے چند ماہ قبل بتایا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یوم جمہوریہ تقریب کے مہمان خصوصی ہوں گے، تاہم بھارتی وزارت خارجہ کو اس وقت سبکی اٹھانا پڑی تھی جب صدر ٹرمپ نے ناگزیر وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے شرکت کرنے سے انکار کر دیا۔

آج کی پریڈ میں بھارت نے اپنی دفاعی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے حال ہی میں ملکی فوج میں شامل کی گئی امریکی ایم 777 الٹرا لائٹ ہوائزر توپوں اور آٹومیٹک K9 وجر توپوں کی نمائش بھی کی۔ میزائل اور جدید طرز کا عسکری ساز و سامان ناظرین کی توجہ کا مرکز رہا۔

پائلٹوں نے جنگی طیاروں کے ذریعے کرتب اور مہارت دکھائی۔ پریڈ میں پہلی مرتبہ مردوں کے ایک فوجی دستے کی قیادت ایک خاتون فوجی افسر لیفٹیننٹ بھاونا کستوری نے کی جب کہ نیم فوجی دستے آسام رائفلز کے صرف خاتون فوجیوں پر مشتمل ایک دستے نے بھی پریڈ میں حصہ لیا۔ اسے بھارت میں خواتین کو بااختیار بنانے کی کوششوں کا ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔

’متنازعہ اعزازات‘

پریڈ شروع ہونے سے پہلے بھارتی صدر نے کشمیر کے لانس نائک نذیر احمد وانی کو زمانہ امن کے اعلٰی ترین فوجی اعزاز ’اشوک چکر‘ سے نوازا۔ نذیر احمد یہ اعزاز حاصل کرنے والے پہلے کشمیری ہیں۔ یہ اعزاز نذیر وانی کی بیوہ نے وصول کیا جب کہ اس موقع پر ان کی والدہ بھی موجود تھیں۔ نذیر احمد وانی نومبر 2018 میں ایک تصادم کے دوران ہلاک ہوئے تھے۔

بھارت میں یوم جمہوریہ کے موقع پر مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والے افراد کو شہری اعزازات دینے کی بھی روایت ہے۔ بھارتی صدر ان اعزازات کا اعلان کرتے ہیں۔اس بار جن ایک سو بارہ لوگوں کو مختلف اعزازات کے لیے منتخب کیا گیا ان میں کرکٹر گوتم گمبھیر اور فلمی اداکار منوج واجپئی کے علاوہ مرحوم قادر خان بھی شامل ہیں۔

اس سال بھارت کا اعلٰی ترین شہری اعزاز ’بھارت رتن‘ تین افراد کو دینے کا اعلان کیا گیا جن میں آنجہانی فلم گلوگار اور موسیقار بھوپین ہزاریکا اور حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کے نظریہ ساز آنجہانی ناناجی دیشمکھ کے علاوہ بھارت کے سابق صدر پرنب مکھرجی شامل ہیں۔
کانگریس کے سینیئر ترین رکن تراسی سالہ پرنب مکھرجی نے اس اعزاز کے لیے حکومت کا شکریہ ادا کیا اور کانگریس صدر راہل گاندھی نے انہیں مبارک باد پیش کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا، ”کانگریس کو اس بات پر فخر ہے کہ ہمارے ایک اپنے کو قومی تعمیر اور عوامی شعبے میں شاندار خدمات کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں اعزاز سے سرفراز کیا گیا۔‘‘ تاہم ان کا ایوارڈ تنازعے کا شکار ہو بھی گیا ہے۔

پرنب مکھرجی کو سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کی وفات کے بعد بھارت کے وزیر اعظم کا امیدوار سمجھا جارہا تھا لیکن اندرا گاندھی کے بیٹے راجیو گاندھی وزیر اعظم بنا دیے گئے تھے۔ اس کے بعد جب دوبارہ ایسا ہی موقع آیا تو ان کی جگہ قرعہ فال ڈاکٹر من موہن سنگھ کے نام نکلا تھا۔

سن 2012 میں جب کانگریس پارٹی نے انہیں صدر کے عہدے کے لیے نامزد کیا تو اس کے بعد ان کا سیاسی کیریئر ختم ہو گیا لیکن 2014 میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے صدر کے عہدہ سے سبکدوش ہونے تک پرنب مکھرجی کے وزیر اعظم نریندر مودی سے نہایت خوشگوار تعلقات بھی رہے۔ لوگوں کو گذشتہ برس اس وقت انتہائی حیرت ہوئی تھی جب مکھرجی بی جے پی کی مربی تنظیم آر ایس ایس کے ہیڈکوارٹر ناگپور میں اس کے سالانہ جلسے میں شریک ہوئے اور ہندو قوم پرست جماعت کے کارکنوں سے خطاب بھی کیا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مودی حکومت نے بہت سوچ سمجھ کر پرنب مکھرجی کو’بھارت رتن‘ دینے کا اعلان کیا ہے۔ پرنب مکھرجی ریاست مغربی بنگال سے تعلق رکھتے ہیں اور وہاں وہ نہایت عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں جب کہ بی جے پی مغربی بنگال میں ممتا بنرجی کی قیادت والی ترنمول کانگریس حکومت کو اقتدار سے باہر کرنے کے لیے تمام حربے آزما رہی ہے۔

معروف تاریخ دان رام چند گوہا نے ٹوئٹ کیا، ”اگر کوئی غیر بی جے پی شخصیت اس ایوارڈ کا حقیقی حقدار تھی تو وہ ایم ایس سوامی ناتھن تھے، جنہوں نے سائنس اور زراعت کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ سوامی ناتھن کی جگہ متنازعہ شخصیت پرنب مکھرجی کو منتخب کرنا حیران کن ہے۔ لیکن اس سے بی جے پی کو مغربی بنگال میں زیادہ ووٹ نہیں ملنے والے۔‘‘

جنوبی ریاست کرناٹک میں حکمراں جنتا دل سیکولر کے جنر ل سکریٹری کنور دانش علی کا کہنا تھا، ”پرنب مکھرجی کو بھارت رتن کا ایوارڈ آر ایس ایس کے ہیڈکوارٹر جانے اور اس جماعت کے نظریہ ساز کے بی ہیڈگوار کو ’بھارت کا سپوت‘ قراردینے کے انعام کے عوض دیا گیا ہے۔‘‘

تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ منظر کافی دلچسپ ہوگا جب انتہائی سیکولر سمجھے جانے والے پرنب مکھرجی بنیادی طورپر آر ایس ایس کے کارکن اور موجودہ صدر رام ناتھ کووند کے ہاتھوں اسی راشٹرپتی بھون میں اعزاز حاصل کرنے جائیں گے جہاں انہوں نے خود کئی دوسرے افراد کو بھارت کے اس باوقار اعزاز سے نوازا تھا۔
Deutsche Welle

Share Button

Leave a Reply

Scroll To Top