You are here: Home » مضامین » بادشاہ ہے تو بادشاہ
بادشاہ ہے تو بادشاہ

بادشاہ ہے تو بادشاہ

AMER ISHAQ SOHARWARDI
یہ کوئی بائیس سال پہلے کی بات ہے کہ بی اے آنرز کی کلاس مین اچانک ایک خوبصورت لڑکا داخل ہوا ،،ہم سب سمجھے کہ کوئی ہم سے مزاق کرنے کے موڈ میں ہے ،،لیکن جینز اور سفید رنگ کی قمیض پہنے اس کڑکے نے ہنستے مسکراتے بتایا کہ وہ ہمارا نیا ٹیچر ہے۔ مجھے شائد ایک دن بھی پہورا نہیں لگا اور میں استاد محترم کا گرویدہ ہوگیا ۔۔
ان کی کلاس میں کبھی کسی کو بوریت نہین ہوتی کیونکہ اس میں کتاب کم اور زندگی اور حقائق زیادہ بیان ہوتے ، جب ان کو کمرہ ملا تو پھر میرا عمران کا اور نہ جانے کن کن کا ٹھکانہ ان کا کمرہ ہو گیا ۔ یہاں سب کو سکون ملتا تھا ،،اگر وہ کمرے مین ہوتے تو کوریڈور کے کونے سے پتہ چل جاتا کیونکہ قہقہوں کا آوازیں ان کے کمرے مین ہونے کا ثبوت ہوتیں۔
میں ان کے خاص شاگردوں مین تھا اس لئیے اکثر کلاسوں کے بعد ان کے کمرے مین چائے پینے کو ملتی ،،پھر طویل بیٹھک جس میں ڈی ایس ایف،،سے لیکر سرخوں کے جامعہ مین کارناموں کا زکر ہوتا ۔دوسرون کی واٹ لگتی اور آخر مین استاد محترم سرخوں کی بھی واٹ لگا دیتے ۔
یہاں سب دل جلے آتے تھے لیکن کسی پیر کے آستانے کی ظرھ اپنے غم بھول کر قہقہے لگاتے باہر نکل جاتے ۔ کوئی کتنا بھی دکھی ٓائے مطاہر صاحب کے کمرے مین اسکا دکھ جیسے ہوا میں گھل جاتا ۔ ان کے منہ پر کبھی شکایت یا شکوہ نہیجن ہوتا بس خوبصورت جملے ، لطیفے ،،قہقہے،،اور اچھے مستقبل کے مشورے ۔
وہ دل کے اتنے صاف تھے کہ کبھی کسی نے ان کی کسی بات کا برا ہی نہیں مانا ،،چاہے پھپھو ہوں،،ثمینہ اور عمیرہ کا برقعہ نام نقاب ہو ،،کنزہ کی صحت ہو یا بے وفا گرنگو اور باوفا گرنگن کے قصے ۔ عمران شاہ عرف پگل کی خرمستیاں ہوں ۔ سوری کی مدھر آواز ہو ، نعیم کی زبر سے عاری اردو ہو ۔ یا ان کے دور کے وہ تمام پرانے معاشقوں کے قصے جن کی شادی ہو گئی ہو اور وہ جامعہ مین کہیں پڑھا رہے ہوں ۔
ان کی زہین چہرے اور کشادہ آنکھوں میں ہم صرف شرارت دیکھتے تھے لیکن اصل مین وہان ایک ایسا تجزیہ کار تھا جس نے دنیا میں نام پیدا کرنا تھا ۔ پاکستان کی تاریخ کا افغان امور پر پہلا پی ایچ ڈی ۔ ہزاروں علمی مقالون کا لکھاری۔
اسی سال ہم پاکستان ٹور پر گئے اور وہاں ہم سب سے زیادہ شرارت مطاہر صاحب نے کی ۔ وہ ہر وقت سب کیلیئے موجود رہتے اس ٹور میں سب کچھ اتنا اچھا رہا کہ آکر میں جب ہمارے پاس پیسے نہ رہے تو ایک دن آسیہ کے بھائی شکیل کے گھر گزارا جو ان کے کلاس فیلو تھے ، ایک دن کا کھانا عمران کے ایک دوست نے کھلایا ۔ ناران مین پھپھو کے گرنے کے بعد کے حالات میں عمران کی ہشیاری نے بچا لیا وہاں مجھ پر یہ آشکارا ہوا کہ ڈاکٹر مطاہر اندر سے کتنے معصوم ہیں ،، بالکل ایک معصوم بچے کی طرح ۔۔پھر ان کی شادی ہوگئی اور میں اس میں بھی شریک ہوا۔
اس کے بعد کی محفلوں میں دو سال کیسے گزرے پتہ نہیں چلا ،،لیکن جب مجیدے کی ہوٹل کا کھانا نہیں کھانا ہو تو ،،استاد کہتے اپلئیڈ فزکس کا ڈبل انڈے والا برگر کھاتے ہیں ، جب وہ کھانے کا دل بھی نہ ہو تو ممتاز منزل پر بن کباب اور لسی ، استاد کھانے پینے کے شوقین تھے اور کھلانے پلانے کے بھی ، اسی لئیے اکثر اوقات ہم ان کے مہمان ہوتے ، ان کی طبیعت میں کوئی کرو فر نہ تھا اسے لئیے اکثر میری سیونٹی موٹر سائیکل پر بیٹھ جاتے اور فیصل مزاق اڑاتا کہ نیپا کی پل پر پوٹر سائیکل ایسے چل رہی تھی جیسے اس مین سے جان نکل رہی ہو۔
میں نے ایم اے کے بعد صحافت میں قدم رکھا ، اور شائد اسے سال ان کا پی ایچ ڈی مکمل ہو گیا ۔ یہ اعزاز میرا ہے کہ ان کو بحیثیت ماہر افغان امور میں نے متعارف کرایا جنگ میں میری بائی لائن اسٹوری مین ان کا انٹر ویو تھا ۔ پھر مین انڈس نیوز آگیا ۔ نائن الیون کے بعد جب امریکی حملے کا عراق پر قوی خدشہ تھا تو مین نے ایک رات ان کو گھر سے پک کیا ، ہم اسٹودیو آئے اور اسی شب امریکہ نے عراق پر حملہ کر دیا ۔ اس کی ٹرانسمیشن مین نے استاد محترم کے ساتھ کی ۔
پھر سال گزرتے گئے میرا جامعہ کراچی سے صرف یہ تعلق تھا کہ میں ان سے ملنے جاتا تھا ۔ ہمارے دور میں ان کے کمرے مین طلبا زیادہ اور اساتزہ کم ہوتے تھے ، مگر اب ان کے کمرے مین اساتزہ زیادہ اور طلبا کم تھے ۔ مگر قہقہوں میں اب بھی کوئی کمی نہین تھی ۔ ان کا وزن بڑھ گیا تھا ۔ میں نے پو چھا تو کہنے لگے کہ آرتھرائیٹس ہو گیا ہے واک نہین کر سکتا ۔ کچھ عرصے بعد ملے تو میں نے کہا استاد محترم غزالی آنکھوں کے گرد حلقے پڑ گئیے ہیں ،،کہنے لگے ابے یار چھوڑو کوئی اچھی بات کرو ۔ پھر وہ انجمن اساتزہ جامعہ کراچی مین سرگرم ہوئے اور بعد مین صدر بھی بنے ۔
سال دو ہزار پندرہ مین میں نے ان کو سما ٹی وی مدعو کیا بلدیاتی انتخابات کے دوران۔ ان کے حلقے بہت بڑھ چکے تھے ، ان کا سانس بھی کافی پھول رہا تھا میں نے پھر کہا استاد آپ ڈاکٹر کو دکھائیں ، کہنے لگے ہاں یار رات کو نیند بھی نہیں آتی کافی کروٹیں بدلتا ہوں ۔ کلبھی ایسا لگتا ہے کہ سانس رک رہا ہو، مجھ سے کہا ابے استاد کچھ مزہ نہین آرہا ۔میں نے بہت اصرار کیا کہ ڈاکٹر کو دکھائیں ۔۔ اس کے کچھ دن بعد معلوم ہوا کہ وہ کینسر میں مبتلا ہو چکے ہیں ۔
میں نے فون کیا کافی مرتبہ گھنٹی بجی پھر بھابھی نے فون اٹھایا اور کہا کہ وہ آرام کر رہے ہیں ،، کچھ دیر بعد ان کا فون آگیا ،،آواز مین وہی کھرج، وہی گفتگو میں شگفتگی ، کمال ،، اب بھی قہقہے لگا رہے تھے ۔ ایک دن مین جامعہ جا پہنچا ،،اور وہ ویسے ہی تھے ، مجھے سکون آگیا،،،اور وہ سکون یقین میں بدل گیا کہ ہمارا بادشاہ ہمارے پاس ہی ہے ۔ لیکن پھر وہ آہستہ آہستہ جامعہ کم آنے لگے ۔ گھر فون کرو تو ان کا فون اکثر اٹھتا نہین تھا اور اکثر وہ آرام کر رہے ہوتے تھے ۔
میں کئی دوستوں کو فون کر کے ان کی خیریت معلوم کرتا رہتا ۔ اور وہ سب بتاتے کہ میرا بادشاہ کمال طاقتور ہے ۔ نہ تو وہ کمزور پڑا ہے اور نہ ہی اس کے ارادے ٹوٹے ہیں ۔ وہ کسی سے بد دل نہین ہے ۔ جب ان کی کیمو تھیریپی کے مراحل شروع ہوئے تو مین بھی کافی بیمار تھا آپریشن کے بعد ریکیوری اور پھر اس کے بعد بیروزگار کرنے کی سازش ،، خیر مین ان سے رابطے میں نہین ریا ۔ کیوں نہین رہا اس کا دکھ مجھے اب ساری زندگی رہے گا ۔ عامر حمید اور نعیم نے بتایا کے میرے بادشاہ نے تکلیف کا مقابلہ مسکراہٹ سے کیا ۔ درد کے لمحات مین بھی سب کو زندگی بکھیری
یار استاد محترم آج رب کے حضور یقین ہے کہ آپ نے کچھ ایسا ضرور کہا ہو گا کہ فرشتوں نے قہقہ لگایا ہوگا۔ منکر نکیر بھی ہنسی پر قابو نہ رکھ پائے ہونگے۔ زندگی کو کسی ملامت کے بغیر گزارنے کے بعد میرا بادشاہ رب کے حضور بھی کسی ملامت کا شکار نہ ہوگا ۔ اس کی کتاب مین خوبصورت رنگ ہیں ،،جنہیں فرشتے بھی دیکھ کر حیران ہونگے ۔ اس کا دل معصوم بچے کی طرح صاف ہے ۔
اے میرے رب میرے بادشاہ کے حساب کتاب میں خیال کرنا ، وہ دل کا صاف اور کھرا تھا ، وہ یاروں کا یار تھا، وہ ہم جیسے مظلوموں کی آواز اور تیرے بعد مددگار تھا۔ اے میرے رب اسکے درجات بلند فرما دے ، کہ بادشاہ کے بنائے ہم سب دعا گو ہیں،،دوبئی کینیڈا ، کراچی ، لاہور ،نہ جانے کہاں کہان سے اس بادشایہ کے درجات کی بلندی کی دعائیں آرہی ہیں ۔ بس میرے مالک قبول فر ما لے ۔ ہمارے پیارے ڈاکٹر مطاہر کو قبول فرما لے اے بادشاہوں کے بادشاہ ،،ہمارا بادشاہ تمہارے حوالے۔۔۔
میرے محسن ، میرے استاد ،،میرے بڑے بھائی ،،میرے دوست ،، ڈاکٹر مطاہر احمد کی تدفین سے واپسی پر ان کو سلام آخر،،،بادشاہ ہے تو بادشاہ

Share Button

Leave a Reply

Scroll To Top