You are here: Home » مضامین » مسخرہ اور سکوت
مسخرہ اور سکوت

مسخرہ اور سکوت

AMER ISHAQ SOHARWARDI
حاکم وقت غصے میں تھا ، دربار میں سب کھڑے کانپ رہے تھے ،مجال ہے کہ کوئی سانس بھی پورا لے رہا ہو۔ کسی کو ہمت نہیں تھی کہ کچھ کہ سکے ۔ سب کو معلوم تھا کہ حاکم وقت غلط ہے ۔ عدالت مین قاضی القضا بھی موجود تھے لیکن ان کی بھی جرات نہیں پڑ رہی تھی کہ کچھ کہ سکیں ۔ اچانک درباری مسخرہ بول اٹھا اور اس کا بولنا تھا کہ حکم کے چہرے پر بھی مسکراہٹ آگئی ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جب سب کانپ رہے تھے تو مسخرہ کیوں نہ کانپا؟ اس کےلب کیوں نہ سلے ؟ اس کے دل دھڑکنیں کیوں نہ بے قابو ہوئیں؟ اور اس کے دل میں موت کا خوف کیوں نہ جاگزیں ہوا؟

؟
انسانی تاریخ صرف ہلاکو چنگیز، ہٹلر مسولینی ، داعش،الشباب اور بوکو حرام کی تاریخ نہیں ہے ۔ یہاں وہ دور بھی گزرے ہیں جب دشمنوں کو مسجد نبوی میں ٹہرایا گیا، جب قیصر روم ہوں نجاشی سب نے سفیروں کو نہ صرف عزت بخشی بلکہ انہیں انعام و اکرام سے بھی نوازا ۔تاریخ انسانی نے رحمت اللعالمین پیارے آقا کا دور بھی دیکھا کہ بڑھیا کوڑا پھینک رہی ہے اور آپ اس کی عیادت کر رہے ہیں ۔ طائف میں پیارے آقا پر سنگ باری ہو رہی ہے لباس خون آلود ہے لیکن میرے آقا جبریل کو منع کر رہے ہیں ۔تاریخ نے میرے مولا حسین کو بھی دیکھا کہ کس طرح اسٹیبلشمنٹ اور اس کے یزیدی ایجنٹوں کو نہ صرف شکست دی بلکہ قیامت تک کیلئیے ان کو نشان عبرت بنا دیا ۔
ایک لمحے رک جائیے اور سوچئیے کہ کیا اقبال جھوٹ بول رہے تھے کہ خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی ؟، کیا ہماری تمام کتابوں میں غلط لکھا ہے کہ ہمیں انسان کا احترام کرنا چاہئے ،؟ قران میں تو کہیں نہیں لکھا کہ طاقت کو سجدہ کرو؟ امام اعظم کو خلیفہ وقت نے قاضی القضا بنانا چاہا تو آپ نے کہ دیا میں اس عہدے کے قابل نہیں ،،حاکم بولا آپ جھوٹ بول رہے ہیں تو امام گویا ہوئے پھر تو بالکل بھی قابل نہیں ۔ ایسی کوئی ایک مثال نہیں ہے آج کفر کے معاشرے میں زیادہ اطمنان ہے ، وہاں زیادہ قانون کی پاسداری ہے ، وہاں زیادہ انسانی حقوق ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر وہاں زیادہ عدل نظر آتا ہے ۔ مسلم معاشرے تو بس بڑے بڑے چعغوں میں لپٹے ہپیں ۔ وہ ایک ہاتھ سے قاتل کو پیسہ دیتے ہیں اور دوسرے ہاتھ سے مقتول کو دلاسہ۔ ان کا سب سے بڑا مثئلہ بیویاں کنیزیں اور لونڈیاں ہیں۔ ان تمام ممالک میں عدل کا نظام حاکم کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑا رہتا ہے ۔ کسی عجمی کو کسی عربی پر کوئی فوقیت تو کیا ،،وہ اگر برابری کا دعوہ بھی کردے تو کھال کلھنچوانی پڑتی ہے۔ کفیل کے نام پر انسانی غلامی کی وہ داستانیں ہیں کہ سر شرم سے جھک جاتا ہے۔
عجب بات نہیں کہ کسی بھی اسلامی ملک میں نظام عدل مثالی نہیں ۔ جہاں نظام ہے وہاں عدل نہین اور جہاں عدل ہے وہاں نظام نہیں ۔ افسوس کہ پاکستان دنیا کا واحد اسلامی نظریاتی ملک ہے جس کے آئین میں ساری اچھی اچھی باتیں لکھی ہوی ہیں لیکن تاریخی طور پر ہمیشہ آئین کو پامال کیا گیا ۔ جہاں اکثریت حقوق سے محروم ہے ۔جہاں اقلیتیں محفوظ نہیں ۔ جہاں نہ نظام ہے اور نہ انصاف۔ دنیا کی جدید تاریخ مین صرف پاکستان کو یہ اعزاز حاصل ہے جہاں پوری کابینہ نے ایک کرپٹ اور عدالت سے سزا یافتہ شخص کو نہ صرف اپنا سربراہ بنایا بلکہ اس کے احکامات کو ماننے کیلیئے ایسے قوانین میں بھی تبدیلی کی کوشش کر ڈالی جہاں ان کے کیا سب کے پر جل جاتے ہیں۔ ان کو سبق تو مل گیا ۔ لیکن مجھ سمیت اکثر پاکستانی یہ سوچ رہے ہیں محبت کے اندھے ہونے کا تو سنا تھا مفاد کی وفاداری کیلئے اندھا ہونے کی ایسی مثال کہیں نہیں ملتی ۔شائد انہیں بھی صرف رہنما چاہیئے ،،،منزل نہیں ۔
عدالتوں پر حملے ہورہے ہیں ۔ نونئیے نیب کو کام نہین کرنے دے رہے ۔ نیب عدالت پر ہلہ بول دیتے ہیں۔ ن لیگی وزیر روزانہ عدالتوں کو خاص طور پر سپریم کورٹ پر تنقید کرتے ہیں ۔ میری سمجھ مین یہ نہیں آتا کہ یہ توہیں عدالت کب اور کہاں سے شروع ہوتی ہے ۔ کیا عدالتیں بھی کسی مصلحت کوشی کا شکار ہیں ؟ یہ روزانہ عدالتوں کے فیصلوں پر تنقید کرنے والوں کی گرفتاری کے احکامات کب صادر ہونگے ؟ ن لیگ کے یہ رہنما اپنے اپنے حلقوں میں بھی یہی باتیں کرتے ہیں۔ پنجاب مین وکیل جس طرح ججز سے برتاو کعتے ہیں اور جس طرح پولیس کی پٹائی لگاتے ہیں وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ۔ اور اب یہ بیماری عام عوام میں بھی پھیلتی جا رہی ہے ۔ میری اعلی عدالتوں سے اپیل ہے کہ براہ مہربانی کم از کم ان کی زبان تو کھینچ لیں جو عدالتوں پر اقامے پر فیصلے کا بہتان لگا رہے ہیں۔اور پیارے وزیر داخلہ اب تک صرف خاموش ،،اپنوں کی گردن سب کو پیاری لگتی ہے ۔
حاکم پھر غصے مین تھا درابار مین شدید خاموشی ،،سب کی سانسیں رکی ہوئی تھیں ۔ حاکم کا خوف شائد کیا یقینا خدا کے خوف سے بڑھ چکا تھا ۔ سب ایک دوسرے کی جانب دیکھ رہے تھے ۔ قاضی القضا بھی خاموش تھا ۔ مصاحبوں سے لیکر شدید مصاحبوں تک سب چپ ۔ کوئی نہیں بولا کیونکہ دربار میں سارے اعلی و ارفع موجود تھے مگر مسخرہ مر گیا تھا۔

Share Button

Leave a Reply

Scroll To Top