You are here: Home » اہم خبریں » ورلڈ اکنامک فورم 2019: ٹرمپ، مے اور ماکروں غیر حاضر
ورلڈ اکنامک فورم 2019: ٹرمپ، مے اور ماکروں غیر حاضر

ورلڈ اکنامک فورم 2019: ٹرمپ، مے اور ماکروں غیر حاضر

سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈاووس میں جاری ورلڈ اکنامک فورم کی رونقیں یورپی یونین سے برطانیہ کے اخراج، عالمی سطح پر بڑھتی عوامیت پسندی اور ماحولیاتی تبدیلی سے لاحق خطرات سے متاثر ہوئی ہیں۔

برازیل کے نئے صدر ژائیر بولسونارو نے اپنے غیر ملکی دوروں کا آغاز سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈاووس سے کیا ہے۔ ڈاووس میں جاری عالمی اقتصادی فورم سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ماحولیات کا تحفظ ملکی اقتصادی ترقی میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔ انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے سابقہ فوجی کپتان ژیئر بولسونارو اپنی انتخابی مہم کے دوران یہ نعرہ لگاتے رہے ہیں کہ وہ اقتدار میں آ کر ملک کو اقتصادی بحران سے نکال لیں گے۔

عالمی اقتصادی فورم میں صدر بولسونارو کا کہنا ہے کہ وہ ڈاووس میں عالمی اشرافیہ کے سامنے سرمایہ کاری کے لیے تیار برازیل پیش کریں گے۔ ڈاووس آمد کے موقع پر انہوں رپورٹرز کو بتایا کہ، ’’ہم دنیا کو دکھائیں گے کہ برازیل سرمایہ کاری کے لیے محفوظ ملک ہے، خصوصاﹰ زراعت کے شعبے میں جو کہ بہت اہم ہے۔‘‘

برف، ٹرمپ اور بہت کم خواتین: عالمی اقتصادی فورم کا میزانیہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دورہ ڈاووس منسوخ کیے جانے کے بعد صدر بولسونارو ان کی جگہ فورم سے خطاب کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق برازیل کے صدر چین پر تنقید کی وجہ سے پہلے سے ہی صدر ٹرمپ کے نقش قدم پر گامزن ہیں۔

صدر ٹرمپ ہی صرف وہ واحد رہنما نہیں ہیں، جنہوں نے عالمی اقتصادی فورم میں شرکت کرنے کے بجائے ملک کے داخلی حالات کو ترجیح دی ہے۔ برطانوی وزیراعظم ٹریزا مے اور فرانسیسی صدر ایمانویل ماکروں نے بھی شرکت سے معذرت کر لی ہے۔ تاہم جرمن چانسلر انگیلا میرکل اور جاپانی وزیراعظم شینزو آبے بدھ کے روز فورم سے خطاب کریں گے۔

ڈاووس میں آج سے ورلڈ اکنامک فورم کا باقاعدہ آغاز ہو رہا ہے۔ عالمی سطح پر یہ فورم سماجی و بین الاقوامی امور سميت معاشرتی اور اقتصادی بحث و تمحیص کا ایک اہم پلیٹ فارم ہے۔

تاہم رواں برس ڈاووس میں جاری ورلڈ اکنامک فورم کی رونقیں یورپی یونین سے برطانیہ کے اخراج، عالمی سطح پر بڑھتی عوامیت پسندی اور ماحولیاتی تبدیلی سے لاحق خطرات سے متاثر ہوئی ہیں۔ عالمی اقتصادی فورم کے بانی کلاؤس شواب نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چند مایوس کن خیالات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا، ’’ہم انسانیت کی تاریخ کے نازک موڑ پر کھڑے ہیں، لہٰذا ہمیں مستقبل کی سمت طے کرنی ہوگی۔‘‘
Deutsche Welle

Share Button

Leave a Reply

Scroll To Top